All posts by admin
مودی سرکار کا اقتدار خطرے میں پریانکا راھول گرفتار۔۔کسی وقت بھی مودی کی حکومت ختم ہو سکتی ہے۔۔بھارتی صوبہ پنجاب کے وزیر اعلی نے بھی وزیر اعظم مودی سے استعفی طلب کر لیا*اسلام آباد ۔۔۔ بانی پی ٹی آئی کے گھروں کو نیلامی نہیں ہو رہی ،، افواہیں بے بیناد ہے،۔سرکاری چینل کا نمائندہ اسرائیل میں مقرر۔۔چین نے 11 جے ایف تھینڈر پاکستان کے حوالے کر دئیے۔۔ ۔50 لاکھ ارب روپے کی کرپشن پر ملک ریاض کی گرفتاری کے ریڈ وارنٹ جاری۔۔ملک ریاض اسکے72 سے زائد ساتھیوں کو گرفتار کرنے کا فیصلہ۔۔عرب امارات کی اھم شخصیت کو بتا دیا گیا حالات کشیدہ کرنے والہ ملک ریاض کی گرفتاری اسلام آباد ای پی ای نیوز ایجنسی رپورٹ کے مطابق 22 بیورو کریٹ کا نام ای سی ایل میں شامل۔۔، امریکا نے بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر دیا۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

نون لیگ کی جان، حکومت کا مان اور سابق وزیراعلی پنجاب محسن نقوی نے اسلام آباد کے چار ہوٹلوں میں شراب فروخت کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقویمییرٹ ہوٹلسریناموو اینڈ پکبیسٹ ویسٹرن

جنگ میں توپخانہ مرکزی اور فیصلہ کردار ادا کرتا ہے -جب جنگ میں توپخانے کا استعمال شروع ہو جائے تک تو اس کا مطلب ھے “گل ودگئی اے”- اور جب جنگ لڑاکا طیاروں تک پہنچ جائے تو سمجھ جائیں “گل ہتھوں نکل گئی اے “- جس طرح رافیل ہوا میں اڑا کر بھارت نے گل اپنے ہاتھ سے ایسی نکلالی کہ واپس آنے کی نہیں-اب مجبوراً بھارت نے اپنے ایئر چیف کو انفارمیشین کے میدان میں” انّے واہ” اتار دیا ھے-بھارت فضا میں اور زمین پر ھزیمت اٹھانے کے بعد اب “ورچئل میدان” میںں قسمت آزما رھا ہے- بھارت کے قابو نہ امریکی مارکیٹ کا ریٹ آ رھا ہے، نہ ہی راہول گاندھی اور نہ ہی تباہ ہونے والی رافیل سمیت جنگی جہازوں کی شکست فاش کی ہزیمت- پی ایم اے میں پاسنگ آؤٹ سے ایک ھفتہ پہلے یونٹ کی allocation بہت دلچسپ مرحلہ ہوتا ہے- کیونکہ باقی نوکری اس یونٹ میں گزارنی ہوتی ہے تومستقبل کی نوید سننے کے لئے ہال میں سب کیڈٹ براجمان ہوتے ہیں- یونٹیں الاٹ کرنے والا افیسر ایم ایس برانچ، جی ایچ کیو سے جاتا ہے-

افسر جی سی نمبر پکارتا ہے ، کیڈٹ کھڑا ہو جاتا ہے، افسر ،یونٹ اور یونٹ کی جگہ بتاتا ھے اور کیڈٹ نڈھال سا ہو کر یا خوشی کے آنسو لئے کرسی پر گر سا جاتا ہے-مجھے الاسد بٹالین ( ۳۰ آزاد کشمیر رجمنٹ) الاٹ ھوئی اور ساتھ ہی افسر نے بولا BDA- انفنٹری یونٹ ملنے پر بے حد خوشی ہوئی، لیکن BDA نے کنفیوژ کر دیا- میں خوشی اور حیرانی کی ملی جلی کیفیت کے ساتھ بیٹھ گیا اور دائیں بائیں دیکھا کہ شاید ان کو معلوم ھو لیکن ساتھ بیٹھے دونوں پلاٹون میٹ توپخانے کی الاٹمنٹ سے گھائل ھو چکے تھے اور کچھ بھی بولنے کی پوزیشن میں نہیں تھے- یونٹیں ملتی جا رھی تھیں ، خوشی اور غم ساتھ ساتھ پھلجڑیاں بکھیر رھے تھے- لیکن میرے دماغ میں بی ڈی اے گھوم رھا تھا-یونٹوں کی الاٹمنٹ شادی کے کھانے کی طرح ہے- مٹھے اور لونے چاولوں کی دیگ کے ساتھ پالک پنیر بھی ہوتی ہے- آرمڈ کور کو مٹھے چول کہنے میں کوئی حرج نہیں- کیونکہ سب سے زیادہ آرمڈ کور والوں کے چہرے ہی چمک رھے ہوتے ہیں- انجنئرز اور انفنٹری والے بھی خوش ہوتے ہیں ، لگتا ہے مٹھے اور لونے چولوں کی دونوں دیگیں کھا کے نکلے ہیں- ٹیکنیکل اور سروسز مٹھے، لونے چولوں کی دیگ اور ربڑی سمجھ لیں؛ خوش باش – کچھ کو پالک پنیر بھی کھانی پڑتی ھے-جب یونٹ الاٹمنٹ کی عظیم تقریب اختتام پزیر ھوئی تو ہم نے BDA کی کھوج شروع کر دی- ہمیں تلاش کرنا تھا کہ یہ پر اسراریت کیوں؟

