
ایران کے راکٹوں سے سعودی عرب پر حملہ ائیر بیس کنگ فھد ائیر پورٹ تباہ۔۔سعودی عرب قطر بحرین عرب امارات کو اسرائیل کے ساتھ ختم کرینگے زندگی موت خدا کے ھاتھ میں۔سعودی عرب امارات قطر کے فضائی سروس بند قیامت اے گی نھی قیامت آگئی۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر



افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اب معاملات جس نیج پر پہنچ گئے ہیں اس کے کچھ اور نتائج نکلیں گے۔پاکستان اور افغانستان کی ایک لمبی جنگ تو طے تھی، مگر اس قدر جلدی ہونا یہ ایک سوال ہے جنگ کے طے ہونے کی بینادی وجوہات میں سے بڑی وجہ افغانستان کا پاکستان میں جیو اکنامک انٹرسٹ ہے افغانستان میں افغان طالبان کی حکومت ہو یا پھر غیر افغان طالبان کی حکومت ہو انھوں نے ہمیشہ یہی لمبی جنگ چاہی ہے اور پاکستان کے علاقوں پر قبضہ کرنے کا خواب دیکھا ہے لیکن پاکستان نے ہمیشہ اس سے گریز کیا ہے اس کی بنیادی وجہ پاکستان کی فارن پالیسی تھی کہ پاکستان مسلم ممالک کیخلاف جنگ نہیں لڑے گا مگر اب کی صورتحال ایسی بن گئی ہے کہ جنگ کرنا لازمی ہوگیا تھا۔ افغانستان وہ واحد ملک تھا جس نے پاکستان بننے کے بعد اقوام متحدہ میں پاکستانی کی رکنیت کے خلاف ووٹ دیا تھا، اس کے بعد 1950 اور1951 میں افغان قبائل اور باقاعدہ افغان فوج نے پشتونستان کے نام پر پاکستان کے سرحدی علاقوں میں جھڑپیں شروع کیں جسے پاکستان کی جانب سے پسپا کیا گیا تھا اس کے بعد 1960اور 1961میں افغان فوج نے باجوڑ ایجنسی پر حملہ کیا،حملے کا اصل مقصد علاقے پر قبضہ کرنا تھا۔پاکستان نے جوابی کارروائی کی اور فضائیہ سے ائیر سٹرائیک کی تو افغان فوج کو پیچھے دھکیل دیا گیا

۔دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات بھی منقطع ہو گئے تھے۔جب افغان طالبان کا دور حکومت آیا تب انھوں نے حملے نہیں کئے تھے کیونکہ پاکستان نے ان کی حکومت کو تسلیم کیا تھا، 2007 کے بعد پاکستان کے اندر مسلسل حملے شروع ہوئے پھر 2016 میں تورخم میں جھڑپ ہوئی۔ افغان طالبان کے جنگجوؤں نے ڈیورنڈ لائن پر لگی باڑ کو اکھاڑنے کی کئی بار کوشش کی، دسمبر 2022 میں افغان فورسز نے چمن پر بلا اشتعال گولہ باری کی، جس میں کئی پاکستانی شہری شہید اور زخمی ہوئے تھے، ستمبر 2023 اور پھر 2024 میں کئی بار سرحدی چوکیوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی۔اس کے بعد پاکستان نے مذاکرات کا دور شروع کیا پاکستان سے اہم شخصیات کو بھیجا گیا، مگر نتائج کچھ نہیں نکلے۔افغانستان میں امریکی موجودگی ایک سیکیورٹی بلاک تھی، تب تک ایسے حملے نہیں ہوئے۔2021 کے بعد امریکی انخلاء کی وجہ سے ساؤتھ ایشیا میں ایک بڑی جیو پولیٹکس کی شفٹنگ آئی تو افغان طالبان کو لگا کہ وہ اپنے مقاصد پورے کر لیں گے اور وہ اس خطے میں اہم سیکٹر ہیں۔ روس نے افغانستان کو تسلیم کیا،چائنہ اپنا روڈ اینڈ بلٹ انیشٹیو کو سینٹرل ایشائی ممالک میں پھیلانے کیلئے بات چیت کرنے لگا اور انڈیا نے دوبارہ افغانستان میں اثر ورسوخ بڑھانا شروع کیا۔تو افغان طالبان کو محسوس کہ وہ اب اس خطے میں ایمیت رکھتے ہیں اور وہ ایک سٹیک ہولڈر بن گئے ہیں تو انھوں نے پاکستان کیخلاف کام کرنا شروع کر دیا۔ پاکستان نے کئی ممالک کو میڈیٹر بنایا اور مذاکرات کی ٹیبل پر گراؤنڈ بنایا۔

