All posts by admin

مظفرآباد میں مسلم کانفرنس کی امن ریلی پر جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح شر پسندوں کا حملہ ۔ ذرائع عوامی ایکشن کمیٹی کے مُسلح شر پسندوں نے اپنے ناکام اختجاج کا غصہ عوام پر نکالنا شروع کر دیا

مظفرآباد میں مسلم کانفرنس کی امن ریلی پر جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح شر پسندوں کا حملہ ۔ ذرائع عوامی ایکشن کمیٹی کے مُسلح شر پسندوں نے اپنے ناکام اختجاج کا غصہ عوام پر نکالنا شروع کر دیا عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح شر پسندوں کی فائرنگ سے گیارہ شہری زخمی۔ ذرائع بٹل میں بھی عوامی ایکشن کمیٹی کے مُسلح شر پسندوں نے ایمبولنس کا راستہ روک لیا جسکی وجہ سے بزرگ شہری محمد صادق وفات پا گئے عوامی ایکشن کمیٹی کے مُسلح شر پسند غلیلوں اور ہتھیاروں سے پولیس پر حملے بھی کر رہے ہیں، جو صاف ظاہر کرتا ہے کے عوامی ایکشن کمیٹی کے عزائم شروع سے شر پسندانہ تھے علاقے کے عوام نے ایمبولنس روکے جانے پر غصے میں آ کر عوامی ایکشن کمیٹی کی کھڑی روکاوٹیں اٹھا کر پھینک دی عوامی ایکشن کمیٹی کی ریلی میں اشتہاریوں کی موجودگی کا انکشاف ۔ ذرائععوامی ایکشن کمیٹی کی ہلڑ بازی اور درندگی کے خلاف عوام سراپا احتجاجقانون نافذ کرنے والے اداروں نے شر پسندوں اور لیڈران کے خلاف قانونی کاروائی شروع کر دی

جناب صائم ایوب حارث کیپر کپتان اغا اور طلعت حسین کی ٹیم میں جگہ ھی نھی بنتی محسن نقوی اور عاقب جاوید کو گرفتار کیا جائے کھلاڑیوں میں کھیلنے کی صلاحیت نھی خدا مغفرت فرمائے ان 6 حرام زادوں کی جنھوں نے 24 کروڑ عوام کی خواہشات کو دفن کیا۔نااہلی کی قیمت پاکستان کی حکمرانی کا فالج۔ باجوڑ کی تحصیل ماموند کے علاقے لغڑئی میں دہشتگردوں کی جانب سے پھینکا گیا گولہ پھٹنے سے زخمی ہونے والے بچوں کو سیکیورٹی فورسز ابتدائی طبی امداد 3 بچے شھید۔پاک ، چین ، ایران اور روس کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ،لکی مروت کرک بنوں میں خطرناک دھشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری 421 بھارتی سپورت زدہ دھشت گرد ھلاک۔ ۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

نااہلی کی قیمت : انکار کا خمیازہدنیا کی جدید تاریخ میں بہت کم اقوام ایسی ملتی ہیں جنہوں نے اپنی ہی صلاحیت اور امکانات کو اتنی مستقل مزاجی کے ساتھ ضائع کیا ہو جتنا پاکستان نے کیا ہے۔ سات دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اس ملک کی جمہوری کاوشیں محض بیرونی سازشوں یا خطے کی مداخلت سے نہیں ڈگمگائیں بلکہ اصل وجہ اپنی ہی سیاسی قیادت کی ہمہ گیر نااہلی اور مسلسل ناپختگی ہے۔ پاکستان کے سیاسی انتشار کے مرکز میں ایک تلخ حقیقت پوشیدہ ہے: جنہیں آئین کی حفاظت اور جمہوری ڈھانچے کی پرورش کا امین بنایا گیا، وہ ہمیشہ بصیرت، ضبط اور ذہنی صلاحیت سے محروم نکلے۔ یہی کمی ایک ایسا مکروہ شیطانی چکر بنا چکی ہے جو بار بار لوٹ آتا ہے۔ جب بھی سیاسی قیادت لڑکھڑاتی ہے تو وہ فوجی قیادت کو مدد کے لیے پکارتی ہے، کبھی براہِ راست اور کبھی اشاروں کنایوں میں۔ یہ پکار قومی مفاد کے تحفظ کے لیے نہیں ہوتی بلکہ ذاتی مصلحت، سیاسی عدمِ تحفظ اور اقتدار سے چمٹے رہنے کی خواہش کے زیرِ اثر کی جاتی ہے۔ یوں سیاست دانوں نے فوج کو ریاستی نظم کا شراکت دار نہیں بنایا بلکہ اپنی ناکامیوں کا سہارا بنا دیا، اور یوں فوج کو ان معاملات میں گھسیٹا جہاں بنیادی طور پر عوامی نمائندوں کی عمل داری ہونی چاہیے تھی۔ یہی تسلسل بار بار اپنی جھلک دکھاتا ہے۔ سیاسی طبقہ اپنی ہی انتخابی نشستوں کی حفاظت نہیں کر پاتا تو پورے نظام کی ضمانت کیسے دے سکتا ہے؟ جو سیاست دان دھاندلی کے بغیر الیکشن نہیں جیت سکتے، جو رعایت اور سفارش کے بغیر حکومت نہیں چلا سکتے، اور جو آئین کی حدود اور قانون کی حکمرانی پر قائم نہیں رہ سکتے، وہ جمہوریت کے امین کیسے بن سکتے ہیں؟

جو اپنی سیاسی ساکھ کو سہارا نہیں دے سکتے، وہ پورے نظام کی ساکھ کے محافظ نہیں بن سکتے۔ یہ المیہ حالیہ مہینوں میں پوری شدت کے ساتھ نمایاں ہوا۔ سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ اور امریکی صدر سے ہونے والی ملاقات نے واضح کر دیا کہ عالمی برادری پاکستان کی صلاحیت کو بیوروکریسی میں نہیں بلکہ فوج میں دیکھتی ہے۔ ان اہم مواقع پر پاکستان کی نمائندگی وزراء یا تجربہ کار بیوروکریٹس نے نہیں کی بلکہ وزیرِ اعظم کے ساتھ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کھڑے تھے۔ مخالف عناصر نے اسے فوج کے “شہری آزادیوں پر قبضہ” اور “آئینی حدود سے تجاوز” کے طور پر پیش کیا، مگر درحقیقت یہ زیادہ تلخ حقیقت کی عکاسی تھی: دنیا بخوبی جانتی ہے کہ پاکستان کی اصل پیشہ ورانہ صلاحیت کہاں ہے۔ اور وہ پیشہ ورانہ صلاح عوامی قیادت میں نہیں۔

یہ انحصار محض آج کا نہیں۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک اہم قومی و بین الاقوامی مذاکرات نے بارہا سول اداروں کی ناپختگی اور نااہلی کو بے نقاب کیا۔ کشمیر تنازعہ ہو یا سندھ طاس معاہدہ، بھارت کے ساتھ مذاکرات کے دور ہوں یا غیر ملکی امداد کی شرائط، بڑے قومی منصوبوں کی نگرانی ہو یا مالیاتی بحران کا حل ہر جگہ سیاسی ناکامی نے ریاست کو کمزور کیا۔ پانی کے مذاکرات میں جماعت علی شاہ کا کردار، پاکستان اسٹیل مل، واپڈا، پی .آئی .اے اور ریلوے جیسے قومی اداروں کا زوال، اور آئی ایم ایف کے ساتھ بار بار کی سبکی اس حقیقت کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں کہ سیاسی قیادت نے قومی مفاد کو بارہا اپنی کمزوریاں اور ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھایا۔ اس کے برعکس فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ وہ دنیا کے بڑے اداروں جیسے امریکی محکمۂ خارجہ، برطانوی فارن آفس یا بین ا لاقوامی سلامتی کے دیگر اداروں کی سطح پر اپنی مہارت دکھا سکتی ہے۔ پاکستان کی فوج دنیا سے مکالمے کی اصل نمائندہ اس لیے بنی کہ سیاست دان اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو گئے۔ یہ کسی جبر کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک خلا کو پر کرنے کی ناگزیر صورت تھی۔ کچھ حلقے فوجی کردار کو براہِ راست غیر آئینی اور آمرانہ قرار دیتے ہیں۔ مگر یہ تنقید اس منطقی حقیقت کو نظرانداز کرتی ہے کہ فوجی مداخلت کسی خلا میں جنم نہیں لیتی بلکہ سیاسی قیادت کی نااہلی ہی ایسے حالات پیدا کرتی ہے۔ جب سیاسی رہنما اپنی غفلت اور کمزوری سے بحران کو جنم دیتے ہیں تو پھر غیر سول ادارے مداخلت پر مجبور ہوتے ہیں۔ فوج پر جمہوریت پر قبضہ کا الزام لگانے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ جمہوریت پہلے ہی اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہوتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ جو سیاسی قیادت نہ اتفاقِ رائے پیدا کر سکتی ہے، نہ آئین کی پاسداری کر سکتی ہے، اور نہ ہی ریاستی امور کی بنیادی ذمہ داریاں نبھا سکتی ہے، وہ کس منہ سے بالادستی کی دعوے دار بن سکتی ہے؟ اور عوام یا دنیا اس پر کیسے اعتماد کرے؟ اس صورتِ حال کا حل بار بار کی مداخلت یا “سول بالادستی” کے اندھے نعرے نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت اپنی فکری، تنظیمی اور اخلاقی کمزوریوں کا اعتراف کرے۔ جب تک اپنی کمزوریوں کا ادراک نہیں ہو گا، کوئی اصلاح ممکن نہیں۔ اس کے بعد انہیں حقیقی سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا، ایسا اتفاق جو وقتی جوڑ توڑ پر مبنی نہ ہو بلکہ ریاستی استحکام، قانون کی حکمرانی اور قومی ترجیحات پر پائیدار سمجھوتہ ہو۔ تبھی وہ ریاستی ذمہ داری سنبھالنے اور جمہوریت کے تحفظ کا اہل ہو سکتے ہیں۔ جب تک یہ سیاسی پختگی سامنے نہیں آتی،

سول بالادستی کے نعرے کھوکھلے رہیں گے۔ بالادستی سے پہلے صلاحیت ضروری ہے۔ خودمختاری صرف نعروں اور تقریروں سے محفوظ نہیں رہ سکتی، اس کے لیے بصیرت، ادارہ جاتی ضبط اور فکری طاقت درکار ہے۔ ان اوصاف کے بغیر پاکستان ہمیشہ اسی دائرے میں قید رہے گا: سیاسی قیادت ناکام، فوجی قیادت مداخلت کرتی ہوئی، اور ریاست معلق حیثیت میں جھولتی ہوئی۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اب اس تلخ حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا کہ انہوں نے بارہا ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دی، فوج کو وہاں گھسیٹا جہاں اس کا کام نہیں تھا، اور جمہوریت کو ایک سرکاری نوکریوں اور نوازشات کی منڈی میں بدل دیا۔ جب تک اس حقیقت کا اعتراف اور تدارک نہیں ہوتا، ریاست ایسے ہی خودساختہ بحرانوں میں پھنسی رہے گی، اور ہر نیا بحران پچھلے سے زیادہ مہنگا ثابت ہوگا۔ اس سلسلے کی اگلی قسط ریاستی زوال کے ایک اور سنگین پہلو پر روشنی ڈالے گی: پاکستان کے عدالتی نظام کی ناکامی۔ جس طرح سیاسی قیادت نے حکومت کو ترک کیا، اسی طرح عدلیہ نے بھی انصاف کو چھوڑ دیا۔ دونوں نے مل کر ریاست کو ایک نازک توازن پر لٹکا دیا ہے، جہاں نہ جمہوریت پنپ سکتی ہے اور نہ ہی قانون۔ (جاری ہے)

