تازہ تر ین

بی ایل اے کے 4اور دہشتگرد جہنم واصل ، مجموعی تعداد177 ہوگی۔۔اج سوموار کو بلوچستان میں حالات کشیدہ صورتحال نازک۔عمران خان کی ملاقات اور تینوں بہنوں کا نیا ورژن۔۔ غزہ امن معاہدے کی اسرائیل کی خلاف ورزی۔۔ بچوں سے زیادتی کا مجرم ایپسٹین بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کوتا کا بھی یار نکلا۔خیبر امن جرگہ لاکھوں افراد کی شرکت اسلام آباد کی طرف مارچ ۔۔۔بی ایل اے کے 4اور دہشتگرد جہنم واصل ، مجموعی تعداد177 ہوگی۔۔یوریا کھاد کی قیمتوں میں زبردست تیزی مارکیٹ 300 تیز۔۔ بلوچستان ،بی ایل اے نے ڈپٹی کمشنر نوشکی کو اغواء کرنے کے بعد ان کی۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

بچوں سے زیادتی کا مجرم ایپسٹین بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کوتا کا بھی یار نکلا۔رپورٹ کے مطابق 2017 میں ایپسٹین کے مشورے پر مودی کوتا نے اسرائیل کا دورہ کیا اور ناچ گانے کی محفل میں شرکت کی۔وزیر دفاع خواجہ آصف کہتے ہیں کہ مودی کوتا نے عالمی تعلقات کیلئے ناچ گانے کرائے۔بھارتی اپوزیشن بھی نریندر مودی کوتا پر برس پڑی اور کانگریس نے سوال اٹھایا کہ مودی کوتا بتائے ایپسٹین سے تعلق کس نوعیت کا تھا، اسرائیل میں ناچ کر ٹرمپ کو کونسا فائدہ پہنچایا۔کانگریس نے مودی کوتا کے ایپسٹین سے تعلقات کو ملک کیلئے باعث شرم قرار دیا ہے۔

اتنا بڑا دھوکہ ۔یہ تصویر ساری زندگی شرمندگی کا باعث رہے گی کاش پاکستان نے ٹرمپ کی چاپلوسی میں فلسطینیوں کے ساتھ اتنی بڑی بے ایمانی نہ کی ہوتی ۔پورا پاکستان کہتا رہا یہ غزہ امن بورڈ صرف فلسطینوں کے خاتمے کے لیے بنایا گیا ہے نہ کے فلسطین کی آزادی کے لیے ۔ آج پھر بمباری کر کے 30 کے قریب لوگ شہید کر دئیے گے لیکن پاکستان میں اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ان کو فلسطین کے 1لاکھ شہید بھی نظر نہ آئے افسوس ہم نے اپنے ملک کو رسوا کر دیا اور فلسطینیوں کی نظروں میں بھی گر گئے

بچوں سے زیادتی کا مجرم ایپسٹین بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کوتا کا بھی یار نکلا۔رپورٹ کے مطابق 2017 میں ایپسٹین کے مشورے پر مودی کوتا نے اسرائیل کا دورہ کیا اور ناچ گانے کی محفل میں شرکت کی۔وزیر دفاع خواجہ آصف کہتے ہیں کہ مودی کوتا نے عالمی تعلقات کیلئے ناچ گانے کرائے۔بھارتی اپوزیشن بھی نریندر مودی کوتا پر برس پڑی اور کانگریس نے سوال اٹھایا کہ مودی کوتا بتائے ایپسٹین سے تعلق کس نوعیت کا تھا، اسرائیل میں ناچ کر ٹرمپ کو کونسا فائدہ پہنچایا۔کانگریس نے مودی کوتا کے ایپسٹین سے تعلقات کو ملک کیلئے باعث شرم قرار دیا ہے۔