کہیں ہماری قابلیت کی وجہ سے تو ہماری تعینیاتی کی جگہ کو خفیہ نہیں رکھا جا رہا کہ مبادا دشمن کو علم ہوجائے کہ ہمیں کس سٹریٹجک صورتحال میں استعمال کیا جائے گا-تھوڑا فخر سا محسوس ہوا اور حیرانی بھی کہ ہم میں کون سی ایسی قابلیت ھے کہ ہمیں بھی نہیں بتایا جا رھا کہ ہمیں کہاں بھیجا جا رھا ہے- ہماری طرح کے کچھ اور بھی سٹریٹجک اثاثے بوکھلائے ہوئے BDA کو ڈھونڈتے پھر رھے تھے-کوئی دو تین گھنٹے کی تگ و دو کے بعد یہ تو اندازہ ہو گیا تھا کہ BDA کوئی خیر کی خبر نہیں- ہمیں شاید دشمن کے دو بدو جنگ کے لئے چنا گیا تھا-یا اللہ یونٹ کا اسٹیشن کیوں نہہں بتایا کا رھا؟ یہ BDA کا کیا ماجرا ہے-بالاخر، ایک سرا ہاتھ آیا-گھومتے پھرتے ، ایک پلاٹون کمانڈر نے کوڈ توڑا کہ یہ Border Defence Area کو کہتے – آدھے کوڈ سے ہیجان اور بڑھ گیا-

بارڈر ڈیفینس ایریا میں کہاں؟ لیکن یہ کلئر ہو گیا کہ ویزا سیدھا لائن آف کنٹرول کا ہے آگے کس ایئر پورٹ پر لینڈ کرنا ھے وہ پتا چل ہی جائے گا- خدا خدا کر کے دو تین دن کی تگ و دو کے بعد عقدہ کھلا کہ ہم نے چھمب جوڑیاں سیکٹر میں جانا ہے-جیسے love میرج اور arranged میرج میں شادی کے کچھ ماہ بعد فرق ختم ھو جاتا ہے اسی طرح کیڈٹ کو کونسی arm یا یونٹ ملی ھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا- جن میں دم ہوتا ہے وہ اوپر نکل جاتے ہیں -توپخانے کا ذکر آیا تو بتاتا چلوں ہمارے کورس میں چار میجر جنرل اور ان میں سے پھر دو تھری سٹار توپخانے کے ہیں-پی ایم اے میں پاسنگ آؤٹ کے لئے دو پچیں تیار کرتے ہیں- ایک فاسٹ، جسے ڈرل سکئیر کہتے ہیں اور دوسری خراب موسم کے لئے بٹالین میس کے اندر- ہم بٹالین میس میں پاس آؤٹ ہوئےپاس آؤٹ ھو کر گھر پہنچ گئے- آگے بی ڈی اے تک کیسے پہنچے وہ پھر کبھی سہی –

سپاہی کو بچانا ہے ! ۔۔۔۔۔۔۔عبدالغفور چودھری کی سوانح ،، سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک ،، ۔۔۔۔۔۔۔مبصر !! جبار مرزا ۔۔۔۔۔۔عبدالغفور چودھری کا تعلق اولیائے اللہ کی سرزمین قصور سے ہے مولانا محمد شفیع نے اپنی کتاب ، اولیائے قصور، میں تین سو سے زائد ولیوں کا احوال لکھا ہے ، وہ ولائت اور روحانی کشف جناب عبدالغفور چودھری کی شخصیت میں بدرجہ اتم موجود ہے ،سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک بڑے خاصے کا مرقع ہے ، عزم و ہمت کی داستاں ہے ، زندگی کے آخری سانس تک جینے کی تحریک ہے ، اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے بعض تبصرہ نگاروں نے لکھا کہ ، ایک معمولی پاکستانی کیسے کامیاب ہوا ، ان احباب کے لئے عرض ہے کہ پاکستانی ہونا ہی اعزاز ہے ، اور پھر سپاہی ہونا اس سے بھی بڑا اعزاز ہے ، ڈپٹی کمشںنر بن جانا اسی سپاہیانہ زندگی کا ارتقائی عمل ہے ، ہر ذمہ دار شخص بنیادی طور سے سپاہی ہے ، یعنی بہادر ہے ،عسکری ہے ، لشکری بھی اور جنگجو بھی ، جنگجو محض وہ نہیں ہوتا جو اچھی تلوار چلا لے ، جہالت کے خلاف نکلنا بھی جنگ ہے ،خلقت خدا کی نگہبانی بھی جہاد ہے ،،، سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک ،، میں عبدالغفور چودھری کئی محاذوں پر سینہ سپر دکھائی دیتے ہیں ،




وہ کہیں شہید یا غازی کے ارادے سے گھر سے نکلتے ہیں اور سپاہی کے مورچے میں اتر جاتے ہیں ، اور کبھی ٹوبہ ٹیک سنگھ ، میں ڈومیسائل برانچ کو ہفتے عشرے کے دلدر کو ،کم کر کے رشوت خوری کے ،، کھلے کٹے ،، کو ،، ون ونڈو اپریشن ،، کے رسے سے، باندھ دیتے ہیں ، سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک ، ایک سچے کھرے مجاہد کی داستان حیات ہے ، جو زندگی کے کئی محاذوں پر کھڑا دکھائی دیتا ہے ، عبدالغفور چودھری نے قائد اعظم رح کا فرمان ،، کام کام اور صرف کام ،، پر عمل کر کے دکھا دیا ہے ، وہ اگر ایک طرف پیشہ وارانہ ذمہ داریوں سے نبرد آزما رہے تو دوسری طرف علم کے چراغ کی لو کو بڑھانے میں لگے رہے ، انہوں نے زندگی کو برتا ہے ، وقت کی اہمیت کو پہچانا ، زندگی دیکھ کے بھی چلے اور اسے چل کے بھی دیکھا ہے ، جناب عبدالغفور چودھری نے جس جس پہلو پر جس جس چیز کی ضرورت محسوس کی اس اس چیز کو پورا کیا ، وہ شاہراہ زندگی پر بڑھتے بھی رہے اور پڑھتے بھی رہے ، وہ اگر ایک بہترین ضلعی منتظم ہوئے تو ایک اچھے ماہر تعلیم بھی کہلائے ، انہوں نے پڑھا بھی اور پڑھایا بھی ، اسلامیات ، سیاسیات ، اور انگریزی ، ادب میں ماسٹر کرنے کے ساتھ ساتھ ایل ایل بی ، کی ڈگری بھیحاصل کی

