پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کا کہنا ہے کہ 18 مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس کے باہر مجھے قتل کرنے کے کا پلان تھا

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کا کہنا ہے کہ 18 مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس کے باہر مجھے قتل کرنے کے کا پلان تھا، میرے پاس ثبوت ہیں کہ 18 مارچ کو مجھے قتل کیا جانا تھا۔پاڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ نو مئی سے قبل جی ایچ کیو کے باہر احتجاجی مظاہرے کی پرامن کال کے بیان پر قائم ہوں۔بانی پی ٹی آئی نے وضاحت کے ساتھ جی ایچ کیو کے باہر پرامن احتجاج کے بیان کی دوبارہ تصدیق کر دی۔انہوں نے کہا کہ میرے بیان کو ایسے پیش کیا گیا جیسے میں نے 9 مئی واقعات کا اعتراف یا جرم کیا ہو، جی ایچ کیو کے باہر پرامن احتجاج سے متعلق میں نے تین وی لاگز بھی کیے، 12 مرتبہ پولیس تفتیش میں بھی جی ایچ کیو کے باہر پرامن احتجاج کا کہہ چکا ہوں۔عمران خان نے کہا کہ مجھے قتل کرنے کیلئے 14 مارچ کو میرے گھر پر حملہ کیا گیا، 18 مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس کے باہر مجھے قتل کرنے کے کا پلان تھا، میرے پاس ثبوت ہیں کہ 18 مارچ کو مجھے قتل کیا جانا تھا۔انہوں نے کہا کہ میں نے پارٹی کو کہا تھا اگر فوج اور رینجرز مجھے گرفتار کریں تو آپ نے جی ایچ کیو اور کنٹونمنٹ کے باہر جا کر پرامن احتجاج کرنا ہے۔صحافی نے سوال کیا کہ آپ کہتے ہیں پرامن احتجاج کی کال دی تھی لیکن نو مئی کو پرامن احتجاج تو نہیں ہوا۔ جس پر بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ احتجاج پرامن اس لیے نہیں ہوا کہ ان کا پہلے سے یہ پلان تھا، یہ سی سی ٹی وی فوٹیج اس لیے سامنے نہیں لا رہے کیونکہ ہمارے لوگ سی سی ٹی وی فوٹیج میں موجود ہی نہیں ہیں، سی سی ٹی وی فوٹیجز میں ہماری بے گناہی کے ثبوت ہیں، سی سی ٹی وی اس لیے سامنے نہیں لائی جا رہی کیونکہ اس میں کسی اور کے چہرے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جہاں سے مسئلہ ہوتا ہے وہیں احتجاج ہوتا ہے، پولیس اسٹیشن کے باہر جا کر احتجاج نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ 9 مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیجز چوری ہونے پر میں عدالت جا رہا ہوں، میں خود رینجرز کے خلاف کیس کر رہا ہوں کہ کس طرح سابق وزیراعظم کو ہائی کورٹ کے احاطہ سے اغوا کیا گیا، کس نے رینجرز کو آرڈر دیا تھا کہ مجھے گرفتار کریں، کس نے پارٹی چیئرمین کو ڈنڈے مارنے کا حکم دیا تھا۔عمران خان نے کہا کہ حکومت نے سوشل میڈیا پر کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے، 75 سالہ کینسر سروائیور رؤف حسن کو بھی حکومت نے گرفتار کر لیا ہے، سوشل میڈیا کے معاملے پر وہ تفتیش کریں گے جو خود این آر او 2 اور فارم 47 سے حکومت میں آئے ہیں، جن کی کوشش ہے کہ فوج اور پی ٹی آئی میں تصادم ہو وہی اس معاملہ کی تفتیش کریں گے، تفتیش کے لیے جوڈیشل کمیشن بنائیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو پی ٹی آئی کا خوف ہے، وہ چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو فوج کے ذریعے ختم کیا جائے، حالیہ بجٹ کے بعد حکومت کی ساکھ ختم ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا جمہوری پبلک کی آواز ہے، خدا کا واسطہ ہے عوام کی آواز کو ڈیجیٹل دہشت گردی سے نہ جوڑیں، کسی بھی ادارے پر اگر تنقید نہیں ہو گی تو وہ ادارہ تباہ ہو جائے گا۔صحافی نے سوال کیا کہ آپ نے اپنے دور حکومت میں قانون سازی کروا کر فوج کے خلاف بات کرنے پر سزائیں مقرر کی تھیں۔جس پر عمران خان نے کہا کہ تنقید اور تنقید میں فرق ہوتا ہے، ہمارے دور میں کوئی صحافی ملک چھوڑ کر گیا نہ قتل ہوا، ان سے بہتر تو پرویز مشرف کا لبرل دور تھا۔صحافی نے سوال کیا کہ اس کا مطلب ہے قومی سلامتی کے ادارے پر بھی کھلے عام تنقید کی جائے؟جس پر عمران خان بولے کہ قومی سلامتی کا ادارہ ہو یا کوئی اور ادارہ ہر ادارے پر تنقید ہونی چاہیے، ان ججز کی سوشل میڈیا پر تعریفیں ہو رہی ہیں جنہوں نے ہمارے حق میں فیصلہ دیا، فوج پاکستان کی ہے، نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی نہیں، فوج اگر فارم 47 کی حکومت کے ساتھ کھڑی ہوگی تو اس کی ساکھ متاثر ہوگی، فوج کا فارم 47 والوں کے ساتھ کھڑا ہونا ملک، معیشت اور جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے۔صحافی نے کہا کہ ریکارڈ پر اپ کے بیانات موجود ہیں کہ نیوٹرل جانور ہوتا ہے، آپ پھر کس طرح آرمی چیف سے نیوٹرل رہنے کی اپیل کرتے ہیں؟عمران خان نے جواباً کہا کہ نیوٹرل کا مطلب جانور نہیں غیر سیاسی ہوتا ہے، نیوٹرل کا لفظ شاید غلط استعمال ہوا، میرے کہنے کا مقصد تھا کہ فوج آئین کے دائرے میں رہے۔ان سے سوال ہوا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے ساتھ جو کچھ ہوا اس میں آرمی چیف کا کردار ہے؟جس پر عمران خان نے کہا کہ ہماری پارٹی کو کس نے الیکشن نہیں لڑنے دیا، اسٹیبلشمنٹ کے بغیر یہ نہیں ہو سکتا، نواز شریف پر کرپشن کے اتنے کیسز تھے سب کے سب یکدم ختم کر دیے گئے۔صحافی نے کہا کہ اگر اپ سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ اپ کو فوج سے لڑا رہی ہے تو حکومت نے آپ کو دوبارہ مذاکرات کی پیشکش کی ہے آپ مذاکرات کی طرف کیوں نہیں جا رہے ہیں؟انہوں نے کہا کہ ہم نے مذاکرات پہلے بھی کیے لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا، یہ ہمارے ساتھ جو کچھ بھی کر رہے ہیں اس کا ہمیں نقصان نہیں ہماری جماعت کو فائدہ ہو رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے مہنگائی اور بجلی بلوں کے خلاف دھرنا دے کر زبردست کام کیا ہے، میں جماعت اسلامی کے مؤقف کی تائید کرتا ہوں، اسلام اباد میں ہمیں جلسے کی اجازت نہیں ملی ہمارے کارکنان کو گرفتار کیا جاتا ہے، اسلام اباد میں اجازت نہ ملنے پر فیصلہ کیا ہے پانچ اگست کو صوابی میں بڑا پاور شو کریں گے، پانچ اگست کو کے پی کے اور پنجاب کے بارڈر پر جلسہ کریں گے جس میں ملک بھر سے کارکنان شرکت کریں گے، صوابی میں جلسے کا فیصلہ اس لیے کیا کہ ملکی حالات تقاضا کرتے ہیں کہ کوئی انتشار نہ ہو، صوابی میں جلسہ کر کے دکھائیں گے کہ ملک میں کس پارٹی کی پاور ہے۔پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) نے جماعت اسلامی کے بجلی کی قیمتوں میں کمی کیلئے جاری دھرنے کی حمایت کر دی۔ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے الزام لگایا کہ حکمران چاہتے ہیں ہماری اسسٹیبلشمنٹ سے لڑائی ہو اور یہ حکومت کرتے رہیں۔شبلی فراز نے کہا کہ پی ٹی آئی مینڈیٹ واپسی کی کوششیں جاری رکھے گی ، نئے انتخابات کا مطالبہ عوامی مفاد میں کر رہے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق حکمرانوں نے اچانک آئی پی پیز کی مخالف کیوں شروع کردی؟۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اقلیتی حکومت ہے، ہم مینڈیٹ واپسی کی کوششیں جاری رکھیں گے، پی ٹی آئی ہر وقت نئے الیکشن کے لئے تیار ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نئے انتخابات کا مطالبہ عوامی مفاد میں کررہے ہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عملدرآمد کی روشنی میں پنجاب اور پختونخوا اسمبلی کے مزید 93 اراکین کو تحریک انصاف کا تسلیم کرلیا۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں بتایا گیا ہے

