پشاور کور کی 25 سالہ خفیہ جنگ بے نقاب! — 1999 سے آج تک کون سے کور کمانڈر نے دہشت گردی کو روکا… اور کون اس کے پھیلاؤ کا باعث بنا؟ جنرل مشرف سے عاصم منیر تک — دو دہائیوں کی خونی کہانی، فیلڈ آپریشنز، معاہدوں اور ناکامیوں اور کامیابیوں کی تفصیل کون سے رنگ باز ذمہ دار سہیل رانا بادبان ٹی وی

پشاور کور کمانڈرز کا تاریخی تسلسل (1999–2025)1 لیفٹیننٹ جنرل سعید الزفر (1996–2000)یہ دور فاٹا اور قبائلی علاقوں میں طالبان کے اثرات کے ابتدائی پھیلاؤ کا تھا۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد پشاور کور کو سرحدی استحکام کے بجائے قبائلی دباؤ اور اسمگلنگ کے چیلنجز کا سامنا رہا۔

2

. لیفٹیننٹ جنرل امتیاز شاہین (2000–2001)جنرل پرویز مشرف کے ابتدائی دور میں افغانستان کے واقعات کے اثرات سرحدوں تک پہنچے۔ 9/11 کے بعد امریکی دباؤ میں پہلی مرتبہ فاٹا میں فوجی موجودگی بڑھائی گئی۔

3. لیفٹیننٹ جنرل احسان الحق (2001)مختصر مدت، مگر اسی عرصے میں پاکستان نے امریکی اتحادی کے طور پر “وار آن ٹیرر” میں شمولیت اختیار کی۔ پشاور کور نے شمالی وزیرستان اور کرم ایجنسی کے علاقوں میں ابتدائی تعیناتیاں شروع کیں۔

4. لیفٹیننٹ جنرل علی جان اورکزئی (2001–2004)نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کا آغاز اسی دور میں ہوا۔ فاٹا میں ابتدائی فوجی کارروائیاں، اور قبائلی جرگوں کے ذریعے امن معاہدوں کی ابتدا اسی عہد میں کی گئی۔

5. لیفٹیننٹ جنرل صفدر حسین (2004–2005)یہ وہ دور تھا جب ”شکئی“ اور ”سراروغہ“ معاہدے کیے گئے، جن کے نتیجے میں وقتی امن تو قائم ہوا مگر طالبان کو منظم ہونے کا موقع ملا۔ ان معاہدوں کے ٹوٹنے کے بعد دہشت گردی کی نئی لہر اٹھی اور تحریک طالبان پاکستان (TTP) کی بنیاد پڑی۔

6. لیفٹیننٹ جنرل محمد حمید خان (2005–2007)انہوں نے دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے جال کو توڑنے کی کوشش کی مگر TTP کی منظم شکل میں ابھار کو روکنا ممکن نہ رہا۔ اسی دوران لال مسجد آپریشن کے بعد شدت پسندی میں مزید اضافہ ہوا۔

7. لیفٹیننٹ جنرل (بعد میں جنرل) مسعود اسلم (2007–2010)اس دور میں پاک فوج نے فیصلہ کن آپریشنز کیے: راہِ راست (سوات، 2009) اور راہِ نجات (جنوبی وزیرستان، 2009)۔ سوات، بونیر اور دیر میں عسکریت پسندوں کا خاتمہ اسی کور نے کیا۔ ہزاروں شہداء کی قربانی کے بعد پہلی بار ریاستی عملداری بحال ہوئی۔

8. لیفٹیننٹ جنرل عاصف یاسین ملک (2010–2011)ان کا دور بحالی و استحکام کا تھا۔ فوجی کامیابیوں کو سول اداروں تک منتقل کرنے اور متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو پر توجہ دی گئی۔

9. لیفٹیننٹ جنرل خالد ربانی (2011–2014)انہوں نے خیبر، باجوڑ، مہمند اور کرم ایجنسی میں ٹارگٹڈ آپریشنز کیے۔ انہی کی نگرانی میں ضربِ عضب کی تیاری مکمل ہوئی جو 2014 میں شمالی وزیرستان میں شروع ہوا۔

10. لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمن (2014–2016)ضربِ عضب کے عملی نفاذ کے دوران قیادت کی۔ آرمی پبلک اسکول پشاور کے سانحے کے بعد دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان بنایا گیا، اور کور نے فاٹا کے تمام اہم مراکز کلیئر کیے۔

11. لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ (2016–2018)انہوں نے سرحدی باڑ (Fence) کی تعمیر اور ردالفساد کے تحت ملک گیر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو آگے بڑھایا۔ دہشت گردی کے گراف میں نمایاں کمی آئی۔

12. لیفٹیننٹ جنرل شاہین مظہر محمود (2018–2019)بارڈر مینجمنٹ اور قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد سول کنٹرول کی بحالی پر کام کیا۔

13. لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود (2019–2021)افغانستان میں طالبان کی واپسی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے سرحدی علاقوں میں آپریشنز تیز کیے۔ فاٹا کے انضمام کے بعد پولیسنگ اور گورننس کے مسائل میں فوجی معاونت کا کردار ادا کیا۔

14. لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید (2021–2022)طالبان کی کابل میں واپسی کے بعد پاکستان نے تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کی پالیسی اپنائی۔ اس دوران عارضی جنگ بندی ہوئی مگر TTP نے دوبارہ منظم ہونا شروع کیا۔

15.

لیفٹیننٹ جنرل سردار حسن اظہر حیات (2022–2024)سیز فائر کے خاتمے اور دہشت گردی کی نئی لہر کے دوران کور نے سرحدی علاقوں میں جارحانہ کارروائیاں بڑھائیں۔ افغان سرزمین سے حملوں کے خلاف جوابی آپریشنز کیے گئے۔

16. لیفٹیننٹ جنرل عمر احمد بخاری (2024–تا حال)موجودہ کور کمانڈر افغان سرحدی تناؤ کے دور میں تعینات ہیں۔ سرحد پار حملوں، فضائی کارروائیوں، اور خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی کی نئی حکمتِ عملی کے تحت سخت موقف اختیار کیا گیا ہے

نتیجہ و تجزیہ 1. 2001–2006: امن معاہدوں نے وقتی سکون مگر طویل المیعاد خطرہ پیدا کیا۔ 2. 2007–2016: فیصلہ کن فوجی کارروائیوں نے ریاستی رِٹ بحال کی اور دہشت گردی کی لہر توڑی۔ 3. 2017–2019: بارڈر فینسنگ، انٹیلی جنس آپریشنز اور پولیسنگ سے امن بحال ہوا۔ 4. 2021–2022: TTP سے مذاکرات نے وقتی امن مگر بعد میں نئی لہر پیدا کی۔ 5.

