All posts by admin

حملہ آور باپ سٹوڈنٹ ویزے پر آسٹریلیا آیا تھا، بیٹا یہیں پیدا ہوا: وزیر داخلہ ٹونی برکآسٹریلوی وزیر داخلہ ٹونی برک تصدیق کی ہے کہ سڈنی کی بونڈائی بیچ کے حملہ آور نوید اکرم اکتوبر 2019 میں ’آسٹریلین سکیورٹی انٹیلیجنس کی نظر میں آئے تھے۔ٹونی برک نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ساجد اکرم 1998 میں سٹوڈنٹ ویزا پر آسٹریلیا آئے تھے، جسے 2001 میں پارٹنر ویزا پر منتقل کیا گیا تھا، اور وہ تب سے ریذیڈنٹ ریٹرن ویزا پر ہیں۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ ’ساجد اکرم کا بیٹا نوید اکرم ایک آسٹریلوی شہری ہے جو یہاں 2001 میں پیدا ہوا۔‘

راجہ عادل کیس ھارا تفصیلات کے لئے بادبان نیوز

عادل راجہ بمقابلہ بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) راشد نصیر کیس: باوجود اس امکان کے کہ ان کے الزامات درست ہو سکتے ہیں، راجہ کیس کیوں ہار گئے؟یو کے ہائی کورٹ کا 11دسمبر کو سنایا جانے والا فیصلہ Raja v. Naseer پاکستانی عوام اور حقوق انسانی کے کارکنوں کے درمیان بحث کا موضوع بن گیا ہے خاص طور پر اس لیے کہ الزامات میں تشدد، سیاسی مداخلت، اور ریاستی زیادتی شامل تھے جو کہ پاکستان میں بہت عام ہیں اور پاکستان کی بدترین گورننس کے بارے میں عالمی انسانی حقوق کی رپورٹوں میں بہتات سے ملتے ہیں۔ اس سار کیس اور معاملے کی بنیاد برطانیہ کے Defamation Act 2013 کے تحت ایک سادہ مگر سخت اصول ہے: سنگین الزامات کے لیے مضبوط ثبوت ضروری ہیں۔جب کوئی شخص کسی فرد کا نام لے کر اسے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث قرار دیتا ہے، تو برطانوی قانون ایک واضح ذمہ داری عائد کرتا ہے:ثبوت فراہم کریں بصورت دیگر قانونی ذمہ داری قبول کریں۔بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) راشد نصیر کون ہیں اور میجر (ریٹائرڈ) عادل راجہ نے کیا الزامات لگائے؟بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) راشد نصیر پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے سابق سینئر افسر ہیں، جو اپنی خدمات کے لیے آئی ایس آئی میں معروف ہیں۔ جون 2022 میں عادل راجہ، جو سابق فوجی افسر اور اب یوٹیوبر اور سیاسی مبصر ہیں، نے نصیر پر مندرجہ ذیل الزامات عائد کیے:عدالتی عمل میں مداخلت،سیاستدانوں کو رشوت دینا،انتخابات میں دھاندلی،لاہور ہائی کورٹ کے فیصلوں پر اثر انداز ہونا،بطور خفیہ افسر بدسلوکی اور بدعنوان رویہ۔یہ الزامات کسی قابل شناخت فرد کے بارے میں حقائق کے طور پر پیش کیے گئے، جو Defamation Act 2013 کے Section 1 کے تحت قابل کارروائی ہیں، جو ہتک عزت کو یوں بیان کرتا ہے:“ایسا بیان جو مدعی کی سوسائٹی میں صاحب آلرائے افراد کی نظر میں اس کی عزت کو کم کرے۔”عادل راجہ کیوں ہار گئے باوجود اس امکان کے کہ الزامات درست ہو سکتے تھےعادل راجہ کی شکست پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کی سرگرمیوں کی تائید نہیں تھی کہ وہ اچھے ادارے ہیں یا ان اداروں میں زیادتی وقوع پذیر نہیں ہوتی ہے۔ یوکے کی عدالت نے پاکستان کی سیاست یا سیکیورٹی اداروں کے رویے پر فیصلہ نہیں دیا۔ عادل راجہ اس لیے یہ کیس ہار گئے کیونکہ انہوں نے Defamation Act 2013 کے تحت درکار سخت شواہد اور طریقہ کار کے معیار، خاص طور پر Section 2, Section 3 اور 4 Section کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ راجہ کے پاس ممکنہ طور پر اپنے دعووں کی حمایت میں ذرائع اور ثبوت موجود ہو سکتے تھے۔ تاہم یہ ثبوت یو کے عدالت میں پیش کرنے سے ان کے سورسز یا خفیہ ذرائع کی شناخت ظاہر ہو سکتی تھی۔ اپنے ذرائع کو نہ افشا کرنے کے فیصلے میں، راجہ نے ممکنہ طور پر اپنی قانونی دفاع کی قیمت پر اپنے ذرائع کی حفاظت کو ترجیح دی، جو ایک قسم کی اخلاقی بہادری کے مترادف ہے۔1. ثبوت کی ذمہ داری مدعی پر ہے (Section 2, Defamation Act 2013)Section 2 کے تحت، حقائق کی بنیاد پر دیے گئے الزامات کے لیے دفاعِ صداقت (“truth”) دستیاب ہے۔ اگر بیان بالغرض درست ہو اور اس کو ثبوت ہو تو قانونی ذمہ داری سے بچا جا سکتا ہے۔راجہ نے قابل شناخت افسر—بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) راشد نصیر—پر بدعنوانی، انتخابات میں مداخلت، بدعنوانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات لگائے۔ لیکن انہوں نے عدالت میں مندرجہ شواہد فراہم نہیں کیے:دستاویزی شواہد،آزاد تصدیق،قابل اعتماد گواہ،تحقیقی مواد۔عدالت نے نتیجہ اخذ کیا کہ راجہ کے ثبوت Section 2 کے معیار پر پورا نہیں اترے۔2. عوامی مفاد کا دفاع ذمہ دارانہ اشاعت کا تقاضا کرتا ہے (Section 4, Defamation Act 2013)Section 4(1) کے تحت، مدعا علیہ کو عوامی مفاد میں الزام شائع کرنے کا دفاع اس وقت دستیاب ہے جب:“متنازع بیان عوامی مفاد کے معاملے پر ہو اور مدعا علیہ کو معقول یقین ہو کہ اس بیان کو شائع کرنا عوامی مفاد میں ہے۔”Section 4(3) واضح کرتا ہے کہ مدعا علیہ کو یہ دکھانا ہوگا کہ انہوں نے بیان شائع کرتے وقت ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، جیسے کہ:شائع کرنے سے پہلے حقائق کی تصدیق،قابل اعتماد ذرائع پر انحصار،توازن اور احتیاط فراہم کرنا،غیر تصدیق شدہ دعوے حقائق کے طور پر پیش نہ کرنا۔جب کہ عدالت نے کو یہ نظر آیا کہ عادل راجہ نے یہ تمام معیار پورے نہیں کیے تھے۔ حقیقت میں اگر ان کے الزامات درست بھی ہوں، انہوں نے Section 4(3) کے مطابق ذمہ دارانہ اقدامات نہیں کیے یعنی تحقیق کی قابل تصدیق کوشش نہیں کی۔