All posts by admin
راوی دو سو سال بعد کامران کی بارہ دری میں پہنچ گیا ۔دو صدیاں پہلے بارہ دری کے ساتھ بہتا تھا ۔۔اور برگئڈیر حسن ضبط کی انتھا دیکھنے کے قابل چھرہ پتھر کا لگ رہا تھا دل کے اندر ایک باپ ٹوٹ کر بکھر رھا تھا۔وفاقی وزراء کی بارات چین روانہ بے حسی کی انتھا ۔۔ھزاروں ارب روپے کی کرپشن اسٹیبلشمنٹ خاموش کیوں۔۔ایران کے صدر اور وزیراعظم کے درمیان بات چیت۔یو فون کے بورڈ اف ڈائریکٹر میں انوشہ رحمان شامل ہے یہ معاملہ ائندہ چند روز میں قائمہ کمیٹی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایجنڈے پر ا رہا ہے مگر بہت ساری اہم شخصیات ایجنڈے سے اس ایٹم کو نکلوانے کے لیے سفارشیں کر رہی ہیں کیا یہ کھلا تضاد نہیں۔۔یو فون کے بورڈ آف ڈائریکٹر میں انوشہ رحمان کی کرپشن۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

ایک درد ناک خبر پڑھنے اور سننے کے منتظر “بے حس” لوگخراج عقیدت پیش کرنے کے لیے تعزیتی کالم ،مضامین اور رنج والم کے واقعات چوہدری شجاعت حسین پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے اپنے منصب کی مدت ( تین ماہ) مکمل کی 27 جنوری 2026 کو ملک کے ممتاز سیاستدان وزارت عظمی اور دو مرتبہ وزارت داخلہ کے منصب پر فائز رہنے اور پاکستان کی سیاست کے تاریخی کردار چوہری شجاعت حسین 27 جنوری 2026 کو 85 سال کے ہو جائیں گے دیگر خوبیوں کے ساتھ ساتھ اپنی وضعداری ،تعلق نبھانے اور وسیع دسترخوان کے حوالے سے بھی ان کا تذکرہ ہوتا آیا ہے اور ہوتا رہے گا

چوہری شجاعت حسین گزشتہ کچھ عرصے سے شدید بیماری کے باعث پس منظر میں اس لیے بھی ہیں کہ ان کی طویل بیماری معزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے اور ان کی نقل و حرکت ان کے بستر تک محدود ہو چکی ہے ل لیکن یہ امر باعث افسوس ہی نہیں بلکہ بے حسی کے مترادف بھی ہے کہ اس تمام عرصے میں ان کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی خبر تو دور کی بات ان کی طبیعت کے بارے میں اور عیادت کرنے والوں کے حوالے سے بھی کوئی خبر منظر عام پر نہیں ارہی ان کے ہلکے سے بخار اور تھکن کو بھی اخباروں میں سرخیاں بنانے والے اور کالمز لکھنے والے بھی بادی النظر میں قطعی طور پر ان سے لا تعلق نظر اتے ہیں” ہر ماہ باقاعدگی سے” ان کے در دولت پر حاضری دینے والے ان سے دوری اختیار کر چکے ہیں جنرل پرویز مشرف کے دور حکمرانی میں جب بلوچستان کے ایک باکردار سیاستدان میر ظفر اللہ خان جمالی کو وزارت عظمی کے منصب سے ہٹانے اور ان کی جگہ شوکت عزیز کو ملک کا وزیراعظم بنانے کا فیصلہ ہوا تو تین ماہ کے درمیانی عرصے کے لیے چودھری شجاعت حسین کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ ہوا اس طرح انہوں نے 30 جون 2004 کو وزیراعظم کا حلف اٹھایا اور ٹھیک 20 اگست کو تین ماہ مکمل ہونے کے بعد انہیں اس ذمہ داری کو خیر باد کہنا پڑا اس طرح ازراہ تفنن یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ چوہدری شجاعت پہلے وزیراعظم تھے جنہوں نے اپنے منصب کی مدت مکمل کی۔۔۔۔۔۔ اور شوکت عزیز نے وزیراعظم پاکستان کی ذمہ داریوں کا حلف اٹھا لیا اپنی ہنگامہ خیز سیاسی زندگی کے حوالے سے چوہدری صاحب نے” سچ تو یہ ہے” کہ عنوان سے اپنے یادداشتوں کو کتابی شکل بھی دی ہے جس میں پاکستان کی سیاست میں سازشوں منافقتوں اور اقتدار و اختیار کے حصول کے لیے سیاست دانوں اور حکمرانوں کے کردار کو بے نقاب کرتے ہوئے چشم کشا انکشافات کیے ہیں 2020 میں روزنامہ جنگ میں ملک کے نامور سیاست دانوں کی اسیری کے مصائب اور شب و روز پر مشتمل “جیل کہانی “کا سلسلہ شروع کیا