دفتر وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ چنیوٹ تاریخ: 28 ستمبر 2025*سیلاب متاثرین کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے، قیصر احمد شیخ*چنیوٹ: وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ،

جناب قیصر احمد شیخ نے آج سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کی مکمل بحالی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے

۔وفاقی وزیر نے کہا کہ نقصانات کے تخمینے کے لیے وفاقی و صوبائی ٹیمیں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر سروے کر رہی ہیں تاکہ متاثرہ افراد کو فوری ریلیف اور معاوضہ فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے اس موقع پر ملکی خارجہ پالیسی کے حالیہ کامیاب پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے امریکہ، چین اور سعودی عرب سمیت بڑے ممالک کے ساتھ تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

حالیہ اقتصادی معاہدے پاکستان کے مستقبل کے لیے “گیم چینجر” ثابت ہوں گے۔قیصر احمد شیخ نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن کا حامی رہا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران یہ موقف واضح طور پر پیش کیا ہے۔

وزیراعظم کی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں اور نئے معاہدے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نے امریکہ سے آن لائن اجلاس کی صدارت کی ہے جس میں وزیر اعظم نے سیلاب متاثرین کی جلد سے جلد بحالی کے لیے ہدایات جاری کی ہیں

اپنے دورے کے دوران وفاقی وزیر نے جامعہ آباد ریلیف کیمپ کا معائنہ کیا اور موضع نوشہرہ میں متاثرہ کسانوں کو جانوروں کے لیے چارہ بھی تقسیم کیا۔

*پاکستانی کھلاڑی نور زمان نے کینیڈا میں نیش کپ اسکواش ٹورنامنٹ جیت لیا*پاکستان کے نور زمان نے کینیڈا میں کھیلے گئے نیش کپ اسکواش ٹورنامنٹ کا ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔ فائنل میں انہوں نے مصر کے سیکنڈ سیڈ مصطفیٰ السرطی کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد شکست دی۔ میچ 52 منٹ تک جاری رہا،

جس میں نور زمان نے پہلا گیم سخت جدوجہد کے بعد 19-17 سے جیتا۔ دوسرے اور تیسرے گیم میں بھی شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بالترتیب 11-7 اور 11-9 سے کامیابی حاصل کی، یوں تین صفر کی برتری کے ساتھ ٹورنامنٹ جیت لیا۔

تیسری جانب گائے کے بچھڑے ہندوتوا اور مودی اور اس کے پا;گل سنکی ساتھی!یہ بھی نا یہو-د-یوں کو دل سے پسند کرتے ہیں نا سلیبیوں کو نا کسی مسلمان نا بدھسٹوں کو بلکہ یہ واحد قوم ہے جو یہو-د کے بعد اپنے علاؤہ سب سے نفرت کرتی ہے۔ پاکستان کا وجود آج تک انہوں نے دل سے کبھی نا تسلیم کیا نا کریں گے اسی سبب سے، لیکن یہ بھی ایسے گڑھے میں گرنے جارہے ہیں کہ بہت زیادہ پچھتائیں گے، سب سے پہلے انکو سبق ملے گا۔

یہ گندخور سو-ر کی مثال ہیں جسے نا عقل ہے نا کوئی آئین و قانون مانتے کیونکہ یہ خدا بھی 33 کروڑ بتوں کی صورت مانتے بلکہ لگے ہاتھوں اسی سال ڈونلڈ ٹرمپ کی بھی پوجا کر ڈالی۔ دراصل یہ خود کو صرف خود کو دنیا کی سب سے عقلمند قوم سمجھتے ہیں د-ھو-کہ ان کا مذ-ہب ہے خوشامد ان کا ایمان ہے۔ اور سفاکیت انکا عمل ہے۔ اور حسد ان کی رگ رگ میں ہے۔ جیسے سو-ر احمق اور بیشر-م جانور ہے یہ اسی کی بلکل ٹھیک ٹھیک مثال ہیں۔ ان کو رب تعالیٰ نے ایسا پھنسانا ہے کہ بلکل بے یارو مددگار ہو کر ہمارے گھیرے میں آئیں گے اور جس چیز سے بھا!گتے ہیں یعنی جہا!د وہی انکا آخری نصیب ہوگا ان شاءاللہ تعالیٰ لیکن خبردار اسے کمزور ہرگز مت سمجھنا اور چالبازی میں مکمل خینز-یر ہیں۔ چانکیہ کی باقیات خود کو سمجھتے ہیں۔ لیکن اب تاریخ کی ساری کسر نکال کر رہے گی۔ ان شاءاللہ اللہ ھو اکبر!تحریکِ نظریہ پاکستان 🇧🇩🇵🇰🇸🇦🇵🇸🇹🇷🇦🇿🇨🇳⚔️

امریکی مسسلح افواج کے مرد اور خاتون پائلٹ نے ہتھیاروں سے لدے جہازوں کو اصرائیل لے جانے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد، انہیں پینٹاگون بلایا گیا اور زبردستی گرفتار کرکے ہتھکڑیاں لگا دی گئیں۔براہِ کرم کلپ دیکھیں، اس سے پہلے کہ یہ انٹرنیٹ سے ہٹا دیا جائے، اسے شیئر کریں۔ تاکہ پوری دنیا کو پتا چلے کہ فلصطین کی بربا!دی میں سب سے بڑا ہاتھ اور پہلا نمبر امریکہ کا ہے۔ 😢💔😭

ہیڈ اسلام وہاڑی کے قریب کار اور بس میں تصادم، 6 افراد جاں بحقجاں بحق ہونے والے کار سوار افراد فیصل آباد کے رہائشی تھے

نازیہ حسن سے کل بھی محبت کرتا تھا آج بھی اسے بہت یاد کرتا ہوں، طلاق کی خبریں جھوٹی ہیں وہ فوت ہوئی تو میری بیوی تھی ، زوہیب نے جو الزامات لگائے سب بے بنیاد ہیں ، نازیہ حسن نے میرے ساتھ شادی کے بعد گلوکاری چھوڑ دی ، جس کا اثر زوہیب پر پڑا اور وہ زیرو ہو کر رہ گیا ، اس نے چالیں چل کر ہماری شادی خراب کی ۔ نازیہ کی موت کینسر سے ہوئی اس کا سرٹیفکیٹ لندن کے ہسپتال نے جاری کیا جہاں وہ زیر علاج رہی۔ ۔۔۔نازیہ حسن کے شوہر معروف بزنس میں اشتیاق بیگ کے انکشافات

، 28 ستمبر 2025وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا عالمی دن برائے رسائی معلومات (access to information) کے موقع پر پیغام معلومات تک رسائی کے عالمی دن کے موقع پر حکومت پاکستان ہر شہری کے اس بنیادی حق کی غیر متزلزل توثیق کرتی ہے کہ وہ معلومات کی تلاش، وصول اور ترسیل کرے۔ معلومات تک رسائی نہ صرف ایک جمہوری حق ہے بلکہ شفافیت، جوابدہی، اور عوامی خودمختاری کے لیے ایک طاقتور ذریعہ بھی ہے۔آج کی آپس میں جڑی ہوئی دنیا میں، معلومات کا آزادانہ بہاؤ اچھی حکمرانی کو مضبوط کرتا ہے، سماجی شمولیت کو فروغ دیتا ہے، اور ریاست اور اس کے لوگوں کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرتا ہے۔

باخبر معاشروں کے ذریعے ہی قومیں امن، انصاف، اور پائیدار ترقی کی جانب بڑھ سکتی ہیں۔پاکستان نے قانون سازی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے شہریوں کے معلومات کے حق کی ضمانت کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔ ہم اس بات کے عزم کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں گے کہ معاشرے کے تمام طبقے، خاص طور پر خواتین، نوجوان اور پسماندہ طبقات کو، ڈیجیٹل دور میں معلومات تک مساوی رسائی سے مستفید ہو سکیں۔ پاکستان انفارمیشن کمیشن، حق تک رسائی قانون 2017 کے تحت، ایک جزوی عدالتی فورم ہے،

جو معلومات تک رسائی فراہم کرتا ہے اور شہریوں کی شکایات کا ازالہ کرتا ہے۔ عوامی ریکارڈ کو محفوظ کرنے اور اس کی رسائی کو آسان بنانے کے لیے ڈیجیٹائزیشن کا عمل بھی شروع کیا جا چکا ہے۔ آج کے دن، میں تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول حکومتی اداروں، سول سوسائٹی، میڈیا، اور ٹیکنالوجی کے پلیٹ فارمز سے اپیل کرتا ہوں

کہ مل کر ایک زیادہ کھلی، شفاف، اور علم پر مبنی معاشرہ بنانے کے لیے کام کریں۔ ایسا کرکے، ہم اپنے لوگوں کو بااختیار بنا سکتے ہیں، اپنی جمہوریت کو مضبوط کر سکتے ہیں، اور پاکستان کے ترقی اور خوشحالی کی طرف سفر کو تیز کر سکتے ہیں۔ آئیے ہم اپنی عزم کی تجدید کریں کہ ہم سب کے فائدے کے لیے معلومات تک عالمی رسائی کی حفاظت اور اس کے فروغ کے لیے کام کریں گے۔

امریکی مسسلح افواج کے مرد اور خاتون پائلٹ نے ہتھیاروں سے لدے جہازوں کو اصرائیل لے جانے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد، انہیں پینٹاگون بلایا گیا اور زبردستی گرفتار کرکے ہتھکڑیاں لگا دی گئیں۔براہِ کرم کلپ دیکھیں، اس سے پہلے کہ یہ انٹرنیٹ سے ہٹا دیا جائے، اسے شیئر کریں۔ تاکہ پوری دنیا کو پتا چلے کہ فلصطین کی بربا!دی میں سب سے بڑا ہاتھ اور پہلا نمبر امریکہ کا ہے۔ 😢💔😭

نااہلی کی قیمت : انکار کا خمیازہدنیا کی جدید تاریخ میں بہت کم اقوام ایسی ملتی ہیں جنہوں نے اپنی ہی صلاحیت اور امکانات کو اتنی مستقل مزاجی کے ساتھ ضائع کیا ہو جتنا پاکستان نے کیا ہے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

نااہلی کی قیمت : انکار کا خمیازہدنیا کی جدید تاریخ میں بہت کم اقوام ایسی ملتی ہیں جنہوں نے اپنی ہی صلاحیت اور امکانات کو اتنی مستقل مزاجی کے ساتھ ضائع کیا ہو جتنا پاکستان نے کیا ہے۔ سات دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اس ملک کی جمہوری کاوشیں محض بیرونی سازشوں یا خطے کی مداخلت سے نہیں ڈگمگائیں بلکہ اصل وجہ اپنی ہی سیاسی قیادت کی ہمہ گیر نااہلی اور مسلسل ناپختگی ہے۔ پاکستان کے سیاسی انتشار کے مرکز میں ایک تلخ حقیقت پوشیدہ ہے: جنہیں آئین کی حفاظت اور جمہوری ڈھانچے کی پرورش کا امین بنایا گیا، وہ ہمیشہ بصیرت، ضبط اور ذہنی صلاحیت سے محروم نکلے۔ یہی کمی ایک ایسا مکروہ شیطانی چکر بنا چکی ہے جو بار بار لوٹ آتا ہے۔ جب بھی سیاسی قیادت لڑکھڑاتی ہے تو وہ فوجی قیادت کو مدد کے لیے پکارتی ہے، کبھی براہِ راست اور کبھی اشاروں کنایوں میں۔ یہ پکار قومی مفاد کے تحفظ کے لیے نہیں ہوتی بلکہ ذاتی مصلحت، سیاسی عدمِ تحفظ اور اقتدار سے چمٹے رہنے کی خواہش کے زیرِ اثر کی جاتی ہے۔ یوں سیاست دانوں نے فوج کو ریاستی نظم کا شراکت دار نہیں بنایا بلکہ اپنی ناکامیوں کا سہارا بنا دیا، اور یوں فوج کو ان معاملات میں گھسیٹا جہاں بنیادی طور پر عوامی نمائندوں کی عمل داری ہونی چاہیے تھی۔ یہی تسلسل بار بار اپنی جھلک دکھاتا ہے۔

