موٹروے پر خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر فضل شکور کی مبینہ گرفتاری، گاڑی پر فائرنگ کی ویڈیو سامنے آگئیپشاور، 21 ستمبر 2026: خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر فضل شکور خان کو موٹروے پر مبینہ طور پر حراست میں لیے جانے کی ویڈیو منظرعام پر آگئی ہے، جس میں سادہ کپڑوں اور نقاب میں ملبوس مسلح افراد کو ایک گاڑی کے قریب دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو سے متعلق سوشل میڈیا پر مختلف دعوے سامنے آئے ہیں، تاہم واقعے کی مکمل آزادانہ اور سرکاری تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔پاکستان تحریک انصاف کے رکن خیبرپختونخوا اسمبلی عبدالغنی آفریدی کے مطابق صوبائی وزیر فضل شکور خان کی سرکاری گاڑی کو موٹروے پر روکا گیا۔ ان کے دعوے کے مطابق نقاب پوش افراد نے کلاشنکوف سے گاڑی کے ٹائروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ٹائر پھٹ گئے

جبکہ گاڑی کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ بعد ازاں فضل شکور خان کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔واقعے کی مبینہ تفصیلاتدستیاب ویڈیو میں ایسے افراد دکھائی دیتے ہیں جو سادہ لباس میں ہیں اور بعض نے چہرے ڈھانپ رکھے ہیں۔ ویڈیو کے بارے میں سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ کارروائی فضل شکور خان کی گاڑی کو روکنے کے دوران ہوئی۔عبدالغنی آفریدی نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ گاڑی کو مبینہ طور پر بلاجواز روکا گیا اور مسلح افراد نے فائرنگ کرکے اسے روکنے پر مجبور کیا۔ ان کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی کے ٹائر پھٹ گئے اور شیشے ٹوٹ گئے، جس کے بعد وزیر کو حراست میں لے لیا گیا۔تاہم، یہ بات ابھی آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوئی کہ ویڈیو میں موجود افراد کون تھے، کس ادارے سے تعلق رکھتے تھے اور انہیں صوبائی وزیر کو حراست میں لینے کا قانونی اختیار حاصل تھا یا نہیں۔ اسی طرح فائرنگ کس مقام پر ہوئی، اس کا درست وقت کیا تھا اور فائرنگ میں کتنے راؤنڈ فائر کیے گئے، اس حوالے سے بھی سرکاری تفصیلات سامنے نہیں آئیں

۔عبدالغنی آفریدی کا مؤقفعبدالغنی آفریدی نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک منتخب صوبائی وزیر کے ساتھ اس نوعیت کا سلوک کیا جاتا ہے تو عام شہریوں کے جان و مال اور عزت کے تحفظ سے متعلق سوالات پیدا ہوتے ہیں۔انہوں نے سیاسی اختلافات کو طاقت کے بجائے آئینی اور جمہوری طریقے سے حل کرنے پر زور دیا اور کہا کہ سیاسی اختلاف رائے کو بندوق، گولی یا ڈنڈے کے ذریعے دبانے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔ایک مختلف دعویٰ بھی سامنے آگیا

واقعے کے حوالے سے ایک دوسری رپورٹ میں مختلف مؤقف سامنے آیا ہے۔ The Pakistan Connect کی رپورٹ کے مطابق فضل شکور کو پشاور موٹروے کے ایک چیک پوائنٹ پر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے تلاشی کے لیے روکا تھا اور الزام لگایا گیا کہ گاڑی نہ روکنے پر فضل شکور کے محافظوں نے پولیس پر فائرنگ کی۔یہ دعویٰ پہلے بیان کردہ مؤقف سے مختلف ہے، جس میں گاڑی پر مسلح افراد کی جانب سے فائرنگ اور صوبائی وزیر کو مبینہ طور پر اٹھائے جانے کی بات کی گئی ہے۔