All posts by admin

کسانوں کا بیساکھی کا روایتی تہوار بھی ختم۔ 400 سے زائد عرصہ تک منایا جانے والہ کسانوں کی خوشی کا میلہ گندم کٹای کا مظہر ھوتا تھا

کسانوں کیلئے سب سے بڑی نقد آور فصل ہے جس کی کٹائی سے پہلے پنجاب میں بیساکھی کا روایتی تہوار منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار کسانوں کی ان خوشیوں اور امیدوں کا مظہر ہوتا ہے جو گندم کی فصل سے وابستہ ہوتی ہیں۔ تاہم اس سال کسانوں کیلئے یہ تہوار کسی خوشی کا باعث ثابت نہیں ہوا کیونکہ بیساکھ کا پنجابی مہینہ شروع ہوتے ہی بارشیں شروع ہو گئیں جو تاحال وقفے وقفے سے جاری ہیں۔ اس سے جہاں گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں کمی آئی ہے وہیں فصل کی کٹائی کا عمل بھی متاثر ہوا ہے کیونکہ گندم کی کٹائی سے پہلے اسے سخت دھوپ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بار بار ہونے والی بارشوں کے باعث گندم کی کھڑی فصلیں خراب ہو رہی ہیں۔ دوسری طرف حکومت بھی رواں سال گندم کی خریداری میں وہ دلچسپی نہیں دکھا رہی ہے جو کہ گزشتہ برسوں میں نظر آتی تھی۔

اس وقت جہاں ایک طرف موسمیاتی تبدیلی زراعت کے شعبے کو شدید متاثر کر رہی ہے وہیں دوسری طرف حکومتی پالیسیاں بھی اس شعبے کو سپورٹ کرنے کی بجائے اسے مزید مشکلات کا شکار کر رہی ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال حکومت نے کسانوں کے گھروں اور کھیتوں پر چھاپے مار کر زبردستی سرکاری ریٹ پر گندم ضبط کر لی تھی لیکن اس سال صورتحال یہ ہے کہ گندم کے کاشتکاروں کو حکومت کی طرف سے باردانہ بھی فراہم نہیں کیا جا رہا ۔ ان حالات سے مجبور ہو کر کسانوں نے گندم کی فروخت کیلئے غلہ منڈیوں کا رخ کر لیا ہے لیکن وہاں بھی گندم کی قیمت میں روز بروز کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے مزید افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت کی ان استحصالی پالیسیوں کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والے کسانون کو تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ گرفتار کرکے تذلیل کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ وہ حالات ہیں جن کی وجہ سے کسان سخت مایوسی کا شکار ہیں اور انہیں سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ انہیں کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے اپنی ہی مقرر کردہ امدادی قیمت پر خریداری نہ کرکے گندم کی ریکارڈ پیداوار کو کسانوں کیلئے زحمت بنا دیا ہے۔ علاوہ ازیں گزشتہ چند ماہ کے دوران بڑی مقدار میں بیرون ملک سے درآمد کی گئی اضافی گندم نے بھی اوپن مارکیٹ میں گندم کی مانگ میں کمی کی ہے۔ اس وجہ سے نہ تو حکومت گندم کی خریداری میں سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور نہ ہی آڑھتی یا فلور مالکان کسانوں سے حکومت کی مقرر کردہ امدادی قیمت پر گندم خریدنے کے لئے تیار ہیں۔ واضح رہے کہ رواں سال گندم کی کٹائی شروع ہونے سے پہلے تک حکومت کے پاس چالیس لاکھ ٹن سے زائد گندم کے ذخائر موجود تھے۔ علاوہ ازیں نگران حکومت کے دور میں نجی شعبے کے ذریعے ایک ارب ڈالر مالیت کی 34 لاکھ ٹن اضافی گندم بیرون ملک سے درآمد کی گئی جو کہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 36 فیصد زیادہ ہے۔ اس طرح گندم کی نئی فصل آنے سے قبل ملک میں تقریبا 74 لاکھ ٹن سے زائد گندم موجود تھی جبکہ رواں سال گندم کی پیداوار کا تخمینہ 30 ملین ٹن سے زیادہ ہے۔ اگرچہ گندم کی اس پیداوار کو ایک ریکارڈ قرار دیا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود یہ پیداوار پاکستان کی ضرورت سے کم ہے۔ اس لئے گندم کی خریداری کے حوالے سے حکومتی رویہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