2023–2025: دوبارہ عسکری سختی، بارڈر اسٹرائکس، اور علاقائی دباؤ کے ذریعے دہشت گردی کو محدود کرنے کی کوشش۔

1999 سے آج تک کون سے کور کمانڈر نے دہشت گردی کو روکا… اور کون اس کے پھیلاؤ کا باعث بنا؟ جنرل مشرف سے عاصم منیر تک — دو دہائیوں کی خونی کہانی، فیلڈ آپریشنز، معاہدوں اور ناکامیوں اور کامیابیوں کی تفصیل سہیل رانا لائیو

From 1999 to the present, which Corps Commanders curbed terrorism… and which fueled its expansion? From General Musharraf to General Asim Munir the bloody chronicle of two decades of battles, operations, deals, failures, and triumphs revealed exclusively on Sohail Rana Live

جنگی تیاری جاری رکھ جاری نیول چیف۔۔پاکستان پر اٹھنے والی گندی آنکھ نکال دی جائے گی ائیر چیف۔ساؤتھ افریقہ کے خلاف دوسرے ٹی ٹونٹی میچ میں پاکستان کی پلینگ 11۔‏محترمہ، 10 ہزار روپے آپ کے منہ پر مارتا ہوں، مولانا فضل الرحمان۔چھوٹا کون برگئڈیر عتیق الرحمن کی تحریر۔*سرگودھا۔۔۔ صوبے بھر میں شادیوں پر ون ڈش کی بازگشت۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*‏بھارت میں بینک کی وائی فائی آئی ڈی ’ پاکستان زندہ باد ‘ کے نام سے تبدیل، انتظامیہ کی دوڑیں لگ گئیں*پولیس کے مطابق یہ واقعہ *کلبالو، جگنی* کے علاقے سے رپورٹ ہوا ہے، اور اس سلسلے میں پولیس نے ایک *این سی آر (NCR)* درج کر لی ہے۔شکایت کنندہ *بی گووردھن سنگھ* نے بتایا کہ جب وہ انٹرنیٹ کے لیے دستیاب وائی فائی نیٹ ورکس چیک کر رہا تھا تو اس نے ایک وائی فائی کنکشن دیکھا جس کا نام تھا: *”Pakistan Zindabad”*۔پولیس کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیم اس سگنل کے ماخذ کو تلاش کرنے کے لیے قریبی رینج میں جانچ کر رہی ہے۔ابتدائی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ یہ وائی فائی کنکشن مبینہ طور پر علاقے کے ایک *کوآپریٹو بینک* سے منسلک ہو سکتا ہے، لیکن ابھی اس کی تصدیق ہونا باقی ہے۔پولیس نے کچھ نزدیکی گھروں کا بھی دورہ کیا، تاہم کوئی مشتبہ چیز نہیں ملی۔شکایت کنندہ نے وائی فائی کے اس نام کی ایک ویڈیو بھی بطور ثبوت ریکارڈ کی ہے، اور پولیس نے موقع پر پہنچ کر اسی نام کا وائی فائی کنکشن خود بھی دیکھا۔

چھوٹا چھیمے کا اصل نام تو سلیم تھا لیکن اصل نام کو کریدنے کی کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی- چھیمے کا شناختی کارڈ بھی اس لئے بنا تھا کہ ووٹ دینا ھوتا ھے-شناختی کارڈ وہ واحد ڈاکومنٹ تھا جس پر سلیم لکھا تھا- اکثر جب چھیما بہت تنہا ہوتا اور اداسی ستانے لگتی تو وہ شناختی کارڈ کو اپنے ٹرنک سے نکال کر گھنٹوں دیکھتا رھتا- اس کی شناخت ٹرنک میں بند کر دی گئی تھی- چھیما سات آٹھ سال کا ھو گا جب اس کے والد کا انتقال ہوا- چھیمے کے والد ، بالا ( اقبال) حویلے کے سارے کام سنبھالتا تھا – ہمارے چودھراہٹ زدہ کلچر میں ان کام کرنے والوں کو کمّی کہتے ہیں- چودھدری صاحب نے بالے کی وفات کے بعد، اپنا دشتِ شفت سلیم کے سر پر رکھ کر اسے چھیما بنا دیا تو پورے گاؤں نے چودھدریوں کی اعلی ظرفی کے کئی دن تک گُن گائے – پچھلے دس سالوں میں چھیمے نے اپنے کام اور محنت سے حویلی میں سب کو گرویدہ بنا لیا تھا- چوھدریوں کی حویلی میں سارا کام چھیمے کے ذمّے تھا- جہاں کہیں خرابی ہوتی چھیمے کی شامت آ جاتی- یعنی وہ چودھدریوں کی حویلی کا کاما تو تھا مگر‏ fall guy بھی تھا- فال گائے وہ بندہ ہوتا ھے جس پر ہر خرابی کا الزام دھرا جاتا ہے- اشرافیہ نے یہ فن چودھراہٹ سے سیکھا-چودھراہٹ میں ہر خرابی کی ذمہ داری ” کمّی” پر ڈال دی جاتی ہے- امریکہ نے ویت نام کی جنگ کے بعد یہ سبق سیکھا کہ بڑی جنگ لڑنے سے پہلے fall guy یا “چھوٹے” کا انتخاب پہلے سے کر رکھنا چاہیے- مکینک، ریستورانوں ، فیکٹریوں میں fall guy کو ” چھوٹا” کہتے ہیں- پاکستان کا fall guy عوام ہے- نا ان کو بجلی استعمال کرنی آتی ھے،

نہ چینی ، نہ آ ٹا گوندنا اور خواہ مخواہ بیمار ہو جاتے ہیں اور پھر دوائیاں بھی مانگتے ہیں- حکومت ان کے لئے اور کیا کرے، ہر کام تو بخوبی کر رھی ھے-‏Hierarchy کی ایجاد بھی نظریہ ضرورت تھی تاکہ fall guy ڈھونڈنے میں آسانی رہے-اپنی ناکامی کا الزام دوسروں پر لگانے سے بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے- کام خراب کرنے کے بعد سب سے پہلا کام ‘باس’ یہ کرتا ہے کہ کانفرنس بلا لے- اپنے آپ کو پورے قصّے سے الگ کر کے انکوائری شروع کرواتا ہے اور جس بندے کا اس پورے واقع میں بہترین کام ہوتا ہے اسے sack کر دیتے ہیں کیونکہ وہ ساری غلطیوں کا چشم دید گواہ ہوتا ھے-امریکہ نے دھشت گردی کی جنگ میں پاکستان کو شروع دن سے ساتھ رکھا تاکہ اپنی ناکامیوں کو ساتھ ساتھ ہی کلیئر کرتے جائیں