اس مرحلے پر دونوں متضاد دعوؤں میں سے کسی ایک کو حتمی واقعہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ واقعے کی حقیقت جاننے کے لیے پولیس، موٹروے پولیس یا دیگر متعلقہ حکام کا باضابطہ بیان، ایف آئی آر، گرفتاری کا ریکارڈ، موقع کی تفتیش اور ویڈیو کی فرانزک جانچ اہم ہوگی۔سیاسی پس منظریہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف اور وفاقی و پنجاب حکومتوں کے درمیان سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔ حالیہ دنوں میں خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی لاہور میں مبینہ حراست کے معاملے پر بھی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان متضاد مؤقف سامنے آئے تھے۔ پنجاب حکومت نے وزیراعلیٰ کو گرفتار کیے جانے کے دعوے کو مسترد کیا تھا
جبکہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے اسے غیر آئینی اقدام قرار دیا تھا۔21 ستمبر کو خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کیا جائے گا اور ان کے مطابق وزرا کی گرفتاری سے سیاسی تحریک نہیں رکے گی۔ انہوں نے احتجاج کو پُرامن رکھنے پر زور دیا۔اسی سیاسی ماحول میں فضل شکور کی مبینہ گرفتاری کی ویڈیو نے معاملے کی حساسیت میں اضافہ کر دیا ہے۔اہم سوالاتاس واقعے کے حوالے سے کئی بنیادی سوالات ابھی جواب طلب ہیں:1. فضل شکور خان کو کس قانون کے تحت روکا یا حراست میں لیا گیا؟2. گاڑی پر فائرنگ کرنے والے افراد کس ادارے سے تعلق رکھتے تھے؟3. کیا وہ پولیس، کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے یا کسی دوسرے سرکاری محکمے کے اہلکار تھے؟4. کیا فائرنگ سے پہلے گاڑی کو روکنے کے لیے قانونی طریقہ کار اختیار کیا گیا؟5. کیا فائرنگ کے نتیجے میں کوئی شخص زخمی ہوا؟6. فضل شکور خان اس وقت کہاں ہیں اور ان کی قانونی حیثیت کیا ہے؟7. کیا ان کے خلاف کوئی مقدمہ یا ایف آئی آر درج کی گئی ہے؟8. کیا گاڑی، گولیوں کے خول اور ویڈیو کو فرانزک تفتیش کے لیے محفوظ کیا گیا ہے؟9. ویڈیو کب اور کہاں ریکارڈ ہوئی اور کیا اس کی صداقت کی تصدیق ہوئی ہے؟10. واقعے کے حوالے سے موٹروے پولیس، خیبرپختونخوا پولیس یا دیگر متعلقہ ادارے کیا مؤقف رکھتے ہیں؟تجزیہ: اصل اہمیت کیا ہے؟اس واقعے کی اہمیت صرف ایک صوبائی وزیر کی مبینہ گرفتاری تک محدود نہیں۔ اگر ویڈیو اور فائرنگ سے متعلق دعوے سرکاری تحقیقات میں درست ثابت ہوتے ہیں تو معاملہ قانون نافذ کرنے کے طریقہ کار، منتخب نمائندے کی گرفتاری، سرکاری گاڑی پر فائرنگ اور شہریوں کے بنیادی قانونی حقوق سے متعلق سنجیدہ سوالات اٹھائے گا۔دوسری جانب اگر سرکاری تحقیقات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ گاڑی کو کسی قانونی چیکنگ یا کارروائی کے لیے روکا گیا تھا اور مزاحمت یا محافظوں کی فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، تو معاملے کی نوعیت بالکل مختلف ہوگی۔ اسی لیے اس وقت ویڈیو کو حتمی ثبوت سمجھنے کے بجائے اسے تحقیق کا اہم مگر غیرحتمی ذریعہ سمجھنا زیادہ مناسب ہے

۔واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات میں گاڑی کا معائنہ، فائرنگ کے شواہد، گولیوں کے خول، سی سی ٹی وی یا موٹروے کی نگرانی کیمروں کی ریکارڈنگ، موبائل فون ویڈیوز، اہلکاروں کے باڈی کیم فوٹیج، ایف آئی آر اور گرفتار شخص کا قانونی ریکارڈ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔تازہ ترین صورتحال21 ستمبر کی دستیاب رپورٹنگ کے مطابق فضل شکور خان کی مبینہ گرفتاری اور فائرنگ کی ویڈیو پر سیاسی ردعمل سامنے آ چکا ہے، لیکن واقعے کی مکمل سرکاری تفصیلات اور حتمی قانونی حیثیت ابھی واضح نہیں۔ اس لیے خبر کو فی الحال “مبینہ گرفتاری” اور “فائرنگ کے دعوے” کے طور پر ہی رپورٹ کرنا محتاط صحافتی طرزِ عمل ہوگا۔خبر کی حتمی اپ ڈیٹ میں پولیس، موٹروے پولیس، صوبائی حکومت اور فضل شکور خان یا ان کے وکیل کا مؤقف شامل کیا جانا ضروری ہوگا۔
