صدارتی ھاوس میں بڑی بیٹھک کے بعد جھنڈے اتر گئے

صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی ایوانِ صدر میں ملاقات۔ ملاقات میں نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ اسحاق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وفاقی وزیرِداخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیرِقانون اعظم نذیر تارڑ، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم بھی موجود تھے۔ملاقات میں ملک کی مجموعی صورتحال، افغانستان سے متعلق امور اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلۂ خیال۔ ملاقات میں معرکۂ حق کے شہداء اور پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین، قومی دفاع پر غیر متزلزل عزم کا اعادہ

۔صدرِ مملکت نے کہا کہ مشکل جغرافیائی و علاقائی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور سپلائی چین متاثر ہونے کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔صدرِ مملکت نے مہنگائی کے دباؤ میں کمی، اشیائے ضروریہ کی دستیابی اور عام آدمی کو ریلیف دینے کیلئے ممکنہ اقدامات کی ہدایت کی۔۔۔۔۔

ایف بی آر ان ایکشن تہذیب بیکری سیل۔۔راولپنڈی میں قتل پٹھانوں نےلڑکے کو موٹر سائیکل کے ساتھ باندھ کر گھسیٹ کر قتل کردیا۔۔۔۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب کا دشمن کو اشعار کی زبان میں دو ٹوک موقف۔۔افغانستان کسی پراکسی کا حصہ نہ بنے بھارت کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ھے۔مئی 2025 کی لڑائی کے بعد انڈیا نے امریکی قیادت کے ذریعے ثالثی کی پیشکش کی تھی: فیلڈ مارشل عاصم منیر۔ے پاکستان ناقابل تسخیر ھے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دبنگ قوم سے خطاب۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

وفاقی دارالحکومت کے تجارتی مرکز بلیو ایریا میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے شہر کی معروف تہذیب بیکری کو مبینہ طور پر سیل کر دیا ہے۔ یہ کارروائی ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی اور غیر دستاویزی لین دین کے خلاف جاری ملک گیر کریک ڈاؤن کا حصہ بتائی جا رہی ہے۔رپورٹس کے مطابق، ایف بی آر حکام نے بیکری کے آؤٹ لیٹ کا معائنہ کیا جہاں غیر تصدیق شدہ رسیدیں اور ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم میں خامیاں پائی گئیں۔ اس چھاپہ مار کارروائی کا بنیادی مقصد کھانے پینے کے شعبے میں مالی شفافیت کو یقینی بنانا اور ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے ڈیجیٹل نظام کو مستحکم کرنا ہے۔اسلام آباد کے بڑے تجارتی مراکز میں اس حالیہ سختی نے کاروباری حلقوں اور شہریوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ حکومت ریٹیل سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ضابطہ جاتی اقدامات میں مزید تیزی لا رہی ہے تاکہ معاشی نظام میں بہتری لائی جا سکے۔

سوشل میڈیا اور خفیہ ایجنسیاں ۔ اظہر سید سوشل میڈیا نے سارے پرانے نظریئے تبدیل کر دئے ہیں ۔خفیہ ایجنسیوں کو اب اپنے جاسوس دشمن ملک بھیجنے کی ضرورت نہیں رہی ۔ضرورت مند کو ڈھونڈنا بھی مشکل نہیں رہا ۔ٹک ٹاک،ٹویٹر،فیس بک ،لنکڈن کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے ضرورت مند تلاش کیا جا سکتا ہے ۔ضرورت مند کو پیسے بھیجنے کے ایک ہزار طریقے ہیں۔وہ اپنے فون سے کسی بھی پل، عمارت،حساس تنصیبات کی تصویر کھینچ کر چند لمحوں میں پیسے بھیجنے والے کو بھیج سکتا ہے ۔ضرورت مند کو کہیں بھی کسی بھی طرح استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ٹارگٹ کلر بنائے جا سکتے ہیں ۔حساس معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔بھارتی اگر مقامی لوگوں کو استعمال کر کے سابق مجاہدین کو مروا سکتے ہیں یہی کام پاکستانی بھی زیادہ بہتر طریقے سے کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔اسرائیلیوں نے ایرانی اور افغان مہاجرین کو استعمال کیا ایرانی کے فوجی اور سیاسی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ۔سائنسدان گھروں ،دفتروں اور سڑکوں پر قتل کروا دئے ۔روحانی قائد کو قتل ہی نہیں کروایا اسی لمحے مردہ جسم کی تصویر بھی حاصل کر لی ۔ضرورت مندوں ،کم نسلوں کو پیسوں کا لالچ دے کر ریاستی اداروں کے خلاف مسلسل پراپیگنڈہ کروایا جا سکتا ہے ۔پراپیگنڈہ والے وی لاگ کرو ،سائبر سیلوں میں بیٹھے زمہ دار گھنٹوں یہ وی لاگ دیکھیں گے ۔ڈالر بنتے جائیں گے ۔گھٹیا یو ٹیوبر کو اسی طریقے سے سلیبرٹی بنا کر سماجی ڈھانچہ کی دیواریں توڑی جا سکتی ہیں ۔کمزور کی جا سکتی ہیں ۔سوشل میڈیا کے جھوٹ ،دھوکہ اور فراڈ سے کسی زناکار کو مسیحا اور لیڈر بنایا جا سکتا ہے ۔عوام میں تقسیم پیدا کی جا سکتی ہے ۔

قومی اور لسانی نفرتوں کی آگ بھڑکائی جا سکتی ہے ۔فرقہ ورانہ نفرت پھیلائی جا سکتی ہے ۔ہر شخص کے ہاتھ میں فون ہے ۔اس فون کے زریعے ہر شخص کو کوئی مخصوص سوچ مسلسل دی جا سکتی ہے کہ وہ اپنا زہن تبدیل کر لے ۔بہت جلد روایتی ہتھیاروں کی جگہ چھوٹے چھوٹے ہتھیار جنگوں کے روایتی تصورات بھی پاش پاش کر دیں گے ۔آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پر آسکتا نہیں۔

راولپنڈی کے علاقے چکری روڈ، پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والا سانحہ ہے۔سترہ سالہ سید زین شاہ ایک معصوم، محنتی اور بااخلاق نوجوان تھا جس کا تعلق ایک شریف سادات گھرانے سے تھا۔ وہ ایک چھوٹی سی دکان پر ملازمت کرکے اپنے بوڑھے والدین کا سہارا بنا ہوا تھا۔ جس علاقے میں زین پیدا ہوا اور اس نے سترہ سال گزارے، وہاں کا کوئی ایک فرد بھی یہ گواہی نہیں دے سکتا کہ وہ جھگڑالو، بدتمیز یا شرپسند تھا۔

یہاں تک کہ اس کے والد نے بھی کبھی کسی کے ساتھ اونچی آواز میں بات نہیں کی۔اطلاعات کے مطابق محض 1300 روپے کے معمولی لین دین کے تنازعے کے بعد سراج محسود نامی شخص اپنے بھائیوں، متعدد افراد اور خواتین کے ہمراہ زین شاہ کے گھر پر حملہ آور ہوا۔ ایف آئی آر کے مطابق پہلے تلخ کلامی ہوئی اور بعد میں معاملہ ختم کر دیا گیا، مگر اس کے باوجود دوبارہ “گلہ” کرنے کے نام پر زین کے گھر جانا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے مطابق وہاں پہنچتے ہی دوبارہ جھگڑا شروع کیا گیا، جس دوران ایک شخص ہلاک ہو گیا۔اس کے بعد مشتعل افراد نے زین شاہ کے گھر میں موجود خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ زین شاہ کو زبردستی گھر سے اٹھا کر لے جایا گیا۔ ذرائع اور ابتدائی رپورٹس کے مطابق زین شاہ پر کئی گھنٹوں تک انسانیت سوز تشدد کیا گیا۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس کے جسم پر بدترین تشدد کے نشانات سامنے آئے۔ گلے اور بازوؤں پر بلیڈ کے زخم، ٹوٹی ہوئی انگلیاں، جسم کو جلانے کے نشانات، رسیوں سے باندھ کر گھسیٹنے جیسے دل دہلا دینے والے شواہد اس ظلم کی سنگینی ظاہر کرتے ہیں۔ بعد ازاں مبینہ طور پر اس کی لاش کی بے حرمتی کرتے ہوئے گھر کے باہر پھینک دیا گیا۔اگر کسی قسم کا تنازع یا جرم موجود بھی تھا تو اس کا فیصلہ صرف اور صرف قانون کے مطابق ہونا چاہیے تھا۔ کسی فرد یا گروہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ قانون اپنے ہاتھ میں لے کر جتھوں کی صورت میں حملہ کرے، اغواء، تشدد اور قتل جیسے غیر انسانی اقدامات کرے۔

