All posts by admin

کامیاب محبت: وہ تب 19 برس کی بچی اور وہ 87 برس کا بوڑھا تھا۔۔۔وہ اب تقریبا 3 ارب ڈالر کی مالک ہے۔۔افغان خواتین پر میڈیکل تعلیم کی بھی پابندی اور قطر کی خاتون وزیر کے ساتھ دندیاں نکال کر کھانے کیلئے روانگی افغان ملڑوں کی رنگا رنگی۔۔پنجاب بھر میں الیکشن ملتوی الیکشن کی تباہ کاریاں جاری۔سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے 60 ھزار ارب روپے کا نقصان سامنے آیا ہے۔۔500 افراد کے چارٹر جہاز بھر کر لے جانے کا رزلٹ صفر 21 وزراء کی فوج بھی شامل لوٹ کر بدھو گھر کو اے۔۔6 ستمبر اور ھمارے ھیروز۔ چینی مافیا کا فراڈ جاری۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون اور سرمایہ کاری کیلئے مفاہمت کی 21 یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں ۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم وزیر خارجہ اسحاق ڈار،متعلقہ وفاقی وزراء اور ممتاز پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے نمائندوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اور چین نے زراعت ،الیکٹرک وہیکلز ،شمسی توانائی،صحت، کیمیکل وپیٹرو کیمیکلز، آئرن اور سٹیل سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ اور سرمایہ کاری کے لئے 4.2 ارب ڈالر مالیت کی 21 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں۔ پاکستان چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ میرے لئے باعث افتخار ہے کہ انتہائی اہمیت کے حامل چینی کاروباری اداروں سے مخاطب ہوں، میں اپنی زندگی کی سب سے بڑی کانفرنس شریک ہوں، پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے گہری اور سٹیل اور آئرن سے مضبوط اور شہد سے میٹھی ہے جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی، ہماری یہ دوستی دیانتداری، باہمی احترام اور ایک دوسرے کے ساتھ ہر خوشی اور مشکل کی گھڑی میں تعاون کی بنیاد پر قائم ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین پاکستان کا مخلص، سچا دوست ہے جو ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا ہے، زلزلہ ہو یا سیلاب جس طرح چین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا ایسی کسی اور ملک کی مثال نہیں ملتی۔ میں اپنے دل کی گہرائیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے عظیم دونوں ممالک کے درمیان ہمارے اسلاف نے جو تعلقات قائم کئے تھے ،وہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور انہیں مزید آگے لے کر جائیں گے، 2015ء میں چین اور پاکستان نے سی پیک کے معاہدے پر دستخط کئے اور میرے بہت ہی پیارے بھائی چین کے صدر شی جن پنگ نے پاکستان کا دورہ کیا اور میرے بڑے بھائی وزیراعظم محمد نواز شریف کے ساتھ سی پیک کے معاہدے پر دستخط کئے اور اس کے نتیجہ میں چینی کمپنیوں نے 35 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان میں کی۔ انہوں نے کہا کہ چینی سرمایہ کاری سے 22، 22 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوا اور 2018ء میں پاکستان توانائی کی ضروریات میں خود انحصار ہو گیا، صنعتیں بحالی ہوئیں، زراعت بحال ہوئی، انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبے، روڈ نیٹ ورک، اورنج لائن لاہور، ڈیمز اور دیگر بہت سے منصوبے شروع ہوئے اور پاکستان کی معیشت کو ترقی ملی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ لیکن بدقسمتی سے درمیان میں یہ سلسلہ رک گیا لیکن آج نہ صرف یہ منصوبے بحال ہوئے بلکہ دوطرفہ اعتماد، باہمی احترام اور گرمجوشی میں اضافہ ہوا جو وقت کی ضرورت ہے۔ آج ہم سی پیک 2.0 کا آغاز کرنے جا رہے ہیں، یہ سی پیک 2.0 بی ٹو بی سرمایہ کاری پر مشتمل ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ زراعت کا شعبہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور ہماری معیشت کا 60 فیصد انحصار زراعت پر ہے، چینی سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کو دعوت دیتا ہوں کہ اپنے تجربات، مہارتیں اور سرمایہ کاری پاکستان کے زرعی شعبہ پر صرف کریں اور زراعت کو فروغ دیں جس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہو گا

، چین وہ اشیاء پاکستان سے درآمد کر سکے گا جو دیگر ممالک سے کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) ایک اور اہم باصلاحیت شعبہ ہے جس میں چین عالمی سطح پر سب سے آگے ہے، کان کنی اور معدنیات باہمی تعاون کا ایک اور اہم باصلاحیت شعبہ ہے۔ بلاشبہ خصوصی اقتصادی زونز سی پیک 2.0 کے بنیادی ستون ہیں جو چینی سرمایہ کاروں کیلئے پرکشش مواقع فراہم کر رہے ہیں، چین ٹیکسٹائل، چمڑے اور دیگر شعبوں کی صنعتوں کو پاکستان منتقل کر سکتا ہے اور پاکستان کی افرادی قوت سے استفادہ کر سکتا ہے جو دیگر ممالک کے مقابلہ میں کم لاگت پر میسر ہے، چینی سرمایہ کار تھرڈ ممالک کے مقابلہ میں پاکستان میں ان سہولیات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنا منافع بڑھا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں چینی سرمایہ کاروں پر زور دیتا ہوں کہ وہ آگے بڑھیں اور ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔بیجنگ میں پاکستانی وزراء اور توانائی، انفارمیشن، ٹیکنالوجی، کامرس اور تمام شعبوں کے حکام موجود ہیں جو چینی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی موجودگی اس بات کی غمازی ہے کہ پاکستان چین جیسے عظیم دوست ملک کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو کس قدر اہمیت دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بطور چیف ایگزیکٹو آف پاکستان اور بطور پاکستانی وزیراعظم میں یہاں موجود ہوں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اگر ہماری معیشت مضبوط ہو گی تو دونوں ملک مضبوط ہوں گے۔ الحمدﷲ پاکستان کی معیشت اب مستحکم ہے اور اقتصادی اشاریے مستقبل کی مثبت پیشرفت کی نشاندہی کر رہے ہیں، قلیل المدتی، وسط مدتی اور طویل المدتی سطح پر معاشی ترقی ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ کے پاکستان کے ساتھ تعاون کے ذاتی عزم کی بدولت یہ سب ممکن ہوا ہے اور اب ہم اقتصادی ترقی کی دوڑ میں چین کے تعاون سے دیگر ممالک کے مقابلہ کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ چینی بھائیوں اور بہنوں کی پاکستان میں سکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہے، آئیں آگے بڑھیں اور معاشی منظرنامہ کو تبدیل کریں اور چین اور پاکستان کے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے مل کر کام کریں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ چینی بھائیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے سہولت فراہم کرنے میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے دو تین ہفتے قبل چینی گروپ کے لوگوں کی نشاندہی پر درپیش مسئلہ کو 24 گھنٹوں میں حل کرنے کی مثال دی اور کہا کہ اسلام آباد میں چینی گروپ نے ملاقات میں بتایا کہ انہیں بعض مسائل کا سامنا ہے جس پر میں نے اپنی کابینہ کے ارکان کو ہدایت کی کہ 24 گھنٹوں میں اس مسئلہ کو حل کیا جائے اور وہ مسئلہ حل کر دیا گیا اور یہی وجہ ہے کہ میں آپ سب کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان اسی طرح آپ کا دوسرا گھر ہے جس طرح چین ہمارا دوسرا گھر ہے،