، عبدالغفور چودھری کی عظمت کو سلام ، کہ انہوں نے ،، سی ایس ایس ،، اور ،، پی سی ایس ،، کی چوٹی پر کمند ڈالی اور اگر ایک آدھ بار وہ کوشش خطا بھی چلی گئی تو حوصلہ نہ چھوڑا ، دوبارہ کمند کھینچی اور وہ بلندی سر کر لی ، سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک اعداد و شمار کے اعتبار سے ایک قابل بھروسہ تاریخ ہے ، اس میں 1971 ء کے حوالے سے پاکستان کے لڑاکا فوجی ، قیدی بچے ، بڑے ، بوڑھے اور خواتین قیدیوں کی تعداد کو ٹھیک ٹھیک لکھا گیا ہے ، البتہ جناب عبدالغفور چودھری نے ،،

عظیم ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب سے ہمارا تعلق بھی ہے ،، کے عنوان سے اپنے ہم جماعت سائنسدان محمد رمضان کا ذکر کرتے ہوئے ، وہ پاکستان کے الگ الگ دو اداروں ، پاکستان اٹامک انرجی کمشن اور کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری کو یکجا کر گئے ، ،، سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک ،، بہت عمیق نظر سے پڑھے جانے والی ،، خود نوشت ،، ہے اس میں ایک ایک لمحے اور کسی بھی محفل میں موجود ہر شخص کا کہا گیا ایک ایک جملہ محفوظ کیا گیا ہے ، یہ بہت ہی حساس مرقع ہے ، اسے ہم جذبوں کا انسائکلوپیڈیا بھی کہہ سکتے ہیں ، جناب عبدالغفور چودھری نے ایک ایک سانس اور منظر قلم بند کیا ہے ، وہ جب فوج میں سپاہی بھرتی ہو کے تین دن کی چھٹی پر گھر آتے ہیں تو ، جس جس سواری سے آئے ، جہاں سے گزرے ، جس بوٹے تلے کھڑے ہوئے، جس کسی نے انہیں راستے میں دیکھا سارا احوال لکھا لیکن جب وہ گھر پہنچے تو گھر کے سارے افراد سوئے پڑے تھے، ہمارا خیال تھا اب چودھری صاحب یہاں خراٹے ڈالیں گے ، لیکن نہیں انہوں نے وہاں دیہاتی رہتل کی بات کر تے ہوئے لکھا کہ دیہاتوں میں عشاء کے بعد سو جاتے ہیں اور صبح صادق میں جاگ جاتے ہیں ، یہ عین فطرت ہے ! ،، سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک ،، عبدالغفور چودھری کوئی پہلا سپاہی نہیں ہے جو ڈپٹی کمشنر ہوئے ، بلکہ افواج پاکستان کا دوسرے نمبر بننے والا کمانڈر انچیف جنرل موسی خان بھی فوج میں سپاہی بھرتی ہوئے تھے ، 1991ء کے ابتدائی دنوں کی بات ہے ان دنوں ہماری ایک کتاب ،، ضیاء دور فضل حق کی نظر میں ،، کا بہت چرچا تھا اس میں ہم نے سانحہ بہاولپور ، عارف الحسینی ،قتل ، 1965 ء کی جنگ ستمبر کےاحوال رقم کئے تھے ، وہ کتاب جنرل فضل حق نے ، جنرل موسی کو بھی بھیجی تھی ، ایک دن اچانک ائیر پورٹ پر ہمارا جنرل موسی سے سامنا ہو گیا ، ہم نے اپنا تعارف کرایا تو انہیں ہماری کتاب جو انہوں نے تازہ تازہ پڑھی تھی ، وہ یاد آگئی بڑی اپنائیت گرم جوشی اور درویشی انداز میں ملے ، ایسے میں ہم نے موقع غنیمت جان کر جنرل موسی سے کہا کہ جناب ، آپ فوج میں سپاہی بھرتی ہوئے اور فور سٹار جرنیل تک پہنچے ، پھر متحدہ پاکستان میں مغربی پاکستان کے گورنر رہے اور آجکل آپ بلوچستان کے گورنر ہیں ، پلٹ کے دیکھیں تو اس سارے سفر کا کون سا لمحہ زیادہ اچھا لگتا ہے ؟؟




اس پر جنرل موسی نے کہا کہ ،، مجھے 1926 ء کا وہ دن نہیں بھولتا جب میں فوج میں سپاہی بھرتی ہوا تھا ، پھر انہوں نے ہماری کتاب ضیاء دور ، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ، پتہ ہے میں نے 1965 ء کی جنگ کے آثار پیدا کرنے کی ذوالفقار علی بھٹو کی کوشش کی مخالفت کیوں کی تھی ، میں بطور کمانڈر اپنے سپاہی کو بچا رہا تھا ،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جبار مرزا 10 اگست 2025

چائنہ نے پاکستان کو ابتدائی طور پر گیارہ جے 35 ففتھ جنریشن طیارے ڈلیور کر دیے۔ پاکستان ففتھ جنریشن طیارے رکھنے والا دنیا کا پانچواں ملک بن گیا۔ ستمبر اکتوبر میں PL-17 میزائلز بھی پاکستان کو مل جائیں گے۔ ان میزائلز کی رینج چار سو کلومیٹر تک ہے۔ چائنہ یہ میزائلز اپنے لیے طیار کرتا ہے اور جن دوست ممالک کو دیتا ہے اس کی رینج لمٹ ہوتی ہے لیکن پاکستان کو وہی فل رینج میزائلز دے رہا ہے جو خود اپنے لیے بنا رہا ہے۔