– ساری کوتاہیاں ساتھ ساتھ ہی پاکستان پر ڈال کر میڈیا کو بتاتے رہے کہ ” یہی ھے”- باقی کام امریکی، افغانی اور بھارتی میڈیا خود کر لیتا تھا-وہ تو ہماری خوش قسمتی کہ ایراق ، شام، لیبیا ہم سے دور تھے- روس دنیا کا واحد ملک ہے جسے fall guy کی ضرورت نہیں پڑتی- گوجرانوالہ کے پہلوانوں کی طرح ساری لڑائیاں اپنے زور بازو پر لڑتے ہیں- روس نے یورپ اور ایشیا کے سنگم پر ایسا پڑاؤ ڈالا ہوا ہے کہ کوئی چیز ،ادھر سے اُدھر ، بغیر نظروں میں آئے ،نہ آ سکتی ھے نہ ہی جا سکتی ہے- عالمی جنگیں ، انقلاب، تیل، تجارت، اسلحہ سازی سب کچھ کھیل لیتے ہیں- دنیا کا بہترین ادب بھی روس میں لکھا گیا- ہماری حکومتیں عین اس وقت جب اقتدار سے رخصت ہو رہے ہوتے ہیں ایک fall guy کا انتخاب کر چھوڑتی ہیں تاکہ اگلا الیکشن آرام سے لڑ سکیں- بھارت نے اندرونی مسائل پر پردہ داری کے لئے اپنی عوام کو پاکستان کے پیچھے لگا رکھا ہے – پاکستان میں دخل اندازی بھارت کا قومی کھیل بن چکا ہے جسے بی جے پی اور بالی ووڈ خوب نبھا رھا ھے- بھارت اپنے کام پر کم اور ہمارے معاملات پر زیادہ توجہ دیتا ہیں- پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی تو سٹریٹجی ہی fall guy کے انتخاب سے شروع ہوتی ہے- میچ شروع ھونے سے پہلے ہی بندہ ڈھونڈ چھوڑتے ہیں-

کچھ نہ ملے تو ساری ذمہ داری ٹاس یا پچ پر ڈال دیتے ہیں-گھر میں تو fall guy آپ کو پتا ہی ہے کہ کون ہوتا ہے- نکاح کی definition ہی fall guy ہے-عورتوں کی روزانہ ملاقاتوں میں خاوند، ہر خرابی کی وجہ اور انتہاء کا نکمّا قرار پاتا ھے – ہر بیوی کا بندہ نکمّا اور بھائی کوگھو گھوڑا ہے-حکومتی معاملات میں جب بھی کوئی بڑا کانڈ ھو جائے تو پہلے اس کا نوٹس لیا جاتا ہے، پھر مزمّت، انکوائری کا اعلان، دو یا تین رکنی کمیٹی بنتی ھے جس نے پندرہ دن میں رپورٹ دینی ھوتی ہے- عوام کی یاداشت تو ہوتی ہی کمزور ھے اور میڈیا کو ہر روز نیا کانڈ چاہیے-کاروبار دنیا کو “چھوٹوں ” کے سہارے چلایا جا رھا ھے-

،ڈیڑھ سو سال پرانی سیاسی روایات ۔۔ پشاور: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پشاور کا دورہ کیا اور قبائلی عمائدین کے ایک بڑے جرگے سے خطاب کیا، جس میں امن و استحکام، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔آئی ایس پی آر کے مطابق، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ہیڈکوارٹر الیون کور میں صوبے کی سیکیورٹی کی تازہ صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن کا خواہاں ہے، تاہم افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی دہشت گردی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے متعدد مثبت اقدامات کیے ہیں، مگر افغان طالبان حکومت نے بھارتی حمایت یافتہ گروہوں کو سہولت فراہم کی، جو خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ فیلڈ مارشل نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا کو دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں سے ہر صورت پاک کیا جائے گا۔پاک فوج کے ترجمان کے مطابق جرگے میں شریک قبائلی عمائدین نے دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندستان جیسی گمراہ کن سوچ کو قبائلی علاقوں میں کوئی پذیرائی حاصل نہیں ہے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قبائلی عوام کے عزم، حوصلے اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ امن و استحکام کے قیام کے لیے ریاست اور عوام ایک پیج پر ہیں۔ پشاور آمد پر کمانڈر پشاور کور نے فیلڈ مارشل کا استقبال کیا۔

کرم میں آج پاک فوج کے ریٹائرڈ سپاہی کا کپتان ڈاکٹر بیٹا بھی شہید ھو گیا محنتی باپ کا بہادر اور لائق بیٹا ، کیپٹن ڈاکٹر نعمان سلیم شہید29 اکتوبر 2025 کو کرم میں وطن کی خاطر جان نثار کرنے والوں میں کیپٹن ڈاکٹر نعمان سلیم بھی شامل تھے، جن کا تعلق میانوالی کے ایک سادہ مگر باہمت گھرانے سے تھا۔ وہ پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ سپاہی، محمد سلیم کے فرزند تھے — وہی محمد سلیم جنہوں نے اپنے محدود وسائل اور ان گنت قربانیوں سے اپنے بیٹے کو ڈاکٹر بنانے کا خواب پورا کیا۔کیپٹن ڈاکٹر نعمان سلیم کی عمر محض چوبیس برس تھی، اور فوج میں شامل ہوئے ابھی ایک سال اور چھ ماہ ہی ہوئے تھے۔۔یہ سوچ کر دل بھر آتا ہے کہ ایک سپاہی باپ نے برسوں کی محنت سے اپنے بیٹے کو ڈاکٹر بنایا۔ مگر وہی بیٹا آج اپنی جان قربان کر کے وطن کی زندگی بچانے والوں میں شامل ہو گیا۔خوارج کے خلاف لڑتے ہوئے کیپٹن نعمان نے وہی کیا جو ایک سچا سپاہی کرتا ہے — اپنی قوم، اپنی سرزمین اور اپنے عہد سے وفا۔۔کیپٹن ڈاکٹر نعمان سلیم بھی انہی داستانوں کا ایک روشن باب بن گئے — ایک ایسا باب جو آنے والی نسلوں کو یہ سبق دیتا رہے گا کہ وطن کی محبت سب سے بڑی عزت ہے، اور شہادت سب سے بڑا انعام ہے۔