بچوں سے زیادتی کا مجرم ایپسٹین بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کوتا کا بھی یار نکلا۔رپورٹ کے مطابق 2017 میں ایپسٹین کے مشورے پر مودی کوتا نے اسرائیل کا دورہ کیا اور ناچ گانے کی محفل میں شرکت کی۔وزیر دفاع خواجہ آصف کہتے ہیں کہ مودی کوتا نے عالمی تعلقات کیلئے ناچ گانے کرائے۔بھارتی اپوزیشن بھی نریندر مودی کوتا پر برس پڑی اور کانگریس نے سوال اٹھایا کہ مودی کوتا بتائے ایپسٹین سے تعلق کس نوعیت کا تھا، اسرائیل میں ناچ کر ٹرمپ کو کونسا فائدہ پہنچایا۔کانگریس نے مودی کوتا کے ایپسٹین سے تعلقات کو ملک کیلئے باعث شرم قرار دیا ہے۔

کراچی / اسلام آباد / لاہور ( 1 فروری 2026) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آب گاہوں (ویٹ لینڈز) کو ہمارے ماحول، غذائی تحفظ اور موسمیاتی استحکام کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے ان کے تحفظ کے لیے فوری اجتماعی اقدامات پر زور دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب ویٹ لینڈز تباہ ہوتے ہیں تو فطرت کی آواز دب جاتی ہے، جس کی سب سے بھاری قیمت ہمیشہ غریب اور کمزور طبقات کو چُکانا پڑتی ہے۔ میڈیا سیل بلاول ہاؤس سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، پی پی پی چیئرمین نے عالمی یومِ ویٹ لینڈز کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، لہذیٰ، وہ اپنے ویٹ لینڈزبشمول دریاؤں، جھیلوں، مینگرووز اور نازک ڈیلٹائی سسٹم کو نظرانداز کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے ویٹ لینڈز اور مینگرووز نے نسلوں سے ساحلی آبادیوں کو قدرتی آفات سے محفوظ رکھا اور لاکھوں افراد کے روزگار کا سہارا بنے رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان ویٹ لینڈز اور مینگرووز کا تحفظ صرف ماحولیاتی ضرورت ہی نہیں بلکہ سماجی انصاف کا تقاضا بھی ہے۔ پیپلز پارٹی کے عزم کی توثیق کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پارٹی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ماحولیاتی اقدامات کی بنیاد عوام کی بہبود پر ہونی چاہیے، قدرتی وسائل کی حفاظت کی جائے اور مستقبل کی نسلوں کے لیے پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے زور دیا کہ حکومتوں، کمیونٹیز اور نوجوانوں کو ویٹ لینڈز کے محافظ بننا ہوگا کیونکہ انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی ہی ایک محفوظ، سرسبز اور امید سے بھرپور مستقبل کی راہ ہے۔

سابق وزیرِ اعظم اور صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے انتقال سے آزاد کشمیر میں وضع داری، شائستگی اور سیاسی رواداری کا ایک روشن باب بند ہو گیا____ آپ 1996 سے 2001 تک آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم رہے، مگر دورِ اقتدار میں آپ پر کرپشن کے الزامات نہ ہونے کے برابر لگے، جو آپ کی دیانت داری اور اصول پسندی کا واضح ثبوت ہے____کشمیر کاز کے لیے آپ کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ دنیا بھر میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے جلسے، جلوس، مارچز اور ریلیاں آپ کی قیادت میں منعقد ہوئیں، جنہوں نے عالمی سطح پر اس اہم مسئلے کو زندہ رکھا____ہمارے خاندان اور کارکنان کے ساتھ بیرسٹر صاحب کے تعلقات تلخ و شیریں یادوں کا حسین امتزاج رہے۔ 1996 میں وزارتِ عظمیٰ کے لیے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اور ممتاز راٹھور مرحوم کے درمیان سخت سیاسی مقابلہ ہوا، اور بالآخر اقتدار کا ہما بیرسٹر صاحب کے سر پر بیٹھا____1999 میں ممتاز راٹھور مرحوم کے انتقال کے بعد، اختلافات کے باوجود بیرسٹر صاحب نے اعلیٰ ظرفی اور سیاسی شائستگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ضمنی الیکشن میں مسعود ممتاز راٹھور صاحب کی بھرپور حمایت کی۔ بعد ازاں وہ تسلسل کے ساتھ راٹھور صاحب کی سالانہ برسیوں میں شرکت کرتے رہے اور سیاسی طور پر ہمیشہ ایک ہی صف میں کھڑے نظر آئے____اللہ تعالیٰ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری مرحوم کو غریقِ رحمت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین_____

