میں پاکستانی نھی برطانوی کھلاڑی ھوں۔۔6 آئی پی پیز کے معاہدوں کی معطلی سے خزانے کو 43 کھرب کی بچت۔پاکستان کا قرضہ 8 سال میں ختم ہو جائے گا۔۔موجودہ حالات کی 50 ھزار ارب روپے کی کرپشن سے پاکستان دنیا کا امیر ترین ملک بھر گا۔شوگر مافیا کو ریلیف نہ دے کر کپاس میں خود کفیل ھونے پاکستان کی برآمدات 30 ارب ڈالر سے بڑھ کر 100 ارب ڈالر ھو گی۔۔اسلام آباد بادبان ای پی ای نیوز ایجنسی رپورٹ کے مطابق پاکستان 5 سالوں میں ای ایم ایف کو قرضہ دینے کا قابل ھو سکتا ہے تفصیلات کے مطابق۔۔15 بچوں کی شھادت مٹی پاو پروگرام شروع۔۔پولیس کی اپنے سئینر کے خلاف بغاوت خطرے کی گھنٹی بج گئی۔۔روالپندی سمیت ملک بھر میں لوڈشیڈنگ 150 روپے بجلی کا یونٹ۔۔ترکیہ میں “مکہ معاہدے” کی دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس تین اہم ایجنڈے کے ساتھ منعقد ہوگا۔۔ ۔ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ مسلمانوں کو دیوار کی اینٹوں کی طرح متحد ہونا۔۔آبنائے ہرمز میں بحران برقرار، ایران کی معاشی تنہائی مزید سخت ہوگئی۔۔سعودی عرب کا پاکستان سے زرعی اور غذائی برآمدات تین ارب ڈالر تک لے جانے کا۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز سائٹ نہ کھیلنے کی ضرورت میں وی پی این استعمال کرے۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

🚨*پاکستان نے 1200 ارب روپے کا قرض مقررہ مدت سے پہلے ادا کردیا، مجموعی حجم 5920 ارب روپے ہوگیا۔*پاکستان نے مقررہ مدت سے پہلے 1200 ارب روپے کا قرض ادا کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق قبل از وقت ادا کیے گئے قرضوں کا مجموعی حجم 5920 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

جرمنی نے ولڈکپ ھاکی جیت لیا پاکستان کا ریکارڈ برابر تفصیلات بادبان ٹی وی پر

جرمنی ہاکی ورلڈکپ کا چیمپئن بن گیا۔جرمنی نے فائنل میں اسپین کو 0-1 سے شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کی۔جرمنی نے مسلسل دوسری اور مجموعی طور پر چوتھی بار ٹائٹل اپنے نام کیا اور پاکستان کے 4 بار ٹائٹل جیتنے کا ریکارڈ برابر کر دیا۔

وفاقی حکومت کی ہدایات پر سی ڈی اے کا اسلام آباد میں فائر سیفٹی قوانین پر سخت ایکشن، پانچ عمارتیں سیل

وفاقی حکومت کی ہدایات پر سی ڈی اے کا اسلام آباد میں فائر سیفٹی قوانین پر سخت ایکشن، پانچ عمارتیں سیل**شہیدِ ملت سیکرٹریٹ، اسٹیٹ لائف بلڈنگ، ٹی ڈی اے پی بلڈنگ، بیورلی سینٹر اور کراؤن پلازہ فائر سیفٹی عدم تعمیل پر سیل*

*فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر کیپیٹل ہسپتال، پولی کلینک اور پمز پر 5،5 لاکھ روپے جرمانہ**اسلام آباد بھر میں فائر سیفٹی معائنوں کا دائرہ وسیع، فائر فائٹنگ آلات، ایمرجنسی ایگزٹس اور انخلا کے انتظامات کی جانچ جاری

**سی ڈی اے کی عمارت مالکان اور انتظامیہ کو فائر سیفٹی انتظامات فوری مکمل کرنے کی ہدایت، مسلسل عدم تعمیل پر سخت قانونی کارروائی ہوگی*

نیپال میں شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے راولپنڈی میں بجلی کا نظام درہم برہم۔روالپندی ڈی ایچ اے ون میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 8 گھنٹے رات کو 5 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ 100 فیصد ریکوری لغاری کی حرام خوری جاری۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

سعودی وزیر زراعت کی فیلڈ مارشل سے ملاقات وری ٹیم 110 رنز پر جان بوجھ کر آؤٹ پٹرول 50 پیسے اور ڈیزل 19 پیسے سستہ۔۔مھنگای مھنگای ھاے مھنگای۔۔ پاکستان میں مھنگای کا طوفان زندگی سسکیاں لینے لگی عوام 2 وقت کی روٹی سے مجبور۔ایک سال میں 20 ھزار خود کشتیاں 10 ھزار خودکشیاں بجلی کے بلوں کی وجہ سے۔۔افواج پاکستان میں اھم ترین تبادلے۔۔پاکستان میں 40 افراد 10 ھزار ارب روپے کے مالک۔ اینٹی کرپشن سرگودھا نے خوشاب میں گریڈ 16 کے آفیسر سمیت گرداور ، پٹوری اور 2 پرائیویٹ اشخاص کو گرفتار کر لیا۔۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے سعودی وزیر ماحولیات، پانی و زراعت کی ملاقاتفیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے سعودی وزیر ماحولیات، پانی و زراعت انجینئر عبدالرحمان نے ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔سعودی وزیر نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔سعودی وزیر نے زراعت اور ماحولیاتی پائیداری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی زور

پیٹرول بم اب بم نہ رہا !ویسے حکومتی نابغوں کے شیطانی دماغ کو داد دینا بنتی ہے۔ یہ واقعی میں جینیئس ہیں۔ پاکستانی عوام کی نفسیات کو اس گہرائی سے سمجھتے ہیں، کہ خود عوام کو بھی اپنا اس قدر اندازہ نہ ہوگا۔اب وہ خبر تاریخ کا حصہ بن گئی” حکومت نے عوام پہ پیٹرول بم گرا دیا”.جب سے پیٹرول کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر طے ہونے لگیں ہیں، عوام کی اس حوالے سے حساسیت قریباً ختم ہی ہوچکی۔ ورنہ جب ہفتے وار یا 15 دنوں میں نئی قیمتیں آیا کرتی تھیں، تو عوامی سطح پر ایک شور اٹھتا تھا جسے اب کامیابی سے نیوٹرلائز کرلیا گیا ہےپہلے یہ ہفتہ پندرہ دن میں عوام کو جوتا لگاتے تھے تو عوام تکلیف سے کراہتی تھی۔ اب انھوں نے روز جوتے لگانا شروع کردئیے ہیں تو عوام نے بخوبی “ایڈجسٹ” کرلیا ہے