جو بے حد مقبول ہوا اس میں چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہی کی اسیری کی داستان بھی شامل تھی اس وقت جنگ پنڈی کے ایڈیٹر رانا طاہر تھے ان کے ہمراہ چوہدری شجاعت حسین صاحب سے طویل ملاقات ہوئی…….. لیکن یہ کہانی اور اس کی تفصیلات پھر کبھی۔۔۔ اس وقت عرض کرنا یہی مقصود تھا کہ اللہ تعالی چوہدری صاحب کو مکمل صحت کاملہ اور عاجلہ عطا فرمائے اور اس کے ساتھ ساتھ طویل زندگی بھی ان کی صحت اس حد درجے گر چکی ہے

کہ انہیں اب دواؤں کی نہیں صرف دعاؤں کی ضرورت ہے ان سے کئی دہائیوں سے تعلق رکھنے والے اپنے صحافی دوستوں اور احباب سے بالخصوص اور چوہدری خاندان کے وسائل اور اختیارات سے استفادہ کرنے والے ماضی کے ان رفقاء سے درخواست ہے جنہوں نے تعزیتی مضامین ،کالمز اور چوہدری صاحب کو خراج عقیدت پیش کرنے کی تیاریاں کر رکھی ہیں وہ چوھدری صاحب کی عیادت کے لیے ان سے رابطے میں رہیں ان کی خبر گیری اور دلجوئی کریں بقول خود چوہدری صاحب کے” مٹی پاؤ ” کا انتظار نہ کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بریگیڈیئر حسن صاحب کے ضبط کی انتہا دیکھنے کے قابل تھی۔ چہرہ پتھر کا لگ رہا تھا مگر دل کے اندر ایک باپ ٹوٹ کر بکھر رہا تھا۔ بیٹے کو مٹی کے سپرد کرنا کوئی معمولی بات نہیں، یہ لمحہ کسی قیامت سے کم نہیں ہوتا۔گھر میں شادی کی تیاریاں مکمل تھیں۔ ماں کے ہاتھوں میں مہندی کے رنگ سجنے کو تھے، اور پورے گھر میں خوشیوں کا سماں تھا۔ لیکن وہ لعل، جو ماں کا سہارا اور باپ کا فخر تھا، وطن کی مٹی پر اپنی جان قربان کر گیا۔ سہرا تو نہ بندھا، مگر شہادت کا کفن اوڑھ کر ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔ذرا سوچو! وہ لمحہ کیسا ہوگا

جب ایک ماں اپنے بیٹے کی شادی کے ارمان دل میں لیے بیٹھے اور اچانک وہی بیٹا تابوت میں لپٹا واپس آئے۔ وہ باپ کیسا ہوگا جو فوجی وردی میں ڈیوٹی بھی دے رہا ہوں اور بیٹے کے جنازے کو کندھا بھی؟اے وطن کے نوجوانو! تم شاید کبھی نہ سمجھ سکو یہ درد کیسا ہوتا ہے۔ یہ قربانی صرف ایک گھرانے کی نہیں، یہ قربانی ہم سب کی آزادی کی ضمانت ہے۔ ان آنسوؤں کے پیچھے ایک فخر چھپا ہے

، وہ فخر جو پاکستان کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔یہی وہ خون ہے جس پر یہ زمین قائم ہے، یہی وہ قربانیاں ہیں جو ہمیں جھکنے نہیں دیتیں۔سلام ہے ان شہیدوں کو اور سلام ہے ان والدین کو جنہوں نے اپنے خواب وطن پر قربان کر دیے۔ 🇵🇰💖💖