ففتھ جنریشن طیارے جے 35 پر ماؤنٹ PL-17 میزائلز سے پاک فضائیہ کے پاس دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی سے مزین قوت ہو گی۔ پاکستان اس وقت عالمی منظرنامے کا اہم ڈپلومیٹک کھلاڑی بنا ہوا ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ امریکا بھی خوش ہے۔ چین بھی دوست۔ ایران بھی واپس ٹریک پر آ رہا ہے۔ افغانستان سے معاملات درست سمت میں بڑھ رہے ہیں۔ روس سے بھی سفارتی تعلقات بہترین چل رہے ہیں۔ اور بھری دنیا میں بھارت کو کارنر کیا جا رہا ہے۔ تو یہ ہے اگست کا تحفہ۔ پاکستان پائندہ باد۔ ❤️صفدر حسین بھٹیکوارڈئنیٹر سوشل میڈیا ٹیم پاکستان مسلم لیگ ن چنیوٹ
پاور ڈویژن میں اربوں ڈالر کی کرپشن اویس لغاری خاندان اور پاور ڈویژن کا ارب پتی جعلی جائینٹ سیکرٹری ملوث سہیل رانا لائیو میں
قومی اسمبلی کا ھنگامہ خیز اجلاس تحریک انصاف مکمل طور اوٹ اسد قیصر اور چئیرمین بریسٹر میر جعفر کے روپ میں۔مساجد مولانا فضل الرھمان کی رضا مندی سے شھید کی انتظامیہ اور مولانا فضل الرحمن کی ویڈیو جاری صرف بادبان ٹی وی پر۔۔9 مئی مقدمات : یاسمین راشد کو 10 سال جبکہ عالیہ حمزہ اور صنم جاوید کو 5،5 سال قید کی سزا۔۔۔۔۔نسل در نسل غداری اسلام آباد۔۔۔وزیر توانائی اویس لغاری نے 300 یونٹ تک لائف لائن صارفین کی حد بڑھانے کی تجویز مسترد کر دی۔۔ غزہ فلسطینی عوام کی ملکیت ہے اسرائیل قبضے سے باز رہے، چین۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر





گلگت میں لینڈ سلائیڈنگ ، 8 رضاکار ملبے تلے دب کر جاں بحق۔۔کھیل فائنل راونڈ میں داخل مافیا پہلے غلط خوراک کھلاتا ہے۔ جب بیمار ہوجائیں تو پھر ساری زندگی دوائیاں بیچتا ہے۔۔۔ ۔۔ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چودھری، میاں محمود الرشید، عمر سرفراز چیمہ کو مزید 2 کیسز میں دس دس سال قید کی سزا ہوگئی ہے۔ 9 مئی کے مزید 2 کیسز کا فیصلہ آگیا ہے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر
آج سے 50 یا 60 سال پہلے یہ ٹرنک دوکانوں پر لگانے کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ پیپسی کوک یہ دکانداروں کو فری میں دیتے تھے۔ اس میں برف ڈالی جاتی تھی
آج سے 50 یا 60 سال پہلے یہ ٹرنک دوکانوں پر لگانے کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ پیپسی کوک یہ دکانداروں کو فری میں دیتے تھے۔ اس میں برف ڈالی جاتی تھی۔ اور کوک پیپسی ایک عیاشی تھی اور status کا نشان تھا۔ مہمان آتے تھے تو ہم بھاگ کر ٹھنڈی پیپسی لاتے تھے۔پاکستان میں شوگر کی بنیاد بھی 50 سال پہلے ہی رکھی گئی ہے۔ 50 سال پہلے پورے پاکستان میں شوگر کے 10 ہزار مریض بھی نہیں تھے۔ آج ساڑھے 3 کروڑ ہیں۔ اپنی آنے والی نسلوں کو بچا لو۔ مافیا پہلے غلط خوراک کھلاتا ہے۔ جب بیمار ہوجائیں تو پھر ساری زندگی دوائیاں بیچتا ہے۔
گیم فائنل راونڈ میں داخل ہوچکی ہے، ایک طرف مساجد والا معاملہ اور دوسری جانب عمران خان کی جانب سے اچانک شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹرز سے 3 دن کے اندر اندر ابتدائی طور پر مکمل طبی معائنہ کرانے اور اُسکے بعد ماہانہ بنیادوں پر معائنہ اور ضروری ٹیسٹ کرانے کا حکم دینے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کروانا یقینا کسی بڑے حادثے کا شاخسانہ ہوسکتا ہے۔ عمران خان کی جانب سے وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے درخواست دائر کردی ہے۔
ایرانی خاتون کا 22 سال میں 11 شوہروں کو قتل کرنے کا انکشاف۔۔بھارت اب بھی خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے پر بضد ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر۔۔لال مسجد جانے والی سڑکیں بند، پولیس کی بھاری نفری تعینات۔۔۔13 ارب 80 کروڑکی آخری قسط بھی ادا کردی گئی، بروقت ادائیگی نہ ہوتی تویومیہ 50 کروڑروپےسوداداکرنا پڑتا: سیکرٹری خزانہ پنجاب۔۔*پنجاب اسمبلی کے 26 اراکین کی معطلی اور بجالی کا معاملہ، عدالت میں جانے کا امکان، گھر میں بیٹھ کر نواز شریف کی پلیٹلیٹس کی رپورٹ بنائی تھی اسی رپورٹ کی وجہ سے نواز شریف کو لندن بھیجا گیا تھا فیصل واوڈا۔۔ سیال شریف کے صاحبزادہ شمس الحق کے تین نواسوں کو تونسہ شریف میں زہر دیا گیا، تینوں جاں بحق۔13 ارب 80 کروڑکی آخری قسط بھی ادا کردی گئی، بروقت ادائیگی نہ ہوتی۔کروڑروپےسوداداکرنا پڑتا: سیکرٹری خزانہ پنجاب۔۔باجوڑ میں خارجیوں نے جرگہ مشران کو مرتد قرار دے کر مذاکرات ختم۔۔انکار،مذاکرات کی آڑ میں بارودی سرنگیں بچھا کر مورچے بنا لئے،اپریشن ناگزیر !کتے کا خون اور کھوتی کا دودھ۔۔وزیر اعطم کے لیے مشکلات ستمبر ستمگر۔۔حالات کشیدہ صورتحال نازک بڑے حادثے کی گونج۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

چائنا آرمی ڈے – پی ایل اے: عالمی امن کا ضامن، پاکستان اہم اسٹریٹجک حلیف کے طور پرتحریر: طارق خان ترین چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) — جو آج دنیا کی سب سے مضبوط اور قابلِ احترام فوجی قوتوں میں شمار ہوتی ہے — اپنی بنیاد یکم اگست 1927ء کے نانچانگ بغاوت سے لیتی ہے۔ یہ وہ تاریخی لمحہ تھا جب چینی کمیونسٹوں نے اُس وقت کی نیشنلِسٹ حکومت کے خلاف منظم مسلح مزاحمت کا آغاز کیا۔ ان معمولی مگر جرات مندانہ حالات سے جنم لینے والی یہ فوج وقت کے ساتھ ایک انتہائی جدید، منظم اور عالمی سطح پر قابلِ اعتماد محافظ میں تبدیل ہوئی۔ پی ایل اے کی ترقی محض فوجی توسیع کی کہانی نہیں، بلکہ یہ قومی خودمختاری کے تحفظ، وقارِ مملکت کے دفاع اور عالمی استحکام میں کردار ادا کرنے کے عزم کی آئینہ دار ہے۔ قریب ایک صدی پر محیط اپنے سفر میں پی ایل اے نے بے شمار تاریخی مراحل طے کیے ہیں — آزادی کی جنگیں، دفاعی معرکے اور جدید فوجی ٹیکنالوجی کی جانب مسلسل پیش رفت۔