آگے بڑھیں اور جائنٹ وینچر سرمایہ کاری کریں، تمام وزارتیں، ادارے اور محکمے چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے اور جلد ہم چینی اور پاکستانی سرمایہ کاری کے ذریعے صرف ایک نہیں بلکہ ایک سے زائد خصوصی اقتصادی زونز قائم کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ میرا خواب ہے اور ہم اس خواب کو معاہدوں پر عملدرآمد کے ذریعے پورا کریں گے، سی پیک 2.0 میرے لئے سب سے اولین ترجیح ہے۔ چین 15 سال میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بن گیا ہے اور دنیا کی بہترین عسکری قوت ہے اور یہ محنت، محنت اور محنت کے ساتھ ممکن ہوا ہے اور ہم چینی ماڈل کے ذریعے پاکستان کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین کو جو شاندار ترقی ملی ہے اس کی مثال نہیں ملتی، چین نے 700 ملین لوگوں کو غربت سے نکالا اور نہ صرف اپنے لوگوں کو روزگار دیا بلکہ دنیا کے ہزاروں لوگوں کو روزگار کی پیشکش کر رہا ہے اور خوشحالی کی جانب گامزن ہے، آج اپنے تجربات کے استفادہ کرنے اور صنعتی ترقی کی جانب بڑھنے کا وقت ہے اور پاکستان ایک دن متحرک معیشت میں بدلے گا۔

کانفرنس میں اپنے اختتامی کلمات میں وزیراعظم نے کہا کہ سرمایہ کاروں کے درمیان مفاہمتی یاداشتوں کا تبادلہ خوش آئند ہے، ماضی میں بھی اس طرح کی تقریب ہوتی رہی ہیں لیکن انتھک کوششوں اور سخت محنت سے یہ ممکن ہوا ہے پاکستان میں چین کے سفیر، چینی حکومت اور اور چین کی عظیم کاروباری شخصیات نے اس کو ممکن بنایا ہے،متعلقہ وفاقی وزراء، سرمایہ کاری بورڈ، ایس آئی ایف سی اور صوبائی حکومتوں اور متعلقہ محکمہ کے درمیان بہتر رابطے سے اس سلسلے میں پیشرفت ہوئی ہے،اس سلسلے میں تمام متعلقہ اداروں کا کردار قابل تحسین ہے، مفاہمت کی یادداشتوں سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ 1.5 ارب ڈالر کے جوائنٹ وینچرز پر پاکستان اور چینی کمپنیوں کی طرف سے دستخط کیے گئے ہیں،مفاہمتی یاداشتوں کو معاہدوں میں تبدیل کرنا اور ان پر عمل درامد ہمارے لیے ایک چیلنج ہے، اس کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا اور دونوں حکومتوں کو قریبی رابطے کے ذریعے اگے بڑھنا ہوگا، چین میں پاکستان کے سفیر اور چین کے پاکستان میں سفیر اور ہمارے وفاقی وزراء کو متعلقہ چینی عہدے داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے،یقین ہے کہ ہم اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے

۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کاروباری برادری کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون لائق تحسین ہے،دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں اور جوائنٹ وینچرز پر اگر ہم عملدرآمد کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی کے لئے لانگ مارچ ہوگااور یہ لانگ مارچ بیجنگ سے شروع ہو کر اور اسلام آباد اپنی منزل پر پہنچ کرختم ہوگااور یہ لانگ مارچ پاکستان کو ایسے ملک میں تبدیل کر دے گا جہاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی،منافع بخش روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوں گے،ہماری جی ڈی پی ترقی کرے گی اور معیشت مضبوط ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے ہم آج شام سے ترقی کا لانگ مارچ شروع کریں گے اور اقتصادی ترقی کی منزل پہنچنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اور اس کے لئے انتھک محنت کریں گے اور یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی شاندار لمحہ ہوگا اس مقصد کے لیے تمام حکومتی ادارے، محکمے اور نجی شعبہ مل کر مکمل ہم آہنگی اور تعاون سے کام کریں گے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بی ٹو بی کانفرنس پاکستان کی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوگی،میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اقتصادی ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے دن رات ایک کر دوں گا،اس کے لئے ہمیں سخت محنت کرنا ہوگی اس سے پاکستان اور چین وہ رول ماڈل بنیں گے جس کی دوسرے ممالک بھی پیروی کریں گے

پنجاب میں غیر معمولی سیلاب کے باعث الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب میں ضمنی انتخابات ملتوی کر دیے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق قومی اسمبلی کے 5 اور پنجاب اسمبلی کے 4 حلقوں میں ضمنی انتخابات ملتوی کیے گئے ہیں۔مزید کہا گیا کہ جن حلقوں میں انتخابات مؤخر کیے گئے ہیں، ان میں قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 66 وزیرآباد، فیصل آباد کے حلقے این اے 96، این اے 104، این اے 129 لاہور اور این اے 143 ساہیوال شامل ہیں۔نوٹی فکیشن کے مطابق پنجاب اسمبلی کے حلقے پی پی 73 سرگودھا، پی پی 87 میانوالی، پی پی 98 فیصل آباد اور پی پی 203 ساہیوال کے انتخابات ملتوی کر دیے گئے۔مزید کہا گیا ہے کہ ضمنی انتخابات کے لیے نیا شیڈول جاری کیا جائے گا۔الیکشن کمیشن کے مطابق پنجاب میں غیر معمولی سیلاب کے باعث مواصلاتی نظام شدید متاثر، سڑکیں اور پل بہہ گئے، سیلاب سے سرکاری و نجی عمارتیں، اسکول اور پولنگ اسٹیشنز کا انفرا اسٹرکچر متاثر ہوا۔مزید کہا گیا کہ ریلیف اور ریسکیو آپریشن میں مصروف عملہ انتخابی فرائض سرانجام نہیں دے سکتا، ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران نے پولنگ اسٹاف کی عدم دستیابی کی نشاندہی کر دی۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ حکومت پنجاب نے سیلاب کی صورتحال کے باعث ضمنی الیکشن مؤخر کرنے کی سفارش کی، متاثرہ علاقوں کے ووٹرز کی نقل مکانی، ووٹ ڈالنے کے عمل میں شرکت ممکن نہیں۔مزید بتایا گیا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کم ٹرن آؤٹ اور ووٹرز کی محرومی کا خدشہ ہے، سیلاب کے اثرات پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی رپورٹس کا حوالہ دیا گیا ہے۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ حالات نارمل ہونے پر انتخابات دوبارہ شیڈول کیے جائیں گے۔

آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ کسی بھی علاقے میں غیر رجسٹرڈ موٹر سائیکل نظر آیا تو ایس ایچ او کو ہٹایا جائے گا۔12 ربیع الاول کے حوالے سے سکیورٹی انتظامات مکمل کرلیے گئے۔ اسلام آباد میں غیر رجسٹرڈ موٹر سائیکل کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔آئی جی اسلام آبادسید علی ناصر رضوی کا کہنا ہے کہ کسی بھی علاقے میں غیر رجسٹرڈ موٹر سائیکل نظر آیا تو ایس ایچ او کو ہٹایا جائے گا۔ اسلام آباد میں اسلحہ کی نمائش یا ہوائی فائرنگ ہوئی تو ایس ایچ او ذمہ دار ہو گا۔آئی جی اسلام آباد نے ڈی پی اوز ایس ڈی پی او اور ایس ایچ اوز کے لئے احکامات جاری کر د یے ہیں ۔آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ کسی بھی جرم کی کال پر ایس ایچ او خود موقع پر جانے کا پابند ہو گا۔ 12 ربیع الاول کے حوالے سے آرگنائزر کے ساتھ میٹینگز مکمل کریں۔آئی جی اسلام آباد کی جانب سے تمام مقامات پر سکیورٹی کے سخت اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔

آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ کسی بھی علاقے میں غیر رجسٹرڈ موٹر سائیکل نظر آیا تو ایس ایچ او کو ہٹایا جائے گا۔12 ربیع الاول کے حوالے سے سکیورٹی انتظامات مکمل کرلیے گئے۔ اسلام آباد میں غیر رجسٹرڈ موٹر سائیکل کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔آئی جی اسلام آبادسید علی ناصر رضوی کا کہنا ہے کہ کسی بھی علاقے میں غیر رجسٹرڈ موٹر سائیکل نظر آیا تو ایس ایچ او کو ہٹایا جائے گا۔ اسلام آباد میں اسلحہ کی نمائش یا ہوائی فائرنگ ہوئی تو ایس ایچ او ذمہ دار ہو گا۔آئی جی اسلام آباد نے ڈی پی اوز ایس ڈی پی او اور ایس ایچ اوز کے لئے احکامات جاری کر د یے ہیں ۔آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ کسی بھی جرم کی کال پر ایس ایچ او خود موقع پر جانے کا پابند ہو گا۔ 12 ربیع الاول کے حوالے سے آرگنائزر کے ساتھ میٹینگز مکمل کریں۔آئی جی اسلام آباد کی جانب سے تمام مقامات پر سکیورٹی کے سخت اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔

وفاقی حکومت نے پاکستان ایکسیلریٹڈ وہیکل الیکٹری فکیشن (PAVE) پروگرام کے تحت نئی اسکیم متعارف کرائی ہے، جس کے تحت شہری کراؤن الیکٹرک موٹر سائیکلیں حکومتی سبسڈی اور آسان اقساط کے ذریعے خرید سکیں گے۔حکومت کی جانب سے کراؤن الیکٹرک بائیک پر 50,000 روپے سبسڈی دی جائے گی، صفر مارک اپ کے ساتھ اقساط کی ادائیگی، کسی قسم کی پروسیسنگ فیس نہیں۔یہ اسکیم پاکستان کے تمام شہریوں (18 سے 65 سال عمر) کے لیے ہے۔خواتین، معذور افراد اور اوورسیز پاکستانیوں کو ترجیح دی جائے گی۔درخواست دینے کا طریقہدرخواستیں صرف سرکاری پورٹل www.pave.gov.pk پر جمع کرائی جا سکتی ہیں۔ درخواست گزاروں کو فارم بھرنے کے بعد ایک کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی سسٹم میں شامل کیا جائے گا تاکہ مکمل شفافیت برقرار رہے۔کراؤن الیکٹرک موبیلٹی، جو پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے والی نمایاں کمپنی ہے، اس اسکیم کی پارٹنر ہے۔ حکومتی مالی معاونت کے بعد اب یہ ای وی بائیکس عام شہریوں کی پہنچ میں آ گئی ہیں۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر کی جانب سے 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی ہے۔تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما مصطفیٰ نوازکھوکھر نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ پریکٹس اینڈپروسیجر ایکٹ کے سیکشن 2،2کے مطابق فل کورٹ تشکیل کا فیصلہ قانون کےمطابق ہے، رجسٹرار یا کوئی اور اتھارٹی کمیٹی کے فیصلے کو ختم نہیں کر سکتی۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ کمیٹی کے فیصلے پرچیف جسٹس کی وضاحت عملدرآمد نہ کرنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتی، ایکٹ میں ہونے والی ترامیم آئین اور قانون سے مطابقت نہیں رکھتیں۔دائر درخواست میں پریکٹس اینڈپروسیجر کمیٹی کے 31 اکتوبر کے اکثریتی فیصلے پر عملدرآمد کی استدعا کی گئی ہے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے سے متعلق انتظامی فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔یاد رہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجرکمیٹی نے 31اکتوبرکو 26 ویں آئینی ترامیم پرفل کورٹ تشکیل دینےکافیصلہ کیا تھا۔