۔ عوام کو روٹین سے محبت ہے۔ جوتے اب روٹین ہوچکے تو خوشی خوشی کھا رہے ہیں۔ وہاں بچارے جماعتی بیٹھے احتجاج کررہے تو اب انھیں بھی کوئی نہیں پوچھ رہا۔جماعتیوں پر الزام ہے کہ وہ جس مسئلے کو اٹھائیں، وہ مسئلہ کھڈے لائن لگ جاتا ہے۔ حکومتی مسلسل بے حسی کی تازہ ترین مثال پٹرولیم ڈیلروں کو دی جانے والی وہ رعایت ہے، جس کے تحت ہڑتال کی دھمکی پر ڈیلرز مارجن 8.64 روپے سے بڑھا کر 9.98 روپے فی لیٹر (تقریباً 15.5 فیصد اضافہ) کر دیا گیا۔ حیرت یہ نہیں کہ اخراجات بڑھنے پر مارجن بڑھا، بلکہ دکھ اس بات کا ہے کہ اس اضافے کے بدلے میں صارف کو کسی قسم کا کوئی تحفظ نہیں دیا گیا۔ پیٹرولیم ڈویژن نے پہلے اس اضافے کو پمپوں کی ڈیجیٹلائزیشن سے مشروط کیا تھا، لیکن لابی کے دباؤ کے آگے حکومت نے فوری گھٹنے ٹیک دیے اور شرط قربان کر کے رعایت جاری کر دی۔آج کے پاکستان میں 40 لیٹر گنجائش والی گاڑی کے ٹینک میں “فل” کا لفظ صرف پمپ کے میٹر کی ایک تقریبی ریاضی پر منحصر ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

اس پر مستزاد یہ کہ پیٹرول اور ڈیزل میں ملاوٹ نے پنجاب اور بالخصوص لاہور کے سر پر ہر سردیوں میں سموگ کی ایک مستقل قیامت برپا کر رکھی ہے۔ یہ ملاوٹ اندھیرے میں نہیں، بلکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی خاموش سرپرستی میں ہوتی ہے۔ چند سال قبل جب کچھ انجینئرز نے real-time ڈیجیٹل تصدیقی ایپ کا کم لاگت اور انقلابی حل اوگرا کو پیش کیا، تو اتھارٹی کے اعلیٰ حکام نے صاف کہہ دیا کہ منسٹری اس تکنیکی ایمانداری کی متحمل نہیں ہو سکتی۔دو ماہ قبل جب اشرافیہ کے نمائندہ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کو پریس کانفرنس کے لئے بھیجا جاتا ہے،تو وہ موٹے موٹے انگریزی کے الفاظ،جیسے ڈیجیٹلائزیشن،ڈی ریگولیشن،ریفارم روڈ میپ وغیرہ،۔۔ لڑھکاتے لڑھکاتے بڑی خوبصورتی سے قوم کو پیٹرولیم کمپنیوں کی گود میں لڑھکا دیتےہیں۔اس پریس ٹاک کے بعد حکومت واقعی کامیاب ٹہری اور پیٹرولیم کی قیمتوں کا طوق اتار پھینکنے میں کامیاب ہو گئی۔قوم کا کیا ہے،وہ ویسے بھی بے حس ہو چکی ہے،انقلاب کا خمیر تو اس میں ہے نہیں،بس اشرافیہ یونہی مزے لوٹتی رہے گی اور قوم اس کی ادائیگی کرتی رہے گی۔ابھی گندم اور خوراک وافر ہے

،انقلابِ فرانس والی ماریہ انتوئینٹ کے مشہورِ زمانہ قول “اگر روٹی نہیں ملتی تو کیک کھا لیں” کی نوبت آنے کا بھی امکان نہیں۔فلحال اس سارے ڈرامے میں عوام کو اتنا ضرور معلوم ہو گیا کہ ملک کی سب سے اہم اقتصادی شہ رگ، یعنی وزارتِ پیٹرولیم، شاید ہی کبھی کسی ٹیکنوکریٹ یا متعلقہ ماہر کے حصے میں آئی ہو۔ یہ پورٹ فولیو ہمیشہ اس سیاستدان کو بطور انعام دیا جاتا ہے جو الحاق کی بساط پر سب سے زیادہ “کام” کا ہو۔عوام کو دوسری اور غیر اہم بات یہ معلوم ہوئی کہ تیل قیمتوں میں نقصان تو روپوں میں ہوتا ہے،جب کہ فائدہ پیسوں میں ہوتا ہے۔ ادریس عباسی

**l ***سید محسن رضا نقوی کی قیادت میں اسلام آباد کو تجاوزات سے پاک ماڈل دارالحکومت بنانے کی جانب اہم پیش رفت*اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی کی متحرک اور نتیجہ خیز قیادت میں اسلام آباد میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔ مہم کا مقصد سرکاری اراضی و املاک کو غیر قانونی قبضوں سے واگزار کرانا، شہری نظم و ضبط بحال کرنا اور اسلام آباد کو صاف، سرسبز، محفوظ، خوبصورت، ماحول دوست اور سیاحت دوست ماڈل دارالحکومت بنانا ہے۔چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف کی قیادت اور ڈپٹی ڈی جی انفورسمنٹ و چیف ایگزیکٹو آفیسر ایم سی آئی ڈاکٹر انعم فاطمہ کی نگرانی میں سی ڈی اے اور ایم سی آئی کی ٹیمیں مربوط انداز میں انسدادِ تجاوزات آپریشنز انجام دے رہی ہیں۔ اس Whole of Government Approach کے تحت مختلف اداروں کے درمیان مؤثر رابطے سے کارروائی، نگرانی اور فالو اَپ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت غیر قانونی تعمیرات، تجارتی توسیعات، کھوکھوں اور سڑک کنارے اسٹالز، گرین بیلٹس، فٹ پاتھوں، سرکاری اراضی اور رہائشی املاک کے غیر قانونی تجارتی استعمال کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔سیدپور ولیج، نورپور شاہاں، اسلام آباد ایکسپریس وے اور ترنول سمیت مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے نتیجے میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات ختم، قیمتی سرکاری اراضی واگزار اور عوامی گزرگاہیں بحال ہوئی ہیں۔ بازاروں، رہائشی سیکٹرز، سروس روڈز اور گرین بیلٹس میں بھی آپریشن جاری ہے۔مہم کے دوران ہزاروں کنال سرکاری اراضی، املاک اور تجارتی اثاثے، جن کی مالیت اربوں روپے ہے، واگزار کرائے گئے ہیں۔ تجاوزات کے خاتمے سے ٹریفک کی روانی، پیدل گزرگاہوں، گرین بیلٹس، پارکس اور مجموعی شہری ماحول میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔انسدادِ تجاوزات مہم کو عوامی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ شفاف، مسلسل اور بلاامتیاز کارروائیوں کو مؤثر گورننس اور قانون کی یکساں عملداری کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ “Well Done Mohsin Naqvi” کے تاثرات عوامی سطح پر سامنے آ رہے ہیں۔“محسن اسپیڈ” تیز رفتار اور نتیجہ خیز گورننس کی علامت کے طور پر ابھر رہی ہے۔ موجودہ رفتار اور تسلسل برقرار رہا تو اسلام آباد ایک تجاوزات سے پاک، صاف، سرسبز، محفوظ، پائیدار، خوبصورت اور دنیا کے مثالی ماڈل دارالحکومت کے طور پر مزید نمایاں ہوگا۔انسدادِ تجاوزات مہم نہ صرف اسلام آباد کی خوبصورتی اور شہری نظم و ضبط کی بحالی کا ذریعہ بن رہی ہے بلکہ اچھی حکمرانی، قانون کے بلاامتیاز نفاذ، سرکاری اراضی کے تحفظ اور شہری و دیہی ترقی کے حوالے سے پورے ملک کے لیے ایک قابلِ تقلید قومی ماڈل بھی بن سکتی ہے۔*اسلام آباد — تجاوزات سے پاک، صاف، سرسبز، محفوظ اور دنیا کا ماڈل دارالحکومت۔*