آج یہ نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے بلکہ جدید ہتھیاروں، سائبر صلاحیتوں اور خلائی دفاعی نظام سے لیس ایک مکمل عسکری قوت ہے۔ تاہم، پی ایل اے کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی اسٹریٹجک نظم و ضبط اور سفارتی توازن ہے۔ اس دور میں جب اکثر فوجی طاقت کو جارحانہ پالیسی سے جوڑا جاتا ہے، پی ایل اے کا نظریہ پرامن بقائے باہمی، علاقائی استحکام اور اجتماعی سلامتی پر مرکوز ہے، جو اسے عالمی معاملات میں ایک معتبر فریق بناتا ہے۔ پی ایل اے کی جدید شناخت کا ایک اہم پہلو اس کا اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں سرگرم کردار ہے۔ گزشتہ تیس برسوں میں 50 ہزار سے زائد چینی امن فوجی افریقہ سے مشرقِ وسطیٰ تک مختلف خطوں میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ یہ تجربہ نہ صرف پی ایل اے کی آپریشنل صلاحیت کو بڑھاتا ہے بلکہ چین کو ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے۔

چینی میڈیکل ٹیمیں، انجینئرز اور لاجسٹک یونٹ جنگ، قحط اور قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کام انجام دے چکے ہیں — یہ کردار جنگی مہارت کے ساتھ ساتھ انسانیت دوستی کا بھی ثبوت ہے۔ پاکستان کے لیے پی ایل اے کا عروج محض ایک علامتی پہلو نہیں رکھتا بلکہ یہ ایک وقت کے امتحان سے گزری ہوئی فولادی شراکت داری کا تسلسل ہے۔ پاکستانی مسلح افواج اور پی ایل اے کا تعاون کسی عارضی مفاد کا نتیجہ نہیں، بلکہ دہائیوں پر محیط اسٹریٹجک اعتماد، باہمی احترام اور ہم آہنگ جغرافیائی سیاسی نظریات پر مبنی ہے۔ سرد جنگ کے ابتدائی دور سے لے کر آج کے ہائبرڈ وار فیئر کے چیلنجز تک، دونوں افواج نے ہمیشہ شانہ بشانہ کھڑے ہوکر خطے کے توازن کو یقینی بنایا ہے۔ یہ عسکری تعاون کئی جہتوں پر محیط ہے — مشترکہ فوجی مشقیں، ٹیکنالوجی کا تبادلہ، اور انٹیلی جنس شیئرنگ جو دہشت گردی، سائبر جنگ اور سمندری قزاقی جیسے خطرات کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ جدید پلیٹ فارمز میں پی ایل اے کا تجربہ اور پاکستان کا جنگی تجربہ ایک دوسرے کے لیے طاقت کو بڑھانے والا عنصر بن چکا ہے۔

یہ تعلق محض لین دین نہیں بلکہ خطے کے تزویراتی توازن کو نئے انداز سے تشکیل دینے والا ہے۔ اس شراکت داری کی ایک جاندار مثال پاک-بھارت تنازعہ 2025ء میں سامنے آئی، جب مشترکہ طور پر تیار کردہ جے ایف-17 تھنڈر اور چینی جے-10 سی لڑاکا طیاروں نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔ ان کی درست نشانہ بازی، الیکٹرانک وار فیئر سے بچاؤ کی صلاحیت اور جدید ایویونکس نظام عالمی میڈیا میں سرفہرست رہے۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ جب پی ایل اے اور پاک فوج ایک ساتھ کام کرتی ہیں تو نتائج میدانِ جنگ سے کہیں آگے اثر ڈال سکتے ہیں۔ سمندری شعبے میں بھی کہانی اتنی ہی متاثر کن ہے۔ پی این ایس طغرل، جو چین کے جدید ٹائپ 054 اے فریگیٹ پر مبنی ہے، صرف ایک جنگی جہاز نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے اسٹریٹجک اعتماد کی علامت ہے۔ جدید ریڈار، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل نظام اور آبدوز شکن صلاحیت سے لیس یہ جہاز پاکستان نیوی کی صلاحیت کو نئی بلندیوں تک لے گیا ہے۔ پی ایل اے نیوی کے لیے یہ صرف ایک دفاعی سودا نہیں، بلکہ بحیرہ ہند میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے سمندری راستوں کو محفوظ بنانے میں مشترکہ سرمایہ کاری ہے۔ پاکستان کے لیے پی ایل اے کی اہمیت صرف ہتھیاروں تک محدود نہیں، بلکہ اس کے عملی فلسفے اور اسٹریٹجک بصیرت تک پھیلی ہوئی ہے۔ چینی فوج کا جامع سکیورٹی کا نظریہ — جس میں معیشت، ماحولیات اور انسانی سلامتی شامل ہیں — پاکستان کے اس اعتراف سے مطابقت رکھتا ہے کہ اب سلامتی کا مطلب صرف فوجی دفاع نہیں رہا۔ مشترکہ مشقوں میں اکثر قدرتی آفات سے نمٹنے، وباؤں کے دوران امدادی کارروائیوں اور دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کی تربیت شامل ہوتی ہے۔ چائنا آرمی ڈے محض پریڈز اور سلامیوں کا دن نہیں، بلکہ یہ اس بات پر غور کرنے کا موقع ہے کہ پی ایل اے کس طرح ایک عالمی استحکام کے ستون میں تبدیل ہو چکی ہے۔ صومالیہ کے ساحل پر قزاقوں کے خلاف کارروائیوں سے لے کر کووِڈ-19 وبا کے دوران طبی امداد کی فراہمی تک، پی ایل اے نے سخت طاقت اور انسانی ہمدردی کا حسین امتزاج پیش کیا ہے۔ یہی دوہرا کردار — سپاہی اور معالج — اسے بیجنگ سے لے کر اسلام آباد تک قابلِ احترام بناتا ہے۔ آج کے عالمی منظرنامے میں، جہاں جغرافیائی سیاست کی خلیجیں بڑھ رہی ہیں اور روایتی اتحاد بدل رہے ہیں، پی ایل اے اور پاکستان کا تعلق ایک نایاب استحکام کی علامت ہے۔ دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ امن صرف جنگ کی غیر موجودگی کا نام نہیں بلکہ انصاف، خوشحالی اور تزویراتی توازن کا قیام ہے۔