ایسے واقعات کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔مزید افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض عناصر اس واقعے کو لسانیت اور قومیت کا رنگ دے کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پنجابی اور پٹھان کے نام پر نفرت پھیلانا، جرگوں اور احتجاج کے ذریعے ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنا اور سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ جرم کا تعلق صرف مجرم سے ہوتا ہے، کسی قوم، زبان یا قبیلے سے نہیں۔اگر کسی کے اہلِ خانہ زیرِ حراست ہیں تو اس کا قانونی راستہ موجود ہے، مگر اصل ترجیح قاتلوں کو گرفتار کرکے قانون کے سامنے پیش کرنا ہونی چاہیے۔ اگر کوئی منشیات فروش، سمگلر، چور، ڈاکو یا دہشت گرد قانون کی گرفت میں آتا ہے تو اسے لسانی یا قبائلی رنگ دینا ریاستی اداروں اور قانون کی عملداری کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

ہمیں اپنے اداروں، پنجاب پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مکمل اعتماد ہے کہ وہ اس دلخراش واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے تمام ملوث عناصر کو بلاامتیاز قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔ اگر ایسے سفاک عناصر کے خلاف بروقت اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو مستقبل میں مزید معصوم جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ہم حکومتِ پنجاب، حکومتِ پاکستان اور متعلقہ حکام سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ سید زین شاہ کے اہلِ خانہ کو فوری انصاف فراہم کیا جائے اور اس انسانیت سوز واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی جرأت نہ

دھمیال کے واقعے میں تین ظلم ہوئے،پہلا ظلم پنجابی نوجوان کی جانب سے محسود جوان کا قتل، یہ ظلم عملا اس وقت ختم ہوگیا جب مقتولین کے ورثاء نے جوابا اسے قتل کردیا،دوسرا ظلم، اس پنجابی کی لاش کو موٹر سائیکل سے باندھ کر گھسیٹا جانا،تیسرا ظلم محسود نوجوان کی لاش اسے ورثاء کے حوالے نہ کرنا، اور اسکے ان عزیزوں کی خواتین کو گرفتار کرنا جنہوں نے پنجابی جوان کو قتل کیا اور اسکی لاش کی بیحرمتی کی،تیسرے ظلم کے خلاف محسود قبیلے نے دیگر پختونوں اور غیر قانونی افغانیوں کو اکٹھا کرکے آج جرگہ کیا ہے، اور اس جرگے کیں 400 کلومیٹر دور سے بھی شرکاء شریک ہوئے ہیں، بلکہ شاید ان علاقوں سے منتخب ایک دو ایم این اے، اور ایم پی ایز بھی اور انکے اعلامیے میں بھی جرم نمبر 2 کا کوئی ذکر نہیں ہے کے کیسے انکی قوم کے افراد نے ایک شخص کو قانون سے بالاتر ہوکر قتل کیا بعد ازاں اسکی لاش کو سڑکوں پر گھسیٹا یہ عمل قانونی، اخلاقی، شرعی تینوں اطوار سے بدترین ظلم تھا، اور ہم جرگے کے ارکان پاکستانی ریاست یا پولیس کی بھرپور مدد کریں گے اس ظلم کو انجام دینے والے لوگوں کو پکڑنے میں، ہم خود بھی انکو پناہ نہیں دیں گے، اور اگر وہ آبائی علاقوں میں کا چھپے پیں تو وہاں سے انکو خود پکڑ کر لاکر پولیس کے حوالے کریں گے، خیر وہ ایسا کہتے بھی کیوں کے انکا جرگہ انکی قوم کے لیے تھا ہمارے لیے نہیں،جبکہ ہم پورے پنجاب کے پنجابی بالخصوص راولپنڈی کے مقامی حضرات اور ان میں بھی بالخصوص دھمیال وغیرہ کے مقامی راجے، مقامی سیاستدان، ایم این اے، ایم پی ایز اس قدر بغیرت واقعہ ہوئے ہیں،کے کوئی ایک احتجاج نہیں ہوا،کوئی ایک پریس کانفرنس نہیں ہوئی،کوئی ایک منتخب نمائندہ نہیں بڑھا یہ کہنے کو،کے یہ ہمارا علاقہ ہے،

یہ ہمارا کھلا دل تھا کے ہم نے اپنے پاکستانی مسلمان بھائیوں کو جو اپنے علاقے میں موجود سورش و بدامنی کی وجہ سے روزگار اور اپنی مائوں بہنوں کی عزت کی رکھوالی کے لیے پنجاب آئے، انہیں کھلے دل سے ویلکم کیا، انہیں کام کاروبار کی مکمل آزادی دی، انکی رسم و رواج کی عزت کی،اسکے باوجود انہوں نے جو ایک مقامی ہمارے ہم زبان بھائی کو قانون سے بالاتر ہوکر پہلے قتل کیا، پھر اسکی لاش کی بیحرمتی کی اسے ہرگز قبول نہیں کیا جائیگا، اور پولیس سے مطالبہ کیا جائے کے جو جو فرد ان قاتلوں کے پیچھے کھڑا ہے ان سب کے خلاف بھی کاروائی کی جائے، اور یقینی بنایا جائے کے ان قاتلوں کو فی الفور گرفتار کرکے قانون کے مطابق فی الفور پھانسی کی سزا دی جائے …!!خیر کوئی شک نہیں، پنجابی اس معاملے میں ہیں ہی بغیرت…!!اور کوئی مسئلہ نہیں انتظار کریں، کے کب راولپنڈی میں بھی محسود قبیلے کے آبائی علاقے کی طرح حالات ہوجائیں گے،کے مخالف قبیلے/گائوں کا جانور ہمارے کھیت میں کیوں چرنے آیا، اس بات پر لڑائی شروع ہوگی اور پورا قبیلہ ہزاروں افراد پر مشتمل لشکر بنا کر راکٹ لانچرز جیسے ہتھیار لیکر دقسرے قبیلے/گائوں پر حملہ

پارلیمنٹ کے اراکین کے لئے نئی رہائشی سکیم تیار کی جا رہی ہے جس میں 104 فیملی سوٹس کے لئے 500 ائیر کنڈیشنرز اور لابیوں میں وی آر ایف سسٹم نصب کرنے کے لئے ٹینڈرز طلب کیے گئے ہیں

پارلیمنٹ کے اراکین کے لئے نئی رہائشی سکیم تیار کی جا رہی ہے جس میں 104 فیملی سوٹس کے لئے 500 ائیر کنڈیشنرز اور لابیوں میں وی آر ایف سسٹم نصب کرنے کے لئے ٹینڈرز طلب کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے پر ایک ارب نو کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ اس سکیم میں 500 خدمت گاروں کے لئے کوارٹرز اور چار بلاکس پر مشتمل رہائشی اپارٹمنٹس ہوں گے۔ سی بلاک میں شاپس، جم، سوئمنگ پول وغیرہ ہوں گے۔ اس منصوبے کی تکمیل کے لئے 30 جون کی آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے۔۔

راولپنڈی کے عوام اور وکلا برادری کے لیے بڑی خوشخبری۔کچہری چوک راولپنڈی کو ٹریفک کی آمد و رفت کے لیے اتوار کے روز کھول دیا جائے گا۔

راولپنڈی کے عوام اور وکلا برادری کے لیے بڑی خوشخبری۔کچہری چوک راولپنڈی کو ٹریفک کی آمد و رفت کے لیے اتوار کے روز کھول دیا جائے گا۔اس میگا منصوبے پر 20 ارب روپے سے زیادہ لاگت آئی۔ اس میں دو فلائی اوورز، تین انڈر پاسز اور دو آہنی پل شامل ہیں، جبکہ حیران کن طور پر یہ منصوبہ صرف 187 دنوں میں مکمل کیا گیا۔مزید یہ کہ کچہری چوک کا نام اب “معرکہ حق سکوائر” رکھ دیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب Maryam Nawaz Sharif اتوار کے روز اس منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کریں گی، جس کے بعد ٹریفک کے لیے اسے مکمل طور پر کھول دیا جائے گا. Afzal Butt Afzal Butt

