سال تھا 2023 کا فروری کے مہینے میں ایک خبر اچانک سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی کہ عبد الرحمن کھیتران نامی بلوچستان کے وڈیرے (MPA) نے ایک خاتون اور اسکے دو بیٹوں کو قتل کردیا ہے اور مزید بھی سینکڑوں افراد اسکی نجی جیل میں بند ہیں سوشل میڈیا کے شور کی وجہ سے گرفتاری ممکن ہوئی اسکے بعد اسکی نجی جیل اور تین مقتولین کو انصاف ملا یا دھمکی کے ساتھ کچھ پیسے ۔۔۔۔۔۔۔المختصر موصوف آجکل پھر سے MPA ہیں اور بلوچستان میں ن لیگ کی طرف سے صوبائی وزارت انکے پاس ہے اب دیکھتے ہیں شیتل کے قاتلوں کو کونسی پارٹی وزارت دیتی ہے
*بیرون ملک مقیم ایک سابق سفیر کی فیملی اسلام اۤباد میں اپنا پلاٹ بیچ رہی ہے۔ طریقہ کارکے مطابق انہیں اسلام اۤباد اۤنا پڑتا مگر انکی درخواست پر پلاٹ ٹرانسفر کیلئے CDA نے اپنی ٹیم بیرون ملک انکے پاس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ CDA ٹیم کے سفری، بورڈنگ، لاجنگ اخراجات embassy اٹھائے گی:
مولانا کا دھوبی گھاٹ
راولپنڈی کے دو گروپوں پر بات کرنی ہے ۔ایک ہے ٹرپل تھری گروپ ، اور دوسر بلاسفیمی بزنس گروپ۔
ٹرپل تھری گروپ فرخ کھوکھر کا ہے۔ اس گروہ کی تفصیل آپ کو ٹک ٹاک اور ہوٹیوب پر مل جائے گی۔
یہ کالے دھن کو سفید کرنے کا ایک دھندہ ہے جو بنیادی طور پر غیر محفوظ پارٹیاں آرگنائز کرتا ہے۔ اس کے کارندے اب بھی دبئی میں بیٹھے ہیں۔ ان میں ایک بھی کارندہ ایسا نہیں ہے جس پر قتل، تشدد، منی لانڈرنگ یا قبضے کی ایف آئی آر نہ ہو۔
اس دھندے میں ظفر سپاری بھی شامل تھا، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے حافظ قرآن ہے۔ قتل کے کیسز، زمینوں کے قبضے، دھمکیاں تڑیاں، ڈرگز، دو نمبر گاڑیاں، اسلحے کی نمائش، وحشی جانوروں کی خرید و فروخت، پر تشدد پارٹیاں، ڈالروں میں ویلیں اڑانا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حوالہ ان کا ہو تو میری معلومات میں اضافہ کیجیے گا۔
یہ لوگ کچھ عرصے سے عدالت اور پولیس دونوں کے مطلوب تھے۔ حالیہ عرصے میں سی سی ڈی نے ان کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کیا۔ ظفر سپاری کی وڈیو آپ نے دیکھ لی ہوگی جس میں وہ سی سی ڈی کی تحویل میں نظر آرہا ہے۔ خلاف قانون نمائٓشی سرگرمیوں پر سی سی ڈی سے معافی مانگ رہا ہے۔
فرخ کھوکھر ہوشیار تھا۔ اس نے پہلے اپنے ڈیرے کی دیوار پر لکھوایا، کسی قادیانی کا ڈیرے میں داخل ہونا منع ہے۔ ایک سوسائٹی جس میں تنازعہ چل رہا تھا، وہاں بھی لکھوا دیا کہ یہاں کسی قایانی کو زمین کی لین دین کی اجازت نہیں ہوگی۔
پاکستان میں یہ ایک آزمودہ نسخہ ہے۔ قبضے کی زمین پر کسی بھی چیز سے پہلے مسجد کی بنیاد رکھ دو اور چار قل پہ گزارہ کرنے والے کسی بے روزگار مولوی نما کو وہاں بٹھا دو۔ یوں اب زمین کا مسئلہ کفر اور اسلام کا مسئلہ بن جائے گا۔
اب اگر کسی نے سوسائٹی پر ہاتھ ڈالا تو آپ کو زحمت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ زیر تعمیر مسجد کے مولوی صاحب دنیا جہاں سے بنام خدا ایک جتھہ جمع کر لے گا اور آپ کے حصے کی جنگ اسلام کے نام پر لڑ لے گا۔
اس کا معاوضہ زیادہ نہیں ہے۔ آپ نے بس چندے کے نام پر اس کے وظیفے میں تین پیسوں کا اضافہ کرنا ہے۔
خیر۔!
