All posts by admin

ایران کا سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے پر میزائل حملہ، سعودی عرب میں ایمرجنسی ، ہسپتالوں کو الرٹ کر دیا گیا ، میڈیا رپورٹس…اے ایف پی کے مطابق ریاض کے سفارتی کوارٹر سے دھماکوں اور دھویں کی اطلاعاتبحرین عوام گھروں سے باہر نکل ائی ، سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں.دبئی میں ایران کے خودکش ڈرون نے اہم حدف کو نشانہ لگایا ۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

امریکی فوجی جہاں پر چھپیں گے ہم ان کو نشا.نہ بنائیں گے، ایرانی وزیر خارجہ….!!!!فرق نہیں پڑتا وہ کسے کے گھر میں ہوں یا ہوٹل میں ہوں، ایرانی وزیر خارجہ.

…!!!!ہم نے سعودیہ میں آرامکو آئل ریفائنری کو ٹارگٹ نہیں کیا، ایرانی وزیر خارجہ….!!!!ہم صرف انہی ٹارگٹس کو ہٹ کر رھے ہیں جہاں امریکن فوجی رہائش پذیر ہیں، ایرانی وزیر خارجہ….!!!!

بڑی خبر :ابو ظہبی ائیرپورٹ پر یکے بعد دیگرے 6 حملے ، عرب امارات دهماكوں سے گونج اٹھا شارجہ ائیرپورٹ بند۔۔۔

ہنگامی الرٹ: مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود بند، عالمی فلائٹ آپریشنز شدید متاثر بین الاقوامی مسافر توجہ فرمائیں!28 فروری 2026 کو مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال اور فوجی کارروائیوں کے بعد خطے کے کئی ممالک نے اپنی فضائی حدود (Airspace) مکمل یا جزوی طور پر بند کر دی ہیں

🚨 ہنگامی الرٹ: مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود بند، عالمی فلائٹ آپریشنز شدید متاثر ✈️🚫بین الاقوامی مسافر توجہ فرمائیں!28 فروری 2026 کو مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال اور فوجی کارروائیوں کے بعد خطے کے کئی ممالک نے اپنی فضائی حدود (Airspace) مکمل یا جزوی طور پر بند کر دی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں پروازیں منسوخ یا متبادل راستوں پر منتقل کر دی گئی ہیں۔📍 موجودہ صورتحال (2 مارچ 2026 تک):مکمل بندش: ایران، عراق، اسرائیل، کویت، بحرین، قطر اور شام کی فضائی حدود مکمل طور پر بند ہیں۔متحدہ عرب امارات (UAE): دبئی (DXB) اور ابوظہبی (AUH) جیسے بڑے ایئرپورٹس پر آپریشنز معطل کر دیے گئے ہیں۔سعودی عرب: عراق اور خلیج فارس کی سرحدوں کے قریب فضائی حدود جزوی طور پر بند ہے۔اردن اور لبنان: فضائی حدود کھلی ہیں لیکن پروازوں کی آمد و رفت انتہائی محدود ہے۔📉 ایئرلائنز اور مسافروں پر اثرات:پروازوں کی منسوخی: گزشتہ ویک اینڈ پر 3200 سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔بڑے ایئرلائنز کی گراؤنڈنگ: ایمریٹس (Emirates)، اتحاد (Etihad) اور قطر ایئرویز نے اپنے حبس (Hubs) سے زیادہ تر آپریشنز معطل کر دیے ہیں۔طویل سفر: یورپ، ایشیا اور شمالی امریکہ کے درمیان پروازیں طویل متبادل راستے اختیار کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے کئی طیارے ایندھن کے لیے پراگ یا ویانا جیسے شہروں میں رکنے پر مجبور ہیں۔⏳ پروازوں کی بحالی (ممکنہ اوقات):متحدہ عرب امارات: پروازوں کی معطلی فی الحال 1200 UTC، 2 مارچ تک متوقع ہے۔ایران: فضائی حدود کم از کم 0830 UTC، 3 مارچ تک بند رہنے کا امکان ہے۔💡 مسافروں کے لیے اہم ہدایات:ایئرپورٹ نہ جائیں: جب تک آپ کی ایئرلائن پرواز کے چلنے کی تصدیق نہ کر دے، ایئرپورٹ جانے سے گریز کریں۔فلائٹ اسٹیٹس چیک کریں: تازہ ترین صورتحال کے لیے Flightradar24 یا ایئرلائن کی ویب سائٹ چیک کریں۔ایئرلائن سے رابطہ کریں: ایئر انڈیا، انڈیگو اور دیگر ایئرلائنز ری بکنگ اور ری فنڈ کی سہولت دے رہی ہیں۔انشورنس پالیسی: اپنی ٹریول انشورنس کا جائزہ لیں، کیونکہ زیادہ تر پالیسیاں “جنگی حالات” کے نقصانات کو کور نہیں

