*وفاقی کابینہ کا اجلاس، ڈیفینس فورسز ایکٹ 2026ء اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010ء میں ترمیم کی منظوری*وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔وفاقی کابینہ نے دفاعی افواج ایکٹ 2026ء (Defence Forces Act 2026) کے مسودے کی منظوری دے دی۔ یہ مسودہ 27ویں آئینی ترمیم کے زریعے کی گئی ترامیم کے تسلسل میں تیار کیا گیا ہے۔ اور اسکا مقصد چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے اور چیف آف ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز کے حوالے سے متعلقہ انتظامی امور کا تعین کرنا ہے.کابینہ کی منظوری کے بعد دفاعی افواج ایکٹ 2026ء کا مسودہ پارلیمان کے جاری اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔وفاقی کابینہ نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010ء ( National Command Authority Act 2010) میں ترمیم کی بھی منظوری دے دی۔ جو 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد ایک ضروری عمل تھا۔نیشنل کمانڈ ایکٹ 2010ء میں ترمیم شدہ مسودہ بھی منظوری کے لیے پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔
میڈیا اداروں سے کارکنوں کی برطرفیاں ناقابلِ برداشت، حکومت اور عدلیہ فوری نوٹس لیں: پی ایف یو جے ورکرزاشتہارات کی مد میں کروڑوں، اربوں روپے لینے والے ادارے کارکنوں کو بے روزگار نہیں کر سکتے، اشتہارات کی ادائیگی ملازمین کے حقوق سے مشروط کی جائےپشاور (پ ر) پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرز (PFUJ-Workers) کے صدر شمیم شاہد اور سیکرٹری جنرل راجہ ریاض نے مختلف اخبارات، نجی ٹیلی ویژن چینلز اور دیگر میڈیا اداروں سے کارکن صحافیوں اور ملازمین کی مسلسل جبری برطرفیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت اور عدلیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ایک مشترکہ بیان میں پی ایف یو جے ورکرز کے رہنماؤں نے کہا کہ ملک کے بڑے میڈیا اداروں سے کارکن صحافیوں اور دیگر ملازمین کی برطرفی کا سلسلہ اب ناقابلِ برداشت حد تک پہنچ چکا ہے۔ میڈیا ادارے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے اشتہارات کی مد میں کروڑوں اور اربوں روپے وصول کرتے ہیں، لیکن دوسری جانب انہی اداروں میں کام کرنے والے صحافیوں اور دیگر ملازمین کو مسلسل ملازمتوں سے فارغ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سماء، جیو، روزنامہ جنگ اور ایکسپریس گروپ کے بعد اب ڈان گروپ کی جانب سے ڈان ٹی وی سے وابستہ صحافیوں سمیت درجنوں کارکنوں کی برطرفی اس سنگین بحران کی تازہ مثال ہے۔ گزشتہ دو برس کے دوران اخباری صنعت اور نجی ٹیلی ویژن سے وابستہ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کارکن بے روزگار ہو چکے ہیں، جبکہ میڈیا ادارے سرکاری اشتہارات سے مسلسل مالی فوائد حاصل کر رہے ہیں۔پی ایف یو جے ورکرز کے رہنماؤں نے کہا کہ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ چند ماہ قبل خیبرپختونخوا حکومت نے ایک اہم میڈیا ادارے کو اشتہارات کی مد میں پانچ کروڑ روپے ادا کیے، جبکہ مزید دو کروڑ روپے کی ادائیگی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود اسی ادارے سے وابستہ پانچ کارکن صحافیوں سمیت متعدد ملازمین کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف کارکنوں کے معاشی استحصال کے مترادف ہے بلکہ سرکاری اشتہارات کی پالیسی پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اشتہارات کسی میڈیا ادارے کا بلاشرکت غیرے حق نہیں بلکہ عوام کے ٹیکس سے حاصل ہونے والے وسائل ہیں۔ حکومت کو یہ اختیار اور ذمہ داری دونوں حاصل ہیں کہ سرکاری اشتہارات کے اجراء اور ادائیگی کو میڈیا کارکنوں کے قانونی حقوق، اجرتوں کی بروقت ادائیگی، ملازمت کے تحفظ اور مقررہ اوقاتِ کار کی پابندی سے مشروط کرے۔پی ایف یو جے ورکرز نے وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا
کہ میڈیا اداروں کو سرکاری اشتہارات کی ادائیگی سے قبل کارکن صحافیوں اور دیگر ملازمین کی تنخواہوں، واجبات، ملازمت کے تحفظ اور لیبر قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کا مؤثر نظام وضع کیا جائے۔ جو ادارے سرکاری خزانے سے اربوں روپے حاصل کرتے ہیں، انہیں کارکنوں کو بے روزگار کرنے کی کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے کارکن صحافیوں اور میڈیا ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے حالیہ اقدامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ عدالت کی ہدایات پر مکمل اور فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔پی ایف یو جے ورکرز کے رہنماؤں نے کہا کہ میڈیا کی آزادی صرف اداروں کے مالکان یا ایڈیٹوریل پالیسی کا نام نہیں؛ میڈیا کی آزادی کا اصل ستون وہ صحافی اور کارکن ہیں جو کم اجرت، غیر یقینی ملازمت اور دباؤ کے باوجود عوام تک خبر پہنچاتے ہیں۔ اگر یہی کارکن معاشی عدم تحفظ کا شکار ہوں گے تو آزاد اور ذمہ دار صحافت بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔انہوں نے ملک بھر میں پی ایف یو جے اور اس سے منسلک یونینز کے تمام دھڑوں سے بھی اپیل کی کہ کارکن صحافیوں کے روزگار اور حقوق کے تحفظ کے معاملے پر اپنے اختلافات ختم کرکے فوری طور پر متحد ہوں اور مشترکہ جدوجہد کے لیے متفقہ لائحہ عمل اختیار کریں۔پی ایف یو جے ورکرز نے واضح کیا کہ کارکن صحافیوں کی برطرفیوں کا سلسلہ فوری طور پر نہ روکا گیا اور سرکاری اشتہارات کو کارکنوں کے حقوق سے مشروط نہ کیا گیا تو صحافتی برادری اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے بھرپور اور منظم احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
اعظم نذیر بھول گئے ہیں تو میں یاد دلادوں نواز شریف جب تقریباً ایک سال جیل میں تھے تو انہوں نے کتنی دفعہ علاج کروایا؟اسد قیصر دورانِ حراست نواز شریف کے علاج کی تفصیلات تاریخوں کے ساتھ سامنے لے آئے
ملکی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے نئے صوبوں کے قیام کا ایشو نکالا گیا ہے ۔۔ جب گھر میں آگ لگی ہو تو گھر کو تقسیم کرنے کی بجائے آگ بجھائی جاتی ہے ، پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلاکر موجودہ صورتحال پر اعتماد میں لیا جائے ۔ مولانا فضل الرحمان
اس اقدام کو سراہتے ہیںبعض اوقات تصویریں بولتی ہیں دیر میں منعقدہ جرگے کے دوران آئی جی ایف میجر جنرل راؤ عمران سرتاج نے مشران کے رُوبرو زمین پر بیٹھ کر خطاب کیا اور یہی جرگے کی اصل روح ہوتی ہے انہوں نے پروٹوکول کی دھجیاں بکھیر کر عملی طور بہت خوبصورت پیغام دیا کاش کہ اس پر ہمارے دیگر سول و ملٹری افسران بھی عمل کرتے ہوئے خود کو زمینی خدا سمجھنا چھوڑ دیں انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا (نارتھ) کی زیرِ صدارت دیر اپر اور دیر لوئر کے مشران، عمائدین اور متعلقہ انتظامی و سکیورٹی حکام کے ساتھ ایک اہم گرینڈ جرگہ منعقد ہوا، جس میں دونوں اضلاع کی موجودہ امن و امان کی صورتحال کا جامع جائزہ لیا گیا اور پائیدار امن کے قیام کے لیے مشترکہ اور مربوط لائحۂ عمل پر غور کیا گیا۔