علاوہ ازیں نگران حکومت کی طرف سے گندم کی اچھی پیداوار کے باوجود نجی شعبے کو ایک ارب ڈالر سے زائد کی اضافی گندم درآمد کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ بھی شکوک وشبہات کو جنم دیتا ہے۔ واضح رہے کہ درآمدی گندم آنے سے قبل اوپن مارکیٹ میں گندم کی فی من قیمت چار ہزار روپے سے زیادہ تھی۔ تاہم جب پنجاب کے محکمہ خوراک نے فلور ملز کو گندم کا اجراروک دیا تو اس قیمت میں مزید اضافہ ہو گیا جس کا تمام تر فائدہ بیرون ملک سے سستے داموں گندم درآمد کرنے والوں نے اٹھایا ۔ یہ حالات ان شکوک شبہات کو تقویت دیتے ہیں کہ گندم کی نئی فصل کی آمد سے قبل بیرون ملک سے گندم کی درآمد کے فیصلے کے پیچھے کسی نہ کسی نے ناجائز منافع کمایا ہے۔ ایسے میں موجودہ حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس اسکینڈل کی انکوائری کر کے ذمہ دار عناصر کو عوام کے سامنے بے نقاب کرے اور ان کی جیبوں میں جانے والے ناجائز منافع کو ضبط کر کے کسانوں کو براہ راست سبسڈی دے۔

اگر حکومت زراعت کے شعبے اور کسان کو مزید تباہی سے بچانا چاہتی ہے تو اس کا فوری حل یہی ہے کہ حکومتی سطح پر فوری طور پر گندم کی خریداری شروع کی جائے تاکہ کسانوں کو ان کی محنت کا پورا معاوضہ مل سکے۔ علاوہ ازیں ارباب اقتدار کو یہ بات بھی ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ رواں سال گندم کی اچھی پیداوار کے باوجود ملک میں گندم کے اتنے ذخائر موجود نہیں ہیں کہ اگلی فصل آنے تک مقامی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ اس لئے اگر سرکاری طور پر کسانوں سے گندم نہ خریدی گئی تو کسانوں سے اونے پونے گندم خریدنے والا مافیا چند ماہ بعد یہی گندم مہنگے داموں فروخت کرکے دگنا منافع کمائے گا اور آج روٹی سستی کرنے کا کریڈٹ لینی والی حکومت کو اپنی ساکھ بچانے کے لئے بھاری زرمبادلہ خرچ کر کے بیرون ملک سے گندم درآمد کرنا پڑے گی۔ اس لئے اگر آج ہم اپنے کسان کی عزت نفس اور حقوق کا خیال رکھیں گے تو کل کو یہی کسان ناصرف ملک کو زرعی شعبے میں خودکفیل بنائیں گے بلکہ اضافی پیداوار کے ذریعے زرعی اجناس کی برآمد سے ملک کو زرمبادلہ بھی کما کر دیں گے۔

بل زیادہ بھیجنے پر 3 سال قید بل منظور۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اوور بلنگ پر 3 سال قید کی سزا کا بل منظور کر لیا، وزارت توانائی کے مطابق قومی اسمبلی نے ڈسکوز میں اوور بلنگ پر قانون سازی کی منظوری دیدی ہے۔نیپرا ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کی جانب سے بلاوجہ ہراساں کئے جانے سے بچنے کے لیے رولز میں تبدیلی کر دی گئی ہے، جس کے بعد ایف آئی اے صرف نشاندہی کرے گی ، افسران کی گرفتاری کا اختیار نہیں ہو گا۔دریں اثناء وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ نیپرا ایکٹ میں ترمیم سے ایک اور وعدہ پورا کر دکھایا، اس شق سے اوور بلنگ اور غلط بلنگ کرنے والے افسران کی پکڑ ہو سکے گی۔ آئندہ ایف آئی اے نہیں ، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی اوور بلنگ پر کارروائی کرے گی۔

دارالحکومت میں گزشتہ ہفتے کے دوران کار لفٹنگ، موٹر سائیکل چوری اور موبائل فون چھیننے کے واقعات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ اس کے مختلف تھانوں میں 77 سے زائد کار جیکنگ اور موبائل فون اور نقدی چھیننے کے 76 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے

دارالحکومت میں گزشتہ ہفتے کے دوران کار لفٹنگ، موٹر سائیکل چوری اور موبائل فون چھیننے کے واقعات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ اس کے مختلف تھانوں میں 77 سے زائد کار جیکنگ اور موبائل فون اور نقدی چھیننے کے 76 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے۔ اعداد و شمار کے مطابق ڈکیتی اور گن پوائنٹ پر نقدی چھیننے سمیت مختلف نوعیت کی چوری کی 16 وارداتیں ہوئیں۔کار جیکنگ کے 77 واقعات میں 70 دو پہیہ گاڑیاں اور نو کاریں شامل ہیں۔ اسی عرصے میں کھنہ، کراچی کمپنی، لوہی بھیر، مارگلہ، آبپارہ اور نون تھانوں کی حدود میں جرائم پیشہ گروہ سب سے زیادہ سرگرم تھے۔زیر جائزہ مدت کے دوران کار جیکرز نے انڈسٹریل ایریا تھانے کی حدود سے ایک کار اور 9 موٹر سائیکلیں، کراچی کمپنی تھانے کی حدود سے 9 موٹر سائیکلیں، تھانہ کھنہ کی حدود سے 7 موٹر سائیکلیں اور 6 موٹر سائیکلیں چوری کیں۔ تھانہ کوہسار کا دائرہ اختیارمزید برآں، تھانہ مارگلہ میں ایک کار اور چار موٹر سائیکلوں سمیت آٹو چوری کے پانچ واقعات رپورٹ ہوئے، تھانہ لوہی بھیر میں پانچ کار چوری کی وارداتیں اور سیکرٹریٹ تھانے سے چار موٹر سائیکلیں چوری کی گئیں۔اسی طرح تھانہ کھنہ کی حدود سے مسلح افراد نے 13 موبائل فونز کے ساتھ ساتھ نقدی بھی چھین لی، ڈاکوئوں نے دو مقامات پر وارداتیں کیں اور تھانہ کھنہ کی حدود سے آٹو چوری کی 7 موٹر سائیکلیں اور آٹو چوری کی 10، موبائل چھیننے کی 4 اور ڈکیتی کی دو وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔ گزشتہ ہفتے کے دوران انڈسٹریل ایریا تھانےاس دوران کراچی کمپنی تھانے کی حدود میں موبائل چھیننے کی 6 وارداتیں، گاڑیاں چوری کی 9 اور ڈکیتی کی ایک واردات ہوئی۔ اسی طرح تھانہ لوہی بھیر نے موبائل چوری کے 5 مقدمات، کار جیکنگ کے 5 اور ڈکیتی کا ایک مقدمہ درج کیا جبکہ آٹو چوری کے 6، موبائل چھیننے کے 2 اور ڈکیتی کا ایک مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کیا گیا۔مزید برآں تھانہ آبپارہ کی حدود میں آٹو چوروں نے چھ موٹر سائیکلیں اور مسلح افراد تین افراد سے موبائل فون چھین کر لے گئے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران موبائل چھیننے کے مزید سات، کار جیکنگ کے پانچ اور چوری کا ایک کیس نون تھانے میں رپورٹ ہوا۔

6 روز مے ڈکیتوں اور چوروں کی ایک ھزار وارداتیں ای جی اسلام آباد کو 80 ڈکیتیاں 60 موٹر سائیکل اور 30 گاڑی 200 موبائل سنیچینگ کی سلامی تفصیلات کے لئے کلک کرے