سعودی عرب کے شہر راس تنورا میں ریفائنری پر ڈرون حملہ کیا گیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق راس تنورا ڈرون حملے کے بعد احتیاطاً ریفائنری بند کر دی گئی

سعودی عرب کے شہر راس تنورا میں ریفائنری پر ڈرون حملہ کیا گیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق راس تنورا ڈرون حملے کے بعد احتیاطاً ریفائنری بند کر دی گئی۔سعودی شہر راس تنورا میں ریفائنری پر ڈرون حملے کے بعد صورتِ حال قابو میں ہےواضح رہے کہ سعودی وزارت خارجہ نے ریاض اور مشرقی علاقوں میں میزائل حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ میزائل حملوں کو کسی بہانے یا وجہ جائز قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔وزارت خارجہ کے اعلامیے کے مطابق یہ حملے ایرانی حکام کے علم کے باوجود کیے گئے کہ سعودی عرب اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے

امریکی 590 ھلاک تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک مارے گئے امریکی فوجیوں کی تعداد 590 ہوگئی ہے۔ اپنے بیان میں ایرانی فوج نے کہا کہ کویت میں امریکی فوجی اڈے کو مکمل طور پر ناکارہ بنادیا گیا ہے۔ ایرانی فوج کے مطابق امریکا کے طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن کو چار میزائلوں سے ہدف بنایا گیا۔دوسری جانب امریکی سینٹ کام کا کہنا ہے کہ امریکی بحری بیڑہ ابراہم لنکن ایرانی میزائلوں کا نشانہ نہیں بنا، ایرانی میزائل بحری بیڑے کے قریب تک نہیں آ سکے۔ تاہم سینٹ کام نے 3 امریکی فوجی ہلاک اور 5 زخمی ہو نے کی تصدیق کی ہے۔واضح رہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکا اور برطانیہ کے 3 تیل بردار جہازوں پر بھی حملے کیے ہیں۔بحرین میں امریکی فوجی اڈے پر ڈرونز سے حملہ کیا گیا، مسقط کے قریب بحری جہاز پر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

تباہ ہونے والے ائر پورٹس کی بحالی کیلئے آنے والے اسرائیلی اور بھارتی انجینئر کے ہیلی کاپٹر کو قندھار میں کسی نامعلوم شخص سے کاندھے پر رکھ کر فائر کرنے والے میزائل سے گرا دیا ۔گیارہ انجینیر ہلاک۔۔اسرائیلی ھیلی کاپٹر تباہ۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اج سیکورٹی ھای الرٹ۔۔ایف آئی ایچ مینز ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ۔۔۔پاکستان نے اپنا پہلا میچ جیت لیا چائنا کو 4-5 سے شکست۔حکومت پاکستان نے چاروں صوبوں کو حکم جاری کردیا کہ 1 مارچ 2026 سے ہر ایس ایچ او اپنے ایریا کے گھر گھر پر جاکر شناختی کارڈ چیک کریں جعلی شناختی کارڈ بنانے والوں اور سہولت کاروں کے خلاف سخت کاروائی کریں۔۔بھارت نیوزی لینڈ ساوتھ افریقہ انگلینڈ سیمی فائنل میں۔ولڈکپ چمپین کون بھارت حارث فیورٹ پاکستان عبرت ناک شکست کی وجہ سے اوٹ۔۔پاکستان کا قطر کو دو ٹوک جواب۔۔پاکستان کو بڑے سائبر اٹیک کا سامنا ہےغیر ضروری لنک پر کلک نہ کریں۔۔دفاعی اطلاعات کے مطابق پاک فضائیہ کی انڈین بارڈر کے ساتھ پیٹرولنگ ۔۔۔!!!۔پاکستان پر بھی بھارتی حملے کا خطرہ۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

‏بڑھا ہے جب بھی ستم اپنی انتہا کی طرفزمانہ دیکھنے لگتا ہے کربلا کی طرفہوا بدل بھی تو سکتی ہے کیا خبر تھی انہیںجو لوگ ہو گئے چلتی ہوئی ہوا کی طرفمنافقت ہے کہ تلواریں ہوں یزید کے ساتھاور اپنے دل میں رہے سبطِ مصطفی کی طرفسلیم کوثر