جرگے میں کمشنر مالاکنڈ ڈویژن، ریجنل پولیس آفیسر مالاکنڈ، کمانڈنٹ دیر سکاؤٹس، ڈپٹی کمشنرز دیر اپر و لوئر، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز دیر اپر و لوئر سمیت ملک و مشران اور عمائدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر آئی جی ایف سی خیبر پختونخوا (نارتھ) میجر جنرل راؤ عمران سرتاج نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دیر اپر اور دیر لوئر میں پائیدار امن، استحکام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت، سکیورٹی فورسز، پولیس اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور عوام کے باہمی تعاون اور یکجہتی سے علاقے میں امن دشمن عناصر اور خوارج کے عزائم کو ناکام بنایا جائے گا
۔ دو ہزار اٹھارہ میں تبدیلی کی ہوا چلی اور عمران خان بازی لے اڑا۔ دو ہزار بائیس میں عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو وزارت عظمیٰ کا منصب شہبازشریف کے حصے میں چلا گیا۔ دو ہزار چوبیس کے الیکشن میں سندھ سے کلین سوئپ کرنے کے باوجود بلاول بھٹو وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے باہر ہو گئے ۔انہوں نے پی ٹی آئی کو ساتھ ملانے کی بھرپور کوشش کی لیکن جب پی ٹی آئی نے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا تو بلاول بھٹو اس وقت بھی شدید ناراض ہو گئے تھے ۔ کیونکہ اقتدار ان کی مٹھی میں آتے آتے ریت کی طرح پھسل گیا تھا۔ ۔ یاد کریں جب صدر زرداری نے اپنے اکلوتے اور ہونہار بیٹے کو سیاست میں باضابطہ طور پر لانچ کیا۔ اس وقت وہ تازہ تازہ برطانیہ سے لوٹے تھے ۔ نہ لہجہ پاکستانی تھا اور نہ ہی سوچ مقامی ۔ ملکی مسائل تو دور انہیں سندھ اور کراچی کے مسائل کا بھی کوئی خاص ادراک نہ تھا۔ زرداری صاحب نے ان کیلئے بہترین سیاسی اتالیق مقرر کئے ۔ رضا ربانی ،شیری رحمٰن، نیربخاری،یوسف رضا گیلانی اور راجا پرویز اشرف جیسے جہان دیدہ سیاست دانوں کی قربت کی بدولت بلاول چند برسوں میں سیاست کے سارے دائوپیچ سیکھ گئے ۔آج وہ ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں۔ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں
۔ملک کے وزیرخارجہ کے طور پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔حکومت میں رہتے ہوئے اپوزیشن لیڈر کا کردار نبھانا بھی سیکھ چکے ہیں۔ وزارت عظمیٰ کی کرسی اور ان کے درمیان صرف تین سال کا فاصلہ باقی تھا۔اب وہ اور ان کی پوری جماعت بڑی بے صبری کے ساتھ شہبازشریف کی حکومت کی مدت پوری ہونے کا انتظار کر رہی تھی ۔نئے الیکشن کی پلاننگ بھی ہو رہی تھی ۔ حال ہی میں انہوں نے پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مل بیٹھنے کی آفر بھی کی تھی ۔اشارے کنائے میں وزیراعظم شہبازشریف کو تحریک عدم اعتماد لانے کی دھمکی بھی دی تھی ۔ وہ موروثی سیاست کی ایک ایسی طاقتور علامت بن کر ابھر رہے تھے جسے شکست دینا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن تھا لیکن۔۔۔!!!