All posts by admin

کھسرے اور پولیس امنے سامنے ای جی کہ گھر پر کھسروں کا مظاہرہ کرتے کا فیصلہ ای جی نے رینجرز سے مدد کی اپیل کر تفصیلات کے لئے کلک کرے

فارم 45 کے تحت وہ کھسرے تھے فارم 47 کے تحت وہ مرد نکلے پولیس کی ابتدائی رپورٹ سانحہ کھاریاں بہاولنگر پولیس کا کہنا تھا کہ وہ اچانک اے جب کہ کھسرے بتا کر بینڈ باجو کے ساتھ اے اور کٹا نھی بھت زیادہ کٹا تفصیلات بادبان ٹی وی پر کھسروں کی ایسوسی ایشن کا رات گئے اھم اجلاس جاری جس میں فیصلہ کیا گیا ھے ایس اہچ او کے خلاف کھسرے کی عزت لوٹنے کا مقدمہ درج نہ کیا گیا تو وہ اسی طرح کی پرفارمنس ای جی پنجاب کے گھر کے باھر کرینگے دوسری طرف ای جی کے گھر کی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے اور رینجرز سے مدد طلب کر لی رینجرز نے کسی قسم کی کھسروں کے خلاف فورس دینے سے انکار کر دیا

شہلا رضا نے صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ شہیلا رضا نے استعفی کی تصدیق کردی۔ انکا کہنا تھا کہ 27 اپریل 2024 کو ہی بطور صدر پی ایچ ایف استعفی دے دیا تھا

شہلا رضا نے صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ شہیلا رضا نے استعفی کی تصدیق کردی۔ انکا کہنا تھا کہ 27 اپریل 2024 کو ہی بطور صدر پی ایچ ایف استعفی دے دیا تھا۔ اپنا استعفیٰ منسٹر آئی پی سی احسن اقبال اور رانا مشہود کو بھیجوا دیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پی ایچ ایف کانگریس کو بھی اپنا استعفیٰ پیش کردیا ہے۔ شہلا رضا کا کہنا تھا کہ حکومتی اجلاس میں جو وعدے کیے گئے تھے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ جو بات اجلاس میں طے ہوئی اس کو اہمیت نہیں دی گئی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اجلاس میں کیمپ ایک کرنے کی بات کو تسلیم کیا تاکہ ٹیم ملائیشیا جاسکے۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا آئندہ ہفتے دورہ پاکستان کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد کی 10 سے 15 مئی کے دوران پاکستان آمد متوقع ہے۔وزیر اعظم شہبازشریف نے دورہ سعودی عرب میں محمد بن سلمان کو دورہ پاکستان کی دعوت دی تھی۔ذرائع کا کہناہے کہ محمد بن سلمان کا دورہ، پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کے سلسلے کی کڑی ہے۔دوسری جانب حکومتی ترجمان کے مطابق سعودی ولی عہدکےدورہ پاکستان کی تاریخوں کاحتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

مخصوص نشستوں کی بندر بانٹ فیصلے کو سپریم کورٹ نے معطل کر دیا۔ تحریک انصاف کو بڑا ریلیف۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کا فیصلہ الیکشن کمیشن کے لاء ونگ کو بھیج دیا۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں اجلاس ہوا، جس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر مشاورت کی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کا فیصلہ الیکشن کمیشن کے لاء ونگ کو بھیج دیا، لاء ونگ سپریم کورٹ کے فیصلے کا تفصیلی جائزہ لے گا۔ذرائع کے مطابق قانونی ٹیم سپریم کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لے کر الیکشن کمیشن کو رپورٹ دے گی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل سماعت کے لیے مقرر کر دی اور مخصوص نشستوں سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا۔سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ اراکین پر مشتمل جماعت سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں کو دینے کا فیصلہ معطل کردیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے حصول کیلئے دائر سنی اتحاد کونسل کی اپیلوں پر سماعت ہورہی ہے جہاں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ اپیلوں پر سماعت کر رہا ہے، بینچ کی سربراہ جسٹس منصور علی شاہ کر رہے ہیں جب کہ جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محمد علی مظہر بھی بینچ کا حصہ ہیں، سماعت کا آغاز ہوا تو مخصوص نشستوں پر نامزد خواتین ارکان اسمبلی کی جانب سے بنچ پر اعتراض کیا گیا، جن کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ’یہ آئین کے آرٹیکل 51 کی تشریح کا مقدمہ ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت کیس پانچ رکنی بنچ سن سکتا ہے‘، اسی طرح وفاقی حکومت کی جانب سے بھی تین رکنی بنچ پر اعتراض کیا گیا تاہم عدالت نے بنچ پر اعتراض مسترد کر دیا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ ’ابھی تو ابتدائی سماعت ہے، اگر اپیلیں قابل سماعت قرار پائیں تو کوئی بھی بنچ سن لے گا، اس سٹیج پر تو دو رکنی بنچ بھی سماعت کر سکتا ہے‘، اس کے بعد سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل کا آغاز کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ’پی ٹی آئی کے آزاد جیتے ہوئے اراکین اسمبلی نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی‘، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ’سات امیدوار تاحال آزاد حیثیت میں قومی اسمبلی کا حصہ ہیں؟‘، جسٹس اطہر من اللّٰہ نے پوچھا کہ ’کیا پی ٹی آئی ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے؟‘ اس پر فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ ’پی ٹی آئی ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے‘۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس میں کہا کہ ’رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے صرف الیکشن میں حصہ نہیں لیا‘، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ ’آزاد اراکین کو کتنے دنوں میں کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ہوتی ہے؟‘، فیصل صدیقی نے بتایا کہ ’آزاد اراکین قومی اسمبلی کو تین روز میں کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ہوتی ہے‘، جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سوال کیا کہ ’اگر کسی سیاسی جماعت کے پاس انتخابی نشان نہیں ہے تو کیا اس کے امیدوار نمائندگی کے حق سے محروم ہو جائیں گے؟‘، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ’کوئی سیاسی جماعت انتخابات میں حصہ لے کر پارلیمانی جماعت بن سکتی ہے، دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی سیاسی جماعت انتخابات میں حصہ نہ لے اور آزاد جیتے ہوئے اراکین اس جماعت میں شمولیت اختیار کر لیں‘۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ ’سیاسی جماعتوں کے درمیان مخصوص نشستوں کی تقسیم کس فارمولے کے تحت ہوتی ہے، سیاسی جماعت کیا اپنی جیتی ہوئی سیٹوں کے مطابق مخصوص نشستیں لے گی یا زیادہ بھی لے سکتی ہے؟‘، اس پر فیصل صدیقی نے بتایا کہ ’کوئی سیاسی جماعت اپنے تناسب سے زیادہ کسی صورت مخصوص نشستیں نہیں لے سکتی‘، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ’سیاسی جماعت کو اتنی ہی مخصوص نشستیں مل سکتی جتنی جیتی ہوئی نشستوں کے تناسب سے ان کی بنتی ہیں‘۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ’قانون میں کہاں لکھا ہے کہ بچی ہوئی نشتسیں دوباری انہی سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جائے گی‘، ہمیں پبلک مینڈیٹ کی حفاظت کرنی ہے، اصل مسئلہ پبلک مینڈیٹ کا ہے‘، جسٹس اطہر من اللہ نے دریافت کیا کہ ’قانون میں یہ کہاں لکھا ہے کہ انتخاباتی نشان نہ ملنے پر وہ سیاسی جماعت الیکشن نہیں لڑ سکتی؟‘، اس پر وکیل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ’جی یہی سوال لے کر الیکشن سے قبل میں عدالت گیا تھا‘۔
اس موقع پر مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن حکام کو طلب کیا، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ ’الیکشن کمیشن حکام ریکارڈ لے کر فوری آئیں، الیکشن کمیشن سے کچھ سوالات کرنے ہیں، دوسری جماعتوں کو کس قانون کے تحت نشستیں دی گئیں؟ ہم الیکشن کمیشن اور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہیں، فیصلوں کی معطلی صرف اضافی نشستیں دینے کی حد تک ہوگی، کیس کی تاریخ مقرر کر کے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کریں گے‘۔

بادبان ٹی وی کی رپورٹ کے بعد ذوالفقار حیدر کا مزھبی امور کا سیکرٹری لگا دیا گیا 10 ماہ تک یہ عھدہ خالی رھا 300 ارب روپے کی کرپشن کرنے کے بعد ڈی ایم جی کے انتھای ایمان دار ترین آفیسر کو ذوالفقار حیدر کو اس عھدے پر تعینات کیا گیا ہے ذوالفقار کے والد محترم بھی ایک ایمان دار آفیسر تھے وہ بھی گریڈ 21 کے ریٹائرڈ بیورو کریٹ ھے ذوالفقار حیدر تمام بڑے عھددوں پر فائز رہ چکے ھے کرپٹ کاکڑ کے وہ بھی زیر عتاب رھے وہ مافیا کا کیسے مقابلہ کرتے ھے

سعودی سرمایہ کاری کرنے کے لیے وفد پاکستان میں موجود جبکہ پاکستانی 100 ارب ڈالر گرشتہ 3سال میں پاکستان باھر لے کر جا چکے ھے سعودی کونسے سرمایہ کار پاکستان میں اے تفصیلات کے لئے کلک کرے

سعودی عرب کا اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچ گیا، وفد میں 30 سے زائد کمپنیوں کے سرمایہ کار شامل ہیں۔سعودی وفد ولی عہد محمد بن سلمان کی خصوصی ہدایت پر پاکستان پہنچا ہے، سعودی تجارتی وفد سرمایہ کاری کے باہمی تعاون کےلیے پاکستان پہنچ گیا۔سعودی نائب وزیر سرمایہ کاری ابراہیم المبارک کی قیادت میں وفد کے 50 ارکان ہیں جس میں ٹیکنالوجی، توانائی، ہوا بازی، تعمیرات، مائننگ اور ہیومن ریسورسز سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی 30 کمپنیوں کے نمائندے شامل ہیں۔وزیر تجارت جام کمال اور وزیر پیٹرولیم مصدق ملک نے سعودی وفد کا استقبال کیا۔ اس موقع پر جام کمال نے کہا کہ سعودی وفد کے دورے کا مقصد باہمی تجارتی تعلقات کا فروغ ہے۔جام کمال نے کہا کہ پاکستانی کمپنیاں 30 سعودی کمپنیوں کے ساتھ مختلف شعبوں میں منسلک ہوں گی۔ بزنس ٹو بزنس میٹنگز میں زراعت، کان کنی، انسانی وسائل پر توجہ دی جائے گی۔ توانائی، کیمیکلز اور میری ٹائم جیسے شعبوں پر بھی توجہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ آئی ٹی، مذہبی سیاحت، ٹیلی کام، ایوی ایشن کے شعبے بھی زیر غور آئیں گے۔ پاکستانی کمپنیاں اپنے کاروبار اور سرمایہ کاری کی تجاویز سعودی کمپنیوں سے شیئر کریں گی