مہنگائی کےستائے عوام کیلئے بری خبر ، گندم اور آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔چیئرمین پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ سرکل جنید عزیز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گندم مہنگی جبکہ عالمی مارکیٹ میں گندم سستی مل رہی ہے، حکومت نے اگر گندم کی امپورٹ کے حوالے سے جلد فیصلہ نہ کیا تو گندم اور آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت گندم اور اٹے کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے پنجاب سے صوبہ بندی ہے،ایک مہینہ میں گندم اورآٹے کی قیمتوں مین ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔جنید عزیز نے کہا کہ یکم اگست سے تا حال گندم کی قیمت میں 35 روپے ،جبکہ آٹے کی قیمت میں 29 روپے کلو تک کا اضافہ ہوا۔ یکم اگست کو گندم کی قیمت 62 روپے کلو تھی ،جبکہ یکم ستمبر کو یہ قیمت 97 روپے کلو ہوگئی۔یکم اگست کو ڈھائی نمبر آٹا 76 روپے کلو جبکہ آج ڈھائی نمبر آٹا 99 روپے کلو ہوگیا ہے،یکم اگست کو فائن آٹا 79 روپے کلو جبکہ اج 108 روپے کلو ہوگیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مقامی مارکیٹ میں گندم کی قیمت 96 روپے کلو جبکہ عالمی مارکیٹ میں یہ قیمت 85 روپے ہے،پاکستان میں آج عالمی مارکیٹ سے 10 روپے کلو گندم مہنگی ہے، سندھ حکومت اگلے ہفتے گندم ریلیز کرتی ہے تو بازارمیں گندم کی قیمتیں کم ہوسکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو رواں برس کم سے کم 15 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کرنی پڑے گی،حکومت گندم کی امپورٹ کی اجازت صرف فلور ملز کو یا ٹی سی پی کو دے ،ٹریڈرز گندم امپورٹ کرکے مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔

🚨🚨 Update:دریائے راوی ہیڈ بلوکی کے مقام پر سیلابی ریلہ کی شدت میں اضافہ، 1 لاکھ 28 ہزار کیوسک ریکارڈدریائے راوی ہیڈ سندھائی (کبیروالا) کے مقام پر سیلابی ریلہ کی صورتحال برقرار، 1 لاکھ 39 ہزار کیوسک ریکارڈدریائے چناب چینوٹ کے مقام پر سیلابی ریلہ کی شدت میں اضافہ، 5 لاکھ 9 ہزار کیوسک ریکارڈ🚨 پنجاب میں سیلاب سے 46 افراد جاں بحق، 35 لاکھ افراد متاثر🚨🚨سیلابی پانی گجرات شہر میں داخل….!!!!🚨 پنجاب حکومت کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کے تخمینے کے لیے سروے کا حکمسروے کے لیے پاک فوج کی بھی خدمات لینے کا فیصلہابتدائی طور 1700 موضع جات کا تخمینہ لگایا جائے گا🚨 ‏پاکستان اس وقت بدترین سیلاب کا شکار ھے اور اسکی وجہ بارشیں یا موسمیاتی تبدیلی نہیں ھے بلکہ اسکی وجہ بھارت ھے۔ جس نے جان بوجھ کر اپنے ڈیمز کے دروازے کھول دئے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ🚨 پنجاب بھر میں میٹرک کے سپلیمنٹری امتحانات ملتوی کردیئے گئے، اعلامیہ🚨 سیلابی صورتحال کے پیش نظر ضلع گجرات میں کل بروز جمعہ ضلع بھر میں تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے، نوٹیفیکیشن🚨 دریائے چناب شیر شاہ ملتان کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب

حکومت کی اجازت کے بعد مالی سال 2024-25 کے دوران ملک کی 67 شوگر ملز نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی ایکسپورٹ کی جس کی مالیت تقریباً 40 کروڑ ڈالر (11 ہزار 280 ارب روپے) بنتی ہے۔ایکسپورٹ کے بعد ملک میں چینی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے اور قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔ دو ماہ قبل فی کلو چینی کی قیمت 140 روپے تھی جو اب 190 سے 200 روپے تک جا پہنچی ہے۔ 50 کلو کے تھیلے کی قیمت 6 ہزار 200 روپے سے بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے ہو گئی ہے۔ایس ای سی پی کی دستاویزات اور پارلیمانی کمیٹیوں میں جمع کرائی گئی فہرستوں کے مطابق:رمضان شوگر ملز (شریف فیملی): 16 ہزار 116 ٹن، مالیت 2.41 ارب روپےالعربیہ شوگر ملز (شریف فیملی): مالیت 1.20 ارب روپےچوہدری شوگر ملز (عباس شریف کے بیٹے): مالیت 1.49 ارب روپےٹنڈوالہ یار شوگر ملز (عبدالغنی مجید): 6 ہزار 518 ٹن، مالیت 91.7 کروڑ روپےاشرف شوگر ملز (ذکا اشرف): 11 ہزار 317 ٹن، مالیت 1.67 ارب روپےرحیم یار خان شوگر ملز (مونس الٰہی، میاں عامر محمود): 21 ہزار 874 ٹن، مالیت 3.33 ارب روپےجے ڈی ڈبلیو اور جے کے شوگر ملز (جہانگیر ترین): 99 ہزار ٹن، مالیت 15 ارب روپےتاہم چوہدری شجاعت حسین اور سالک حسین کی پنجاب شوگر ملز نے اس عرصے میں ایکسپورٹ نہیں کی۔چینی کی قیمت میں اضافہ ہونے پر حکومت نے دکانداروں کو ہدایت کی ہے کہ فی کلو چینی 172 روپے میں فروخت کی جائے۔ زائد قیمت پر فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ کئی دکانداروں نے مہنگائی کے باعث چینی رکھنا ہی بند کر دی ہے۔ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ چینی کی ایکسپائری مدت دو سال ہے اور اگر یہ چینی ایکسپورٹ نہ کی جاتی تو ضائع ہو جاتی۔ ان کے مطابق ایکسپورٹ کی گئی چینی کی معیاد اگست 2025 تک تھی۔

1962 کے بعد چین نے کوی جنگ لڑی اور نہ جیتی۔۔راجہ رینٹل اور خواجہ مینٹل وزارت دفاع سے ڈرمہ والہ سیالکوٹ واپسی کا سفر۔۔۔چین عرب امارات اور سعودی عرب کی ترقی پاکستان کی مرھون منت ھم کدھر اور وہ کھا۔۔ تفصیلات کے لیے بادبان ٹی وی اور بادبان یوٹیوب کو سبسکرایب کریں

بریانی ملی؟ بریانی میں بوٹی تھی؟متاثرینِ سیلاب کے لیے سرکاری ریلیف کی مکمل کہانی۔14 کروڑ عوام کے سر پر بٹھاے عقل سے پیدل وزراء کی سیلاب زدگان کے زخموں پر نمک پاشی۔۔ ۔ھزاروں ارب روپے کی فصلوں کے نقصان کرنے والے کسانوں کے بچوں سے وزراء کے سوالات۔۔پاکستانی حکمرانوں نے بے حسی نالائقی کے 100 سالہ توڑ ڈالے۔۔افغانستان کی جیت اور پاکستانی کرکٹ ٹیم تاریخ کی بدترین شکستوں کا سلسلہ۔خورشید شاہ خدا انکو صحت مند کرے پیپلز پارٹی اور پاکستان کا اثاثہ۔1962 کے بعد چین نے کوی جنگ لڑی اور نہ جیتی۔راجہ رینٹل اور خواجہ مینٹل وزارت دفاع سے ڈرمہ والہ سیالکوٹ واپسی کا سفر افغانستان کی جیت اور پاکستانی کرکٹ ٹیم تاریخ کی بدترین شکستوں کا سلسلہ۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سینئر سیاست دان سید خورشید احمد شاہ کی عیادت کے لئے مقامی اسپتال آمدکراچی: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے رکن قومی اسمبلی سید خورشید احمد شاہ کی صحت سے متعلق خیریت دریافت کیکراچی: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا سابق قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ کی جلد صحت یابی کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار

جھوٹ جھوٹ ہوتا ہےجھوٹ کو سیاسی بیانیہ کہنے والے سیاست کو. مزید گندہ کرتے ہیںامریکہ نے حکومت گرای جھوٹ تھا35 پنجر جھوٹ تھانواز شریف پر کیس جھوٹ تھا لیکن ادھر جھوٹ صاف نہیں بولا جاتا کہا جاتا ہے وہ سیاسی بیان تھا پی ٹی آئی ٹوٹل جھوٹ جھوٹ جھوٹ اور صرف جھو

#فخر_واہ_کینٹ پائلٹ میجر عاطف شہید کوپورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیاپائلٹ میجر عاطف شہید واہ کینٹ کے رہائشی تھے، جنہوں نے چلاس ہیلی کاپٹر حادثے میں جام شہادت نوش کی تھیہیلی کاپٹر حادثے میں شہادت پانے والے میجر عاطف کی نماز جنازہ منگل کے روز واہ کینٹ کی مرکزی مسجد میں ادا کی گئی۔ شہید افسر کو بعد ازاں واہ کینٹ 21 ایرایا قبرستان میں فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔

قبل ازیں انھیں پاک فوج کے چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی نماز جنازہ اور تدفین میں چیئرمین پی او ایف بورڈ واہ کینٹ سیمت اعلیٰ عسکری و سول حکام کی شرکت، خاندانی ذرائع کے مطابق میجر عاطف پس ماندگان میں والدین، اہلیہ، دو بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑ گئے ہیں

۔ رشتہ داروں نے انہیں ایک بہادر افسر اور شفیق خاندان پرور قرار دیا جو ہمیشہ ذاتی آرام پر فرض کو مقدم رکھتے تھے۔ شہید کے والد نے کہا کہ اگرچہ یہ صدمہ نا قابل بیان ہے، تاہم انہیں فخر ہے کہ ان کے بیٹے نے ملک وقوم کی خاطر اپنی جان قربان کی۔ نماز جنازہ کے موقع پر فضا اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔ مقامی افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے شہید کو خراج عقیدت پیش کیا اور انہیں واہ کینٹ کا فخر قرار دیا۔

پائلٹ میجر عاطف شہید کا تعلق واہ کینٹ کے علاقہ نیو گلستان کالونی واہ کینٹ سے تھا، یاد رہے کہ چلاس میں پاک فوج کے ایم آئی 17 ہیلی کا پڑفنی خرابی کے باعث حادثے کا شکار ہوا تھا۔ اس حادثے میں پاک فوج کے پانچ افراد نے جام شہادت نوش کیا تھا جن میں پائلٹ میجر عاطف، میجر فیصل، نائب صوبیدار مقبول، حولدار جہانگیر اور نائیک عامر شامل تھے#

برطانیہ کا ویزہ ختم ہونے پر واپس نہ جانے والے تمام سٹوڈنٹس کو ڈی پورٹ کرنے کا اعلانبرطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ تمام غیر ملکی طلبا جو اپنی ویزا مدت ختم ہونے کے باوجود برطانیہ میں مقیم ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے انہیں ملک بدر کرے گی۔ برطانوی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ امیگریشن نظام کے مبینہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔

برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ہوم آفس نے ہزاروں بین الاقوامی طلبا کو ای میلز اور ٹیکسٹ پیغامات کے ذریعے مطلع کیا ہے کہ اگر وہ اپنی ویزا مدت مکمل ہونے کے بعد بھی ملک میں موجود پائے گئے تو انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جائے گا یا قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔حکام کے مطابق، اس اقدام کی ضرورت اس لیے محسوس کی گئی

کیونکہ حالیہ عرصے میں ایسے غیر ملکی طلبا کی جانب سے پناہ کی درخواستوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو کہ ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد دائر کی گئی تھیں۔

اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ ایک سال میں تقریباً 14 ہزار 800 افراد نے برطانیہ میں پناہ کی درخواستیں دائر کیں، جن میں سے ایک بڑی تعداد اسٹڈی ویزا پر آئے ہوئے طلبا کی تھی۔ان میں سب سے زیادہ پاکستانی طلبا شامل ہیں جنہوں نے 5 ہزار 700 کے قریب پناہ کی درخواستیں جمع کرائیں، اس کے بعد بھارتی، بنگلہ دیشی اور نائیجیرین طلبا شامل ہیں

۔برطانوی ہوم سیکرٹری یویٹ کوپر کا کہنا ہے کہ بہت سی ایسی پناہ کی درخواستیں بھی دیکھی گئی ہیں جن میں درخواست گزاروں کے آبائی ممالک میں کوئی ہنگامی یا خطرناک حالات موجود نہیں تھے۔

ان کے مطابق یہ رجحان نظام کے غلط استعمال کے مترادف ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات ضروری ہیں۔واضح رہے کہ برطانیہ نے ایک روز قبل ہی پناہ گزین خاندانوں کے ملاپ سے متعلق نئی درخواستیں عارضی طور پر معطل کرنے کا بھی اعلان کیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت امیگریشن پالیسی میں سختی لا رہی ہے

۔ماہرین کے مطابق، ان اقدامات سے نہ صرف موجودہ بین الاقوامی طلبا متاثر ہوں گے بلکہ آئندہ برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبا کو بھی امیگریشن قوانین کا بغور جائزہ لینا پڑے گا۔

چینوٹ ڈوب گیا 150 دیہات زیر آب۔۔۔سعودی عرب 2 سال میں ایک کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے میں مکمل طور پر ناکام۔۔50 ارب ڈالر کے خواب دکھانا فراڈ نکلہ پاکستان کے حجاج اور عمرہ زائرین 20 ارب ڈالر سے زائد سعودی عرب میں سالانہ خرچتے ھے تفصیلات کے لئے بادبان نیوز