اسی لیے دونوں کی توجہ سی پیک کے ذریعے بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی تربیت جیسے منصوبوں پر بھی مرکوز ہے۔ پاکستانی عسکری قیادت نے ہمیشہ پی ایل اے کے کردار کو سراہا ہے، جس نے چین کو عالمی امن، استحکام اور خوشحالی کا ستون بنا دیا ہے۔ یہ تعریف محض الفاظ نہیں بلکہ مشترکہ مشنز، آزمودہ حکمتِ عملیوں اور بارہا آزمائے گئے اتحاد کا نتیجہ ہے۔ وسطی ایشیا کی سنگلاخ وادیوں میں مشترکہ انسدادِ دہشت گردی آپریشنز سے لے کر بحیرہ عرب میں مشترکہ گشت تک، نتائج واضح ہیں: کم خطرات، زیادہ استحکام اور غیر مستحکم قوتوں کے خلاف مضبوط رکاوٹ۔ جب چین اپنا آرمی ڈے مناتا ہے، تو پی ایل اے کی کہانی اس کے اتحادیوں کی کہانی سے جدا نہیں — اور ان میں سب سے مضبوط اتحادی پاکستان ہے۔ یہ صرف دفاعی تعلق نہیں بلکہ ایک پائیدار عہد ہے، جو دہائیوں کی قربانیوں، تکنیکی ترقی اور ایک ایسے مستقبل کے خواب سے جڑا ہے جہاں امن کو قائم بھی رکھا جائے اور اس کا تحفظ بھی کیا جائے۔ عالمی سیاست کے شطرنج پر جہاں اتحاد عارضی اور وفاداریاں مشروط ہوتی ہیں، پی ایل اے اور پاکستان کا رشتہ ایک قابلِ بھروسہ اسٹریٹجک ستون ہے۔ پی ایل اے کو سلام پیش کرتے ہوئے، پاکستان نہ صرف ایک فوج بلکہ ایک ایسے وژن کو سلام کرتا ہے جو محفوظ، متوازن اور ہم آہنگ عالمی نظام کی ضمانت ہے — ایک وژن جسے دونوں قومیں مل کر حقیقت بنانے کا عزم رکھتی ہیں۔
*🔴ایرانی خاتون کا 22 سال میں 11 شوہروں کو قتل کرنے کا انکشاف، وجہ کیا بنی؟*ایران میں ایک خاتون کی جانب سے 22 سال کے عرصے کے دوران اپنے 11 شوہروں کو زہر دے کر قتل کرنے کی سنسنی خیز خبر سامنے آئی ہے۔ایرانی ویب سائٹ کے مطابق رواں ہفتے ایران کے سب سے بڑے سیریل قتل کیس کی سماعت ہوئی جس دوران کلثوم اکبری نامی ملزمہ کو 11 شوہروں کو ان کی جائیداد اور پیسہ ہتھیانے کیلئے قتل کرنے کے الزام میں عدالت میں پیش کیا گیا۔دوران سماعت استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ ’کلثوم اکبری پر 2000 سے 2022 کے عرصے دوران ذیابیطس سمیت دیگر دوائیوں اور منشیات میں اپنے شوہروں کو زہر دینے کا الزام ہے‘۔ رپورٹ کے مطابق کلثوم اکبری کے خلاف 2023 میں ان کے شوہر عزیز اللہ بابائی کی موت کے بعد مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں پہلے عزیزاللہ کے بیٹے کو مشکوک ٹھہرایا گیا تھا۔عزیز اللہ کے ایک خاندانی دوست نے انکشاف کیا کہ کلثوم نے عزیزاللہ کو قتل کرنے کی کوشش کی، بیٹے سے تفتیش کے دوران ہی کلثوم کی گرفتاری سامنے آئی جس کے بعد دوران تفتیش کلثوم نے 11 شوہروں کو قتل کرنے کا اعتراف بھی کیا۔خاتون نے اعتراف کیا کہ وہ بوڑھے مردوں سے شادی کرنے کے بعد انھیں آہستہ آہستہ منشیات کے ذریعے زہر دے کر قتل کر دیتی تھی۔استغاثہ کے مطابق چونکہ کلثوم کے شوہربوڑھے اور بیمار تھے لہٰذا ان کی موت کو طبعی قرار دے کر نظر انداز کیا گیا، یہی وجہ تھی کہ کلثوم کے ہولناک جرائم کا سلسلہ دو دہائیوں سے بھی زائد عرصے تک جاری رہا۔دوران سماعت متاثرین کے اہل خانہ نے عدالت سے کلثوم اکبری کو پھانسی دینے کا مطالبہ بھی کیا تاہم عدالت کی جانب سے ملزمہ کی ذہنی حالت اور مکمل سماعت تک فیصلہ محفوظ رکھا گیا ہے۔