مذاکرات کے دوران ایک موقع پر افغان حکام نے کہا کہ پاکستان امریکی ڈرونز کو روکے۔ اس پر پاکستان نے جواب دیا کہ امریکی ڈرونز قطر سے اڑ کر آتے ہیں۔ قطر بھی مذاکرات کی میز پر موجود ہے، آپ قطر سے بات کر لیں، جس پر قطر نے کہا کہ ہمارا امریکہ سے معاہدہ ہے، ہم نہیں روک سکتے۔ مزمل سہروردی، سینئر صحافی

ٹرمپ نے چاہ بہارپرانڈیاکو چھ ماہ پابندیاں نرم کردیں طاکبان ترکوں سے سزفائردے رہے انڈیاسرپر آبیٹھا اور اندرالگ غدر مچا

‏آپ عدالتی حکمات کو کیوں نہیں مانتے وزیراعلی سہیل آفریدی۔۔آسٹریلیا کو شکست بھارت فائنل میں پہنچ گیا تاریخی لمحہ۔’چار گنا بڑے دشمن کو سبق سکھایا، تو طالبان کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ‘خواجہ اصف۔۔خلاف کریک ڈاؤن شھادتوں کے بعد بڑے پیمانے پر ایکشن۔ای ایس ای کے سربراہ کے خلاف 2 اشتھاری کمپنیوں نے کمپین کس کے کھنے پر چلای۔فیلڈمارشل عاصم منیر ای ایس ای کے سربراہ عاصم ملک ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن کاشف عبداللہ ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ واجد عزیز ای جی ایف سی کے سربراہ عمران سرتاج کو پشاور کے کور کمانڈر عمر بخاری کی بریفنگ۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

ٹرمپ کی ایک بار پھر طیارے مار گرائے گئے کا ذکر۔۔وفاقی کابینہ کا اھم اجلاس بڑی خبر کی گونج۔۔متنازعہ ٹویٹ ایمان مزاری کا شوھر گرفتار۔ روس پر نئی پابندیاں چین کا سخت موقف۔ماں دھرتی پر قربان ڈاکٹر کیپٹن نعمان سمیت 7 شھید۔طالبانِ پاکستان اور اسٹیٹجک ڈَیپتھ— لارے، لپے۔۔جھوٹیا وے! ایک جھوٹ ہور بول جا! ایک اور بڑا جھوٹ بے نقاب، نیا لارا سامنے آگیا!۔۔1999میں ہم گرفتار ہوئے تو اخبار میں خبر لگی یہ قومی مفادمیں گرفتار۔۔2 سال بعد رہا ہوئے تو پھر خبر لگی تھی یہ قومی مفاد میں رہا ہو گئے،۔آج تک پتہ نہیں چلا ہمارا قومی مفاد کیا ہے، شاہد خاقان عباسی۔لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے ایک بار پھر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی پاک فوج کا دشمن کی اشتعال انگیزی کا بروقت اور مؤثر جواب۔ پاکستان آرمی نے پانچ بھارتی چیک پوسٹ اڑا دی ۔مواصلات کے وفاقی وزیر کا حکومت کو کھربوں روپے کا چون۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

لاعلمی، بہت نقصان دہ ھےوہ دن گئے جب لاعلمی نعمت ھوا کرتی تھی -آج استحصال اور لوٹ مار کی ایک بڑی وجہ عوام کی پروسیجر سے لاعلمی ، سوال نہ کرنے کی عادت اور سستی بھی ہے- جس کا فائدہ مارکیٹ اور سرکاری دفاتر میں بیٹھے چالاک اور ہنر مند افراد اٹھاتے ہیں- کسان سادگی میں مارا جا رھا ھے- آڑھتی اور صنعت کار اس سادگی یا لاعلمی کا فائدہ اٹھا رھے ہیں- مارکیٹ اس کی قدر کرتی ھے جو مارکیٹ کی ضرورت کو پورا کرے- جو لوگ دوسروں کی ضرورت کے مطابق اپنی صلاحیّتوں کو بڑھا لیتے ہیں وہ کامیاب ہو جاتے ہیں- دنیا بھر کے بینک صرف عوام کے پیسے کی حفاظت کے نام پر پیسہ اکٹھا کرتے ہیں

اور اس پیسے کو قرض دیتے ہیں اور کاروبار کرتے ہیں- بینکنگ دنیا کا سب سے بڑا جادو اور معیشیت میں بگاڑ کا آلہ کار ہے – دنیا کا سب سے پرانا کھیل ، غافلوں کو الّو بنانا ہے- مثلا اپنی انکم ٹیکس ریٹرن ہم وکیلوں سے فائل کرواتے ہیں، بجلی، گیس، پانی، فریج ، ٹی وی کی معمولی سی خرابی کے لئے ہمیں ماہر کاریگر بلوانا پڑتا ھے- گھر کی صفائی، برتن دھونے کے لئے کام کرنے والی چاہیے- ہمیں فیس بک پیج کی monetization کروانے کے لئے کسی کی ضرورت ھے- ہمیں ویب سائیٹ کی مینجمنٹ کے لئے بندے چاہیں-مغربی کلچر میں ہر گھر میں ایک basement منٹ یا گیراج میں تمام tools ملیں گے- وہ سارے چھوٹے کام اپنے ہاتھوں سے کرتے ہیں- پوری دنیا میں سیلاب اور قدرتی آفتوں سے تکنیکی مہارت سے نبرد آزما ھوتے ہیں- ہمارے ہاں یہ ذمہ داری بیوروکریسی کے ذمے ھے-

سیکورٹی فورسز کا خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، 7 دہشتگرد جہنم واصلفائرنگ کے تبادلے میں کیپٹن سمیت 6 جوان جام شہادت نوش کرگئے، آئی ایس پی آرکیپٹن نعمان سلیم (میانوالی)حوالدار امجد علی (صوابی )نائیک وقاص احمد (راولپنڈی)سپاہی اعجاز علی (شکار پور)سپاہی محمد ولید (جہلم)سپاہی محمد شہباز (خیرپور)