آہ ڈاکٹر عبد الحی بلوچ 25 فروری 2022ءکو معمول کے مطابق دوستوں کے ساتھ لنچ کر کے گھر پہنچا تو نیند نے حملہ کر دیا ۔خیال تھا کہ آج کئی ماہ بعد قیلولہ کروں گا۔لیکن احباب کی فون کالز نے نیند کو کوسوں دور کر دیا۔ماضی میں جب ہمیں نیند نہیں آتی تھی تو کسی کتاب کا مطالعہ کر لیا کرتا تھا۔اب کتاب کا متبادل موبائل فون ہے۔جہاں پر دنیا بھر کی تازہ ترین اطلاعات آپ کی چشم ابرو کی منتظر رہتی ہیں۔کبھی نیند، کبھی موبائل اور کتاب کے کاغذ کی خوشبو میں شام کے سات بج گئے۔ تو کمر سیدھی کر کے ایک مرتبہ موبائل فون کے واٹس ایپ میں آئے ہوئے نوٹیفیکیشن دیکھنے لگا۔تو بزرگ سیاستدان، سابق سینیٹر ڈاکٹر عبدالحی بلوچ کے ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے کی افسوس ناک خبر پڑھی

۔تو نظروں کے سامنے ان کا محبت بھرا چہرہ سامنے آ گیا۔ کہ ان سے جب بھی ملاقات ہوتی ۔تو یوں لگتا تھا کہ وہ پاکستان کو روشن خیال اور اجلا دیکھنا چاہتے تھے۔گفتگو کرتے ہوئے ان کے لہجے میں جو تلخی دیکھنے کو ملتی۔اس کو الفاظ میں قلم بند نہیں کیا جا سکتا ۔وہ ہمشیہ کہتے۔بلوچستان کے عوام کب تک محروم رہیں گے۔خاص طور پر وہ مشرف دور میں بلوچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے ذکر پر دل گرفتہ نظر آتے۔ملتان میں ڈاکٹر عبد الحی بلوچ کا ٹھکانہ پہلے سید قسور گردیزی کا گھرانہ تھا۔ان کے انتقال کے بعد سید زاہد حسین گردیزی نے ان کی کئی برس تک میزبانی کی۔جب ان کا تواتر کے ساتھ ملتان آنا جانا ہوا تو پھر ان کے میزبانوں میں ایک نام کامران تھہیم کا اضافہ ہوا۔زاہد حسین گردیزی اور کامران تھہیم ان سے بے لوث محبت کرتے تھے۔خاص طور پر سید قسور گردیزی کے تمام صاحبزادے اکثر اپنے گھروں یا کسی ہوٹل میں ان سے مکالمے کی سبیل پیدا کرتے رہتے۔ وہ اکثر کہتے کہ ملتان اور بلوچستان کے عوام کا مزاج ملتا جلتا ہے۔دونوں علاقوں کے لوگ اپنے حقوق کے لیے گزشتہ کئی برسوں سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ان علاقوں کے عوام کی جھولیاں خالی ہیں۔ڈاکٹر عبدالحی بلوچ یکم فروری 1946 کو بلوچستان کے علاقے بھاگ ناڑی میں پیدا ہوئے آبائ علاقے میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ڈاو میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا۔دوران تعلیم ہی انھوں نے طلبہ سیاست کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا۔اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی۔1970 کے عام انتخابات میں انھوں نے نیشنل عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر حصہ لیا اور خان آف قلات کو شکست دے کر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1973 کے آئین پر انھوں انھوں یہ کہہ کر دستخط نہ کئے