اچانک سے ملک میں صوبوں کی تقسیم کا ایشو کھڑا ہو گیا۔ نئے انتظامی یونٹس بنانے کے مجوزہ پلان نے بلاول بھٹو کے سارے خواب چکنا چور کر دیئے ہیں۔ وزارت عظمیٰ کی وہ کرسی جو محض دو قدم کی دوری پر تھی ۔ ایک بار پھر قریب آتے آتے ۔ یکایک بہت دور چلی گئی ۔یہی وجہ ہے کہ بلاول آج پھر ناراض ہیں۔اسی لئے انہوں نے آج کل دوبارہ چپ سادھ رکھی ہے ۔ نہ وہ مسلم لیگ ن پر گرج رہے ہیں ۔نہ وہ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ پر برس رہے ہیں۔ ان کا گلہ اپنی جماعت سے ہے ۔ان کی ناراضی صدر پاکستان سے ہے ۔ اصل میں بلاول بھٹو کو یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ اگر مجوزہ پلان کے تحت صوبہ سندھ پانچ انتظامی یونٹس میں تقسیم ہوگیا تو پیپلزپارٹی کے سر پر نہ توآسمان باقی رہے گا اور نہ ہی پیروں تلے زمین ۔ آپ یقیناً میری اس بات پر حیران ہونگے کہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹس پیپلزپارٹی کی سیاست یا بلاول بھٹو کے مستقبل پر کیسے اثر انداز ہونگے ؟؟؟آپ ذرا بات کو سمجھیں۔
پیپلزپارٹی کی سیاسی طاقت کا اصل منبع صوبہ سندھ ہے ۔ سندھ میں صرف پیپلزپارٹی ہی واحد سیاسی قوت نہیں۔ پیرپگاڑا کی مسلم لیگ فنکشنل لگ بھگ چار اضلاع میں صوبائی اسمبلی کی چار چھ نشستیں ہر الیکشن میں نکال سکتی ہے ۔ اسی طرح قوم پرست سیاسی جماعتوں کا ایک پریشر گروپ بھی اندرون سندھ موجود ہے ۔سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن میں مولانا فضل الرحمٰن کی جے یوآئی ف کا اچھا خاصا ووٹ بینک ہے ۔بدین میں فہمیدا مرزا اور ذوالفقار مرزا۔۔ جبکہ خیرپور میں نواب آف خیرپور پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں۔ یہ تمام وہ دھڑے ہیں جنہیں صدر آصف علی زرداری نے اپنی مفاہمت کی سیاست کے ذریعے پچھاڑا۔کسی کو اپنے ساتھ ملا لیا۔
اور کسی کے گرد ایسا حصار کھینچ دیا کہ وہ چاہتے ہوئے بھی آگے نہ بڑھ سکا۔اور تھک ہار کر خاموش ہو کر بیٹھ گیا۔ نواب آف خیرپور، ذوالفقار مرزا اور پیرپگاڑا اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ یہ لوگ عرصہ دراز سے خاموش ہیں۔ ان میں سے بعض تو وقتی طورپر سیاست سے لاتعلق بھی ہوگئے ۔یا لاتعلق کر دیئے گئے ۔ لیکن ایسا نہیں کہ وہ سندھ کی سیاست میں اجنبی ہیں۔ ان سب کا اپنے اپنے حلقوں میں مناسب ووٹ بینک موجود ہے ۔ وہ پیپلزپارٹی کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں ۔ اگر انہیں لیول پلیئنگ فیلڈ دستیاب ہو تو وہ اندرون سندھ کے ہر ضلعے میں پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں۔ اب اگر آپ صوبوں کی تقسیم کا مجوزہ منصوبہ دیکھیں تو سندھ کو پانچ انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کا منصوبہ ہے ۔ نمبر ون کراچی ،نمبر ٹو حیدرآباد،نمبر تھری میر پور خاص، نمبر فور سکھر اور نمبر فائیو لاڑکانہ ۔۔مجوزہ پلان کے تحت اگر کراچی اور حیدرآباد دونوں الگ الگ انتظامی یونٹس بن جائیں تو پیپلزپارٹی وہاں ایم کیوایم پاکستان اور پی ٹی آئی کا مقابلہ کیسے کرے گی ۔؟؟؟اسی طرح میرپورخاص میں مسلم لیگ فنکشنل کی جڑیں انتہائی مضبوط ہیں۔وہ مسلم لیگ ن ،ایم کیوایم پاکستان اور پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر وہاں پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دے سکتی ہے ۔ رہ گئے لاڑکانہ اور سکھر۔۔ تو ان دونوں انتظامی یونٹس میں پی ٹی آئی ، جے یوآئی ف،ایم کیوایم پاکستان، قوم پرست جماعتوں کا ایک وسیع ووٹ بینک موجود ہے ۔ اگر یہ ساری جماعتیں سکھر اور لاڑکانہ کے انتظامی یونٹس میں اپنی حکومت نہ بنا سکیں تو بھی وہاں ایک مضبوط اپوزیشن بن کر ابھر سکتی ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو پیپلزپارٹی کا یہ بیانیہ ختم جائے گا کہ وہ سندھ دھرتی کی اصل وارث ہے ۔ یہ تاثربھی مٹ جائے گا کہ سندھ میں سیاہ وسفید کی مالک پیپلزپارٹی ہے ۔ نئے انتظامی یونٹس کی بدولت پیپلزپارٹی کا یہ راج سنگھاسن گرنے والا ہے ۔ بلاول بھٹو زرداری کو جس ووٹ بینک کا زعم تھا۔ وہ ووٹ بینک اب تقسیم ہونے والا ہے ۔ اور یہ تقسیم کسی سیاسی انجیئرنگ کی بدولت نہیں ہوگی بلکہ پیور آرگینک ہوگی ۔آپ سندھ کے ووٹر کو دوش نہیں دے سکتے ۔ اصل میں پچھلے کئی برسوں سے انکے پاس پیپلزپارٹی کے سوا کوئی دوسرا آپشن ہی نہیں تھا۔ وہ مجبوری میں تیر پر ٹھپے لگاتے رہے ۔ کل کلاں جب ہر یونین کونسل میں پیپلزپارٹی کے مخالف ٹکر کا امیداوار کھڑا ہوگا۔ ووٹرز کوایک دوسری چوائس دستیاب ہو گی ۔ وہ فیصلہ کرنے میں آزاد ہوگا۔ میں آپ کو گارنٹی دینے کو تیار ہوں۔ آپ سندھ میں سیاسی جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کریں۔پولنگ سٹیشنز کو خوف اور دبائو سے آزاد کر دیں۔ پوری دنیا کو پتا چل جائے گا کہ پیپلزپارٹی سندھ کے عوام میں کتنی مقبول ہے ۔ بلاول بھٹو کی ناراضی اور خاموشی کی اصل وجہ بھی یہی ہے کہ ان کی مقبولیت کا راز کھلنے والا ہے ۔ پندرہ بیس سال کی محنت سے انہوں نے جو بیانیہ بنایا تھا۔ اس بیانیئے کی قلعی اب کھلنے والی ہے ۔ سندھ اب صرف پیپلزپارٹی کی ملکیت نہیں رہے گا۔ بلکہ اس کے مالک سندھی ہونگے ،مہاجر ہونگے ،مسلم لیگ فنکشنل،مسلم لیگ ن ، پی ٹی آئی اور جے یوآئی ف سب اقتدار
سابق وفاقی وزیر و سینیئر مسلم لیگی مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق نے عمران خان کا سپریم کورٹ کی طرف سے الشفاء ہسپتال علاج کرانے کے فیصلے کو خوش ائین قرار دے دیا اس سے عدلیہ کا اعتماد بحال ہوگا خواجہ سعد رفیق
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی سحر کامران سے ملاقاتعطاء اللہ تارڑ نے سحر کامران سے قائمہ کمیٹی واقعے پر معذرت کرلیعطاء اللہ تارڑ اور سحر کامران کے درمیان معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہوگیاقومی اسمبلی اجلاس سے قبل عطاء اللہ تارڑ نے سحر کامران سے معذرت کیقائمہ کمیٹی میں تلخ جملوں کا تبادلہ، معاملہ معذرت کے بعد ختمشازیہ مری، قادر پٹیل، سائرہ افضل تارڑ اور شرمیلا فاروقی بھی موقع پر موجودعطاء اللہ تارڑ اور سحر کامران نے پارلیمانی روایات اور باہمی احترام کو مقدم رکھاقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا تنازع خوش اسلوبی سے اختتام پذیر ہوگیا
قاہرہ اور ریاض کا واضح پیغام: افواہوں کے بجائے اسٹریٹجک شراکت داریمصر اور سعودی عرب کے درمیان مبینہ بڑھتے ہوئے اختلافات کے بارے میں بعض میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پر جاری قیاس آرائیوں کے درمیان دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والا تازہ رابطہ ایک مختلف اور اہم سفارتی پیغام سامنے لاتا ہے۔