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عملدرآمد کی روشنی میں پنجاب اور پختونخوا اسمبلی کے مزید 93 اراکین کو تحریک انصاف کا تسلیم کرلیا۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب سے سنی اتحاد کونسل کے 29 اور پختونخوا اسمبلی کے 58 اور سندھ اسمبلی کے 6 ارکان کو تحریک انصاف کا قرار دے دیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے 93 ارکان کو تحریک انصاف کا تسلیم کرنے کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا۔قبل ازیں، الیکشن کمیشن نے 39 ارکان کو تحریک انصاف کے ارکان ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جنہیں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نوٹیفائی کیا گیا ہے۔قومی اسمبلی کا 8 واں اجلاس کل منعقد ہوگا، اجلاس شام 5 بجے ہوگا۔اسلام آباد، 29 جولائی: بھارت میں عام انتخابات کے بعد طاقت کی حرکیات قدرے تبدیل ہونے کے باوجود تحریکِ آزادیِ کشمیر کا تسلسل جاری رہنے کے امکانات ہیں۔ اگرچہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحاد میں حکومت کررہی ہے، لیکن بی جے پی اور انڈین نیشنل کانگریس دونوں ہی کشمیر سمیت تمام خارجی اور داخلی امور میں یکساں پالیسیوں پر عمل پیرا نظر آتے ہیں ۔ اگرچہ ہندوستانی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، لیکن مختلف اندرونی عوامل اور بیرونی ماحول میں وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیاں وقت کے ساتھ ساتھ لامحالہ صورتحال پر اثر انداز ہوں گی اور اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے محرک کا کردار ادا کرسکتی ہیں۔ دریں اثنا، ہندوستانی پالیسیوں کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کو اپنی طاقتوں اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا، طویل مدتی عزم کا مظاہرہ کرنا ہوگا، اور ایک مضبوط حکمت عملی پر مبنی، کثیر الجہتی نقطہ نظر اپنانا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) اسلام آباد کے زیرِ اہتمام 23ویں آئی پی ایس ورکنگ گروپ آن کشمیر کی میٹنگ کے دوران کیا گیا جس کا عنوان ’’تیسری بی جے پی حکومت: انڈیا کی کشمیر پالیسی اور اس کا مستقبل کا آؤٹ لک‘‘ تھا۔ اس سیشن کی نظامت سابق سفیر اور وائس چیئرمین آئی پی ایس سید ابرار حسین نے کی، جبکہ اس سے چیئرمین آئی پی ایس خالد رحمٰن، سیکیورٹی تجزیہ کار ڈاکٹر سید محمد علی ، ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف ملٹی ٹریک ڈائیلاگ ڈویلپمنٹ اور ڈپلومیٹک اسٹڈیز ڈاکٹر ولید رسول ، ڈائریکٹر کشمیر پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹر راجہ سجاد محمد خان ، انقرہ میں مقیم کشمیری صحافی افتخار گیلانی ، اور سابق وزیر آزاد جموں و کشمیر اور آئی پی ایس ریسرچ ایسوسی ایٹ فرزانہ یعقوب نے خطاب کیا۔ گفتگومیں انتخابات کے بعد بی جے پی کی واضح طور پر کمزور پوزیشن کے باوجود مقبوضہ کشمیر پر تسلط قائم کرنے کی بھارت کی مستقل پالیسی کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ حال ہی میں بھارتی حکومت نے قانون سازی میں تبدیلیوں کی سہولت کے لیے انتظامی اختیارات وزیر اعلیٰ سے لیفٹیننٹ گورنر کو منتقل کر دیے ہیں۔ یہ اقدام، جوستمبر 2024 میں متوقع قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پیش نظر کیا گیا، کشمیر پر غیر قانونی اختیار حاصل کرنے کے لیے ہندوستان کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ تاہم کشمیریوں کو حقِ خودارادیت کے لیے اپنے مقصد پر ثابت قدم رہنا ہو گا۔ کشمیر میں ووٹر ٹرن آؤٹ میں نمایاں اضافہ –جو کہ 2019 ءمیں 19.6% سے بڑھ کر 2024 ءمیں 50.86% تک پہنچ گیا – ووٹنگ کے استعمال کو بقا اور مزاحمت کے ایک ذریعہ کے طور پر ظاہر کرتا ہے۔ مزید برآں، بھارت میں مسلمانوں کی موجودہ حالت زار کشمیریوں کے لیے ایک انتباہی مثال کے طور پر کام کرتی ہے کہ وہ اپنا مستقبل بھارت کے ساتھ نہ دیکھیں۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ بی جے پی کی مقبوضہ کشمیر پر تسلط جمانے کی پالیسی کے اثرات وقت کے ساتھ ساتھ واضح ہوتے جا رہے ہیں۔ بھارتی پالیسیاں کشمیریوں کے حق ِخودارادیت کے مقصد کو نا قابلِ حصول بنا کر، انہیں بین الاقوامی سطح پر نظر انداز ہونے کا احساس دلانے اور بھارتی تسلط کو قبول کرنے کی طرف ان کی ذہنیت کو بگاڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔ دہلی کشمیریوں کو یہ یقین دلا کر گمراہ کرنے کی بھی کوشش کرتا ہے کہ ان کا مستقبل بھارت کے ساتھ ہے اور بھارت نواز کشمیری جماعتوں پر دباؤ ڈالتا ہے کہ وہ بھارتی پالیسیوں سے ہم آہنگ ہوں۔ مزید برآں، بھارت پاکستان کو کشمیریوں کی حمایت کرنے سے قاصر ظاہر کرتا ہے اور ان کی جدوجہد کے جواز کو بدنام کرنے کے لیے میڈیا کے ذریعے بیانیے گھڑتا ہے۔ اس کی حکمت عملی میں مزاحمت کو سزا دینا اور اپنے بیانیے کو تقویت دینے کے لیے میڈیا کا استعمال شامل ہے۔ پاکستان کو قانونی، سماجی، سیاسی، اقتصادی، سلامتی، سفارتی، تارکین وطن، نظریاتی، فکری اور تاریخی سمیت تمام محاذوں پر بھارتی پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک جامع اور کثیر جہتی نقطہ نظر اپنانا ہو گا۔ اس میں بین الاقوامی فورمز میں آزاد جموں و کشمیر کی قانونی حیثیت کا فائدہ اٹھانا، کشمیری نوجوانوں کو ایک معاون بیانیہ بنانے کے لیے متحرک کرنا، اور امید اور اتحاد کو قائم رکھنے کے لیے نوجوان سیاسی کارکنوں کو مصروفِ عمل کرنا شامل ہے۔ بھارتی مظالم کو اجاگر کرنا، کثیرالجہتی فورمز کا استعمال اور تارکین وطن کو متحرک کرنا بھی ضروری ہے۔ مزید برآں، ادب اور فلم کے ذریعے کشمیر کی نرم طاقت کو بروئے کار لایا جانا چاہیے، اور بھارتی مظالم سے متعلق تاریخی اعداد و شمار کو احتیاط سے مرتب کیا جانا چاہیے۔ مسئلہ کشمیر کو مؤثر طریقے سے آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کی حکمت عملی کو عالمی، علاقائی، مقامی اور مزاحمتی جہتوں پر توجہ دینا چاہیے۔ اپنے اختتامی کلمات میں خالد رحمٰن نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں موثر پالیسی سازی اور پاکستان کے لیے ایک مضبوط بین الاقوامی کردار ادا کرنے کے لیے کثیر جہتی نقطہ نظر بہت ضروری ہے۔ انہوں نے قومی کشمیری جذبات کو دوبارہ زندہ کرنے اور امید کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے کمزوریوں کی بجائے طاقتوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔ رحمٰن نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی منظر نامے میں ایک فعال موقف برقرار رکھنا ہو گا۔ صدر استحکام پاکستان پارٹی اور وفاقی وزیر برائے نجکاری، سرمایہ کاری بورڈ اور مواصلات عبدالعلیم خان نے سعودی شہزادہ اور یونائٹڈ نیشن میں نمائندے عبداللہ بن خالد کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اسے امت مسلمہ کے لئے بڑا سانحہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے شہزادہ عبداللہ بن خالد کے انتقال پرگہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سر زمین حجاز سے شاہی خاندان کے فرد کی رحلت کی خبر نے پوری اسلامی برادری کو سوگوار کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے مرحوم شہزادے کے لئے دعائیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ شہزادہ عبداللہ بن خالد کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور ان کا سفر آخرت آسان فرمائے۔ وفاقی وزیر نے شاہی خاندان سے اظہار تعزیت بھی کی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ شاہی خاندان کو اس مشکل گھڑی میں ہمت اور حوصلہ عطا کرے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں پی ٹی آئی پر پابندی کے حوالہ سے قرارداد ایوان میں آسکتی ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں کل نجی کاروائی کا دن ہے، پی ٹی آئی کیخلاف قراردارایوان حکومتی اراکین کی طرف سے نجی ایجنڈا کے طورپرپیش کی جائے گی۔ جبکہ اراکین کی طرف سے پیش کردہ نجی قانون سازی، قراردادیں اور تحاریک پیش کی جائیں گی۔اسلامی نظریاتی کونسل کا چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف فتوے پر کہنا ہے کہ کسی فرد، گروہ یا جتھے کو نہ شرعاً اور نہ ہی قانوناً اجازت ہے کہ خود عدالت لگاتے ہوئے کسی کے قتل کا فتویٰ اور حکم جاری کرے۔ اشتعال انگیزی، تکفیر کے فتویٰ اور کسی حکومتی، ریاستی یا کسی عام فرد کو قتل کرنے کی دھکمی دینا قرآن و سنت کی واضح تعلیمات سے متصادم ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ الم دین اور مفتی کا منصبی فریضہ ہے کہ صحیح اور غلط نظریات کے بارے دینی آگہی مہیا کرے اور مسائل کا درست شرعی حل بتائے، البتہ کسی کے بارے میں یہ فیصلہ صادر کرنا کہ آیا اس نے کفر کا ارتکاب کیا ہے یا کلمہ کفر کہا ہے، یہ ریاست و حکومت اور عدالت کا دائرہ اختیار ہے۔ کفر کے فتوؤں اور واجب القتل قرار دینے کی روش اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں۔

چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ کسی فرد کو واجب القتل قرار دینا غیر شرعی غیر قانونی ہے، اس طرح کے جذباتی اقدامات سے عقیدہ ختم نبوت کے کاز کو نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مملکت خداداد پاکستان آئینی و اسلامی ریاست ہے۔ قانونی نظم میں ہر نوعیت کے جرائم کی مستقل سزائیں موجود ہیں، جو طے شدہ طریقہ کار کے مطابق بذریعہ عدالت دی جاتی ہیں۔

چیف جسٹس کو جان سے مارنے کی دھمکی پر ٹی ایل پی نائب امیر گرفتار

اعلامیے کے مطابق سپریم کورٹ کے حالیہ عدالتی فیصلہ سے اگر کسی کو اختلاف ہے تو اس بارے میں علمی انداز سے گفتگو کی جاسکتی ہے جیسا کہ قبل از میں خود اسلامی نظریاتی کونسل اس حوالہ سے نہایت عالمانہ اور مدلل انداز میں اپنی اختلافی رائے ظاہر کر چکی ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے 212 ویں اجلاس منعقدہ 27 نومبر 2018 میں قرار دیا تھا کہ ’کفر کے فتوؤں اور واجب القتل قرار دینے کی روش اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں۔ پاکستان ایسی اسلامی ریاست میں کسی بھی شخص کو اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ اپنی من مانی تشریحات کے مطابق دوسروں کے عقیدے اور مذہب کا فیصلہ کرے اور اُن کے بارے میں واجب القتل ہونے کا فتویٰ جاری کرے۔ ہمیں اس معاملے میں نہایت دھیان اور احتیاط کے ساتھ کام لینے کی ضرورت ہے۔‘انسانی حقوق یاآزادی رائے کی آڑمیں حد سے تجاوز کی اجازت نہیں دی جائے گی ، چیف جسٹس کیخلاف بیان پر زیرو ٹالرینس پالیسی ہوگی وزیرقانون نے واضح پیغام دیدیا ۔ کہا کہ کسی کو حق نہیں کہ عدالتی فیصلے پر جج کی جان کیخلاف فتوی دے۔

پاکستان باراورایچ ای سی کے درمیان لیگل ایجوکیشن معاہدے کی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ فتوی جاری کرنے اورریاست کے اندرریاست بنانے کے رواج کی سب کو مذمت کرنی چاہیے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف فتوی ایک جرم ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہرچیزکی کوئی حد ہوتی ہے چیف جسٹس پاکستان کیخلاف بیان پرریاست کی زیرو ٹالرینس پالیسی ہوگی، خلاف ورزی پر ایف آئی آردرج ہوگئی ہے اب گرفتاریاں بھی ہونگی۔