حوثیوں کی پاکستان اور ترکیہ کو سخت وارننگ: مکہ دفاعی معاہدہ یمن کے بحران میں نئے امتحان سے دوچاراسلام آباد/انقرہ/صنعا — 21 ستمبر 2026یمن میں سعودی عرب اور حوثی تحریک کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے اب پاکستان اور ترکیہ کو بھی براہِ راست علاقائی سکیورٹی کے سوالات کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان یا ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر یمن میں براہِ راست فوجی کارروائی کرتے ہیں تو حوثی اس کے خلاف سخت ردعمل دینے کی کوشش کریں گے۔ یہ وارننگ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب سعودی عرب پر حوثی میزائل اور ڈرون حملوں اور اس کے جواب میں سعودی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔تاہم موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے ایک بنیادی فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے: حوثیوں کی وارننگ ایک ممکنہ صورتحال کے بارے میں ہے، جبکہ پاکستان یا ترکیہ کی جانب سے یمن میں براہِ راست جنگی فوج بھیجنے کا کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔ پاکستان کی سرکاری پوزیشن میں سعودی عرب کی سلامتی کی حمایت کے ساتھ ساتھ علاقائی کشیدگی کم کرنے، سفارت کاری اور مذاکرات پر بھی زور دیا گیا ہے۔مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے؟7 اگست 2026 کو سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں Makkah Joint Defence Agreement پر دستخط کیے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے مشترکہ دفاع، اجتماعی سلامتی اور باہمی دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کا عزم کیا۔ معاہدے کی اہم شق یہ ہے کہ کسی ایک رکن کے خلاف مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملے کے طور پر دیکھا جائے گا۔پاکستانی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ بنیادی طور پر دفاعی نوعیت رکھتا ہے
۔ 31 اگست کو استنبول میں اس معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں تینوں ممالک نے علاقائی امن، کشیدگی میں کمی، بحرانوں کے پرامن حل اور اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ اسی عمل کے تحت سعودی عرب میں ایک سیکریٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا، جس کی ابتدائی سربراہی تین سال کے لیے پاکستان کے ایک سیکریٹری جنرل کے پاس ہوگی۔اس لیے معاہدے کو خودکار طور پر یمن میں تینوں ممالک کی مشترکہ جنگ کا اعلان سمجھنا درست نہیں ہوگا۔پاکستان کا مؤقف کیا ہے؟پاکستان نے حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب پر حوثی حملوں کی متعدد مرتبہ مذمت کی ہے۔8 ستمبر کو پاکستانی وزارتِ خارجہ نے سعودی شہروں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے حمایت کا اعادہ کیا۔ اسلام آباد نے یہ بھی کہا کہ وہ یمن کے تنازعے کے مستقل اور پُرامن حل کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔12 ستمبر کو سعودی عرب کی مشرقی-مغربی تیل پائپ لائن پر ڈرون حملوں کے بعد بھی پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور حملوں کو علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔16 ستمبر کو مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے والے مبینہ حوثی ڈرون حملے کے بعد پاکستانی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی شدید مذمت کی اور حرمین شریفین کی سلامتی کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔لیکن یہاں بھی سعودی عرب کی حمایت اور یمن کے اندر براہِ راست فوجی کارروائی دو الگ معاملات ہیں۔10 ستمبر کو پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مکہ معاہدے کے حوالے سے سوالات کے جواب میں کہا تھا کہ یہ دفاعی اتحاد ہے، جبکہ 17 ستمبر کے بعد بھی سرکاری مؤقف میں اجتماعی دفاع، مشاورت اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کی بات جاری رہی۔ترکیہ کا مؤقف نسبتاً واضح کیوں نظر آتا ہے؟ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے 19 ستمبر کو کہا کہ سعودی عرب کو حوثی حملوں کے باعث بعض فوجی ضروریات، خصوصاً تکنیکی شعبے میں، درپیش ہوسکتی ہیں اور ترکیہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت ان ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔تاہم فیدان نے یہ نہیں کہا کہ ترکیہ یمن میں جنگی فوج بھیجنے کا فیصلہ کر چکا ہے، اور نہ ہی انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے کسی مخصوص فوجی درخواست کی تفصیلات بیان کیں۔ اسی لیے ان کے بیان کو ممکنہ دفاعی یا تکنیکی معاونت کی پیشکش کے طور پر سمجھنا زیادہ درست ہے، نہ کہ یمن میں براہِ راست ترک فوجی مداخلت کے اعلان کے طور پر۔ممکنہ معاونت کے بارے میں تجزیوں میں فضائی دفاع، ڈرون مخالف نظام، ریڈار، نگرانی اور الیکٹرانک وارفیئر جیسے شعبوں کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن یہ مخصوص شعبے سرکاری طور پر سعودی درخواست کے طور پر بیان نہیں کیے گئے۔محمد البخیتی کی وارننگ کی اہمیتحوثی رہنما محمد البخیتی کا پیغام بنیادی طور پر ایک deterrence warning یعنی ممکنہ بیرونی فوجی مداخلت کو روکنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔حوثیوں کا پیغام یہ ہے کہ اگر پاکستان یا ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر یمن میں براہِ راست جنگی کردار اختیار کرتے ہیں تو وہ انہیں بھی تنازعے کا فریق سمجھیں گے۔یہ بیان خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کے بعد سعودی عرب کو درپیش کسی بڑے حملے کی صورت میں پاکستان اور ترکیہ پر سیاسی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ دوسری طرف، حوثیوں کی دھمکی کا مقصد ممکنہ طور پر یہی پیغام دینا ہے کہ سعودی عرب کی مدد کا دائرہ اگر دفاعی امداد سے بڑھ کر یمن کے اندر حملوں تک جاتا ہے تو اس کے نتائج تینوں ممالک کے لیے مختلف نوعیت کے ہوسکتے ہیں۔اصل سوال: کیا مکہ معاہدہ پاکستان کو یمن بھیج سکتا ہے؟اس سوال کا جواب فی الحال خودکار ہاں یا خودکار نہیں کی صورت میں دینا مشکل ہے۔معاہدہ اجتماعی دفاع کی بنیاد فراہم کرتا ہے، لیکن عملی ردعمل کی نوعیت اس بات پر منحصر ہوگی کہ:- سعودی عرب پر حملے کی نوعیت کیا ہے؛- سعودی حکومت کس قسم کی مدد طلب کرتی ہے؛- تینوں حکومتیں اس درخواست کو کس طرح دیکھتی ہیں؛- دفاعی مدد سعودی سرزمین کے دفاع تک محدود رہتی ہے یا یمن کے اندر کارروائی تک پہنچتی ہے؛- اور سیاسی، قانونی اور سفارتی سطح پر اس اقدام کے لیے کیا فیصلے کیے جاتے ہیں۔