۔کہ تک آئین میں محروم طبقات کے لیے کچھ نہیں کیا جائے گا۔تو میں اس پر دستخط نہیں کروں گا۔نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی عائد ہونے کے بعد انہوں نے 1988 میں دیگر قوم پرست قیادت کے ساتھ مل کر بلوچستان نیشنل موومنٹ کی بنیاد رکھی۔ 1996 میں اسی پارٹی کے ٹکٹ پر سینٹ کے رکن منتخب ہوئے۔2003 سے لے کر 2018ء تک نیشنل پارٹی کے ساتھ منسلک رہے۔وہ اسی پارٹی کے سربراہ بھی بنے۔بعد میں اختلافات کے باعث مستعفی ہو کر اپنی سیاسی پارٹی نیشنل ڈیموکریٹک کی بنیاد رکھی۔وہ گزشتہ دو عشروں سے تواتر سے جنوبی پنجاب کے عوام کے مسائل کو اجاگر کر رہے تھے۔یہی وجہ تھی کہ اب ان کا زیادہ وقت انہی علاقوں میں مکالمہ کرتے ہوئے گزرتا۔وہ انتہائی سادہ طبیعت کے مالک تھے۔کہ اپنے علاقے کے علاوہ بھی ہر جگہ پر سڑکوں پر پیدل گھومتے پھرتے دکھائی دیتے۔عوام کے حقوق کی جنگ لڑنا ان کی گھٹی میں شامل تھا۔اس لئے ان گھل مل کر تازگی محسوس کرتے۔بعض اوقات وہ عوام کا مقدمہ لڑتے ہوئے تلخ بھی ہو جاتے۔کہ کہتے تھے کہ عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے والا کوئی نہیں ہے۔۔موجودہ حکومت سے کبھی خوش نہ ہوئے۔اور اکثر کہتے کہ جب تک عوام کے مسائل حل نہیں ہوں گے میں ایسی حکومت کے خلاف کلمہ حق بلند کرتا رہوں گا۔2018ء میں جب انھیں جالب امن ایوارڈ سے نوازا گیا تو اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس اعزاز کے ساتھ انصاف اس وقت کر سکوں گا۔جب بلوچستان کے پرآشوب علاقوں میں امن قائم ہو گا۔ایک مرتبہ جب دوستوں کی منڈلی سید زاہد حسین گردیزی کے گھر لگی ہوئی تھی۔تو میں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ نے 1973 کے آئین پر دستخط کیوں نہ کئے۔کہنے لگے تب بھی مجھے اس بات کا احساس تھا کہ بلوچستان کے عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالا جا رہا تھا تو تب میں نے نواب خیر بخش مری کے موقف اور نظریہ کی تائید کرتے ہوئے دستخط نہ کئے۔اب جب بھی حکمران آئین میں تبدیلی کرتے ہیں تو مجھے آئین پر دستخط نہ کرنے کا فیصلہ درست لگتا ہے۔عام طور پر ڈاکٹر عبدالحی بلوچ سادہ لباس اور خوش مزاج تھے۔ہر ملنے والے مسکرا کر استقبال کرتے۔

وہ بلوچستان کے مجبور و محکوم عوام کی آخری امید تھے ۔جنہوں نے اپنے آپ کو ان کے لئے وقف کر رکھا تھا۔ملتان سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اکثر یہاں کے احباب کی دعوت ہر تشریف لے آتے۔انھوں نے آخری سفر بھی جنوبی پنجاب کی جانب کیا۔کوئٹہ سے فیصل آباد جاتے ہوئے جلال پور پیروالہ کے قریب ڈرائیور کی غفلت کے حادثے کا شکار ہو گئے۔اور موقعہ پر جاں بحق ہو گئے۔ ان کی موت بے سہارا اور اپنے حقوق سے محروم طبقات کے لیے کسی سانحہ سے کم نہیں۔کہ ملکی سیاست میں ان جیسا نڈر اور بے باک سیاست دان اب کہاں دیکھنے کو ملے گا۔جو فٹ پاتھ پر بیٹھ کر سادہ روٹی اور چنے کھا لیتا تھا۔کئی بار جیل یاترا کی۔تشدد کا نشانہ بنے۔لیکن ان کے عزم وہمت میں کوئی کمی نہ آئ۔جب بھی کسی حکومتی جبر کا شکار ہوتے۔وہ پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ اپنے نظریات پر ڈٹ جاتے۔