—وزیراعظم ۔۔۔مبارکبادپاکستان اور ترکیہ یکجان دو قالب ہیں،دونوں ممالک معاشی، تزویراتی اور دفاعی تعاون میں آگے بڑھ رہے ہیں،ترکیہ نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریفاسلام آباد۔29اکتوبر :وزیراعظم محمد شہباز شریف نےترکیہ کے 102 ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر ترکیہ کی قیادت اور عوام کو دلی مبارکباد دیتے ہوئےکہا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ یکجان دو قالب ہیں،دونوں ممالک معاشی، تزویراتی اور دفاعی تعاون میں آگے بڑھ رہے ہیں،ترکیہ نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے،بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران ترکیہ کی قیادت چٹان کی طرح پاکستان کے ساتھ کھڑی رہی،ہماری بہادر مسلح افواج نے فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر کی قیادت میں چار دن میں دشمن کو بھرپور سبق سکھایا،ترکیہ نے ہمیشہ فلسطین اور کشمیر کے حوالے سے پاکستانی موقف کی حمایت کی ،پاکستان بھی قبرص کے معاملے پر ترکیہ کے موقف کی حمایت کرتا ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو ترکیہ کے 102 ویں یوم جمہوریہ کے حوالے سے منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار ،وفاقی وزراء، گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی اور دیگر شخصیات نے شرکت کی۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے دل ترک بہن بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں،ترکیہ کے قومی دن پر آج اسلام آباد میں ترکیہ اور پاکستان کے پرچم لہرا رہے ہیں، ترکیہ کی ترقی اور خوشحالی کا سفر قابل فخر کامیابیوں سے عبارت ہے،کمال اتاترک نے جدید ترکیہ کی بنیاد رکھی،ترک صدر رجب طیب اردوان دنیا میں ترقی، استقلال اور قیادت کی روشن مثال بن چکے ہیں

،ترک صدر کی غیر معمولی قیادت کے باعث ترکیہ جدت، تہذیب اور ثقافت کا امتزاج بن چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات قریبی مذہبی و ثقافتی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں، پاکستان کا ترکیہ کے ساتھ محبت اور خلوص کا رشتہ ہے، ترکیہ کے ساتھ ہمارے تعلقات صدیوں پرانے ہیں، تحریک خلافت میں برصغیر کے عوام اور ہمارے آباؤ اجداد نے بھرپور حصہ لیا تھا ۔وزیراعظم نے کہا کہ ترکیہ نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے، پاکستان اور بھارت کے دوران چار روزہ جنگ میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں ہماری بہادر مسلح افواج اور ایئر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو کی قیادت میں ہماری پاک فضائیہ نے دشمن کو بھرپور سبق سکھایا۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا اور جنگ کے دوران ترکیہ کی قیادت چٹان کی طرح پاکستان کے ساتھ کھڑی رہی،یہ بھائی چارہ اور دوستی ہے۔وزیراعظم محمدشہبازشریف نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ یک جان دو قالب ہیں، دونوں ممالک معاشی، تزویراتی اور دفاعی تعاون میں آگے بڑھ رہے ہیں،ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان کا دورہ کیا

اور پھر اس کے بعد میں نے انقرہ کا دورہ کیا،پاکستان اور ترکیہ کا اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ ہم ہر دکھ سکھ میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ جنگ ہو،تباہ کن زلزلہ ہو یا سیلاب ترکیہ پاکستان کی مدد میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے،2005ء کے زلزلے اور 2010 کے سیلاب میں صدر طیب اردوان نے پاکستان کو پیشکش کی کہ جو کچھ بھی آپ کو چاہیئے ہم دینے کے لیے تیار ہیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ 2010ء کے تباہ کن سیلاب کے دوران اظہار یکجہتی کے لئے ترک صدر رجب طیب اردوان پاکستان آئے، ترکیہ نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے دل کھول کر امداددی ،پنجاب اور سندھ میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں ہسپتال، تعلیمی ادارے اور گھر تعمیر کرائے، ترکیہ نے ہمیشہ فلسطین اور کشمیر کے حوالے سے پاکستانی موقف کی حمایت کی ہے، پاکستان بھی قبرص کے معاملے پر ترکیہ کے موقف کی حمایت کرتا ہے، ہم ہمیشہ کے لیے بھائی اور دوست ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عرفان نزیر اوگلو نہ صرف ترکیہ بلکہ پاکستان کے بھی سفیر ہیں۔قبل ازیں پاکستان میں ترکیہ کے سفیر عرفان نزیر اوگلو نے ترک صدر رجب طیب اردوان کا پیغام پڑھ کر سنایا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ترکیہ کے یوم جمہوریہ کی مناسبت سے کیک بھ کاٹا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ضلع کرم میں فتنتہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کاروائی پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین_* وزیراعظم کی آپریشن میں فتنتہ الخوارج کے 7 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی پزیرائی وزیراعظم کی آپریشن کے دوران دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے پاک فوج کے کیپٹن ڈاکٹر نعمان سیلم ، حوالدار امجد علی، نائیک وقاص احمد، سپاہی اعجاز علی ، سپاہی محمد ولید اور سپاہی محمد شہباز کو خراج عقیدت وزیراعظم کی شہداء کی بلندیء درجات کی دعاء اور ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت پوری قوم سیکیورٹی فورسز اور شہداء کو سلام پیش کرتی ہے: وزیراعظم ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پر عزم ہیں: وزیراعظم __

غیرت مند قوم کا غیرت والہ حکمران مھاتیر محمد تفصیلات کے لئے بادبان نیوز

مہاتیرمحمد انگلینڈ کے دورے پر گئے۔ صبح ایک مقامی اخبار میں ان کا مزاحیہ کارٹون چھپ گیا۔جب ان کی سرکاری طور پر وزیراعظم برطانیہ سے ملاقات ہوئی تو سب سے پہلے مہاتیرمحمد نے کارٹون ٹیبل پر رکھ کر پوچھا:”کیا برطانیہ میں مہمان کے استقبال کا یہ طریقہ ہے؟”انگلینڈ کے وزیراعظم نے کہا:”یہاں میڈیا آزاد ہے۔”مہاتیر محمد نے جواب دیا:”ٹھیک ہے جب تم میڈیا کی آزادی اور دوسروں کی دل آزاری میں تمیز سیکھ لو تو پھر ہماری ملاقات ہو گی۔”ملاقات ختم کر دی گئی۔وہاں سے ملیشیا اپنے آفس فون کیا کہ ان کے پہنچنے سے پہلے انگلینڈ کے باشندوں کے ملیشیا میں موجود کاروبار فورا” بند کر دیے جائیں اور اکاؤنٹ سیل کر دئے جائیں اور انگریزوں کو 24 گھنٹے کے اندر اندر ملیشیا سے بدر کر دیا جائے۔حکم پر فوری عمل ہوا۔جب مہاتیر محمد ملیشیا پہنچا تو ان کے دفتر میں انگلینڈ کے وزیراعظم کا معافی نامہ ان سے پہلے پہنچ گیا تھا ساتھ ہی کارٹونسٹ کو پابند جیل کر دیا گیا۔غیرت مند حکمران ایسے ہوتے ہی

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا دورہءِ سعودی عرب*وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اپنا دورہءِ سعودی عرب مکمل کرکے ریاض سے اسلام آباد روانہ. ریاض کے نائب گورنر شہزادہ محمد بن عبدالرحمن بن عبدالعزیز نے وزیرِ اعظم اور پاکستانی وفد کو کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر الوداع کیا.