اعظم نذیر تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ انسانی حقوق یاآزادی رائے کی آڑمیں حد سے تجاوز کی اجازت نہیں دینگے، جہاں قانون کی حد عبورہوگی، ریاست اپنی پوری طاقت کےساتھ ردعمل دے گی۔ کوئی کسی کی جان اور مال کے بارے میں فتوی جاری نہیں کر سکتا۔

وزیرقانون نے کہا کہ تعلیمی نصاب میں بھی ایسا مواد شامل کرنا چاہیے جو عدم برداشت ختم کرے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی ایک نیک نام اور اصول پسند شخص ہیں ، کسی کو حق نہیں کہ عدالتی فیصلے پر جج کی جان کیخلاف فتوی دے۔

وزیرقانون کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان جنگ کے بعد دہشتگردی سمیت بہت سے مسائل معاشرے میں آئے ہیں، قانونی تعلیم کے معیارکوبہتر کرنا بہت ضروری ہے ۔

صوبہ سندھ کے علاقے ننگرپارکر کے نواحی گاؤں میں آسمانی بجلی گرنے سے 7 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق آسمانی بجلی گرنے سے جاں بحق ہونے والے افراد میں رمیش، رنجیت ، بھمر ومل ، سگنا، وکرم ، ٹابھور اور انیتاشامل ہیں ۔ آسمانی بجلی کی زدمیں آکر 7 گائے بھی ہلاک ہو گئیں ہیں ۔

چیف جسٹس پر فتوے جاری کرنے والے قانون سے نھی بج پائنگے وزیر دفاع وزیر منصوبہ بندی گوادر میں دھشت گردوں کے خلاف کارروائی اسٹیٹ بینک نے مانٹیری پالیسی میں کمی کر دی پاکستان میں جنرل سرفراز کی بدولت انٹرنیشنل ایجنسی نے پاکستانی معیشت کو مضبوط قرار دے دیا بارشوں نے تباہی مچا دی نالہ لئی اور سواں بپھر گئے تفصیلات جاننے کے لیے بادبان نیوز کو فالو کرے

پاکستانی تیراک اولمپکس گیم میں جانے والی ٹیم زندہ سلامت واپس اگئی ہے سات رکنی کھلاڑیوں کی ٹیم تھی جبکہ سیاستدان اور سٹاف 27 تھے میرا خیال ہے کھلاڑیوں کی تعداد بڑھانی چاہیے تاکہ مزید سیاستدان اور سٹاف کے لوگ بیرون ملک جا سکے

پاکستانی تیراک اولمپکس گیم میں جانے والی ٹیم زندہ سلامت واپس اگئی ہے سات رکنی کھلاڑیوں کی ٹیم تھی جبکہ سیاستدان اور سٹاف 27 تھے میرا خیال ہے کھلاڑیوں کی تعداد بڑھانی چاہیے تاکہ مزید سیاستدان اور سٹاف کے لوگ بیرون ملک جا سکے اور انجواے کر سکیں پاکستانی تیراک پیرس اولمپکس میں 30 کھلاڑیوں میں سے 30 ویں نمبر پر آگئی کوچ پھر بھی خوش تھا کہ ڈوبی نہیں… کیا وجہ ہے اولمپیکس کھیلوں ہمارے کھلاڑیوں کی کار کردگی زوال پذیر کیوں ہیں ؟؟؟یاد رہے پیرس اولیمپیکس میں پاکستان کے 25 کروڑ کی آبادی میں ہمارا صرف 7 رکنی دستہ شریک ہوا ..

فرانس میں جاری پیرس اولمپکس گیمز 2024 میں شریک پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم جیولین تھرو (نیزہ بازی) کے مقابلوں میں میڈل لانے کے لیے پر امید ہیں

فرانس میں جاری پیرس اولمپکس گیمز 2024 میں شریک پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم جیولین تھرو (نیزہ بازی) کے مقابلوں میں میڈل لانے کے لیے پر امید ہیں۔11 اگست تک جاری رہنے والے گیمز کے دوران 32 کھیلوں کے 329 مقابلوں میں مختلف ممالک سے ساڑھے 10 ہزار ایتھلیٹ حصہ لے رہے ہیں، جن میں پاکستان سے دو ایتھلیٹ، دو تیراک اور تین شوٹر بھی شریک ہیں۔پاکستانی دستے میں شامل ملک کے معروف نیزہ باز ارشد ندیم عالمی سطح کی سہولتیں نہ ملنے کے باوجود لاہور کے پنجاب سٹیڈیم میں بھرپور پریکٹس کرتے رہے ہیں۔سہولتوں کی عدم دستیابی کی حالت یہ ہے کہ ارشد ندیم کو محض کچھ عرصہ قبل ہی بین الاقوامی معیار کے دو نیزے مہیا کیے گئے تھے، جن سے انہوں نے کوچ سلمان اقبال بٹ کی زیر نگرانی تربیت حاصل کی

شوگر ملز مالکان حکومت سے ڈیڑھ لاکھ ٹن چینی کی برآمد کی اجازت ملنے کے بعد دوبارہ سرگرم ہوگئے ہیں۔ شوگر ملز مالکان نے حکومت سے مزید 12 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کیلئے اجازت دینےکا مطالبہ کیا ہے