گھیرا مزید تنگ ہوا تو اس نے اپنے سارے جرائم ایک گٹھڑی میں ڈالے، گٹھڑی کندھے پر ڈالی اور سیدھا جمعیت علمائے اسلام کے خیمے میں گھس گیا۔
ہوشیاری یہاں تک نہیں تھی۔ اس نے جمعیت میں شمولیت کے لیے جس چیز کو وجہ بتایا، وہ چیز مورچوں میں سب سے محفوظ مورچہ ہے۔ کہتا ہے، مولانا فضل الرحمن نے ختم نبوت کے حوالے سے جو سٹینڈ لیا، وہ مجھے بہت پسند آیا۔
اب عدالت اور سی سی ڈی یا کوئی بھی دوسرا محکمہ فرخ کھوکھر پہ ہاتھ ڈالے گا تو اس کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہوگا کہ وہ اسلام کا دشمن ہے، ختم نبوت کا دشمن ہے اور قادیانی لابی کا ایجنٹ ہے۔
یہی معاملہ بلاسفیمی بزنس گروپ کا ہے۔ بلاسفیمی بزنس گروپ در اصل ایسے وکلا کا جتھہ ہے جو اول مدرسوں میں پڑھے، مگر پڑھ نہ سکے۔ چنانچہ یہ طاہر اشرفی کی طرح علامہ ہوگئے۔
پھر انہوں نے ایل ایل بی پر ہاتھ ڈالا مگر وقت ضائع کیا۔ کیرئیر شروع ہوا تو ایف آئی آر ڈلوانے اور ایف آئی آر خارج کروانے سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ انہوں نے سب سے آسان کام چن لیا۔ توہین مذہب کے قوانین کے نیچے اپنی چھابڑی لگا لی۔
یہ اسی کام میں جت گئے۔ یہ ان کے لیے معاش کا بنیادی اور واحد ذریعہ بن گیا۔ انہوں نے ہتھوڑا اٹھا لیا تھا، اب ہر ابھری ہوئی چیز پر یہ کیل کا گمان کرنے لگے تھے۔ یہ گھر سے نکلتے ہی اس نیت کے ساتھ تھے کہ آج ہم نے شکار کرنا ہے۔ ڈگری کے مطابق انہوں نے وکالت کرنی تھی، مگر انہوں نے مدعیت شروع کردی۔ وکالت کے پیشے میں اسے ذہنی افلاس سمجھا جاتا ہے۔
چونکہ یہ کند ذہن تھے، انہوں نے بد احتیاطیاں کیں۔ ٹریپنگ، بلیک میلنگ اور اغوا کے لیے اپنے ذاتی نمبر، ذاتی گھر اور ذاتی گاڑیاں استعمال کیں۔ اپنے فیس بک پیجز اور اپنے ہی وٹس ایپ گروپ استعمال کیے۔
کسی پیج کی ملکیت کا دعوی کرتے تو یہ بھول جاتے کہ پچھلی ایف آئی آر میں اس پیج کی ملکیت کا دعوی ہمارے دوسرے ممبر نے کیا ہوا ہے۔ یہ بھی بھول جاتے تھے کہ یہ پیج تو کاغذات کے اندر سیز پڑا ہوا ہے۔
انہوں نے ایف آئی آرز بھی کاپی پیسٹ مار کر ایک ہی رنگ میں لکھیں۔ انہوں نے مدعی بھی اتنے ہی رکھے جتنے کہ یہ تھے۔ میں، میرا دوست، میرا ڈرائیور، میرا خانساماں میرا منشی میرا یہ میرا وہ۔ خواتین بھی وہی استعمال کیں جو گھر کی تھیں یا دفتر کی تھیں۔ اب ان کی زندگیاں ان کے ہاتھوں خطرے میں ہے۔
یہ دھندہ یہ کب تک کرتے؟
عبد اللہ شاہ قتل ہوا اور قتل کی تحقیقات کے نتیجے میں اس گروپ کے چہرے سے نقاب ہٹ گیا۔ ان کے دھندے کا طریقہ کار، ان کے کردار، ان کے نمبر، ان کی گاڑیاں، ان کی سرگرمیاں اور ان کے سرکاری معاون، سب سامنے آگئے۔
ناحق پکڑے جانے والے بچوں کے والدین عدالت چلے گئے کہ ہمیں تحقیقات کے لیے کمیشن چاہیے۔ کمیشن کے لیے ہونے والے عدالتی بحث مباحثے میں ان کے چہرے سے رہا سہا نقاب بھی الٹ گیا۔