. *وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا دورہءِ سعودی عرب*وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اپنا دورہءِ سعودی عرب مکمل کرکے ریاض سے اسلام آباد روانہ. ریاض کے نائب گورنر شہزادہ محمد بن عبدالرحمن بن عبدالعزیز نے وزیرِ اعظم اور پاکستانی وفد کو کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر الوداع کیا. وزیرِ اعظم کی اپنے دورے کے دوران سعودی عرب کے ولی عہد و وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آلسعود کے ساتھ ملاقات ہوئی. ملاقات میں پاکستان و سعودی عرب کے مابین اقتصادی تعاون کا فریم ورک کا آغاذ کیا گیا. فریم ورک پاکستان اور سعودی عرب کے مابین اقتصادی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاذ ہے. پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان موجود دیرینہ تعلقات کی مزید مضبوطی کے حوالے سے اقتصادی تعاون فریم ورک دونوں ممالک کے مابین تعاون کی نئی راہین تلاش کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا. فریم ورک کے تحت دونوں ممالک کے مابین توانائی، صنعت، کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت، زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون کی مضبوطی، نجی شعبے کے کردار کو بڑھانے اور تجارتی تبادلوں کے فروغ کیلئے کام ہوگا.گفتگو کے موضوعات میں دونوں ممالک کے مابین جاری متعدد مشترکہ منصوبے بشمول پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بجلی کی ترسیل کے منصوبے اور توانائی کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی شامل تھے. وزیرِ اعظم نے ریاض میں منعقدہ فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو کی 9ویں کانفرنس میں شرکت کی اور “کیا انسانیت صحیح سمت کی طرف گامزن ہے؟”

کے موضوع پر گول میز کانفرنس میں پاکستان کا نقطہ نظر پیش کیا. وزیرِ اعظم نے اپنی گفتگو میں انسانی ترقی و فلاح و بہبود کیلئے عالمی اشتراک کی ضرورت پر زور دیا. وزیرِ اعظم نے سعودی ولی عہد و وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے ترقی کے ویژن اور دنیا میں ترقی کے اقدامات کیلئے سعودی عرب کے کردار کی تعریف کی. وزیرِ اعظم نے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات اور سیلاب کی تباہ کاریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے گلوبل نارتھ کے گلوبل ساؤتھ کے ساتھ اشراک پر زور دیا. وزیرِ اعظم نے اپنی گفتگو میں حکومت کے پاکستانی عوام بالخصوص نوجوان افرادی قوت کی ترقی، مصنوعی ذہانت کے فروغ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کے اقدامات پر روشنی ڈالی. وزیرِ اعظم کی دورے کے دوران عالمی اقتصادی فورم کے صدر و چیف ایگزیکٹیو بورگا بغینڈے سے بھی ملاقات ہوئی.

افغانیوں کو پراپرٹی رینٹ پر دے گا اس کے خلاف بھرپور ایکشن ہوگا۔۔پیمرا اور سیکرٹری اطلاعات کے لیے وزیر اعظم ان ایکشن۔ افغانستان کی طرف سے طالبان کی جانب سے کسی بھی پراکسی کا وحشیانہ جواب دیا جائے گا۔ تحریک طالبان کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رھے گا اور پاکستان ان کے سھولت کاروں کاروں کو کرش کرے گ۔بھارت کو ایک اور دھچکا تاجکستان نے ایانی ائیر بیس کا کنٹرول سنبھال لیا۔ ”پاکستان نے بھارت کےسات خوبصورت، نئے طیارے تباہ کرے“ ٹرمپ کے بیان سے بھارتی تلملا اٹھے!۔شمالی وزیرستان میں آپریشن 5 جوان ماں دھرتی پر قربان۔شمالی وزیرستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں جب خوارج کے ساتھ شدید فائرنگ کا تبادلہ 40 دھشت گرد ھلاک* کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا۔ ۔پاکستان فورسز کی وسیع پیمانے پر نقل و حرکت۔منگلا گجرنوالہ کورز کے ساتھ 37 انفنٹری اور ارمرڈ ڈویژن کی نقل و حمل کے ساتھ گن میزائل اور 2 ڈیو آرٹلری کی تیاریاں مکمل۔پنجاب میں بیورو کریسی اور پولیس میں اضطراب ھلچل اور بھت کچھ۔ ملک بھر میں غیر یقینی صورتحال خوف کے ساے۔ مھنگای لا قانونیت اور پاکستان میں دھشت گردی کے واقعات۔ ۔ایک ماہ 200 قتل 68 اغواء اور 32 پولیس مقابلے سمیت خودکشیوں سے 22 افراد جان بحق۔پاکستان میں حکومت کی ناقص پالیسیوں سے لوگ چھوڑنے پ مجبور۔افغانستان بھارت کا چمچہ اور نمک حرامی سے باز اے خواجہ اصف۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ریاض میں منعقدہ فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کے موقع پر ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کے صدر اور چیف ایگزیکٹیو بورگا بغینڈے (Børge Brende) سے ملاقات ہوئی۔* یہ ملاقات عالمی اقتصادی فورم کی قیادت کی درخواست پر ہوئی، تاکہ وزیراعظم کو آئندہ سال جنوری میں ڈیووس میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کی باضابطہ دعوت دی جا سکے۔ وزیراعظم نے پاکستان اور عالمی اقتصادی فورم کے مابین مضبوط روابط کو سراہا اور فورم کے عالمی سطح پر کاروباری اور جدت پسند نیٹ ورک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو مزید گہرا کرنے میں پاکستان کی دلچسپی کا اظہار کیا۔ 2026 کے عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کی دعوت کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ آئندہ برس ڈیووس میں پاکستان بھرپور نمائندگی کرے گا۔ پاکستان کی معیشت کے بارے میں گفتگو کرتے کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے حکومت کی ساختی اقتصادی اصلاحات پر روشنی ڈالی جن کی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط، سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل تبدیلی پر خصوصی توجہ مرکوز ہے۔ انہوں نے گزشتہ 18 مہینوں میں بہتر میکرو اکنامک اشاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کی توجہ برآمدات کے فروغ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، نوجوان افرادی قوت اور آئی ٹی کے شعبوں میں ترقی پر مرکوز ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان کی زرعی معیشت کے لیے انتہائی ضروری غذائی تحفظ کے مضبوط نظام پر عالمی اقتصادی فورم کی شراکت کا خیرمقدم کیا اور خوشحالی کے راستے کے طور پر امن کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے مابین روابط کے لیے ایک اہم پل ہے۔ بورگا بغینڈے نے عالمی اقتصادی فورم کے ساتھ پاکستان کے فعال کردار پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ باہمی طور پر فائدہ مند شراکت داری کو فروغ دینے میں پاکستان کی جانب سے مسلسل حمایت کیلئے پر امید ہیں۔

