All posts by admin

سیکٹر کمانڈر چاند پر ھے پیش ھو اج نہ پیش ھونے کی صورت میں جنرل ندیم انجم اور جنرل عبدالماجد طلب جسٹس محسن آختتر کیانی ان ایکشن مکمل تفصیلات کے لئے کلک کرے

سیکٹر کمانڈر کوئی چاند پر رہتا ہے، بہت بڑی طاقت ہے؟ کیا حیثیت ہے اُس کی؟ ایک گریڈ 18 کا بندہ ہے، آپ نے اسے کیا بنا دیا ہے،ان کے تابع مت ہوں،ملک چلنا ہے تو اُن کے بغیر بھی چل جائے گا،جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس۔۔۔اسلام آباد ہائیکورٹ، احمد فرہاد کی گمشدگی کا کیسفرہاد آئی ایس آئی کے پاس نہیں، وزارت دفاع جسٹس محسن اختر کیانی نے سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ کو کل طلب کر لیا اس کے بعد وزیراعظم اور کابینہ کو بھی بلاوں گا فیصلہ کراوں گا ملک قانون چلائے گا یا ایجنسیاں، جسٹس محسن اختر کیانیمعاملہ اب آئی ایس آئی کے دائرہ اختیار سے آگے نکل چکا ہے،یہ ان کی ناکامی ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں کوئی کام نہیں کر سکتے، دوسری صورت میں ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ایم آئی پیش ہوں،جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس

بجلی کا ایک یونٹ 85 روپے کا عوام زندہ دفن۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

بجلی کی نئی قیمت 85 روپے ہو جانے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق مہنگائی کی چکی میں بری طرح س جانے والی عوام پر مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت نے مہنگائی کا ایٹم بم گرانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ وفاقی حکومت ملک کے بجلی صارفین پر ایسا بھاری بوجھ ڈالنے کی تیاریاں کر رہی ہے، جو ممکنہ طور پر عوام کیلئے ناقابل برداشت ہو سکتا ہے۔حکومت نے آئی ایم ایف کو بجلی صارفین کیلئے جولائی میں 3 اضافے کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ حکومت کے اس اقدام سے بجلی کی فی یونٹ قیمت جو پہلے ہی 60 سے 65 روپے ہے، وہ قیمت 80 سے 85 روپے ہو جائے گی۔ بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر آئندہ مالی سال کے دوران 347 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالا جا سکتا ہے۔سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی جانب سے آئندہ مالی سال کے دوران بجلی صارفین پر 347 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کی باقاعدہ سفارش بھی کر دی گئی ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے بجلی مہنگی کرنے کے حوالے سے نیپرا میں ایک درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں آئندہ مالی سال کیلئے بجلی خریداری کا ریٹ متعین کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے اپنی درخواست میں تجویز دی ہے کہ بجلی کمپنیوں کو آئندہ مالی سال کے دوران فی یونٹ بجلی اوسطً 27 روپے 11 پیسے کی قیمت میں فروخت کی جائے، جبکہ بجلی کمپنیاں اس قیمت میں مزید ٹیکسز اور دیگر رقوم شامل کر کے صارفین کو بجلی فروخت کریں۔جبکہ یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ ایک جانب حکومت روپے کی قدر بہتر ہونے کا دعوٰی تو کر رہی ہے، وہیں دوسری جانب سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے نیپرا کو یہ تجویز دی ہے کہ بجلی کی خریداری کرتے وقت ڈالر کی قیمت 300 روپے رکھی جائے۔ جبکہ ایک انکشاف یہ بھی ہوا ہے کہ صارفین سے نجی بجلی گھروں کے کرایے کی مد میں بھی بھاری رقوم وصول کی جائیں گی۔ نیپرا کو تجویز دی گئی ہے کہ کپیسٹی چارجز کے نام پر بجلی صارفین سے 17 روپے 42 پیسے فی یونٹ تک وصول کیے جائیں۔

ٹی ٹوینٹی ولڈکپ امریکہ اور ویسٹ انڈیز میں دھشت گردی کا خطرہ

ٹی20 ورلڈکپ کے دوران امریکا اور ویسٹ انڈیز میں دہشت گردی کا خطرہ ہے اور شدت پسند تنظیم داعش نے ورلڈ کپ میچز میں حملوں کی دھمکی دی ہے۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ 9جون کو نیو یارک میں پاک بھارت میچ میں دہشت گردی کا خطرہ ہے جبکہ داعش نے ویسٹ انڈین بورڈ کو بھی دھمکی بھیجی ہے۔امریکی اور ویسٹ انڈیز کے سیکیورٹی اداروں نے دھمکی موصول ہونے کے بعد ورلڈکپ کے لیے سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کردیے ہیں۔امریکی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ٹی20 ورلڈکپ کا آغاز آئندہ ماہ دو جون سے امریکا اور ویسٹ انڈیز میں ہوگا۔

