برائلر مرغی کے انڈوں پر 5 فیصد کسٹم ڈیوٹی وصول کی جاتی ہے بینکر منی لانڈر وزیر خزانہ کا قومی اسمبلی میں سوال پر جواب تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

برائلر مرغی کے انڈوں پر 5 فیصد کسٹم ڈیوٹی وصول کی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ہاں جی یہ قومی اسمبلی میں وزیر خزانہ اورنگزیب رمدے کی جانب سے جمع کروائے گئے تحریری جواب میں بتائی گئی ہے تو کیا انڈے امپورٹ ہوتے ہیں پاکستان میں؟ جواب میں کوئی دستاویز نہیں وزارت کے پاس اسی طرح بنیادی خوراک پر بدترین حالات کا شکار ممالک بھی ٹیکس وصول نہیں کرتے وزیر موصوف کے مطابق گندم پر 2 قسم کی ٹیکسوں کے ذریعے کوئی 18 فیصد جبکہ آٹے پر اضافی ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، آلو پر 5 فیصد ڈیوٹی، ٹماٹر، پیاز،کوکنگ آئل۔۔جو بھی چیز آپ استعمال کرتے ہیں ان سب پر ٹیکس نافذ ہیں کوئی چیز نہیں بچی معاشی دہشت گردوں کی دسترس سے اس کے باوجود بکواس کرتے ہیں “عوام ٹیکس نہیں دیتے” لوٹ مار کی انتہا کی ہوئی ہے سب نے خاندانوں کے سکول ،کالج کی عمر کے بچے تک لاکر وزیر ،مشیر لگائے ہوئے ہیں مگر یہ سب سپریم کورٹ اور دیگر اعلی عدالتوں کے ججوں کو نظر نہیں آتا کیوں کہ وہ بھی اسی نظام کا حصہ ہیں ان کی اولادیں بھی وکیل بن کر “اباجی” کی عدالت سے فیصلہ حق میں کروانے کا کروڑوں روپیہ “فیس” کی مد میں وصول کرتی ہے، سول و ملٹری بیوروکریسی تو اس نظام کے بانیان ہیں وہ “ششٹم” کے اندر رہ کر کاروائیاں ڈالنے کا فن جانتے ہیں اور یہ کھیل وہ 78/79 سالوں سے کھیل رہے ہیں۔۔بچے بیرون ممالک، اکاؤنٹس گمنام، جائیدادیں گمنام ریٹائرمنٹ کے بعد کفن بھی ہمارے ٹیکسوں کے پیسوں سے یہ تو کفن تک خود نہیں خریدتے ،زندگی بھر عوام کے خون پسینے کی کمائی لوٹتے اور مرنے پر کفن ،دفن کے اخراجات بھی اور یہ سلسلہ کہیں رکتا نظر نہیں آرہا ۔۔۔عسکری کاروباری ایمپائر ہو یا سیاست دانوں ،بیوروکریسی، اعلی عدلیہ اور معاشی دہشت گرد اشرافیہ کے دیگر کل پرزے حقیقت میں یہ ایک خاندان کی طرح ہیں جو ہمیشہ ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔۔ما شاء اللہ سے آج وزیر اعظم اور صدر صاحب لڑکے بالے نظر آرہے ہیں اپوزیشن میں جاتے ہی یہ نیم مردہ اور بستر مرگ پر پڑے لاعلاج مریض بن جائیں گے اسے کہتے ہیں حقیقی فن کاری

ان 3واقعات سے حکومتی پارٹی کی گورننس کا اندازہ لگائیں حج 2026 میں کرپشن حکومتی جماعت کے ایک سینئر راہنما ایئرپورٹ کے راستے میں پھنسے رہے اور سفر نہیں کر سکےٹریفک جام ہونے کی وجہ اپوزیشن جماعت کے رکن کو ایئرپورٹ پہنچنے سے روکنا تھا دوسرے وزیر دفاع ہیں کہتے ہیں میرے ملازم کے گاؤں کا ٹرانسفارمر خراب ہوا جس کیلئے میں نے فون بھی کیا پھر بھی گاؤں والوں سے 80 ہزار روپے جمع کیے گئے اور ٹرانسفارمر لگایا گیا