شوگر ملز مالکان حکومت سے ڈیڑھ لاکھ ٹن چینی کی برآمد کی اجازت ملنے کے بعد دوبارہ سرگرم ہوگئے ہیں۔ شوگر ملز مالکان نے حکومت سے مزید 12 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کیلئے اجازت دینےکا مطالبہ کیا ہے۔ شوگر ملز ایسوسی ایشن کے اعلامیہ کے مطابق چینی کے اضافی اسٹاک سے درپیش مالی مسائل بےقابو ہو رہے ہیں، انڈسٹری کو چینی کی پیداواری لاگت بڑھنے پر نقصان کاسامنا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق پچھلے کرشنگ سیزن کا فاضل ذخیرہ رکھنے کے اخراجات سے بھی بھاری نقصان ہے، چینی کی بین الاقوامی قیمتیں مسلسل نیچے گر رہی ہیں۔ شوگر ملزایسوسی ایشن کے مطابق پالیسی فیصلہ نہ ہونے سے ملک کو پہلے ہی 30 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوچکا۔ حکومت سے تصدیق شدہ 12 لاکھ ٹن اضافی اسٹاک کی برآمد کیلئے اجازت کی درخواست ہے۔ اعلامیہ کے مطابق نومبر کے آخر تک اضافی اسٹاک بڑھ کر 15 لاکھ میٹرک ٹن ہو جائے گا، آنے والے کرشنگ سیزن میں بہت کم وقت رہ گیا ہے۔

وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ آئی پی پی کے معاہدوں کو کسی صورت تبدیل نہیں کریں گے کیونکہ یہ سی پیک معاہدوں کی کی طرح اہم ہیں

وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ آئی پی پی کے معاہدوں کو کسی صورت تبدیل نہیں کریں گے کیونکہ یہ سی پیک معاہدوں کی کی طرح اہم ہیں۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ سولر لگانے والے آئی پی پیز سے معاہدے بہت اہمیت رکھتے ہیں، سولر پینلز کے حوالے سے 7، 7 سال کے لیے معاہدے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ریکوڈک کی طرح 900 ملین کا فائن نہیں دے سکتے، ہماری اس حوالے سے نہ تو کسی چائنیز پاور پروڈیوسر نہ کسی اور پلانٹ والے کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے، ہم ایک ہی دفعہ پورے اسٹرکچر کو اسٹڈی کرکے ذمہ داری کے ساتھ بات کریں گے، جس میں دونوں کا فائدہ ہو۔

گوجرانوالہ میں بجلی کے بل سے تنگ خاتون نے خودکشی کر لی۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

گوجرانوالہ میں بجلی کے بل سے تنگ خاتون نے خودکشی کر لی۔واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی۔ جس میں خاتون کو نہر میں چھلانگ لگاتے دیکھا جاسکتا ہے۔آخری اطلاع آنے تک خاتون کی لاش کی تلاش کیلئے ریسکیو آپریشن جاری تھا۔ ورثاء کا کہنا ہے کہ رضیہ بی بی نے بجلی کابل جمع کروانے کے بعد خودکشی کی۔ورثاء نے مزید بتایا کہ رضیہ بی بی بیمار تھی اور علاج چل رہا تھا، گھر میں جو پیسے تھے اس کا بجلی کا بل جمع کروا دیا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

جماعت اسلامی نے جمعے کو اسلام آباد میں مہنگائی، ٹیکسوں، بجلی کے بلوں اور ظالمانہ ٹیرف کے خلاف دھرنا دے دیا۔وفاقی حکومت اور اسلام آباد کی انتظامیہ نے جماعت اسلامی کو ڈی چوک کی جانب مارچ اور دھرنے کی اجازت نہیں دی،