مودی سرکار کی تیسری بار جیت تفصیلات کے لئے کلک کرے

بھارت میں عام انتخابات کے چوتھے مرحلے میں ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگیا۔جس میں 9 ریاستوں اور مقبوضہ کشمیر سمیت 96 نشستوں پر ووٹ ڈالے گئے جہاں مجموعی ٹرن آؤٹ 62.9 فیصد رہا۔2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر میں پہلی مرتبہ انتخابات ہوئے جہاں سری نگر کی نشست پر ووٹنگ ہوئی۔مقبوضہ کشمیر میں انتخابی ڈرامے کی آڑ میں بھارتی فورسز نے بھاری نفری تعینات کی جبکہ لوگوں کی نگرانی کیلئے ڈرون سمیت جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔نیشنل کانفرنس کے رہنما فاروق عبداللہ اور ان کے بیٹے عمر عبداللہ نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔1996 کے بعد سے پہلی مرتبہ بی جے پی نے کشمیر کی تین نشستوں پر کوئی امیدوار کھڑا ہی نہیں کیا۔سری نگر میں نیشنل کانفرنس،پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے درمیان مقابلہ ہے۔ دوسری جانب آندھرا پردیش، تلنگانہ، جھاڑکھنڈ، اڑیسا،یوپی، مدھیہ پردیش، بہار، مہاراشٹر، مغربی بنگال کی نشستوں پر ووٹنگ ہوئی۔چوتھے مرحلے کے اہم امیدواروں میں اسد الدین اویسی، شتروگھن سنہا، سابق کرکٹر یوسف پٹھان،اکھلیش یادو شامل ہیں۔بھارت میں انتخابات کا اگلا مرحلہ20 مئی کو ہوگا اورنتائج کا اعلان 4 جون کو ہوگا۔تجزیہ کاروں کے مطابق شدید گرمی کی وجہ سے لوگ ووٹ دینے کے لیے کم پہنچ رہے ہیں۔ کسی صلے یا ستائش کی پرواہ کیے بغیر دوسروں کی مدد، کتنے ہی فوائد کی حامل ہے، اب مجھے کامل یقین ہو چکا ہے کہ ایک ان دیکھا ہاتھ میری رہنمائی پر مامور ہےبھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 2019 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم کرتے ہوئے آرٹیکل 370 کو ختم کردیا تھا، جس کے بعد وادی کو دو حصوں میں تقسیم کرکے اسے مرکز کے ماتحت کردیا گیا تھا۔آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد لداخ کو الگ جب کہ جموں و کشمیر کو الگ مرکزی علاقہ قرار دیا گیا تھا اور اب وہاں وادی کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد پہلی بار لوک سبھا کے انتخابات کے لیے پولنگ ہوئی۔مجموعی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں لوک سبھا کی پانچ نشستیں ہیں، جن میں سے ایک نشست پر پہلے ہی مرحلے 19 اپریل کو ووٹنگ ہوگئی۔ میں نے ڈاکٹر تولان کو کہا کہ وہ مجھے ایک بہترین اربن ڈیزائنر لا کر دیں جو مسلمان بھی ہو کیونکہ کسی غیر مسلم کو مکہ میں داخلے کی اجازت نہیں ہےبھارت کی آٹھ لاکھ افواج کی موجودگی میں منعقد کرائے جانے والے انتخابی ڈرامے کی کوئی ساکھ اور اہمیت نہیں ہے اور یہ ایک جمہوری عمل کی بجائے محض ایک فوجی آپریشن ہے جس میں بھارت کی ہوم منسٹری، خفیہ ایجنسیاں اور فوج کا بالواسطہ طور عمل دخل موجود ہے۔ بھارت بجلی اور پانی کے نام پر مانگے جانے والے ووٹ کو تحریک آزادی کشمیر کے خلاف ایک کارڈ کے طور پر استعمال کرتا ہے اور بین الاقوامی فورموں میں اس کو جبری الحاق کی توثیق کے طو رپر پیش کیا جاتا ہے۔ کشمیری اصولی طور جمہوریت کے مخالف نہیں ہیں البتہ جموں کشمیر ایک متنازع خطہ ہے جس پر بھارت نے فوجی طاقت کے بل بوتے پر قبضہ جمالیا ہے۔ بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں انتخابات کا مقصد عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔ برطانوی خاتون فوراً کنٹرولر کے پاس چلی گئی اور کہا ایک پاکستانی کے ماتحت ملازمت کرنا اس کی توہین ہے لہٰذا وہ اب یہاں مزیدکام نہیں کرسکتی انتخابات سے قبل مقبوضہ کشمیر میں فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں نے چھاپوں، تلاشیوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ پولیس اور بھارتی فورسز کی مختلف ایجنسیاں رات کے دوران گھروں میں چھاپے مارتی ہیں۔ تلاشی کے بعد کئی نوجوانوں کو گرفتار بھی کر لیا جاتاہے۔ بھارتی فوج کی ان کاروائیوں سے عوامی حلقوں میں خوف ودہشت کی لہردوڑ گئی ہے۔ گرفتار شدگان میں سے بعض نوجوانوں کو پوچھ گچھ کے دوران نیم مردہ حالت میں رہا کر دیا جاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد انتخابات کے موقع پر بھی بھارتی چیرہ دستیوں میں اضافے کے باوجود کشمیری عوام نے بھارت کے اس ڈھونگ کو ناکام بنا دیا ہے۔

