All posts by admin
عدلیہ کے خلاف گھٹیا مھم ذمہ دار کون جسٹس اعجاز دیانت دار جسٹس کے خلاف کون مھم چلا رھا ھے۔ناقابل شکست پاکستان فائنل میں ھاکی ان ایکشن۔عوام 2 وقت کی روٹی سے مجبور یہ لوٹ کھوسٹ میں مصروف تفصیلات کے لیے بادبان نیوز کو ۔ستمبر موجودہ حکومت کے لئے ستمگر ثابت ہو گا۔وزیر اعطم پاکستان کے لیے مشکلات مے اضافہ وفاقی کابینہ کے 90 فیصد وزراء کرپشن میں ملوث۔بلاول بھٹو کی دھشت گردوں کی حوالگی سے متعلق پیش کش۔ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح اور 24 کروڑ عوام کی 2 وقت روٹی نہ ملنے سے چیخیں۔ پاکستان دنیا کا مھنگا ترین ملک کمای روپے اور خرچے ڈالر جیسے۔3 سالوں میں پاکستان میں مھنگای میں 600 فیصد اضافہ۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

بلاول بھٹو زرداری کی دہشت گردوں کی حوالگی سے متعلق پیشکش: غیر سرکاری بیان یا اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی؟حال ہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دو مختلف انٹرویوز میں جن میں ایک الجزیرہ ٹی وی کو اور دوسرا انڈین صحافی کرن تھاپر کو دیت تھے اُن میں ایک حساس اور متنازعہ بات کہی: اگر بھارت دہشت گردوں کے خلاف قابلِ عمل شواہد (actionable intelligence) فراہم کرے تو پاکستان اُن افراد کو انڈیا کے حوالے کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ یہ ہے بلاول بھٹو زرداری کے بیانات کا اردو ترجمہ، جس میں انگریزی اقتباسات (quotes) بھی شامل کیے گئے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا:“As part of a comprehensive dialogue with Pakistan, where terrorism is one of the issues that we discuss, I am sure Pakistan would not be opposed to any of these things.”(ترجمہ: پاکستان کے ساتھ ایک جامع مذاکراتی عمل کے حصے کے طور پر، جہاں دہشت گردی جیسے معاملات زیرِ بحث آتے ہیں، مجھے یقین ہے کہ پاکستان ان میں سے کسی بھی چیز کی مخالفت نہیں کرے گا۔)انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ جن افراد پر تشویش ہے، ان کی حوالگی مکمل طور پر انڈیا کے تعاون پر منحصر ہوگی۔ ان کے الفاظ تھے:“If India is willing to cooperate in that process, I am sure there will be no hurdle in extraditing any individual of concern.”(ترجمہ: اگر انڈیا اس عمل میں تعاون کرنے پر آمادہ ہو، تو مجھے یقین ہے کہ کسی بھی متعلقہ فرد کی حوالگی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔)اسی مؤقف کو بلاول نے کرن تھاپر کے ساتھ انٹرویو میں بھی دہرایا، جہاں انہوں نے نشاندہی کی کہ قانونی اور عدالتی پیچیدگیاں اس لیے پیدا ہو رہی ہیں کیونکہ بھارت کچھ بنیادی قانونی تقاضوں کو پورا کرنے سے گریز کر رہا ہے۔

ان کے الفاظ تھے:“India is refusing to comply with certain basic elements that require that conviction to take place,”۔۔۔۔ “only through India’s cooperation could such extraditions proceed.”(ترجمہ: انڈیا ان چند بنیادی قانونی تقاضوں کو پورا کرنے سے انکار کر رہا ہے جو کسی سزا کے لیے ضروری ہوتے ہیں، اور ایسی حوالگیاں صرف انڈیا کے تعاون سے ہی ممکن ہو سکتی ہیں۔)یہ بیانات بظاہر پاکستان کے امن پسند اور تعاون پر آمادہ ہونے کے اظہار کے طور پر سامنے آئے ہیں، لیکن ان میں کئی سیاسی، قانونی اور سفارتی جہتیں پوشیدہ ہیں جن کا مکمل فہم صرف ایک وسیع تر تناظر میں ممکن ہے۔اگرچہ بلاول اس وقت کسی حکومتی منصب پر فائز نہیں، لیکن ان کا یہ بیان بے ضرر سیاسی گفتگو یا رائے نہیں سمجھا جا سکتا۔