سی ڈی اے کا بڑا فیصلہ، غوری ٹاؤن فیز 7 کی غیرقانونی تعمیرات گرانے اور تمام کام فوری روکنے کا حکماسلام آباد ہائی وے پر واقع غوری ٹاؤن فیز 7 کے خلاف کارروائی، غیرقانونی ہاؤسنگ اسکیم میں جاری تعمیراتی کام فوری بند کرنے اور تمام عمارتیں 15 دن میں گرانے کا حکم جاری۔ سی ڈی اے کے مطابق غوری ٹاؤن فیز 7 کی تعمیرات CDA آرڈیننس 1960، ICT زوننگ ریگولیشن 1992 اور بلڈنگ کنٹرول ریگولیشن 2020 کی خلاف ورزی ہیں۔جاری سرکلر کے مطابق حکم نہ ماننے کی صورت میں سی ڈی اے پولیس فورس کے ذریعے زبردستی کارروائی کرے گا اور تمام اخراجات متعلقہ ذمہ داران سے وصول کیے جائیں گے۔ ضلعی انتظامیہ، ایس ایس پی اسلام آباد، ڈی جی بی اینڈ ایچ سی اور ڈی جی انفورسمنٹ کو فوری کارروائی کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، جبکہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق غیرقانونی تعمیرات کی رجسٹریاں اور انتقالِ اراضی روکنے کی بھی ہدایات جاری ہو چکی ہیں۔ سی ڈی اے کا مؤقف ہے کہ شہر میں غیرقانونی اور غیرمنظور شدہ ہاؤسنگ اسکیمیں کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی.#sardarmohsinzai

‏مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کا مشترکہ اجلاس مورخہ 2 مارچ 2026 بروز پیر سہ پہر 3 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا، ترجمان قومی اسمبلی ‏مجلس شوریٰ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر مملکت آصف علی زرداری خطاب کریں گے، ترجمان قومی اسمبلی ‏پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال حال کے پیش نظر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، ترجمان قومی اسمبلی ‏پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں کسی بھی غیر متعلقہ افراد کا داخلہ ممنوع ہو گا، ترجمان قومی اسمبلی‏ ‏مشترکہ اجلاس کے موقع پر مہمانوں کی انٹری پر پابندی عائد کی گئی ہے، ترجمان قومی اسمبلی ‏موجودہ صورتحال کے پیش نظر غیر متعلقہ افراد کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہو گا، ترجمان قومی اسمبلی ‏قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے معزز اراکین پارلیمنٹ سے مشترکہ اجلاس کے موقع پر اپنے ساتھ کوئی بھی مہمان نہ لانے کی درخواست کی گئی ہے، ترجمان قومی اسمبلی‏پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی کوریج کے لیے صرف اُن صحافی حضرات کی انٹری ہو گی جن کے پاس قومی اسمبلی اور سینٹ کا 2026 کا نیا کارآمد پریس گیلری کارڈ موجود ہو گا،

ترجمان قومی اسمبلی ‏ہر چینل سے صرف ایک کیمرہ مین کو کوریج کی اجازت ہو گی جس کے کوائف متعلقہ ادارے نے ارسال کیے ہونگے، ترجمان قومی اسمبلی ‏کیمرہ مین حضرات اپنی مخصوص الاٹ کردہ جگہ سے کوریج کر سکیں گے اور غیر متعلقہ جگہوں پر کسی بھی چینل کے کیمرہ کو کوریج کی اجازت نہیں ہو گی، ترجمان قومی اسمبلی ‏مشترکہ اجلاس کے موقع پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے یہ اقدامات سیکیورٹی کی سنگین صورتحال کے پیش نظر اُٹھائے گے ہیں، ترجمان قومی اسمبلی‏ ‏موجودہ صورتحال کے پیش نظر میڈیا کے نمائندوں سے تعاون کی درخواست کی جاتی ہے، ترجمان قومی اسمبلی

قطر کا ایرانی حملے کے بعد پاکستان سے رابطہ پاکستان نے قطر کو وہی جواب دیا جو قطر نے پاکستان کو دیا تھا امیر قطر نے وزیراعظم کو الجزیرہ سے متعلق کہا تھا کہ اسکی ایڈیٹوریل پالیسی آزاد اور خودمختار ہے وہ آپ کے خلاف برسر پیکار دہشت گردوں کو حریت پسند لکھیں یا انکو گوریلفائی کریں ہم کچھ نہیں کرسکتے پاکستان نے قطر کو بھی یہی جواب دیا کہ ایران خود مختار ملک ہے وہ آپ پر حملہ کرے یا کچھ بھی ہم کچھ نہیں کرسکتے اور نہ آپ کا ہمارے ساتھ کوئی دفاعی معاہدہ ہے جن کے ساتھ آپ کا دفاعی معاہدہ ہے وہ جانیں اور ایران پاکستان صرف سعودی عرب کا تحفظ کرے گا کیونکہ اسکا دفاع پاکستان کا دفاع ہے۔