3. سنگین الزامات کے لیے مضبوط ثبوت ضروری ہے (Sections 1 اور 2)کسی پر تشدد، بدعنوانی، یا سیاسی ہیر پھیر کے الزامات لگانے سے سب سے زیادہ ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے۔ Section 2 کے تحت، عدالت کو الزامات کی سنگینی کے مطابق ثبوت درکار ہوتے ہیں۔فیصلے میں زور دیا گیا:“جتنا سنگین الزام، اتنا مضبوط ثبوت ضروری۔”راجہ کے دعوے انتہائی نقصان دہ تھے، اس لیے عدالت نے مضبوط ثبوت کا تقاضا کیا۔ بغیر اس کے، ان کے بیانات Section 1 کے تحت ہتک عزت کے زمرے میں آ گئے۔4. عدالت انسانی حقوق کی ٹریبونل نہیں ہےعدالت نے واضح کیا کہ مقدمہ فرد کی شہرت سے متعلق ہے، نہ کہ پاکستان کی پالیسیوں یا سیکیورٹی اداروں کے اچھے برے اعمال سے۔ یو کے عدالتیں صرف یہ دیکھتی ہیں:“کیا مدعا علیہ نے بغیر مناسب ثبوت کے اس فرد کے بارے میں اُس کی شہرت کو نقصان دہ بیان شائع کیا؟”راجہ کے ناکافی ثبوت پیش کرنے کی وجہ سے وہ کیس ہار گئے۔جس مسئلے کا سامنا عادل راجہ کو کرنا پڑا یہی حقوق انسانی کے ہر کارکنان کو کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے سماجی رابطوں پر ہتک عزت کے مقدمات سے بچنے کے لیے کچھ احتیاط ضروری ہے۔حقوق انسانی کی رپورٹنگ اکثر ایسے الزامات پر مشتمل ہوتی ہے جو تصدیق کرنا مشکل ہوتے ہیں۔ لیکن غیر محتاط بیانات—خاص طور پر جب افراد کے نام شامل ہوں—قانونی ذمہ داری پیدا کر سکتے ہیں۔ اس لیے احتیاطی اقدامات لینا بہتر ہوگا:1. غیر تصدیق شدہ دعوے حقائق کے طور پر نہ بیان کریںمثال کے طور پر پوسٹ نہ کریں:“کرنل X نے کسی پر تشدد کیا۔”اس کی بجائے کہیں:“ایسے الزامات ہیں کہ…”“حاصل شدہ بیانات کے مطابق…”“حقوق انسانی کی تنظیمیں رپورٹ کرتی ہیں کہ…”یہ Section 4(3) کے ذمہ دارانہ اشاعت کے معیار سے مطابقت رکھتا ہے۔2. قابل اعتماد ذرائع استعمال کریںمعتبر نیوز آؤٹ لیٹس،NGOs،آزاد تحقیقات،تصدیق شدہ بیانات۔یہ احتیاطی عمل عوامی مفاد کے دفاع کو مضبوط بناتا ہے۔3. بغیر مضبوط ثبوت افراد کی شناخت نہ کریںاداروں پر تنقید کریں، افراد پر نہیں:“انٹیلیجنس ادارہ…”“ریجنل سیکیورٹی فورسز…”“رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ…”Sections 1 اور 2 کے تحت بغیر ثبوت کے افراد کو نام دینا خطرہ بڑھاتا ہے۔4. ذمہ دارانہ لہجہ اختیار کریںسنسنی خیز دعوے، قطعی بیانات یا مبالغہ سے گریز کریں۔ عدالت Section 4(1)-(3) کے مطابق معقول یقین کے معیار میں لہجے کو بھی دیکھتی ہے۔5. جواب کا موقع فراہم کریںسوشل میڈیا پر:“اگر فرد وضاحت یا تردید چاہتا ہے تو میں مواد اپڈیٹ کر دوں گا۔”یہ انصاف اور ذمہ داری ظاہر کرتا ہے۔6. تصدیق کے اقدامات دستاویزی کریںریکارڈ رکھیں:کس نے معلومات دی،کب،کیا ثبوت دیکھا گیا،کیوں اس ذرائع پر بھروسہ کیا گیا۔یہ Section 4(3) کے تحت ذمہ داری کی جانچ میں اہم ہے۔ قیاس ہے کہ میجر (ریٹائرڈ) عادل راجہ کے پاس ریکارڈ بھی ہو گا لیکن ان کی مجبوریاں نظر آتی ہیں: اول یہ کہ وہ اپنی معلومات اور اطلاعات کے ذرائع کو محفوظ رکھنا چاہتے ہوںدوئم یہ کہ اُن کی اپنے ادارے سے وفاداری برقرار ہے جس کی وجہ سے انھوں نے پورے ادارے کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار ٹھہرانے کی بجائے کسی فرد کا نام لے کر ادارے کی ساکھ خراب ہونے سے بچائے۔ پیشے اور ادارے سے وفاداری کے لحاظ سے اُن کا طرز عمل شاید مناسب ہو، لیکن ایسا طرزِ عمل یوکے کی عدالت میں اچھا دفاع نہیں بنتا ہے۔7. سوالات کے ذریعے تشویش ظاہر کریںغیر تصدیق شدہ حقائق بیان کیے بغیر سوالات کریں:“آزاد تحقیقات کیوں نہیں کی گئی؟”“متعدد گواہ ایک جیسا تجربہ کیوں بتاتے ہیں؟”سوالات عوامی مفاد کی رپورٹنگ کو محفوظ بناتے ہیں۔عادل راجہ اس لیے نہیں ہارے کہ تشدد کے الزامات ناممکن تھے یا پاکستانی انٹیلی جنس ادارے ناقابل تنقید ہیں۔ وہ اس لیے کیس ہارے کہ انہوں نے Defamation Act 2013 کے Sections 2 اور 4، کے تحت ثبوت اور ذمہ دارانہ اشاعت کے معیار پورے نہیں کیے۔ساتھ ہی، عادل راجہ کے کیس نے ایک اہم اخلاقی مسئلہ بھی اجاگر کیا: رازدار ذرائع کی حفاظت بعض کے لیے بعض اوقات ذاتی قانونی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ ذرائع ظاہر نہ کرنے کے باوجود، راجہ نے ایک اعلیٰ اخلاقی معیار برقرار رکھا جو قابل تحسین بات ہے۔انسانی حقوق کے دیگر کارکنان کے لیے سبق واضح ہے:اداروں پر تنقید کریں، زیادتیوں کو اجاگر کریں، مگر ذمہ داری، احتیاط، اور قابل تصدیق بنیادوں پر، خاص طور پر افراد کے نام لیتے وقت، کام کریں۔یہ طریقہ اظہار رائے کی آزادی اور قانونی تحفظ دونوں کو برقرار رکھتا ہے۔(نوٹ: میں نے یہ تحریر یو کے کے قانون کو پڑھ کر اپنے اُن ساتھیوں کے لیے لکھی ہے جو برطانیہ میں رہتے ہوئے پاکستان یا کسی بھی ملک میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف سرگرم ہیں۔ برطانیہ میں بہت ایسے ماہرین موجود ہیں جو میڈیا لا اور ڈیفیمشن لا پر مہارت رکھتے ہیں، اور ایسے لوگ موجود ضرور ہیں، جن میں چند مشہور نام یہ ہیں: Tasnime Akunjee، Mahnaz Malik، Imran Khan (Solicitor)، Nadeem Aslam۔ یہ وکلاء اور بیرسٹرز خاص طور پر ڈیفیمشن، میڈیا اور انسانی حقوق کے معاملات میں تجربہ رکھتے ہیں اور ایسے مقدمات میں قانونی رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔ دیگر ممالک میں رہنے والے ساتھیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اپنے ممالک کے قوانین کا مطالعہ کریں یا کسی قانونی ماہر سے مشورہ لیں تاکہ وہ اپنی سرگرمیوں کے دوران قانونی پیچیدگیوں سے محفوظ رہ سکیں۔)

الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا شیڈول جاری کر دیا۔۔وہ دیوانہ وار، انھے واہ تلواریں چلا رہی۔اس کے مقابل صرف اور صرف اس کا خوف ہے۔۔ڈری سہمی اسٹیبلشمنٹ کی یہ دوائی ہےحالانکہ اس کی لڑائی نہتے قیدی سے نہیں خوف سے ہے۔۔ثاقب نثار بھی کے بھی پکڑے جانے کے امکانات۔50 ارب روپے کی کرپشن وزیر سمیت 5 بیورو کریٹ شکنجے میں۔۔وزارت داخلہ ان ایکشن مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن۔۔مھنگای کا طوفان زندگی سسکیاں لینے لگی عوام خودکشیوں پر مجبور۔۔18 ماہ میں 350 فیصد مھنگای میں اضافہ 12 کروڑ عوام غربت کی لکیر سے نیچے۔۔پٹرول کی قیمت میں 100 فیصد چینی کی قیمت میں 170 فیصد دالوں کی قیمت میں 122 فیصد اضافہ۔بجلی اور گیس کے بلوں میٹرز پر ھزاروں ارب روپے کی ڈکیتی ماری گئی۔۔۔الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا۔۔ حکومت خوفناک جنگ میں مصروف ہےوہ دیوانہ وار، انھے واہ تلواریں چلا رہی ہےاس کے مقابل صرف اور صرف اس کا خوف ہےہر روز وہ اپنے خوف کا سر قلم کرتی ہےلیکن خوف کا سر پھر سے دھڑ پر ابھر آتا ہےڈری سہمی اسٹیبلشمنٹ کی یہ دوائی ہےحالانکہ اس کی لڑائی نہتے قیدی سے نہیں خوف سے ہے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