اس میں کئی ممکنہ سٹریٹیجک اور سیاسی جہتیں پوشیدہ ہیں جو پاکستان کی داخلی سیاست، انڈیا کے ساتھ تعلقات، اور عالمی سفارتی میدان میں اُس کی پوزیشن کو متاثر کر سکتی ہیں۔

سب سے پہلا سوال یہی اٹھتا ہے کہ ایک ایسا شخص جو نہ تو وزیر ہے اور نہ ہی حکومت کا نمائندہ ہے، وہ بھارت جیسے حریف ملک کو پاکستانی شہریوں کی حوالگی کی پیشکش آخر کس اختیار کے تحت کرنے کا کہہ سکتا ہے؟ پاکستان اور بھارت کے درمیان باقاعدہ حوالگی (extradition) کا کوئی دو طرفہ معاہدہ موجود نہیں ہے، جیسا کہ پاکستان کی وزارت خارجہ نے دسمبر 2023 میں واضح طور پر کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان “کوئی باقاعدہ حوالگی معاہدہ موجود نہیں” (بحوالہ: The Week, 30 Dec 2023)۔تاہم بین الاقوامی قانون میں ایسے امکانات موجود ہوتے ہیں کہ دو ممالک بغیر معاہدے کے بھی مجرموں کی حوالگی کر سکتے ہیں،

اگر دونوں ممالک کی عدالتیں اس پر متفق ہوں اور سیاسی رضامندی موجود ہو۔ لیکن یہاں سوال قانونی سے زیادہ سیاسی ہے: کیا بلاول کا بیان ایک نجی رائے تھی، یا یہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے دنیا کو دیا گیا ایک نرم سفارتی (soft diplomatic) اشارہ ہے؟اس بیان کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔

سب سے پہلے یہ بین الاقوامی برادری کو دیا گیا ایک پیغام ہو سکتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف تعاون کے لیے تیار ہے، لیکن صرف اُس وقت جب ثبوت قابلِ عمل ہوں۔ اس طرح کی زبان اکثر سفارتی دباؤ کو کم کرنے، “فیٹف” (FATF) جیسے اداروں کے تقاضے پورے کرنے، یا امریکہ اور یورپ کے ساتھ ساکھ بہتر بنانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اس تناظر میں، بلاول کا بیان عالمی پلیٹ فارم پر پاکستان کی “ذمہ دار ریاست” کے طور پر تشہیر کی ایک کوشش معلوم ہوتا ہے۔دوسری جانب یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ حالیہ برسوں میں عالمی دباؤ اور داخلی دباؤ کے تحت کچھ ایسے بیانیے وضع کر رہی ہے جو غیر ریاستی عناصر سے فاصلہ ظاہر کریں۔ اگرچہ یہ فاصلے عملی طور پر واضح نہیں، لیکن بیانیاتی سطح پر ایسے بیانات سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ پاکستان اب ایسے عناصر کو پناہ دینے کا خواہاں نہیں جنہیں عالمی سطح پر دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو کا یہ بیان اگر کسی نادیدہ یا خاموش پالیسی شفٹ کا حصہ ہے تو پھر یہ بیان صرف ذاتی رائے نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے منظور شدہ خطوط پر دیا گیا ایک غیر رسمی اعلامیہ بھی ہو سکتا ہے

۔تیسری جہت یہ ہے کہ بلاول بطور سیاست دان بین الاقوامی ساکھ بنانے کی کوشش کر رہے ہوں۔ وہ خود کو ایک ایسے معتدل اور بین الاقوامی اصولوں سے ہم آہنگ رہنما کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں جو امن، مکالمے، اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتا ہے۔ یہ انداز مغربی دارالحکومتوں میں قابلِ قبول سیاست دانوں کی خصوصیت تصور کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ان کے بیان پر پاکستان میں کوئی بڑا سیاسی یا عدالتی ردعمل سامنے نہیں آیا، مگر اس خاموشی کو خود ایک علامت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ شاید وہ طاقتیں جو میڈیا اور سیاست پر کنٹرول رکھتی ہیں، اس بیان کو نظرانداز کرنے یا درپردہ اس کی تائید کرنے پر رضامند تھیں۔ایک اور پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایسے بیانات کے ذریعے پاکستان انڈیا کی پالیسی کو ٹیسٹ کر رہا ہو: اگر بھارت مثبت ردعمل دے تو پاکستان دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ تعاون کے لیے تیار تھا، اور اگر بھارت اسے پروپیگنڈہ قرار دے کر مسترد کر دے تو پاکستان اس کا فائدہ یہ اٹھا سکتا ہے کہ وہ خود کو امن پسند اور انڈیا کو ہٹ دھرم ثابت کرے۔ بہر ریاست نے سرکاری طور اس بیان پر خاموشی رکھی ہوئی ہے