بری امام میں ہنستے بستے گھروں کو اجاڑنے والے لوگوں کو تمغے مل رہے ہیں ۔۔۔ یہ اس ملک کی عوام ہے ۔۔۔ان کا کرب سنیں ۔۔۔محسوس کریں ۔۔جن کو اپنے قرب و جوار سے دوائی اور پانی نا مل رہا ہو ان کی کیا حالت ہوگی ۔۔۔جن کی انکھوں کے سامنے ان کے گھر ملبے کے ڈھیر ہو گئے ان کو راتوں کو نیند کیسے اتی ہوگی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کا گلگت بلتستان کے انتخابات میں شفافیت کیلئے چیف جسٹس سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کو خط ارسال!وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے گلگت بلتستان میں آنے والے انتخابات کے حوالے سے پیدا ہونے والی تشویشناک صورتحال پر سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کے چیف جسٹس کو باضابطہ خط ارسال کرتے ہوئے فوری عدالتی مداخلت کی درخواست کی ہے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کا گلگت بلتستان کے انتخابات میں شفافیت کیلئے چیف جسٹس سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کو خط ارسال!وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے گلگت بلتستان میں آنے والے انتخابات کے حوالے سے پیدا ہونے والی تشویشناک صورتحال پر سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کے چیف جسٹس کو باضابطہ خط ارسال کرتے ہوئے فوری عدالتی مداخلت کی درخواست کی ہے۔خط میں وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں انتخابی ماحول کے بارے میں موصول ہونے والی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں، جہاں ایک سیاسی جماعت کو انتخابی سرگرمیوں، عوامی اجتماعات، انتخابی مہم اور پارٹی قیادت و کارکنان کی نقل و حرکت میں غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ سیاسی کارکنوں کو ہراساں کرنے، غیر قانونی گرفتار کرنے اور سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جو اگر نہ روکی گئیں تو انتخابی عمل کی ساکھ اور شفافیت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔وزیراعلیٰ نے اپنے خط میں واضح کیا کہ پاکستان کا آئین ہر سیاسی جماعت اور شہری کو آزاد، منصفانہ، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات میں حصہ لینے کا بنیادی حق دیتا ہے۔ ان آئینی اور جمہوری اصولوں سے انحراف نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ جمہوری اقدار کے بھی منافی ہے۔وزیراعلیٰ کی عدالت سے اہم گزارشات:🔹گلگت بلتستان میں انتخابات کے آزاد، منصفانہ، شفاف اور غیر جانبدار انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو واضح ہدایات جاری کی جائیں۔🔹سیاسی کارکنوں اور جماعتی قیادت کے خلاف غیر قانونی ہراسانی، گرفتاریوں اور پابندیوں کو فوری طور پر روکا جائے۔🔹تمام سیاسی جماعتوں کو بلاامتیاز اپنی انتخابی مہم اور سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کا مکمل حق دیا جائے۔🔹انتخابی عمل کے دوران آئینی اور جمہوری حقوق کی کسی بھی خلاف ورزی کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے۔🔹وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے عدالت سے اپیل کی کہ وہ اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے قانون کی حکمرانی، جمہوری اقدار کے تحفظ اور عوام کے انتخابی عمل پر اعتماد کو یقینی بنانے کے لیے ضروری احکامات جاری کرے۔🔹انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ عدلیہ کی بروقت مداخلت گلگت بلتستان میں شفاف، آزاد اور قابلِ اعتماد انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائے گی اور عوام کے جمہوری حقِ رائے دہی کا مکمل تحفظ ہوگا۔نوٹ: اس خط کی نقل چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو بھی ارسال کی گئی ہے۔#CMKP #SohailAfridi #GBElection

پاکستان کی وزارت برائے خارجہ امور نے جمعرات کو بتایا وزیر خارجہ اسحاق ڈار اج واشنگٹن میں اپنے امریکی ہم منصب مارکو روبیو سے ملاقات کریں گے۔یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسلام آباد ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے امن معاہدے پر مذاکرات کی کوشش کر رہا ہے۔وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق اسحاق ڈار اور مارکو روبیو دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیں گے اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