سندھی قوم کے خلاف بکواس کرنے والہ ن لیگ کا لونڈا لاپاڑہ برطرف سیکرٹری اطلاعات حکومت پاکستان امبرین جان جو مستقبل کی چئیرمین پیمرا ھے فوری طور پر برطرف کرتے ھوے 26 لاکھ روپے کی مراعات واپس لینے کا حکم بھی جاری کیا۔۔انفارمیشین اور خبر کی خصوصیت یہ ھے کہ جب حالات موافق نہ ھوں تو یہ ھوائی بگولہ بن کر گھومتی ہیں-کوئٹہ ۔ بی این پی کے رہنما سرداراخترجان مینگل کی گاڈی پر بم دھماکہ،درجنوں کارکن شہید زخمی۔۔۔۔اسرائیلی وزیر خارجہ پر ایرانی وزیر خارجہ کا حملہ لتر پریڈ۔۔ایران کے ھاتھوں پاکستان کو عبرت ناک شکست۔دو گیندوں پر دو وکٹیں ، راشد خان نے میچ پاکستان کے ہاتھ سے چھین لیا۔۔۔۔منظور پشتین کے افغان بر والوں نے عورتوں کی میڈیکل تعلیم پر بھی پابندی عائد کر دی ہے اب افغان ماؤں کو کوئی پیچیدگی ہوئی نئے منظور پشتین اور انکی مائیں دوران حمل ہی مر جایا کریں گی ۔۔خطرے کی گھنٹی اور خطرناک گونج۔۔اھم ترین ملاقات شیروانی اور بادبان نیوز نیا پنڈوارا بکس۔۔شیروانی اور بادبان نیوز نیا پنڈوارا بکس۔۔چپڑاسی سے وزیر اعظم تک کرپشن کے تبوت۔*عید میلادالنبی کے موقع پر ملک بھر میں 6 ستمبر بروز ہفتہ عام تعطیل ہو گی، نوٹیفیکیشن جاری*سعودی اور عراقی کمپنیوں نے بھارتی ریفائنری کو تیل کی فروخت روک دی*۔۔اسلام آباد ایئرپورٹ کا انتظام امارات کے سپرد۔۔پی ٹی آئی کے 6 اراکین قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ سے بھی مستعفی ہوگئے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ڈبو کے شہر کو یک دم اتر گیا پانی ———————————————شاہد اقبال کامران —————————ہماری ریاست ماں جیسی نہیں ، ورنہ کوئی ماں اپنے بچوں کو پانی میں غرق نہیں ہونے دیتی ۔ ہماری ریاست باپ جیسی بھی نہیں کہ۔جو اپنے بچوں کا کفیل ہو ۔ہماری ریاست ،جیسا کہ بتایا جاتا ہے کوئی نظریاتی ریاست ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کسی نظریے کی چادر میں چھپ کر ریاست اپنی پرستش کروانا چاہتی ہے اور جبرا ایسا کروا بھی رہی ہے ۔ لوگوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ اسلام میں بت پرستی مکمل طور پر حرام ہے۔کسی بھی قسم کے بت کو توڑنا ، پاش پاش کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے ۔دوسری بات یہ کہ چونکہ حکومت کا نظام یہاں ناکام و نامراد ہو چکا ہے اس لیے معاشرتی نظم و نسق کے دیگر متبادلات پر غور وفکر کرنا ضروری ہو گیا ہے۔

حالیہ سیلاب کے دوران بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں جو تباہی مچی ،اور جس طرح سے ہمارے تنخواہ دار حکمرانوں نے روپوشی اختیار کی ہے ۔اسے عامتہ الناس کو یاد رکھنا چاہئیے۔سیلاب زدہ علاقوں میں بیماریاں پھیلنے کا بھی خدشہ ہے۔لوگوں کو چاہئیے کہ انتظار کرنے کی بجائے انتظامیہ کے قلعہ نما محلات پر قبضہ کرلیں۔اور اپنی تقدیر کے مالک خود بنیں۔جب سے ملک کے بیشتر علاقوں میں تند و تیز بارشوں اور بھارت کی طرف سے خاموش دریاؤں میں چھوڑے پانی کی وجہ سے سیلاب بلاخیز نے تباہی مچا رکھی ہے ،ملت پاکستانیہ کو شرم اور حیا کی طرف متوجہ کرنے والے سیالکوٹ کے خواجہ آصف بالکل غائب ہیں ۔شرلی بے بنیاد کی تحقیق کے مطابق جس وزیر کو وفاقی کابینہ میں بالکل فارغ رکھنا ہو

،اسے وزیر دفاع بنا دیا جاتا ہے ۔شرلی کا اصرار ہے کہ اس وزرات کی املا غلط لکھی جاتی ہے ،اس کے نزدیک اصل املا “وزیر دفع” ہے ،جو غلطی سے دفاع قیاس کر لی گئی ہے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ دفاع سے متعلق معاملات دفاع والے خود ہی دیکھ لیتے ہیں ، وہ اپنا سیکرٹری دفاع مقرر کر کے اسے کھیلنے کے لیے ایک وفاقی وزیر دے دیتے ہیں تاکہ دستخط کرنے کے کام آسکے۔خواجہ آصف جونسا جونسا کی تکرار کے ساتھ اپنے سیاسی مخالفین پر طنز کے بے تدبیر تیر چلانے میں بڑے ماہر ہیں

۔وہ دوسرے سیاستدانوں سے ہر اس خوبی کی توقع رکھتے ہیں ، جو خود ان کے اپنے اندر نہیں ہوتی۔قوم کو شرم و حیا کی طرف متوجہ کرنے والے خواجہ آصف اس وقت خود اپنے وزیراعظم شہباز شریف اور اپنی حکومت کو خواب غفلت سے بیدار کرنے اور شرم و حیا کی ضرورت و اہمیت سے آگاہ کرنے میں غفلت کا مظاہرہ کیوں کر رہے ہیں؟ وہ ملک کے سیاسی منظر سے بالکل غائب ہیں ۔بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے زیریں علاقے پانی کی غارت گری کا شکار ہیں ۔صوبائی حکومت کی غفلت شعاری ایک طرف ،لیکن ہماری ازخود انقلابی وفاقی حکومت اپنا فرض کیوں ادا نہیں کر رہی؟شہبازشریف نے شروع شروع میں اپنی انگلی لہرا لہرا کر انقلابی باتیں کرنا شروع کی تھیں