افغان طالبان کو محسوس ہونے لگا کہ وہ سٹیک ہولڈر ہیں،ان کے پاس امریکی انخلاء والا اسلحہ ہے، انٹرنیشنل و لوکل لیول کے دہشت گرد موجود ہیں ، متحدہ عرب امارات، قطر اور انڈیا کی فنڈنگ بھی آ رہی ہے امریکہ سے امدادی رقم بھی پہنچ رہی ہے اور اس کا 60 سے 65 فیصد سیکیورٹی پر لگ رہا ہے تو وہ اب مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں تو انھوں نے جنگ کا راستہ چنا۔ خوش فہمی اکثریت میں مروا دیتی ہے۔پاکستان کو جب محسوس ہو کہ افغان طالبان ہمارے کیخلاف تیار ہو رہے اور ہمارے علاقوں کو اپنا نیشنل انٹرسٹ سمجھ رہے ہیں تو گراؤنڈ بنایا گیا،آج خواجہ آصف بھی تھوڑا کھل کر سامنے آیا اور حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی کو کھل کر چیلنج دیا کہ سچ بتاؤ ہم نے تم کو پالا ہے یا امریکہ نے تمہارے ذمے جو کام لگایا تھا آپ لوگ وہی کر رہے تھے قوم کو سچ بتاؤ۔ افغان طالبان کئی ممالک کی ثالثی کے باوجود باز نہیں آئے۔بنوں میں کرنل کو مار دیا پھر دھماکے کرنا شروع کر دیئے،افغان طالبان کو محسوس ہوا کہ پاکستان پہلے کی طرح نارمل ردعمل دے گا اور ہم اپنا اثرورسوخ بڑھاتے جائیں گے۔پاکستان نے اس بار لمبی جنگ جو طے تھی اس میں جانے کا فیصلہ کیا۔اور افغان طالبان کو تب عقل آئی جب انڈیا کے علاوہ کسی ملک نے پاکستان کی ائیر سٹرائیک کی مذمت نہیں کی۔ یہ پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کا نتیجہ تھا۔جس کی افغان طالبان ، انڈیا ، قطر اور متحدہ عرب امارات کو بھی توقع نہیں تھی۔پاکستان نے امریکہ کو اعتماد میں لیا،ترکیہ اور سعودی عرب کو پہلے اعتماد میں لے چکے تھے قطر نے پاکستان کو راضی کرنے کی ہر ممکن کوشش کی کہ وہ اس فل سکیل وار میں نہ جائیں۔پاکستانی وزیر خارجہ سعودی عرب میں بیٹھا تھا جب پاکستان فل سکیل وار میں چلا گیا۔سعودی عرب اور ترکیہ پاکستان کو ہر ممکنہ مدد فراہم کر رہے ہیں ایران بھی پاکستان کیساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کر رہا ہے کیونکہ افغان طالبان تمام ممالک کیلئے سر درد بن چکے تھے۔ ایرانی سیکیورٹی فورسز نے افغان دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کی جس میں کئی افغانی مارے گئے۔پاکستان تب تک جنگ بندی یا مذاکرات کیطرف نہیں جائے گا جب تک تمام اہداف مکمل نہیں کئے جاتے۔ تحریر:فرحان ملک

ملٹری آپریشن کے سربراہ کی بریفنگ میں ای ایس ای کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک چیف آف جنرل سٹاف عامر رضا ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ واجد عزیز اور فوجی ترجمان شریک

پاکستان کے خلاف کسی بھی ملک کی طرف سے کوئی اشتعال انگیزی یا جارحیت ہوتی ہے تو بغیر کسی خوف اور ڈر کے ہم پاکستان کے دفاع کے لیے ہر حد تک جائینگے۔ یہ صرف حکومت خیبر پختونخوا نہیں بلکہ ہر پاکستانی اپنا قومی فریضہ سمجھتا ہے۔

اندرونی اختلاف اور غلط پالیسیوں پر تنقید کے باوجود بیرونی سازشوں یا جارحیت میں ہم اپنے ملک اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے رہینگے۔وفاقی نمائندوں سے میں نے اپنی آخری ملاقات میں عمران خان صاحب کی دی گئی ہدایات کو آن ریکارڈ لایا تھا۔”اب افغانستان اور قبائلی علاقوں میں امن کے قیام کے لیے تین فریقوں کو ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہو گیا ہے۔

سب سے پہلے پاکستان کے قبائلی علاقوں کی عوام، دوسری افغان حکومت، اور تیسری افغانستان کی عوام- ان تین فریقین کی مدد کے بغیر کوئی کامیاب آپریشن یا پائیدار حل نہیں ہو سکتا۔ “عمران خان”تحریکِ انصاف کے دور حکومت میں بہتر پالیسیوں کے باعث خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں امن قائم ہوا، مگر رجیم چینج کے بعد سے حالات مسلسل بگڑتے جا رہے ہیں۔ میں تین سال سے مسلسل کہتا آیا ہوں کہ ہمیں دانشمندی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ پرامن انداز میں معاملات آگے بڑھانے چاہییں۔ افغانستان سے کشیدہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ نفرت اور تصادم کسی کے مفاد میں نہیں، عوام کے حقیقی نمائندوں کی بنائی ہوئی پالیسیاں ہی دہشتگردی کا دیرپا حل نکال سکتی ہیں۔