پاکستان کی تاریخ کے برق رفتار وزیر داخلہ مھسن نقوی تفصیلات کے لیے بادبان ٹی وی

پریس ریلیز*چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کی متحرک قیادت میں اسلام آباد کے دیہی علاقوں، زونز IV اور V کے لیے جدید اور انقلابی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈسپوزل پلان کا آغاز*دیہی اسلام آباد کے شہریوں کو جدید ٹیکنالوجی پر مبنی جامع سالڈ ویسٹ کلیکشن اور ڈسپوزل سروسز فراہم کرنے کی جانب تاریخی اقداماسلام آباد — 27 اگست 2026:کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کی متحرک، بصیرت افروز اور عملی قیادت میں اسلام آباد کے دیہی علاقوں کو درپیش طویل عرصے سے موجود صفائی اور ٹھوس فضلہ کے انتظام کے ایک اہم مسئلے کے حل کے لیے ایک تاریخی، عملی اور شاندار اقدام اٹھاتے ہوئے زونز IV اور V میں سولڈ ویسٹ فضلے کی وصولی، منتقلی اور تلفی کے لیے جامع Integrated Operations & Resource Planning System متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔کئی برسوں سے اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں منظم صفائی اور سالڈ ویسٹ کے انتظام کے حوالے سے صورتحال انتہائی نظر انداز رہی ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے ترقی یافتہ اور مرکزی سیکٹرز کے برعکس ان علاقوں میں ٹھوس فضلے کی باقاعدہ وصولی، منتقلی اور ماحولیاتی اصولوں کے مطابق تلفی کے لیے جامع، منظم اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی مؤثر نظام موجود نہیں تھا۔زونز IV اور V کے شہریوں کو درپیش اس دیرینہ مسئلے کا ادراک کرتے ہوئے چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف نے دیہی علاقوں میں صفائی، ماحولیاتی تحفظ اور پائیداری کو اہم ترجیح قرار دیا ہے اور اسلام آباد کے دیہی علاقوں کی 65 یونین کونسلز میں سالڈ ویسٹ فضلے کی وصولی اور تلفی کے لیے ایک جامع، قابلِ عمل اور مربوط نظام وضع کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔یہ منصوبہ ایک معروف ترک ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے، جس کے ذریعے بین الاقوامی سطح کا آپریشنل تجربہ، جدید مشینری و آلات اور ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کا نظام اسلام آباد کے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کا حصہ بنے گا۔سی ڈی اے بورڈ نے جامع اور مؤثر سالڈ ویسٹ ڈسپوزل پلان کی منظوری بھی دے دی ہے، جس کے تحت اس منصوبے پر مرحلہ وار عملدرآمد کیا جائے گا اور اس کا پہلا مرحلہ زونز IV اور V میں شروع کیا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں بنی گالہ، غوری ٹاؤن اور دیگر ملحقہ دیہی علاقوں میں سالڈ ویسٹ کی باقاعدہ، منظم اور مستقل وصولی و تلفی کا نظام قائم ہوگا۔*اسلام آباد کے دیہی علاقوں کی جانب تاریخی توجہ*زونز IV اور V اسلام آباد کے وہ دیہی علاقے ہیں جو وفاقی دارالحکومت کے مشرقی، جنوبی، دیہی اور نیم شہری علاقوں کے ایک بڑے حصے پر مشتمل ہیں۔ ان علاقوں کو طویل عرصے سے محدود صفائی کے بنیادی ڈھانچے، منتشر آبادی، طویل کلیکشن روٹس، دشوار گزار راستوں اور یکساں و مربوط سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کی عدم موجودگی جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے۔سی ڈی اے کا یہ اقدام دیہی اسلام آباد میں صفائی کی خدمات کی منصوبہ بندی اور فراہمی کے طریقہ کار میں ایک بنیادی اور تاریخی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔نئے نظام کے تحت ویسٹ مینجمنٹ کا انحصار عارضی یا غیر منظم انتظامات پر نہیں ہوگا بلکہ ہر علاقے کی حقیقی آبادی، پیدا ہونے والے فضلے کی مقدار، سڑکوں کے نیٹ ورک، جغرافیائی پھیلاؤ اور آپریشنل ضروریات کے مطابق افرادی قوت، مشینری، کلیکشن پوائنٹس، گاڑیوں اور روٹس کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی جائے گی۔*زونز فور اور فائیو میں جامع سالڈ ویسٹ ڈسپوزل کوریج*زونز IV اور V کے لیے تیار کردہ Integrated Operations & Resource Plan کے تحت روزانہ تقریباً 342 ٹن ٹھوس فضلے کو منظم کرنے کا منصوبہ ہے، جس کے لیے تقریباً 1,610 اہلکاروں اور 103 مشینری یونٹس کو بروئے کار لایا جائے گا۔منصوبے میں دیہی اور نیم شہری علاقوں کی مخصوص ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کنٹینرز اور دیگر کلیکشن آلات کا وسیع نیٹ ورک بھی شامل ہے۔آپریشنل ماڈل میں اس امر کو خصوصی طور پر مدنظر رکھا گیا ہے کہ زونز IV اور V کو اسلام آباد کے گنجان آباد مرکزی علاقوں سے مختلف نوعیت کے آپریشنل طریقہ کار کی ضرورت ہے۔ طویل کلیکشن روٹس، منتشر آبادیاں اور تنگ سڑکیں ایسی صورتحال پیدا کرتی ہیں جہاں مناسب سائز کی منی ٹپرز، ہینڈ کارٹس اور دیگر موزوں آلات کا مؤثر استعمال ضروری ہے۔زون کی بنیاد پر منصوبہ بندی اور عملدرآمد اس امر کو یقینی بنائے گا کہ وسائل عمومی یا یکساں طریقہ کار کے بجائے حقیقی ضرورت کے مطابق ان علاقوں میں تعینات کیے جائیں جہاں ان کی ضرورت سب سے زیادہ ہو۔65 یونین کونسلز کو صفائی کے منظم نیٹ ورک میں شامل کیا جائے گااس تاریخی اقدام کی ایک اہم خصوصیت اسلام آباد کی 65 دیہی یونین کونسلز کو ایک منظم اور مربوط سالڈ ویسٹ مینجمنٹ نیٹ ورک میں شامل کرنا ہے۔ہر یونین کونسل اور کلیکشن بیٹ کے لیے مخصوص آپریشنل انتظامات وضع کیے جائیں گے، جن میں متعین ٹیمیں، گاڑیاں اور نگرانی کا نظام شامل ہوگا۔مقامی ضروریات کے مطابق روٹس ترتیب دیے جائیں گے، جبکہ کلیکشن کی سرگرمیوں کی نگرانی جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل رپورٹنگ کے ذریعے کی جائے گی۔اس اقدام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دیہی اسلام آباد کے شہریوں کو بھی وہی باقاعدہ، قابلِ اعتماد، بروقت اور جوابدہ صفائی کی سہولت حاصل ہو جو وفاقی دارالحکومت کے ترقی یافتہ سیکٹرز کے شہریوں کا حق ہے۔*گھر گھر سے فضلے کی وصولی اور سائنسی طریقے سے تلفی*نیا نظام گھر گھر سے فضلے کی وصولی سے شروع ہو کر اس کی منتقلی، ٹرانسفر اسٹیشنز کے آپریشنز اور حتمی تلفی تک ایک مربوط ویسٹ مینجمنٹ چین قائم کرے گا۔مجوزہ آپریشنل سلسلہ درج ذیل ہوگا:

گھر گھر سے فضلے کی وصولی → روٹ آپٹیمائزیشن کے ذریعے منتقلی → ٹرانسفر اسٹیشن/کمپیکشن → ثانوی بلک ٹرانسپورٹیشن → ماحولیاتی اصولوں کے مطابق حتمی تلفیگھریلو، تجارتی اور ادارہ جاتی فضلے کو متعین روٹس کے ذریعے جمع کیا جائے گا۔ گاڑیاں GPS سے تصدیق شدہ روٹس پر چلیں گی اور مقررہ سہولیات تک فضلہ منتقل کریں گی، جبکہ فضلے کی نقل و حرکت اور تلفی کے مکمل عمل کی نگرانی کی جائے گی تاکہ کارکردگی، شفافیت اور جوابدہی میں اضافہ ہو۔یہ مربوط اور جدید طریقہ کار غیر منظم ڈمپنگ کے خاتمے، غیر ضروری ٹرانسپورٹیشن میں کمی، کلیکشن کی کارکردگی میں بہتری اور دیہی اسلام آباد کے ماحولیاتی تحفظ کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔نئے نظام میں ٹیکنالوجی کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگیاس منصوبے کے تحت جدید ٹیکنالوجی کو صفائی کے نظام کا بنیادی حصہ بنایا جائے گا تاکہ دیہی علاقوں میں صفائی کی سرگرمیوں کو قابلِ مشاہدہ، قابلِ پیمائش اور قابلِ احتساب بنایا جا سکے۔ایک Central Command & Control Centre قائم کیا جائے گا جو پورے آپریشن کی مربوط نگرانی کرے گا۔ اس کے ذریعے گاڑیوں کی نقل و حرکت، روٹس کی تکمیل اور وسائل کی تعیناتی کی نگرانی ممکن ہوگی۔روزانہ یونین کونسل کی سطح پر کارکردگی کی ڈیجیٹل رپورٹنگ کے ذریعے مس ہونے والی کلیکشن، شہری شکایات، گاڑیوں کی خرابی اور افرادی قوت کی کمی جیسے مسائل کی بروقت نشاندہی کرکے فوری اصلاحی اقدامات کیے جا سکیں گے۔GPS اور Vehicle Tracking & Monitoring Systems (VTMS) کے ذریعے روٹس کی تصدیق اور گاڑیوں کی نگرانی کی جائے گی، جبکہ ڈیجیٹل حاضری اور فیلڈ ڈپلائمنٹ سسٹم کے ذریعے افرادی قوت کی جوابدہی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔اس نظام کا بنیادی مقصد ایک ایسے طریقہ کار کی طرف منتقلی ہے جہاں صفائی محض دعویٰ نہ ہو بلکہ اسے پیمائش، نگرانی اور تصدیق کے ذریعے ثابت کیا جا سکے۔نئے ماڈل کے تحت صفائی کی خدمات کے معیار اور کارکردگی جانچنے کے لیے قابلِ پیمائش Key Performance Indicators (KPIs) متعارف کرائے جائیں گے۔ویسٹ کلیکشن، صفائی، مکینیکل آپریشنز، ٹرانسفر اسٹیشن کی سرگرمیوں اور بلک ویسٹ/ڈرین سے متعلق خدمات کو واضح کارکردگی کے معیارات سے منسلک کیا جائے گا۔کارکردگی کے طے شدہ معیار پر پورا نہ اترنے کی صورت میں مقررہ پرفارمنس میکانزم کے تحت متعلقہ کٹوتیاں کی جائیں گی۔اس نظام کے نتیجے میں کارکردگی، جوابدہی اور نتائج پر مبنی انتظامی کلچر کو فروغ ملے گا اور اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ عوامی وسائل کو شہریوں کو فراہم کی جانے والی حقیقی خدمات کے ساتھ منسلک رکھا جائے۔زونز IV اور V کے دیہی علاقوں پر خصوصی توجہسی ڈی اے بورڈ کی منظوری کے بعد اس منصوبے پر عملدرآمد کے نتیجے میں بنی گالہ، غوری ٹاؤن اور دیگر دیہی و نیم شہری علاقوں میں منظم سالڈ ویسٹ کلیکشن سروسز کو مرحلہ وار وسعت دی جائے گی۔مرحلہ وار طریقہ کار کے ذریعے سی ڈی اے وسائل کو متحرک کرے گا، کلیکشن روٹس قائم کرے گا، مناسب مشینری تعینات کرے گا اور انفرادی یونین کونسلز کو وسیع تر آپریشنل نظام میں منظم انداز میں شامل کرے گا۔ان علاقوں کے رہائشیوں کے لیے یہ اقدام ایک بنیادی مثبت تبدیلی کا باعث بنے گا، جس کے نتیجے میں باقاعدہ ویسٹ کلیکشن، صاف ستھری گلیاں اور آبادیاں، غیر منظم فضلے میں کمی اور زیادہ صاف، صحت مند اور ماحول دوست رہائشی ماحول میسر آئے گا۔دیہی اسلام آباد میں صفائی کے نئے دور کا آغازچیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اسلام آباد کی خوبصورتی، صفائی اور ماحولیاتی پائیداری کو صرف ترقی یافتہ شہری سیکٹرز تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔دیہی علاقے بھی وفاقی دارالحکومت کا اتنا ہی اہم حصہ ہیں اور وہاں کے شہری بھی اسی سطح کی توجہ، عزت، سہولیات اور معیاری میونسپل سروسز کے مستحق ہیں۔یہ اقدام جامع اور مساوی ترقی (Inclusive Development) کے اصول پر مبنی ہے، جس کے تحت دیہی آبادیوں کو اسلام آباد کی ماحولیاتی اور صفائی کی منصوبہ بندی کے مرکزی دھارے میں شامل کیا جا رہا ہے۔اس کا مقصد صرف کچرا اٹھانا نہیں بلکہ پورے دیہی اسلام آباد کے لیے ایک پائیدار، پیشہ ورانہ طور پر منظم اور ماحول دوست صفائی کا جامع نظام قائم کرنا ہے۔بین الاقوامی تجربہ، مقامی سطح پر مؤثر عملدرآمدایک معروف ترک ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ساتھ تعاون کے ذریعے جدید آپریشنل طریقہ کار، وسائل کا بہترین استعمال اور ٹیکنالوجی پر مبنی مینجمنٹ کو اسلام آباد کے مقامی حالات کے مطابق نافذ کیا جائے گا۔مجوزہ ماڈل قابلِ پیمائش ورک لوڈ، افرادی قوت اور مشینری کی منظم تعیناتی، روٹ آپٹیمائزیشن، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور شفاف کارکردگی رپورٹنگ پر مبنی ہے۔زونز IV اور V کے ریسورس پلان میں شناخت شدہ آپریشنل ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تقریباً 1,610 اہلکاروں اور 103 مشینری یونٹس کی فراہمی شامل ہے۔*صفائی کے کارکنوں کے تحفظ، عزت اور وقار پر خصوصی توجہ*اس منصوبے میں صفائی کے کارکنوں کی حفاظت، عزت اور پیشہ ورانہ شناخت کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔صفائی کے عملے کے لیے معیاری یونیفارم اور مناسب Personal Protective Equipment (PPE) فراہم کرنے کی تجویز ہے، جس میں نمایاں حفاظتی لباس، دستانے، سیفٹی شوز اور ماسک شامل ہیں۔اس اقدام سے نہ صرف کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی بلکہ صفائی کے شعبے سے وابستہ افرادی قوت کو ایک زیادہ منظم اور پیشہ ورانہ شناخت بھی حاصل ہوگی۔سہیل اشرف کا وژن: اسلام آباد کا کوئی علاقہ ٹھوس فضلے کی تلفی کے حوالے سے نظر انداز نہیں ہوگایہ تاریخی اقدام چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے کہ ایسا اسلام آباد تشکیل دیا جائے جہاں صفائی، ماحولیاتی تحفظ اور بنیادی میونسپل سہولیات کے حوالے سے کوئی کمیونٹی یا علاقہ نظر انداز نہ ہو۔کئی دہائیوں سے وفاقی دارالحکومت کے دیہی علاقے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے حوالے سے نسبتاً کم سہولیات حاصل کرتے رہے ہیں۔ سی ڈی اے کا نیا مربوط منصوبہ مناسب منصوبہ بندی، مطلوبہ وسائل، جدید ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ انتظام اور قابلِ پیمائش جوابدہی کے ذریعے اس صورتحال کو تبدیل کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کی متحرک قیادت اور ممبر انوائرمنٹ سی ڈی اے عبداللہ خرم نیازی کی نگرانی میں سی ڈی اے اس جامع منصوبے پر عملدرآمد کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد دیہی اسلام آباد کے شہریوں کے لیے صاف، صحت مند اور بہتر ماحول یقینی بنانا ہے۔یہ اقدام محض فضلے کی تلفی تک محدود نہیں بلکہ عوامی وقار، صحت عامہ، ماحولیاتی تحفظ، معیارِ زندگی میں بہتری اور شہریوں کو مساوی میونسپل سہولیات کی فراہمی سے متعلق ہے۔سی ڈی اے بورڈ کی منظوری اور Integrated Operations & Resource Planning System کے مرحلہ وار نفاذ کے ساتھ زونز IV اور V منظم صفائی اور جدید ماحولیاتی انتظام کے ایک نئے دور میں داخل ہونے جا رہے ہیں۔پیغام بالکل واضح ہے: دیہی اسلام آباد کو اب نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔اس تاریخی اقدام کے ذریعے سی ڈی اے ایک ایسے صاف، سرسبز، صحت مند، آلودگی سے پاک اور ماحولیاتی طور پر پائیدار اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے جو ایک حقیقی جامع وفاقی دارالحکومت ہوگا، جہاں ہر یونین کونسل، ہر آبادی اور ہر کمیونٹی کو مناسب توجہ، معیاری صفائی اور بہترین میونسپل سروسز کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