۔پھر بھیک مانگنے کا سلسلہ شروع ہوا اور ایسے ایسے نادر طریقے اور دردناک سلیقے سے بھیک مانگی گئی کہ اب پاکستانی بھکاریوں کا یہ منشور بن گیا ہے کہ “آپ سمجھے ہیں کہ میں بھیک مانگنے آیا ہوں۔ بس ایک بار آپ ہماری مدد کر دیں۔۔۔۔ ۔۔۔” یہ تو سچ ہے کہ مصیبت بتا کر نہیں آتی ،لیکن موسمی پیشگوئی اب سائنس بن چکی ہے ۔سیلاب تو بتا کر ہی آیا ہے ، بارش کا بھی پیشگی اندازہ کر لیا جاتا ہے ۔اس کے بعد اس کے اثرات کو قابو کرنے کی منصوبہ بندی اور اقدامات کی ذمہ داری حکومت پر آتی ہے ۔تحصیل دار سے لے کر کمشنر تک ،اورکمشنر سے لے کر چیف سیکرٹری اور پھر وزراء اور وزیر اعلی تک سب کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے۔لیکن پنجاب کے اداکار وزیر اعلی پرویز الٰہی اپنی سیاسی مصروفیات میں اس قدر الجھے بیٹھے ہیں کہ انہیں ابھی تک سیلاب زدگان کی طرف توجہ دینے کی فرصت نہیں ملی۔

شائد ان کا خیال ہے کہ ان کی وزارت اعلی تو پی ٹی آئی کے ووٹوں پر کھڑی ہے ، جنوبی پنجاب کے غریب سرائیکیوں کے ووٹ پر تو نہیں،لہذا انہوں نے تونسہ یا فاضل پور یا کوہ سلیمان کے اطراف کا دورہ کرنے کی بجائے بنی گالہ جا کر عمران خان کے دربار میں حاضری دینا مناسب سمجھا۔سنا ہے کہ انہوں نے اپنے شہر گجرات کے لیے اربوں کے ترقیاتی فنڈز کا اعلان کیا ہے۔شکر ہے گجرات جنوبی پنجاب میں واقع نہیں ،ورنہ اس فنڈ سے سرائیکی بولنے والے غریب لوگوں کا بھی کچھ بھلا ہو سکتا تھا۔

ستم ظریف کا موقف ہے کہ پاکستان کے مرکزی سیاست دان ،چاہے وہ صوبائی حکومت میں ہوں ،چاہے وفاقی حکومت میں ،وہ جانتے ہیں کہ جنوبی پنجاب کے ایم پی ایز اور ایم این ایز کو تو نقد ادائیگی کر کے بازار سے ہی خریدنا ہے ۔تو پھر ان کے ووٹروں کی دلداری کرنے کیا ضرورت ہے۔ وہاں کا سردار ،وڈیرا ،خان ، پیر اور سجادہ نشین اصل بیماریاں ہیں ،جو سیلاب گزر جانے کے بعد بھی موجود اور ناقابل علاج رہیں گی ۔میں نے ستم ظریف کو سمجھایا ہے کہ جنوبی پنجاب کو ریاست پاکستان کا ایک حصہ سمجھ کر سوچنے کی مشق کرنی ہو گی۔بالکل اس طرح جیسے بلوچستان کو پاکستان کا ایک با عزت حصہ ماننا پڑے گا

۔میں نے اسے بتایا کہ سیلاب کی بے رحم تباہ کاری کا مسلہ سیاسی نہیں انسانی المیہ ہے ۔لیکن افسوس اور عبرت کا مقام یہ ہے کہ ہماری حکومتیں اس باب میں مکمل خاموشی اختیار کیے بیٹھیں ہیں۔اب جبکہ ان گنت اموات اور نقصان ہو چکا ہے تو خبر آئی ہے کہ وزیراعظم اورآرمی چیف نے از راہ کرم ٹیلیفون کے ذریعے رابطہ کر کے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے اقدامات کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔آپ سوچیے جن لوگوں نے اس تباہی سے پہلے منصوبہ بندی کرنی تھی ، وہ بعداز خرابی بسیار اب ایک دوسرے کو ٹیلی فون کے ذریعے بتا رہے ہیں کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے

۔بس یہی المیہ ہے کہ ابھی تک وزیراعظم “ضرورت ہے” ہی کی تکرار کیے جارہے ہیں۔وہ یہ نہیں بتاتے کہ یہ ضرورت کون پوری کرے گا۔سنا ہے کہ وزیراعظم نے سپہ سالار جنرل قمر جاویدباجوہ کے علاؤہ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اخترنواز سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے

۔یہ جو نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے جنرل اختر نواز نامی چیئرمین صاحب ہیں ،نہیں تو فوراً واپس اپنی اصل ڈیوٹی پر اس رپورٹ کے ساتھ بھیج دینا چاہئیے کہ یہ موصوف اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں غفلت کے مرتکب ہوئے ہیں

۔لیکن ہمارے وزیراعظم نے کئی دن تک اپنے سینے میں سانس کی مشق کرنے کے بعد ان موصوف سے بات کرنے کی ہمت کی۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے وزیراعظم کو سندھ میں بارشوں اور سیلاب کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا۔یہ بھی اللہ کا شکر ہے ورنہ وزیراعظم کو سندھ میں سیلاب کی صورتحال کا کس طرح سے پتہ چلتا۔اس پوری گفتگو میں جنوبی پنجاب کے مظلوم اور غرقاب علاقوں کا اشارتاً بھی ذکر نہیں آیا۔ہاں مگر شہباز شریف نے پھر وہی کیا ،جو انہیں کرنا آتا ہے ۔یعنی ریاست کے پیسوں سے اخباروں میں اشتہارات چھپوا کر کارروائی ڈالنا۔ وزیر اعظم شہباز شریف صاحب ! یہ تصویری اور اشتہاری ڈرامے بند کریں۔بلوچستان ، جنوبی پنجاب اور سندھ کے بہت سے علاقے بدترین سیلاب کی زد میں ہیں۔

اور آپ کروڑوں روپے کے اشتہارات کی رشوت اخبارات کو دے رہے ہیں۔ذرا کوہ سلیمان کے اطراف پھنسے ہوئے مجبور لوگوں کی خبر لیں۔آپ پرانے ڈراموں کی تصویریں لگا کر داد سمیٹنا چاہتے ہیں۔بلائیں ذرا خواجہ آصف کو جو قوم کو بتایا کرتا تھا کہ؛ کوئی شرم ہوتی ہے ،کوئی حیا ہوتی ہے۔میں اس سے پوچھوں گا کہ اتنی اہم بات شہباز شریف کو کیوں نہیں بتائی؟ شاعر باکمال فیصل عجمی کے شعر یاد آرہے ہیں،وہ کہتے ہیں کہ؛زمیں کی نوحہ گری سن کے ڈر گیا پانیڈبو کے شہر کو یک دم اتر گیا پانیمیں ایک بار پکارا کوئی بچاؤمجھےپھر اس کے بعد میرے منہ میں بھر گیا پانیجو ڈوب گئے ، وہ تلاش مرگ میں تھےچلو کسی پہ تو احسان کر گیا پانی —————————————–