۔لیکن اس تمام بحث میں ایک بنیادی تضاد بھی موجود ہے: کیا کوئی ریاست بغیر عدالتی عمل کے، محض سیاسی بیان بازی کی بنیاد پر اپنے شہریوں کو ایک حریف ملک کے حوالے کرنے کی بات کہہ سکتی ہے؟ اگر پاکستان کے عدالتی نظام کو عالمی سطح پر معتبر بنانا مقصود ہے تو حوالگی کی بجائے شفاف عدالتی عمل زیادہ قابلِ قبول اور خودمختار راستہ ہوتا یعنی اپنے ہی ملک میں دہشت گردوں پر مقدمہ چلا کر سزا دی جائے، نہ کہ انڈیا کے حوالے کیا جائے۔ بلاول کا بیان اس ضمن میں پاکستانی عدلیہ کی خودمختاری پر ایک علامتی سوالیہ نشان چھوڑتا ہے۔آخر میں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ پاکستان کا عسکری حلقوں کے زیرِ اثر میڈیا، جو عام طور پر انڈیا سے متعلق نرم یا لچکدار بیانات پر سخت ردعمل دیتا ہے، اس معاملے پر تقریباً خاموش رہا۔ نہ تو کسی سرکاری ترجمان نے بلاول کی پیشکش کی تردید کی، نہ ہی کسی عسکری ترجمان نے اسے ملکی پالیسی سے متصادم قرار دیا اور نہ اینکروں اور تجزیہ کاروں نے شور و غوغا مچایا۔ یہ خاموشی دراصل اس شک کو مزید تقویت دیتی ہے کہ بلاول کی یہ بات “آزاد رائے” کے بجائے کسی “منظور شدہ بیانیے” کی ایک جھلک ہو سکتی ہے۔ان سب جہتوں کے علاوہ ایک اور پہلو پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے: وہ یہ کہ اگر انڈیا یا کوئی دوسری بیرونی ملک پاکستان کی جہادی تنظیموں کو “نیو نارمل” بنا کر انھیں قابل قبول مذہبی-سیاسی یا فلاحی تنظیموں کے طور پر بنانے کی کوشش کر رہا ہے جس کی ابتدا پہلے ہی ہو چکی ہے۔ اس کوشش کی اس لیے بھی گنجائش ہے کیونکہ امریکہ نے بھی تو داعش کے سابق رہنما پر عائد پابندیاں اٹھا لی ہیں، تو پاکستان بھی ایسا کرنے کا سوچ سکتا ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا یہ بیان بظاہر ایک سادہ سی امن پسند پیشکش ہے، مگر اس کے اندر کئی تہیں چھپی ہوئی ہیں: عالمی تاثر سازی، داخلی بیانیے کی تطہیر، سیاسی برانڈنگ، سفارتی امتحان، اور عدالتی خودمختاری پر اثرانداز ہونے کی غیر مرئی کوشش۔ ان سب کو نظر انداز کرنا پاکستان کے خارجہ پالیسی کے تجزیے کو ادھورا رکھے گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اس وقت کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اسٹیبلشمنٹ کے ایک نہایت حساس معاملے پر گویا اس کے ترجمان کی حیثیت سے بول رہے ہیں۔تحریر… ثقلین امام
ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین لندن کے* اسپتال میں انتقال کر گئے*
لندن / کراچی – 11 جولائی 2025:
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی اور طویل عرصے تک کراچی کی سیاست پر اثر انداز رہنے والے متنازع رہنما الطاف حسین لندن کے ایک اسپتال میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 71 برس تھی۔