دارالحکومت میں گزشتہ ہفتے کے دوران کار لفٹنگ، موٹر سائیکل چوری اور موبائل فون چھیننے کے واقعات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ اس کے مختلف تھانوں میں 77 سے زائد کار جیکنگ اور موبائل فون اور نقدی چھیننے کے 76 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے۔ اعداد و شمار کے مطابق ڈکیتی اور گن پوائنٹ پر نقدی چھیننے سمیت مختلف نوعیت کی چوری کی 16 وارداتیں ہوئیں۔کار جیکنگ کے 77 واقعات میں 70 دو پہیہ گاڑیاں اور نو کاریں شامل ہیں۔ اسی عرصے میں کھنہ، کراچی کمپنی، لوہی بھیر، مارگلہ، آبپارہ اور نون تھانوں کی حدود میں جرائم پیشہ گروہ سب سے زیادہ سرگرم تھے۔زیر جائزہ مدت کے دوران کار جیکرز نے انڈسٹریل ایریا تھانے کی حدود سے ایک کار اور 9 موٹر سائیکلیں، کراچی کمپنی تھانے کی حدود سے 9 موٹر سائیکلیں، تھانہ کھنہ کی حدود سے 7 موٹر سائیکلیں اور 6 موٹر سائیکلیں چوری کیں۔ تھانہ کوہسار کا دائرہ اختیارمزید برآں، تھانہ مارگلہ میں ایک کار اور چار موٹر سائیکلوں سمیت آٹو چوری کے پانچ واقعات رپورٹ ہوئے، تھانہ لوہی بھیر میں پانچ کار چوری کی وارداتیں اور سیکرٹریٹ تھانے سے چار موٹر سائیکلیں چوری کی گئیں۔اسی طرح تھانہ کھنہ کی حدود سے مسلح افراد نے 13 موبائل فونز کے ساتھ ساتھ نقدی بھی چھین لی، ڈاکوئوں نے دو مقامات پر وارداتیں کیں اور تھانہ کھنہ کی حدود سے آٹو چوری کی 7 موٹر سائیکلیں اور آٹو چوری کی 10، موبائل چھیننے کی 4 اور ڈکیتی کی دو وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔ گزشتہ ہفتے کے دوران انڈسٹریل ایریا تھانےاس دوران کراچی کمپنی تھانے کی حدود میں موبائل چھیننے کی 6 وارداتیں، گاڑیاں چوری کی 9 اور ڈکیتی کی ایک واردات ہوئی۔ اسی طرح تھانہ لوہی بھیر نے موبائل چوری کے 5 مقدمات، کار جیکنگ کے 5 اور ڈکیتی کا ایک مقدمہ درج کیا جبکہ آٹو چوری کے 6، موبائل چھیننے کے 2 اور ڈکیتی کا ایک مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کیا گیا۔مزید برآں تھانہ آبپارہ کی حدود میں آٹو چوروں نے چھ موٹر سائیکلیں اور مسلح افراد تین افراد سے موبائل فون چھین کر لے گئے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران موبائل چھیننے کے مزید سات، کار جیکنگ کے پانچ اور چوری کا ایک کیس نون تھانے میں رپورٹ ہوا۔

ازلان شاہ کپ پاکستان نے ملائشیا سے فتح چھین لی تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ازلان شاہ کپ پاکستان نے ملائشیا سے فتح چھین لی تفصیلات بادبان ٹی وی کے مطابق پاکستان پھلے 3 کواٹر میں 2 گولوں کے خسارے میں تھا لکین چوتھے کواٹر میں زخمی شیر کی طرح پلٹ کر وار کیا اور فتح اپنے نام کی ھاکی ٹیم کے ان کھلاڑیوں کا ماہانہ 3 لاکھ روپے دیا جائے تو دنیا کی کوی ھاکی ٹیم کو نھی ھرا سکتی جیسے کسان کو اگر 5 ھزار من گندم کا ریٹ دیاجاے تو ھمارا کسان نامساعد حالات کے باوجود 10 لاکھ ٹن گندم پیدا کر سکتا ہے

کھوتا وزیر اعظم اور نواب صاحب تفصیلات کے لیے بادبان ٹی وی پر کلک کریں

‏ریاست لکھنؤ کے ایک نواب کو کسی نے کھوتا کہہ دیا !!!نواب صاحب کو بہت ناگوار گزرا، انہوں نے اس پہ مقدمہ کر دیا ۔۔۔جج نے کھوتا کہنے والے سے پوچھا تو اس نے اعتراف کرتے ہوئے اپنی غلطی مان لی اور اپنے کہے پر شرمندہ ہو کر نواب سے معافی مانگی ۔۔۔ جج نے نواب صاحب سے کہا:” نواب صاحب … یہ معافی مانگ رہا ہے. آپ کا اب کیا کہنا ہے؟” نواب صاحب معافی دینے کے لیے تیار تو ہو گئے لیکن شرط رکھی کہ اب کسی کو بھی کھوتا نہیں بولے گا۔جج نے مجرم کو بری کر دیا۔ واپس جانے سے پہلے اس آدمی نے جج سے پوچھا: ” یور آنر…. میں نواب صاحب کو کبھی کھوتا نہیں کہوں گا لیکن ایک بات بتائیے کہاب میں کسی کھوتے کو تو نواب صاحب بول سکتا ہوں نا؟جج نے کہا:” کسی کھوتے کو آپ کچھ بھی بولئیے، کورٹ کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے” وہ آدمی نواب صاحب کی طرف مُڑا اور بولا:” اچھا تو نواب صاحب … اب مَیں چلتا ہوں”