: 29 اگست، 2025*وزیراعظم اور ایرانی صدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ* وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر عزت مآب ڈاکٹر مسعود پیزشکیان کا ٹیلی فونک رابطہ۔ صدر پیزیشکیان نے پاکستان کے مختلف حصوں میں سیلاب پر پاکستانی عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ایرانی صدر نے حالیہ سیلاب میں جانی و مالی نقصان پر متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس مشکل وقت میں پاکستان کے برادر عوام کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ وزیر اعظم نے صدر پیزشکیان کی جانب سے ہمدردی و یکجہتی کے اظہار اور ایران کی طرف سے دکھ اور تکلیف کی اس گھڑی میں اظہار یکجہتی پر شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے ایرانی صدر کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کیلئے گہرے احترام اور نیک خواہشات کا پیغام دیا۔ دونوں رہنماؤں نے چین کے شہر تیانجن میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کے موقع پر متوقع ملاقات و گفتگو کے حوالے سے مثبت خیالات کا بھی اظہار کیا۔

🚨 ایشیائی ترقیاتی بینک کا پاکستان کے لیے 30 لاکھ ڈالر ہنگامی امداد کا اعلانجو سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی پر خرچ ہونگے🚨 ⚠️دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر سیلاب بلند ترین سطح پر پہنچ گیا گنڈا سنگھ والا کے مقام پر بہاؤ 3 لاکھ 85 ہزار لاکھ کیوسک سے تجاوز کر گیاجو پچھلی 3 دہائیوں میں بلند ترین سطح ہے قصور اور ملحقہ علاقوں میں خطرناک سیلابی صورتحال🚨 Update:دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی کے مقام پر بہاو میں اضافہ (180410 کیوسک) اور انتہائی اونچے درجے کا سیلاب

:دریائے ستلج قصور میں 1955ء کے بعد تاریخ کا سب سے بڑا پانی آیا ہے، ڈی جی پی ڈی ایم اےہمیں اس وقت قصور شہر کو بچانے کا چیلنج درپیش ہے، ڈی جی پی ڈی ایم اےشاہدرہ، لاہور سے خطرے والی بات ختم ہوگئی ہے اور پانی کی سطح کم ہوگئی ہے، ڈی جی پی ڈی ایم اے
وزیراعظم اور ایرانی صدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ* وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر عزت مآب ڈاکٹر مسعود پیزشکیان کا ٹیلی فونک رابطہ۔
وزیراعظم اور ایرانی صدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ* وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر عزت مآب ڈاکٹر مسعود پیزشکیان کا ٹیلی فونک رابطہ۔ صدر پیزیشکیان نے پاکستان کے مختلف حصوں میں سیلاب پر پاکستانی عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ایرانی صدر نے حالیہ سیلاب میں جانی و مالی نقصان پر متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس مشکل وقت میں پاکستان کے برادر عوام کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ وزیر اعظم نے صدر پیزشکیان کی جانب سے ہمدردی و یکجہتی کے اظہار اور ایران کی طرف سے دکھ اور تکلیف کی اس گھڑی میں اظہار یکجہتی پر شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے ایرانی صدر کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کیلئے گہرے احترام اور نیک خواہشات کا پیغام دیا۔ دونوں رہنماؤں نے چین کے شہر تیانجن میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کے موقع پر متوقع ملاقات و گفتگو کے حوالے سے مثبت خیالات کا بھی اظہار کیا۔
میرے 10بچے ہوتے تب بھی فوج میں بھیجتا۔لوگو،،بچوں کو فوج میں بھیجنے سے ڈرنا مت!کیپٹن تیمور حسن شہید کے والد کا جذباتی پیغام۔دس بچے بھی ھوتے تو فوج میں بھیجتا۔۔سیکٹر ایف سکس میں گھروں کے باہر غیر قانونی سیکورٹی کیبنز اور گارڈ رومز کے خلاف آپریشن جاری، اے سی سٹی کی نگرانی میں کاروائی، 55 گھروں کے باہر جگہ کلئیر کروا لی گئی۔۔پنجاب میں سیلاب 769 گاؤں ڈوب گئے کروڑوں لوگ بے گھر تاریخ کی سب سے بڑی تباہی۔۔پنجاب میں سیلاب 769 گاؤں ڈوب گئے کروڑوں لوگ بے گھر تاریخ کی سب سے بڑی تباہی۔۔اس سال بارش کی وجہ سے بہت Rains ہوئی ہیں!!! مریم نواز۔وفاقی دارالحکومت کے مختلف سیکٹرز میں گھروں کے باہر تجاوزات کی صورت میں پڑے سیکورٹی گارڈ کیبنز کے خلاف ضلعی انتظامیہ اور سی ڈی اے بلڈنگ کنٹرول کا مشترکہ آپریشن، مزید 40 گھروں کے باہر ایریا کلئیر کروا دیا گیا۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