PRESS RELEASE*CDA Launches Landmark Integrated Solid Waste Management Plan for Rural Islamabad of Zones IV & V to Receive Comprehensive, Technology Enabled Waste Collection and Disposal Services*ISLAMABAD — August 27, 2026: The Capital Development Authority (CDA), under the vision of Syed Mohsin Raza Naqvi Federal Minister for Interior and leadership of Sohail Ashraf, Chairman CDA, CDA has taken a landmark, practical and Excellent initiative to address one of the longstanding challenges of Islamabad’s rural areas by introducing a comprehensive Integrated Operations & Resource Planning System for solid waste management for collection and disposal of sold waste in Zones IV and V.For many years, the rural areas of Islamabad very neglected very badly in terms of systematic cleanliness and solid waste management. Unlike the developed and central sectors of the Federal Capital, a comprehensive, organized and technology enabled mechanism for regular collection, transportation and environmentally responsible disposal of solid waste was not available across these areas.Recognizing this long standing issue of the citizens of Zones IV and V, CDA Chairman Sohail Ashraf has made cleanliness and environmental sustainability of the rural areas an important priority and has directed to chalked out a comprehensive, workable and integrated system for solid waste collection and disposal covering 65 Union Councils in the rural areas of Islamabad.The initiative has been developed in collaboration with a reputed Turkish waste management company, bringing international operational experience, modern machinery and equipments and technology based monitoring into the solid waste management system of Islamabad.The CDA Board has also approved the comprehensive and effective solid waste disposal plan, paving the way for its phased approach which is firstly being implementation in Zones IV and V. Consequently, rural localities including Bani Gala, Ghuri Town and other surrounding areas will come under Zones IV and V, will have structured and regular solid waste collection and disposal mechanism.*A Historic Shift in Focus Towards Rural Areas of Islamabad*Zones IV and V are rural areas of Islamabad which constitute a substantial part of Islamabad’s eastern, southern, rural and peri urban areas. These areas have historically faced challenges of inadequate sanitation infrastructure, scattered settlements, longer collection routes and the absence of a uniform and integrated solid waste management mechanism.The CDA initiative represents a fundamental transformation in the way sanitation services will be planned and delivered in rural Islamabad.Under the new model, waste management will no longer depend on ad hoc arrangements. Instead, manpower, machinery, collection points, vehicles and routes will be planned according to the actual population, waste generation, road network, geographical spread and operational requirements of each area.*Comprehensive Solid Waste Disposal Coverage of Zones IV abd V*The Integrated Operations & Resource Plan for Zones IV and V envisages management of approximately 342 tons of solid waste per day, supported by approximately 1,610 personnel and 103 machinery units. The plan also includes a substantial network of containers and collection equipment suited to the distinctive requirements of rural and peri urban areas.The operational model specifically recognizes that Zones IV and V require a different approach from the densely populated central areas of Islamabad. Longer collection routes, dispersed settlements and narrow roads require greater reliance on appropriately deployed mini tippers, hand carts and other suitable equipment.This zone based planning and implementation will ensure that resources are deployed where they are actually required rather than through generalized or one-size-fits-all arrangements.*65 Union Councils to Be Brought into the Cleanliness Network*A major feature of the initiative is its focus on bringing the 65 rural Union Councils into a properly organized solid waste management network.Each Union Council and collection beat will have defined operational arrangements, including designated teams, vehicles and supervision. Routes will be planned according to local requirements, while collection activities will be monitored through technology and digital reporting.The objective is to ensure that residents of rural Islamabad receive a regular, predictable and accountable cleanliness service, just as citizens in the developed sectors of the Federal Capital expect.*Door-to-Door Collection and Scientific Disposal*The new system will establish an integrated waste-management chain beginning with door-to-door collection and extending through transportation, transfer-station operations and final disposal. The proposed operational sequence is:Door-to-Door Collection → Route-Optimized Transportation → Transfer Station/Compaction → Secondary Bulk Transportation → Environmentally Compliant Final Disposal.Waste from households, commercial establishments and institutions will be collected along defined routes. Vehicles will use GPS-verified routes for transportation to designated facilities, while waste movement and disposal cycles will be monitored to improve efficiency and accountability.This integrated and innovative approach will help eliminate scattered dumping, reduce unnecessary transportation, improve collection efficiency and strengthen environmental protection in rural Islamabad.*Technology at the Heart of the New System*The initiative will introduce a modern technology backbone to ensure that rural sanitation operations are visible, measurable and accountable.A Central Command & Control Centre will provide an integrated operational picture, enabling CDA to monitor vehicle movement, route completion and deployment of resources.