دبئی میں قائم سی آئی اے ہیڈ کوارٹر پر ایران کا حملہ۔ اس وقت پاکستان انتہائی نازک صورتحال میں ھیں۔۔ سرینا چوک کے پاس صورتحال کشیدہ ، مظاہرین کی امریکی سفارتخانے کی جانب بڑھنے کی کوشش۔۔ سرگودھا: دہشت گردی کے خطرے کے باعث پنجاب میں دفعہ 144 نافذ۔سرگودھا۔۔۔۔ملت ٹرین کی زد میں آکر شخص جاں بحق، سر دھڑ سے جدا۔ایرانی سابقہ صدر محمود احمدی نژاد گزشتہ روز فضائی حملے میں 3 محافظوں سمیت شہید ہو گئے تھے۔۔۔علی لاریجانی ایران کے نئے سپریم لیڈر نامزد علی لاریجانی کا نام علی خامنہ ای کی وصیت میں موجود تھا۔۔پاکستان نے بگرام ایئر بیس تباہ کر دی۔خامنہ ای کا قتل ایک ظالمانہ جرم ھے روسی صدر۔۔”کراچی، پاکستان میں امریکی قونصل خانے کو آگ لگا دی گئی.میں شھید ھو گیا تو رونا نہیں کیونکہ ھم لڑ کر شھید ھو رھیں ھیں۔ایران میں لوگ غم سے نڈھال۔ پورا ایران سڑکوں پر نکل آیا ہے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

‏پاکستان نے بگرام ایئربیس تباہ کر دی ،بیس سے ملحقہ علاقوں میں امریکی فوج کے چھوڑے ہوئے تین اسلحہ ڈپو مکمل تباہ ،اس وقت افغانستان کا کوئی ائر پورٹ اسرائیل،بھارت یا امریکی جیٹ طیاروں کی لینڈنگ کے قابل نہیں رہا ۔

ایران نے دو چیزوں سے مار کھائی ہے ایک تو داخلی سیکیورٹی پہ توجہ نہیں دی۔۔ دو دن کی جنگ میں اپنا سپریم لیڈر گنوا بیٹھے۔۔ سیکورٹی میں اتنی زیادہ لیکج ہے کہ حد نہیں پتہ نہیں ایرانی کیا کرتے رہے ابتک ۔۔ ایران اسرائیل کی پہلی جنگ میں تقریبا ساری اہم قیادت راستے سے ہٹا دی گئی۔۔ صف اول کے سائنسدان چن چن کر ہلاک کر دیے گئے۔۔ ارمی چیف مار دیا گیا تو پیچھے کیا بچا ۔۔ ویسے بھی ایران غداروں کی سرزمین ہے۔۔ یہاں غداری اور جاسوسی بہت زیادہ ہاں پائی جاتی ہے۔۔ دوسری خامی یہ کہ مضبوط ائیر فورس نہیں بنائی۔۔ ایٹمی قوت کے حصول پر ساری توجہ مرکوز رکھی میزائل ٹیکنالوجی بھی حاصل کر لی لیکن ایئر فورس کو مضبوط نہیں کیا۔۔ جس کا نقصان وہ اج برداشت کررہا ہے۔۔ یہ ہوتی ہے پالیسی کی ناکامی ۔۔ ایران کی سوچ یہ رہی کہ اسرائیل ایران سے 1500 سے 1800 کلومیٹر دور ہے، اسرائیل اتنی دور سے ہم پر فضائی حملہ نہیں کر سکتا نہ ہی ایران اتنی دور جاکر فضائی حملہ کرسکتا ہے۔۔ فیصلہ کن ہتھیار میزائل ثابت ہوں گے ۔۔ اس لئے ائیر فورس پہ توجہ نہیں دی بلکہ اس نے لانگ رینج میزائل بنانے کی دوڑ میں دوڑتا رہا ۔۔اب ایران کا حال یہ ہوا پڑا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی طیارے ایران کی فضاؤں میں دناتے پھر رہے ہیں۔۔ جہاں چاہتے ہیں اٹیک کر دیتے ہیں اور کوئی ان کو روکنے والا نہیں ایران کی فضائیں بے بسی کی تصویر پیش کررہی ہیں۔۔ ایسی صورتحال میں میزائل ٹیکنالوجی یا ایٹمی قوت کیا کام آسکتی ہے ۔۔ سب سے بڑا خسارہ تو قیادت کھونے کی صورت اٹھا چکے ہیں ۔۔ یہ ایران کا لوز پول تھا جس کا اسرائیل اور امریکہ کو بخوبی ادراک تھا جس کا فایدہ اٹھاکر دو دن میں ہی سپریم لیڈر ہلاک کردیا ۔۔