آخر کار عدالت نے ایک غیر جانبدار تحقیقاتی کمیشن بنانے کا آرڈر جار کر دیا۔
جس کے ہاتھ صاف ہوں اور مر مضبوط ہو وہ کمیشن سے کیوں بھاگے گا؟ اور ایسے میں کیوں بھاگے گا جب اسے قانون کا سہارا ہو، ریاستی آشیرباد حاصل ہو، میڈیا اس کے لیے خاموش ہو، لاوڈ اسپیکر اس کے لیے چیختے چلاتے ہوں۔؟
کھوکھر کی طرح ان کا گھیرا تنگ ہوا تو یہ کمیشن سے بھاگ گئے اور سیدھا جا کر مولانا فضل الرحمن کے سایہ ذولجلال میں پناہ لے کر بیٹھ گئے۔ مولانا نے چار بازو کھول کے ان کو جگہ دی۔
مولانا نے کمیشن کے فیصلے پر عدالت کو کھلی دھمکی دی۔ ایک مفرور کے لیے جب وہ یہ دھمکی دے رہے تھے تب ان کے پہلو میں دوسرا مفرور کھڑا ہوا تھا۔ اسلام کی اس سے بہتر تصویر آپ نے اس سے پہلے کبھی دیکھی تھی؟
مولانا کے سائے میں پناہ حاصل کرنے کے لیے فرخ کھوکھر کی طرح راو عبد الرحیم نے بھی سب سے حساس نکتے کو چنا۔
جھوٹ بولتے ہوئے کہا
‘عدالت نے قوانین میں تبدیلی کے لیے کمیشن تشکیل دیا ہے’
یہ جنگ واضح طور پر متاثرہ خاندانوں اور بزنس گروپ کے بیچ تھی۔ اس بات پر سب کا اتفاق تھا کہ گستاخی ہوئی ہے۔ یہ معلوم کرنا تھا کہ یہ گستاخی در اصل کی کس نے ہے۔
وقت نے سب کو سوچنے کے لیے کچھ دیر کا موقع دیا۔ مگر وقت کی دی ہوئی مہلت ضائع کر دی گئی۔
روایتی چالاکی کا مظہارہ کرتے ہوئے اس جنگ کو کفر اور اسلام کی جنگ بنا دیا گیا۔ اب حکومت کمیشن کی طرف جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حکومت اسلام سے ٹکر لینے جا رہی ہے۔
بہتر ہے، مگر اس اسلام کی مجسم شکیلیں کیا ہیں؟ مولانا فضل الرحمن کے سائے میں کھڑے ہوئے فرخ کھوکر اور راو عبد الرحیم۔ اس تصویر میں طاہر اشرفی کو بھی مع اہل و عیال کھڑا کر دیں تو دین کی تعبیر مکمل ہو جائے گی۔
اب یہ کہنا کہ مولانا صاحب کو اس کہانی کا پتا نہیں ہے، جھوٹ ہے۔ مولانا کے علم میں یہ بات آچکی تھی کہ کہ بلاسفیمی بزنس گروپ نے مذہبی قوانین کا استعمال کرتے ہوئے کیا کچھ کیا ہے۔
مگر اتمام حجت کے لیے ان نادار بچوں کے والدین بات سمجھانے کے لیے ایک بار پھر ان لوگوں کے دروازے پر دستک دیں گے۔
اس امید کے ساتھ نہیں کہ یہ دروازہ کھولیں گے۔ اس خواہش کے ساتھ کہ مورخ کو تاریخ لکھنے لکھانے میں آسانی ہوگی۔ کارکن کو بات سجھنے سمجھانے میں آسانی ہوگی۔
شیتل بلوچ: ایک اور بیٹی غیرت کے ایوانوں میں قتل کر دی گئیتحریر: ڈاکٹراختربیگ مرزا”میں نے نکاح کیا ہے، زنا نہیں۔ کوئی گناہ نہیں کیا۔ میں اپنے پیار پر قربان ہونے جا رہی ہوں۔ آپ کو صرف گولی مارنے کی اجازت ہے!”یہ جملے کسی افسانے کا اختتام نہیں — یہ بلوچستان کی ایک بہادر بیٹی شیتل بلوچ کے وہ الفاظ تھے جو اُس نے اپنی زندگی کے آخری لمحے میں کہے۔ وہ لمحہ جس میں ایک عورت نے مردوں کے اس سماج کو آئینہ دکھا دیا، مگر وہ آئینہ اتنا سچ تھا کہ ان غیرت کے تاج پہنے درندوں نے اُس کو چکنا چور کر دیا۔■ یہ صرف قتل نہیں، یہ نظام کا جنازہ ہےبلوچستان کی ایک بیٹی، اپنی مرضی سے نکاح کرنے کی “خطا” میں قتل کر دی گئی۔ شیتل اور زرک — وہ دو انسان جو نکاح جیسے مقدس بندھن میں بندھے، مگر سماج کی بوسیدہ رسموں، جھوٹی غیرت، اور مردانہ اجارہ داری کو یہ محبت برداشت نہ ہوئی۔