برگیڈئیر راجہ حسن عباس کی آنکھوں میں تیرتا درداس باپ کے دل پر کیا بیت رہی ہوگی جس کے گھر شادی کی شہنائیوں نے گونجنا تھا اور آج اسی جگر گوشے کو سپرد خاک کر رہے ہیں۔ اللہ کی مصلحتیں ہم نہیں سمجھ سکتے۔ اللہ تعالی کیپٹن تیمور حسن کے درجات بلند فرمائیں اور انکے والدین کو صبر جمیل عطا فرمائیں آمین۔ بہت ساری دعائیں ان دکھی دلوں کے لئےفوجی جوان صرف اپنی جان نہیں دیتے بلکہ اپنے خوا، اپنی خوشیاں اور اپنے گھر کے چراغ بھی قربان کر جاتے ہیں۔کوئی اپنی ماں کی ممتا چھوڑتا ہے کوئی باپ بیٹے کی شادی کی خوشی، تو کوئی بچے کے پہلے لفظ کی مسکراہٹ…یہ سب کچھ قربان کر کے بھی لبوں پر صرف یہی کہتے ہیں

پورن وزیراعظم اور دلال جج ۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے دریائے راوی کے کنارے ہاؤسنگ اسکیموں کے فیصلے کے خلاف 25 جنوری 2022 کو فیصلہ دیا راوی اربن ڈویلپمنٹ پروگرام لاکھوں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دے گا ۔پروگرام شروع کرنے سے پہلے مستقبل کی مون سون بارشوں،بھارت کی طرف سے پانی کے اخراج اور ماحولیاتی تحفظ کے متعلق کوئی ضمانت موجود نہیں ۔جسٹس شاہد کریم نے اپنے فیصلے میں اراضی کے حصول کو غیر قانونی اور عوامی فنڈ کے غلط استعمال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئےRUDAکو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے دیا ۔اس وقت ہاؤسنگ اسکیموں کے مالکان پی ٹی آئی کی تین خواتین کے زریعے پورن وزیراعظم کو بھاری “مال پہنچا”چکے تھے ۔جس طرح ملک ریاض سے پانچ قیراط ہیرے کی انگوٹھیاں لے کر بحریہ پشاور کے تالے پالتو ججوں سے کھلوائے گئے تھے یہاں بھی پورن وزیراعظم تینوں خواتین کے واویلے پر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست کے کر بھاگا بھاگا سپریم کورٹ پہنچ گیا ۔وہاں چھوٹا موجود تھا ۔اس نے مظاہر ٹرکاں والا اور اعجاز الاحسن کو “معاملہ نپٹانے” کی ہدایات جاری کر دیں ۔دونوں نے شاندار غلاظت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی فیصلہ تو نہیں دیا لیکن جسٹس شاہد کریم کے فیصلے کو معطل کر دیا ۔عبوری حکم میں یہ بھی کہہ دیا جہاں معاوضہ دیا جا چکا ہے زمین حاصل ہو چکی ہے وہاں کام جاری رکھا جائے ۔یہ تھا اصل جرم ۔مقدمہ کے میرٹ پر کوئی بات نہیں کی ماحولیات پر کیا اثرات ہونگے،مستقبل کی مون سون بارشوں اور بھارت کی طرف سے اضافی پانی چھوڑا گیا ہاؤسنگ اسکیموں کے لاکھوں رہائشی کہاں جائیں گے