سیاسی طبقہ اپنی ہی انتخابی نشستوں کی حفاظت نہیں کر پاتا تو پورے نظام کی ضمانت کیسے دے سکتا ہے؟ جو سیاست دان دھاندلی کے بغیر الیکشن نہیں جیت سکتے، جو رعایت اور سفارش کے بغیر حکومت نہیں چلا سکتے، اور جو آئین کی حدود اور قانون کی حکمرانی پر قائم نہیں رہ سکتے، وہ جمہوریت کے امین کیسے بن سکتے ہیں؟ جو اپنی سیاسی ساکھ کو سہارا نہیں دے سکتے، وہ پورے نظام کی ساکھ کے محافظ نہیں بن سکتے۔ یہ المیہ حالیہ مہینوں میں پوری شدت کے ساتھ نمایاں ہوا۔ سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ اور امریکی صدر سے ہونے والی ملاقات نے واضح کر دیا کہ عالمی برادری پاکستان کی صلاحیت کو بیوروکریسی میں نہیں بلکہ فوج میں دیکھتی ہے۔ ان اہم مواقع پر پاکستان کی نمائندگی وزراء یا تجربہ کار بیوروکریٹس نے نہیں کی بلکہ وزیرِ اعظم کے ساتھ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کھڑے تھے۔ مخالف عناصر نے اسے فوج کے “شہری آزادیوں پر قبضہ” اور “آئینی حدود سے تجاوز” کے طور پر پیش کیا، مگر درحقیقت یہ زیادہ تلخ حقیقت کی عکاسی تھی: دنیا بخوبی جانتی ہے کہ پاکستان کی اصل پیشہ ورانہ صلاحیت کہاں ہے۔ اور وہ پیشہ ورانہ صلاح عوامی قیادت میں نہیں۔ یہ انحصار محض آج کا نہیں۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک اہم قومی و بین الاقوامی مذاکرات نے بارہا سول اداروں کی ناپختگی اور نااہلی کو بے نقاب کیا۔ کشمیر تنازعہ ہو یا سندھ طاس معاہدہ، بھارت کے ساتھ مذاکرات کے دور ہوں یا غیر ملکی امداد کی شرائط، بڑے قومی منصوبوں کی نگرانی ہو یا مالیاتی بحران کا حل ہر جگہ سیاسی ناکامی نے ریاست کو کمزور کیا۔ پانی کے مذاکرات میں جماعت علی شاہ کا کردار، پاکستان اسٹیل مل، واپڈا، پی .آئی .اے اور ریلوے جیسے قومی اداروں کا زوال، اور آئی ایم ایف کے ساتھ بار بار کی سبکی اس حقیقت کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں کہ سیاسی قیادت نے قومی مفاد کو بارہا اپنی کمزوریاں اور ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھایا۔

اس کے برعکس فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ وہ دنیا کے بڑے اداروں جیسے امریکی محکمۂ خارجہ، برطانوی فارن آفس یا بین ا لاقوامی سلامتی کے دیگر اداروں کی سطح پر اپنی مہارت دکھا سکتی ہے۔ پاکستان کی فوج دنیا سے مکالمے کی اصل نمائندہ اس لیے بنی کہ سیاست دان اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو گئے۔ یہ کسی جبر کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک خلا کو پر کرنے کی ناگزیر صورت تھی۔ کچھ حلقے فوجی کردار کو براہِ راست غیر آئینی اور آمرانہ قرار دیتے ہیں۔ مگر یہ تنقید اس منطقی حقیقت کو نظرانداز کرتی ہے کہ فوجی مداخلت کسی خلا میں جنم نہیں لیتی بلکہ سیاسی قیادت کی نااہلی ہی ایسے حالات پیدا کرتی ہے۔ جب سیاسی رہنما اپنی غفلت اور کمزوری سے بحران کو جنم دیتے ہیں تو پھر غیر سول ادارے مداخلت پر مجبور ہوتے ہیں۔ فوج پر جمہوریت پر قبضہ کا الزام لگانے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ جمہوریت پہلے ہی اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو سیاسی قیادت نہ اتفاقِ رائے پیدا کر سکتی ہے، نہ آئین کی پاسداری کر سکتی ہے، اور نہ ہی ریاستی امور کی بنیادی ذمہ داریاں نبھا سکتی ہے، وہ کس منہ سے بالادستی کی دعوے دار بن سکتی ہے؟

اور عوام یا دنیا اس پر کیسے اعتماد کرے؟ اس صورتِ حال کا حل بار بار کی مداخلت یا “سول بالادستی” کے اندھے نعرے نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت اپنی فکری، تنظیمی اور اخلاقی کمزوریوں کا اعتراف کرے۔ جب تک اپنی کمزوریوں کا ادراک نہیں ہو گا، کوئی اصلاح ممکن نہیں۔ اس کے بعد انہیں حقیقی سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا، ایسا اتفاق جو وقتی جوڑ توڑ پر مبنی نہ ہو بلکہ ریاستی استحکام، قانون کی حکمرانی اور قومی ترجیحات پر پائیدار سمجھوتہ ہو۔ تبھی وہ ریاستی ذمہ داری سنبھالنے اور جمہوریت کے تحفظ کا اہل ہو سکتے ہیں۔ جب تک یہ سیاسی پختگی سامنے نہیں آتی، سول بالادستی کے نعرے کھوکھلے رہیں گے۔ بالادستی سے پہلے صلاحیت ضروری ہے۔ خودمختاری صرف نعروں اور تقریروں سے محفوظ نہیں رہ سکتی، اس کے لیے بصیرت، ادارہ جاتی ضبط اور فکری طاقت درکار ہے۔ ان اوصاف کے بغیر پاکستان ہمیشہ اسی دائرے میں قید رہے گا: سیاسی قیادت ناکام، فوجی قیادت مداخلت کرتی ہوئی، اور ریاست معلق حیثیت میں جھولتی ہوئی۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اب اس تلخ حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا کہ انہوں نے بارہا ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دی، فوج کو وہاں گھسیٹا جہاں اس کا کام نہیں تھا، اور جمہوریت کو ایک سرکاری نوکریوں اور نوازشات کی منڈی میں بدل دیا۔ جب تک اس حقیقت کا اعتراف اور تدارک نہیں ہوتا، ریاست ایسے ہی خودساختہ بحرانوں میں پھنسی رہے گی، اور ہر نیا بحران پچھلے سے زیادہ مہنگا ثابت ہوگا۔ اس سلسلے کی اگلی قسط ریاستی زوال کے ایک اور سنگین پہلو پر روشنی ڈالے گی: پاکستان کے عدالتی نظام کی ناکامی۔ جس طرح سیاسی قیادت نے حکومت کو ترک کیا، اسی طرح عدلیہ نے بھی انصاف کو چھوڑ دیا۔ دونوں نے مل کر ریاست کو ایک نازک توازن پر لٹکا دیا ہے، جہاں نہ جمہوریت پنپ سکتی ہے اور نہ ہی قانون۔ (جاری ہے)

نااہلی کی قیمت پاکستان کی حکمرانی کا فالج اور انکار کا خمیازہ ۔ سھیل رانا بادبان رپورٹ۔ بادبان میگزین کا تازہ شمارہ اپنے ہاکر سے طلب کریں ۔

https://dailypostinternational.com/

یمن میں 24 پاکستانی عملے والے ایل پی جی ٹینکر پر اسرائیلی حملہ پاکستانی یرغمال تفصیلات بادبان ٹی وی پر

بادبان: یمن میں 24 پاکستانی عملے والے ایل پی جی ٹینکر پر اسرائیلی ڈرون حملہ، خطے میں سنگین جغرافیائی سیاسی سوالات کھڑے

اسلام آباد — ایک نہایت ڈرامائی اور تشویشناک انکشاف میں پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ہفتے کے روز (ترک میڈیا کے مطابق) تصدیق کی کہ اس ماہ کے آغاز میں یمن کی بندرگاہ راس العیسیٰ پر لنگر انداز ایک مائع قدرتی گیس (ایل پی جی) ٹینکر کو اسرائیلی ڈرون نے نشانہ بنایا۔ جہاز پر 27 افراد سوار تھے، جن میں 24 پاکستانی شامل تھے۔

حملے کے نتیجے میں جہاز کے ایک ٹینک میں دھماکہ ہوا جس سے آگ بھڑک اُٹھی اور عملے کو اپنی جان بچانے کے لیے جدوجہد کرنا پڑی۔ اگرچہ آگ پر قابو پا لیا گیا، لیکن صورتحال اس وقت مزید بگڑ گئی جب حوثی کشتیاں جہاز کے قریب آئیں اور عملے کو یرغمال بنا لیا۔ کئی دن کی غیر یقینی کیفیت کے بعد حوثیوں نے بالآخر ٹینکر اور اس کے عملے کو رہا کر دیا، جو اب یمنی پانیوں سے باہر ہیں۔

یرغمال بننے والوں میں جہاز کے کپتان مختار اکبر بھی شامل تھے، جو اپنے پاکستانی ساتھی ملاحوں، دو سری لنکن اور ایک نیپالی کے ساتھ پھنس گئے تھے۔ وزیرِ داخلہ نقوی نے پاکستان کے سول اور سیکیورٹی اداروں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے “مایوسی کی گھڑی میں غیر معمولی حالات کے تحت پاکستانی شہریوں کی محفوظ رہائی” ممکن بنائی۔

اس انکشاف نے علاقائی میڈیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ جہاں پاکستان کا مرکزی میڈیا اس معاملے پر خاموش ہے، وہیں مشرقِ وسطیٰ، ترکی اور بھارت کے ذرائع ابلاغ اس خبر کو بھرپور انداز میں اجاگر کر رہے ہیں اور اسے اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ کے تناظر میں ایک نہایت خطرناک موڑ قرار دے رہے ہیں، جہاں اکتوبر 2023 سے اب تک 65 ہزار 500 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

یہ حملہ نہ صرف بحیرہ احمر کے غیر مستحکم خطے کے لیے ایک الارم ہے بلکہ پاکستان اور سعودی عرب کے مستقبل کے دفاعی تعلقات پر بھی گہرے سوالات کھڑا کرتا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ واقعہ — اور اس کے بعد حوثیوں کی مداخلت — اسلام آباد کی اُس نازک توازن کی پالیسی کو مشکل بنا سکتی ہے جو وہ ریاض، تہران اور تل ابیب کے درمیان قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

“یہ محض ایک سمندری حادثہ نہیں ہے،” ایک سینئر علاقائی مبصر نے کہا۔ “یہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی دفاعی ذمہ داریاں، خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ، دنیا کے سب سے آتش فشاں جیسے سیاسی منظرنامے میں پرکھی جائیں گی۔”