پاکستانی وزارتِ خارجہ نے بھی واضح کیا ہے کہ مکہ معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان مشاورت جاری ہے اور اس کا مقصد علاقائی امن، استحکام اور اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔یمن کے اندر صورتحال کیوں زیادہ خطرناک ہو رہی ہے؟موجودہ بحران صرف سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان سرحدی کشیدگی تک محدود نہیں رہا۔ حالیہ حوثی کارروائیوں میں سعودی شہروں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بحیرہ احمر سے منسلک تجارتی راستوں کو خطرات کا سامنا رہا ہے۔حوثیوں کی جانب سے باب المندب اور بحیرہ احمر کے راستوں پر دباؤ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بھی اہم ہے۔ باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملانے والا انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ اس راستے میں مستقل عدم استحکام پیدا ہونے سے جہاز رانی کے اخراجات، انشورنس، توانائی کی ترسیل اور عالمی سپلائی چین متاثر ہوسکتی ہے۔پاکستان کے لیے یہ مسئلہ مزید اہم ہے کیونکہ پاکستانی شہری اور تجارتی جہاز بھی اس خطے کی بحری سرگرمیوں سے منسلک ہیں۔ اگست میں ایک تجارتی بحری جہاز پر حوثی حملے کے نتیجے میں تین پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کی بھی پاکستانی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی تھی۔سعودی عرب کو اس وقت کیا درکار ہے؟حالیہ رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کو حوثی میزائل اور ڈرون حملوں کے مقابلے میں فضائی دفاعی صلاحیتوں اور دیگر فوجی وسائل کی ضرورت کا سامنا ہے۔ بعض رپورٹس میں سعودی عرب کی جانب سے علاقائی اور مغربی ممالک سے دفاعی مدد حاصل کرنے کی کوششوں کا ذکر کیا گیا ہے۔یہاں بھی ایک اہم فرق موجود ہے:دفاعی نظام، انٹیلی جنس، ریڈار، ڈرون مخالف ٹیکنالوجی یا تکنیکی مدد فراہم کرنا اور یمن کے اندر زمینی یا فضائی جنگ میں شریک ہونا ایک ہی چیز نہیں ہے۔ترکیہ کی حالیہ پیشکش بھی بظاہر اسی فرق کو نمایاں کرتی ہے۔کیا یہ 2015 کی یمن جنگ کی واپسی ہے؟موجودہ حالات میں 2015 کے بعد کے یمنی تنازعے کی تاریخ اہم پس منظر فراہم کرتی ہے، لیکن دونوں ادوار کو مکمل طور پر ایک جیسا قرار دینا درست نہیں ہوگا۔2015 کے بعد سعودی قیادت میں عسکری اتحاد نے یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں کارروائیاں کی تھیں۔ حالیہ صورتحال میں دوبارہ سعودی-حوثی حملے اور جوابی کارروائیاں بڑھ رہی ہیں، جبکہ حوثیوں نے بعض اہم ساحلی علاقوں اور بحری راستوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔ماضی کے تجربے نے یہ بھی ظاہر کیا کہ یمن میں بیرونی فوجی طاقت کا استعمال صرف فوجی میدان تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسانی بحران، علاقائی سیاست، بحری سلامتی اور عالمی تجارت تک اس کے اثرات پھیل سکتے ہیں۔ایران کا کردارحوثی تحریک کو ایران کی حمایت حاصل ہونے کی بات متعدد بین الاقوامی رپورٹس میں سامنے آتی رہی ہے، اگرچہ ایران حوثیوں کو محض اپنا پراکسی قرار دینے کی تعبیر کو مسترد کرتا ہے۔پاکستان کے لیے ایران ایک اضافی سفارتی عنصر ہے۔ اسلام آباد ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات رکھتا ہے اور دوسری جانب ایران کے ساتھ طویل سرحد اور اہم سفارتی و تجارتی تعلقات بھی رکھتا ہے۔