Daily Union Council wise performance reporting will also help identify missed collections, complaints, vehicle breakdowns and manpower shortages for timely corrective action.GPS and Vehicle Tracking & Monitoring Systems (VTMS) will support route verification and vehicle monitoring, while digital attendance and field-deployment mechanisms will strengthen workforce accountability.The objective is to move from a system in which cleanliness is simply claimed to one in which cleanliness is measured, monitored and verified.*Performance Based Service Delivery*The new model will also introduce measurable Key Performance Indicators (KPIs) to assess the quality and effectiveness of sanitation services.Waste collection, sweeping, mechanical operations, transfer-station activities and bulk waste/drain-related services will be linked to defined performance standards, with non-compliance subject to the prescribed deductions under the performance mechanism.This will create a culture of performance, accountability and results, ensuring that public funds are linked to actual services delivered to citizens.*Special Focus on Rural Areas of Zones IV and V*With the approval of the CDA Board, implementation of the plan will now facilitate the gradual extension of organized solid waste collection services to Bani Gala, Ghuri Town and other rural and peri-urban localities.The phased approach will allow CDA to mobilize resources, establish collection routes, deploy appropriate machinery and integrate individual Union Councils into the wider operational system in a systematic manner.For residents of these areas, the initiative promises a fundamental improvement: regular collection, cleaner streets and settlements, reduced unmanaged waste and a more environmentally responsible living environment.*A New Era of Cleanliness for Rural Islamabad*Chairman CDA Sohail Ashraf has emphasized that the beauty, cleanliness and environmental sustainability of Islamabad must not remain confined to its developed urban sectors. The rural areas are an equally important part of the Federal Capital and deserve the same level of attention, dignity and quality of municipal services.The initiative is therefore rooted in the principle of inclusive development, ensuring that rural communities are brought into the mainstream of Islamabad’s environmental and sanitation planning.The objective is not simply to remove waste but to create a sustainable, professionally managed and environmentally responsible sanitation ecosystem covering every part of rural Islamabad.*International Expertise, Local Delivery*The collaboration with a reputed Turkish waste-management company will introduce modern operational practices, resource optimization and technology-enabled management while ensuring implementation within the local context of Islamabad.The proposed model is based on measurable workload, structured deployment of manpower and machinery, route optimization, digital monitoring and transparent performance reporting. The resource plan for Zones IV and V specifically provides for approximately 1,610 personnel and 103 machinery units to meet the identified operational workload.*Commitment to Worker Safety and Dignity*The initiative also places emphasis on the safety, dignity and professional identity of sanitation workers. Standardized uniforms and appropriate personal protective equipment, including high-visibility clothing, gloves, safety shoes and masks, are envisaged to improve worker safety and create a more professional sanitation workforce.*Sohail Ashraf’s Vision*: No Area of Islamabad Left Behind in terms of disposal of solid waste The landmark initiative reflects Chairman CDA Sohail Ashraf’s vision of an Islamabad where no community or locality is neglected in terms of cleanliness, environmental protection and basic municipal services.For decades, the rural areas of the Federal Capital remained comparatively underserved in solid waste management. CDA’s new integrated plan seeks to change that reality through proper planning, adequate resources, modern technology, professional management and measurable accountability.Under the dynamic leadership of Sohail Ashraf Chairman CDA and supervision of Abdullah Khurrum Niazi, Member Environment, CDA is moving towards implementation of this comprehensive plan with the objective of creating a cleaner and healthier environment for residents of rural Islamabad.The initiative is ultimately about more than waste disposal. It is about dignity, public health, environmental protection, better quality of life and equal access to municipal services.With the approval of the CDA Board and the phased implementation of the Integrated Operations & Resource Planning System, Zones IV and V are set to enter a new era of organized cleanliness and environmental management.*The message is clear: rural Islamabad will no longer be left behind.*Through this landmark initiative, CDA is moving towards a cleaner, greener, healthier, pollution-free and environmentally sustainable Islamabad, an inclusive Federal Capital where every Union Council, every locality and every community receives due attention and quality municipal services.