۔بابا ڈیم والے اور پھر بنڈیال دونوں نے بددیانتی کی انتہا کرتے ہوئے جسٹس شاہد کریم کا فیصلہ ریگولرایز نہیں ہونے دیا اور ایک عبوری سٹے آرڈر کے زریعے ہاؤسنگ اسکیموں کی لوٹ مار کو قانونی تحفظ فراہم کئے رکھا۔یہ چاروں مکروہ کردار ریٹائرمنٹ حاصل کر چکے ہیں ،بنڈیال،ثاقب نثار،مظاہر ٹرکاں والا اور اعجاز الاحسن ۔عام لوگ کھربوں روپیہ کے پلاٹ ان ہاؤسنگ اسکیموں میں خرید چکے ہیں ۔اج راوی غصے میں ہے اور بھاگنے کا کوئی راستہ موجود نہیں سوائے اس کے کہ ہاؤسنگ اسکیموں کے لاکھوں مکینوں کو بچانے کیلئے قریبی دیہات ڈبو دئے جائیں ۔تینوں لڑکیوں میں سے ایک جیل میں ہے ،دوسری بیرون ملک بھاگ چکی ہے اور تیسری تحریک چلا رہی ہے ۔راوی کو سیوریج نالہ کہنے والا جیل سے فیلڈ مارشل کو دھمکیاں دیتا ہے ۔آج 2022 میں کی گئی بدمعاشی اہل لاہور بھگت رہے ہیں اور مستقبل میں بھی بھگتیں گے ۔ہیرے کی انگوٹھیاں لے کر قوم کی قسمت کھوٹی کرنے والے خود کو ڈھٹائی سے مسیحا بتاتے رہیں گے ۔

تیس روپیہ کے چار قتل ۔اظہر سید چاروں نوجوان غربت نے مارے ہیں۔معاشرے میں پھیلی بے بسی اور فرسٹریشن قاتل ہے ۔عوامی وسائل سے اپنی نسلوں کی زندگیاں سنوارنے والے اصل قاتل ہیں۔تیس روپیہ کے کیلوں پر ہونے والا جھگڑا کبھی دو جوان زندگیاں نہ لیتا اگر معاشرے میں بے بسی اور بے چارگی نہ ہوتی۔مقتولین دولت مند ہوتے ۔پرسکون زندگی گزارنے والوں میں شامل ہوتے کبھی بھی تیس روپیہ کیلئے پھل فروش کے گلے نہ پڑتے ۔وہ اپنی جیب سے اسے اضافی پیسے دے دیتے ۔ہنس کر اسے گدگدی کرتے اور آگے چل پڑتے۔دونوں نوجوان غریب تھے ۔یہ تعلیم یافتہ بھی نہیں تھے ۔یہ جو بھی کام کرتے تھے بہت کم معاوضہ پاتے تھے۔جسم و جان کا رشتہ ہی با مشکل برقرار رہتا تھا ۔یہ تیس روپیہ کیلئے لڑ پڑے ۔پھل فروش بھی غریب تھا ۔اسے بھی ریاست نے تعلیم ،صحت اور روزگار کی سہولتیں نہیں دی تھی ۔یہ بھی نوجوان تھا ۔اس کے بھی چھوٹے چھوٹے بچے تھے ۔یہ بھی بامشکل جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھے ہوا تھا۔یہ امیر ہوتا۔پرسکون زندگی گزار رہا ہوتا کبھی بھی تیس روپیہ کیلئے دونوں بھائیوں سے نہ لڑتا۔یہ لڑنے کی بجائے مسکرا کر انہیں دو تین اضافی کیلئے فری میں دے دیتا۔پھل فروش نے لڑائی کے دوران مدد کیلئے جن بھائیوں اور عزیزوں کو بلایا وہ بھی بدترین غربت کا شکار تھے ۔بھوکے ننگے غربت کی زندہ تصویریں ۔فرسٹریشن نے انکی زندگیاں بھی اجیرن کر رکھی تھیں۔ان میں کوئی بھی پر سکون نہیں تھا ۔سب مل کر ڈنڈوں اور کرکٹ کے بیٹ کے ساتھ دونوں بھائیوں پر پل پڑے۔