یہ لوگ بہت بڑے منافق ہیں جھوٹے ہیں یہ کہ رہا ہے خطے میں سب سے پیٹرول پاکستان میں ہے میں ان منافقین سے پوچھنا چاہتا ہوں مہنگا کس نے کیا ہے؟؟ کیا ایران سے سستا نہیں ملتا؟

یہ لوگ بہت بڑے منافق ہیں جھوٹے ہیں یہ کہ رہا ہے خطے میں سب سے پیٹرول پاکستان میں ہے میں ان منافقین سے پوچھنا چاہتا ہوں مہنگا کس نے کیا ہے؟؟ کیا ایران سے سستا نہیں ملتا؟؟ تم غلام لوگ ہوں انگریزوں کے وہ تمہیں بلاتے ہیں تم لوگ دم حلاتے ہوئے ان کے سامنے پہنچتے ہوںیہا تمہاری گردنوں میں سریہ لگ جاتا ہے جن کی تم نوکری کرتے ہو ان کے سامنے تم سیاسی لوگ وہ منافق ہو جنہوں نے اپنے ملک کی عوام کو لوٹا بے تحاشا ان پر ظلم کیا اور کر بھی رہے ہو اور عوام کو کہتے پھرتے بھی ہو ساتھ کے ہم تمہارے ہمدرد ہیںتم لوگ ہمدرد نہیں دشمن سے بھی بدتر ہو تم لوگوں کا تمہارا کیا ہے تمہیں عوام کے پیسے سے ہر مہینے کا فری پیٹرول ملتا ہے تمہیں کون سی محنت کرنی پڑتی ہےحرام جن کے منہ لگ جائے وہ کبھی محنت نہیں کرتے

وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف کا یوم تکبیر (28 مئی) کے موقع پر پیغامیوم تکبیر پاکستان کی تاریخ کا وہ عظیم دن ہے جب پوری قوم نے غیر متزلزل عزم، قومی وحدت اور بے مثال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایٹمی قوت ہونے کا اعلان کیا تھا

وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف کا یوم تکبیر (28 مئی) کے موقع پر پیغامیوم تکبیر پاکستان کی تاریخ کا وہ عظیم دن ہے جب پوری قوم نے غیر متزلزل عزم، قومی وحدت اور بے مثال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایٹمی قوت ہونے کا اعلان کیا تھا۔ 28 مئی 1998ء کو پاکستان نے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں کامیاب جوہری دھماکے کر کے نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن بحال کیا بلکہ دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ہم اپنی دفاعی صلاحیت سے ہر گز غافل نہیں۔یہ دن گواہی دیتا ہے کہ مملکت خداداد جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا اور قائداعظم محمد علی جناح نے اسے خطہ ارض پر نقش کیا اسکا دفاع آہنی ہاتھوں میں ہے۔آج کے دن ہم پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی تکمیل میں شامل تمام شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، جن میں ذوالفقار علی بھٹو کی فکر انگیزی اور محمد نواز شریف کی بے لوث فیصلہ سازی اور قیادت اور قومی ہیروز ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی خدمات شامل ہیں۔ علاوہ ازیں ان تمام سائنسدانوں، انجینئرز، ماہرین، افواجِ پاکستان اور کارکنان کو بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا۔بھارت نے اپنے جنگی جنون ، انتہا پسندانہ سوچ اور توسیع پسندانہ عزائم کے اظہار کے لیے ایٹمی دھماکے کیے تھے۔ پاکستان نے دانشمندانہ اور بروقت فیصلہ کرتے ہوئے جوابی دھماکوں سے دشمن کے تمام عزائم خاک میں ملادیے۔ دنیا کی بڑی طاقتوں نے پاکستان کو جوہری دھماکوں سے روکنےکی کوشش کی، معاشی دباؤ ڈالا، پابندیوں کی دھمکیاں دیں، حتی کہ بھاری معاشی و مالی پیشکش کی، لیکن وزیر اعظم پاکستان مھمد نواز شریف کسی بھی دباو یا لالچ کو خاطر میں لائے بغیر اپنی آزادی اور خودمختاری کے تحفظ کے لئے پر عزم تھے۔یوم تکبیر محض ایٹمی دھماکوں کی یاد نہیں بلکہ یہقومی خودداری، اتحاد، قربانی اور دفاع وطن کے ناقابل تسخیر عزم کی علامت ہے۔ پاکستان کا ایٹمی پرو گرام ہر دور میں جاری رکھ کر ہمارے اسلاف نے ثابت کیا کہ ملکی وقار سے بڑھ کر کوئی چیز مقدم نہیں۔ اگر پاکستان ایٹمی قوت نہ بنتا تو دشمن اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا تھا۔ پاکستان کا مضبوط ایٹمی حصار اور مسلح افواج کی تیاری اور عزم دشمن کے عزائم کی راہ میں فیصلہ کن رکاوٹ ہے۔معرکہ حق میں دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر ہم اپنے اس عزم کو ثابت کر چکے ہیں۔ ہندوستان نے اپنی فرسودہ اور گھسی پٹی سازش کے ذریعے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچایا اور اسے جواز بنا کر پاکستان کے شہریوں اور مساجد پر حملہ کر دیا، تاہم ہماری مسلح افواج اور قوم نے بنیان المرصوص بن کر نہ صرف اس کے عزائم کو خاک میں ملایا بلکہ اس کی حربی و عددی برتری کے گھمنڈ کو بھی توڑ کے رکھ دیا۔چیف آف آرمی اسٹاف،چیف آف ڈیفنس فورسز کی قیادت میں مسلح افواج نے فقید المثال پیشہ ورانہ استعداد کا مظاہرہ کیا۔ چیف آف دی ائیر اسٹاف ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف کی مثالی کارکردگی نے دشمن پر ہماری بہادری کی دھاک بٹھا دی۔ہم نے پوری دنیا کو یہ باور کرادیا ہے کہ ہمارے کوئی جارحانہ عزائم نہیں ہیں تاہم اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔معرکہ حق میں عبرت ناک شکست کے بعد دشمن براہ راست حملوں کی بجائے دوسرے ہتھکنڈوں سے ہماری سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ وہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان جیسی پر اکسیز کے ذریعے اپنے مکروہ عزائم جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سلسلے میں افغان رجیم اس کی سہولت کار ہے۔ ہم اس فتنے کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پر عزم ہیں۔جہاں ہم نے آپریشن بنیان المرصوص کے ذریعے ازلی دشمن کو عبرت ناک شکست دی، وہیں آپریشن غضب للحق کے ذریعے ایسے تمام فتنوں اور ان کے سہولت کاروں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔دشمن کسی غلط فہمی میں نہ ر ہے، ہماری بہادر مسلح افواج جدید ترین ہتھیاروں سے لیس مادر وطن کے چپے چپے کے دفاع کے لیے پر عزم ہیں۔قوم اپنے ان محسنوں کی ہمیشہ شکر گزار رہے گی۔ آئیے ، اس عہد کی تجدید کریں کہ وطن عزیز کے امن ، ترقی ، استحکام اور سلامتی کے لیے متحد رہیں گے ، ہر اندرونی و بیرونی سازش کا مقابلہ کریں گے ، اور ہم پاکستان کو ایک مضبوط، خوشحال اور باوقار ریاست بنانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں اور وسائل بروئے کار لاتے رہیں گے۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد روالپندی کراچی گجرنوالہ فیصل آباد کے شھری کب تک بجلی چورں کے بل پورے کرینگے تفصیل کے لیے بادبان نیوز