ڈیڑھ سال بعد، انہیں قبیلے کے جرگے میں بلایا گیا — کھانے پر نہیں، بلکہ “غیرت” پر مرنے کے لیے۔ بیس مرد، پانچ بندوقیں، اور ویران میدان۔ شیتل نے قرآن سینے سے لگا رکھا تھا۔ اُس نے ایک مرد کے ہاتھ میں قرآن دیا اور اجازت دی کہ صرف گولی ماری جائے — وہ بھی تب، جب سب کچھ طے ہو چکا تھا۔■ نہ چیخ، نہ رحم، نہ التجاشیتل نہ روئی، نہ چیخی، نہ گِڑگِڑائی۔ وہ خاموشی سے اُن درندوں کے سامنے کھڑی ہوئی جنہیں قبیلے، روایت، اور غیرت کا محافظ کہا جاتا ہے۔ اُس کے قدم نہیں کانپے۔ اُس کی آنکھوں میں نہ خوف تھا، نہ رحم کی بھیک۔ اُس کی خاموشی میں وہ شور تھا جو آج بھی گونج رہا ہے:”بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ؟””کس گناہ پر قتل کر دی گئی؟”■ یہ غیرت نہیں، جہالت ہےیہ کیسی غیرت ہے جس میں باپ، بھائی، چچا، ماموں سب مل کر اپنی بیٹی، بہن کو قتل کر دیتے ہیں؟ وہ بیٹی جو نکاح کے تقدس پر ایمان لاتی ہے، جس نے معاشرے کے “قانون” سے زیادہ خدا کے حکم کو تسلیم کیا۔ کیا یہ غیرت ہے،
یا پھر صرف ایک نسل پرستی، مردانگی اور طاقت کے بے لگام گھوڑے کا ننگا ناچ؟یہ وہی قبائلی رسمیں ہیں جنہیں شوکت صدیقی نے جانگلوس میں بیان کیا — وہی رسمیں، وہی جرگے، وہی ظلم، جو 1960 میں بھی تھے، اور آج 2025 میں بھی زندہ ہیں۔■ شیتل کا جرم: محبتشیتل کا جرم صرف اتنا تھا کہ اُس نے اپنی پسند سے شادی کی۔ وہ محبت جو قرآن اور سنت کے مطابق نکاح میں ڈھلی، مگر قبیلے کے جرگہ نما فرعونوں کو گوارا نہ ہوئی۔اسے میدان میں قتل کر دیا گیا — 9 گولیاں — جسم پر نہیں، انسانیت کے منہ پر ماریں گئیں۔■ کب تک؟ہر روز کوئی شیتل ماری جاتی ہے۔ کبھی کوہستان میں، کبھی جامشورو، کبھی دادو، کبھی لورالائی، کبھی کراچی کی جھونپڑیوں میں، اور کبھی بلوچستان کے ویرانوں میں۔ کچھ اخبارات کی سرخیاں بنتی ہیں، کچھ بے نام قبروں میں دفن ہو جاتی ہیں۔مگر سوال اب بھی زندہ ہے:کب تک؟کب تک ہم غیرت کے نام پر قتل کو روایتی تسلیم کرتے رہیں گے؟ کب تک قرآن کو قتل سے پہلے ایک “نرمی” کا پرچم بنایا جائے گا؟ کب تک عورت کو مرد کی جاگیر سمجھا جائے گا؟ کب تک نکاح جیسے عمل کو جرم کہا جائے گا؟■ شیتل ہار گئی… یا جیت گئی؟شیتل کے جسم کو قتل کیا گیا، مگر اُس کا وقار، اُس کی خودداری، اُس کا فیصلہ اور اُس کا عشق — وہ سب آج بھی زندہ ہیں۔شیتل اُن سب عورتوں کی نمائندہ بن گئی ہے جو زندگی کو اپنے طریقے سے جینا چاہتی ہیں۔ جو محبت کو حرام نہیں، عبادت سمجھتی ہیں۔وہ ماری گئی —