حکومت خوفناک جنگ میں مصروف ہے
وہ دیوانہ وار، انھے واہ تلواریں چلا رہی ہے
اس کے مقابل صرف اور صرف اس کا خوف ہے
ہر روز وہ اپنے خوف کا سر قلم کرتی ہے
لیکن خوف کا سر پھر سے دھڑ پر ابھر آتا ہے
ڈری سہمی اسٹیبلشمنٹ کی یہ دوائی ہے
حالانکہ اس کی لڑائی نہتے قیدی سے نہیں خوف سے ہے

الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کر دیاانتخابات 15 فروری 2026 کو پولنگ صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک ہو گیکاغذات نامزدگی کے لیے پبلک نوٹس 19 دسمبر 2025 کو دیا جائے گا

کاغذات جمع کرانے کی تاریخ 22 تا 27 دسمبر 2025 مقررکاغذات کی جانچ پڑتال 30 دسمبر تا 3 جنوری 2026 کو ہو گیاپیلیں دائر کرنے کی تاریخ 5 تا 8 جنوری 2026 مقرر کر دی گئی

ٹربیونلز کی اپیل نمٹانے کی تاریخ 9 تا 13 جنوری 2026 ہےکاغذات واپس لینے کی آخری تاریخ 15 جنوری 2026 مقرر

امیدواروں کی حتمی فہرست اور انتخابی نشان الاٹمنٹ 16 جنوری 2026نتائج مرتب کرنے کی تاریخ 16 تا 19 فروری 2026مقرر کر دی گئی

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں افغان شہری کی فائرنگ سے 12 افراد ہلاک۔۔🚨 سکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا میں کارروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ 13 خوارج جہنم واصل، آئی ایس پی آر۔۔ملکی معیشت کا حال یہ ہے کہ نوجوان ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔“وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی۔‏”شہباز شریف کیلئے اسٹیبلشمنٹ صرف سپورٹ ہی نہیں دے رہی بلکہ پریس کانفرنس بھی کر رہی ہے، گالی بھی دے رہی ہے اور گولی بھی چلا رہے ہیں۔ اس کے باوجود ملکی معیشت کا حال یہ ہے کہ نوجوان ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔“وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

‏”شہباز شریف کیلئے اسٹیبلشمنٹ صرف سپورٹ ہی نہیں دے رہی بلکہ پریس کانفرنس بھی کر رہی ہے، گالی بھی دے رہی ہے اور گولی بھی چلا رہے ہیں۔ اس کے باوجود ملکی معیشت کا حال یہ ہے کہ نوجوان ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔“وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی

انڈر 19 میں بھی انڈیا کے ہاتھوں شکست پاکستان کی پھلی شکست بلے باز ناکام سرفراز احمد پریشان بچوں کو پریشان نھی ھونا چاھیے ھم یہ کپ ضرور جیت کر لوٹے گئے تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

انڈین کرکٹ ٹیم سے زیادہ تمیز تو ان انڈین انڈر 19 بچوں میں ہے ، جو کم از کم سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ تو کر رہے ہیں۔پاکستان اور انڈیا انڈر 19 ٹیمز کے درمیان ہونے والے میچ میں تب دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب پاکستانی کھلاڑی کے شوز کے لیسز کھل گئے ، تو انڈین کھلاڑی نے سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، لیسز باندھے۔۔

معاز صداقت جو نام ہے اعتماد کا ہانگ کانگ سپر سکسز میں بہترین بالنگ سے پاکستان کو فاتح بنایا ایمرجنگ ایشیا کپ میں پاکستان کو بیٹنگ اور بولنگ دونوں سے فاتح بنایا نیپال لیگ میں بھی شاندار پرفارم کیا اور اپ ڈومیسٹک کرکٹ کے پہلے میچ میں ہی دھواں دار سینچری

غازی کے بیٹے اور شھید کی بیٹی میں مقابلہچئیرمین پیمرا کونریگولیٹر اتھارٹیز مافیا کے روپ میں10 ھزار ارب سالانہ کرپشن روپے کی کرپشنبیانیہ بنانے والے 50 ارب روپے کی کرپشن میں ملوثفیض حمید کے بعد 4 مزید کا کورٹ مارشل۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

چیف آف ڈیفنس سٹاف مہمان خصوصی اور بلاول بھٹو سمیت وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ہمنوا۔۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ کور کمانڈر کراچی اویس دستگیر بھی موجود تفصیلات کے لئے بادبان نیوز