جوں جوں کشیدگیاں بڑھ رہی ہیں اور بیانیے تقسیم ہو رہے ہیں، ایک حقیقت بالکل واضح ہے: عام پاکستانی ملاحوں سے بھرا ایک جہاز مشرقِ وسطیٰ کی بڑی جنگوں میں الجھ چکا ہے — وہ جنگیں جن کے ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے

اسرائیلی وزیر اعظم کے خطاب پر ھال خالی۔۔وزیر اعطم نواز شریف کے مکے اور ڈائیس۔۔سری لنکا اور بھارت کا میچ ٹائی۔۔بھارت کا غرور خاک میں سری لنکا کی عمدہ کارکردگی۔۔۔۔افغان مہاجرین کیمپ بند۔ یمن سے اسرائیل میزائل حملہ 25 افراد جان بحق۔ دنیا تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن سعودی عرب کے لیے مشکلات مے اضافہ۔ ۔۔سری لنکن نوجوان کھلاڑی پاتھم ناسنکا نے انڈین باؤلنگ لائن اپ کو ادھیڑ کر رکھ دیا۔۔ ۔پاکستان مشترکہ فوجی مشقیں۔۔ ھای کورت ججز کی کارکردگی نیا قانون متعارف ۔ ادویات پر 100 فیصد درامدت پر ٹیکس نافذ بھارت تباہ و برباد ۔ ایشیا کپ کے فائنل میں سب سے زیادہ سری لنکا نے 12 بار کوالیفائی کیا جبکہ انڈیا 11 پاکستان 6 اور بنگلہ دیش نے 3 بار کوالیفائی کیا۔ ٹول پلازہ میں بھرتیوں کا اعلان تعلیم میٹرک سے ماسٹر تک پورے پاکستان سے اپلائی کرنے .اقوام متحدہ میں اسرائیلی وزیراعظم کی تقریر ’گمراہ کُن‘ تھی: حماس۔ تفصیلات کے لیے کلک کریں

سچن ٹنڈولکر کو کرکٹ کا دیوتا کہا جاتا ہے, یہ کرکٹ کی تاریخ میں سو سنچریاں بنانے والا پہلا کھلاڑی ہے۔ یہ تاریخ کا پہلا کھلاڑی ہے جس نے 664 انٹرنیشنل میچز کھیلے اور 34,357 رنز بنائے۔ یہ ونڈے انٹرنیشنل میں بھی 10,000 رنز بنانے والا پہلا کھلاڑی تھا آسٹریلیا کے باؤلر براڈ ہوگ نے 2007 میں سچن ٹنڈولکر کو آؤٹ کر دیا تھا یہ براڈ ہوگ کی زندگی کی سب سے بڑی اچیومنٹ تھی یہ اس اچیومنٹ کے بعد بال لے کر سچن ٹنڈولکر کے پاس گیا اور بڑی عاجزی کے ساتھ عرض کیا:”جناب یہ میری زندگی کا سب سے بڑا اور اہم موقع ہے۔ میں نے گارڈ آف کرکٹ کو آؤٹ کر دیا۔ آپ پلیز مجھے اس بال پر آٹوگراف دے دیں۔”سچن ٹڈولکر نے گیند لی اور اس پر مارکر سے لکھ دیا:”This will never happen againتمہاری زندگی میں یہ موقع دوبارہ کبھی نہیں آئے گا۔”آپ سچن ٹنڈولکر کا اپنی ذات پر اعتماد دیکھئے۔ براڈ کا اس کے بعد سچن ٹنڈولکر سے اکیس مرتبہ سامنا ہوا ہوگ نے سچن کا غرور توڑنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا لیکن براڈ ہوگ دوبارہ اس کی وکٹ نہیں لے سکا۔ آخر اس شخص کے پاس کونسا فارمولا کونسا گر تھا؟ یہ گر سچن ٹنڈورلکر نے اپنی زبان سے دنیا کو بتایا۔ اس کا کہنا تھا میں 1989 میں سولہ سال کی عمر میں انٹرنیشنل کرکٹ میں آیا اور 2013 میں دو سو ٹیسٹ میچ کھیل کر ریٹائر ہو گیا۔ میرے کیریئر کے چوبیس سال بنتے ہیں ان چوبیس برسوں میں ایک بھی دن ایسا نہیں گزرا جب میں صبح چھ بجے گراؤنڈ نہ پہنچا ہوں اور میں نے پانچ سو گیندیں نہ کھیلی ہوں

۔میں نے اپنے کیریئر کے چوبیس برسوں میں موبائل فون، شیشا یعنی آئینہ اور اپنے رشتہ داروں کا منہ بعد میں دیکھا اور پانچ سو گیندیں پہلے کھیلیں۔ انٹرویو کرنے والے نے پوچھا آپ نے کبھی چھٹی نہیں کی؟ سچن نے جواب دیا میں نے ایک بھی چھٹی نہیں کی۔ پوچھنے والے نے پوچھا کرسمس، نیشنل ڈے، دیوالی، دوسہرا آپ نے کبھی چھٹی نہیں کی؟ سچن نے جواب دیا میں شادی کے دن اور سہاگ رات سے اگلی صبح بھی ٹھیک چھ بجے گراؤنڈ میں تھا۔میں نے زندگی میں میچز کے علاوہ صرف پریکٹس کے دوران 44 لاکھ گیندیں کھیلی ہیں اور یہ وہ 44 لاکھ گیندیں ہیں جن کی وجہ سے لوگ مجھے گارڈ آف کرکٹ کہتے ہیں۔ انٹرویو لینے والے نے پوچھا کہ آپ سنچری یا ڈبل سنچری کرنے کے اگلے دن بھی پریکٹس کرتے تھے؟ سچن نے جواب دیا ہم نے 2 اپریل 2011 کو ورلڈ کپ جیتا تھا میں ورلڈ کپ جیتنے سے اگلی صبح یعنی 3 اپریل کو بھی ٹھیک چھ بجے گراؤنڈ میں تھا اور میں نے پانچ سو گیندیں کھیلنے کے بعد اپنا موبائل فون آن کیا اور وزیراعظم منموہن سنگھ کی مبارک باد کی کال ریسیو کی تھی۔

یہ پریکٹس اور خوفناک حد تک ڈسپلن تھا یہ صرف خوش قسمتی، ماں یا قوم کی دعائیں نہیں تھیں یہ اس شخص کا ڈسپلن اور کام سے لگن تھی اور اس لگن نے اسے عزت اور شہرت کی انتہا تک پہنچا دیا تھا۔”اگر آپ چاہتے ہیں کہ دنیا آپ کو ‘گارڈ آف کرکٹ’ یا اپنے شعبے کا لیجنڈ کہے، تو آپ کو وہ کرنا ہوگا جو عام لوگ نہیں کرتے۔”سب سے پہلے اپنا ٹیلنٹ ڈسکور کریںیہ معلوم کریں کہ آپ کس کام میں قدرتی طور پر اچھے ہیں؟ اپنے اندر چھپی صلاحیت کو پہچانیں۔ پھر اس پر سچن جیسی پریکٹس کریںہم اپنے سیشنز میں آپ کو سکھاتے ہیںاپنا ٹیلنٹ کیسے دریافت کریںاس ٹیلنٹ کو کیسے نکھاریںروزانہ کی پریکٹس کو کیسے مؤثر بنائیںاپنے

سچن ٹنڈولکر کو کرکٹ کا دیوتا کہا جاتا ہے, یہ کرکٹ کی تاریخ میں سو سنچریاں بنانے والا پہلا کھلاڑی ہے۔ یہ تاریخ کا پہلا کھلاڑی ہے جس نے 664 انٹرنیشنل میچز کھیلے اور 34,357 رنز بنائے۔ یہ ونڈے انٹرنیشنل میں بھی 10,000 رنز بنانے والا پہلا کھلاڑی تھا آسٹریلیا کے باؤلر براڈ ہوگ نے 2007 میں سچن ٹنڈولکر کو آؤٹ کر دیا تھا یہ براڈ ہوگ کی زندگی کی سب سے بڑی اچیومنٹ تھی یہ اس اچیومنٹ کے بعد بال لے کر سچن ٹنڈولکر کے پاس گیا اور بڑی عاجزی کے ساتھ عرض کیا:”جناب یہ میری زندگی کا سب سے بڑا اور اہم موقع ہے۔ میں نے گارڈ آف کرکٹ کو آؤٹ کر دیا۔ آپ پلیز مجھے اس بال پر آٹوگراف دے دیں۔

“سچن ٹڈولکر نے گیند لی اور اس پر مارکر سے لکھ دیا:”This will never happen againتمہاری زندگی میں یہ موقع دوبارہ کبھی نہیں آئے گا۔”آپ سچن ٹنڈولکر کا اپنی ذات پر اعتماد دیکھئے۔ براڈ کا اس کے بعد سچن ٹنڈولکر سے اکیس مرتبہ سامنا ہوا ہوگ نے سچن کا غرور توڑنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا لیکن براڈ ہوگ دوبارہ اس کی وکٹ نہیں لے سکا۔ آخر اس شخص کے پاس کونسا فارمولا کونسا گر تھا؟ یہ گر سچن ٹنڈورلکر نے اپنی زبان سے دنیا کو بتایا۔ اس کا کہنا تھا میں 1989 میں سولہ سال کی عمر میں انٹرنیشنل کرکٹ میں آیا اور 2013 میں دو سو ٹیسٹ میچ کھیل کر ریٹائر ہو گیا۔ میرے کیریئر کے چوبیس سال بنتے ہیں ان چوبیس برسوں میں ایک بھی دن ایسا نہیں گزرا جب میں صبح چھ بجے گراؤنڈ نہ پہنچا ہوں اور میں نے پانچ سو گیندیں نہ کھیلی ہوں۔میں نے اپنے کیریئر کے چوبیس برسوں میں موبائل فون، شیشا یعنی آئینہ اور اپنے رشتہ داروں کا منہ بعد میں دیکھا اور پانچ سو گیندیں پہلے کھیلیں۔ انٹرویو کرنے والے نے پوچھا آپ نے کبھی چھٹی نہیں کی؟

سچن نے جواب دیا میں نے ایک بھی چھٹی نہیں کی۔ پوچھنے والے نے پوچھا کرسمس، نیشنل ڈے، دیوالی، دوسہرا آپ نے کبھی چھٹی نہیں کی؟ سچن نے جواب دیا میں شادی کے دن اور سہاگ رات سے اگلی صبح بھی ٹھیک چھ بجے گراؤنڈ میں تھا۔میں نے زندگی میں میچز کے علاوہ صرف پریکٹس کے دوران 44 لاکھ گیندیں کھیلی ہیں اور یہ وہ 44 لاکھ گیندیں ہیں جن کی وجہ سے لوگ مجھے گارڈ آف کرکٹ کہتے ہیں۔ انٹرویو لینے والے نے پوچھا کہ آپ سنچری یا ڈبل سنچری کرنے کے اگلے دن بھی پریکٹس کرتے تھے؟ سچن نے جواب دیا

ہم نے 2 اپریل 2011 کو ورلڈ کپ جیتا تھا میں ورلڈ کپ جیتنے سے اگلی صبح یعنی 3 اپریل کو بھی ٹھیک چھ بجے گراؤنڈ میں تھا اور میں نے پانچ سو گیندیں کھیلنے کے بعد اپنا موبائل فون آن کیا اور وزیراعظم منموہن سنگھ کی مبارک باد کی کال ریسیو کی تھی۔ یہ پریکٹس اور خوفناک حد تک ڈسپلن تھا یہ صرف خوش قسمتی، ماں یا قوم کی دعائیں نہیں تھیں یہ اس شخص کا ڈسپلن اور کام سے لگن تھی اور اس لگن نے اسے عزت اور شہرت کی انتہا تک پہنچا دیا تھا۔”اگر آپ چاہتے ہیں کہ دنیا آپ کو ‘گارڈ آف کرکٹ’ یا اپنے شعبے کا لیجنڈ کہے، تو آپ کو وہ کرنا ہوگا جو عام لوگ نہیں کرتے۔”