“عمران خان عمران خان صاحب کے ان ہدایات کے تناظر میں، میں نے وفاقی نمائندوں کو نیشنل جرگہ بنانے کا مشورہ دیا جس میں صوبائی و وفاقی حکومت کے نمائندے، قبائلی مشران اور تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے مشران شامل ہو۔ یہی واحد راستہ ہے جس سے مسائل بہترین انداز میں حل ہونگے۔ جنگ ہمیشہ آخری آپشن ہونا چاہیے۔ جنگ سے مسائل بڑھتے ہیں کم نہیں ہوتے۔وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کا سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر پیغام

پاکستان افغانستان کے ساتھ بہت اچھا کر رہا ہے ڈونلڈ ٹرمپ
مداخلت نہیں کروں گا
جب بھارت کو مار پڑی تو جنگ رکوا دی
اب افغانستان میں اسکی مرضی سے جنگ ہو رہی ہے کرائے پہ ہائیر کیا ہوا ہے وہ کیوں روکے گا
بس یہ سب عالمی طاقتوں سے کئے گئے معاہدے کا نتیجہ ہے

رمضان کے ماہ میں قتل عام۔۔۔ ہمیشہ سے استعمال ہوئے تاریخ ہے ۔۔۔
جنگی جرائم ،اور ٹرمپ کی جنگ
ٹرمپ اپنے غلاموں کی روز جھوٹی تعریفیں اس لئے کرتا ہے کہ ان سے بڑے بڑے کام لینے ہوتے ہیں
عمران خان باہر ہوتا نہ افغانستان کیساتھ جنگ ہوتی
نہ اسرائیل سے دوستی
نہ خیبرپختنوخواہ میں ملٹری آپریشن نہ معدنیات کا سودا
نہ جنگی جرائم
ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کرنے کا وقت آ گیا ہے، محمد علی درانی. افغانستان ڈیورنڈ لائن کو نہیں مانتا، وقت آ گیا ہے کہ پاکستان بھی اسے ماننے سے انکار کر دے اور واخان کی پٹی کو آزادی دلائے تاکہ پرامن اور خوش حال افغانستان وہاں کے عوام کو مل سکے اسرائیل اور بھارت کی سرپرستی میں افغان حکومت کا پاکستان پر بلاجواز حملہ احسان فراموشی، غیر اسلامی اور عالمی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے، افغان حکومت نے دہشت گردوں کی سرپرستی کا اعتراف کر لیا ہےپاکستان پر کھلی جنگ مسلط کرکے افغان حکومت نے دوحا معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے جس پر معاہدے کے ضامنوں کو افغان حکومت سے جواب دہی کرنی چاہیےاقوام متحدہ کی رپورٹ افغانستان حکومت پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے دنیا کو خبردار کر چکی ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کا مرکز بن چکا ہے جہاں سے خطے اور دنیا کے ممالک میں دہشت گردی کے بڑا واقعہ ہو سکتا ہےافغانستان میں امریکی فوج کا چھوڑا ہوا اسلحہ پوری دنیا کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے، دنیا کو اس اسلحہ کے خاتمے میں پاکستان کی بھرپور مدد کرنی چاہیےپاکستان کے دفاع میں بھرپور جوابی کارروائیوں پر پاکستانی فوج کو خراج تحسینبھارتی وزیراعظم کے دورہ اسرائیل کے دوران افغان حکومت کا پاکستان پر حملہ واضح ثبوت ہے کہ اسرائیل، بھارت اور افغان حکومت کا ٹرائیکا ایک ہی ایجنڈے کا حصہ ہیںملکی سلامتی کو لاحق خطرات اور دہشت گردی کی صورتحال کے پیش نظر ملک میں نیشنل یونٹی گورنمنٹ یا وار کیبنٹ تشکیل دی جائےپی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی ایجنڈے ایک طرف رکھ کر پاکستان کے ایجنڈے پر متحد ہوںسینیئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی کا بیان لاہور: 27 فروری سینیئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا ہے کہ ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کرنے کا وقت آ گیا ہے، افغانستان ڈیورنڈ لائن کو نہیں مانتا، وقت آ گیا ہے کہ پاکستان بھی اسے ماننے سے انکار کر دے اور واخان کی پٹی کو آزادی دلائے تاکہ افغانستان کے عوام کو امن اور خوشحالی مل سکے۔ اپنے بیان میں افغانستان کی طرف سے پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کے افغان حکومت کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور بھارت کی سرپرستی میں افغان حکومت کا پاکستان پر بلاجواز حملہ نہ صرف احسان فراموشی ہے بلکہ غیر اسلامی اور عالمی قانون کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔ یہ اقدام کرکے افغان حکومت نے دہشت گردوں کی سرپرستی کا اعتراف کر لیا ہے۔ پاکستان پر کھلی جنگ مسلط کرکے افغان حکومت نے دوحا معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے جس پر معاہدے کے ضامنوں کو افغان حکومت سے جواب دہی کرنی چاہیے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ پہلے ہی افغانستان حکومت پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے دنیا کو خبردار کر چکی ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کا مرکز بن چکا ہے جہاں سے خطے اور دنیا کے ممالک میں دہشت گردی کے بڑا واقعہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکی فوج کا چھوڑا ہوا اسلحہ پوری دنیا کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ یہ اسلحہ پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے جس کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے۔ دنیا کو اس امریکی اسلحہ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی بھرپور مدد کرنی چاہیے۔محمد علی درانی نے پاکستان کے دفاع میں بھرپور جوابی کارروائیوں پر پاکستانی فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہماری افواج نے ملکی سلامتی اور علاقائی و عالمی امن کے لیے ہمیشہ ذمہ دارانہ اور پروفیشنل فوج کا کردار ادا کیا ہے۔ سینئیر سیاستدان نے کہاکہ بھارتی وزیراعظم کے دورہ اسرائیل کے دوران افغان حکومت کا پاکستان پر حملہ واضح ثبوت ہے کہ اسرائیل، بھارت اور افغان حکومت کا ٹرائیکا ایک ہی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ ملکی سلامتی کو لاحق خطرات اور دہشت گردی کی صورتحال کے پیش نظر ملک میں نیشنل یونٹی گورنمنٹ یا وار کیبنٹ تشکیل دی جائے تاکہ مکمل اتحاد اور قومی سطح پر ایک سوچ کے ساتھ قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں پر بھی زور دیا کہ اپنے سیاسی ایجنڈے کو ایک طرف رکھ کر پاکستان کے ایجنڈے پر متحد ہوں۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ ہوئی تو چار گھنٹوں میں پوری دنیا حرکت میں آگئی، حتیٰ کہ امریکہ نے بھی حرکت شروع کی۔ مگر دو مسلمان ممالک کے درمیان کئی دنوں سے لڑائی جاری ہے جو آج شدت اختیار کر گئی ہے، لیکن کوئی بھی اس کے بیچ نہیں آتا اور نہ ہی ان میں صلح کی کوشش کرتا ہے۔ اسی لیے مسلمانوں کو سوچنا پڑے گا کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔افغان حکومت نے آفیشل طور پر جنگ کا اعلان کردیا ہے وہ انڈیا اور اسرائیل کے ہاتھوں کھلونہ بنا ھوا ھےیاد رھے کے عام افغانی طالبان کے اس عمل کے خلاف ہیں۔،مشرقی بارڈر پر شدید حملےپاک فوج کا جوابی کارروائی دونوں اطراف لڑائی میں فائدہ یہود و ہنود کو ہی ہیں نہ کہ ان دونوں مسلم ممالک میں سے کسی کا