‎ کیا ڈالر کی اجارہ داری فوری ختم ھونے جا رھی ھے‎-عالمی سیاست میں ہر قدم پھونک پھونک کر ‎رکھنا ھوتا ہے اس وقت دنیا میں ڈالر کی اجارہ داری، پیٹرو ڈالر، ریئر ارتھ ایلیمنٹ، چپ، ڈیٹا اور انرجی کی جنگ جاری ھےساتھ ساتھ جنگی نقطہ نظر سے اسلحہ و بارود کی جگہ جدید جنگی جہاز، بی وی آر میزائیل اور راڈار نے لے لی ھے- ڈرون میدان حرب میں خطرناک اور انقلابی تبدیلی لے کر آئے ہیں -‎اگر امریکہ روس کے 330 ارب ڈالر فریز نہ کرتا تو دنیا ڈالر کی اجارا داری سے اتنی تیزی سے خوفزدہ نہ ہوتی- سینٹرل بینکوں کے پاس اس وقت سونے کی مالیت امریکی ٹریژری بانڈز سے زیادہ ہو گئی ہے، 2024 تک سینٹرل بینکوں کے پاس تقریباً 36 ہزار ٹن سونا موجود ہے جو عالمی سونے کا تقریباً 18 فیصد ہے، جبکہ امریکی ٹریژری ہولڈنگز اب بھی آٹھ ٹریلین ڈالر کے قریب ہیں لیکن ان کا تناسب کم ہو رہا ہے۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق 2022 میں 1,082 ٹن، 2023 میں 1,037 ٹن اور 2024 کے پہلے تین سہ ماہی میں تقریباً 800 ٹن سونا خریدا گیا۔

دنیا میں سالانہ سونے کی کان کنی صرف تین ہزار سے ساڑھے تین ہزار ٹن تک ہوتی ہے، سونے کی خریداری بڑھ رہی ہے۔‎اب ڈی ڈالرائزیشن کے اسباب کی بات کریں تو پانچ بڑی وجوہات ہیں۔ پہلا 2008 کا اقتصادی بحران جب دنیا نے پہلی بار محسوس کیا کہ ڈالر پر اندھا بھروسہ خطرناک ہے اور کوئنٹی ٹیٹو ایزنگ سے ڈالر کی قدر گھٹ گئی۔ دوسرا 2022 میں روس کے 330 بلین ڈالر کے ریزرو فریز ہونے سے دنیا بھر کے سینٹرل بینک ڈر گئے کہ کل ان کا نمبر بھی آ سکتا ہے۔ تیسرا برکس پلس ممالک کا عروج چین، بھارت، سعودی عرب، برازیل اور روس مل کر متبادل ادائیگی نظام جیسے ایم بریج اور سی آئی پی ایس بنا رہے ہیں۔ چوتھا 1971 کے نکسن شاک کے بعد ڈالر کی خریداری کی طاقت 95 فیصد کم ہو چکی ہے اور سونا حقیقی قدر کا محافظ بن رہا ہے۔ پانچواں جیو پولیٹیکل شفٹ جہاں امریکہ کی عالمی طاقت کمزور ہو رہی ہے اور چین، روس اور مشرق وسطیٰ نئے بلاکس بنا رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ دنیا ڈی ڈالرائزیشن کی طرف بڑھ رہی ہے، لیکن یہ عمل آہستہ آہستہ ہو رہا ہے، راتوں رات نہیں۔‎اب سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ یہ سب آسانی سے ہونے دے گا؟ جواب ہے نہیں۔ وہ سوئفٹ کے متبادل نظاموں پر پابندیاں لگانے کی کوشش کر رہا ہے، ڈیجیٹل ڈالر جیسے سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی تیار کر رہا ہے، سعودی عرب اور بھارت پر پیٹرو ڈالر برقرار رکھنے کا دباؤ ڈال رہا ہے، کومکس پر سونے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے الزامات ہیں، اور آئی پی ای ایف یا یو ایس ایم سی اے جیسے نئے تجارتی معاہدوں سے ڈالر کو مضبوط بنا رہا ہے۔ امریکہ ہار نہیں مانے گا، لیکن ڈالر کی اجارہ داری ضرور ختم ہو رہی ہے۔‎پیٹرو ڈالر سسٹم 1970 کی دہائی میں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان معاہدے سے وجود میں آیا، عالمی تیل کی تجارت امریکی ڈالر میں ھو گی ۔ اس سے نہ صرف ڈالر کی عالمی طلب بڑھی بلکہ سعودی عرب جیسے تیل برآمد کرنے والے ممالک اپنی آمدنی کو امریکی ٹریژری بانڈز میں لگانے لگے، جس سےامریکہ کی معاشی اجارہ داری مضبوط ہوئی ۔ تاہم، اب یہ سسٹم شدید دباؤ کا شکار ہے۔ جیو پولیٹیکل تناؤ، چین کی یوآن کی انٹرنیشنلائزیشن، اور برکس (BRICS) ممالک کی ڈی ڈالرائزیشن کی کوششیں اسے کمزور کر رہی ہیں۔ امریکی ٹریژری ہولڈنگز کم ہو رہی ہیں، جو پیٹرو ڈالر کی بنیاد کو ہلا رہا ہے۔‎ اس سال چین نے تیل کی تجارت میں یوآن کی استعمال کو مزید فروغ دیا ہے۔ شنگھائی انٹرنیشنل انرجی ایکسچینج (INE) پر یوآن بیسڈ آئل فیوچرز ٹریڈنگ بڑھ گئی ہے، جو سونے سے بیکڈ ہے تاکہ اعتماد پیدا ہو۔ ایشیا سوسائٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق، خلیجی ممالک، خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، امریکہ کے ساتھ اپنے سیکیورٹی تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے چین کے ساتھ معاشی روابط مضبوط کر رہے ہیں۔ روس اور سعودی عرب جیسی ممالک اب تیل کی کچھ فروخت یوآن یا دیگر کرنسیوں میں کر رہے ہیں، جو 2022 کے روس پر پابندیوں کے بعد تیز ہوایوآن بیسڈ تیل تجارت، جسے عام طور پر “پیٹرو یوآن” کہا جاتا ہے، چین کی اس کوشش کا حصہ ہے جو امریکی ڈالر کی عالمی اجارہ داری کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ سسٹم 2018 میں شروع ہوا جب چین نے شنگھائی انٹرنیشنل انرجی ایکسچینج (INE) پر یوآن میں تیل کے فیوچر کنٹریکٹس متعارف کروائے، جو سونے سے بیکڈ ہیں تاکہ اعتماد پیدا ہو۔ ‎، برکس کی توسیع، بھارت، برازیل اور جنوبی ‎افریقہ سے مقامی کرنسیوں میں تجارت بڑھ رھی ھے ۔ ‎گریٹ ری سیٹ 2030 کی بات کریں تو یہ ورلڈ اکنامک فورم کا ایک تجویز کردہ وژن ہے، کوئی خفیہ منصوبہ نہیں۔ اس میں سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسیاں، کاربن ٹیکس، گرین اکانومی اور ڈیجیٹل آئی ڈی متوقع ہیں ‎ ایک ملٹی پولر کرنسی ورلڈ کا وجود عمل میں آ رھا ھے جہاں ڈالر 40 فیصد، یوآن 20 فیصد، یورو، سونا اور کریپٹو حصہ لیں گے۔ برکس کی سونے سے بیکڈ کرنسی 2025 سے 2030 تک ممکن ہے لیکن ابھی صرف بات چیت ہے۔ بٹ کوائن کو ڈیجیٹل گولڈ کہہ کر سینٹرل بینکوں کے ریزرو میں ایک سے پانچ فیصد شامل ہو سکتا ہے۔ ڈالر کا خاتمہ نہیں ہوگا، لیکن اس کی اجارہ داری ضرور ختم ہو جائے گی۔