*دورہ امریکہ کے دوران آرمی چیف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستانی کمیونٹی سے خطاب*امریکہ میں مقیم پاکستانیوں سے خطاب میرے لیے اعزاز کی بات ہے ، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*بیرون ملک مقیم پاکستانی عزت و وقار کا سرچشمہ اور دیگر پاکستانیوں کی طرح پرجوش ہیں، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر* بیرون ملک پاکستانی “برین ڈرین نہیں بلکہ برین گین” ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*بھارت اپنے آپ کو “وشوا گرو” کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے، لیکن عملی طور پر ایسا کچھ بھی نہیں، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*بھارت کی خفیہ ایجنسی RAW کی ٹرانس نیشنل دہشتگرد سرگرمیوں میں شمولیت عالمی سطح پر شدید تشویش کا باعث ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر* اس کی مثالیں کینیڈا میں سکھ رہنما کا قتل، قطر میں آٹھ بھارتی نیول افسران کا معاملہ، اور کلبھوشن یادیو جیسے واقعات ہیں، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*پاکستان نے بھارت کی امتیازی اور دوغلی پالیسیوں کے خلاف کامیاب سفارتی جنگ لڑی ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*حالیہ بھارتی جارحیت جو شرمناک بہانوں کے ساتھ کی گئی، نے پاکستان کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی کی اور معصوم شہریوں کو شہید کیا، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*اس بھارتی جارحیت نے خطے کو ایک خطرناک طور پر بھڑکنے والی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا، جہاں کسی بھی غلطی کی وجہ سے دو طرفہ تصادم بہت بڑی غلطی ہوگی، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*پاکستان پریذیڈنٹ ٹرمپ کا انتہائی مشکور ہے جن کی اسٹریٹجک لیڈشپ کی بدولت نا صرف انڈیا پاکستان جنگ رکی بلکہ دنیا میں جاری بہت سی جنگوں کو روکا گیا ہے پاکستان نے اس اشتعال انگیزی کا پُرعزم اور بھرپور جواب دیا،ہم نے وسیع تر تنازعہ کو روکنے میں کامیابی حاصل کی، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*بھارت اب بھی خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے پر بضد ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*پاکستان واضح کرچکا ہے کہ کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، *آرمی چیف*مقبوضہ کشمیر بھارت کا کوئی اندرونی معاملہ نہیں بلکہ ایک نامکمل بین الاقوامی ایجنڈا ہے۔ جیسا کے قائد اعظم نے کہا تھا کشمیر پاکستان کی “شہ رگ” ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*مقبوضہ کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں بھی موجود ہیں، اور پاکستان ان قراردادوں کی مکمل حمایت کرتا ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*محض ڈیڑھ ماہ کے وقفے کے بعد میرا دوسرا دورہ پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے ایک نئی جہت کی علامت ہے،

*فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*ان دوروں کا مقصد تعلقات کو ایک تعمیری، پائیدار اور مثبت راستے پر گامزن کرنا ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*غزہ میں جاری نسل کشی، ایک بدترین انسانی المیہ ہے جس کے عالمی اور علاقائی دونوں سطح پر شدید مضمرات ہیں، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*افغانستان سے کئی دہشگرد تنظیمیں جس میں فتنہ الخوارج شامل ہے، پاکستان کے خلاف متحرک ہیں، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*ہماری ترقی اور خوشحالی دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں سے وابستہ ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر* اس وقت دہشت گردی کے کیخلاف پاکستان آخری فصیل ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*دہشت گردوں کے لیے کوئی ہمدردی نہیں اور انہیں پوری قوت سے انصاف کا سامنا کرنا ہوگا، *آرمی چیف*بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی وطن عزیز کے ساتھ عقیدت اور وابستگی ایک کھلی حقیقت ہے، *آرمی چیف*ناگہانی آفات کی صورت میں بھی بیرون ملک پاکستانی سب سے پہلے امداد کی اپیل پر لبیک کہتے ہیں، *آرمی چیف* سوشل میڈیا کے حوالے سے *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر* کا کہنا تھا کہ;آج کا سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے، لیکن ملک دشمن عناصر اسے “ساختہ افراتفری” پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر* *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر* نے قرآن پاک کی آیات کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ: “اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو تاکہ تم نادانی میں کسی کو نقصان نہ پہنچاؤ اور بعد میں اپنے کیے پر پشیمان نہ ہونئی نسل کی سوچ، تعلقات، اور ترجیحات مختلف ہیں، جسے سمجھنا وقت کی اہم ضرورت ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*امریکہ کے ساتھ ممکنہ تجارتی معاہدے کی بدولت بھاری سرمایہ کاری متوقع ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*بین الاقوامی تعلقات کے محاذ پر بھی پاکستان نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر* امریکہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین کے ساتھ مختلف مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر عمل درآمد جاری ہے، جو معاشی تعاون اور سرمایہ کاری کو فروغ دیں گے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*ہماری 64 فیصد نوجوان آبادی بے پناہ صلاحیتوں سے بھرپور ہے، جو مستقبل کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کرے گی، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر* ہماری بھارت کے خلاف سفارتی اور سیکیورٹی میدان میں حالیہ کامیابی، اللہ تعالیٰ کی رحمت، قوم کی اجتماعی کوشش، سیاسی لیڈرشپ کی دوراندیشی و استقامت اور ہماری بہادر افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کا نتیجہ ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*اب ہمارے سامنے سوال یہ نہیں کہ “اگر” ہم اٹھیں گے بلکہ سوال یہ ہے کہ “کتنی جلدی اور کتنی قوت سے” ہم اٹھیں گے؟، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر* آئیے ہم اپنے آباؤ اجداد کی میراث قائم رکھتے ہوئے ، ایک نئے جذبے اور مقصد کے ساتھ کھڑے ہو کر آگے بڑھیں، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*
بیرون ملک مقیم پاکستانی عزت و وقار کا سرچشمہ اور دیگر پاکستانیوں کی طرح پرجوش ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر۔۔۔بھارت اب بھی خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے پر بضد ہے، بھارت کی خفیہ ایجنسی RAW کی ٹرانس نیشنل دہشتگرد سرگرمیوں میں شمولیت عالمی سطح پر شدید تشویش کا باعث ہے، تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

*دورہ امریکہ کے دوران آرمی چیف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستانی کمیونٹی سے خطاب*امریکہ میں مقیم پاکستانیوں سے خطاب میرے لیے اعزاز کی بات ہے ، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*بیرون ملک مقیم پاکستانی عزت و وقار کا سرچشمہ اور دیگر پاکستانیوں کی طرح پرجوش ہیں، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر* بیرون ملک پاکستانی “برین ڈرین نہیں بلکہ برین گین” ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*بھارت اپنے آپ کو “وشوا گرو” کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے، لیکن عملی طور پر ایسا کچھ بھی نہیں،

*فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*بھارت کی خفیہ ایجنسی RAW کی ٹرانس نیشنل دہشتگرد سرگرمیوں میں شمولیت عالمی سطح پر شدید تشویش کا باعث ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر* اس کی مثالیں کینیڈا میں سکھ رہنما کا قتل، قطر میں آٹھ بھارتی نیول افسران کا معاملہ، اور کلبھوشن یادیو جیسے واقعات ہیں، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*پاکستان نے بھارت کی امتیازی اور دوغلی پالیسیوں کے خلاف کامیاب سفارتی جنگ لڑی ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*حالیہ بھارتی جارحیت جو شرمناک بہانوں کے ساتھ کی گئی، نے پاکستان کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی کی اور معصوم شہریوں کو شہید کیا، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*اس بھارتی جارحیت نے خطے کو ایک خطرناک طور پر بھڑکنے والی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا، جہاں کسی بھی غلطی کی وجہ سے دو طرفہ تصادم بہت بڑی غلطی ہوگی، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*

پاکستان پریذیڈنٹ ٹرمپ کا انتہائی مشکور ہے جن کی اسٹریٹجک لیڈشپ کی بدولت نا صرف انڈیا پاکستان جنگ رکی بلکہ دنیا میں جاری بہت سی جنگوں کو روکا گیا ہے پاکستان نے اس اشتعال انگیزی کا پُرعزم اور بھرپور جواب دیا،ہم نے وسیع تر تنازعہ کو روکنے میں کامیابی حاصل کی، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*بھارت اب بھی خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے پر بضد ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*

پاکستان واضح کرچکا ہے کہ کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، *آرمی چیف*مقبوضہ کشمیر بھارت کا کوئی اندرونی معاملہ نہیں بلکہ ایک نامکمل بین الاقوامی ایجنڈا ہے۔ جیسا کے قائد اعظم نے کہا تھا کشمیر پاکستان کی “شہ رگ” ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*مقبوضہ کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں بھی موجود ہیں، اور پاکستان ان قراردادوں کی مکمل حمایت کرتا ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

*محض ڈیڑھ ماہ کے وقفے کے بعد میرا دوسرا دورہ پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے ایک نئی جہت کی علامت ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*ان دوروں کا مقصد تعلقات کو ایک تعمیری، پائیدار اور مثبت راستے پر گامزن کرنا ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*غزہ میں جاری نسل کشی، ایک بدترین انسانی المیہ ہے جس کے عالمی اور علاقائی دونوں سطح پر شدید مضمرات ہیں، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*افغانستان سے کئی دہشگرد تنظیمیں جس میں فتنہ الخوارج شامل ہے، پاکستان کے خلاف متحرک ہیں، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*ہماری ترقی اور خوشحالی دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں سے وابستہ ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر* اس وقت دہشت گردی کے کیخلاف پاکستان آخری فصیل ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*دہشت گردوں کے لیے کوئی ہمدردی نہیں اور انہیں پوری قوت سے انصاف کا سامنا کرنا ہوگا، *آرمی چیف*بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی وطن عزیز کے ساتھ عقیدت اور وابستگی ایک کھلی حقیقت ہے، *آرمی چیف*ناگہانی آفات کی صورت میں بھی بیرون ملک پاکستانی سب سے پہلے امداد کی اپیل پر لبیک کہتے ہیں، *آرمی چیف* سوشل میڈیا کے حوالے سے *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر* کا کہنا تھا کہ;آج کا سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے، لیکن ملک دشمن عناصر اسے “ساختہ افراتفری” پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

* *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*
نے قرآن پاک کی آیات کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ: “اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو تاکہ تم نادانی میں کسی کو نقصان نہ پہنچاؤ اور بعد میں اپنے کیے پر پشیمان نہ ہونئی نسل کی سوچ، تعلقات، اور ترجیحات مختلف ہیں، جسے سمجھنا وقت کی اہم ضرورت ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*
امریکہ کے ساتھ ممکنہ تجارتی معاہدے کی بدولت بھاری سرمایہ کاری متوقع ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*بین الاقوامی تعلقات کے محاذ پر بھی پاکستان نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*

امریکہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین کے ساتھ مختلف مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر عمل درآمد جاری ہے، جو معاشی تعاون اور سرمایہ کاری کو فروغ دیں گے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*ہماری 64 فیصد نوجوان آبادی بے پناہ صلاحیتوں سے بھرپور ہے، جو مستقبل کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کرے گی، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر* ہماری بھارت کے خلاف سفارتی اور سیکیورٹی میدان میں حالیہ کامیابی، اللہ تعالیٰ کی رحمت، قوم کی اجتماعی کوشش، سیاسی لیڈرشپ کی دوراندیشی و استقامت اور ہماری بہادر افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کا نتیجہ ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*اب ہمارے سامنے سوال یہ نہیں کہ “اگر” ہم اٹھیں گے بلکہ سوال یہ ہے کہ “کتنی جلدی اور کتنی قوت سے” ہم اٹھیں گے؟، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر* آئیے ہم اپنے آباؤ اجداد کی میراث قائم رکھتے ہوئے ، ایک نئے جذبے اور مقصد کے ساتھ کھڑے ہو کر آگے بڑھیں، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*
باجوڑ میں خارجیوں نے جرگہ مشران کو مرتد قرار دے کر مذاکرات ختم کر دئے ،علاقہ چھوڑنے سے انکار،مذاکرات کی آڑ میں بارودی سرنگیں بچھا کر مورچے بنا لئے،اپریشن ناگزیر !13 ارب 80 کروڑکی آخری قسط بھی ادا کردی گئی، بروقت ادائیگی نہ ہوتی تویومیہ 50 کروڑروپےسوداداکرنا پڑتا: سیکرٹری خزانہ پنجاب سیال شریف کے صاحبزادہ شمس الحق کے تین نواسوں کو تونسہ شریف میں زہر دیا گیا، تینوں جاں بحق..ہم نے گھر میں بیٹھ کر نواز شریف کی پلیٹلیٹس کی رپورٹ بنائی تھی اسی رپورٹ کی وجہ سے نواز شریف کو لندن بھیجا گیا تھا فیصل واوڈا..*پنجاب اسمبلی کے 26 اراکین کی معطلی اور بجالی کا معاملہ، عدالت میں جانے کا امکان۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر











