تازہ تر ین

سرفراز بگٹی خواتین کی طرح آنسو بہانے لگے..عمران کے بیٹوں کی پاکستان آمد کھٹائی میں.ملالہ یوسفزئی اسرائیل کے خلاف کیوں نہیں بولتی ؟ ایپسٹائن فائلز میں ملالہ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ اس پیڈو فائلز کے رنگ کی ماشاکوڈوا سے فنڈنگ لیا کرتی تھی۔۔ ۔ملالہ یوسفزئی اسرائیل کے خلاف کیوں نہیں بولتی ؟وزیر اعطم اور سھیل آفریدی ملاقات رزلٹ صفر۔۔۔علیمہ کو گرفتار کر کے پیش کیا جائے عدالت۔۔علیمہ کو گرفتار کر کے پیش کیا جائے عدالت۔ملک اقتصادی دلدل میں حکمت عملی کا فقدان۔عوام خودکشیوں پر مجبور حکمرانوں کی عیاشیاں جاری۔۔زندگی سسکیاں لینے لگی اٹا مھنگا خون سستا۔۔4 سال میں مھنگای کا طوفان عوام کو زندہ دفن کر دیا گیا ادارہ کب یہ گند اٹھا کر رکھے گا۔علیم خان نے سئینر پلواشہ سے معافی مانگ لی۔۔بلوچستان جتنے ائیرپورٹ کسی صوبے میں نہیں ہیں، آزادی کے وقت وہاں صرف چند سو کلومیٹر سڑکیں تھیں، اب 26 ہزار کلومیٹر سڑکیں ہیں، 15 ہزار 96 اسکول اور 13 کیڈٹ کالجز ہیں، 13 بڑے اسپتال ہیں، بلوچستان کا این ایف سی شیئر 933 ارب روپے ہے۔ سرداری نظام نے تمام وسائل لوٹے۔ خواجہ آصف

‏کل ٹی وی پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی آنسو بہانے لگے۔ یہ دیکھ کر مجھے اسلامی تاریخ کا ایک مشہور واقعہ یاد آ گیا۔ اندلس یعنی موجودہ سپین میں آخری مسلمان حکمران ابو عبداللہ تھا۔ نا اہل اور بزدل ابو عبداللہ نے اپنی جان بخشی کی رعایت کے عوض اپنی ریاست غرناطہ ایک معاہدے کے تحت فرڈینینڈ اور اسرائیل کے حوالے کر دی اور خود اپنے خاندان سمیت افریقہ روانہ ہو گیا۔ جب وہ افریقہ جا رہا تھا تو ایک پہاڑی پر کھڑے ہو کر اس نے غرناطہ پر آخری نظر ڈالی اور آنسو بہانے لگا۔ اس پر اس کی ماں عائشہ الحرا نے ایک تاریخی جملہ کہا۔ تم جس ریاست کی مردوں کی طرح حفاظت نہیں کر سکے ۔ اب اسے دیکھ کر عورتوں کی طرح رونے کا تمھیں کوئی حق نہیں۔ جلدی چلو سفر بہت لمبا ہے۔ سرفراز بگٹی صاحب سے بھی یہی گزارش ہے کہ تم جس صوبے اور جن عوام کی حقوق کی مردوں کی طرح حفاظت نہیں کر سکتے، اب ان کے نقصان پر سامنے آ کر عورتوں کی طرح ٹسوے بہانے کا کوئی تمھیں کوئی حق نہیں۔

امریکی بظاہر ایران پر حملہ کیلئے خلیج میں موجود ہیں لیکن ہدف پاکستان ہے ۔پاکستان کو نشانہ بنانے میں بھارتی معاونت کیلئے امریکہ نے بھارتی درآمدات پر ٹیرف پچاس فیصد سے کم کر کے اٹھارہ فیصد کر دیا ہے ۔افغان حکومت کے زریعے بلوچ عسکریت پسندوں کو بگرام ایئر بیس پر چھوڑا جدید ترین اسلحہ دیا جا رہا ہے ۔

بساط ۔اظہر سیدامریکی ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس کا ایپسٹن فائل ریلیز کرنا جب امریکہ کا طاقتور بحری بیڑا ایران پر حملہ کیلئے خلیج میں موجود ہے دلیل ہے معاملات امریکی صدر ٹرمپ کے ہاتھوں میں نہیں ریاست کے اندر ریاست والوں کے پاس ہیں ۔امریکی صدر وہی فیصلہ کرے گا جو ایپسٹن فائل ریلیز کرنے والے چاہیں گے ۔سابق صدر کلنٹن نے فائل میں اپنا نام ظاہر ہونے پر پریس ریلیز جاری کی ہے کچھ نام چھپا لئے گئے ہیں یعنی صدر ٹرمپ ۔موجودہ امریکی صدر اپنی مرضی کرے گا تو ایک تلوار لٹکا دی گئی ہے تیرہ سالہ لڑکی کے ریپ اور قتل کا معاملہ کھول دیا جائے گا ۔چینی آرمی چیف کی برطرفی ،وینویلا کے صدر کا اغوا ،ایران کا گھیراؤ اور اچانک بلوچ عسکریت پسندوں کا متحرک ہونا اور آٹھ شہروں پر حملہ کرنا سارے معاملات چین امریکہ کشمکش سے منسلک ہیں۔وینویلا اور ایران چین کو اسکی صنعتی ایمپائر چلانے کیلئے تیل فراہم کرتے ہیں ۔بلوچستان ون بیلٹ ون روڈ کا مرکزی نکتہ ہے ۔مزید آگے بڑھیں تو کہا جا سکتا ہے تحریک انصاف کے احتجاج کا اعلان اور افغانستان کو ہر ہفتے ملنے والے چالیس ملین ڈالر امریکی امداد کی بندش ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں ۔ایک ہفتے پہلے امریکہ امداد بڑھا کر نوئے ملین ڈالر کی گئی تھی اور چھ روز بعد امداد بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا ،یعنی افغانستان سے کچھ مانگا جا رہا ہے ۔ریڈ آرمی کے سربراہ کی برطرفی معاملہ کی گھمبرتا کی دلیل ہے کہ دنیا کی دونوں سپر پاور ایک ختم ہوتی ہوئی اور دوسری ابھرتی ہوئی ایک معرکہ لڑنے کی تیاریاں کر رہی ہیں ۔ریڈ آرمی کے سربراہ کو شائد کسی فیصلہ میں اختلاف رائے پر برطرف کیا گیا ہے

۔پاکستان چین کا فطری حلیف ہے اس لئے سمجھا جائے خلیجی میں طاقتور امریکی بیڑا کا اصل ہدف ایران نہیں بلکہ پاکستان ہے ۔افغانستان کو بھی استعمال کیا جائے گا اور اگر ایران میں حکومت تبدیل کر دی گئی تو ایرانی سرزمین سے بھی پاکستان کو انگیج کیا جائے گا ۔معاملات کی رفتار تیز ہوئی تو بھارت بھی متحرک ہو جائے گا ۔مہرے رکھے جا رہے ہیں ۔چینی بھی یقینی طور پر ہر معاملہ پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔پاکستان پر بھی ایران پر بھی اور افغانستان پر بھی ۔کھیل میں سب سے اہم عنصر امریکی معیشت کا دیوالیہ پن ہے ۔37کھرب ڈالر کی مقروض سپر پاور اس سپر پاور کے ساتھ سینگ لڑانے جا رہی ہے جس کے محفوظ زخائر دنیا کے ہر ملک سے زیادہ ہیں ۔سائنس ٹیکنالوجی میں بھی امریکہ کو برابر کی ٹکر دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اسٹیج تیزی سے تیار ہو رہی ہے ۔ڈرامہ کے مختلف کردار سکرپٹ یاد کر رہے ہیں۔بہت کچھ ہونے جا رہا ہے ۔ ابتدا ہو گئی تو وہ انتہا ہونے تک جاری رہے گی ۔

پنجاب پولیس میں بڑی تبدیلی متوقع، جعلی مقدمات اور ماورائے عدالت کارروائیوں پر حکومت کا فیصلہ کن قدم رانا تصدق حسینلاہور: صوبائی حکومت کے اعلیٰ ذرائع کے مطابق انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو عہدے سے ہٹائے جانے کا قوی امکان ہے، جبکہ پنجاب پولیس کی اعلیٰ قیادت میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صوبے بھر میں بے گناہ اور قانون پسند شہریوں کے خلاف جعلی مقدمات، بالخصوص من گھڑت منشیات کیسز، مبینہ پولیس مقابلوں اور حراست میں ہلاکتوں میں تشویشناک اضافے کے بعد کیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اندرونی رپورٹس اور مشاورت کی روشنی میں حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ پنجاب میں جرائم پر قابو پانے اور عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے پولیس قیادت میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ذرائع کے مطابق پنجاب کے نئے آئی جی کے لیے تین مضبوط نام زیر غور ہیں جن میں سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ، ایڈیشنل آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) وسیم سیال اور سینئر پولیس افسر راؤ عبد الکریم شامل ہیں۔ دوسری جانب ڈاکٹر عثمان انور کو آئندہ کسی وفاقی عہدے پر تعینات کیے جانے کا امکان ہے

۔اہم پیش رفت یہ ہے کہ حکومت نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) میں تعینات افسران کے سروس ریکارڈ اور پروفائلز کی آزاد اور بیرونی قانون نافذ کرنے والے و انٹیلی جنس اداروں کے ذریعے جانچ پڑتال کا اصولی فیصلہ بھی کر لیا ہے۔ اس عمل کا مقصد وردی کے پیچھے چھپے کسی بھی جرائم پیشہ عنصر کی نشاندہی اور بیخ کنی بتایا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق جعلی پولیس مقابلوں، ماورائے عدالت قتل، پولیس حراست میں اموات اور کم عمر بچوں و طلبہ کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد منشیات مقدمات نے حکومت کو سخت اقدام پر مجبور کر دیا ہے۔ ان واقعات پر سول سوسائٹی، وکلاء، انسانی حقوق کے حلقوں اور خود سرکاری سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی تھی، جس کے بعد بالآخر آئی جی پنجاب کو ہٹانے کا فیصلہ کن اقدام سامنے آیا ہے۔صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ پولیسنگ کے پورے نظام کو درست سمت میں لانے، اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکنے، اور ادارہ جاتی احتساب یقینی بنانے کی جامع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نئی قیادت اور حساس محکموں کی آزاد نگرانی سے نہ صرف جرائم پر قابو پایا جا سکے گا بلکہ قانون کی بالادستی اور عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب کی تبدیلی کا باضابطہ اعلان آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے، کیونکہ اس حوالے سے صوبائی اور وفاقی سطح پر مشاورت تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔

اقتصادی تباہی کے اندر سے انجنیئر

کس طرح ٹیکس کے جنون، پالیسی سازوں اور توانائی کے جھٹکے نے پاکستان کو تباہی کے دہانے پر دھکیل دیا۔ اندر کا دشمن رانا تصدق حسین اسلام آباد: پاکستان کا گہرا ہوتا ہوا معاشی بحران نہ تو حادثاتی ہے اور نہ ہی بیرونی۔ یہ قومی معیشت کو سنبھالنے والوں کی طرف سے کیے گئے غلط تصورات، ناقص ترتیب اور لاپرواہی سے نافذ پالیسی فیصلوں کی ایک سیریز کا مجموعی نتیجہ ہے۔ حکومت کی جانب سے رئیل اسٹیٹ پر بہت زیادہ ٹیکس عائد کرنے کے فیصلے کے ساتھ اس انہدام کا آغاز ہوا، اس تصور کے تحت کہ سرمایہ خود بخود جائیداد سے گھریلو صنعت میں منتقل ہو جائے گا۔ مفروضہ جان لیوا ناقص ثابت ہوا۔ پاکستان کے صنعتی اڈے میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے، سرمایہ کاروں نے دبئی، ملائیشیا، ترکی اور برطانیہ کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹوں میں رئیل اسٹیٹ کی منڈیوں کا رخ کرتے ہوئے، سرمایہ کاروں نے ملک سے مکمل طور پر سرمایہ نکال لیا۔