مگر ایک سوال چھوڑ گئی:”مجھے کس جرم میں مارا گیا؟”■ اختتام: ایک سوال آپ سےیہ مضمون یہاں ختم نہیں ہوتا — یہ وہ آئینہ ہے جو آپ کے اور میرے درمیان رکھا گیا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی شیتل کی کہانی سے کچھ نہ سیکھا، تو کل ایک اور شیتل، ایک اور زرک، ایک اور مقتل، ایک اور قرآن، اور ایک اور قتل ہوگا۔یہ وقت ہے خاموشی توڑنے کا، سوال اٹھانے کا، اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا۔ورنہ تاریخ ہم سب کو اُن درندوں کے ساتھ کھڑا کرے گی جنہوں نے شیتل کو مارا نہیں — دفن کیا، اپنی جھوٹی غیرت کے نیچے۔شیتل بلوچ — تمہارے لہو کا حساب قیامت تک جاری رہے گا۔📍اللّٰہ ہم سب کو ایسی غیرت سے محفوظ رکھے، جو کسی کی زندگی چھین کر اپنی مردانگی کا جشن مناتی ہے۔ آمین
چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے مخصوص نشستوں پر حلف برداری کیلئے گورنر کے پی کو نامزد کردیااشتیاق نور چمکنی)پشاور ہائی کورٹ میں اپوزیشن کی درخواست پر مخصوص نشستوں پر حلف برداری کے لیے گورنر کے پی کو نامزد کر دیا۔اپوزیشن جماعتوں نے مخصوص نشستوں پر اراکین کی حلف برداری کسی فرد کو نامزد کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ کے پاس جمع کرائی گئی درخواست کے پی اسمبلی کی اپوزیشن جماعتوں پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ایڈیشنل سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی پختونخوا نے اس حوالے سے بتایا کہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مخصوص نشستوں پر کے پی اسمبلی میں منتخب ارکان سے حلف نہیں لیا گیا۔درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ مخصوص نشستوں پر اراکین کی حلف برداری کے لیے کسی کو نامزد کریں۔اب چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے اپوزیشن کی درخواست پر مخصوص نشستوں پر اراکین کی حلف برداری کے لیے گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی کو نامزد کر دیا ہے۔یاد رہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کا آج ہونے والا اجلاس تقریباً ڈھائی گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا تاہم اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت اجلاس شروع ہوتے ہی پی ٹی آئی رکن شیر علی آفریدی نے کورم کی نشاندہی کر دی جس پر اسپیکر نے اجلاس 24 جولائی تک ملتوی کر دیا۔کے پی اسمبلی کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر کے پی ڈاکٹر عباد اللہ کا کہنا تھا صوبے کو نابالغ سیاسی لوگوں کے حوالے کر دیا گیا ہے، آج مخصوص نشستوں پر اراکین کا حلف نہ لیکر غیر آئینی اور غیر قانونی کام کیا گیا، ہم آج ہی پشاور ہائیکورٹ میں اس حوالے سے درخواست دائر کریں گے اور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سے درخواست کریں گے کہ آج ہی کسی فرد کو مخصوص نشستوں پر حلف لینے کے لیے نامزد کریں۔