*Operation Ghazab Lil Haq/ Update1050 hr 27 Feb 2026:*🚨🚨 *پاک افغان بارڈر/فائرنگ اپڈیٹ /* پاکستان سیکیورٹی فورسز کی افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کیخلاف بھرپور جوابی کارروائی جاری *، سیکیورٹی ذرائع*پاک فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کے انگور اڈہ سیکٹر میں افغانی پوسٹوں کو بھاری نقصان کاسامنا *، سیکیورٹی ذرائع*افغان چارلی پوسٹ اور افغان بابری پوسٹ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا *، سیکیورٹی ذرائع*
*Operation Ghazab Lil Haq/ Update1003hr 27 Feb 2026:* *ٹاپ بریکنگ* 🚨🚨 *پاک افغان بارڈر/فائرنگ اپڈیٹ / پکتیا پوسٹس*پاک فوج کا افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا بھرپور اور مؤثر انداز میں منہ توڑ جواب جاری، *سیکیورٹی ذرائع*پاکستان نے جنوبی وزیرستان کے مقابل افغانستان کے پکتیا کے علاقے میں پانچ افغان پوسٹوں پر قبضہ کر کے پاکستان کا جھنڈا لگا دیا، *سیکیورٹی ذرائع*قبضے میں آنے والی پوسٹوں میں دو شوال کے مقابل ، دو انگور اڈہ کے مقابل اور ایک زرملان کے مقابل میں ہیں، *سیکیورٹی ذرائع*پاک فوج نے مؤثر کاروائی کے دوران انگور اڈہ کا افغانی ٹرمینل بھی تباہ کر دیا، *سیکیورٹی ذرائع*پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے بھرپور اور طاقتور جواب میں افغان طالبان فورسز کو بھاری نقصان کا سامنا ہے، *سیکیورٹی ذرائع*
*Operation Ghazab Lil Haq* / Update 0900 hr 27 Feb 2026:🚨🚨 *پاک افغان بارڈر/فائرنگ اپڈیٹ/خوست* پاک فوج کا افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا بھرپور اور مؤثر انداز میں منہ توڑ جواب جاری ، *سیکیورٹی ذرائع*پاکستان کی مسلح افواج نے پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی متعدد اہم پوسٹس کو مکمل تباہ کر دیا ، *سیکیورٹی ذرائع* پاکستان کی فیصلہ کن کارروائی کی بعد افغان طالبان فوج نے متعدد بار پوسٹوں پر سفید جھنڈا بھی لہرایا ، *سیکیورٹی ذرائع* سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان فورسز کو آرٹلری اور کوارڈ کاپٹر کے ذریعےمؤثر انداز میں نشانہ بنایا ، *سیکیورٹی ذرائع*

عمران خان بدترین حالات میں ہیں ، انکی اپنے بیٹوں سے بات نہیں کرائی جا رہی،وہ بیمار ہیں انہیں ڈاکٹر تک رسائی نہیں دی جا رہی۔انکی صحت تیزی سےگر رہی ہے۔میرا حکومت برطانیہ سے مطالبہ ہے پاکستان کو دی جانے والی امداد پر نظر ثانی کرے کیونکہ پاکستان کامن ویلتھ چارٹر کا دستخطی ہے جس چارٹر کے تحت انسانی حقوق کی پاسداری پہلی ترجیح ہوتی ہے لیکن پاکستان ایسا نہیں کر رہا۔جمائمہ خان کے بھائی زیگ گولڈ سمتھ کی برطانوی حکومت سے اپیل۔
اڈیالہ جیل کے باہر شفیع جان ،مینا خان آفریدی اور شاہد خٹک کو پولیس نے روک دیاآج شفیع جان ،مینا خان آفریدی اور شاہد خٹک کا چیئرمین عمران خان صاحب سے ملاقات کا دن ھے
جنرل آف میڈیاپریس ریلیزعالمی چیلنجز کے تناظر میں مؤثر حکمرانی کے لیے پارلیمنٹ کو مضبوط بنانا ہوگا، اسپیکر سردار ایاز صادقپارلیمنٹ کی مضبوطی، شفافیت اور ڈیجیٹل حقوق قومی ترقی کی ضمانت، اسپیکر قومی اسمبلی کا اہم پیغام

اسلام آباد، 26 فروری 2026ء؛ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پاکستان گورننس فورم 2026 کے پلینری سیشن بعنوان “مؤثر طرزِ حکمرانی (گورننس) کے لیے پارلیمنٹ کا استحکام” سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مؤثر حکمرانی کی بنیاد مضبوط پارلیمنٹ ہے اور پاکستان کو بدلتی عالمی صورتِ حال میں اپنے ریاستی و جمہوری اداروں کو مستحکم کرنا ہوگا۔ یہ دو روزہ فورم وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے زیر اہتمام 25 تا 26 فروری 2026 کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔انہوں نے کہا کہ عالمی نظام تیزی سے بدل رہا ہے، طاقت کے توازن تبدیل ہو رہے ہیں اور ٹیکنالوجی حکمرانی کے روایتی ڈھانچوں کو ازسرِ نو متعین کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کو اپنی پارلیمانی اور انتظامی صلاحیتیں مضبوط کر کے چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا۔اسپیکر نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ایمپلائز (ترمیمی) ایکٹ 2026 کے تحت انتظامی و مالی اختیارات کو شخصی صوابدید سے نکال کر کثیر الجماعتی فنانس کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا، جس سے شفافیت اور اجتماعی نگرانی کو فروغ ملا۔انہوں نے کہا کہ ہیومن ریسورس اصلاحات کے ذریعے غیر ضروری آسامیوں کا خاتمہ، جدید مہارتوں کا فروغ اور ڈیجیٹل ہیومن ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے نفاذ سے کارکردگی میں بہتری آئی۔ ان اصلاحات سے سالانہ تقریباً 140 ملین روپے کی بچت ہوئی، جبکہ مقدمات میں کمی کے باعث مزید مالی بچت بھی ممکن ہوئی۔اسپیکر نے بتایا کہ مالی نظم و ضبط کو مضبوط کر کے انٹرنل آڈٹ اور عوامی مالیاتی نظم و نسق کے قانون پر عمل درآمد یقینی بنایا گیا، جس سے مالی سال 2024-25 میں 3.172 ارب روپے کی مجموعی بچت ہوئی۔انہوں نے کہا کہ آرگینوگرام کے نفاذ سے اقربا پروری کی جگہ پیشہ ورانہ معیار آیا، بروقت ترقیوں کے ذریعے شفاف اور میرٹ پر مبنی نظام قائم ہوا، جبکہ کلیدی کارکردگی اشاریے اور تربیتی پروگرامز سے سیکرٹریٹ کی استعداد کار مزید بہتر بنائی جا رہی ہے۔ ای سیکرٹریٹ کے نفاذ سے فائلنگ، پروکیورمنٹ، وزیٹر مینجمنٹ اور سکیورٹی کے تمام عمل الیکٹرانک ہو گئے ہیں۔اسپیکر نے بتایا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ 2015 سے شمسی توانائی استعمال کر کے دنیا کی پہلی سو فیصد گرین پارلیمنٹ بن چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ مؤثر حکمرانی صرف داخلی اصلاحات تک محدود نہیں بلکہ مضبوط قانون سازی بھی اس کی بنیاد ہے۔ پارلیمنٹ نے شفافیت، احتساب اور مالی نظم و ضبط کے لیے متعدد قوانین مضبوط کیے؛ رائٹ ٹو انفارمیشن نے شہریوں کو نگرانی کا اختیار دیا جبکہ پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ نے مالیاتی نظم کو مؤثر بنایا۔اسپیکر نے کہا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے بجٹ کا تفصیلی جائزہ لے کر سفارشات پیش کیں، جس سے بجٹ پارلیمانی دستاویز کی حیثیت اختیار کر گیا۔ پارلیمانی نگرانی آئینی ذمہ داری ہے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی فعال کارکردگی سے واضح پیغام جاتا ہے کہ کوئی اختیار بلا نگرانی نہیں۔انہوں نے کہا کہ خواتین، بچوں، نوجوانوں اور پائیدار ترقیاتی اہداف سے متعلق پارلیمانی فورمز سے پالیسی سازی میں شمولیت کو وسعت دی گئی ہے، اور نوجوانوں کو پروگرامز، انٹرن شپس اور عوامی رابطہ اقدامات کے ذریعے جمہوری عمل سے جوڑا جا رہا ہے۔عالمی منظرنامے پر گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ دنیا گہرے تغیر کے مرحلے سے گزر رہی ہے، مصنوعی ذہانت معیشت اور سیاست کو نئی شکل دے رہی ہے، لیکن ضابطہ جاتی ڈھانچے پیچھے ہیں اور اخلاقی سوالات بڑھ رہے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کو عالمی معیارات میں مؤثر آواز کے ساتھ شامل ہونا ضروری ہے اور پارلیمانوں کو ڈیٹا تحفظ، ڈیجیٹل حقوق اور ذمہ دارانہ جدت سے متعلق قانون سازی کی صلاحیت مضبوط کرنی ہوگی، ورنہ عدم مساوات بڑھے گی، جبکہ دانشمندانہ قانون سازی نئے مواقع کھول سکتی ہے۔اسپیکر نے پارلیمانی سفارت کاری کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی پارلیمانی فورمز میں فعال شرکت سے پاکستان کی جمہوری شناخت اور بین الاقوامی تعاون کو تقویت مل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مستحکم پارلیمنٹ، مضبوط جمہوریت اور مؤثر حکمرانی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں اور قومی اداروں کی مضبوطی ہی عالمی سطح پر پاکستان کے وقار کو بلند کرے گی۔

پاکستان نے افغان طالبان رجیم کےخلاف آپریشن غضب للحق کا آغاز کردیاپاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں فائرن*گ اور جھڑپوں کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے مختلف مقامات پر مبینہ بلااشتعال فائ*رنگ اور حم*لوں کے بعد پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کی۔ذرائع کے مطابق چترال سے لے کر خیبرپختونخوا کے دیگر سرحدی سیکٹرز ناوگئی (باجوڑ)، تیراہ (خیبر)، ضلع مہمند اور ارندو میں پاکستانی فورسز نے مؤثر انداز میں دشمن کی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا۔ باجوڑ اور چترال کے علاقوں میں افغان چیک پوسٹوں کی تباہی کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ افغان طال*بان نے کواڈ کاپٹرز کے ذریعے پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام ڈرونز مار گرائے گئے۔ جوابی کارروائی میں چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ ڈرونز کے ذریعے بھی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ذرائع کے مطابق کارروائی کے نتیجے میں افغان طالبان کے 22 اہلکاروں کی ہلاک*ت کی اطلاعات ہیں،

جبکہ متعدد ٹھکانے تباہ کیے گئے۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو مکمل طور پر الرٹ اور کسی بھی جارحیت کا فوری اور سخت جواب دینے کے لیے تیار قرار دیا گیا ہے۔سیکیورٹی ذرائع نے یہ بھی کہا ہے کہ افغان طال*بان کی جانب سے سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوؤں اور جعلی ویڈیوز کے ذریعے صورتحال کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
*پاک فوج کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد افغان طالبان کے سول آبادی پر حملے*
قومی اسمبلی
چیلنجز کے تناظر میں مؤثر حکمرانی کے لیے پارلیمنٹ کو مضبوط بنانا ہوگا، اسپیکر سردار ایاز صادقپارلیمنٹ کی مضبوطی، شفافیت اور ڈیجیٹل حقوق قومی ترقی کی ضمانت، اسپیکر قومی اسمبلی کا اہم پیغاماسلام آباد، 26 فروری 2026ء؛ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پاکستان گورننس فورم 2026 کے پلینری سیشن بعنوان “مؤثر طرزِ حکمرانی (گورننس) کے لیے پارلیمنٹ کا استحکام” سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مؤثر حکمرانی کی بنیاد مضبوط پارلیمنٹ ہے اور پاکستان کو بدلتی عالمی صورتِ حال میں اپنے ریاستی و جمہوری اداروں کو مستحکم کرنا ہوگا۔ یہ دو روزہ فورم وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے زیر اہتمام 25 تا 26 فروری 2026 کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔انہوں نے کہا کہ عالمی نظام تیزی سے بدل رہا ہے، طاقت کے توازن تبدیل ہو رہے ہیں اور ٹیکنالوجی حکمرانی کے روایتی ڈھانچوں کو ازسرِ نو متعین کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کو اپنی پارلیمانی اور انتظامی صلاحیتیں مضبوط کر کے چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا۔اسپیکر نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ایمپلائز (ترمیمی) ایکٹ 2026 کے تحت انتظامی و مالی اختیارات کو شخصی صوابدید سے نکال کر کثیر الجماعتی فنانس کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا، جس سے شفافیت اور اجتماعی نگرانی کو فروغ ملا۔انہوں نے کہا کہ ہیومن ریسورس اصلاحات کے ذریعے غیر ضروری آسامیوں کا خاتمہ، جدید مہارتوں کا فروغ اور ڈیجیٹل ہیومن ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے نفاذ سے کارکردگی میں بہتری آئی۔ ان اصلاحات سے سالانہ تقریباً 140 ملین روپے کی بچت ہوئی، جبکہ مقدمات میں کمی کے باعث مزید مالی بچت بھی ممکن ہوئی۔اسپیکر نے بتایا کہ مالی نظم و ضبط کو مضبوط کر کے انٹرنل آڈٹ اور عوامی مالیاتی نظم و نسق کے قانون پر عمل درآمد یقینی بنایا گیا، جس سے مالی سال 2024-25 میں 3.172 ارب روپے کی مجموعی بچت ہوئی۔انہوں نے کہا کہ آرگینوگرام کے نفاذ سے اقربا پروری کی جگہ پیشہ ورانہ معیار آیا، بروقت ترقیوں کے ذریعے شفاف اور میرٹ پر مبنی نظام قائم ہوا، جبکہ کلیدی کارکردگی اشاریے اور تربیتی پروگرامز سے سیکرٹریٹ کی استعداد کار مزید بہتر بنائی جا رہی ہے۔ ای سیکرٹریٹ کے نفاذ سے فائلنگ، پروکیورمنٹ، وزیٹر مینجمنٹ اور سکیورٹی کے تمام عمل الیکٹرانک ہو گئے ہیں۔اسپیکر نے بتایا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ 2015 سے شمسی توانائی استعمال کر کے دنیا کی پہلی سو فیصد گرین پارلیمنٹ بن چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ مؤثر حکمرانی صرف داخلی اصلاحات تک محدود نہیں بلکہ مضبوط قانون سازی بھی اس کی بنیاد ہے۔ پارلیمنٹ نے شفافیت، احتساب اور مالی نظم و ضبط کے لیے متعدد قوانین مضبوط کیے؛ رائٹ ٹو انفارمیشن نے شہریوں کو نگرانی کا اختیار دیا جبکہ پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ نے مالیاتی نظم کو مؤثر بنایا۔اسپیکر نے کہا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے بجٹ کا تفصیلی جائزہ لے کر سفارشات پیش کیں، جس سے بجٹ پارلیمانی دستاویز کی حیثیت اختیار کر گیا۔ پارلیمانی نگرانی آئینی ذمہ داری ہے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی فعال کارکردگی سے واضح پیغام جاتا ہے کہ کوئی اختیار بلا نگرانی نہیں۔انہوں نے کہا کہ خواتین، بچوں، نوجوانوں اور پائیدار ترقیاتی اہداف سے متعلق پارلیمانی فورمز سے پالیسی سازی میں شمولیت کو وسعت دی گئی ہے، اور نوجوانوں کو پروگرامز، انٹرن شپس اور عوامی رابطہ اقدامات کے ذریعے جمہوری عمل سے جوڑا جا رہا ہے۔عالمی منظرنامے پر گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ دنیا گہرے تغیر کے مرحلے سے گزر رہی ہے، مصنوعی ذہانت معیشت اور سیاست کو نئی شکل دے رہی ہے، لیکن ضابطہ جاتی ڈھانچے پیچھے ہیں اور اخلاقی سوالات بڑھ رہے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کو عالمی معیارات میں مؤثر آواز کے ساتھ شامل ہونا ضروری ہے اور پارلیمانوں کو ڈیٹا تحفظ، ڈیجیٹل حقوق اور ذمہ دارانہ جدت سے متعلق قانون سازی کی صلاحیت مضبوط کرنی ہوگی، ورنہ عدم مساوات بڑھے گی، جبکہ دانشمندانہ قانون سازی نئے مواقع کھول سکتی ہے۔اسپیکر نے پارلیمانی سفارت کاری کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی پارلیمانی فورمز میں فعال شرکت سے پاکستان کی جمہوری شناخت اور بین الاقوامی تعاون کو تقویت مل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مستحکم پارلیمنٹ، مضبوط جمہوریت اور مؤثر حکمرانی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں اور قومی اداروں کی مضبوطی ہی عالمی سطح پر پاکستان کے وقار کو بلند کرے گی۔