آیت اللہ علی رضا اعرافی نئے سپریم لیڈر منتخب۔۔نئے رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب 88 رکنی مجلس خبرگانِ رہبری کرتی ہے۔ یعنی ہروقت88خامنہ ائ موجود ہیںجب ان میں ایک لیڈر کم ہو جائے تو ایک نئے عالم کو شوری نگہبان نامزد کرتاہے۔۔شوری نگہبان 12 افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔جس میں 6 براہ راست سپریم لیڈر منتخب کرتا ہے۔۔عدلیہ کا سربراہ پارلیمنٹ کو 6 افراد کے نام دیتا ہے، جو پارلیمنٹ سے منظور ہوتا ہے،عدلیہ کا سربراہ بھی سپریم لیڈر منتخب کرتاہے۔۔جب ایرانی پارلیمنٹ اور شوری نگہبان کی رائے ایک نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔تو پھر مجمع تشخیص مصلحت نظام فیصلہ کرتا ہے۔۔اس میں تقریباً 60 افراد ہوتے ہیں، جس میں 40 سے زائد افراد سپریم لیڈر کو منتخب کرتے ہیں۔۔تمام ملک انہی 88 مجلس خبرگان کی جماعت کے کنٹرول میں ہوتا ہے۔۔یہ کنفرم ہے کہ ایران میں رجیم چینج ممکن نہیں، البتہ عوامی فسادات کا خدشہ ضرور ہے۔۔۔۔۔اس میں سے اہم بات یہ ہے کہ ایران نے تمام شخص پرستوں کے منہ پر ایک طمانچہ رسید کیا ہے، جو کہہ رہے تھے خامنہ شہید ہوگیا تو رجیم چینج ہوگیا، یعنی وہ ایک ہی فرد کو ایران سمجھ رہے تھے۔۔

پاکستان اور ایران: اخوت، ایمان اور یکجہتی کا رشتہپاکستان میں بسنے والے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد، چاہے وہ بچے ہوں یا بزرگ، اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ قلبی وابستگی رکھتے ہیں۔ ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہی نہیں بلکہ ایک اسلامی برادر ملک بھی ہے، جس کے ساتھ ہمارا رشتہ صرف سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ ایمان، تاریخ اور ثقافت کے مضبوط بندھنوں سے جڑا ہوا ہے۔اسلام ہمیں اخوت، محبت اور اتحاد کا درس دیتا ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ یہی جذبہ ہمیں ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے اور مشکل گھڑی میں ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ دیتا ہے۔ پاکستان کے عوام ہمیشہ امتِ مسلمہ کے اتحاد اور یکجہتی پر یقین رکھتے ہیں۔پاکستان اور ایران کے تعلقات کی بنیاد باہمی احترام اور تعاون پر قائم ہے۔ دونوں ممالک نے مختلف مواقع پر ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے کردار ادا کیا ہے۔

عوامی سطح پر بھی دونوں ممالک کے درمیان محبت اور خیرسگالی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔آج کے دور میں امتِ مسلمہ کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ اتحاد اور باہمی سمجھ بوجھ ہے۔ جب ہم ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو کوئی طاقت ہمیں کمزور نہیں کر سکتی۔ ہمارا دین ہمیں امن، بھائی چارے اور انصاف کا درس دیتا ہے، اور یہی پیغام ہمیں دنیا تک پہنچانا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو آپس میں محبت، اتحاد اور اتفاق کے ساتھ رہنے کی توفیق عطا فرمائے، اور تمام اسلامی ممالک کو امن و سلامتی نصیب فرمائے۔ آمین۔

‏چین اور روس اپنے اسٹریٹجک پارٹنر ایران کو جارحیت سے بچانے میں ناکام رہے ہیں۔ امریکہ ہی اب واحد سپر پاور ہے- برکس بتدریج ختم ہوگی۔ ایس سی او کا مستقبل بھی مشکوک ہے۔ ہم بہت سے معاملات میں یک قطبی دنیا میں واپس آ گئے ہیں۔ عبدالباسط، سابق سفیر

مسعود پزشکیان، صدرِ مملکتِ جمهوری اسلامی ایران، نے اپنے ویڈیو پیغام میں رہبرِ انقلاب کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت پیش کی اور اعلان کیا کہ عبوری مجلسِ قیادت نے اپنے فرائض باقاعدہ طور پر سنبھال لیے ہیں۔صدرِ مملکت نے مزید کہا کہ مسلح افواجِ جمہوری اسلامی ایران پوری قوت کے ساتھ دشمنوں کے اڈوں کو نیست و نابود کرنے کے اقدامات میں مصروف ہیں اور آئندہ بھی بھرپور کارروائیاں جاری رکھیں گی، اور دشمنوں کو ہمیشہ کی طرح مایوس کر دیں گی۔