*جنگ جیت چکے، بھارت کے ساتھ جامع اور نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے تیار ہیں، وزیر اعظم کا جنرل اسمبلی سے خطاب*نیویارک: وزیر اعظم شہباز نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں پاک بھارت جنگ کے حوالے سے کہا کہ جنگ جیت چکے، بھارت کے ساتھ جامع اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔وزیر اعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کا آغاز قرآن مجید کی آیات کی تلاوت سے کیا۔ وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کی صدر کو 80ویں اجلاس کی صدارت پرمبارکباد دی، وزیر اعظم نے کہا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس نے مشکل ترین حالات میں اقوام متحدہ کی قیادت کی، انتونیو گوتریس کی جرات مندانہ قیادت قابل تعریف ہے۔

اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ آج کی دنیا پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے، دنیا بھر میں تنازعات شدت اختیار کررہے ہیں، عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی جاری ہے، انسانی بحران بڑھتے جارہے ہیں، دہشتگردی دنیا کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے، گمراہ کن پروپیگنڈا اورجعلی خبروں نے اعتماد کو متزلزل کردیا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی بابائے قوم کے وژن کی رہنمائی میں پرامن بقائے باہمی پرمبنی ہے، ہم مکالمے اورسفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل پریقین رکھتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ سال اسی پلیٹ فارم سے خبردارکیا تھاکہ پاکستان کسی بھی جارحیت پر فیصلہ کن اقدام کرے گا، یہ الفاظ سچ ثابت ہوئے جب مئی میں پاکستان کو مشرقی محاذ سے جارحیت کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ہم نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا، بھارت نے پہلگام حملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش قبول کرنے کے بجائے ہمارے شہروں پر حملے کیے۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹرکے آرٹیکل51 کے تحت اپنا حق دفاع استعمال کیا،

مسلح افواج نے فیلڈ مارشل عاصم منیرکی قیادت میں جرات کا بے مثال مظاہرہ کیا، ائیرچیف مارشل ظہیر احمد بابرسدھوکی قیادت میں شاہینوں نے دشمن کو اپنی مہارت سے زیرکیا اور بھارت کے 7 جنگی طیاروں کو ملبے کا ڈھیر بنادیا گیا۔جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کےعظیم جانبازوں اور شہدا کے ورثا کوسلام پیش کرتےہیں، ہمارے شہدا کےنام ہمیشہ عزت اور وقار کےساتھ زندہ رہیں گے، شہدا کی ماؤں کا حوصلہ ہمارے راستےمنور کرتا ہے، ہمارے شہدا کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں امریکی صدر ٹرمپ کی قیام امن کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ہمارے خطے میں قیام امن کی کوششوں کے اعتراف میں پاکستان نے انہیں امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم جنگ جیت چکے ہیں

اور اب ہم اپنے خطے میں امن چاہتے ہیں، پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب امور پر جامع اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے تیار ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہم کشمیری عوام کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے اور ایک دن کشمیری اپنا حق خود ارادیت حاصل کریں گے اور بھارت کا قبضہ ختم ہوگا۔اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ تقریباً 80 سالوں سے فلسطینی عوام اسرائیلی ظلم و جبر کا سامنا کررہے ہیں، مغربی کنارے میں فلسطینی عوام کو اسرائیلی آباد کاروں کی جارحیت کا سامنا ہےجبکہ غزہ میں بھی فلسطینی عورتیں اور بچے اسرائیلی فوج کی درندگی کا نشانہ بن رہے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا غزہ میں فوری اور اسی وقت جنگ بندی ہونی چاہیے، پاکستان آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے جو 1967 کی سرحدوں پر قائم ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔وزیر اعظم نے قطر پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے قطری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔

جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا جانا چاہیے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان دہشتگردوں کے آگے ایک دیوار ہے جس نے دنیا کو دہشتگردی سے بچایا ہوا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان سکیورٹی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پر تنازعات کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ پاکستان ہمیشہ امن، انصاف اور ترقی کی حمایت جاری رکھے گا۔

سعودی عرب کے نئے مفتیٔ اعظم کا تقرر ✨گزشتہ دنوں شیخ عبدالعزیز آل شیخ کے انتقال کے بعد شیخ صالح بن حمید کو سعودی عرب کا نیا مفتیٔ اعظم مقرر کیا گیا ہے۔شیخ صالح بن حمید 1949ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1972ء میں مکہ مکرمہ کی عظیم درسگاہ جامعہ ام القری سے شریعت کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی۔ فراغت کے بعد وہ اسی جامعہ میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔آپ کا شمار مملکت کے جلیل القدر علماء میں ہوتا ہے۔ 1982ء سے آپ مسجد الحرام میں امام اور خطیب کے منصب پر فائز ہیں۔ 1993ء سے آپ سعودی مجلس شوریٰ کے رکن اور ساتھ ہی رابطہ عالم اسلامی کے بھی فعال رکن ہیں۔🌿 دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ شیخ صالح بن حمید کی عمر میں برکت عطا فرمائے اور ان کے علم و خدمات سے امت مسلمہ کو نفع پہنچائے۔ آمین 🤲

موجودگی حکومت داماد کلہاڑا اور لمبی شرررررر ۔کھلاڑی ایک دوسرےسے ہاتھ نہیں ملائے یہ کرکٹ کی تاریخ کا ایک سیاہ باب تھا۔۔مجھے نہیں لگتا کہ کسی اوپنر کو اتنے مواقع دیے گئے ہوں جتنے صائم کو ملے۔ھای کورت اسلام آباد کے جج جسٹس جہانگیری کو کام سے روک دیا گیا۔ھای کورت اسلام آباد نے چئیرمین پی ٹی اے کو برطرف کر دیا۔میجرجنرل کی برطرفی۔ھای کورت اسلام آباد نے چئیرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر کی تعیناتی کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔جسٹس ستار نے جنرل کو چارج شیٹ کر دیا کیا چئیرمین پی ٹی اے عھدے کا چارج چھوڑے گئے اسلام آباد ھای کورت ان ایکشن۔خفیہ اداروں کی رپورٹ میں بڑے انکشاف 8 بڑے یو ٹیوبر بھارت کے 22 چینل بھی شامل۔بنوں ھسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ لکی مروت آپریشن میں تیزی۔پاکستان ایشیا کپ میں باقی میچز کھیلے گا پاکستان کو عبرت ناک شکست دلوانے والوں کو کٹہرے میں لایا جائے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کر دیا یکم اکتوبر سے برانڈڈ اور پیٹنٹ دواؤں پر 100% ٹیکس لاگو ہوگا۔۔انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے حارث رؤف پر جرمانہ عائد کردیا،صاحبزادہ فرحان کو وارننگ دے کر چھوڑ دیا۔۔فوڈ اتھارٹی کی گاڑیاں ہر طرف گھوم رہی ہیں، کیمیکل والا دودھ روالپندی اور اسلام آباد میں جگہ جگہ فروخت ہو رہا ہے۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

بڑا جھٹکا* امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کر دیا *یکم اکتوبر سے برانڈڈ اور پیٹنٹ دواؤں پر 100% ٹیکس لاگو ہوگا* فیصلے کے بعد بھارت کی دواساز کمپنیوں کے شیئرز جمعہ کے دن 2.6% گر گئے*

اقوام متحدہ ۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس سے خطابوزیراعظم نے اپنی تقریر کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے کیا وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کی صدر کو 80 ویں اجلاس کی صدارت پر مبارکباد دیسیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشکل ترین حالات میں اقوام متحدہ کی قیادت کی، وزیراعظمانتونیو گوتریس کی جرات مندانہ قیادت قابل تعریف ہے، وزیراعظمآج کی دنیا پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے، وزیراعظم شہباز شریفدنیا بھر میں تنازعات شدت اختیار کر رہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریفعالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی جاری ہے، وزیراعظمانسانی بحران بڑھتے جا رہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریفدہشت گردی دنیا کے لئے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے،

وزیراعظمگمراہ کن پروپیگنڈا اور جعلی خبروں نے اعتماد کو متزلزل کر دیا ہے، وزیراعظمماحولیاتی تبدیلی بڑا چیلنج ہے جو ہماری بقاء کو خطرے میں ڈال رہی ہے، وزیراعظمہماری خارجہ پالیسی بابائے قوم کے وژن کی رہنمائی میں پرامن بقائے باہمی پر مبنی ہے، وزیراعظمہم مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل پر یقین رکھتے ہیں، وزیراعظمگزشتہ سال اسی پلیٹ فارم سے خبر دار کیا تھا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت پر فیصلہ کن اقدام کرے گا، وزیراعظمیہ الفاظ سچ ثابت ہوئے جب مئی میں پاکستان کو مشرقی محاذ سے جارحیت کا سامنا کرنا پڑا، وزیراعظمغرور میں مبتلا دشمن کو ذلت کا سامنا کرنا پڑا، وزیراعظم شہباز شریفبھارت نے پہلگام واقعہ کی تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کا مثبت جواب نہیں دیا، وزیراعظمبھارت نے انسانی المیے سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، وزیراعظم شہابز شریفبھارت نے شہری علاقوں پر حملہ کر کے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، وزیراعظمبھارت کی جانب سے سرحدوں کی سالمیت اور قومی سلامتی کی خلاف ورزی کی گئی، وزیراعظمپاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنا حق دفاع استعمال کیا، وزیراعظممسلح افواج نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں جرات کا بے مثال مظاہرہ کیا، وزیراعظمایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر کی قیادت میں شاہینوں نے دشمن کو اپنی مہارت سے زیر کیا، وزیراعظمبھارت کے سات جنگی طیاروں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا، وزیراعظمپاکستان کے عظیم جانبازوں، شہداء کے ورثاء کو سلام پیش کرتے ہیں، وزیراعظمہمارے شہداء کے نام ہمیشہ عزت اور وقار کے ساتھ زندہ رہیں گے، وزیراعظمشہداء کی مائوں کا حوصلہ ہمارے راستے منور کرتا ہے، وزیراعظمہمارے شہداء کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی، وزیراعظم

لداخ میں گزشتہ روز کے احتجاجی مظاہروں کے بعد کرفیو لگا دیا گیا*بھارتی حکام نے لداخ میں گزشتہ روز کے احتجاجی مظاہروں کے بعد کرفیو لگا دیا ہے۔لداخ میں سی آر پی ایف تعینات اور بغیر اجازت ریلیوں پر پابندی کے ساتھ ساتھ شہر کی مارکیٹیں و کاروباری مراکز بند کروا دیے گئے ہیں

*بھارت: لداخ میں گزشتہ روز کے احتجاجی مظاہروں کے بعد کرفیو لگا دیا گیا*بھارتی حکام نے لداخ میں گزشتہ روز کے احتجاجی مظاہروں کے بعد کرفیو لگا دیا ہے۔لداخ میں سی آر پی ایف تعینات اور بغیر اجازت ریلیوں پر پابندی کے ساتھ ساتھ شہر کی مارکیٹیں و کاروباری مراکز بند کروا دیے گئے ہیں۔دوسری جانب مظاہرین لداخ کو ریاستی حیثیت اور آئینی تحفظ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔گزشتہ روز مرکزی شہر لیہہ میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں 4 افراد ہلاک اور پولیس اہلکاروں سمیت 80 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔بھارتی فورسز نے مظاہرین پر لاٹھی چارج، آنسو گیس کی شیلنگ کی جبکہ مشتعل مظاہرین نے گاڑیوں کو آگ لگا دی اور بی جے پی اور ہل کونسل کے دفاتر کو نقصان پہنچایا۔واضح رہے کہ مودی سرکار نے 2019ء میں بھارتی آئین میں غیر قانونی ترمیم کر کے لداخ کو مقبوضہ کشمیر سے علیحدہ کر دیا تھا۔