اس کیپٹل فلائٹ نے ایک جھڑپ کو جنم دیا: پاکستان کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر ٹھپ ہوگیا۔ تعمیراتی صنعت تباہ ہو گئی۔ سیمنٹ، سٹیل، گلاس، ٹائلز، پینٹس، کیبلز اور فٹنگز سمیت 40 کے قریب متعلقہ صنعتوں کو بڑے پیمانے پر سکڑاؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ اگلے مرحلے میں، ڈالر کے اخراج کو روکنے کی کوشش میں، حکومت نے سخت درآمدی کنٹرول اور زرمبادلہ کی پابندیاں متعارف کروائیں۔ ذخائر کو مستحکم کرنے کے مقصد کے ساتھ، ان اقدامات نے صنعتی سپلائی چین کو معذور کر دیا، جس سے ضروری خام مال کی درآمد روک دی گئی۔ نتیجے کے طور پر: صنعتی پیداوار سست یا رک گئی۔ ایکسپورٹ آرڈرز پورے نہ ہو سکے۔ پاکستان کی برآمدات کی رفتار گر گئی! چونکہ ٹیکس محصولات بڑھنے کے بجائے کم ہونے لگے، پالیسی سازوں نے ساختی اصلاحات کے ساتھ نہیں بلکہ مالی جارحیت کے ساتھ جواب دیا۔ ان چند صنعتوں پر سپر ٹیکس عائد کیا گیا جو ابھی تک منافع بخش تھیں، جبکہ انکم ٹیکس کے سلیب کو بیک وقت بڑھا دیا گیا تھا۔ متوقع طور پر: صنعتی نقصانات بڑھ گئے۔ خالص منافع کم ہو گیا۔ توسیع اور دوبارہ سرمایہ کاری روک دی گئی۔ ملازمتوں کی تخلیق رک گئی۔ آمدنی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے، بوجھ پھر تنخواہ دار افراد پر منتقل کیا گیا، جس سے انکم ٹیکس میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اس اقدام نے پورے بورڈ میں قوت خرید کو ختم کر دیا، جس سے صارفین کی طلب میں کمی واقع ہوئی۔ کم طلب نے صنعتی محصولات کو مزید کم کر دیا، جس سے کاروبار پر مالی دباؤ بڑھتا ہے۔ آخر کار، جب بجٹ خسارے کے غبارے سے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی، تو حکومت نے سب سے زیادہ نقصان دہ شارٹ کٹ کا انتخاب کیا: بجلی، گیس اور پٹرولیم کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ۔ توانائی کے ان جھٹکوں نے پیداوار کو معاشی طور پر ناقابل عمل بنا دیا، مسابقت کو تباہ کر دیا اور ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو مکمل طور پر منجمد کر دیا۔ پہلے سے دباؤ میں آنے والی صنعتوں کو بقا کے کنارے پر دھکیل دیا گیا۔ صرف اب، برسوں کے نقصان کے بعد، اس معاشی حقیقت کے ٹکڑوں کو تسلیم کیا جا رہا ہے – تاخیر سے: ایک وزیر خزانہ جو بنیادی طور پر بینکر ہے، ترقیاتی ماہر معاشیات نہیں، اور ایس آئی ایف سی کے مینیجرز، جو بظاہر تین نازک سالوں کے بعد مسئلے کے کچھ حصوں کو سمجھ چکے ہیں، پہلے ہی کھو چکے ہیں اس کے باوجود آج بھی، بحران کی مکمل باہم جڑی نوعیت سرکاری طور پر غیر تسلیم شدہ ہے۔ پاکستان کو سرحدوں سے باہر کسی دشمن کی ضرورت نہیں۔ سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والی قوتیں معاشی فیصلہ سازی کے دائرے میں بیٹھی ہیں۔ وزارت خزانہ، نجکاری ڈویژن، اقتصادی امور ڈویژن اور سب سے بڑھ کر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) پر نااہل، بے حس اور مبینہ طور پر کرپٹ جادوگروں کا غلبہ ہے، جن کے پیداواری صلاحیت پر ٹیکس لگانے کے جنون نے معیشت کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا ہے۔ پاکستان کو جس چیز کی فوری ضرورت ہے وہ نعروں کی نہیں، بیل آؤٹ کی نہیں، اور کاسمیٹک اقدامات کی نہیں۔

اس کے لیے عقلی ٹیکس لگانے، صنعتی مسابقت کی بحالی، سستی توانائی کی قیمتوں کا تعین، پالیسی میں تسلسل، برآمدات میں سہولت، اور اہم اقتصادی اداروں سے غیر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے فیصلہ سازوں کو ہٹانے کے ذریعے عملی طور پر ڈوبتی ہوئی معیشت کی سنجیدہ، زمینی سطح پر اصلاح کی ضرورت ہے۔ اس ری سیٹ کے بغیر، کوئی بھی فریم ورک ملکی یا غیر ملکی کمی کو روک نہیں سکتا

بلوچستان جتنے ائیرپورٹ کسی صوبے میں نہیں ہیں، آزادی کے وقت وہاں صرف چند سو کلومیٹر سڑکیں تھیں، اب 26 ہزار کلومیٹر سڑکیں ہیں، 15 ہزار 96 اسکول اور 13 کیڈٹ کالجز ہیں، 13 بڑے اسپتال ہیں، بلوچستان کا این ایف سی شیئر 933 ارب روپے ہے۔ سرداری نظام نے تمام وسائل لوٹے۔ خواجہ آصف

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved