
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے سعودی وزیر ماحولیات، پانی و زراعت کی ملاقاتفیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے سعودی وزیر ماحولیات، پانی و زراعت انجینئر عبدالرحمان نے ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔سعودی وزیر نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔سعودی وزیر نے زراعت اور ماحولیاتی پائیداری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی زور

پیٹرول بم اب بم نہ رہا !ویسے حکومتی نابغوں کے شیطانی دماغ کو داد دینا بنتی ہے۔ یہ واقعی میں جینیئس ہیں۔ پاکستانی عوام کی نفسیات کو اس گہرائی سے سمجھتے ہیں، کہ خود عوام کو بھی اپنا اس قدر اندازہ نہ ہوگا۔اب وہ خبر تاریخ کا حصہ بن گئی” حکومت نے عوام پہ پیٹرول بم گرا دیا”.جب سے پیٹرول کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر طے ہونے لگیں ہیں، عوام کی اس حوالے سے حساسیت قریباً ختم ہی ہوچکی۔ ورنہ جب ہفتے وار یا 15 دنوں میں نئی قیمتیں آیا کرتی تھیں، تو عوامی سطح پر ایک شور اٹھتا تھا جسے اب کامیابی سے نیوٹرلائز کرلیا گیا ہےپہلے یہ ہفتہ پندرہ دن میں عوام کو جوتا لگاتے تھے تو عوام تکلیف سے کراہتی تھی۔ اب انھوں نے روز جوتے لگانا شروع کردئیے ہیں تو عوام نے بخوبی “ایڈجسٹ” کرلیا ہے

۔ عوام کو روٹین سے محبت ہے۔ جوتے اب روٹین ہوچکے تو خوشی خوشی کھا رہے ہیں۔ وہاں بچارے جماعتی بیٹھے احتجاج کررہے تو اب انھیں بھی کوئی نہیں پوچھ رہا۔جماعتیوں پر الزام ہے کہ وہ جس مسئلے کو اٹھائیں، وہ مسئلہ کھڈے لائن لگ جاتا ہے۔ حکومتی مسلسل بے حسی کی تازہ ترین مثال پٹرولیم ڈیلروں کو دی جانے والی وہ رعایت ہے، جس کے تحت ہڑتال کی دھمکی پر ڈیلرز مارجن 8.64 روپے سے بڑھا کر 9.98 روپے فی لیٹر (تقریباً 15.5 فیصد اضافہ) کر دیا گیا۔ حیرت یہ نہیں کہ اخراجات بڑھنے پر مارجن بڑھا، بلکہ دکھ اس بات کا ہے کہ اس اضافے کے بدلے میں صارف کو کسی قسم کا کوئی تحفظ نہیں دیا گیا۔ پیٹرولیم ڈویژن نے پہلے اس اضافے کو پمپوں کی ڈیجیٹلائزیشن سے مشروط کیا تھا، لیکن لابی کے دباؤ کے آگے حکومت نے فوری گھٹنے ٹیک دیے اور شرط قربان کر کے رعایت جاری کر دی۔آج کے پاکستان میں 40 لیٹر گنجائش والی گاڑی کے ٹینک میں “فل” کا لفظ صرف پمپ کے میٹر کی ایک تقریبی ریاضی پر منحصر ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

اس پر مستزاد یہ کہ پیٹرول اور ڈیزل میں ملاوٹ نے پنجاب اور بالخصوص لاہور کے سر پر ہر سردیوں میں سموگ کی ایک مستقل قیامت برپا کر رکھی ہے۔ یہ ملاوٹ اندھیرے میں نہیں، بلکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی خاموش سرپرستی میں ہوتی ہے۔ چند سال قبل جب کچھ انجینئرز نے real-time ڈیجیٹل تصدیقی ایپ کا کم لاگت اور انقلابی حل اوگرا کو پیش کیا، تو اتھارٹی کے اعلیٰ حکام نے صاف کہہ دیا کہ منسٹری اس تکنیکی ایمانداری کی متحمل نہیں ہو سکتی۔دو ماہ قبل جب اشرافیہ کے نمائندہ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کو پریس کانفرنس کے لئے بھیجا جاتا ہے،تو وہ موٹے موٹے انگریزی کے الفاظ،جیسے ڈیجیٹلائزیشن،ڈی ریگولیشن،ریفارم روڈ میپ وغیرہ،۔۔ لڑھکاتے لڑھکاتے بڑی خوبصورتی سے قوم کو پیٹرولیم کمپنیوں کی گود میں لڑھکا دیتےہیں۔اس پریس ٹاک کے بعد حکومت واقعی کامیاب ٹہری اور پیٹرولیم کی قیمتوں کا طوق اتار پھینکنے میں کامیاب ہو گئی۔قوم کا کیا ہے،وہ ویسے بھی بے حس ہو چکی ہے،انقلاب کا خمیر تو اس میں ہے نہیں،بس اشرافیہ یونہی مزے لوٹتی رہے گی اور قوم اس کی ادائیگی کرتی رہے گی۔ابھی گندم اور خوراک وافر ہے

،انقلابِ فرانس والی ماریہ انتوئینٹ کے مشہورِ زمانہ قول “اگر روٹی نہیں ملتی تو کیک کھا لیں” کی نوبت آنے کا بھی امکان نہیں۔فلحال اس سارے ڈرامے میں عوام کو اتنا ضرور معلوم ہو گیا کہ ملک کی سب سے اہم اقتصادی شہ رگ، یعنی وزارتِ پیٹرولیم، شاید ہی کبھی کسی ٹیکنوکریٹ یا متعلقہ ماہر کے حصے میں آئی ہو۔ یہ پورٹ فولیو ہمیشہ اس سیاستدان کو بطور انعام دیا جاتا ہے جو الحاق کی بساط پر سب سے زیادہ “کام” کا ہو۔عوام کو دوسری اور غیر اہم بات یہ معلوم ہوئی کہ تیل قیمتوں میں نقصان تو روپوں میں ہوتا ہے،جب کہ فائدہ پیسوں میں ہوتا ہے۔ ادریس عباسی

**l ***سید محسن رضا نقوی کی قیادت میں اسلام آباد کو تجاوزات سے پاک ماڈل دارالحکومت بنانے کی جانب اہم پیش رفت*اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی کی متحرک اور نتیجہ خیز قیادت میں اسلام آباد میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔ مہم کا مقصد سرکاری اراضی و املاک کو غیر قانونی قبضوں سے واگزار کرانا، شہری نظم و ضبط بحال کرنا اور اسلام آباد کو صاف، سرسبز، محفوظ، خوبصورت، ماحول دوست اور سیاحت دوست ماڈل دارالحکومت بنانا ہے۔چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف کی قیادت اور ڈپٹی ڈی جی انفورسمنٹ و چیف ایگزیکٹو آفیسر ایم سی آئی ڈاکٹر انعم فاطمہ کی نگرانی میں سی ڈی اے اور ایم سی آئی کی ٹیمیں مربوط انداز میں انسدادِ تجاوزات آپریشنز انجام دے رہی ہیں۔ اس Whole of Government Approach کے تحت مختلف اداروں کے درمیان مؤثر رابطے سے کارروائی، نگرانی اور فالو اَپ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت غیر قانونی تعمیرات، تجارتی توسیعات، کھوکھوں اور سڑک کنارے اسٹالز، گرین بیلٹس، فٹ پاتھوں، سرکاری اراضی اور رہائشی املاک کے غیر قانونی تجارتی استعمال کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔سیدپور ولیج، نورپور شاہاں، اسلام آباد ایکسپریس وے اور ترنول سمیت مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے نتیجے میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات ختم، قیمتی سرکاری اراضی واگزار اور عوامی گزرگاہیں بحال ہوئی ہیں۔ بازاروں، رہائشی سیکٹرز، سروس روڈز اور گرین بیلٹس میں بھی آپریشن جاری ہے۔مہم کے دوران ہزاروں کنال سرکاری اراضی، املاک اور تجارتی اثاثے، جن کی مالیت اربوں روپے ہے، واگزار کرائے گئے ہیں۔ تجاوزات کے خاتمے سے ٹریفک کی روانی، پیدل گزرگاہوں، گرین بیلٹس، پارکس اور مجموعی شہری ماحول میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔انسدادِ تجاوزات مہم کو عوامی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ شفاف، مسلسل اور بلاامتیاز کارروائیوں کو مؤثر گورننس اور قانون کی یکساں عملداری کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ “Well Done Mohsin Naqvi” کے تاثرات عوامی سطح پر سامنے آ رہے ہیں۔“محسن اسپیڈ” تیز رفتار اور نتیجہ خیز گورننس کی علامت کے طور پر ابھر رہی ہے۔ موجودہ رفتار اور تسلسل برقرار رہا تو اسلام آباد ایک تجاوزات سے پاک، صاف، سرسبز، محفوظ، پائیدار، خوبصورت اور دنیا کے مثالی ماڈل دارالحکومت کے طور پر مزید نمایاں ہوگا۔انسدادِ تجاوزات مہم نہ صرف اسلام آباد کی خوبصورتی اور شہری نظم و ضبط کی بحالی کا ذریعہ بن رہی ہے بلکہ اچھی حکمرانی، قانون کے بلاامتیاز نفاذ، سرکاری اراضی کے تحفظ اور شہری و دیہی ترقی کے حوالے سے پورے ملک کے لیے ایک قابلِ تقلید قومی ماڈل بھی بن سکتی ہے۔*اسلام آباد — تجاوزات سے پاک، صاف، سرسبز، محفوظ اور دنیا کا ماڈل دارالحکومت۔*