جماعت اسلامی نے جمعے کو اسلام آباد میں مہنگائی، ٹیکسوں، بجلی کے بلوں اور ظالمانہ ٹیرف کے خلاف دھرنا دے دیا۔وفاقی حکومت اور اسلام آباد کی انتظامیہ نے جماعت اسلامی کو ڈی چوک کی جانب مارچ اور دھرنے کی اجازت نہیں دی، اسلام آباد اور راولپنڈی کے داخلی راستوں پر کنٹینر لگا کر سڑکیں بند کر دی گئیں جس کی وجہ سے کارکنان نے تین بڑے مقامات لیاقت باغ، فیض آباد اور 26 نمبر چونگی کی مرکزی شاہراہوں پر دھرنے دے دئیے تاہم ضلعی انتظامیہ سے مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد جماعت اسلامی کو مری روڈ پر دو سے تین روز تک پُرامن دھرنا جاری رکھنے کی مشروط اجازت مل گئی۔وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے مذاکرات کی پیشکش بھی کر دی جسے امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے قبول کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری بااختیار کمیٹی بنائے اور اگر حکومت ریلیف دینے کی بات کرے گی تو پھر بات آگے بڑھے گی، دھرنا ایک ماہ چلے یا اِس سے بھی زیادہ وہ تیار ہیں،پانی سر سے گزر چکا،مراعات یافتہ طبقے کو اپنی مراعات چھوڑنا ہوں گی۔اُن کا کہنا تھا کہ نئے الیکشن کا مطالبہ کرنے والا کسی اور کا ایجنٹ تو ہو سکتا ہے مگر ملک اور پارٹی کا وفادار نہیں ہو سکتا۔اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ عوام کو ریلیف ملنے تک احتجاج جاری رہے گا، بجلی بلوں پر ریلیف لئے بغیر وہ واپس نہیں جائیں گے۔انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسر(آئی پی پیز) سے متعلق اُنہوں نے کہاکہ 80 فیصد مالکان پاکستانی ہیں،اُن سے بات کر کے معاہدوں پر نظرثانی کرنا ہو گی،یہ چند سرمایہ داروں کی کمپنیاں ہیں جو قوم کو لوٹ رہی ہیں، کپیسٹی چارجز اور پٹرول کی لیوی برداشت نہیں کریں گے، بجلی کے بلوں نے بے کس عوام کی کمر توڑ دی ہے، حالات اُس نہج کو پہنچ چکے ہیں کہ سگے بھائی ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ دھرنے کی وجہ سے راستے بند ہو گئے اسلام آباد، راولپنڈی میں دن بھر نظامِ زندگی درہم برہم رہا،ملحقہ علاقوں میں بھی ٹریفک کا نظام مفلوج رہا، گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ر ہیں۔ جماعت اسلامی مُصر ہے کہ اگر اِس کے مطالبات نہ مانے گئے تو احتجاج کا یہ سلسلہ پورے ملک میں پھیل جائے گا۔ملک میں اِس وقت بجلی کی بڑھتی قیمتیں ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکی ہیں،بجلی کے نرخوں میں ہوشربا اضافے کے بارے میں گزشتہ ہفتے سابق نگران وفاقی وزیر برائے تجارت گوہر اعجاز نے مطالبہ کیا تھا کہ تمام 106 آئی پی پیز کا ڈیٹا عام کیا جائے، قوم کو بتایا جائے کہ کس بجلی گھر نے اپنی صلاحیت کے مطابق کتنی بجلی پیدا کی؟انہوں نے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں اور ادائیگیوں پر کڑی تنقید بھی کی تھی۔اُن کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے دوران آئی پی پیز کو 1.95 ٹریلین روپے کی ادائیگیاں کی گئیں جو کہ غلط معاہدات اور بدانتظامی کا نتیجہ ہیں۔اِن معاہدوں نے صارفین کے لئے بجلی کی قیمتوں میں بے حد اضافہ کیا ہے، کچھ بجلی گھر حکومت کو 750 روپے فی یونٹ تک بجلی فروخت کر رہے ہیں جبکہ کچھ کوئلے کے پلانٹس اوسطاً 200 روپے فی یونٹ جبکہ ہوا اور شمسی توانائی پلانٹس 50 روپے فی یونٹ سے زیادہ کی قیمت پر بجلی بیچ رہے ہیں۔ گوہر اعجاز نے اِن معاہدوں کی غیر مؤثر کارکردگی کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئی پی پیز کو کم صلاحیت پر چلتے ہوئے بھی بھاری رقوم ادا کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے ”کیپیسٹی ادائیگیوں“ کی شق پر بھی تنقید کی جس کی وجہ سے آئی پی پیز بجلی پیدا نہیں کر رہے لیکن پھر بھی اُنہیں پوری ادئیگی کی جا رہی ہے۔ گوہر اعجاز نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اِن معاہدوں کو نہ صرف مذاکرات کے ذریعے دوبارہ طے کیا جائے اور تمام آئی پی پیز کو مرچنٹ پلانٹس کے طور پر رکھا جائے تاکہ بجلی صرف سستے فراہم کنندگان سے خریدی جائے۔سابق وفاقی وزیر نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ اِن غیر منصفانہ معاہدوں کے خلاف آواز اٹھائیں تاکہ ملک کو مزید مالی بوجھ سے بچایا جا سکے۔اُن کا مطالبہ تھا کہ بجلی کی اصل قیمت 30 روپے فی یونٹ سے کم ہونی چاہیے،آئی پی پیز کے نتیجے میں پاکستان میں عوام کو بجلی کا ایک یونٹ 65 روپے کا پڑ رہا ہے جس میں ہرایک دو روز کے بعد اضافہ ہو جاتا ہے۔ افغانستان میں گھریلو صارفین کو بجلی کا ایک یونٹ 1 اعشاریہ 50 پاکستانی روپے میں پڑ رہا ہے اور بھارت میں گھریلو صارفین کو ایک یونٹ چھ سے نو روپے کے درمیان پڑتا ہے جبکہ کمرشل یونٹ کی قیمت 10 سے 20 روپے متعین کی گئی ہے۔ بنگلہ دیش میں ایک گھریلو یونٹ کی قیمت کم و بیش 20 روپے پاکستانی ہے،مذکورہ اعداد و شمار کے حساب سے جنوبی ایشیاء میں سب سے مہنگی بجلی پاکستان میں ہے۔ بجلی کے بھاری بل ادا کرنا عام آدمی کی استطاعت سے باہر ہو چکا ہے، بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی ماہانہ تنخواہ سے زیادہ اُن کا بِل آ جاتا ہے۔تنخواہ دار طبقہ بجلی کے علاوہ ٹیکس کے بوجھ تلے بھی دبا ہوا ہے، پاکستان بزنس کونسل نے دو روز قبل ایک اعلامیہ جاری کیا جس کے مطابق پاکستان میں تنخواہ دار طبقے کی آمدنی پر ٹیکس بھارت سے 9.4 گنا زائد ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے عوام کا معیارِ زندگی ابتر ہو گیا ہے، ہر کوئی ڈیپریشن کا شکار ہے، بھائی بھائی کا دشمن ہو رہا ہے، کوئی کسی کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے جبکہ اشرافیہ کی مراعات میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔اِس وقت ہر پاکستانی کی خواہش ہے کہ بجلی اور مہنگائی پر قابو پایا جائے، آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے اِس وقت گلے کی ہڈی بنے ہوئے ہیں، جماعت اسلامی احتجاج کی راہ پر چل پڑی ہے، پُرامن احتجاج ہر کسی کا جمہوری حق ہے، حکومت نے مذاکرات کی پیشکش کر دی ہے جسے جماعت اسلامی نے قبول بھی کر لیا ہے۔تمام فریقین کو مل بیٹھ کر اِس مسئلے کا حل نکالنا چاہیے،جائز مطالبات کو مان لینے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ کیپسٹی ادائیگیوں سے نجات حاصل کرنے پر غور کرے، کوئی ایسا لائحہ عمل مرتب کرے جس سے سب کے لئے آسانی ہو جائے۔حکومت کو عام آدمی کو ریلیف دینے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے بصورت دیگر معاملات مزید بگڑیں گے اور زندگی مشکل ہوتی چلی جائے گی۔ہ ٹیکسٹائل ملز مالکان کو گھر بیٹھے گزشتہ 10 برس سے سستی گیس کی مد میں ماہانہ قریباً 19 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے جو سالانہ 232 ارب روپے بنتی ہے۔ گزشتہ 10 برس میں ٹیکسٹائل مل مالکان کو سستی گیس کی مد میں دی گئی رعایت 2320 ارب روپے (9 ارب ڈالر) بنتی ہے۔ قریباً اتنا ہی حکومت نے پچھلے 10 برس میں آئی ایم ایف سے قرض لیا ہے۔سما ٹی وی پر اپنے ٹاک شو میں ابصار عالم نے کہا کہ گوہر اعجاز ٹیکسٹائل ٹائیکون، بزنس لیڈر اور سابق وفاقی وزیر رہ چکے ہیں۔انہوں نے پاکستان میں مہنگی بجلی کے معاملے کو ہائی لائٹ کیا ہے، اپنی ایکس پوسٹس میں انہوں نے بجلی کے بلوں میں اضافے کی اصل وجوہات کا انکشاف کیا اور بتایا کہ بجلی کے کارخانے چلانے والے امیر ترین افراد اور کمپنیاں کس طرح عوام کو لوٹ رہی ہیں۔ابصار عالم کا کہنا تھا کہ اعجاز گوہر نے بہت اچھا کام کیا، ڈیٹا بھی شیئر کیا، اگرچہ یہ کام وہ حکومت رہتے ہوئے نہیں کر پائے تھے، اس کی جو بھی وجہ ہو لیکن اس کا فائدہ عوام کو ہوگا۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ وہ اس لوٹ مار کا حساب لینے کے لئے سپریم کورٹ جا رہے ہیں اور اپنے پیسے سے فرانزک آڈٹ بھی کروائیں گے۔ 40 آئی پی پیز مالکان کے خلاف مقدمہ دائر کریں گے حالانکہ 101 افراد نے بجلی کے کارخانے لگائے تھے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ اعجاز گوہر صرف 40 کے خلاف کیوں عدالت جا رہے ہیں۔ اعجاز گوہر کا موقف درست ہے لیکن وہ آدھا سچ بتا رہے ہیں اور آدھا چھپا رہے ہیں جو ٹیکسٹائل ملز مالکان کے بارے میں ہے، کیونکہ وہ خود بھی ٹیکسٹائل مل کے مالک ہیں۔ کیا ان کے منتخب کردہ 40 آئی پی پیز مالکان میں وہ ٹیکسٹائل ملز مالکان بھی شامل ہیں جنہوں نے کیپٹیو پاور پالیسی کے تحت پاور پلانٹس لگائے پھر بجلی بیچی اور سستی گیس کی مد میں حکومت سے 2320 ارب روپے (9 ارب ڈالر) کی رعایت بھی حاصل کی۔ اس رعایت کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے آئی پی پیز کے علاوہ کیپٹیو پاور پلانٹس مالکان کے ساتھ بھی معاہدہ کیا تھا۔ ٹیکسٹائل ملز مالکان کا دعوی ٰ تھا کہ ہمیں سستی گیس فراہم کریں، جس سے ہم بجلی بنا کر سستی اشیا تیار کریں گے اور عالمی منڈی پر ان اشیا کی قیمت کم ہونے پر ہمیں کثیر زرمبادلہ حاصل ہوگا۔مذکورہ معاہدہ قریباً 10 برس قبل 2012- 13 میں ہوا تھا۔ اس دوران تمام بڑے ٹیکسٹائل ملز مالکان کو سستی گیس کی مد میں 1300 سے 1600 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو والی گیس 686 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو میں فراہم میں گئی۔ حکومتی پاور پلانٹس کو بھی یہ گیس ایک ہزار روپے فی ایم ایم بی ٹی یو میں دی جاتی تھی۔ٹیکسٹائل ملز مالکان کو گھر بیٹھے سستی گیس کی مد میں ماہانہ قریباً 19 ارب روپے کی سبسڈی ملتی رہی جو سالانہ 232 ارب روپے بنتی ہے۔ گزشتہ 10 برس میں ٹیکسٹائل مل مالکان کو سستی گیس کی مد میں دی گئی رعایت 2320 ارب روپے بنتی ہے، یعنی 9 ارب ڈالرز روپے کا فائدہ۔ اتنا ہی حکومت نے پچھلے 10 برس میں آئی ایم ایف سے قرض لیا۔ اس دوران برآمدات بھی نہیں بڑھیں۔کیا سابق وفاقی وزیر گوہر اعجاز 40 آئی پی پیز مالکان کی طرح ان ٹیکسٹائل ملز مالکان کو بھی سپریم کورٹ میں لیکر جائیں گے۔