پاکستان کی اعلی عدالتوں(جو بھی بااختیار ہیں) وہ بجلی کے شعبہ کا ملک گیر آڈٹ کروائیں۔۔اہلیان لاہور،کراچی یا راولپنڈی اسلام آباد سمیت چند بڑے شہروں کے باسی کب تک بجلی کے شعبے کا خسارہ پورا کرتے رہیں گے؟براہ کرم وکلاء دوست اس سلسلہ میں درخواستیں دائر کریں اور پورے ملک میں آڈٹ کے مطالبہ کے ساتھ ججوں، جرنیلوں، بیوروکریسی، وفاقی و صوبائی حکومتوں کے عہدیداروں کو بجلی کی مفت فراہمی،وزیروں، مشیروں کے علاقوں میں کھلے عام چوری،سیاسی جماعتوں کے جلسے، جلوسوں یا سیکورٹی کے نام پر انتظامات کے لیے بجلی کی چوری،سیف سٹی کے لاہور میں کیمرے بغیر کسی میٹر کے بجلی استعمال کررہے ہیں، تھانوں اور ماتحت عدالتوں میں بجلی کی تاریں کھلے عام لگی ہیں یہ سارے “خسارے” عام شہری ادا کرتا ہے۔۔جج صاحبان شدید گرمیوں میں یخ بستہ کورٹ رومز، گھروں میں بیٹھتے ہیں جبکہ ان کے بل ادا کرنے والا عام شہری پنکھا چلانے کے قابل بھی نہیں چھوڑا معاشی دہشت گردوں نے۔۔خدارا اس معاشی دہشت گردی کے خلاف کم از کم آواز تو بلند کریں،ان کی پالیسیوں اور چور بازاری کی وجہ سے ہماری انڈسٹری بنگلہ دیش، ویتنام اور کئی افریقی ممالک میں منتقل ہوچکی ہے ایک بار معاشی دہشت گردوں کو بھی مردہ باد کہہ دیں اپنے سائے سے ڈرنے والوں سے خوف کیسا؟

ایک وقت تھا کوئی بھی خبر نامہ رحمان ملک کی خبروں سے خالی نہیں ہوتا تھا وہ پاکستان کے سب سے ایکٹیو اور سب سے زیادہ اہم شخص ہوا کرتے تھے، انہوں نے پیپلزپارٹی کا سارا وزن اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھا تھاپھر جب وفات ہوئی، تو پارٹی کا چئیرمین اور بلاول بھی ان کے جنازے میں شریک نہ ہوسکامشاہد اللہ تند گو تھے، باتوں کو مڑوڑنا اور طنز کے تیر برسانا خوب جانتے تھے

ایک وقت تھا کوئی بھی خبر نامہ رحمان ملک کی خبروں سے خالی نہیں ہوتا تھا وہ پاکستان کے سب سے ایکٹیو اور سب سے زیادہ اہم شخص ہوا کرتے تھے، انہوں نے پیپلزپارٹی کا سارا وزن اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھا تھاپھر جب وفات ہوئی، تو پارٹی کا چئیرمین اور بلاول بھی ان کے جنازے میں شریک نہ ہوسکامشاہد اللہ تند گو تھے، باتوں کو مڑوڑنا اور طنز کے تیر برسانا خوب جانتے تھے، حب شریفین میں اتنے مست تھے کہ پارلیمنٹ کے فلور پر بھی بازاری جملے کسنے سے نہ جھجھکتےانکی وفات پر چند تعزیتی پیغام آئے اور وہ ہمیشہ کےلئے یادوں سے فراموش کردیئے گئے۔عرفان صدیقی کاتب شریفین رہے، نواز شریف نے اپنے کل سیاسی کریئر میں جتنے بھی جملے ادا کئے ان میں سے 60 فیصد عرفان کے قلم سے ہی تراشے گئے تھے، وہ بے دام غلام تھے جو آقا کے ہر سیاہ کو سفید کرنے میں لگے رہے یہاں تک کے وفات ہوگئی مگر پارلمان کا سیشن اہم تھا، انکو بیمار ہی بتایا جاتا رہاناں تو نواز شریف نا ہی شہباز شریف نے ان کے جنازے میں شرکت کی حتی کہ شریف خاندان سے کوئی فرد بھی شامل نہ ہوا ان تین تصویروں میں ایک پیغام مشترک ہےآپ تب تک اہم ہیں جب تک ضرورت ہیں