مصر کے وزیر خارجہ و بین الاقوامی تعاون و امورِ مصریین بالخارج ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان بدھ کو ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں وزراء نے مصر اور سعودی عرب کے درمیان گہرے، خصوصی، برادرانہ اور اسٹریٹجک تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔ سب سے اہم سیاسی پیغام کیا ہے؟اس رابطے کا سب سے نمایاں پہلو محض یہ نہیں کہ دونوں وزراء نے تعلقات کو مضبوط قرار دیا، بلکہ یہ ہے کہ دونوں جانب سے واضح طور پر کہا گیا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر دونوں ممالک کے تعلقات کے بارے میں شائع یا نشر ہونے والی قیاس آرائیوں کو اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ یہ سفارتی زبان عام طور پر اس وقت استعمال ہوتی ہے جب دو ریاستیں کسی ایسے تاثر کو براہِ راست رد کرنا چاہتی ہوں جو ان کے باہمی تعلقات کے بارے میں پیدا ہو رہا ہو۔اس لیے موجودہ بیان کو محض ایک رسمی سفارتی رابطہ قرار دینا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ قاہرہ اور ریاض بیک وقت یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اختلافِ رائے یا مختلف پالیسی ترجیحات کو دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی اسٹریٹجک شراکت داری کے خاتمے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے
۔اعلیٰ سطحی رابطے کی تیاریدونوں ممالک نے باہمی تعاون کے مختلف شعبوں میں پیش رفت جاری رکھنے اور اعلیٰ سطحی رابطہ و تعاون کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو فعال بنانے پر بھی زور دیا۔ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ تعلقات کو شخصیات یا وقتی علاقائی بحرانوں تک محدود رکھنے کے بجائے ایک مستقل اسٹریٹجک فریم ورک میں آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔علاقائی سلامتی: مصر اور سعودی عرب کا مشترکہ مؤقفبات چیت میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں، سلامتی کے خدشات، ریاستی خودمختاری کے احترام، کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت سے گریز اور تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ یہ نقطہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ موجودہ مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی، بحری راستوں، علاقائی طاقت کے توازن اور مختلف تنازعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔مصر، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان: نیا علاقائی فارمیٹاس معاملے کا ایک اہم پہلو مصر، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے چار ملکی رابطہ فارمیٹ کا بھی ہے۔یہ فارمیٹ محض ایک نئی سیاسی اصطلاح نہیں۔ چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ جون 2026 میں قاہرہ میں چوتھے مشاورتی اجلاس میں بھی شریک ہوئے تھے، جہاں علاقائی اور عالمی صورتحال، امن، سلامتی، استحکام اور علاقائی تعاون پر مشاورت ہوئی۔ اس سے قبل سعودی وزیر خارجہ نے بھی مصر، ترکیہ اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مشترکہ علاقائی مشاورت میں شرکت کی تھی۔ لہٰذا موجودہ مصری سعودی رابطے میں اس چار ملکی میکانزم کو اہمیت دینا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ریاض اور قاہرہ علاقائی بحرانوں کے حل میں وسیع تر سفارتی شراکت داری کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔سیاسی تجزیہ: اصل پیغام کیا ہے؟میری رائے میں اس پیش رفت کے تین بڑے سیاسی مضمرات ہیں:اول: مصر اور سعودی عرب دونوں یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان کے درمیان موجود کسی بھی پالیسی اختلاف کو اسٹریٹجک دشمنی یا باہمی تعلقات میں بنیادی دراڑ کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔دوم: ریاض اور قاہرہ خطے میں تیزی سے بدلتے ہوئے اتحادوں اور سکیورٹی انتظامات کے باوجود اپنے باہمی تعلقات کو کمزور نہیں کرنا چاہتے۔ سعودی عرب کے پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی و سکیورٹی تعاون میں اضافے کے باوجود مصر کے ساتھ اسٹریٹجک رابطہ برقرار رکھنا اسی وسیع تر علاقائی توازن کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔سوم: چار ملکی فارمیٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب، مصر، ترکیہ اور پاکستان ممکنہ طور پر علاقائی کشیدگی کم کرنے، سفارتی رابطوں اور سکیورٹی تعاون کے لیے ایک زیادہ منظم سیاسی پلیٹ فارم کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں
۔معاشی پہلو بھی اہموزرائے خارجہ نے اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی دوروں میں اضافے پر بھی زور دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مصر سعودی تعلقات صرف سیاسی و سلامتی کے معاملات تک محدود نہیں بلکہ سرمایہ کاری، تجارت اور اقتصادی شراکت داری بھی اس تعلق کا بنیادی ستون ہیں۔حتمی خلاصہقاہرہ اور ریاض کا آج کا سفارتی پیغام واضح ہے:سوشل میڈیا کی قیاس آرائیاں اپنی جگہ، لیکن مصر اور سعودی عرب اپنے تعلقات کو برادرانہ، خصوصی اور اسٹریٹجک شراکت داری کے طور پر آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔موجودہ علاقائی صورتحال میں دونوں ممالک شاید ہر معاملے پر یکساں مؤقف نہ رکھتے ہوں، لیکن تازہ سرکاری رابطہ یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ اختلافِ رائے کو باہمی اسٹریٹجک تعلقات سے الگ رکھا جا رہا ہے۔اسی لیے اس پیش رفت کو مصر سعودی تعلقات میں کسی بڑے تصادم کے اعلان کے بجائے، افواہوں کے مقابلے میں سرکاری سفارتی وضاحت اور علاقائی بحران کے دوران اسٹریٹجک رابطہ کاری کے تسلسل کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ ممکنہ اخباری سرخی”قاہرہ اور ریاض کا افواہوں کو جواب: مصر اور سعودی عرب نے اسٹریٹجک شراکت داری پر اعتماد کا اعادہ کر دیا”ذیلی سرخی:**وزرائے خارجہ کا رابطہ، دوطرفہ تعاون بڑھانے اور علاقائی کشیدگی کم کرنے پر اتفاق؛ مصر، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے چار ملکی رابطہ فارمیٹ کو مزید فعال بنانے پر بھی پیش رفت۔**
جب میں لڑکپن سے جوانی میں داخل ہو رہا تھا تو ان دنوں والد صاحب کسی غلط حرکت یا بدتمیزی پر مجھے تھپڑ رسید کر دیا کرتے تھے ، انکے تھپڑ کے بھی اپنے اصول تھے ، اگر میں خود کو بچانے کے لیے چہرے پر ہاتھ رکھنا چاہتا تو وہ اسے مزاحمت تصور کرتے اور مجھے ایک کی بجائے کئی تھپڑ لگتے لیکن اگر میں چپ چاپ ایک تھپڑ تسلی سے کھا لیتا اور اف تک نہ کرتا تو پھر وہ مزید پیش رفت نہیں کرتے تھے ۔۔۔۔ ان دنوں مجھے وہ تھپڑ سزا لگتے تھے لیکن آج مجھے وہ ایک اثاثہ اور طاقت لگتے ہیں جنہوں نے مجھے دنیا میں جینا اور مشکلات کا مقابلہ کرنا سکھایا ۔۔۔ پرویز مشرف مرحوم کے صاحبزادے بلال مشرف کا انوکھا انکشاف….
‼️ سیکیورٹی فورسز کا زیارت اور ہرنائی کے سرحدی علاقے میں کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن ❗خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر زیارت اور ہرنائی کے درمیان پہاڑی علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی پر سیکیورٹی فورسز نے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن پلان کیا۔نگرانی کے دوران ایک متروکہ مکان میں 3 سے 4 دہشت گردوں کی موجودگی کی تصدیق ہوئی، سیکیورٹی ذرائعدہشت گردوں کی مصدقہ موجودگی کے بعد سیکیورٹی فورسز نے ان کے ٹھکانے کو گھیرے میں لیکر مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، سیکیورٹی ذرائع کارروائی میں 4 دہشت گردوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے ، سیکیورٹی ذرائععلاقے میں سرچ آپریشن اور سیناٹیزیشن آپریشن جاری ہے ۔سیکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
14 سال بعد اسلام آباد کے 27 تھانوں کو 30 نئی گاڑیاں فراہم کر دی گئیں اسلام آباد پولیس کے تھانوں کو نئی گاڑیاں دینے کی تقریب وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور وزیرِ مملکت طلال چوہدری نے گاڑیوں کی چابیاں اسلام آباد پولیس کے حوالے کیں ناکارہ گاڑیوں کے ساتھ جدید پولیسنگ کا تصور ناممکن ہے، محسن نقوی وقت کے مطابق پولیس کی ضروریات کو پورا کر کے ہی مطلوبہ نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں، محسن نقوی نئی گاڑیوں سے پولیس کا رسپانس ٹائم بہتر ہوگا، محسن نقویپولیس کو عوام کی حفاظت اور سکیورٹی یقینی بنانے کیلئے تمام ضروری وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں، محسن نقوی وسائل کی فراہمی سے پولیس اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز سے ادا کر سکے گی، محسن نقوی اسلام آباد کے تمام تھانوں کی تعمیر اور اپ گریڈیشن پر بھی کام جاری ہے، محسن نقویتھانوں کی تعمیر و اپ گریڈیشن کا کام جلد مکمل کیا جائے گا، وفاقی وزیرِ داخلہالیکٹرک گاڑیوں کا استعمال ہماری ماحول دوست پالیسی کا حصہ ہے، محسن نقویالیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے پٹرولیم اخراجات میں نمایاں کمی ہو گی، وزیرِ داخلہوفاقی سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد پولیس اور اعلیٰ پولیس افسران بھی اس موقع پر موجود تھے
ہاؤسنگ سوسائٹی میں اربوں روپیہ فراڈ کا گواہ پولیس حراست سے فرار تو ہو گیا ، لیکن آج کل میں اسکی کہانی ختم ہو جائے گی ۔عوام کو لوٹا گیا ہے ۔اراضی سے زیادہ پلاٹ بیچ دئے ،ہیڈ آفس منتقلی کی کوشش جاری ہے ،پراپرٹی ڈیلر جنہوں نے عوام کو پلاٹ بیچے ہیڈ آفس منتقلی کے خلاف ہیں ۔پولیس حراست سے فرار ہونے والا سارے معاملات سے آگاہ ہے ۔اسکا زندہ رہنا دوسروں کی مشکلات کا باعث بنے گا ۔یہ فرار ہوا نہیں اسے فرار کرایا گیا ہے تاکہ کانٹا حلق میں نہ پھنسے ۔
ماسکو میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے روسی خبر رساں ایجنسی تاس کو دیے گئے انٹرویو میں ان شعبوں پر روشنی ڈالی جن میں پاکستان روس کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق سیاحت، تعلیم اور ٹرانسپورٹ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے اہم ترین شعبے ہیں۔سفیر موصوف نے کہا: “یقینا” ہم روس اور پورے یوریشین معاشی یونین سے آنے والے سیاحوں کو پاکستان میں خوش آمدید کہنا چاہتے ہیں اور سیاحت کو فروغ دینا چاہتے ہیں
” انہوں نے زور دیا کہ پاکستان ہمیشہ روسی مسافروں کے لیے کھلا ہے۔تعلیم کو سفیر نے روس کے ساتھ تعاون کا ایک اور اہم شعبہ قرار دیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس وقت روس میں صرف 1,300 کے قریب پاکستانی طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ پاکستانی سفیر نے کہا: “میری خواہش ہے کہ یہ تعداد کم از کم 13 ہزار تک پہنچے بلکہ اس سے بھی زیادہ ہو۔” انہوں نے یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ روسی طلبہ بھی پاکستان آ کر تعلیم حاصل کریں۔ ان کے بقول طالب علمی کے زمانے میں قائم ہونے والے تعلقات زندگی بھر برقرار رہتے ہیں، اسی لیے تعلیمی تعاون دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اور دیرپا روابط قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔سفیر نے پاکستنا اور روس کے درمیان ٹرانسپورٹ رابطوں کی اہمیت پر بھی زور دے کر کہا: “میں دونوں ممالک کے درمیان پروازوں کی تعداد بڑھانے اور لاجسٹک روابط کو مزید وسعت دینے پر کام کر رہا ہوں۔”