پارٹی ذرائع کے مطابق، الطاف حسین گزشتہ کئی ماہ سے شدید علیل تھے اور ایک سرکاری اسپتال میں زیرِ علاج تھے۔ ان کی موت دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوئی، جبکہ ان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ آخری دنوں میں ذہنی اور جسمانی کمزوری کا شکار تھے۔
الطاف حسین نے 1984 میں ایم کیو ایم کی بنیاد رکھی اور کئی دہائیوں تک کراچی، حیدرآباد اور سندھ کے شہری علاقوں میں اپنی جماعت کا اثرورسوخ قائم رکھا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ان پر تشدد، بھتہ خوری، اور ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر جیسے الزامات بھی عائد کیے گئے۔
2016 میں ان کی متنازع تقریر کے بعد پاکستان میں ان پر پابندی عائد کر دی گئی، اور یوں ایم کیو ایم پاکستان نے ان سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد الطاف حسین نے اپنی سرگرمیاں لندن میں محدود کر دی تھیں، جہاں وہ سیاسی تنہائی اور قانونی مسائل کا سامنا کرتے رہے۔

کراچی میں الطاف حسین کی موت کی خبر پر مختلف ردعمل دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ ان کے حامیوں نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا، جبکہ ناقدین نے ان کے سیاسی دور کو خوف اور جبر کی علامت قرار دیا۔
ان کی آخری رسومات لندن میں ادا کیے جانے کا امکان ہے، تاہم ابھی تک اہلِ خانہ کی جانب سے کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔
MQM #MQMLondon #AltafHussain
27 میجر جنرل پرموٹ۔۔12 کا تعلق انفنٹری 6 کا تعلق میڈیکل کور انجیرنگ ای ایم ای اور آرڈیننس سے ایک ایک سگنل صفر ارٹلری 2 ارمرڈ کورین 2 سھیل رانا لاءیو
عوام 2 وقت کی روٹی سے مجبور یہ لوٹ کھوسٹ میں مصروف تفصیلات کے لیے بادبان نیوز
اسلام آباد:پاکستان پیپلزپارٹی پارٹی کے وفد کی جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی رہائشگاہ آمد اسلام آباد: پیپلزپارٹی پارٹی کے رہنماوں کی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات اسلام آباد: ملاقات میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، سید خورشید احمد شاہ، ظاہر شاہ شریکاسلام آباد: ملاقات میں پارلیمانی لیڈر جےیوآئی خیبر پختون خواہ اسمبلی مولانا لطف الرحمٰن،ملاقات میں اکرم خان درانی،مولانا اسعد محمود، زاہد درانی، اسجد محمود شریکاسلام آباد:ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیالاسلام آباد:ملاقات میں خیبر پختونخوا کے سینیٹ انتخابات کے حوالے سے مشاورت
ادویات کی قیمتوں میں 200 فیصد اضافہ.ادویات کی قیمتوں میں ایک سال میں کئی سو فیصد تک اضافہ…!صرف کسان کی گندم، آلو، پیاز اور ٹماٹر سستے ہیں…کوکنگ آئل، چینی، دالیں، گوشت، شیمپو، صابن، پیٹرول بجلی، گیس سب کچھ مہنگا
عدلیہ کے خلاف گھٹیا مھم ذمہ دار کون جسٹس اعجاز دیانت دار جسٹس کے خلاف کون مھم چلا رھا ھے
“عدلیہ کے خلاف گھٹیا مہم ناقابلِ برداشت!”اسلام آباد ہائی کورٹ میں بلاسفیمی بزنس گینگ کے خلاف جاری مقدمے میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق جیسے دیانت دار جج کو نشانہ بنانا دراصل پورے عدالتی نظام پر حملہ ہے۔ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سوشل میڈیا پر اس گینگ نے گھٹیا، غلیظ اور جھوٹ پر مبنی مہم چلا کر نہ صرف انصاف کے تقاضوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی بلکہ قومی سلامتی سے بھی کھیلنے کی کوشش کی ہے۔قوم کا مطالبہ ہے: اس گینگ کے مشکوک عناصر کے نام فوری طور پر ای سی ایل میں ڈالے جائیں۔ حساس ادارے اس گینگ کی مکمل نگرانی کریں۔ اور سوشل میڈیا پر عدلیہ کے خلاف مہم کا نوٹس لے کر قانونی کارروائی کی جائے۔یہ صرف ایک جج کا معاملہ نہیں، یہ انصاف کے چراغ کو بجھانے کی سازش ہے۔ہمیں خاموش نہیں رہنا، یہ وقت سچ کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے۔
زور دار دھماکہ ، چیف آف اسٹاف شھید۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر
تہران میں زور دار دھماکہ ، چیف آف اسٹاف جنرل عبدالرحیم موسوی شہید
14 وزارتوں میں کھربوں روپے کی کرپشن پر اھم ادارے کی رپورٹ نے ھلچل مچا دی۔لیکچیز بند نہ کرنا اور بوجھ عوام پر ڈال دیا چینی پٹرول اور بجلی چوری جیسی لیکچیز 8 اھم ترین وزراء کھربوں روپے کی کرپشن میں ملوث ہونے کے باوجود دیدہ دلیری سے ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث۔ ۔افغان طالبان اور بھارت کا گٹھ جوڑ بے نقاب۔سینٹ کی نشستوں پر نوٹوں کی بوریوں کے منہ کھل گئے۔فیلڈ مارشل صدر مملکت نھی بن رھے پیکا ایکٹ ان ایکشن۔مولانا فضل الرھمان کی سینٹ اور مخصوص نشستوں کے لئے ن لیگ سے مک مکا۔رانا سناالہ امیر مقام کی فضل الرھمان سے ملاقات مک مکا۔بلوچستان کے علاقے لورالائی میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کی طرف سے 10 پنجابیوں کو شہید کردیا گیا، تعلق ڈیرہ غازی خان سے تھا۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