عدم اعتماد مجبوریوں کا سودا تھا اور کالک تھی سیاست نہیں۔۔جھوٹ جو سر چڑھ کر بولے۔۔صوبے کم ھونے کی وجہ سے نہیں 20 ھزار ارب روپے سالانہ کرپشن کی وجہ سے پاکستانی باھر جا رہا ہے۔۔ترکیہ اور ٹرمپ ملاقات سب کچھ کھویا کچھ نہ پایا۔۔ایک اور جنگ یمن میں بڑے پیمانے پر تباہی۔۔29 ستمبر کو 3 اھم ترین تبادلے۔انڈیا کو چاہ بہار پورٹ سے بھی دربدر کر دیا۔گوادر کی اہمیت میں کئ گنا اضافہ۔۔شہباز ڈپلومیسی۔۔کویت کے ولی عہد سے خوشگوار ملاقات۔۔پی آئی اے کا پاکستان سے کینیڈا کے لیے فضائی آپریشن عارضی طور پر بند۔۔جسٹس جھانگیر کیس سماعت کے لیے مقرر۔بلوچستان کا مسئلہ فوجی نھی سیاسی ھے۔۔یونان کی مختلف جیلوں میں پانچ سو سے زائد پاکستانی مختلف جرائم میں گرفتار ہو کر سزائیں کاٹ رہے ہیں۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

70ء اور 80ء کی دہائی میں اس کی شہرت اور دولت کا اتنا چرچا تھا کہ شہزادیاں اور شہزادے اسکے ساتھ ایک کپ کافی پینا اپنے لئے اعزاز سمجھتے تھے.وہ کینیا میں موجود اپنے وسیع و عریض فارم ہاوس میں چھٹیاں گزار رہا تھا ان کی کم سن بیٹی نے آئیسکریم اور چاکلیٹ کی خواہش کی انہوں نے اپنا ایک جہاز ال 747 بمع عملہ پیرس بھیجا جہاں سے آئیسکریم خریدنے کے بعد جنیوا سے چاکلیٹ لیکر اسی دن جہاز واپس کینیا پہنچا.اس کے ایک دن کا خرچہ 1 ملین ڈالرز تھا. لندن، پیرس، نیویارک، سڈنی سمیت دنیا کے 12 مہنگے ترین شہروں میں اس کے لگژری محلات تھے.انہیں عربی نسل گھوڑوں کا شوق تھا دنیا کے کئی ممالک میں ان کے خاص اصطبل تھے.اس کی دی ہوئی طلاق آج تک دنیا کی مہنگی ترین طلاق سمجھی جاتی ہے جب اس نے 875 ملین ڈالر اپنی امریکی بیوی کے منہ پر مارے اور اسے طلاق دی.اس کی ملکیت میں جو یاٹ تھی وہ اپنے دور کی سب سے بڑی یاٹ تھی،جو اس وقت بادشاہوں کو بھی نصیب نہ تھیاس یاٹ میں 4 ہیلی کاپٹر ہر وقت تیار رہتے جب کہ 610 افراد پر مشتمل خدام اور عملہ تھا،وہ یاٹ بعد میں ان سے برونائی کے سلطان نے خریدی ان سے ہوتے ہوئے ڈونلڈ ٹرامپ تک پہنچی،ٹرامپ نے 29 ملین ڈالر میں خریدی.ان کی اس یاٹ پر جیمز بانڈ سیریز کی فلموں سمیت کئی مشہور ہالی ووڈ فلمیں شوٹ کی گئیں.اپنی پچاسویں سالگرہ پر اس نے سپین کے ساحل پر دنیا کی مہنگی ترین پارٹی دی جس میں دنیا کی 400 معروف شخصیات نے 5 دن تک خوب مستی کی.امریکی صدر رچرڈ نکسن کی بیٹی کی ایک مسکراہٹ پر 60 ہزار پاونڈ مالیت کا طلائی ہار قربان کر دیا.اسلحے کا بہت بڑا سوداگر تھا ملکوں کے درمیان وہ اسلحے کی ڈیل اور معاہدے کراتا تھا،سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان انہوں نے 20 ارب ڈالر کے معاہدے کرائے.شراب اور شباب ان کی کمزوری تھی 4 جائز اور 8 ناجائز بیگمات ان کے عقد میں تھیں.یتیموں پر دست شفقت رکھنا،بیواوں کا خیال،مسکینوں کی مدد،سیلاب اور زلزلوں میں انسانی ہمدردی کے تحت فلاحی کام ان سب سے اسے سخت الرجی تھی ان کا یہ جملہ مشہور تھا کہ آدم علیہ السلام نے اپنی اولاد کی کفالت کی ذمہ داری مجھے نہیں سونپ دی ہے.اسی کی دہائی میں وہ 40 ارب ڈالرز کے اثاثوں کا مالک تھا.پھر آہستہ آہستہ اللہ تعالی نے اس کی رسی کھینچ لی،اب تنزل و انحطاط کی طرف اس کا سفر شروع ہوا، اربوں ڈالرز کی مالیت کے ان کے ہیرے سمندر میں ڈوب گئے،کاروبار میں خسارے پہ خسارہ شروع ہوا،قرضے پہ قرضا چڑھا سب اثاثے فروخت کر ڈالے،ان کے دوست احباب،ان کے چاہنے والوں نے ان سے نظریں پھیر لی،یہ ایک لمبی مدت گمنامی کے پاتال میں چلا گیا،کسی کو خبر نہ تھی کہ کہاں ہے.پھر ایک دن یہ لندن میں کسی سعودی تاجر کو ملا ،ان کی حالت غیر ہوچکی تھی،اس تاجر سے کہا وطن واپس جانا چاہتا ہوں لیکن کرایہ نہیں،اس سعودی تاجر نے اکانومی کلاس کا ٹکٹ خرید کر اسے دیا اور یہ جملہ کہا.اے عدنان ! اللہ تعالی نے فقیروں اور غریبوں پر مال خرچ کرنے اور صدقہ کا حکم دیا ہے یہ ٹکٹ بھی صدقہ ہے.اپنے دور کا یہ کھرپ پتی شخص صدقے کی ٹکٹ پر عام مسافروں کے ساتھ جہاز میں بیٹھ کر جدہ پہنچ گیا.اس عرب پتی تاجر کا نام عدنان خاشقجی تھا یہ عرب نژاد ترکی تھا،اس کی پیدائش مکہ مکرمہ میں ہوئی تھی ان کا والد شاہی طبیب تھا،یہ شخص ترکی میں قتل ہوئے صحافی جمال خاشقجی کا چچا تھا،2017 میں ان کا انتقال ہوا.میں نے جب اس شخص کی زندگی کا مطالعہ کیا یقین کیجئے میں ہل کر رہ گیا اللہ تعالی کے انصاف پر میرا ایمان مزید پختہ ہوگیا،یاد رکھیں آپ جتنے بھی طاقت ور ہیں آپ جتنے بھی ثروت مند ہیں اللہ تعالی کے آگے بہت کمزور ہیں،اپنی دولت اور طاقت کو کبھی بغاوت کے لئے استعمال نہ کرنا اللہ تعالی کی پکڑ بڑی سخت ہے.رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زوال نعمت سے ہمیشہ اللہ تعالی کی پناہ مانگتے تھے.اللهم إني أعوذ بك من زوال نعمتك.

🚨 *بے نظیر انکم سپورٹ کو بے نظیر روزگار سکیم میں تبدیل کردیا جائے: رانا ثنااللہ* “`اچھا پروگرام ہے، ہم چاہتے ہیں اس پروگرام کو مزید مؤثر بنایا جائے،مشیر وزیر اعظم“` `وفاقی سطح پر تجویز ہے پروگرام کو صوبے بھی منظور کریں،انٹرویو 🚨 القادرکیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت کی اہم سماعت11بجےکورٹ روم1 میں ہوگی

ندیم افضل چن”بڑے بادشاہ“ہیںمولانا فضل الرحمن نے عدم اعتماد کی حقیقت بتا دی ہے،وہ گن پوائنٹ پر ہوئی تھیاور آپ دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے عدم اعتماد میں ووٹ ڈال رہے تھےاگر آپ ہاتھ نہ اٹھاتے تو کسی اور نے کچھ اور اٹھا دینا تھاعدم اعتماد مجبوریوں کا سودا تھا اور کالک تھی سیاست نہیں

صوبے کم ھونے کی وجہ نہیں بلکہ آپ جیسے لوگوں کی کرپشن بدیانتی اقربا پروری ٹیکس چوری فراڈ دھوکہ دہی کی وجہ سے باہر جارہی ھے صوبے زیادہ بنانے سے کیا فایدہ ھوگا مزید نوسرباز حکمران بنیں گے اور غریبوں کا مال لوٹیں گے صوبے بنانے کی بجاے ملک میں انصاف اور قانون کی حکمرانی یقینی بنائی جاے تاکہ آپ جیسے گندے انڈوں کی کرپشن روکی جاے اور ظلم بھی

راولپنڈی ہولی فیملی ہسپتال کے باہر بی ار سی ریفریشمنٹ پر مضر صحت کھانا دیا جا رہا ہے اور لیبر سکن انفیکشن میں مبتلا ہونے کے باوجود پیپ زدہ زخمی ہاتھوں سے کھانے میں لوگوں میں بیماریاں تقسیم کر رہے ہے انتظامیہ خاموش تماشائی راولپنڈی () مشہور ترین ہولی فیملی ہسپتال کے گیٹ نمبر تین کے باہر بی ار سی ریفریشمنٹ پر کھلے عام بے خوف پیپ زدہ ذخمی ہاتھوں سے کباب بنا کر کوگوں کو کھلائے جارہے ہیں انتظامیہ خاموش تماشائی یا ملی بھگت سے لوکوں کو بیماریوں میں مبتلا کی جا رہی ہے ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ یہ بیماری ہمارے علم میں نہیں اور ٹال مٹول سے کام لیا

جبکہ بیمار شیف اس بات کو تسلیم کر رہا ہے کہ کافی عرصے سے بیمار ہو اور کافی عرصہ سے اس ہوٹل پر بطور شیف پیپ زدہ زخمی ہاتھوں سے کباب بنا رہا ہو اور برتن دھو رہا ہوں وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز کا خواب صحت مند صاف ستھرا پنجاب کے آڈر محکمہ فورڈ اتھارٹی اور ہوٹل مالکان نے ہوا میں آڑا دیے ہسپتال کے اندر کروڑوں روپے کی لاگت سے بیماریوں کا علاج کیا جارہا ہے اور ہسپتال سے باہر ہوٹل پر لوگوں سے پیسے بٹورنے کے باوجود بیماریاں تقسیم کی جا رہی ہے اہلیان علاقہ کا کہنا ہے اس معاملے پر فوری نوٹس لیا جائے اور لوگوں کو بیماریوں سے بچایا جائے تاکہ وزیر اعلی پنجاب کا خواب صحت مندصاف ستھرا پنجاب پورا ہوسکے اہلیان علاقہ نے اپیل کی ہے تمام ہوٹلوں کی انسپکشن کی جائے اور ملازمین کے میڈیکل ٹیسٹ کروائے جائے ہوٹل پر جرمانہ یا سیل کیا جائے