‏پاکستان کی فضائی حدود کے دفاع میں پاک فضائیہ کی جرات، قوم کی عسکری تاریخ کا روشن باب بن چکی ہے!! پاکستان فضائیہ کے ڈپٹی چیف آف ایئر سٹاف ایئر وائس مارشل طارق غازی نے جمعرات کو کہا ہے کہ مئی میں انڈیا سے ہونے والی جنگ آخری نہیں تھی اور وہ ’مستقبل کی جنگوں‘ کی تیاری کر رہے ہیں۔پاک فضائیہ ھر طرح کی جنگ کے لیے تیار ہیں دنیا سن لے ڈپٹی ائیر چیف طارق غازی۔۔ آسٹریلوی ٹیم کا دورۂ پاکستان، ون ڈے سیریز کیلئے 23 مئی کو اسلام آباد پہنچے گی۔۔۔عباس عراقچی کا دورہ روس، جنگ کا رُخ تبدیلپیوٹن کا پیغام، امریکہ میں۔۔ مڈل ایسٹ: متحدہ عرب امارات نے ایران پر حملہ کر دیا ہے۔۔ تھران کا میزائل سسٹم فعال ، تھران کے میزائل ۔۔سھیل ظفر چٹھہ کا پھلے پٹواری پٹواری پر ھاتھ۔۔ائئنی عدالت کا بڑا فیصلہ۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے IRIB نے ایک فوجی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی آئل ٹینکر پر امریکی حملے کے بعد ایران کی فوج نے “دشمن یونٹس” پر میزائل داغے۔ فوجی عہدیدار کے مطابق ان “دشمن یونٹس” کو نقصان پہنچا اور وہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔

بھارت بنے گا پاکستان ۔ اظہر سید پاکستان تو بدل گیا ہے لیکن بھارتی پاکستان کے راستے پر چل نکلے ہیں ۔بنگال اور کیرالہ کے صوبائی اسمبلی کے نتایج اس بات کی واضح دلیل ہیں جھوٹ ،دھوکہ اور فراڈ کے جس مکروہ نظام سے ایک زناکار پلے بوائے کو پاکستان میں مسیحا بنایا گیا

اسی جھوٹ ،دھوکہ اور فراڈ پر مشتمل مسلمان دشمنی کے پراپیگنڈہ سے بی جے پی بنگال میں کامیاب ہو گئی ہے ۔کیرالہ میں پانچ دہائیوں سے کامیاب ہونے والی کیمونسٹ پارٹی شکست کھا گئی ہے ۔بھارت جتنا بڑا ملک ہے ۔جتنی متنوع ابادی بھارت کی ہے صرف سیکولرازم ہی اس کی بقا کی ضمانت بن سکتا ہے ۔

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سیکولرازم کی بجائے ہندوازم کی بھینٹ چڑھ گئی ہے اور اس کی کوکھ سے صرف انتشار پیدا ہو گا اور بس ۔پاکستان میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد مالکان نے کھل کر مذہب کا استعمال کیا ۔ریاست پر گرفت قائم رکھنے کیلئے عدلیہ اور میڈیا میں دلالی کی صنعت کو فروغ دیا ۔ نچلے طبقہ کے کم نسل لوگوں کو اعلی عہدے اور اختیارات دے کر اپنی منشا کے نتایج حاصل کئے

۔اس پالیسی کی انتہا مرشد کی صورت میں سامنے آئی تو مالکوں کو ہوش آیا ادارے تباہ ہو جائیں ،عوام کا ریاست پر اعتماد ختم ہو جائے، ملک ٹوٹ جاتے ہیں ۔پاکستان نے زناکار مرشد کے تجربہ کے بعد واپسی کا سفر شروع کر دیا ہے ۔اس کے نتایج بھی سامنے آنے لگے ہیں لیکن بھارتی پاکستان کے راستے پر چل نکلے ہیں

۔ملا ملٹری اتحاد جو کبھی پاکستان کے انتشار کا باعث بنا تھا بالکل وہی اتحاد بھارتی فوج اور انتہا پسند ہندوؤں کی جماعت میں نظر آرہا ہے ۔دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی سب سے بڑی سیکولر فوج کا سربراہ حلف سنبھالنے کے بعد مندر میں اظہار تشکر کیلئے جاتا ہے ،اس سے پہلے بھارتی فوج کے کسی سربراہ نے فوج کا سیکولر تشخص مجروح نہیں ہونے دیا تھا ۔ففتھ جنریشن وار کا جو چن جنرل باجوہ نے چڑھایا تھا وہی چن اب بھارتی ہندوانہ جمہوریت چڑھا رہی ہے ۔اپریشن سیندور میں جس طرح جھوٹ کا طومار باندھا گیا جنرل باجوہ کے حواری پیچھے رہ گئے ہیں ۔بھارتی عدلیہ بھی انتہا پسند ہندوؤں کی عدلیہ بنتی جا رہی ہے اور اسکی بنیاد اس وقت رکھی گئی جب بی جے پی کے ایجنڈے پر چلنے والے چیف جسٹس کو ریٹارمنٹ کے بعد بھارتی راجیہ سبھا کی

ممبر شپ کا تحفہ دیا گیا۔بھارت میں مسلمان ایک بہت بڑی حقیقت ہیں ۔انکے خلاف پراپیگنڈہ کی بنیاد پر الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے میں پاکستان کے حوالہ سے شر نہیں خیر ہی خیر ہے ۔بھارتی معاشرہ انتشار کا شکار ہو گا ۔ممتا بنیر جی پندرہ سال بعد ہاری ہیں ۔بے جی پی نے بنگال کا مورچہ مسلمان نفرت کی بنیاد پر جیتا ہے ۔کیرالہ میں بھلے بی جے پی کامیاب نہیں ہوئی لیکن وہاں کیمونسٹ پارٹی کے خلاف کئے گئے مسلسل پراپیگنڈہ نے اسے شکست سے دو چار کر دیا ۔دنیا جس تیز رفتاری سے تبدیل ہو رہی ہے بھارتی معاشرہ میں انتشار پاکستان کے حوالہ سے خوش کن ہے ۔

قانونی پیچیدگی کی ڈرامے بازیاں آج سوشل میڈیا پہ پبلک نیوز چینل کی ایک ویڈیو دیکھی ۔ جس میں ایک پولیس آفیسر شاید ایس ایس پی ٹریفک ، محکمہ ایسائیز پنجاب کے آفیسر اور مذکورہ چینل کےنمائیندے ایک گاڑی کو روکتے ہیں ۔ اور ان سے گاڑی کے نمبر کے بارے می ںسوال کیاجاتا ہے ۔ گاڑی میں موجود شخص نےبتایا کہ میری وائف گاڑی میں علیل ہیں جن کو ایمرجنسی میں فلاں ہسپتال لے کر جا رہا ہوں ۔ اور یہ گاڑی کراچی سے رجسٹرڈ ہے ۔ پولیس آفیسر نے کہا چونکہ خاتون کی علالت کامعاملہ ہے اس لیۓ آپ کو جانے کی اجازت ہے ۔ ورنہ قانونی طور پر آپ پاکستان میں ایک صوبہ سے دوسرے صوبہ میں بغیر اجازت کے داخل ہوئے ہیں تو آپ کے خلاف قانونی کاروائی بنتی ہے ۔ خیر آپ جلدی ہسپتال جائیں ۔ مذکوہ شخص کےجانے کے بعد صحافی نے پوچھا کہ جناب اب آپ ہمارے ناظریں کو اس قانون کے بارے میں بتائیں۔ جس پر پولیس آفیسر صاحب نے فرمایا ۔ چونکہ صوبہ سندھ کی گاڑی کراچی سے رجسٹرڈ ہے ۔ اور اس گاڑی نے ٹیکس اس صوبے کی حکومت کو دیا ہے ۔ تو اس گاڑی کو پنجاب کے روڈ خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی

۔ اگر ایک صوبہ سے دوسرے صوبہ میں گاڑی جائے گی تو وہ ایکسائیز ڈیپارٹمنٹ سے ایک لیٹر لے گی ۔ اور فیس ادا کرنے کے بعد روڈ پہ آسکتی ہے ۔ جس کا مطلب مجھے یہ سمجھ آیا کہ کراچی سے پنجاب کے کسی چھوٹے شہر تلہ گنگ یا حضرو جانے والا فرد پہلے لاہور ، راولپنڈی یا کسی بڑے شہر میں جا کر محکمہ ایسائیز کا دفتر تلاش کرے۔ اور دفتری اوقات کے بعد پہنچنے پر کسی ہوٹل میں پانچ افراد کی رہائش ، دو وقت کے کھانے پینے کا بندوبست کرے