بنوں میں دھشت گردوں کا حملہ فورسز کی کارروائی تمام بھارتی دھشت گرد ھلاک۔۔مافیا کے 40 بیورو کریسی کے ڈان گرفتار۔500 کا دستہ 21 وزراء کے ھمراہ چین روانہ۔۔بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کا فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر بنوں پر حملہ، تمام 5 دہشتگرد ہلاک۔۔اسمبلیوں سے استعفے نہیں دیئے جائیں گے، سلمان اکرم راجہ کا انکشاف۔۔کوئٹہ ۔ بی این پی کے رہنما سرداراخترجان مینگل کی گاڈی پر بم دھماکہ،درجنوں کارکن شہید زخمی۔ ۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

_روس کے صدر اور پاکستان کے وزیراعظم کے درمیان ملاقات_* وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے رشین فیڈریشن کے صدر عزت مآب ولادیمیر پیوتن سے آج بیجنگ، چین میں ملاقات کی۔2024 میں آستانہ میں ہونے والی اپنی ملاقات کو یاد کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے گزشتہ ایک سال کے دوران تعاون کو وسعت دینے اور اس کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔

دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور گرمجوشی پر مبنی ہیں۔ اس بات کی بنیاد پر کہ پاکستان روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، وزیراعظم نے روس کے ساتھ تجارتی روابط، توانائی، زراعت، سرمایہ کاری، دفاع، مصنوعی ذہانت، تعلیم، ثقافت اور عوام سے عوام کے تبادلے جیسے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے کے لیے پاکستان کی تیاری اور دلچسپی سے آگاہ کیا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ مختلف عالمی پلیٹ فارمز پر دونوں ممالک کے نقطہء نظر میں کافی حد تک مماثلت ہے۔ مزید برآں، وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان قائم ادارہ جاتی میکانزم کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجوزہ پاکستان اسٹیل مل (PSM) کراچی کے فلیگ شپ پراجیکٹ اور کنیکٹیوٹی پراجیکٹس میں سرمایہ کاری جیسے ٹھوس اقدامات آنے والی نسلوں کے لیے پاکستان روس دوستی کی علامت ہوں گے۔دوطرفہ تعلقات کے بارے میں پاکستان کے وزیر اعظم کے جائزے سے اتفاق کرتے ہوئے، صدر ولادیمیر پیوتن نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بلندی کی رفتار کا ذکر کیا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم جیسی تنظیموں میں تعاون کا فروغ علاقائی اور عالمی سلامتی اور استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے روس کے پاکستان کے ساتھ مختلف موضوعات پر دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے جنوبی ایشیاء کی صورتحال، افغانستان، مشرق وسطیٰ اور یوکرین کے تنازع پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کثیرالجہتی فورمز پر جاری تعاون کے ساتھ ساتھ فلسطین اور کشمیر جیسے دیرینہ مسائل اور عالمی دلچسپی کے تنازعات پر بھی تبادلہء خیال کیا۔ملاقات کے دوران روسی صدر نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو روس کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی۔___

انفارمیشین اور خبر کی خصوصیت یہ ھے کہ جب حالات موافق نہ ھوں تو یہ ھوائی بگولہ بن کر گھومتی ہیں-

انفارمیشین اور خبر کی خصوصیت یہ ھے کہ جب حالات موافق نہ ھوں تو یہ ھوائی بگولہ بن کر گھومتی ہیں- اور جب حالات آپ کے حق میں ہوں تو عوام خواہ مخواہ ہر نعرے پر تالیاں مارتے ہیں- میڈیا کیونکہ سائنس ھے، اور سائنس میں ادھر ادھر کی نہیں چلتی، فارمولے چلتے ہیں- سیلاب جہاں سے شروع ہواتھا وہاں سے لیکر جہاں پہنچا ھے اور جدھر سے ہوتا ہوا گزرا ھے پوری قوم کے پاس چپے چپے کی فوٹیج ھے- اتنی وسیع کیمرہ شوٹنگ ھے کہ اسے اکٹھا کرنے کے لئے مہینوں درکار ہیں- کیا اس ھیوی ڈیوٹی سوشل میڈیا کوریج میں سے کوئی جھوٹ بول کے نکل سکتا ہے-

روس کے صدر اور پاکستان کے وزیراعظم کے درمیان ملاقات_* وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے رشین فیڈریشن کے صدر عزت مآب ولادیمیر پیوتن سے آج بیجنگ، چین میں ملاقات کی۔2024 میں آستانہ میں ہونے والی اپنی ملاقات کو یاد کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے گزشتہ ایک سال کے دوران تعاون کو وسعت دینے اور اس کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا

*_روس کے صدر اور پاکستان کے وزیراعظم کے درمیان ملاقات_* وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے رشین فیڈریشن کے صدر عزت مآب ولادیمیر پیوتن سے آج بیجنگ، چین میں ملاقات کی۔2024 میں آستانہ میں ہونے والی اپنی ملاقات کو یاد کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے گزشتہ ایک سال کے دوران تعاون کو وسعت دینے اور اس کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور گرمجوشی پر مبنی ہیں۔ اس بات کی بنیاد پر کہ پاکستان روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، وزیراعظم نے روس کے ساتھ تجارتی روابط، توانائی، زراعت، سرمایہ کاری، دفاع، مصنوعی ذہانت، تعلیم، ثقافت اور عوام سے عوام کے تبادلے جیسے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے کے لیے پاکستان کی تیاری اور دلچسپی سے آگاہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ مختلف عالمی پلیٹ فارمز پر دونوں ممالک کے نقطہء نظر میں کافی حد تک مماثلت ہے۔ مزید برآں، وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان قائم ادارہ جاتی میکانزم کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجوزہ پاکستان اسٹیل مل (PSM) کراچی کے فلیگ شپ پراجیکٹ اور کنیکٹیوٹی پراجیکٹس میں سرمایہ کاری جیسے ٹھوس اقدامات آنے والی نسلوں کے لیے پاکستان روس دوستی کی علامت ہوں گے۔دوطرفہ تعلقات کے بارے میں پاکستان کے وزیر اعظم کے جائزے سے اتفاق کرتے ہوئے، صدر ولادیمیر پیوتن نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بلندی کی رفتار کا ذکر کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم جیسی تنظیموں میں تعاون کا فروغ علاقائی اور عالمی سلامتی اور استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے روس کے پاکستان کے ساتھ مختلف موضوعات پر دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے جنوبی ایشیاء کی صورتحال، افغانستان، مشرق وسطیٰ اور یوکرین کے تنازع پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کثیرالجہتی فورمز پر جاری تعاون کے ساتھ ساتھ فلسطین اور کشمیر جیسے دیرینہ مسائل اور عالمی دلچسپی کے تنازعات پر بھی تبادلہء خیال کیا۔ملاقات کے دوران روسی صدر نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو روس کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی۔___