
پاکستان نے افغان طالبان رجیم کےخلاف آپریشن غضب للحق کا آغاز کردیاپاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں فائرن*گ اور جھڑپوں کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے مختلف مقامات پر مبینہ بلااشتعال فائ*رنگ اور حم*لوں کے بعد پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کی۔ذرائع کے مطابق چترال سے لے کر خیبرپختونخوا کے دیگر سرحدی سیکٹرز ناوگئی (باجوڑ)، تیراہ (خیبر)، ضلع مہمند اور ارندو میں پاکستانی فورسز نے مؤثر انداز میں دشمن کی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا۔ باجوڑ اور چترال کے علاقوں میں افغان چیک پوسٹوں کی تباہی کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ افغان طال*بان نے کواڈ کاپٹرز کے ذریعے پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام ڈرونز مار گرائے گئے۔ جوابی کارروائی میں چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ ڈرونز کے ذریعے بھی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ذرائع کے مطابق کارروائی کے نتیجے میں افغان طالبان کے 22 اہلکاروں کی ہلاک*ت کی اطلاعات ہیں،

جبکہ متعدد ٹھکانے تباہ کیے گئے۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو مکمل طور پر الرٹ اور کسی بھی جارحیت کا فوری اور سخت جواب دینے کے لیے تیار قرار دیا گیا ہے۔سیکیورٹی ذرائع نے یہ بھی کہا ہے کہ افغان طال*بان کی جانب سے سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوؤں اور جعلی ویڈیوز کے ذریعے صورتحال کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
*پاک فوج کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد افغان طالبان کے سول آبادی پر حملے*