۔ اگلے دن دفتر کھلنے ، صاحب بہادر کی آمد کا انتظار کرے، اور پھرلیٹرجاری ہونے اور اس کے پراسس کا انتظارکرے پھر گاؤں جاکر اپنی والدہ سے ملاقات کرے اور پھر لاہور آ کر بتائے کہ سر اب میں واپس جا رہا ہوں ۔ مجھے کراچی جانے کا اجازت نامہ دے دیں ۔ اب محترم ایس ایس پی ٹریفک صاحب کے دوسرے نقطہ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ محترم نے فرمایا کہ چونکہ کراچی یا کسی اورشہر سے آنے والی گاڑی ٹیکس تو اپنے شہر کو دیتی ہے اور روڈ پنجاب کے خراب کرتی ہے ۔ اس لئے روڈ ٹیس ادا کرنے کا اجازت نامہ ضروری ہے ۔۔ جناب ادب سے گزارش ہے کہ پنجاب میں داخل ہونے سے قبل گاڑی چھتیس ٹول پلازہ سے ہزاروں روپے کا ٹول ادا کرتی پنجاب میں داخل ہوتی ہے ۔ جہاں سرکار نے ہر چالیس پچاس کلومیٹر پر ٹول پلازہ بنا رکھاہے ۔ اگر وہ ٹول ٹیکس روڈ پہ چلنے کا نہیں ہے تو وہ پیسے کس مد میں لئے جاتے ہیں ؟ صحافی صاحب بھی ماشاء اللہ بڑے صحافی تھے ۔ او بھئی پوچھو ایس ایس پی صاحب سے سر جی ہر ٹول پلازہ پہ کس مرض کی دوا کے پیسے لئے جاتے ہیں ؟ چلیں مان لیا یہ قانون لاگو ہے اور کسی وجہ سے درست بھی ہے ۔ تو کیا کراچی سے چلنے والی آٹھ دس ہزار بسیں اور پچاس ہزار ٹرک کراچی پورٹ سے روزانہ کی بنیاد پر تین صوبوں کو جاتے ہیں وہ روزانہ یا ماہانہ محکمہ ایسائیز سے اجازت نامہ لیتے ہیں؟؟؟ ۔ یا یہ قانون کار والوں کے لئے ہے ۔؟ خیر مجھے اس قانونی شک کا بالکل اندازہ نہیں ۔ اگر کسی دوست کو معلوم ہو تو راہنمائی فرمائیں ۔ ہم تو سنتے تھے یورپ کے ایک ویزہ پہ آپ اپنی گاڑی پہ ہر ملک کا روڈ خراب کر سکتے ہیں ۔۔۔ شاہدداؤد ملک

‏ڈی جی اینٹی کر۔پشن سہیل ظفر چٹھہ کا تازہ ترین کھڑاک ۔۔۔‏ ایک طاقتور پٹواری پر ہاتھ ڈال دیا ۔۔۔۔ ‏اس پٹواری کے کالے کرتوت آپ کو حیران کر دیں گے ۔۔ راولپنڈی کے معروف صحافی راجہ لیاقت کی ایک رپورٹ کے مطابق مری کے ممتاز پٹواری کا شمار مری اور راولپنڈی کی معروف بااثر شخصیات میں ہوتا ہے ، ممتاز پٹواری کھلا کھاتا ہے اور کھلا لگاتا ہے ۔‏ اندازہ کریں کہ ایک پٹواری جسکی زیادہ سے زیادہ تنخواہ 1 لاکھ روپے ہو سکتی ہے وہ کروڑوں کی گاڑی میں سفر کرتا ہے ۔ اسکے 15 ذاتی ملازم ہیں ۔ مری روڈ پر ایک عالیشان دفتر میں بیٹھتا ہے اور اس جس پلازے میں اسکا دفتر ہے وہاں اسکی بدمعاشی اور غنڈہ گردی سے ہر شخص کی جان جاتی ہے ۔ ‏ممتاز پٹواری نے مری میں زمینوں کے انتقالات میں کئی ہیر پھیر کیے ، اسکے خلاف متعدد پرچے درج ہوئے جو اس نے اپنا اثر اور بابا قائداعظم استعمال کرکے خارج کروا دیے ۔۔۔۔کئی کمزور لوگوں کی اراضیاں اور قیمتی زمینیں اس نے اپنے قلم کی جنبش سے بااثر اور مالدار لوگوں کے نام کردیں جنہوں نے اسے مال کھلایا ۔ ‏اس پٹواری کے ڈسے کئی لوگ گھروں سے بے گھر ہو گئے اور عدالتوں کچہریوں میں دھکے کھاتے پھر رہے ہیں

۔۔۔۔ اپنے مری روڈ والے دفتر کے قریب اس نے ایک غریب دکاندار کو چند روز قبل مارا پیٹا جو کہ پلازے کی سیڑھیوں کے نیچے دکان لگاتا تھا ۔ بے غیرتی کی اس سے بڑی انتہا اور کیا ہو سکتی ہے ۔۔‏اگرچہ مذکورہ پٹواری اس وقت ضمانت قبل از وقت گرفتاری پر ہے ۔ لیکن ایک اچھی بات یہ ہے کہ اب ممتاز پٹواری کا معاملہ سہیل ظرف چٹھہ کے پاس ہے اور پٹواری انکے راڈار پر آگیا ہے ، ‏جہلم کے ایک آفیسر نے بے دھڑک ہو کر اور بغیر پریشر قبول کیے ممتاز پٹواری کے خلاف انکوائری مکمل کر لی ہے ۔ 11 مئی کو ممتاز پٹواری کی اینٹی کر۔پشن ہیڈ کے سامنے پیشی ہے۔‏ دیکھنا یہ ہے کہ غنڈہ بدمعاش، بدعنوان، بااثر کر۔پٹ اور مالدار پٹواری قانون کے شکنجے میں آتا ہے یا ماضی کی طرح بچ نکلتا ہے ۔۔۔ ‏لیکن اگر سہیل ظفر چٹھہ کی طرف دیکھا جائے تو ممتاز پٹواری کا ٹھکانہ اب جیل ہی نظر آرہا ہے ۔۔۔

‏بھارت کی فوج سیاست زدہ ہے ترجمان افواج پاکستان ۔۔سنددو تو عورتیں لگاتی ھے آپریشن کا نام تبدیل کر لے فوجی ترجمان کا بھارت کو مفت مشورہ۔۔‏پاکستانی مسلح افواج کی ہر تیاری، ہر کوشش اور ہر صلاحیت کا محور خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کا فروغ ہے!! آئی ایس پی آر۔۔افغانستان کے پاس گھڑی ھے تو ھمارے پاس گھڑیال ھے فوجی ترجمان۔۔‏پاکستان کی فضائی حدود کے دفاع میں پاک فضائیہ کی جرات، قوم کی عسکری تاریخ کا روشن باب بن چکی ہے!!ترجمان کی پریس کانفرنس کا نچوڑ بادبان نیوز

ابھی میں نے اپنی گاڑی میں ڈیزل ڈلوایا بلاشبہ قیمت کچھ زیادہ ہے مگر اضافی رقم ادا کرتے ہوئے مجھےخوشی اور فخر محسوس ہو رہا ہے کہ موجودہ حالات کےتناظر میں میں کسی نہ کسی صورت اپنے وطنِ عزیز کے کام آ رہا ہوں قوم کے ہر فرد کو بھی اسی طرح جذبہ حب الوطنی اپنانا چاہیے اگر ہم سب مل کر قربانی کا یہ جذبہ برقرار رکھیں تو جلد آسانیاں پیدا ہوں گی۔ حضرت علامہ طاہر اشرفی

موسم پھر بدلنے والا ہے! مزید بارشوں کا امکان، محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی۔۔پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب۔ بنگلادیش کے خلاف ٹیسٹ سریز سے قبل پاکستانی کھلاڑیوں کا فوٹو شوٹ.۔پاکستان اور زمبابوے کی ویمنز ٹیموں کے درمیان دوسرا ون ڈے۔۔ہم ایران سے افزودہ یورینیم حاصل کریں گے: صدر ٹرمپ۔۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی چین میں سب کچھ طے۔ امریکا اور ایران کے درمیان ایک صفحے پر مشتمل معاہدہ طے۔۔کمزور پاسپورٹ میں ہمارا چوتھا نمبر کیوں ہے؟۔۔جبکہ ایتھوپیا، نائجیریا اور یوگنڈا ہم سے بہتر ہیں۔ ایسا کیوں؟ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

کل اچانک حاتم طائی مل گئے میں نے پوچھا او بھائی آپ کہاں سے آ گئے بولے تھا تو قبر میں مگر آپ کی حکومت نے لات ہی ایسی غضب کی ماری کہ قبر سے باہر آنا پڑاقوم کو بجلی کی قیمت میں تاریخی کمی اور پانچ سو یونٹ کے استعمال پر پورے پانچ روپے کی عظیم الشان بچت پر ڈھیروں ڈھیر مبارک باد اور حکومت کے اس عظیم الشان کارنامے کو تاریخ میں یاد رکھا جائے گاشکریہ شوباز شریف

بڑے ذلیل ہو کہ ایران کے کوچے سے ہم نکلےبڑے نکلے ٹرمپ کے قبضے کے ارماں لیکن پھر بھی کم نکلےٹرمپ کا دعوی ہے کہ آخر کار ایران کے نیوکلئیر ہتھیار نہ بنانے پہ جنگ بندی ھو گئ🤣جبکہ ایران نے آبناے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی شپنگ کمپنیوں کیلیے نئ ہدایات جاری کی ہیں اب امریکن تجارتی جہاز بھی ٹول دیے بنا نہیں گزر سکیں گے ابناۓ ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو پیشگی کلئیرنس کیلیے ایمیل کرنی ہو گی1

. ایرانی کرنسی میں ٹول پیمنٹ کو ترجیح دی جاے گی2. ایرانی بنکس سے گارنٹی لیٹر کا اجرا ضروری ہو گا3. جن ممالک کی سرزمین سے ایران پہ حملے کیے گۓ وہ پہلے نقصان کے ازالہ کیلیے جنگی ہرجانہ ادا کریں گے پھر ابی گزرگاہ کے استعمال کی اجازت ہو گی علاوہ ازیں جن ممالک نے ایران پہ تجارتی پابندیاں لگائ ہیں یا ایران کا پیسہ\اکاؤنٹس روک رکھا ہے انھیں ابناے ہرمز استعمال کی اجازت نہیں ہو گی4. تمام تجارتی کاغزات میں آبناے ہرمز کے بجاۓ فارس\ایرانی گلف لکھنا ضروری ہے5. اوپر دی گئ ہدایات میں عمل نہ کرنے کی وجہ سے کسی بھی تجارتی جہاز پہ قپضہ کیا جا سکتا ہے اور جہاز پہ موجود سامان کی کل مالیت کا 20% جرمانہ ادا کرنا ہو گا

بیس سال پہلے ٹھیک آج کے دن ایک سیاہ فام نوجوان “گائے گوما” آئی ٹی کی جاب کے لیے بی بی سی کے دفتر پہنچا۔ وہ اپنی باری کا منتظر تھا کہ ایک شخص نے آکر پوچھا، آپ آئی ٹی سے ہیں؟ کیا آپ ہی مسٹر گائے ہیں؟ گائے گوما نے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ نوجوان انھیں ایک کمرے میں لے گیا۔چند منٹ بعد ایک خاتون وہاں آئیں۔ گائے گوما کو لگا کہ انھیں کہیں دیکھا ہے۔ کسی نے نوجوان سے پوچھا کہ میک اپ کروائیں گے؟ ابھی وہ صورتحال سمجھنے کی کوشش کررہا تھا کہ انٹرویو شروع ہوگیا۔ وہ بی بی سی ٹی وی پر لائیو انٹرویو تھا۔گائے گوما کو احساس ہوگیا کہ کچھ مسئلہ ہوگیا ہے۔ لیکن اس نے حواس بحال رکھے۔ خاتون اینکر نے ایک آن لائن میوزک کیس کے عدالتی فیصلے کے بارے میں دو سوالات کیے۔ گائے گوما نے سکون سے ان کا جواب دیا۔ جوابات غلط نہیں تھے لیکن اینکر کو بھی احساس ہوگیا کہ کچھ مسئلہ ہے۔ اس نے انٹرویو فورا ختم کردیا۔بعد میں پتا چلا کہ اینکر نے آئی ٹی ایکسپرٹ گائے کیونی کا انٹرویو کرنا تھا۔ پہلا نام یکساں ہونے کی وجہ سے غلطی ہوئی۔ بہرحال وہ بھنڈ منظر عام پر آیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ بعد میں بی بی سی نے خود بھی اسے دوبارہ نشر کیا۔آج اس بھنڈ کے بیس سال ہونے پر نیویارک ٹائمز نے تفصیل سے پوری کہانی چھاپی ہے اور بی بی سی کے اس کلپ کا لنک بھی شئیر کیا ہے۔میں نے جیو میں کم از کم دو بھنڈ ایسے ہوتے دیکھے ہیں۔ عام طور پر اسائنمنٹ ڈیسک کے پاس ایک فون ڈائریکٹری ہوتی ہے جس میں ان تمام لوگوں کے نمبر ہوتے ہیں، جن کا کبھی انٹرویو کیا ہو یا کرنا پڑجائے

۔ سیاست دان، سرکاری حکام، ترجمان، کھلاڑی، فنکار، تجزیہ کار، سب نام ہوتے ہیں۔ جب کسی کا بیپر، یعنی لائیو انٹرویو کرنا ہو تو اسائنمنٹ ڈیسک سے ہی نمبر مانگا جاتا ہے۔پی سی آر، وہ جگہ جہاں پینل پروڈیوسر اور آڈیو انجینر بیٹھے ہوتے ہیں، کئی فون رکھے ہوتے ہیں جن سے انٹرویو کے لیے کال ملائی جاتی ہے۔ ایک بار اسائنمنٹ ڈیسک نے کوئی غلط نمبر دے دیا۔ بریکنگ نیوز کی جلدی تھی۔ ایسوسی ایٹ پروڈیوسر نے کال ملاکر لائن اسٹوڈیو میں ٹرانسفر کردی۔ آن ائیر جانے کے بعد معلوم ہوا کہ کال غلط شخص کو ملادی گئی ہے۔پہلی بار یہ غلطی ایسوسی ایٹ پروڈیوسر سے ہوئی۔ دوسری بار اس وقت جیو دبئی کے بیورو چیف ایم کے عباس نے بھنڈ مارا۔ پرویز مشرف کا دور تھا۔ کسی اہم معاملے پر چوہدری شجاعت حسین کا لائیو بیپر کرنا تھا۔ وہ حسب عادت بھاگے بھاگے آئے اور پی سی آر کے فون سے خود کال ملاکر اسٹوڈیو میں ٹرانسفر کی۔ اینکر نے سوال پوچھا تو پتا چلا کہ فون غلط ملایا گیا۔

چوہدری شجاعت کے بجائے کسی عام آدمی کا فون مل گیا تھا۔میں اسائننمٹ ڈیسک پر کم بھروسا کرتا تھا۔ جب میں نے جیو چھوڑا تو میری اپنی فون ڈائریکٹری میں ڈھائی ہزار نمبر تھے۔ وائس آف امریکا میں وہ ذخیرہ بہت کام آیا۔ لیکن ایک دن مجھ سے بھی غلطی ہوئی لیکن چونکہ وہ لائیو انٹرویو نہیں تھا اس لیے بھنڈ نہیں تھا۔میں نے کسی معاملے پر ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی سے رائے لینا چاہی۔ فون بک میں خالد مقبول کا نام دیکھ کر کال ملائی۔ پوچھا کہ خالد مقبول صاحب بات کررہے ہیں؟ کال ریسیو کرنے والے نے تصدیق کی۔ میں نے اپنا تعارف کروایا اور سیاسی سوال پوچھا۔ وہ صاحب ہنسے اور کہا، میں وہ خالد مقبول نہیں ہوں۔میں نے فون بک دوبارہ کھولی اور کہا، معذرت چاہتا ہوں جنرل صاحب۔وہ مشرف کے سابق ساتھی اور سابق گورنر پنجاب جنرل خالد مقبول تھے۔

ڈاکٹر کی ڈائری آپ یہ پوسٹ اور اس پر موجود کمنٹس پڑھ لیں ، اور پھر ڈاکٹرز کے خلاف معاشرے کا عمومی رویہ سمجھنے کی کوشش کریں۔کمنٹس کرنے والے دونوں صاحبان دو مختلف پیشوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔اس پوسٹ کے دو پہلو ہیں۔پرائیویٹ پریکٹس میں بیٹھے ہوے سپیشلسٹ ڈاکٹر کا پہلا انٹرسٹ اس کے پیشنٹ کا صحت یاب ہونا ہے کیونکہ وہ پیشنٹ ہی ڈاکٹر کی ائندہ کی مارکیٹنگ ہے ، ایک مریض صحت یاب ہو کر جائے تو کم از کم دس نئے خاندان اس ڈاکٹر پر اپنے مریض کے لیئے اعتبار کرتے ہیں۔ ڈاکٹر چاہے اپنے مریض کو کوئ اضافی دوائی لکھ کر دے ، یا کوئی دوائی ہلکی کمپنی کی لکھ کر دے ، مگر اس کی پہلی ترجیح یہ ہوتی ہے کہ مرض کی تشخیص کے مطابق جو دوائی ہو، وہ بہترین ہو ، تاکہ مریض صحت یاب ہو جائے ۔ اگر ڈاکٹر کو فارمولا نام لکھنے کا پابند کر دیا جائے تو پھر دوائی کسی اچھی ملٹائ نیشنل کمپنی کی دینی ہے یا لوکل کمپنی کی دینی ہے اس کا ٹوٹل اختیار میڈیکل اسٹور والے کے پاس ہوگا۔اور یہ بات تو طے ہے کہ لوکل کمپنیوں کی غیر تسلی بخش دوائیوں پر کمپنیز بھی دگنا تگنا پرافٹ کماتی ہیں ، اور میڈیکل سٹور والوں کو بہت بڑے بڑے کمیشنز کا فائدہ ہوتا ہے ، پھر میڈیکل سٹور والا کم پیسوں میں وہ سستی دوائی خرید کر مہنگے دام کیوں نہ بیچے گا؟کتنے فیصد لوگ ایسے ہیں ، جو فارمولا نام دیکھ کر خود یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ ہمیں کون سی دوائی لینی چاہیے ؟اب اتے ہیں دوسرے پہلو کی طرف …کمنٹ میں جو صاحب یہ طنز فرما رہے ہیں کہ ڈاکٹرز کو کمیشن لینے کی کھلی چھوٹ ہونی چاہیے۔کیا وہ میڈیکل اسٹور اور فارمیسی والوں کو کمیشن کی کھلی چھٹی دینے کے حق میں ہیں ؟ کیا باقی سارے ہی شعبے ، چاہے وہ تدریس سے ہوں طب سے ہوں ،

قانون سازی سے ہوں ، مینجمنٹ یا ڈیولپمنٹ سے ہوں ، فوڈ سیفٹی ، پولیس ، افسر شاہی یا صحافت سے ہوں ، اپنا کام 100 فیصد ایمانداری کے ساتھ بغیر کسی کرپشن اور کمیشن کے کر رہے ہیں ؟انسانی معاشرے تو تمام شعبوں کے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون سے ہی چلتے ہیں ،دوائیاں بنانے والی کمپنیاں ، انہیں اپروو اور ریگولیٹ کر کے مارکیٹ میں بزنس کی اجازت دینے والے ادارے ، اور مارکیٹ میں دوائیوں کا بزنس کرنے والے میڈیکل سٹورز اور فارمیسز ، یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ لنکڈ ہیں ، یہ نہیں ہو سکتا کہ باقی تمام شعبوں کی کوتاہیوں کو یکسر نظر انداز کر کے ایک جملہ کہہ دیا جائے کہ ڈاکٹر کا تعلق ڈائریکٹ انسانی جان سے ہوتا ہے اس لیے اس پر ذمہ داری زیادہ ہے۔پہلی ذمہ داری ان پر ہے جنہوں نے ناقص میڈیسن بنائی ، پھر اس میڈیسن کی اپروول دی ، پھر اسے مارکیٹ میں لانچ کیا ، میڈیکل سٹور والوں کو بڑے پرافٹ دیکر سیل کی ، ڈاکٹرز کا نمبر تو ان سب کے بعد آتا ہے کہ جب وہ اس دوا کو لکھے گا۔صرف ڈاکٹر کو مورد الزام ٹھہرا کے اپ اوپر والی ساری چین کی ذمہ داری سے تہی دامن نہیں ہو سکتے ۔یاد رکھیں کہ ڈاکٹر بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے ،

جیسے باقی سارے ادارے اور شعبے اخلاقی اور فنانشل کرپشن میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں ، ڈاکٹرز تو اس کے مقابلے میں سمندر میں کچھ گھونٹ بھی نہیں ہیں ۔خدارا اپنی سوچ کو مثبت رکھیں ،خدارا ڈاکٹرز کے خلاف اپنی نفرت اور بغض کو اتنا نہ بڑھائیں ۔ابھی تو ہم مذاق میں یہ جملہ کہتے ہیں کہ بہاولپور میں درجنوں ڈاکٹر صرف یہ کہنے کی تنخواہ لے رہے ہیں کہ” اینے نہیں بچنا اینوں لاہور لے جاؤ “خدانہ کرے اگر لاہور کے ڈاکٹروں نے بھی سیریس مریضوں کو ریسیو کرنا چھوڑ دیا تو پھر کیا ہوگا ؟ لاہور سے آگے کہاں؟ڈاکٹر فرح رحمان 6 مئ 2026

ایران نے رپورٹ ہونے کے مقابلے میں کہیں زیادہ امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے، سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے۔ایرانی فضائی حملوں نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر کم از کم 228 ڈھانچوں یا سامان کے ٹکڑوں کو نقصان پہنچایا یا تباہ کر دیا ہےواٹنگٹن پوسٹ کی سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کے مطابق، یہ حملے ہینگرز، بیرکس، فیول ڈیپو، طیاروں اور کلیدی ریڈار، مواصلاتی اور فضائی دفاعی سامان کو نشانہ بناتے رہے۔ تباہی کی مقدار امریکی حکومت کی طرف سے عوامی طور پر تسلیم کیے گئے یا پہلے رپورٹ ہونے والے سے کہیں زیادہ ہے۔علاقے میں امریکی اڈوں پر فضائی حملوں کے خطرے نے انہیں نارمل سطح پر عملے سے بھرنا خطرناک بنا دیا تھا، اور جنگ کے آغاز میں کمانڈروں نے ان مقامات سے زیادہ تر عملے کو ایرانی فائر کے دائرے سے باہر منتقل کر دیا تھا، حکام نے بتایا۔جنگ کے آغاز 28 فروری سے اب تک، علاقے میں امریکی سہولیات پر حملوں میں سات فوجی ہلاک ہوئے — جن میں سے چھ کویت میں اور ایک سعودی عرب میں — اور اپریل کے آخر تک 400 سے زائد فوجی زخمی ہوئے، امریکی فوج نے بتایا۔ زخمیوں میں سے زیادہ تر چند دنوں میں ڈیوٹی پر واپس آ گئے،

لیکن کم از کم 12 کو وہ زخم لگے جنہیں فوجی حکام نے سنگین قرار دیا، امریکی حکام نے بتایا جو دیگر کے علاوہ اس معاملے کی حساسیت کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کر رہے تھے۔مشکل سے حاصل ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر فی الحال مشرق وسطیٰ کی سیٹلائٹ تصاویر حاصل کرنا غیر معمولی طور پر مشکل ہے۔ دو بڑے کمرشل فراہم کنندگان، وینٹر اور پلانٹ، نے امریکی حکومت — اپنے سب سے بڑے کسٹمر — کی درخواست پر عمل کرتے ہوئے علاقے کی تصاویر کی اشاعت کو محدود، تاخیر یا لامحدود طور پر روک دیا ہے جب تک جنگ جاری ہے، جس سے ایرانی جوابی حملوں کا جائزہ لینا مشکل یا ناممکن ہو گیا ہے۔ یہ پابندیاں جنگ شروع ہونے کے دو ہفتوں سے بھی کم عرصے بعد لگائی گئیں۔تاہم، ایرانی سرکاری میڈیا سے منسلک نیوز ایجنسیوں نے شروع سے ہی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اعلیٰ ریزولوشن سیٹلائٹ تصاویر باقاعدگی سے شائع کیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ امریکی مقامات کو پہنچنے والے نقصان کی دستاویز ہیں۔اس جائزے کے لیے — جو علاقے میں امریکی سہولیات کو پہنچنے والے نقصان کا پہلا جامع عوامی اکاؤنٹ ہے — واٹنگٹن پوسٹ نے ایرانی جاری کردہ 100 سے زائد اعلیٰ ریزولوشن سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لیا۔ پوسٹ نے ان میں سے 109 تصاویر کی تصدیق یورپی یونین کے سیٹلائٹ سسٹم، کوپرنیکس کی کم ریزولوشن تصاویر اور جہاں دستیاب ہو، پلانٹ کی اعلیٰ ریزولوشن تصاویر سے موازنہ کر کے کی۔ پوسٹ نے نقصان کے تجزیے سے 19 ایرانی تصاویر کو خارج کر دیا کیونکہ کوپرنیکس تصاویر سے موازنہ غیر حتمی تھا۔ کوئی ایرانی تصویر جعلی یا مینیپولیٹڈ نہیں پائی گئی۔کویت میں علی ال سالم ایئر بیس پر نو فیول بلیڈرز کو نقصان پہنچا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے اینوٹیٹ تصاویر جاری کیں، اور پوسٹ نے پلانٹ کی تصاویر سے نقصان کی تصدیق کی۔پلانٹ تصاویر کی الگ تلاش میں، پوسٹ کے رپورٹرز نے 10 ایسے ڈھانچے دریافت کیے جو نقصان زدہ یا تباہ شدہ تھے اور جن کا ذکر ایرانی جاری کردہ تصاویر میں نہیں تھا۔ کل ملا کر، پوسٹ نے علاقے کے 15 امریکی فوجی مقامات پر 217 ڈھانچوں اور 11 سامان کے ٹکڑوں کو نقصان زدہ یا تباہ شدہ پایا۔

واٹنگٹن پوسٹ کے تجزیے کا جائزہ لینے والے ماہرین نے کہا کہ مقامات پر پہنچنے والا نقصان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکی فوج نے ایرانی نشانہ بندی کی صلاحیت کو کم سمجھا، جدید ڈرون جنگی حکمت عملی کے مطابق خود کو کافی نہیں بدلا، اور کچھ اڈوں کو ناکافی تحفظ دیا۔سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے سینئر ایڈوائزر اور ریٹائرڈ میرین کور کرنل مارک کینشین نے، جنہوں نے پوسٹ کی درخواست پر ایرانی تصاویر کا جائزہ لیا، کہا: “ایرانی حملے درست تھے۔ کوئی بے ترتیب گڑھے نہیں جو نشانہ چوک جانے کی نشاندہی کرتے ہوں۔” پوسٹ نے پہلے انکشاف کیا تھا کہ روس نے ایران کو امریکی فورسز کو نشانہ بنانے کے لیے انٹیلی جنس فراہم کی تھی۔کچھ نقصان امریکی فوجیوں کے اڈوں سے نکل جانے کے بعد بھی ہوا ہو گا، جس سے ڈھانچوں کی حفاظت کم اہم رہ گئی۔ کینشین اور دیگر ماہرین نے کہا کہ ان کا خیال نہیں کہ ان حملوں نے ایران میں امریکی بمباری مہم کو نمایاں طور پر محدود کیا ہے۔مشرق وسطیٰ کی ذمہ داری سنبھالنے والے یو ایس سینٹرل کمانڈ نے پوسٹ کے نتائج کے تفصیلی خلاصے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

ایک فوجی ترجمان نے ماہرین کی طرف سے اڈوں کے نقصان کو وسیع یا ناکامی کی دلیل قرار دینے سے اختلاف کیا اور کہا کہ تباہی کا جائزہ پیچیدہ ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں گمراہ کن ہو سکتا ہے، لیکن تفصیلات دینے سے انکار کر دیا۔ ترجمان نے کہا کہ فوجی قائدین جنگ کے خاتمے کے بعد ایرانی حملوں کا مکمل سیاق فراہم کر سکیں گے۔نقصان کی تفصیل جنگ کے پہلے ہفتوں میں کئی نیوز آؤٹ لیٹس نے نقصان کا جائزہ شائع کیا، جن میں نیویارک ٹائمز شامل ہے جس نے 14 امریکی فوجی مقامات یا فضائی دفاعی تنصیبات پر حملے پائے۔ اپریل کے آخر میں این بی سی نیوز نے رپورٹ کیا کہ ایک ایرانی جیٹ نے کویت میں امریکی اڈے پر بمباری کی، جو کئی سالوں میں پہلا موقع تھا جب دشمن کا لڑاکا طیارہ امریکی اڈے پر حملہ کرتا ہے، اور اس نے تحقیق کا حوالہ دیا جس کے مطابق ایران نے 11 اڈوں پر 100 اہداف کو نشانہ بنایا۔ سی این این نے پچھلے ہفتے رپورٹ کیا کہ 16 امریکی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔لیکن پوسٹ کا جائزہ — جو جنگ کے آغاز سے 14 اپریل تک کی تصاویر پر مبنی ہے — بتاتا ہے کہ ان مقامات پر درجنوں اضافی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جو بنیادی طور پر امریکی فوج استعمال کرتی ہے لیکن میزبان ممالک کی فوج اور اتحادیوں کے ساتھ مشترکہ ہیں۔تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ فضائی حملوں نے پوسٹ کے جائزے والے امریکی اڈوں کے نصف سے زائد پر متعدد بیرکس، ہینگرز یا گوداموں کو نقصان پہنچایا یا تباہ کر دیا۔ نیول سپورٹ ایکٹیویٹی بحرین، عیسیٰ ایئر بیس، رفاعہ ایئر بیس، اربیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ، حریر ایئر بیس، علی ال سالم ایئر بیس، کیمپ عریفجان، کیمپ بوہرنگ، شعبیہ پورٹ، ال عدید ایئر بیس، پرنس سلطان ایئر بیس، ال ظفرہ ایئر بیس۔ — ایرانی سرکاری میڈیا)”ایرانیوں نے متعدد مقامات پر رہائشی عمارتوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا تاکہ بڑی تعداد میں جانی نقصان پہنچایا جا سکے،” اوپن ایکسیس ریسرچ پروجیکٹ کانٹیسٹڈ گراؤنڈ کے انویسٹی گیٹر ولیم گڈ ہنڈ نے کہا، جنہوں نے تصاویر کا جائزہ لیا۔

“نہ صرف سامان، فیول سٹوریج اور ایئر بیس انفراسٹرکچر بلکہ نرم اہداف جیسے جم، فوڈ ہالز اور رہائش بھی نشانے پر ہیں۔”پوسٹ نے یہ بھی پایا کہ حملوں میں قطر کے ال عدید ایئر بیس پر سیٹلائٹ مواصلاتی مقام، بحرین کے رفاعہ اور عیسیٰ ایئر بیس اور کویت کے علی ال سالم ایئر بیس پر پیٹریاٹ میزائل دفاعی سامان، بحرین کی نیول سپورٹ ایکٹیویٹی (جو یو ایس ففتھ فلیٹ کا ہیڈ کوارٹر ہے) پر سیٹلائٹ ڈش، کویت کے کیمپ بوہرنگ پر پاور پلانٹ، اور تین اڈوں پر پانچ فیول سٹوریج بلیڈر سائٹس شامل تھیں۔ایرانی تصاویر نے کویت کے کیمپ عریفجان اور علی ال سالم ایئر بیس اور ففتھ فلیٹ ہیڈ کوارٹرز پر ریڈومز کو پہلے رپورٹ ہونے والا نقصان یا تباہی بھی دستاویز کیا، اردن کے موافق سلطی ایئر بیس اور متحدہ عرب امارات کے دو مقامات پر ٹرمینل ہائی الٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس (THAAD) میزائل دفاعی ریڈارز اور سامان، ال عدید پر دوسرا سیٹلائٹ مواصلاتی مقام، اور سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر ای-3 سینٹری کمانڈ اینڈ کنٹرول طیارہ اور ریفولنگ ٹینکر بھی شامل ہیں۔پوسٹ کے جائزے والے نقصان کا نصف سے زائد ففتھ فلیٹ ہیڈ کوارٹرز اور کویت کے تین اڈوں — علی ال سالم ایئر بیس، کیمپ عریفجان اور کیمپ بوہرنگ — پر ہوا۔

کیمپ عریفجان امریکی آرمی کا علاقائی ہیڈ کوارٹر ہے۔کویت کے کیمپ عریفجان کو 4 مارچ کو پہنچنے والا نقصان (پلانٹ)کچھ خلیجی ممالک نے امریکی فوج کو اپنے اڈوں سے جارحانہ آپریشنز کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ ایک امریکی حکام نے بتایا کہ بحرین اور کویت کے اڈے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، شاید اس لیے کہ انہوں نے اپنی سرزمین سے حملوں کی اجازت دی، جن میں ہائی موبلیٹی آرٹلری راکٹ سسٹم (HIMARS) شامل تھے جو 310 میل سے زیادہ رینج پر میزائل فائر کر سکتے ہیں۔پوسٹ کا جائزہ دستیاب سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر نقصان کا صرف جزوی شمار ہے۔کینشین نے کہا کہ کچھ نقصان امریکی انتخاب یا دھوکے کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔ قیمتی انٹر سیپٹرز بچانے کے لیے امریکی فورسز غیر اہم اہداف پر آنے والے میزائل کو لگنے دے سکتی ہیں، اور ممکن ہے کہ کمانڈروں نے خالی اڈوں کو مصروف دکھا کر ایرانی فورسز کو دھوکہ دیا ہو۔بدلتا ہوا میدان جنگ ماہرین نے کہا کہ فوجی مقامات کی ایرانی حملوں کے سامنے کمزوری متعدد عوامل کا نتیجہ تھی