پنجاب میں قتل وغارت 2024 جرائم کی تعداد 4 لاکھ سے زائد تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں صرف ایک ہفتہ کے دوران ڈکیتی قتل کے 2واقعات اقبال ٹاؤن میں بیٹے کے سامنے پروفیسر باپ کا اورہڈیارہ میں باپ کے سامنے نوجوان بیٹے امیر معاویہ کا قتل رونما ہوجانا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھاتا ہے۔ڈکیتی قتل کے علاوہ چوری‘ ڈکیتی اور لوٹ مار کے کیسوں کا تو کوئی شمار ہی نہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق 2022ء میں لاہور میں 2 لاکھ 50ہزار جرائم رپورٹ ہوئے‘ 2023ء میں یہ تعداد دو گنا ہو کر 3 لاکھ 90 ہزار تک پہنچ گئی اور رواں سال کے صرف پہلے چار ماہ کے دوران ایک لاکھ 40 ہزار جرائم رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ اَن رپورٹڈ کیسز اس کے علاوہ ہیں۔ اگر صوبائی دارالحکومت میں‘ جہاں پولیس فورس کو تمام وسائل دستیاب ہیں‘ امن و امان کی صورتحال اتنی ناگفتہ بہ ہے تو صوبے کے دور دراز علاقوں کے حالات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ آخر کیا وجوہ ہیں کہ وسائل اور فورس کی دستیابی کے باوجود پنجاب کا صوبائی دارالحکومت جرائم کا گڑھ بنتا جا رہا ہے‘ جہاں شہری اب نہ اپنی جان محفوظ سمجھتے ہیں اور نہ ہی مال۔ شہر میں کئی قسم کی پولیس فورس تعینات ہونے کے بعد بھی جرائم میں روز افزوں اضافہ شہریوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ عوام کے جان و مال کی حفاظت پولیس حکام کا فرضِ منصبی ہے۔ متعلقہ حکام کو چاہیے کہ اس ضمن میں کسی بھی کوتاہی کا مرتکب ہوئے بغیر پوری قوت کے ساتھ شہر سے جرم اور جرائم پیشہ افراد کا خاتمہ یقینی بناکر شہریوں کو تحفظ کا احساس دلائیں۔جس میں وہ کامیاب ہوتے دیکھائی نہیں دے رہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ لاہور انتشار اور انارکی کا شکار ہے۔ اچانک ایسی صورتِ حال کیوں پیدا ہوئی؟ اس کے اسباب جاننے اور ان کا تدارک کرنے کی فوری ضرورت ہے۔تھوڑے تھوڑے وقفے سے ٹی وی اسکرینز پر اسٹریٹ کرائمز اور ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نہتے شہریوں کے مرنے کی خبریں آ رہی ہوتی ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا، جب ڈاکووں سے مزاحمت پر شہری زخمی یا جاں بحق نہ ہوتے ہوں۔شہر میں اسٹریٹ کرائمز پر قابو پانے میں پولیس مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ ڈکیتی مزاحمت پر شہریوں کی ہلاکت اور لوٹ مار کا سلسلہ تھمنے میں نہیں آ رہا۔ 12مئی کوہڈیارہ میں انتہائی افسوس ناک واقعہ پیش آیا جہاں کریانہ سٹور پر ڈاکوؤں نے مزاحمت پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں 20 سالہ امیر معاویہ دم توڑ گیا،مقتول کا والد بھی اس دوران دکان میں موجود تھا۔ اسی طرح ایک روز قبل ہفتہ کی شام اقبال ٹاؤن میں ڈاکوؤں نے منی ایکسچینج سے5600 سعودی ریال گھر لے جانے والے ایک ایس ایس ٹی ٹیچرفاروق اعظم اور اس کے پروفیسربیٹے محمد شعیب پر فائرنگ کر کے رقم لوٹ لی اور فرار ہوگئے۔دونوں زخمی باپ بیٹے کو جناح ہسپتال لے جایا گیا جہاں باپ دم توڑ گیا جبکہ بیٹے کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال داخل کروایا گیا ہے مقتول زخمی بیٹے اور بیوی کے ہمراہ حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جانے کی تیاری کررہے تھے کہ ڈاکوؤں نے آلیا 12مئی کو ہی وحدت کالونی میں شہری کی فائرنگ سے 2 مبینہ ڈاکونصیر اور شفیق زخمی ہو ئے جنہیں جناح ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں نصیر کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نصیر ریکارڈ یافتہ ہے جس کے خلاف مختلف تھانوں میں کئی مقدمات درج ہیں۔