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت علاقائی اور پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال پر جائزے کیلئے اعلی سطح اجلاس

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت علاقائی اور پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال پر جائزے کیلئے اعلی سطح اجلاس*اجلاس میں علاقائی و خطے کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا. اجلاس میں پاکستان کے خطے میں امن کے قیام کیلئے کرادر اور مختلف اقدامات زیر غور آئے اجلاس میں افغانستان کی صورتحال کا بھی بغور جائزہ لیا گیا اجلاس کو ملک کی داخلی صورتحال اور سیکیورٹی انتظامات پر بھی بریفنگ دی گئی. وزیراعظم کی ہدایت پر پاکستانی شہریوں کے ایران سے انخلاء کے اقدامات کا بھی جائزہ۔ ان کی بحفاظت واپسی کے لیے دفتر خارجہ کی تفصیلی بریفنگ۔

آذربائیجان کے ذریعے پاکستانی شہریوں کے ایران سے انخلاء کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔ بریفنگ اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفینس فورسز، وفاقی وزراء احسن اقبال، محسن نقوی، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، معاون خصوصی طارق فاطمی اور اعلی سول و عسکری حکام نے شرکت کی.

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ🚨 ایران کا بڑا اعلان: سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای امریکی–اسرائیلی حملوں میں شہید، 40 روزہ سوگ کا اعلان”شدید غم اور تاریخی موڑ کے ساتھ ایران نے اعلان کر دیا ہے کہسپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملوں میں شہید ہو گئے ہیں۔

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ🚨 ایران کا بڑا اعلان: سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای امریکی–اسرائیلی حملوں میں شہید، 40 روزہ سوگ کا اعلان”شدید غم اور تاریخی موڑ کے ساتھ ایران نے اعلان کر دیا ہے کہسپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملوں میں شہید ہو گئے ہیں۔”بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق یہ حملہ ایران کی اعلیٰ قیادت، فوجی تنصیبات اور حساس مقامات کو نشانہ بنانے والی ایک بڑے پیمانے کی کارروائی کا حصہ تھا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق:🟥 ملک بھر میں 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان🟥 7 دن کی عام تعطیل🟥 عوام سے اتحاد اور صبر کی اپیلرپورٹس کے مطابق حملوں میں ایرانی اعلیٰ عسکری اور سیکیورٹی قیادت کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے ملک کو ایک بڑے قیادت کے خلا کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ⸻⚠️ خطے میں خطرناک موڑعالمی ذرائع کے مطابق خامنہ ای کی ہلاکت مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا ایک بڑا موڑ قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ وہ 1989 سے ایران کے سب سے طاقتور رہنما تھے اور ریاستی، عسکری اور نظریاتی نظام پر مکمل اختیار رکھتے تھے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد:⚠️ ایران میں قیادت کا بحران پیدا ہو سکتا ہے⚠️ خطے میں جنگ مزید پھیلنے کا خدشہ⚠️ عالمی تیل مارکیٹس اور سکیورٹی صورتحال متاثر ہونے کا امکان⸻🌍 عالمی ردعملاطلاعات کے مطابق اس واقعے کے بعد خطے میں فوری کشیدگی بڑھ گئی ہے اور ایران کی جانب سے مختلف ممالک میں جوابی حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں مکمل علاقائی جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔”

امام خامنہ نے آخری بار 1989 میں آخری غیر ملکی دورہ کیا تھا اس کے بعد وہ کبھی ایران سے باہر نہیں گئے شہید ہو گئے لیکن وطن کی مٹئ نہیں چھوڑئ آج کے دور میں ایسی مثال کم ملتی ہے جس دور میں بڑے بڑے ڈکٹیٹر بادشاہ حکمران سب سے بڑے فرعون وقت امریکہ (اسرائیل) کے سامنے جھکے ہوئے ہیں وہاں ایک بوڑھا شخص اکیلا ڈٹ کر کھڑا رہا ایک بھرپور زندگئ گزاری کہیں بھاگے یا چھپے نہیں باعزت شہادت کی موت نصیب ہوئی۔