دہائیوں پر محیط رہائشی المیہسی ڈی اے، آر ڈی اے اور سرکاری ہاؤسنگ اداروں کی ناکامیاں، ہزاروں شہری بے گھر رانا تصدق حسیناسلام آباد: رہائشی پلاٹس کی مکمل ادائیگی کے تقریباً چار دہائیاں گزر جانے کے باوجود ہزاروں شہری آج بھی چھت سے محروم ہیں۔ سرکاری ہاؤسنگ اداروں میں مسلسل بدانتظامی، فیصلہ سازی میں ناکامی اور ادارہ جاتی مفلوجی نے شہریوں کو ایک نہ ختم ہونے والے انتظار میں مبتلا کر رکھا ہے۔اس قومی ناکامی کی سب سے نمایاں مثال سیکٹر E-12 ہے، جہاں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) نے 1989 میں پلاٹس الاٹ کیے، مگر 2026 تک بھی الاٹیوں کو قبضہ نہیں دیا جا سکا۔جو قبضہ ایک سال میں (1990 تک) ملنا تھا، وہ 36 سالہ اذیت میں بدل چکا ہے—خالی وعدے، نمائشی ترقی، اور کسی بھی سطح پر جوابدہی کا مکمل فقدان۔E-12: 36 سالہ ٹوٹے وعدوں کی داستانسیکٹر E-12 کے الاٹی اپنی عمر بھر کی جمع پونجی ایسے پلاٹس میں پھنسے دیکھ رہے ہیں جو آج بھی صرف کاغذوں میں موجود ہیں۔منصوبہ بند ترقی کے بجائے الاٹیوں نے صرف ادھوری سڑکیں، وقتی مشینری کی آمد، اور ہر دور کی نئی بیوروکریٹک توجیہات دیکھیں، جبکہ حکومتیں اور سی ڈی اے انتظامیہ مسئلہ ایک دوسرے پر ڈالتی رہیں۔“میری اہلیہ کو 1989 میں ہماری شادی کے وقت پلاٹ الاٹ ہوا تھا۔ آج میں ریٹائر ہو چکا ہوں، مگر E-12 میں گھر بنانے کی کوئی امید نہیں”،ایک الاٹی نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا۔وفاقی کابینہ کی ہدایات، اندرونی اجلاسوں اور میڈیا بیانات کے باوجود زمینی حقیقت وہی ہے:نہ قبضہ، نہ سہولیات، نہ عزت۔’پہلے متاثرین، بعد میں ترقی‘ — ایک مستقل بہانہسی ڈی اے حکام ہر بار تاخیر کی وجہ زمین متاثرین کے معاوضے کو قرار دیتے ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ جب تک متاثرین کو ادائیگی یا متبادل پلاٹس (خصوصاً سیکٹر I-12 میں) نہیں دیے جاتے، ترقی ممکن نہیں۔مگر ناقدین کے مطابق:متاثرین کے مسائل اسکیم لانچ کرنے سے پہلے حل ہونے چاہیے تھےزمین کلیئر کیے بغیر الاٹیوں سے رقم وصول کی گئیذمہ دار افسران کے لیے کبھی کوئی لازمی ٹائم لائن مقرر نہیں کی گئیسی ڈی اے ترجمان کا یہ بیان کہ “E-12 حل کے لیے تیار ہے” اب ایک غیر معتبر رسمی جملہ بن چکا ہے۔یہ ایک اسکیم نہیں، ایک پورا نظام ناکام ہےسیکٹر E-12 صرف ایک مثال ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کی متعدد سرکاری ہاؤسنگ اسکیمیں اسی المیے کی عکاس ہیں—رقم وصول، وعدے، مگر عمل ندارد۔