اندرون شہر میں ڈاکوؤں نے فائرنگ کر کے پولیس اہلکار کو ذخمی کردیا اور فرار ہوگئے۔شہر میں روزانہ 3درجن سے ذائد ڈکیتی،راہزنی اور چوری کی وارداتیں سرذد ہونا انتہائی افسوس ناک ہے اورشہریوں نے پولیس سے مایوس ہو کر قانون کو خود ہاتھ میں لینا شروع کر دیا ہے۔ڈاکوؤں کی دیدہ دلیری کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ ایک شخص مال روڈ کرنسی شاپ سے رقم لے کر نکلتا ہے اور موٹر سائیکل سوار کئی کلومیٹر تک تعاقب کرکے سرشام اس سے رقم لوٹ کر فرار ہو جاتے ہیں اور فائرنگ کرکے ایک کو موت کے گھاٹ اور دوسرے کوزخمی کردیتے ہیں۔تو یہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ ڈاکوسر عام دندناتے پھر رہے ہیں۔گزشتہ ایک ماہ کے دوران لاہور میں 27افراد کو قتل کردیا گیا جبکہ اس دوران 4پولیس اہلکاروں کو فائرنگ کرکے شہید اور 6کو زخمی بھی کیا گیا ہے۔ مبینہ مقابلوں کے دوران 6ڈاکو مارے بھی گئے،ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ذخمی ہونے کے واقعات معمول بن جارہے ہیں یہ ذخمی یا تو زندگی بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں یا بعد ازاں زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔لوٹ مار کی کئی وارداتوں میں لوگ روزانہ کروڑوں روپے کی اشیاء یا نقد رقوم سے محروم ہو جاتے ہیں۔ بے شمار ایسی وارداتیں ہوتی ہیں، جو پولیس اور میڈیا میں رپورٹ بھی نہیں ہوتیں۔ کاریں، موٹر سائیکلیں اور موبائل فونز چھیننے کی سب سے زیادہ وارداتیں بھی لاہور میں ہوتی ہیں۔ ان میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔لاہور کی زیادہ تر کچی اور گنجان آبادیوں پر ڈرگ مافیا کا کنٹرول ہے، اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے مبینہ پولیس مقابلوں میں اضافہ ہوا ہے۔ لاہورمیں ماہانہ درجن سے زائد پولیس مقابلے ہو رہے ہیں، جن میں بعض اوقات بے گناہ لوگ بھی مارے جاتے ہیں یا زخمی ہوتے ہیں۔ ان مقابلوں میں راہ گیر بھی زد میں آجاتے ہیں۔ غرض لاہور میں ہر طرف خوف کی فضاہے۔ایک طرف لوگوں کو جرائم پیشہ افراد کا اور دوسری طرف پولیس مقابلوں کا خوف ہے۔ لاہورکے شہری شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ امن وا مان کی صورتِ حال قابو میں آنے کی بجائے مذید خراب ہوتی جا رہی ہے اور سماجی انتشار کی طرف بڑھ رہی ہے۔طویل عرصے تک دہشت گردی کے عذاب میں رہنے والا لاہور اب سٹریٹ کرائمز اور منشیات کے عذاب میں مبتلا ہے۔ لاہور پنجاب کا ”اکنامک ہیڈ کوارٹر“ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سواکروڑ سے زیادہ لوگوں کا مسکن ہے۔ لاہورکی بدامنی سے نہ صرف ملکی معیشت پر نقصان دہ اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ اس بدامنی سے کچھ قوتیں اپنے بعض سیاسی اور دیگر اہداف بھی حاصل کرتی ہیں۔ ویسے تو دنیا کے بڑے شہروں میں اسٹریٹ کرائمز ہوتے ہی ہیں لیکن اس وقت جس طرح لاہور میں ہو رہے ہیں، یہ معمول سے بہت زیادہ ہیں۔ اسے ”کرائم ویو“ یعنی جرائم کی لہر سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔لاہور پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ لاہورپولیس نے درجنوں گینگ گرفتار کرکے کروڑوں نہیں اربوں روپے کی ریکوری بھی کی ہے فری رجسٹریشن سے جرائم کی شرح میں اضافہ دکھائی دیتا ہے حقیقت میں جرائم کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔

سول ایویشن ایکسپرٹ کپٹن ( ر ) عاصم نے بتانا ھے کہ ایرانی صدر کا حادثہ بلکل ویسا ہے جیسےلیفٹیننٹ جنرل سرفراز کا جہاز گرایا گیا لیفٹیننٹ جنرل سرفراز مزید تفصیلات کے لئے کلک کرے

سول ایویشن ایکسپرٹ کپٹن ( ر ) عاصم نے بتانا ھے کہ ایرانی صدر کا حادثہ بلکل ویسا ہے جیسےلیفٹیننٹ جنرل سرفراز کا جہاز گرایا گیا لیفٹیننٹ جنرل سرفراز شھید پاکستانی فوج کے نڈر جرنیل تھے وہ سیالکوٹ کہ ایک دور دراز گاوں سے تعلق رکھنے والہ یہ جرنیل اج بھی میری آنکھوں سے اوجھل نھی ھوتا اے کے رجمنٹ کا یہ سپوت امریکہ میں ڈے ھو یا ایم ای کا سربراہ یا کویٹہ کا ڈیو کمانڈر یا بلوچستان کا کور کمانڈر ھمیشہ جوانوں میں پایا گیا جب وہ کرنل کمانڈنٹ بنایا جا رھا تھا تو ایک دن کال اتی ھے کہ کارڈ بھیج رھا ھوں انا ھے اور 3 روز کے بعد اے کے سینٹر میں سبکدوش کرنل کمانڈنٹ شیر افگن اور آرمی چیف باجوہ نے کرنل کمانڈنٹ کے بیجیز لگاے نڈر یہ سپاھی 2 سال 7ماہ قبل اسی طرح کے حادثے میں شھید ھوا اج ایران کے صدر کی شھادت اس وقت بھی نہ چاھتے ھوے خبر بادبان نیوز نے بریک کی اور گزشتہ رات بھی آصف نواز جنجوعہ کے بعد سرفراز شھید کی شھادت کا دکھ اور پاکستانی قوم کو شاہ فیصل کی موت کے بعد ایرانی صدر کی شھادت دکھ سب سے زیادہ ہے بادبان رپورٹ سھیل رانا

سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردار تنویر الیاس کو گرفتار کرلیا گیا تفصیلات بادبان ٹی وی پر

سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردار تنویر الیاس کو گرفتار کرلیا گیا۔ذرائع کے مطابق سردار تنویر الیاس کے خلاف تھانہ مارگلہ میں مقدمہ درج ہے۔ تھانہ مارگلہ پولیس نے سردار تنویر الیاس کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سردار تنویر الیاس کے خلاف ایک کمپنی کے دفتر پر حملے کا الزام ہے۔سردار تنویر الیاس کے خلاف 30 اپریل کو نجی مال میں توڑ پھوڑ کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ایرانی صدر کی شھادت پاکستان کے لیے مشکلات مے۔ امت مسلمہ کے سب سے توانا آواز و امیدوں کا مرکز ایرانی صدر ابراہیم رئیسی شہادت کے درجے پہ فائز ہوچکےانا اللہ وانا الیہ راجعون۔ھیلی کاپٹر حادثہ دنیا بھر میں تشویش سپریم کونسل کا اجلاس جاری۔ ملک کو بحران سے نکال لیا ھے متوازن بجٹ اے گا وزیر خزانہ۔ اسلام آباد روالپندی مے ڈکیتوں کا راج