مار مار کر انہیں جان سے ہی مار دیا۔ویڈیو بنانے والے بھی سارے غریب غربا تھے ۔کسی نے نہیں کہا مت لڑو تیس روپیہ کیلئے میں دے دیتا ہوں۔وہ بے حس تماشائی بن چکے تھے ۔معاشرتی ناانصافیوں نے انکے دلوں سے بھی محبت نکال کر نفرت بھر دی تھی ۔یہ سارے زومبیز تھے ۔مرنے والے ۔مارنے والے ،ویڈیو بنانے والے ۔سارے ایک جیسے تھے ۔دونوں بھائی زخموں سے چور ہو گئے ایک موقع پر مر گیا ۔دوسرا ہسپتال کے بستر پر مر گیا ۔دو جوان لوگوں کی موت کے بعد ریاست بھی زومبیز بن گئی۔ریاست نے دو قاتلوں کو پولیس مقابلے میں مار دیا
۔ٹوٹل چار مر گئے ۔فی قتل سات روپیہ تئیس پیسے ۔مقتولین کی ماں کو دیکھیں کچے گھر میں غربت اور دکھوں کی تصویر ۔اپنے جوان بیٹوں کی موت پر بین کرتی ہوئی ۔پولیس مقابلے میں مرنے والے نوجوانوں کی ماؤں کو دیکھیں ،کچے گھروں میں غربت اور بے بسی کی تصویریں ۔اپنے جوان بیٹوں کی لاشوں پر بین کرتے ہوئے ۔یہ ایک جیسی مائیں ہیں ۔یہ ایک جیسے نوجوان ہیں قتل کرنے والے اور قتل ہونے والے ۔ان نوجوانوں کے یتیم ہو جانے والے بچوں اور بیویوں کی تقدیر اور قسمت بھی یکساں ہیں ۔غربت، اور بے بسی ۔یہ جب سارے ایک جیسے تھے تو پھر ان نوجوانوں کا قاتل کون ہے ۔
4 لاکھ 63 ہزار 7 سو 86 کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے گوجرانوالہ میں سیلاب میں پھنسے شہریوں کو نکالنے کے لیے پاک فوج کا ہیلی کاپٹر سے آپریشن جاری*
*گوجرانوالہ میں سیلاب میں پھنسے شہریوں کو نکالنے کے لیے پاک فوج کا ہیلی کاپٹر سے آپریشن جاری*بھارت کی جانب سے چھوڑے جانے والے سیلابی پانی سے دریائے چناب کے قریبی دیہات زیر آبدریائے چناب ہیڈخانکی کے قریب سیلابی پانی کے باعث مختلف علاقوں کا زمینی راستہ بھی منقطع ہو گیا سیلاب میں پھنسے شہریوں کو نکالنے کے لیے پاک فوج کا ہیلی کاپٹر کے ذریعے امدادی اپریشن جاری پاک فوج کے جوان کشتیوں اور ہیلی کاپٹر کی مدد سے متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیںمتاثرین سیلاب نے پاک فوج کے اس ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کو سراہا ہےپاک فوج اس مشکل گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑی ہے🚨 *لیہ: ایم این اے اویس حیدر جکھڑ نے اپنے لیڈر عمران خان کی ہدایت پر قومی اسمبلی کی تمام سٹینڈنگ کمیٹیوں سے استعفی دے دیا۔*🚨 وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا ایکس پر فلڈ ریلیف سرگرمیوں پر ٹیم پنجاب کو خراج تحسین میری ہدایات پر عمل کرتے ہوئے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز فیلڈ میں ریلیف آپریشنز کی نگرانی کر رہے ہیں۔ مریم نواز شریف منسلک ویڈیو میں سیالکوٹ کی ڈپٹی کمشنر، صبا متاثرہ علاقوں میں خاندانوں کو پکا ہوا کھانا تقسیم کر رہی ہیں۔ مریم نواز شریف شاباش ٹیم پنجاب–اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں۔مریم نواز شریف
بل گیٹس نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کیلئے ایک ملین ڈالر کی امداد کا اعلان
تباھی تباھی اور تباھی سب کچھ تباہ۔۔۔وفاقی وزراء کے استعفے۔۔وزراء بیانات دے کر غائب عوام کھلے آسمان کے نیچے پوسٹ انٹرنیشنل بادبان نیوز سیلاب کی تباہ کاریوں پر تازہ ترین خبروں کے ساتھ