اسی لیے پاکستان کے لیے کسی بھی ممکنہ اقدام میں سعودی سلامتی، علاقائی استحکام، ایران کے ساتھ تعلقات، یمن کا تنازع اور بین الاقوامی بحری سلامتی سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے عوامل ہیں۔تین ممکنہ سطحیںموجودہ صورتحال کو تین وسیع سطحوں میں سمجھا جا سکتا ہے:پہلی سطح: دفاعی و تکنیکی تعاوناس میں فضائی دفاع، ریڈار، نگرانی، ڈرون مخالف نظام، انٹیلی جنس یا دیگر دفاعی وسائل شامل ہوسکتے ہیں۔ ترکیہ کے حالیہ بیان میں اسی قسم کی تکنیکی ضرورت کا ذکر ہوا ہے۔دوسری سطح: سعودی عرب کے دفاع میں عملی مدداگر سعودی عرب پر حملے مزید بڑھتے ہیں تو مکہ معاہدے کے تحت دفاعی تعاون کی عملی نوعیت پر تینوں ممالک کو مزید فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔ پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنی حمایت واضح کی ہے، لیکن یمن کے اندر پاکستانی جنگی کارروائی کا کوئی حتمی اعلان موجود نہیں۔تیسری سطح: یمن کے اندر براہِ راست عسکری مداخلتیہ سب سے زیادہ حساس مرحلہ ہوگا، کیونکہ ایسی صورت میں پاکستان یا ترکیہ خود حوثیوں کے ساتھ براہِ راست جنگی فریق بن سکتے ہیں۔ محمد البخیتی کی موجودہ وارننگ بنیادی طور پر اسی امکان کے خلاف ہے۔عالمی تجارت پر ممکنہ اثراتاگر کشیدگی بحیرہ احمر اور باب المندب تک مزید پھیلتی ہے تو اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سے کہیں آگے جا سکتے ہیں۔بحیرہ احمر عالمی تجارتی نظام میں ایک اہم راستہ ہے۔ جہازوں کو متبادل طویل راستوں پر منتقل ہونا پڑے تو:- شپنگ کا وقت بڑھ سکتا ہے؛- ایندھن اور انشورنس کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں؛- خلیجی توانائی کی عالمی منڈی تک رسائی متاثر ہوسکتی ہے؛- ایشیا، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان تجارت پر اضافی دباؤ آسکتا ہے۔اسی لیے یمن کا موجودہ بحران صرف ایک مقامی خانہ جنگی یا سعودی-حوثی تنازع نہیں رہا بلکہ اس کے ممکنہ اثرات عالمی توانائی اور سمندری تجارت تک پہنچ سکتے ہیں۔نتیجہموجودہ صورتحال میں تین حقائق الگ الگ رکھنا ضروری ہیں:اول: حوثی قیادت نے پاکستان اور ترکیہ کو یمن میں ممکنہ براہِ راست فوجی مداخلت کے خلاف سخت وارننگ دی ہے۔دوم: ترکیہ نے سعودی عرب کی ممکنہ فوجی اور بالخصوص تکنیکی ضروریات پوری کرنے کے لیے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن اس سے یمن میں ترک جنگی افواج بھیجنے کا حتمی فیصلہ ثابت نہیں ہوتا۔سوم: پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کی واضح حمایت کی ہے، جبکہ سرکاری بیانات میں سفارت کاری، کشیدگی میں کمی اور پرامن حل کی ضرورت بھی برقرار رکھی گئی ہے۔لہٰذا اس وقت اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان اور ترکیہ یمن میں جنگ شروع کر چکے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ سعودی عرب کو درپیش خطرہ بڑھنے کی صورت میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کس نوعیت کے عملی دفاعی تعاون میں تبدیل ہوتا ہے۔آنے والے فیصلوں میں سب سے اہم فرق سعودی عرب کے دفاع کے لیے دفاعی/تکنیکی مدد اور یمن کے اندر براہِ راست جنگی کارروائی کے درمیان ہوگا۔ دونوں کے سیاسی، قانونی اور علاقائی نتائج ایک جیسے نہیں ہوں گے۔فی الحال دستیاب سرکاری معلومات کی بنیاد پر پاکستان یا ترکیہ کی جانب سے یمن میں براہِ راست جنگی مداخلت کی حتمی تصدیق موجود نہیں۔ موجودہ مرحلہ زیادہ تر دفاعی تعاون، سعودی عرب کی مدد، سفارتی کوششوں اور ممکنہ علاقائی پھیلاؤ کو روکنے کے درمیان توازن کا ہے۔