پاکستان میں انسان کی زندگی سب سے سستی مافیا کا راج پمز میں قیامت،جوڑا بیٹھا نھی چوڑا بول رھا ھے قیامت اسی کو کہتے ھے رانا سکندر ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیمز کو گرفتار کیا جائے سہیل رانا لائیو میں

وہ آ۔گ ان ڈاکٹروں اور نرسوں کو کیوں نہیں لگی ، اس لیے کہ وہ وہاں موجود ہی نہیں تھے ، مجھے میرا بچہ دو ورنہ یہیں بیٹھوں گی ، مرجاؤں گی نہیں اٹھوں گی ۔۔۔۔۔ ان افسروں کو کیا پروا، ان کے بچے ۔جل۔ کر مر۔تے تو انہیں میرے درد کا احساس ہوتا ، یہ ظالم لوگ ہیں ، دو دن پہلے میرا آپریشن ہوا ، جو انہوں نے زبردستی کیا ، میں آپریشن نہیں کروانا چاہتی تھی لیکن یہ ظالم کہتے تھے آپریشن نہیں کرواؤ گی

تو علاج نہیں ہو گا پھر یہاں سے کہیں اور جاکر ڈیلیوری کرواؤ ، میں 15 دن سے یہاں بیٹھی تھی یہاں کا سٹاف نرسیں ڈاکٹر سب ذلیل ترین لوگ ہیں ، پیسوں کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے ، اب آپ مجھے کہہ رہے ہیں اللہ کی مرضی ، اللہ کو میری گود اجاڑ کر کیا ملنا تھا ، یہ ان بے غیرتوں کی غفلت لاپروائی ہے جس نے ہمارے معصوم بچوں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا ہے ، میں ان لوگوں کو کبھی معاف نہیں کرونگی ۔۔۔ پمز ہسپتال میں ایک غمزدہ ماں کی دل دہلا دینے والی باتیں

پیٹرول 1 روپے 12 پیسے اور ڈیزل 1 روپے 11 پیسے مہنگا۔ ۔حکومت پاکستان عوام کو زندہ دفن کرنے میں مصروف عمل۔۔حکومت چینی پٹرولیم گندم مافیا کی سھولت کار 24 کروڑ عوام کی تمام امیدیں ختم۔۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران کامیاب ۔ایران نے میرے بیٹے کو قتل کرنے کی کوشش کی نیتن یاہو۔۔۔معشیت تباہ وبرباد 10 روپے کا نوٹ ختم۔۔پیپلز پارٹی حکومت کو بلیک میل کرنے میں ناکام۔پرانی تنخواہ پر کام جاری رکھے گی سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ملاقات۔2روز کا اجتھجاج اور اسکے بعد مامعلات طے پا گئے اچھے بچوں کی طرح کام جاری رکھیں گے۔چودھری طارق فاروق آزاد ک۔ش۔م۔ی۔ر قانون ساز اسمبلی کے نئے اسپیکر بن گئے۔پاکستان کو نیوزی لینڈ کے ھاتھوں 4 کے مقابلے میں 2 گول سے شکست۔ مشرقِ وسطیٰ کے بحران کی جڑ فلسطین کا مسئلہ ہے: چینی صدر۔فیلڈنگ کوچ کے عہدے کے لیے خواہشمند امیدوار اپنی درخواستیں 9 ستمبر۔۔ سپریم کورٹ نے بات کرنے سے منع کیا ہوا ہے میں کچھ نہیں بولوں گی، نورین خان۔۔ ملک بھر میں مھنگای اور غیر یقینی صورتحال خوف کے ساے۔۔ ۔بینکوں کے اے ٹی ایم سے 5 ہزار روپے کے جعلی نوٹ نکلنے کا انکشاف۔۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے گورنر سٹیٹ بینک کو نوٹ کر پہچان پوچھی مگر اسے بھی پتا نا چلا۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز سائٹ نہ کھیلنے کی صورت vpn کا استعمال کرے

🚨ایران نے میرے ایک بیٹے کو قتل کرنے کی کوشش کی: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا دعویٰ🚨عمران خان کی قید اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھائيں: جمائما کا برطانوی حکومت سے مطالبہ🚨*فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ ایران انتہائی نتیجہ خیز رہا، ایرانی صدارتی دفتر۔

*ایرانی صدارتی دفتر نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ ایران کو انتہائی نتیجہ خیز اور سودمند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دورے کے دوران قابلِ قدر سفارتی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ایرانی صدارتی دفتر کے ترجمان سید مہدی طباطبائی کے مطابق دورے کے نتائج جلد سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔

سارے فرشتے کافر مغربی ملکوں میں ہیں دودھ میں ملاوٹ نہ بچوں کا اغوا اور جنسی تشدد ۔سارے شیطان پاکستان میں ۔ بچے گھروں میں محفوظ ،نہ مدرسوں اور بازاروں میں ۔ملاوٹ،چوری

بازاری،دھوکہ ،فراڈ اور طاقتور لوگوں کیلئے قانون موم کی ناک ۔بیشتر غریب بھی بدبخت امیر بھی ۔

بینکوں کے اے ٹی ایم سے 5 ہزار روپے کے جعلی نوٹ نکلنے کا انکشافسینیٹر سلیم مانڈوی والا نے گورنر سٹیٹ بینک کو نوٹ کر پہچان پوچھی مگر اسے بھی پتا نا چلا۔

چینی کی برآمد، مہنگی درآمد اور شوگر ملز مالکان کے اضافی منافع کا دعویٰ، مفتاح اسماعیل نے حکومت کی پالیسی پر سوال اٹھا دیےاسلام آباد: پاکستان میں چینی کی برآمد اور بعد ازاں درآمد کی حکومتی پالیسی ایک بار پھر سیاسی و معاشی بحث کا مرکز بن گئی ہے

چینی کی برآمد، مہنگی درآمد اور شوگر ملز مالکان کے اضافی منافع کا دعویٰ، مفتاح اسماعیل نے حکومت کی پالیسی پر سوال اٹھا دیےاسلام آباد: پاکستان میں چینی کی برآمد اور بعد ازاں درآمد کی حکومتی پالیسی ایک بار پھر سیاسی و معاشی بحث کا مرکز بن گئی ہے۔ سابق وزیر خزانہ اور عوام پاکستان پارٹی کے رہنما مفتاح اسماعیل نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ سستی چینی برآمد کرنے کے بعد مہنگی چینی درآمد کی گئی، جس سے مبینہ طور پر شوگر ملز مالکان کے ایک محدود گروپ کو غیر معمولی مالی فائدہ پہنچا۔تازہ طور پر جیو نیوز کی جانب سے نشر کیے گئے بیان میں مفتاح اسماعیل سے منسوب دعویٰ سامنے آیا کہ حکومت نے جان بوجھ کر سستی چینی ایکسپورٹ کی اور بعد میں مہنگی چینی امپورٹ کی، جس کے نتیجے میں 20 شوگر ملز مالکان خاندانوں کو ماہانہ 30 ارب روپے کا اضافی منافع پہنچایا گیا۔چینی پہلے برآمد، پھر درآمدمفتاح اسماعیل کا مؤقف ہے کہ حکومت کی جانب سے بڑی مقدار میں چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے کے بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر دباؤ بڑھا۔ 23 اگست 2026 کی ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ سال حکومت نے 7 لاکھ 50 ہزار ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی، جس کے بعد ان کے مطابق مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت تقریباً 50 روپے فی کلو بڑھ گئی۔ان کے مطابق بعد میں حکومت نے نجی شعبے کے بجائے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (TCP) کے ذریعے 3 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا۔ مفتاح اسماعیل کا دعویٰ تھا کہ TCP نے عالمی مارکیٹ میں اس وقت کی قیمت سے تقریباً 40 ڈالر فی ٹن زیادہ قیمت پر چینی خریدی۔مفتاح اسماعیل نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ درآمدی چینی کو سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی سے استثنیٰ حاصل ہونے کے باوجود یہ مقامی مارکیٹ میں دستیاب چینی سے مہنگی پڑی۔حکومت کا مؤقف کیا ہے؟حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چینی کی برآمد اضافی ذخیرے کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی تھی۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق گزشتہ سال درآمد کی گئی چینی میں سے تقریباً ایک لاکھ ٹن اضافی چینی دوبارہ برآمد کی جا رہی ہے اور یہ اقدام مارکیٹ کے حالات بہتر ہونے کے بعد کیا گیا ہے۔حکومت کا مؤقف ہے کہ اس عمل سے مارکیٹ، کسان یا صارف پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔ حکومتی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ شوگر انڈسٹری سے 60 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول کیا گیا اور کسی کو ٹیکس استثنیٰ نہیں دیا گیا۔قیمتوں میں اضافے پر اختلافچینی کی قیمت میں اضافے کے معاملے پر بھی حکومت اور مفتاح اسماعیل کے درمیان اختلاف موجود ہے۔ مفتاح اسماعیل کے مطابق چینی کی قیمت میں اضافے سے حکومت کو سیلز ٹیکس کی مد میں فی کلو اضافی رقم حاصل ہوئی، جبکہ ان کا کہنا ہے کہ شوگر انڈسٹری میں ٹریک اینڈ ٹریس نظام کے ذریعے سیلز ٹیکس چوری میں کمی بھی ہوئی ہے۔اس سے قبل جولائی 2025 میں بھی مفتاح اسماعیل نے چینی کی برآمد سے متعلق حکومتی پالیسی پر سخت اعتراضات اٹھائے تھے اور الزام لگایا تھا کہ چینی کی برآمد سے شوگر ملز مالکان کو فائدہ پہنچایا گیا۔ انہوں نے اس وقت حکومت کی پالیسی کو مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ سے بھی جوڑا تھا۔اصل سوال: برآمد یا درآمد، فائدہ کس کو؟اس پورے معاملے کا بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر ملک میں چینی کا ذخیرہ ضرورت سے زیادہ تھا تو اس کی برآمد کس قیمت پر کی گئی، اور بعد میں اگر مقامی ضرورت پوری کرنے کے لیے درآمد ضروری ہوئی تو درآمدی چینی کس قیمت پر خریدی گئی۔مفتاح اسماعیل کا مؤقف ہے کہ برآمد اور درآمد کے درمیان قیمت کے فرق نے شوگر ملز مالکان کے لیے غیر معمولی مالی فائدہ پیدا کیا، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ برآمد کا فیصلہ اضافی ذخیرے اور مارکیٹ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کیا گیا اور بعد کی درآمد و دوبارہ برآمد بھی مارکیٹ کو مستحکم رکھنے کے لیے تھی۔لہٰذا 20 خاندانوں کو ماہانہ 30 ارب روپے کے اضافی منافع کا دعویٰ فی الحال مفتاح اسماعیل کی طرف سے پیش کیا گیا ایک سیاسی و معاشی الزام ہے؛ دستیاب رپورٹس میں اس مخصوص رقم کے آزادانہ آڈٹ یا سرکاری طور پر تصدیق شدہ حساب کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔چینی کی برآمد، درآمد، قیمتوں اور شوگر ملز کے منافع سے متعلق یہ تنازع اس وقت بھی جاری ہے اور حکومت و مفتاح اسماعیل دونوں اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔نوٹ: اس خبر میں شامل 30 ارب روپے ماہانہ اضافی منافع اور پالیسی سے متعلق دیگر الزامات کو متعلقہ فریق کے دعوے کے طور پر بیان کیا گیا ہے، حتمی ثابت شدہ حقیقت کے طور پر نہیں۔…منقول