فاروق بندیال، سابقہ چیف جسٹس آف پاکستان اور اداکارہ شبنم۔۔۔۔۔۔فاروق بندیال کا تعلق خوشاب کے بندیال نامی گاوں کے بااثر زمین دار سے تھا، ان کا نام اداکارہ شبنم کے گینگ ریپ کیس کے مرکزی مجرم کی حیثیت سے سامنے آیا۔فاروق بندیال اور اس کے 4 ساتھیوں نے 12 مئی 1978ء کو گلبرگ لاہور میں اداکارہ شبنم کے گھر واردات کی، اس کے شوہر روبن گھوش کو رسیوں سے باندھ کر اس کے سامنے رات بھر شیطانی کھیل کھیلتے رہے، بعد ازاں نقدی و زیورات لے کر فرار ہو گئے۔ پانچوں ملزمان اعلیٰ خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے جن میں حاظر سروس بیوروکریسی کے اعلیٰ افسران بھی شامل تھے۔ فاروق بندیال کا ماموں ایف کے بندیال٫ عطا بندیال کا والد تھا، اس وقت چیف سیکرٹری پنجاب تعینات تھا۔ واردات کے 5 روز بعد 17 مئی 1978ء کو لاہور پولیس نے تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ جنرل ضیاءالحق کا مارشل لاء نافذ تھا، فاروق بندیال کا ایک ماموں ایس کے بندیال صوبائی سیکریٹری داخلہ کے عہدے پر فائز تھا۔ اس نے فاروق اور اس کے ساتھیوں کو بچانے کی کوشش کی مگر، عوامی احتجاج اور فلم انڈسٹری کی ہڑتال کے بعد حکومت ان تمام کے خلاف مقدمہ چلانے پر مجبور ہو گئی۔24 اکتوبر 1979ء کو عدالت نے فاروق بندیال اور اس کے 4 ساتھیوں کو سزاے موت سنائی تاہم بعد ازاں اداکارہ شبنم پر دباؤ ڈال کر یہ سزا معاف کروا لی گئی۔ فاروق بندیال کو کوٹ لکھپت جیل میں بی کلاس دی گئی۔ یہ جیل میں ‌موجود قیدیوں کو بڑے فخر سے بتاتا کہ ” انہوں نے اداکارہ شبنم کے ساتھ کیا سلوک کیا”سعودی عرب کی سفارش پر اس کی سزا عمر قید میں بدل دی گئی، شبنم اسے معاف کرنے کے بعد اپنے اکلوتے بیٹے اور خاوند کے ہمراہ بنگلہ دیش منتقل ہو گئیں۔—————-اس میں افسوس کی بات یہ تھی کہ اس مقدمے کی روداد عدالت عظمی نے 40 برس بعد افشاں کیں۔ ادکارہ شبنم کے وکیل نامور ماہر قانون ایس ایم ظفر تھے، جبکہ فاروق بندیال نے وکیل صفائی اس وقت کے چوٹی کے وکیل عاشق حسین بٹالوی کی خدمات حاصل کی گئیں۔ عاشق حسین بٹالوی کی وجہ شہرت یہ تھی کہ وہ نواب محمد احمد خان قتل کیس میں وکیل استغاثہ تھا جس میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نامزد تھے۔اداکارہ شبنم نے بیان ریکارڈ کرنے سے قبل بائیبل پر حلف دیا، عدالت نے ان سے پوچھا: ” آپ کس زبان میں بیان ریکارڈ کرائیں گی؟” اداکارہ شبنم نے کہا: ” قومی, میں اپنی قومی زبان اردو میں بیان دوں گی”اداکارہ شبنم نے عدالت کے سامنے بیان دیا:” کئی روز سے ملزمان میرے بیٹے رونی کے اغوا اور ہمیں قتل کی دھمکیاں دے رہے تھے، میں اپنے اکلوتے بیٹے کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار تھی”ایس ایم ظفر اپنی کتاب ” میرے مشہور مقدمے” میں لکھتے ہیں:” اداکارہ شبنم پر ہر قسم کا دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی مگر، شبنم نے بہت حوصلے کے ساتھ ملزمان کی نشاندہی کی، جرح کا سامنا کیا۔ ملزمان میں فاروق بندیال، وسیم یعقوب بٹ، طاہر تنویر بھنڈر، جمیل احمد چٹھہ اور جمشید اکبر ساہی شامل تھے اور عدالت میں موجود تھے۔ شبنم سے پوچھا گیا:” کیا آپ ان ملزمان کو پہچانتی ہیں”

انہوں نے کہا: ” میں انہیں کیوں نہ پہچانوں گی جنہوں نے میری زندگی برباد کر دی:عدالت میں بیان دیتے شبنم کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ واردات کی تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ اداکارہ زمرد کے گھر پر بھی ایسی ہی واردات ہوئی تھی جس کا گھر شبنم کے گھر کے قریب ہی تھا، اس میں ‌بھی یہی لوگ ملوث تھے، اداکارہ زمرد خوفزدہ ہو کر خاموش ہو گئی تھی مگر, شبنم نے مقدمے کی پیروی کی، تمام دھمکیوں اور دباؤ کا سامنا کیا”اس وقت کے سینئر ترین صحافی جمیل چشتی، عباس اطہر کی ادارت میں شائع ہونے والے روزنامہ آزاد کے لئے کام کرتے تھے لکھا:” میں پہلا صحافی تھا جو واردات کے بعد شبنم کے گھر پہنچا، گھر کا سارا سامان بکھرا پڑا تھا، شبنم کی حالت غیر تھی، روبن گھوش کا ململ کا کرتا پھٹا ہوا تھا، شبنم اپنے بیٹے کو گود میں لئے رو رہی تھیں، بار بار بے ہوش ہو جاتیں۔ بیڈ روم میں پرفیوم کی بے پناہ خوشبو تھی جو ملزمان شبنم پر انڈیلتے تھے۔ میری موجودگی میں اداکار محمد علی شبنم کے گھر پہنچے، انتظامیہ اور پولیس سے رابطے کئے۔ ایک ملزم جمشید اکبر ساہی کا تعلق پولیس سے تھا، ملزمان پولیس کی نقل و حرکت سے واقف تھے۔ پولیس صبح 4:30 بجے تک گشت کیا کرتی تھی, ملزمان نے واردات کے بعد انتظار کیا، پولیس گشت ختم ہونے کے بعد اطمینان سے فرار ہو گئے۔ڈکیتی کے دوران جو زیورات لوٹے گئے ان میں اداکارہ کا ایک ہیروں کا قیمتی ہار بھی شامل تھا۔ وہ واردات کے تیسرے روز وہی ہار ایک بازاری عورت کو دینے بازار حسن گیا، پہلے سے موجود مخبروں کی نشاندہی پر دھر لیا گیا۔ مجرمان کے وکیل جس نے شبنم اور رابن گھوش سے معافی نامے پر دستخط کرواے تھے، کی سزاے موت 10 سال قید میں بدل دی گئی اس کے 2 سال بعد اسے رہا کر دیا گیا”

اگر دنیا کا ہر ملک قرض میں ڈوبا ہوا ہے—جو کہ بڑی حد تک درست ہے—تو وہ یہ پیسہ کس کو واجب الادا ہیں؟ آئیے اسے سمجھیں۔�دنیا کا کل قومی قرضہ تقریباً 100 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے۔ ریاستہائے متحدہ 36 ٹریلین ڈالر کے قرض کے ساتھ سب سے آگے ہے، جو عالمی کل کا تقریباً ایک تہائی ہے۔ یہ اہم ہے کیونکہ امریکی ڈالر، جو دنیا کی ریزرو کرنسی ہے، اس قرض کی بنیاد ہے۔ کچھ لوگ یہ بھی سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا یہ قرض واقعی “قرض” ہے، کیونکہ یہ عالمی مالیات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پھر بھی، 60 ٹریلین ڈالر سے زیادہ قرض دیگر ممالک کے ذمے ہے۔ چین 15 ٹریلین ڈالر سے زیادہ، جاپان 11 ٹریلین ڈالر کے قریب، اور برطانیہ، جو چوتھے نمبر پر ہے، 3 ٹریلین ڈالر سے کچھ زیادہ کے ساتھ۔ فرانس، اٹلی، بھارت، جرمنی، کینیڈا، اور برازیل سرفہرست دس ممالک میں شامل ہیں۔ پاکستان کا قرضہ 87 بلین ڈالر ہے۔ چند ناکام ریاستوں کے علاوہ تقریباً ہر ملک کسی نہ کسی سطح پر قرض میں ہے۔‎قرض میں ہونا ممالک کے لیے اتنا عام کیوں ہے؟�قومی قرض صرف بوجھ نہیں—یہ دراصل وہ مالیاتی سپلائی ہے جو معیشتوں کو چلاتی ہے۔ یہ وہ کرنسی ہے جو ایک ملک اپنی معیشت کو چلانے کے لیے گردش میں لاتا ہے۔ لیکن اس قرض کا مالک کون ہے؟ یہ اصل سوال ہے، اور جواب حیران کن ہے۔‎آپ شاید سمجھیں کہ اس قرض کا بڑا حصہ غیر ملکی حکومتوں کے پاس ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ امریکہ میں قومی قرض کا صرف آٹھواں حصہ—تقریباً 4 ٹریلین ڈالر—غیر ملکی اداروں کے پاس ہے۔ برطانیہ میں یہ سولہواں حصہ ہے۔ فرانس اور جرمنی میں غیر ملکی ملکیت کچھ زیادہ، تقریباً 20 فیصد ہے، جسے یورپی سینٹرل بینک کے کردار نے پیچیدہ کر دیا ہے۔ جاپان، جس کا قرضہ اس کے جی ڈی پی کا 200 فیصد سے زیادہ ہے (جو دیگر ترقی یافتہ معیشتوں سے کہیں زیادہ ہے)، اس کی تقریباً کوئی غیر ملکی ملکیت نہیں؛ یہ زیادہ تر ملکی طور پر حکومت یا نجی افراد کے پاس ہے۔‎اس کا مطلب ہے کہ عالمی قرض کا 80 فیصد سے زیادہ نجی ملکیت میں ہے۔ اور یہ نجی مالکان کون ہیں؟ شاید آپ، میں، یا کوئی بھی جس کے پاس پنشن یا بچت ہے۔ پنشن فنڈز اور لائف انشورنس کمپنیاں قومی قرض کے بڑے حصص رکھتی ہیں