بزنس گروپ اور ایف آئی اے اہلکاروں کا گٹھ جوڑ۔ اظہر سید معاملہ بہت سادا ہے ۔ریاست کو اعلی سطحی تحقیقات کرنا ہیں۔ایف آئی اے کے بعض اہلکاروں اور بعض کریمنل کا کوئی غیر مقدس گٹھ جوڑ تو نہیں جو توہین مذہب کے قوانین کا فائدہ اٹھا رہا ہے ۔ناموس رسالت کا نام لے کر عام مسلمانوں کو گمراہ کر رہا ہے ۔جب ملزمان کی بڑی تعداد الزام لگاتی ہے انہیں لڑکی کے زریعے ٹریپ کر کے بلاسفیمی میں پھنسایا گیا ہے ۔ریاست کی پریمیئر ایجنسی کے طور پر ایف آئی اے کی زمہ داری تھی ان الزامات کی جامع تحقیقات کرتی

۔ایسا کبھی نہیں کیا گیا ۔کریمنل لوگوں اور بعض اہلکاروں کے غیر مقدس اتحاد کا موقف ہے منظم انداز میں بلاسفیمی کی جا رہی ہے ۔سینکڑوں نوجوان اس کا حصہ ہیں۔پریمئر ایجنسی کے طور پر ایف آئی اے کی زمہ داری تھی وہ توہین آمیز مواد بنانے والے تخلیق کاروں تک پہنچتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا ۔ان نوجوانوں کو توہین کا ملزم بنایا گیا جن کے فون سے توہین آمیز مواد ملا ۔ان کریمنلز کی تحقیقات نہیں کی گئیں جو توہین آمیز مواد ملزمان کو بھیج رہے تھے ۔مدعیان اور ملزمان کے فون ریکارڈز کی ٹریفک کے فرانزک سے اصل ملزمان تک پہنچا جا سکتا تھا لیکن پریئمر ایجنسی کے زمہ داران نے ایسا نہیں کیا

۔ملزمان کا ایک ہی موقف تھا انہیں ایک لڑکی کے زریعے ٹریپ کیا گیا ۔پریمئر ایجنسی کے طور پر ایف آئی اے کی زمہ داری تھی وہ اس لڑکی کی تحقیقات کرتی اور معاملہ کی تہہ تک پہنچتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا

اس لڑکی کو کبھی کسی تفتیش میں شامل ہی نہیں کیا گیا ۔پریئمر ادارے کے طور پر ایف آئی اے کی پہلی زمہ داری تھی تحقیقات کرے تمام بلاسفیمی مقدمات میں گھوم پھر کے ڈھائی تین درجن لوگ ہی مدعی کیوں ہیں ۔پچیس کروڑ لوگوں کے ملک میں صرف ڈھائی تین درجن لوگوں کو ہی ان سوشل میڈیا گروپس تک رسائی کیوں ہے جہاں بلاسفیمی مواد شئیر ہوتا ہے ۔ان ڈھائی تین درجن لوگوں کا کوئی گٹھ جوڑ تو نہیں ؟ لیکن ایف آئی اے نے بطور پریئمر ایجنسی اس معاملہ کی تحقیقات ہی نہیں کیں ۔
عمران خان کے بچے 4 اگست کو باچا خان ائیر پورٹ پر لیڈ کرینگے