*💥سیلاب سے پنجاب میں تباہی، کئی بند ٹوٹ گئے، پانی آبادیوں میں داخل، ہزاروں افراد کی محفوظ مقامات پر منتقلی جاری**🌼پنجاب: سیلاب سے 6 لاکھ افراد متاثر، 15 اموات، بنیادی ڈھانچے کو نقصان، لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی تباہ**🔘دریائے ستلج، راوی اور چناب میں تباہ کن سیلاب نے لاکھوں افراد کو گھروں سے بے دخل کر دیا ہے اور صوبہ پنجاب کا بڑا حصہ زیرِ آب آگیا ہے، سیلاب سے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا اور لاکھوں ایکڑ زرعی زمین برباد ہو گئی ہے۔*بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور بارشوں کے باعث سیلاب سے پنجاب میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا رکھی ہے، کئی مقامات پر بند ٹوٹنے سے پانی آبادیوں میں داخل ہو گیا، فصلیں زیر آب آگئیں اور ہزاروں افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن نوید حیدر شیرازی کا بتانا ہے کہ سیلاب سے 7 افراد جاں بحق، جس میں سے گجرات میں 3، سمبڑیال میں 2 افراد، گوجرانوالہ شہر اور نارووال میں ایک ایک شخص جاں بحق ہوا۔دریائے ستلج میں سیلابی پانی کا دباؤ شدید ہونے کے بہاولپور میں باعث بستی یوسف والا اور احمد والا کے عارضی بند ٹوٹ گئے، بند ٹوٹنے سے بستی احمد بخش اور قریبی آبادیاں بھی سیلابی پانی میں گھر گئی ہیں۔پانی کے بہاؤ میں تیزی کے باعث زمینی کٹاؤ میں تیزی آ گئی ہے، سیکڑوں ایکڑ رقبے پر کاشت کپاس، دھان سمیت کئی فصلیں زیر آب آگئی ہیں جبکہ دریا کے بیٹ میں آباد سیکڑوں افراد اب بھی اپنے گھروں میں موجود ہیں۔دریائے چناب میں کوٹ مومن کی حدود میں 6 لاکھ کیوسک کا ریلا داخل ہوا، پانی کھیتوں اور قریبی آبادیوں میں داخل ہونا شروع ہو گیا جبکہ آج 10 لاکھ کیوسک کا ریلا کوٹ مومن سےگزرنےکا امکان ہے۔ڈپٹی کمشنر سرگودھا کا کہنا ہے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سیلاب سے نمٹنے کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، ریلیف کیمپس فعال اور انتظامی ادارے ہائی الرٹ ہیں، 2500 کے قریب افراد اور 1700 سے زائد مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیے گئے ہیں۔ڈپٹی کمشنر سرگودھا کے مطابق ریلا گزرنے کے بعد بحالی اقدامات اور نقصان کی تفصیلات جمع کی جائیں گی۔دریائے ستلج میں وہاڑی کے مقام پر لڈن کے قریب موضع نون میں حفاظتی بند ٹوٹ گیا جس سے پانی قریبی دیہات میں داخل ہونے سے درجنوں بستیاں زیرِ آب آگئیں۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ ہیڈ بلوکی کے مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ریسکیو ٹیموں کی جانب سے 30 افراد کو محفوظ جگہ پر منتقل کر دیا گیا ہے۔نوشہرو فیروز میں کنڈیارو کے قریب دریائے سندھ میں زمینداری بند ٹوٹ گیا، دریائی بند ٹوٹنے سے پانی بچاؤ بند سے ٹکرا گیا جس سے کچے کا علاقے میں سیکڑوں ایکڑ پر کپاس، دھان، تل، جوار اور دیگر فصلیں اور 5 گاؤں زیر آب آ گئے۔
2 وفاقی وزراء کے استعفے وزراء کا پھڈا سھیل رانا لاءیو
ہندوستان اور پاکستان آپس میں لڑ رہے تھے اس سے بے خبر کہ آنی والی تباہی دونوں میں کوئی فرق نہیں کرے گی تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ہندوستان اور پاکستان آپس میں لڑ رہے تھے اس سے بے خبر کہ آنی والی تباہی دونوں میں کوئی فرق نہیں کرے گییقین جانیے دونوں ملکوں میں اگر قابل حکمران ہوتے تو اس آفت سے نمٹنے کے لیے مل بیٹھ کر مشترکہ حکمت عملی تیار کرتے اور اپنے غریب عوام کو جانی اور مالی نقصان سے بچاتےیہ موسم اب ہمارے ساتھ ہے ایک دو ماہ کی بات نہیں شاید داہیوں تک ایسے ہی چلے گاصرف اب تک اگر انفراسٹرکچر کے نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے تو اربوں روپے نقصان ہو چکا ہے