شمالی وزیرستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں جب خوارج کے ساتھ شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا تو وطن کے ان پانچ بیٹوں نے اپنی جان کی پرواہ نا کرتے ہوئے دشمن پر شدید جوابی وار کیا اور بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنی زندگی اس وطن کے نام کر دی اس قوم کے لئے اپنے بچوں کو یتیم کرگئے

وفاقی حکومت نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے لیے ڈی جی وقار الدین کو عہدے سے ہٹا کر سید خرم علی کو نیا سربراہ مقرر کردیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، پولیس سروس گریڈ 21 کے سید خرم علی، جو اس وقت حکومتِ پنجاب کے تحت خدمات انجام دے رہے تھے، کوتبدیل کرکے فوری طور پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔ایک اور نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ ڈی جی وقارالدین سید، جو پولیس سروس آف پاکستان کے گریڈ 20 کے افسر ہیں، کو ان کے عہدے سے ہٹا کر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔یہ تقرری الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016ء کی شق 29(3) میں 2025ء کی ترمیم اور سول سرونٹس ایکٹ 1973ء کی شق 10 کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔حکم نامے کے مطابق، سید خرم علی کی تعیناتی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی اور اگلے احکامات تک برقرار رہے گی۔

ٹاپ بریکنگ 🔹 استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان مذاکرات اکتوبر 2025 میں منعقد ہوئے۔وزیر اطلاعات 🔹 پاکستان نے افغان طالبان سے بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج (TTP) اور فتنہ الہند (BLA) کی سرحد پار دہشت گردی پر بارہا احتجاج کیا۔وزیر اطلاعات و نشریات🔹 پاکستان نے افغان طالبان حکومت سے دوحہ معاہدے کے تحریری وعدوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔وزیر اطلاعات و نشریات🔹 افغان طالبان کی جانب سے پاکستان مخالف دہشت گردوں کی مسلسل حمایت پر پاکستان کی کوششیں بے سود رہیں۔وزیر اطلاعات و نشریات🔹 طالبان حکومت افغان عوام کی نمائندہ نہیں اور اپنی بقا کے لیے جنگی معیشت پر انحصار کرتی ہے۔وزیر اطلاعات🔹 افغان طالبان، افغان عوام کو غیر ضروری جنگ میں دھکیلنا چاہتی ہے۔وزیر اطلاعات🔹 پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے عوام کے امن و خوشحالی کے لیے قربانیاں پیش کیں۔وزیر اطلاعات🔹 پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ متعدد مذاکرات کیے مگر افغان فریق نے پاکستان کے نقصانات سے بے نیازی دکھائی۔وزیر اطلاعات🔹 چار برسوں کی جانی و مالی قربانیوں کے بعد پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔وزیر اطلاعات🔹 قطر اور ترکیہ کی درخواست پر پاکستان نے امن کے لیے ایک اور موقع دیا۔وزیر اطلاعات🔹 دوحہ اور استنبول میں مذاکرات کا واحد ایجنڈا دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو روکنا تھا۔وزیر اطلاعات🔹 پاکستان قطر اور ترکیہ کا شکر گزار ہے جنہوں نے مذاکرات کی میزبانی اور مخلصانہ کوششیں کیں۔وزیر اطلاعات🔹 مذاکرات کے دوران افغان طالبان وفد نے پاکستان کے منطقی اور جائز مطالبات تسلیم کیے۔وزیر اطلاعات🔹 پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اور ناقابلِ تردید شواہد پیش کیے۔وزیر اطلاعات🔹 افغان طالبان اور میزبان ممالک نے پاکستان کے شواہد تسلیم کیے مگر کوئی یقین دہانی نہ کرائی گئی۔وزیر اطلاعات🔹 افغان وفد نے مذاکرات کے بنیادی مدے سے انحراف کیا اور ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کیا۔وزیر اطلاعات🔹 افغان طالبان نے الزام تراشی، ٹال مٹول اور حیلے بہانوں کا سہارا لیا اور مذاکرات کسی قابلِ عمل نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔وزیر اطلاعات🔹 پاکستان قطر، ترکیہ اور دیگر دوست ممالک کا ان کی مخلصانہ کوششوں پر شکر گزار ہے۔ وزیر اطلاعات 🔹 پاکستان کے عوام کی سلامتی قومی ترجیح ہے اور حکومت دہشت گردی کے خلاف ہر ممکن اقدام کرتا رہے گا۔وزیر اطلاعات🔹 حکومت پاکستان دہشت گردوں، ان کے ٹھکانوں اور سہولت کاروں کو نیست و نابود کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔وزیر اطلاعات