01 اگست 2026عوامی جمہوریہ چین کی پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کے 99 ویں یومِ تاسیس کی تقریب جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو)، راولپنڈی میں منعقد ہوئی۔پاکستان میں عوامى جمہوریہ چین کے سفیر، مسٹر جیانگ زائی ڈونگ نے تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ چین کے ڈیفنس اٹیچی میجر جنرل وانگ ژونگ، چینی سفارت خانے کے حکام اور پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے سینئر عسکری حکام نے بھی تقریب میں شرکت کی۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرات، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے معزز مہمانوں کا پرجوش خیرمقدم کیا
اور پی ایل اے کو اس کے 99 ویں یومِ تاسیس کے موقع پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے چین کے دفاع، قومی ترقی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے پی ایل اے کی شاندار خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔پاکستان اور چین کے دائمی اورمستحکم تعلقات کی پر روشنی ڈالتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی انفرادیت، وقت کی آزمائش پر پورا اترنے والی اور بدلتے ہوئے
علاقائی و عالمی چیلنجز کے سامنے ثابت قدمی کی حامل ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مسلح افواج اور پی ایل اے حقیقی شراکت دار ہیں، جو باہمی اعتماد اور حمایت، علاقائی امن و استحکام اور مشترکہ سٹریٹیجک مفادات کے تحفظ کے لئے پُرعزم ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے اس یادگاری تقریب کی میزبانی پر فیلڈ مارشل کا دلی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان مسلح افواج کی گراں قدر خدمات اور قربانیوں کا اعتراف کیا اور پاکستان کے لیے چین کی غیر متزلزل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان تسلسل سے جاری اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید مضبوط بنانے کے پختہ عزم کااعادہ کیا۔
*پی پی اور ہمارے درمیان دراڑیں موجود ہیں تاہم ابھی موجودہ سیٹ اپ کے جانے کی کوئی نشانیاں نہیں: خواجہ آصف*اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی اور ہمارے درمیان دراڑیں موجود ہیں تاہم ابھی موجودہ سیٹ اپ کے جانے کی کوئی نشانیاں نہیں۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے جوکہا اس کی مکمل توثیق کرتا ہوں تاہم وزیرداخلہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیانات میں فرق ہے، وزیرداخلہ کے بیان کا ایک سیاسی پہلوبھی ہے، محسن نقوی تین ساڑھے تین سال سے اس سسٹم سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہائبرڈ نظام کی کامیابی میں ہی ہماری نجات ہے، مختلف ادوارمیں حکومتوں میں رہا ہوں میں مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں، انہوں نے کہا کہ کیا نوازشریف نے ماضی کی حکومتوں میں ڈلیور نہیں کیا؟ خواجہ آصف نے کہاکہ میں اداروں کو نہیں اشخاص کو الزام ضرور دوں گا وہ چاہے سیاسی ہو یا اس وقت کی اسٹبلشمنٹ کے ہوں۔
د. لبنى غتجزیاتی خصوصی رپورٹ | یمن کا سعودی عرب پر سخت سفارتی حملہ، بحیرۂ احمر میں بڑھتی کشیدگی نئے علاقائی بحران کا پیش خیمہ؟صنعاء: یمن کی وزارتِ خارجہ نے سعودی عرب کے خلاف غیر معمولی سخت بیان جاری کرتے ہوئے ریاض پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے علاقائی اتحادیوں کے ذریعے یمن پر عائد محاصرے اور فوجی دباؤ کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وزارت کے مطابق سعودی عرب نئے اتحاد تشکیل دے کر اپنی پالیسیوں کو تحفظ دینا چاہتا ہے، تاہم یمنی عوام اپنے “جائز حقوق” اور ملک سے محاصرے کے خاتمے تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یمن کی جدوجہد کسی ملک پر حملہ یا توسیع پسندانہ عزائم کے لیے نہیں بلکہ قومی خودمختاری، عوامی حقوق اور معاشی محاصرے کے خاتمے کے لیے ہے۔ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ یمن کے مطالبات کو انصاف اور بین الاقوامی اصولوں کی روشنی میں دیکھے۔سعودی عرب کو سخت تنقید کا نشانہبیان میں دعویٰ کیا گیا کہ سعودی حکومت ایک “تاریخی بحران” سے گزر رہی ہے اور وہ اپنی پالیسیوں کو برقرار رکھنے کے لیے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔ یمنی وزارتِ خارجہ نے دیگر ممالک کو خبردار کیا کہ وہ کسی ایسے اتحاد یا فوجی کارروائی کا حصہ نہ بنیں جسے صنعاء “غیر منصفانہ اور ناکام جنگ” قرار دیتا ہے۔وزارت کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ملک اس تنازع میں شامل ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف کشیدگی میں اضافہ ہوگا بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔بحیرۂ احمر اور باب المندب پر اہم مؤقفیمنی وزارتِ خارجہ نے بحیرۂ احمر اور باب المندب میں غیر ملکی فوجی موجودگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ:- کسی بھی نئے فوجی اتحاد یا عسکری تعیناتی سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی۔-
موجودہ حالات میں باب المندب اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی محفوظ ہے۔- سمندری راستوں پر اضافی پابندیوں، ٹیکسوں یا فیسوں سے متعلق گردش کرنے والی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔- یمن کے مطابق خطے میں عسکری سرگرمیوں میں اضافہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔دوٹوک سیاسی پیغامبیان کے اختتام پر یمنی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اگر پوری دنیا بھی یمنی عوام کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھنے کے لیے متحد ہو جائے تو بھی وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوگی۔ وزارت نے واضح کیا کہ یمن اپنی جدوجہد اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک محاصرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتا اور تمام حقوق بحال نہیں ہو جاتے۔علاقائی اور عالمی اثراتبحیرۂ احمر اور باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے عالمی تجارت اور توانائی کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ یورپ، ایشیا اور افریقہ کی معیشتوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا یا کسی نئے فوجی اتحاد کی تشکیل عمل میں آئی تو خطے میں سلامتی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی تجارتی راستوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔تجزیہیمنی وزارتِ خارجہ کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خطے میں سفارتی محاذ پر سخت بیانیہ مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔ تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ بیان میں پیش کیے گئے الزامات اور دعوے یمنی وزارتِ خارجہ کے سرکاری مؤقف کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان معاملات پر سعودی عرب، دیگر متعلقہ ممالک اور آزاد بین الاقوامی ذرائع کے مؤقف مختلف ہو سکتے ہیں، اس لیے موجودہ صورتحال کا جامع جائزہ تمام دستیاب معلومات اور آزادانہ تصدیق کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔
د. لبنى غتجزیاتی خصوصی رپورٹ | یمن کا سعودی عرب پر سخت سفارتی حملہ، بحیرۂ احمر میں بڑھتی کشیدگی نئے علاقائی بحران کا پیش خیمہ؟صنعاء: یمن کی وزارتِ خارجہ نے سعودی عرب کے خلاف غیر معمولی سخت بیان جاری کرتے ہوئے ریاض پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے علاقائی اتحادیوں کے ذریعے یمن پر عائد محاصرے اور فوجی دباؤ کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وزارت کے مطابق سعودی عرب نئے اتحاد تشکیل دے کر اپنی پالیسیوں کو تحفظ دینا چاہتا ہے، تاہم یمنی عوام اپنے “جائز حقوق” اور ملک سے محاصرے کے خاتمے تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یمن کی جدوجہد کسی ملک پر حملہ یا توسیع پسندانہ عزائم کے لیے نہیں بلکہ قومی خودمختاری، عوامی حقوق اور معاشی محاصرے کے خاتمے کے لیے ہے۔ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ یمن کے مطالبات کو انصاف اور بین الاقوامی اصولوں کی روشنی میں دیکھے۔سعودی عرب کو سخت تنقید کا نشانہبیان میں دعویٰ کیا گیا کہ سعودی حکومت ایک “تاریخی بحران” سے گزر رہی ہے اور وہ اپنی پالیسیوں کو برقرار رکھنے کے لیے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔ یمنی وزارتِ خارجہ نے دیگر ممالک کو خبردار کیا کہ وہ کسی ایسے اتحاد یا فوجی کارروائی کا حصہ نہ بنیں جسے صنعاء “غیر منصفانہ اور ناکام جنگ” قرار دیتا ہے۔وزارت کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ملک اس تنازع میں شامل ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف کشیدگی میں اضافہ ہوگا بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔بحیرۂ احمر اور باب المندب پر اہم مؤقفیمنی وزارتِ خارجہ نے بحیرۂ احمر اور باب المندب میں غیر ملکی فوجی موجودگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ:- کسی بھی نئے فوجی اتحاد یا عسکری تعیناتی سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی۔- موجودہ حالات میں باب المندب اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی محفوظ ہے۔
سمندری راستوں پر اضافی پابندیوں، ٹیکسوں یا فیسوں
سے متعلق گردش کرنے والی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔- یمن ک مطابق خطے میں عسکری سرگرمیوں میں اضافہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔دوٹوک سیاسی پیغامبیان کے اختتام پر یمنی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اگر پوری دنیا بھی یمنی عوام کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھنے کے لیے متحد ہو جائے تو بھی وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوگی۔ وزارت نے واضح کیا کہ یمن اپنی جدوجہد اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک محاصرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتا اور تمام حقوق بحال نہیں ہو جاتے۔علاقائی اور عالمی اثراتبحیرۂ احمر اور باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے عالمی تجارت اور توانائی کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ یورپ، ایشیا اور افریقہ کی معیشتوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا یا کسی نئے فوجی اتحاد کی تشکیل عمل میں آئی تو خطے میں سلامتی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی تجارتی راستوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔تجزیہیمنی وزارتِ خارجہ کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خطے میں سفارتی محاذ پر سخت بیانیہ مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔ تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ بیان میں پیش کیے گئے الزامات اور دعوے یمنی وزارتِ خارجہ کے سرکاری مؤقف کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان معاملات پر سعودی عرب، دیگر متعلقہ ممالک اور آزاد بین الاقوامی ذرائع کے مؤقف مختلف ہو سکتے ہیں، اس لیے موجودہ صورتحال کا جامع جائزہ تمام دستیاب معلومات اور آزادانہ تصدیق کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔
*♦️ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی ملکی نظام میں تبدیلی کی حمایت کردی**اگر گڈ گورننس کے لیے کسی ایڈمنسٹریٹو ری سیٹ کی ضرورت ہے تو اسے ہونا چاہیے۔ اگر گڈ گورننس کے لیے کسی تبدیلی کی ضرورت ہے تو وہ تبدیلی ہونی چاہیے، لیکن اسے قانون کے مطابق اور لوگوں کی خواہش کے مطابق ہونا چاہیے ! ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس*
حکومت نے ہر پندرہ روز بعد عوام سے گالیاں کھانے کا پرانا نظام ختم کرکے اب روزانہ کی بنیاد پر گالیاں کھانے کا مستقل بندوبست کر لیا ہے مسلم لیگ ن پوری جانفشانی سے اس مشن پر گامزن ہے کہ نواز شریف کی جماعت کے پلے نہ ووٹ چھوڑا جائے، نہ ساکھ اور نہ عوام میں جانے کی ہمت، اگلے انتخابات میں منظر دلچسپ ہوگا، ن لیگ آگے آگے ہوگی اور مہنگائی سے تنگ عوام حساب کی پرچیاں کھاتے لیے پیچھے پیچھے