وفاقی سرکاری ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA)گرین اینکلیو-I (بھارہ کہو)آغاز: 2009الاٹی: 3,28215 سال بعد بھی بڑی تعداد قبضے سے محرومگرین اینکلیو-II / اسکائی گارڈن ہاؤسنگ اسکیمدسیوں ہزار سرکاری ملازمین رجسٹرڈبرسوں سے انتظار، قبضے کا کوئی واضح روڈ میپ نہیںF-14/15 ہاؤسنگ پراجیکٹآغاز: 2015منصوبہ بند پلاٹس: 6,746ترقی نہ ہونے کے برابر، منصوبہ عملاً غیر فعالپاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی فاؤنڈیشن (PHAF)سرکاری کنٹرول میں ہاؤسنگ ادارہI-12/1 اپارٹمنٹس سمیت متعدد منصوبےسست روی، ڈیڈ لائنز کی بار بار خلاف ورزیکسی پر کوئی کارروائی نہیںسی ڈی اے اور آر ڈی اے: دوسروں کے لیے سخت، خود کے لیے ناکامسی ڈی اے اور راولپنڈی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (RDA) نجی ہاؤسنگ اسکیموں کے خلاف سخت کارروائیاں کرتی ہیں—این او سیز منسوخ، سوسائٹیاں سیل، 100 سے زائد اسکیمیں غیر قانونی قرار۔مگر اپنی سرکاری اسکیموں میں:دہائیوں پر محیط تاخیراربوں روپے کی لاگت میں اضافہمنفی آڈٹ رپورٹس (مثلاً نیلور ہائٹس)عدالتی احکامات پر عملی عملدرآمد نہیںنتیجہ: شہری متاثر، افسران بے خوف۔G-16 اور NHF: وہی پرانی کہانیG-16 وزارت داخلہ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی اورنیشنل ہائی وے فاؤنڈیشن (NHF) کے منصوبے بھی E-12 جیسے ہی ہیں:مکمل ادائیگیکوئی فزیکل الاٹمنٹ نہیں20 سال سے زائد عرصہ بغیر قبضہالاٹیوں کے مطابق بدعنوانی، نااہلی اور دانستہ بیوروکریٹک سستی اس بحران کی جڑ ہے، جبکہ نیب اور ایف آئی اے جیسی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ضمنی نقصان: اعتماد کا خاتمہ اور شہری انتشارشہری منصوبہ بندی کے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ان ناکامیوں نے:ریاستی ہاؤسنگ پر عوامی اعتماد ختم کر دیاشہریوں کو غیر منظم نجی اسکیموں کی طرف دھکیلابعد ازاں غیر قانونی قرار دی جانے والی اسکیموں میں سرمایہ کاری بڑھیاسلام آباد کے منصوبہ بند شہری ماڈل کو شدید نقصان پہنچایوں ریاست کی ہاؤسنگ میں ناکامی نے وہی بحران پیدا کیا جسے وہ اب کنٹرول کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔احتساب کا بڑھتا مطالبہالاٹی، سول سوسائٹی اور ماہرینِ پالیسی مطالبہ کر رہے ہیں:وفاقی و صوبائی ہاؤسنگ اسکیموں پر عدالتی یا پارلیمانی تحقیقاتنئی اسکیم لانچ کرنے سے قبل متاثرین کو مکمل اور بروقت معاوضہسی ڈی اے، آر ڈی اے، FGEHA اور PHAF کی قیادت کی ذاتی جوابدہینیب اور ایف آئی اے کی فوری مداخلت اور مالی بدانتظامی کی تحقیقاتایک بنیادی حق سے محرومیرہائش کوئی عیاشی نہیں، بنیادی انسانی ضرورت ہے۔36 سال بعد بھی مکمل ادا شدہ پلاٹس کا قبضہ نہ ملنا حکمرانی، انصاف اور ترجیحات پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ان ہزاروں خاندانوں کے لیے، جنہوں نے نیک نیتی سے ادائیگی کی اور دہائیوں انتظار کیا، سوال آج بھی وہی ہے:اگر ریاست 36 سال میں ایک گھر نہیں دے سکتی، تو زندگی بھر کے ٹوٹے وعدوں کا حساب کون دے گا؟