۔ برطانیہ میں، تقریباً 30 فیصد قومی قرض ان اداروں کے پاس ہے، جو حکومت کی کبھی نادہندگی نہ کرنے کی ضمانت پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ نمونہ امریکہ اور یورپ میں بھی ہے۔ قومی قرض، جسے اکثر بحران کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، دراصل نجی مالیاتی صنعت کی بنیاد اور نجی دولت کی اساس ہے۔‎یہاں بات واضح ہوتی ہے: اس دولت کا بڑا حصہ دنیا کی آبادی کے ایک چھوٹے سے حصے کے ہاتھوں میں ہے۔ 8 ارب کی آبادی میں سے تقریباً 1 فیصد—تقریباً 80 ملین لوگ—عالمی اثاثوں، بشمول قومی قرض، کا غیر متناسب حصہ رکھتے ہیں۔ اس قرض پر سالانہ 3.2 ٹریلین ڈالر سود ادا کیا جاتا ہے، جو ان دولت مند افراد کے لیے فی کس تقریباً 40,000 ڈالر سالانہ ہو سکتا ہے۔ دریں اثنا، باقی 99 فیصد کی اوسط آمدنی صرف 13,500 ڈالر سالانہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں، امیر ترین لوگ صرف سود سے تین گنا زیادہ کما سکتے ہیں جتنا کہ زیادہ تر لوگ اپنی محنت سے کماتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار سادہ اور تخمینی ہیں، لیکن یہ نظام میں گہری ناانصافی کو اجاگر کرتے ہیں۔‎سیاستدان اکثر سرکاری قرض کو لاپرواہی قرار دیتے ہیں، دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ مستقبل کی نسلوں پر بوجھ ڈالتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب حکومتیں قرض جاری کرتی ہیں، تو دولت مند اسے خریدتے ہیں، اور ہر سود کی ادائیگی کے ساتھ ان کی دولت بڑھتی ہے۔ وہ اس آمدنی کو دوبارہ لگاتے ہیں، مزید قرض خریدتے ہیں، جو دولت کو مزید مرتکز کرتا ہے اور عالمی عدم مساوات کو گہرا کرتا ہے۔‎تو کیا کیا جا سکتا ہے؟�سب سے پہلے، قومی قرض پر سود کی شرحیں کم کرنے کی ضرورت ہے—یہ بہت زیادہ ہیں۔ دوسرا، سود جیسے غیر محنت سے حاصل ہونے والی آمدنی پر زیادہ منصفانہ ٹیکس لگایا جانا چاہیے، نہ کہ مزدوروں کی آمدنی سے کم شرح پر، جیسا کہ اب اکثر ہوتا ہے۔ تیسرا، ہمیں زیادہ ترقی پسند ٹیکس نظام کی ضرورت ہے تاکہ سب سے امیر لوگوں سے دولت واپس لی جا سکے اور حکومتیں ضروری خدمات کو فنڈ کر سکیں۔ آخر میں، ہمیں قرض کی ملکیت کو جمہوری بنانے پر غور کرنا چاہیے، جیسا کہ جاپان نے کچھ حد تک کیا ہے، اسے زیادہ عوامی کنٹرول میں لا کر۔ یہ 2008 کے مالیاتی بحران اور کووڈ کے دوران مقداراتی نرمی کے ذریعے ہوا، لیکن برطانیہ جیسے مقامات پر مقداراتی سختی اسے الٹ رہی ہے۔‎مختصراً، دنیا کے دولت مند قومی قرض کے مالک ہیں، اور وہ اس سے خوب منافع کماتے ہیں۔ قرض خود کوئی مسئلہ نہیں—یہ ہماری مالیاتی سپلائی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کا کنٹرول کس کے پاس ہے اور ان کے منافع پر کتنا ہلکا ٹیکس لگتا ہے۔ اس عدم توازن کو دور کرنا ایک منصفانہ دنیا بنانے کے لیے اہم ہے۔ یہ پیغام پھیلائیں: قومی قرض کوئی دشمن نہیں، لیکن اس کی ملکیت اور اس کے گرد موجود نظام میں اصلاح کی ضرورت ہے۔‎دولت کی عدم مساوات اور حل‎قومی قرض کی ملکیت کی حراستی اور عالمی دولت کی غیر منصفانہ تقسیم سے ظاہر ہونے والی دولت کی عدم مساوات ایک منظم مسئلہ ہے جو معاشی اور سماجی تقسیم کو ہوا دیتا ہے۔ اسے حل کرنے کے لیے عملی حل یہ ہیں، جو قرض، ٹیکس، اور دولت کی تقسیم کی حرکیات پر مبنی ہیں:1. قومی قرض پر سود کی شرحیں کم کریں�قومی قرض پر زیادہ سود کی ادائیگیاں دولت مندوں کو غیر متناسب طور پر فائدہ پہنچاتی ہیں، جو اسے پنشن فنڈز اور دیگر سرمایہ کاری کے ذریعے رکھتے ہیں۔ حکومتیں ان شرحوں کو کم کرنے کے لیے کام کریں، تاکہ سب سے اوپر 1 فیصد کو غیر محنت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا بہاؤ کم ہو۔

مرکزی بینک ایسی پالیسیوں کو ترجیح دے سکتے ہیں جو سود کی شرحوں کو معتدل رکھیں، تاکہ قرض کی خدمت دولت کی حراستی کو نہ بڑھائے۔2. غیر محنت سے حاصل ہونے والی آمدنی پر منصفانہ ٹیکس لگائیں�سود اور دیگر غیر محنت سے حاصل ہونے والی آمدنی، جیسے کہ ڈیویڈنڈز یا کیپیٹل گینز، پر اکثر محنت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے کم شرح پر ٹیکس لگتا ہے۔ یہ غلط ہے۔ حکومتیں غیر محنت سے حاصل ہونے والی آمدنی پر ٹیکس کو کم از کم مزدوروں کی آمدنی کے برابر، یا اس سے زیادہ کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر، سرمایہ کاری کی آمدنی پر ہلکے ٹیکس کے خلا کو بند کرنے سے سب سے امیر لوگوں سے دولت واپس لی جا سکتی ہے، جو قرض کے سود سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔3. ترقی پسند ٹیکس نظام نافذ کریں�زیادہ ترقی پسند ٹیکس—زیادہ آمدنی اور دولت پر زیادہ ٹیکس کی شرحیں—وسائل کی دوبارہ تقسیم اور عوامی خدمات کے لیے فنڈنگ کر سکتی ہیں۔ دولت کے ٹیکس، جیسے کہ املاک، اسٹاکس، یا بانڈز پر جو انتہائی امیر رکھتے ہیں، قومی قرض کی ملکیت کی حراستی کو براہ راست حل کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ارب پتیوں کی دولت پر 1-2 فیصد سالانہ ٹیکس اربوں ڈالر عوامی سرمایہ کاری کے لیے پیدا کر سکتا ہے بغیر درمیانی یا محنت کش طبقے پر بوجھ ڈالے۔4. قرض کی ملکیت کو جمہوری بنائیں�قومی قرض اکثر نجی طور پر رکھا جاتا ہے، لیکن حکومتیں اسے زیادہ عوامی کنٹرول میں لا سکتی ہیں، جیسا کہ جاپان میں دیکھا گیا ہے، جہاں ملکی ملکیت غالب ہے۔ مقداراتی نرمی، جو 2008 اور کووڈ کے بحرانوں میں استعمال ہوئی، قرض کو عوامی اثر و رسوخ میں لاتی ہے کیونکہ مرکزی بینک اسے خریدتے ہیں۔ مقداراتی سختی جیسے پالیسیوں کو الٹ کر، جو قرض کو نجی ہاتھوں میں واپس دیتی ہیں، مدد مل سکتی ہے۔ عوامی ملکیت نجی سرمایہ کاروں کو دولت کی منتقلی کو کم کرتی ہے اور معیشتوں کو مستحکم کرتی ہے۔5. عوامی خدمات اور سماجی تحفظ کے جال کو مضبوط کریں�جب صحت، تعلیم، اور رہائش جیسی عوامی خدمات کم فنڈ کی جاتی ہیں، تو دولت کی عدم مساوات بڑھتی ہے، کیونکہ لوگ سیکیورٹی کے لیے نجی دولت پر انحصار کرتے ہیں۔ ترقی پسند ٹیکسوں سے فنڈ کی جانے والی مضبوط عوامی سرمایہ کاری اس انحصار کو کم کر سکتی ہے۔ یونیورسل بیسک انکم یا مفت تعلیم اور صحت کی سہولیات جیسے اقدامات میدان کو برابر کر سکتے ہیں، جس سے 99 فیصد کو وہ مواقع مل سکیں جو فی الحال دولت مندوں کے ہاتھ میں ہیں۔6. پنشن اور سرمایہ کاری کے نظام میں اصلاحات کریں�پنشن فنڈز، جو قومی قرض کے بڑے حصص رکھتے ہیں، اکثر دولت مندوں کو غیر متناسب طور پر فائدہ پہنچاتے ہیں۔

ان نظاموں تک رسائی کو جمہوری بنانا—عوامی پنشن پلانز یا وسیع تر شرکت کے لیے مراعات کے ذریعے—قرض کی ملکیت کے فوائد کو پھیلا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، پنشن فنڈز کو سماجی بھلائی کو ترجیح دینے کے لیے ریگولیٹ کرنا، نہ کہ اشرافیہ کے لیے زیادہ سے زیادہ منافع، ان کے اثرات کو بدل سکتا ہے۔7. عالمی سطح پر دولت کی دوبارہ تقسیم کو فروغ دیں�چونکہ دولت کی عدم مساوات ایک عالمی مسئلہ ہے، اس لیے بین الاقوامی تعاون کلیدی ہے۔ کارپوریشنز اور زیادہ دولت والے افراد پر عالمی کم از کم ٹیکس جیسے مربوط پالیسیاں، انتہائی امیر لوگوں کو ٹیکس ہیونز میں دولت چھپانے سے روک سکتی ہیں۔ OECD جیسی تنظیمیں ممالک بھر میں ترقی پسند ٹیکس پالیسیوں کو معیاری بنانے کی کوششوں کی قیادت کر سکتی ہیں۔8. عوامی شعور اور وکالت کو فروغ دیں�قومی قرض کے بارے میں بیانیے کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ یہ بوجھ نہیں بلکہ معیشتوں کو چلانے والی مالیاتی سپلائی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس سے کون فائدہ اٹھاتا ہے۔ عوامی تعلیمی مہمات اسے واضح کر سکتی ہیں، لوگوں کو منصفانہ ٹیکس پالیسیوں اور قرض کے انتظام کا مطالبہ کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ عوامی تحریکیں حکومتیں پر دباؤ ڈال سکتی ہیں کہ وہ 1 فیصد کے بجائے 99 فیصد کو ترجیح دیں۔‎یہ حل ایک ایسی نظام کو متوازن کرنے کا مقصد رکھتے ہیں جہاں دولت مند قومی قرض سے منافع کماتے ہیں جبکہ اکثریت جدوجہد کرتی ہے۔ سود کے بوجھ کو کم کر کے، غیر محنت سے حاصل ہونے والی آمدنی پر ٹیکس لگا کر، اور ترقی پسند پالیسیوں کے ذریعے دولت کی دوبارہ تقسیم کر کے، حکومتیں زیادہ منصفانہ معیشت بنا سکتی ہیں۔ قرض کی ملکیت کو جمہوری بنانا اور عوامی خدمات کو مضبوط کرنا اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ پیسوں کی تخلیق کے فوائد سب کے لیے ہوں، نہ کہ صرف اشرافیہ کے لیے۔

*پنجاب کی فکر چھوڑیں سندھ کا کیا حال ہے اسے دیکھیں اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں، مریم نواز*ڈی جی خان:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے پنجاب کے سیلاب پر سیاست کی، سندھ کا کیا حال ہے میں بات نہیں کرنا چاہتی، اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں ہم پنجاب کو سنبھال لیں گے۔ڈی جی خان میں الیکٹرو بس مںصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ مجھے کہا جارہا ہے کہ میں کیوں دنیا کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا رہی، میں نواز شریف کی بیٹی ہوں کسی کے آگے امداد کے لیے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گی، کوئی باعزت شخص امداد مانگنے کی بات کیسے کرسکتا ہے؟ مجھے کسی امداد کی ضرورت نہیں، پنجاب کے عوام کا پیسہ پنجاب کے عوام پر ہی خرچ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بلاول میرا چھوٹا بھائی ہے مگر انہیں کہنا چاہتی ہوں کہ پیپلز پارٹی کے ترجمانوں کو سمجھائیں، سندھ میں کیا ہورہا ہے میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتی آپ اپنے صوبے کو دیکھیں اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں ہم پنجاب کو سنبھال لیں گے۔