بادبان ٹی وی رپورٹ کراچی پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نیشنل گیمز 2025 کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کھیلوں کے اس قومی ایونٹ کے کامیاب انعقاد پذیر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے قوم کے مستقبل پر فخر، اعتماد اور عزم نو کا اظہار کیا ہے۔میڈیا سیل بلاول ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ اگرچہ نیشنل گیمز 2025 اختتام کو پہنچ چکے، مگر اس ایونٹ سے جنم لینے والا جذبہ ملک بھر میں اتحاد، نظم و ضبط اور امید کی روشنی بکھیرتا رہے گا۔

انہوں نے سندھ کے عوام کی جانب سے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، کی تقریب میں شرکت پر خوش آمدید کہتے ہوئے اُن کا شکریہ ادا کیا اور ان کی قیادت و خدمات کو قومی استحکام، پیشہ ورانہ مہارت اور یکجہتی کی روشن علامت قرار دیا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نیشنل گیمز محض اسپیڈ، طاقت یا مہارت کا مقابلہ نہیں تھے بلکہ یہ پاکستان کا جشن تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں گلگت بلتستان سے گوادر تک، خیبر سے کراچی تک اور لاہور سے لاڑکانہ تک کا مقابلہ کرنے والا ہر کھلاڑی اپنے صوبے کے رنگ لیے ہوئے تھا،

مگر سب ایک پرچم تلے متحد نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ صوبہ کو اس عظیم الشان ایونٹ کی میزبانی پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صوبہ تاریخی طور پر پاکستان کے سفر میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتا آیا ہے، جس میں پاکستان کے حق میں پہلی قرارداد کی منظوری بھی شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل گیمز کی میزبانی بھی سندھ کے وفاق، اتحاد اور قومی ہم آہنگی سے وابستگی کی مسلسل عکاس ہے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نیشنل گیمز کا کامیاب انعقاد پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور صوبائی وزیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان سردار محمد بخش خان مہر کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے گیمز میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کا فخر ہیں اور تمغے حاصل کریں یا نہ کریں، وہ نظم و ضبط، ثابت قدمی اور اتحاد کے سفیر بن کر اپنے اپنے علاقوں کو واپس جا رہے ہیں۔ انہوں نے کوچز، آفیسروں، رضاکاروں، طبی عملے، منتظمین اور سیکیورٹی اداروں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس ایونٹ کو پُرامن، محفوظ اور باوقار انداز میں منعقد کرانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں آزمائش کے لمحات کے دوران پاکستان نے اتحاد اور عزم کے ساتھ جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے پیشہ ورانہ مہارت، باہمی ہم آہنگی اور قوت کا شاندار مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سرخرو ہوا، اس کی خودمختاری کا دفاع کیا گیا اور اس کی عزت و وقار کو برقرار رکھا گیا۔ یہ کامیابی صرف ایک عسکری فتح نہیں تھی بلکہ ایک قومی کامیابی تھی،

جس نے ہماری قوم کے اتحاد، ہماری افواج کے نظم و ضبط اور قوم و محافظوں کے درمیان اٹوٹ رشتے کی عکاسی کی۔ انہوں نے زور دیا کہ اتحاد کا یہی جذبہ اب تعلیمی اداروں، کھیلوں کے میدانوں، قومی اداروں اور روزمرہ زندگی میں بھی آگے بڑھایا جائے،

تاکہ ایک ایسا پاکستان تشکیل دیا جا سکے جہاں ہر صوبے کے ہر بچے کو کھیل، تعلیم، صحت اور قومی خدمت کے شعبوں میں یکساں مواقع میسر ہوں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام شرکاء، کھلاڑیوں اور صوبوں کو مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ نیشنل گیمز کے دوران قائم ہونے والی دوستیاں، سیکھا گیا ہر سبق اور اتحاد مستقبل میں بھی وفاق کو مزید مضبوط بناتا رہے گا۔ انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام “پاکستان زندہ باد” کے نعروں کے ساتھ کیا۔

وادی تیراہ میں سہولیات کا فقدان ،سیکیورٹی اور انتظامی چیلنجز نے ناقص گورننس کو بے نقاب کردیا*وادی تیراہ میں ابتر صورتحال ، صوبائی حکومت کی نااہلی اور بدانتظامی کی بدترین مثال *آئی جی ایف سی خیبرپختونخوا نارتھ کا کہنا ہے کہ؛*فتنہ الخوارج عدم استحکام کو فروغ اور منشیات کی اسمگلنگ سے پیسہ وصول کرتےہیںخیبرپختونخوا کا افغانستان کیساتھ 1224 کلومیٹر کی طویل سرحد موجود ہے

***وادی تیراہ میں سہولیات کا فقدان ،سیکیورٹی اور انتظامی چیلنجز نے ناقص گورننس کو بے نقاب کردیا*وادی تیراہ میں ابتر صورتحال ، صوبائی حکومت کی نااہلی اور بدانتظامی کی بدترین مثال *آئی جی ایف سی خیبرپختونخوا نارتھ کا کہنا ہے کہ؛*فتنہ الخوارج عدم استحکام کو فروغ اور منشیات کی اسمگلنگ سے پیسہ وصول کرتےہیںخیبرپختونخوا کا افغانستان کیساتھ 1224 کلومیٹر کی طویل سرحد موجود ہے، *آئی جی ایف سی* فرنٹیئر کور کے پاس تقریباََ 717 کلومیٹرکی سرحد موجود ہے جس میں برف پوش اور سنگلاخ پہاڑ بھی ہیں ، *آئی جی ایف سی*خیبرپختونخوا کے افغانستان کے ساتھ سرحد میں بلند چوٹیاں اور تنگ گھاٹیاں بھی موجود ہیں ، *آئی جی ایف سی*ایف سی نے دراندازی کرنے والوں کیخلاف کیمرے بھی لگائے ہیں ، *آئی جی ایف سی*سرحد اس وقت مکمل بند(سیل) ہو سکتی ہے جب دونوں اطراف سے سرحد کا احترام کیا جائے، *آئی جی ایف سی*پہلی بار افغانستان اور پاکستان میں باڑ لگائی گئی ہے ، اب اس کو بین الاقوامی سرحد کہہ سکتے ہیں ، *آئی جی ایف سی*باڑ لگا کرآزادانہ نقل و حرکت اور دراندازی کیخلاف رکاؤٹ کھڑی کی گئی ہے ، *آئی جی ایف سی*پچھلے سال “باغ میدان” میں ایف سی کے 64 جوان شہید اور 198 زخمی ہوئے ، *آئی جی ایف سی*اتنے شہدا ء اور زخمی یہاں پر کسی اور ادارے کے نہیں ہیں ، *آئی جی ایف سی خیبرپختونخوا نارتھ* دواتوئی میں ایک تنگ راستہ ہے مگر وہاں پر کوئی چیکنگ نہیں کی جا سکتی کیوں کہ ہمارے پاس اختیار نہیں ، *آئی جی ایف سی* اس وقت پوری آبادی کی نگرانی کیلئے صرف 3پولیس اہلکار موجود ہیں ، *آئی جی ایف سی خیبرپختونخوا نارتھ* *ونگ کمانڈر کرنل وقاص نے بتایا کہ ؛*وادی تیراہ میں 60 کلومیٹر تک ضلعی انتظامیہ ، پولیس یا اسپتال موجود نہیں ہےوادی تیراہ کے علاقے میں کوئی سرکاری اسکول نہیں اور نہ اساتذہ ہیں ، *ونگ کمانڈر* جب بچے اسکول نہیں جائیں گے ، پڑھیں گے نہیں تو ان میں شعور کیسے آئے گا، *ونگ کمانڈر* اگر بچے نہیں پڑھیں تو وہ غیر قانونی سرگرمیوں کی طرف جاتے ہیں ، *ونگ کمانڈر* ایف سی کے زیر اہتمام 16اسکول ہیں جن میں ایف سی نے خود اساتذہ کو بھرتی کیا ہے، *ونگ کمانڈر* وادی تیراہ میں کوئی اسپتال نہیں ، لوگ کسی ایک انجکشن کیلئے بھی ایف سی کے پاس آتے ہیں ، *ونگ کمانڈر* فرنٹیئر کور مقامی افراد کیلئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد بھی کرتی ہے ، *ونگ کمانڈر* وادی تیرہ میں منشیات فروشی کا مسئلہ بہت بڑا ہے جن میں فتنہ الخوارج ملوث ہے ، *ونگ کمانڈر* فتنہ الخوارج منشیات اور بھتہ سے اکٹھی کی گئی رقم سیکیورٹی فورسز اور عوام کیخلاف استعمال کرتےہیں، *ونگ کمانڈر* وادی تیراہ میں بدانتظامی اور مقامی حکومت کی نااہلی کا فائدہ شدت پسند اور جرائم پیشہ گروہ اٹھا رہے ہیں

فیض حمید فیلڈ مارشل سے رحم کی درخواست کر سکتے ہیں۔ بدعنوانی پاکستان کا سب سے بڑا قومی مسئلہ برقرار ملک میں 97 فیصد کرپٹ مافیا 10 ھزار ارب روپے کی سالانہ کرپشن۔۔36 سال پرانی ھندو کریمیشن گراؤنڈ کی زمین کی الاٹمنٹ۔۔فراڈ کھربوں روپے کی کرپشن۔۔نام نہاد اسلام بمقابلہ نام نہاد اسلام۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

“36 سال پرانی ہندو کریمیشن گراؤنڈ کی زمین کی الاٹمنٹ کالعدم، FCCA نے دوبارہ سماعت کا حکم دے دیا”رانا تصدق حسیناسلام آباد – ایک تاریخی فیصلے میں، وفاقی آئینی عدالت برائے اپیلز (FCCA) نے لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس میں 1989 میں ایویکیوئی ٹرسٹ پراپرٹی (ETP) کی زمین کو پنجاب ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو منتقل کرنے کے معاملے کو سرکاری تنازعہ قرار دیا گیا تھا۔اب یہ کیس لاہور ہائی کورٹ کو مکمل اور جامع سماعت کے لیے واپس بھیج دیا گیا ہے، جبکہ قانونی ماہرین نے تمام ETP اور دشمن پراپرٹی کی ملکیتوں کے لیے آزاد تیسرے فریق کے آڈٹ کی اپیل کی ہے۔متنازعہ زمین تاریخی طور پر ہندو کریمیشن گراؤنڈ کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سوال اٹھایا کہ اس طرح کی تاریخی اور مذہبی اہمیت کی زمین کو کس اختیار کے تحت صوبائی محکمے کو منتقل کیا گیا اور پنجاب کے وزیراعلیٰ نے اس کی منظوری کس بنیاد پر دی۔جسٹس رضوی نے نوٹ کیا کہ 1989 سے ممکنہ طور پر اس زمین پر تعمیرات ہو چکی ہیں، جو قانونی اور اخلاقی سوالات پیدا کرتی ہیں۔عدالت نے ایویکیوئی ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ (ETPB) کے مینڈیٹ کو بھی دہرایا، جو 1960 میں قائم ہوا اور لاہور میں ہیڈکوارٹر رکھتا ہے۔ بورڈ کا کام 1947–48 میں بھارت ہجرت کرنے والے سکھوں اور ہندووں کی چھوڑی گئی جائیدادوں کی نگرانی، انتظام اور تحفظ کرنا ہے، خاص طور پر “ٹرسٹ پول” میں شامل خیراتی، مذہبی اور تعلیمی اثاثے۔اہم انتظامی مشاہدے میں عدالت نے نوٹ کیا کہ حال ہی تک دشمن پراپرٹی سیل وزارت مواصلات کے تحت تھا۔ متعدد اہم جائیدادیں، جن میں مرحوم مولانا کوثر نیازی اور کیپٹن (ریٹائرڈ) خرم آغا، سیکرٹری داخلہ کے رہائشی مکان اور prime اثاثے جیسے کہ بھبرہ بازار، راولپنڈی میں لال حویلی شامل ہیں، اس ادارے کے ماتحت ہیں، جو ان جائیدادوں کی اسٹریٹجک، تاریخی اور مالی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔جسٹس رضوی نے یہ بھی سوال کیا کہ ETPB نے وفاقی حکومت کے نام پر اپیل کیوں دائر کی بجائے خود کارروائی کیوں نہ کی، اور زور دیا کہ یہ وفاقی–صوبائی تنازعہ نہیں ہے اور سابقہ کارروائیاں قانونی طور پر ناقص تھیں۔پنجاب کے اضافی ایڈووکیٹ جنرل نے صوبائی حکام سے ہدایات حاصل کرنے کے لیے وقت کی درخواست کی۔FCCA نے پچھلے LHC فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مکمل دوبارہ سماعت کا حکم دیا، جس کی تجویز پر ETPB اور پنجاب حکومت کے نمائندے دونوں نے اتفاق کیا۔ماہرین اور سول سوسائٹی کے مبصرین اب زور دے رہے ہیں کہ ایویکیوئی ٹرسٹ اور دشمن پراپرٹی کی ملکیتوں کے شفاف انتظام کے لیے تیسرے فریق کا آزاد آڈٹ فوری طور پر ضروری ہے تاکہ عوامی اثاثوں کا تحفظ ممکن ہو اور تاریخی و مذہبی اہمیت کی جائیدادوں کے مزید غلط استعمال کو روکا جا سکے۔FCCA کی مداخلت کے ساتھ، 36 سال پرانی الاٹمنٹ شدید نگرانی میں آ گئی ہے، اور پاکستان میں ایویکیوئی اور دشمن پراپرٹی کے انتظام کی جامع دوبارہ جانچ کے لیے راہ ہموار ہو گئی ہے۔

فوج بدل گئی ہے ۔ اظہر سیدہم اپنے شعور اور سوچ کے مطابق مالکوں کے حمایتی بنے ہیں۔ہماری سوچی سمجھی رائے ہے فوج بدل گئی ہے ۔مالکوں کے فیصلہ سازی کے انفراسٹرکچر میں تبدیلی آ چکی ہے۔فیصلے اب ذاتی مفادات پر نہیں بلکہ اجتماعی سوچ کے ساتھ ہو رہے ہیں۔اسی سوچ کے ساتھ ہم اب مالکوں کی حمایت کرتے ہیں۔ہم لفافہ لینے والوں میں سے نہیں لفافہ دینے والوں میں سے ہیں ۔جو کچھ بھی لکھتے ہیں اپنے ضمیر اور سوچ کے مطابق بغیر کسی ڈر اور خوف کے لکھتے ہیں۔سابق ڈی جی آئی جنرل فیض حمید کو ملنے والی سزا کا مطلب ہے موجودہ ڈی جی آئی اگر ذاتی مفاد کے تحت فیصلے کرے گا تو مستقبل میں اسے بھی جنرل فیض کی طرح کورٹ مارشل کا سامنا کرنا ہو گا۔جنرل باجوہ کے دور میں جو کچھ کیا گیا فوج کے چین آف کمانڈ کے تقدس کا تحفظ کیا گیا اور تمام فیصلوں پر چین آف کمانڈ کے تقدس نے عمل کیا۔ایسے نہیں ہوتا کسی سابق ڈی جی آئی کے خلاف کوئی نیا آرمی چیف کورٹ مارشل کی کاروائی شروع کرا دے۔ ایسا اس لئے ممکن نہیں ہوتا فوج کا چین آف کمانڈ کا نظام اسکی اجازت نہیں دیتا ۔یقینی طور پر جنرل باجوہ کے دور میں طاقت کے انفراسٹرکچر میں غداری کا عنصر شامل تھا۔یقینی طور پر جنرل باجوہ کے طاقت کے انفراسٹرکچر میں ایسے فیصلے ہوئےخود فوج ان کا ہدف بنی۔فوج کے انفراسٹرکچر نے سقوط ڈھاکہ کے زمہ داروں کو سزا نہیں دی کہ مشرقی پاکستان میں شکست ناگزیر تھی

۔دنیا کی کوئی بھی فوج ہوتی شکست کھا جاتی۔فوج نے 1965 کی جنگ کا سبب بننے والے آپریشن جبڑالڑ کے زمہ داروں پر گرفت نہیں کی ۔فوج نے سیاچن پر بھارت کے قبضہ اور کارگل کے زمہ داروں کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا کہ فوج کا اپنا اندرونی نظام خودکار ہے ۔فوج نے آج جنرل فیض کو کٹہرے میں کھڑا کر کے سزا سنائی ہے اس کا واضح مطلب ہے جنرل باجوہ اور سپریم کورٹ کے جج بھی پکڑ میں آئیں گے ۔موجودہ انفراسٹرکچر ایک بدل چکی فوج کا انفراسٹرکچر ہے ۔موجودہ انفراسٹرکچر نے ایک بھاری پتھر اٹھا لیا ہے ۔

اسے اب چوم کر واپس رکھنا ممکن نہیں ۔ ماضی میں جنرلوں کے کورٹ مارشل ہوتے رہے ہیں لیکن یہ پہلا کورٹ مارشل ہے جو سیاسی انجینئرنگ کے ان نتایج کی وجہ سے ہوا جو جنرل باجوہ کے فوجی انفراسٹرکچر نے کیا ۔اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ موجودہ فوجی قیادت کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرے گی جو زاتی مفاد پر ہو کہ کورٹ مارشل کی بنیاد پڑ چکی ہے ۔ایک نظیر قائم ہو گئی ہے ۔اب تحریک لبیک بنے گی اور نہ سیاست پر کنٹرول کیلئے ایجنسی استمال ہو گی ۔اس وقت انفراسٹرکچر جو کچھ بھی کر رہا ہے اسے فوجی اصطلاح میں پسپائی سے پہلے اثاثے تباہ کرنا کہتے ہیں دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔اثاثے اپنے ہاتھوں سے ختم کئے جا رہے ہیں۔صرف خارجیوں کو نہیں مارا جا رہا ایک اہم اثاثے تحریک لبیک کا مکو بھی ٹھپا گیا ہے ۔اربوں روپیہ کے ریاستی فنڈز استمال کر کے مشہور کی گئی تحریک انصاف نہیں ختم کی جا رہی ففتھ جنریشن وار پلاٹون کی کوکھ سے لیڈر بنائی گی سوغات کی کہانی بھی ختم کی جا رہی ہے ۔اداروں میں آپریشن کلین اپ کیا جا رہا ہے ۔ڈکیتوں منشیات فروشوں کو بھی فل فرائی اور ہاف فرائی کیا جا رہا ہے ۔بھارت کے ساتھ مؤدبانہ طرز عمل ختم کر کے ایک حقیقی ایٹمی طاقت ایسا رویہ اختیار کر لیا گیا ہے ۔ہمیں لگتا ہے یہ انفراسٹرکچر موجودہ سوچ کے ساتھ تین چار سال اور گزار گیا ریاست کی سمت درست ہو جائے گی ۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اشک آباد میں امن اور اعتماد کے عالمی سال کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان سے دو طرفہ ملاقات کی۔ اس خوشگوار ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس سال کے شروع میں دونوں ممالک کو بیرونی جارحیت کے سامنا کرنے کے وقت ایک دوسرے کو فراہم کی جانے والی مضبوط حمایت کو سراہا۔اس سال کے شروع میں پاک-ایران مشترکہ اقتصادی کمیشن کے 22ویں اجلاس کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نے دو طرفہ تجارت کے حجم کو بڑھانے، سرحدی منڈیوں کو فعال کرنے، سرحدی سلامتی کو مضبوط بنانے اور اسلام آباد-بلوچستان ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کے ذریعے دو طرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے دونوں فریقین کے مل کر کام جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ افغان سرزمین سے اٹھنے والی دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے سنگین سیکورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے افغانستان حکومت بامعنی کارروائی کرے۔دونوں رہنماؤں نے غزہ میں جاری امن کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ صدر پیزشکیان نے کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ یہ ملاقات پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتی ہے جو ان کی مشترکہ تاریخ، ثقافت اور عقیدے سے جڑے ہوئے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے باقاعدہ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔وزیراعظم نے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خمینی کے لیے تہہ دل سے تہنیتی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

‏لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے پاس آپشن موجود ہے کہ وہ چیف آف آرمی سٹاف سے معافی اور رحم کی اپیل کر سکتے ہیں، وہ اعلیٰ عدالتوں میں بھی جا سکتے ہیں سب ٹرائل اوپن ہو گا مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ یہ اپیل کریں گے یا اپنے ساتھی عمران خان کی طرح اپنے جرم، گناہ اور غلطی پر اڑے رہیں بالکل ابلیس کی مانند ۔۔‏مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کی پروفیشنل لائف میں مسلسل جنرل عاصم منیر سے چپقلش رہی اور وہ اس حد تک تھی کہ انہوں نے ان کی ممکنہ سپہ سالاری رکوانے کے لئے عمران خان سے ( نومبر 2022 والا) لانگ مارچ بھی کروایا۔ ان کے خلاف بغاوت کے لئے عمران خان سے مل کر 9 مئی بھی برپا کیا یعنی مخالفت کی انتہا۔ یہ مخالفت پورے کیرئیر پر محیط ہے، عمرانی فتنے کے دور میں فیض حمید اسے عروج پر لے گئے۔‏سوال یہ بھی ہے کہ فیض حمید نے اس سزا سے معافی مانگ بھی لی، رحم لے بھی لیا تو کیا وہ اس اگلی کارروائی اور سزا سے بچ پائیں گے جس کی طرف آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کا آخری پیراگراف چیخ چیخ کا اعلان کر رہا