۔سب سے اہم بات، ماہرین نے کہا، یہ ہے کہ ایرانی فورسز ٹرمپ انتظامیہ کے اندازے سے زیادہ لچکدار ثابت ہوئیں۔ سٹمسن سینٹر کی سینئر فیلو کیلی گریکو نے کہا کہ ایرانی میزائل اور ڈرون فورسز کو اتنی تیزی سے تباہ کرنے کے منصوبے جن سے وہ امریکی انفراسٹرکچر کو سنگین نقصان نہ پہنچا سکیں، “امریکی مقررہ انفراسٹرکچر پر ایرانی پری پوزیشنڈ ٹارگٹنگ انٹیلی جنس کی گہرائی” کو کم سمجھتے تھے۔گریکو نے کہا کہ حکمت عملی نے جون میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان 12 روزہ تنازع کے دوران امریکی اور اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کے استعمال شدہ ہونے کی حد کو بھی مدنظر نہیں رکھا۔سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے اندازے کے مطابق، فوج نے 28 فروری سے 8 اپریل تک کم از کم 190 تھاڈ انٹر سیپٹرز اور 1,060 پیٹریاٹ انٹر سیپٹرز استعمال کیے، جو ان کے جنگ سے پہلے کے ذخیرے کا بالترتیب 53 فیصد اور 43 فیصد ہے۔لندن میں رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے سینئر ریسرچ فیلو جسٹن برونک نے کہا کہ امریکی اور اتحادی فضائی دفاعی نظام نے حملوں کو روکنے میں متاثر کن کام کیا، لیکن “سطح سے ہوا میں میزائل انٹر سیپٹرز اور ہوا سے ہوا میں میزائلوں کے لحاظ سے بہت بڑی قیمت پر”۔اس کے علاوہ، ماہرین نے کہا کہ امریکی فوج نے ایک طرفہ حملہ آور ڈرونز کے استعمال کے مطابق خود کو کافی نہیں بدلا، جو ان کے خیال میں یوکرین جنگ سے سیکھنا چاہیے تھا۔

سینٹر فار نیول اینالیسز کے ایسوسی ایٹ ریسرچ اینالسٹ ڈیکر ایولیتھ نے کہا: “اگرچہ ڈرونز کے پے لوڈ چھوٹے ہوتے ہیں — ان میں سے کچھ نے زیادہ نقصان نہیں کیا — لیکن انہیں روکنا زیادہ مشکل ہے اور وہ بہت زیادہ درست ہوتے ہیں، جو انہیں امریکی فورسز کے لیے بڑا خطرہ بناتا ہے۔”انہوں نے ساختہ چیلنجز کی طرف بھی اشارہ کیا، جن میں کلیدی مقامات اور ممکنہ اہداف پر فوجیوں اور سامان کی حفاظت کرنے والے مضبوط پناہ گاہوں کی کمی شامل ہے۔مثال کے طور پر، کویت میں ٹیکنیکل آپریشن سینٹر، جہاں مارچ کے آغاز میں ایرانی ڈرون حملے میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے، میں اوور ہیڈ پروٹیکشن یا چھپنے کی جگہ بہت کم تھی، جو ڈیموکریٹک قانون سازوں کی طرف سے ہلاکتوں کی تفتیش میں زیر غور متعدد مسائل میں سے ایک ہے۔شعبہ پورٹ، کویت، 2021۔ مارچ میں ایرانی ڈرون حملے میں نشانہ بننے والی عمارت کی چھت پتلی دھات کی بنی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ (یو ایس آرمی فوٹوز بذریعہ سٹاف سارجنٹ ڈیوڈ سائمن)ایک کیس میں، سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر ای-3 سینٹری کمانڈ اینڈ کنٹرول طیارہ اس وقت تباہ ہوا جب اسے بار بار ایک ہی غیر محفوظ ٹیکس وی پر پارک کیا گیا تھا۔یو ایس سینٹرل کمانڈ نے نقصان کے ماہرین کے تجزیے پر سوالات کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔علاقے میں امریکی اڈوں پر حملوں نے فوجی منصوبہ سازوں کو نئے ٹریڈ آف پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے، سٹمسن سینٹر کے نان ریزیڈنٹ فیلو اور ریٹائرڈ ایئر فورس آفیسر میکسیمیلین بریمر نے کہا: فوجیوں کو محفوظ مقامات پر واپس کھینچیں اور ان کی لڑنے کی صلاحیت محدود کریں، یا اڈوں کو ویسے ہی رکھیں اور مستقبل میں ممکنہ جانی نقصان قبول کریں۔ایک امریکی حکام نے بتایا کہ نیول سپورٹ ایکٹیویٹی پر نقصان “وسیع” ہے اور وہاں ہیڈ کوارٹرز کو فلوریڈا کے ٹمپا میں میک ڈیل ایئر فورس بیس — جو یو ایس سینٹرل کمانڈ کا گھر ہے — منتقل کر دیا گیا۔ حکام نے کہا کہ فوجی، کنٹریکٹرز یا سول ملازمین “جلد ہی” اس اڈے پر واپس نہیں آئیں گے۔دو دیگر حکام نے بتایا کہ امریکی فورسز ممکنہ طور پر علاقائی اڈوں پر بڑی تعداد میں کبھی واپس نہ آئیں، اگرچہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔بریمر نے کہا: “ہم سٹیلتھ کے دور سے نکل کر ایک ایسے دور میں آ گئے ہیں جہاں پورا میدان جنگ شفاف اور بڑھتا ہوا شفاف ہے۔ لگتا ہے کہ ہمیں آفنس پر ہونا چاہیے، لیکن ہم یقینی طور پر ان اڈوں کے گرد ڈیفنس کھیل رہے ہیں۔طریقہ کار اس کہانی کی رپورٹنگ کے لیے، واٹنگٹن پوسٹ کے رپورٹرز نے ایرانی سرکاری میڈیا سے منسلک نیوز میڈیا کی طرف سے شائع کردہ 128 سیٹلائٹ تصاویر کو جغرافیائی طور پر لوکیٹ کیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ ایرانی حملوں سے ہونے والے نقصان کو ظاہر کرتی ہیں، تاکہ تصدیق ہو سکے کہ وہ کیپشنز میں دعویٰ کردہ مقامات کی عکاسی کرتی ہیں۔ پھر ہم نے نقصان کی تصدیق سینٹینل-2 سیٹلائٹ (یو ایس ای یو سسٹم کوپرنیکس کا حصہ) کی درمیانی ریزولوشن تصاویر سے مختلف اسپیکٹرل بینڈز کا جائزہ لے کر کی، تاکہ نقصان کو جتنا ممکن ہو واضح طور پر دیکھا جا سکے، اور پلانٹ کی اعلیٰ ریزولوشن آپٹیکل تصاویر سے۔ امریکی حکومت کی درخواست پر پلانٹ نے 8 مارچ کے بعد کی تصاویر کو آن لائن پلیٹ فارم سے روکنے کی پالیسی اپنا لی، یعنی اس تاریخ کے بعد اعلیٰ ریزولوشن تصاویر موازنہ کے لیے عام طور پر دستیاب نہیں تھیں۔جہاں اعلیٰ ریزولوشن تصاویر دستیاب نہ تھیں، ہم نے صرف ایک ڈھانچے پر حملہ شمار کیا، چاہے ایرانی تصویر میں متعدد ڈھانچوں پر حملہ دکھائی دیتا ہو۔ تجزیے میں غیر فوجی اہداف جیسے آئل ریفائنریز اور امریکی فورسز کے زیر انتظام نہ ہونے والی فوجی تنصیبات جیسے اتحادیوں کے ریڈار انسٹالیشنز پر مبینہ ایرانی حملوں کو خارج کر دیا گیا۔بشکریہ دی واشنڳتن پوسٹ

*پاک فضائیہ کی کامیابیوں نے پاکستانی قوم کے اعتماد، حوصلے اور جذبۂ حب الوطنی کو مزید مضبوط کیا،آئی ایس پی آر**🛑 پاکستانی مسلح افواج کی ہر تیاری، ہر کوشش اور ہر صلاحیت کا محور خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کا فروغ ہے، آئی ایس پی آر**پاکستانی مسلح افواج کی ہر تیاری، ہر کوشش اور ہر صلاحیت کا محور خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کا فروغ ہے،آئی ایس پی آر*