کینٹ ایریا میں آئندہ کوئی دکان سربمہر نہیں ہو گی،سر بمہرکرنے سے پہلے متعلقہ ادارہ نوٹس کے ذریعے آگاہ کرےگا ، سٹیشن کمانڈر بریگیڈیئر علی انجم سیل نہ کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے باقی محکموں کو بھی تقلید کرنی چایئے، گروپ لیڈر سہیل الطافمعاشی ترقی کے حصول کے لیے کاروبار دوست ماحول کی فراہمی کو اولین ترجیح دینا ہو گی، صدر عثمان شوکتسٹیشن کمانڈر بریگیڈیئر علی انجم نے کہا ہے کہ کینٹ ایریا میں آئندہ کوئی دکان سربمہر نہیں ہو گی،سربمہر کرنے سے پہلے متعلقہ ادارہ نوٹس کے ذریعے آگاہ کرےگااور سیل کرنے کی وجہ بتائے گا ، کمپلائینس پورا کرنے کے لیے مناسب وقت بھی دیا جائے گا۔راولپنڈی چیمبر آف کامرس میں ڈیجیٹل بنکنگ اور ادائیگیوں کے لیے راست اور ڈیجیٹل کیو آر کے حوالے سے معلوماتی سیشن سے خطاب میں اسٹیشن کمانڈر نے کہا کہ بزنس فرینڈلی ماحول کی فراہمی کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے ہر فرد اور ادارے کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا،فنانشل لٹریسی کو عام کرنا ہو گا،صدر عثمان شوکت نے کہا کہ معاشی ترقی کے حصول کے لیے کاروبار دوست ماحول کی فراہمی کو اولین ترجیح دینا ہو گی، ڈیجیٹل نظام سے آگاہی کے حوالے سے چیمبر اس طرح کے سیشن باقاعدگی کے ساتھ منعقد کرائے گا۔ گروپ لیڈر سہیل الطاف نے کہا کہ کینٹ ایریا میں کاروباری مرکز سربمہر نہ کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے باقی محکموں کو بھی تقلید کرنی چایئے،کاروبار دوست ماحول کی فراہمی کے لیے ٹیکس کی شرح سنگل ڈیجیٹ تک لانا ہو گی ، کاروباری لاگت کم کرنا ہو گی۔ رضوان خلیل شمسی چیف منیجر سٹیٹ بنک نے سیشن سے خطاب میں کہا کہ سٹیٹ بنک نے پرائم منسٹر کی ہدایات کی روشنی میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو عام کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے ہیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا “راست” ایک مفت، فوری اور محفوظ ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام ہے، جس کے ذریعے آپ اپنے موبائل نمبر (راست آئی ڈی) یا آئی بین (IBAN) کا استعمال کرتے ہوئے بغیر کسی اضافی فیس کے رقم بھیج اور وصول کر سکتے ہیں۔ یہ پاکستان کا پہلا فوری ادائیگی کا نظام ہے، جو تمام بینکوں کو آپس میں منسلک کرتا ہے۔ڈیجیٹل نظام سے نقد رقم کے ذریعے لین دین کم کرنے اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں مدد ملے گی۔ سیشن کا مقصد صارف اور کاروبار دونوں کو رقم کی منتقلی ، مالی لین دین تیز، آسان اور زیادہ محفوظ ادائیگیوں کے نظام سے روشناس کرانا تھا۔ اس موقع پر کمرشل بنکوں اور ڈیجیٹل موبائل والٹ کے نمائندوں نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے مختلف پلیٹ فارمز کے بارے میں پریذینٹیشنز بھی دیں۔ سینئر نائب صدر خالد فاروق قاضی، ایگزیکٹو کمیٹی ممبران، انجمن تاجران کے نمائندوں منیر بیگ مرزا، سمال چیمبر کے سینئر نائب صدر دوست علی جان، ودیگر بھی موجود تھے

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved