اور صفحہ پھٹ گیا ۔۔ تفصیلات سہیل رانا لائیو میں ۔ بادبان یو ٹیوب کو سبسکرایب کریں

وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نےکہا کہ وزیر داخلہ کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے اس پر بات نہیں کروں گا، گڈ گورننس کے بغیر آپ کے معاملات حل نہیں ہوسکتے، نیشنل ایکشن پلان کے14نکات ہیں جس پرتمام سیاسی جماعتیں متفق

صفحہ پھٹ گیا ن لیگ کے صحافیوں کی ای ایس پی ار کے سربراہ کے ھاتھوں درگت

صفحہ پھٹ گیا ن لیگ کے صحافیوں کی ای ایس پی ار کے سربراہ کے ھاتھوں درگت۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نےکہا کہ وزیر داخلہ کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے اس پر بات نہیں کروں گا، گڈ گورننس کے بغیر آپ کے معاملات حل نہیں ہوسکتے، نیشنل ایکشن پلان کے14نکات ہیں جس پرتمام سیاسی جماعتیں متفق۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

اٹارنی جنرل کے گھرپرچھاپے کامعاملہ آئی جی پنجاب نےایس پی کینٹ کوعہدے سےہٹا دیا ایس پی کینٹ اختر نواز کو سی پی او رپورٹ کرنے کی ہدایت ۔*پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان گاڑیوں کی برآمد کا معاہدہ طے پاگیا۔۔ پاکستانی ویمنز ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا نے دی ہندریڈ لیگ میں برمنگھم فونکس کو جوائن کرلیا ۔ دعا کرتے ہیں کہ فاطمہ ثنا بہترین کارکردگی سے پاکستان کا نام روشن کرے۔۔ بیورو کریسی کو لوٹنے والہ شہزادہ۔۔ ۔کامونکی کا شہزادہ۔۔نازک موڑ سے سسٹم کے تباھی تک کا سفر۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

*ڈپٹی کمشنر حسین احمد رضا چوہدری کا بھلوال میں جاری پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام منصوبے کا دورہ، تعمیراتی کام تیز کرنے کی ہدایت*سرگودھا( آن لائن) ڈپٹی کمشنر حسین احمد رضا چوہدری نے تحصیل بھلوال میں جاری پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے ترقیاتی منصوبے کا معائینہ کیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر بھلوال اور اے ڈی پی ڈی پی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے منصوبے پر جاری تعمیراتی کام کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ افسران و ٹھیکیدار کو ہدایت کی کہ منصوبے کی تکمیل کی رفتار مزید تیز کی جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد اس منصوبے کے ثمرات میسر آ سکیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ تعمیر شدہ ڈرینوں کو فوری طور پر آپس میں لنک کیا جائے تاکہ بارش کی صورت میں نکاسی آب کا نظام مؤثر انداز میں کام کر سکے اور شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تمام ترقیاتی کام مقررہ معیار کے مطابق اور مقررہ مدت میں مکمل کیے جائیں، جبکہ تعمیراتی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی یقینی بنائی جائے۔

کشمیر کے لہو سے سرخ پہاڑ ۔شہرزادآزاد کشمیر، خصوصاً پونچھ اور راولاکوٹ، اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہر گزرتا دن امید سے زیادہ اندیشے کو جنم دے رہا ہے۔ ایک طرف ایکشن کمیٹی اپنے مؤقف پر پوری استقامت کے ساتھ ڈٹی ہوئی ہے، تو دوسری طرف ریاست اور اس کے ادارے اپنی حکمتِ عملی پر قائم ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بات چیت، مکالمے اور مفاہمت کے تمام راستے فی الحال بند دکھائی دیتے ہیں۔ راولاکوٹ میں بھڑکنے والی چنگاری اب دوسرے اضلاع تک پہنچ چکی ہے، اور اگر یہی کیفیت برقرار رہی تو اس کی لپیٹ پورے آزاد کشمیر، پھر اسلام آباد اور بالآخر پاکستان کے دیگر علاقوں تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ریاست کا دامن ہمیشہ وسیع ہونا چاہیے۔ اس کے پاس وسائل بھی ہوتے ہیں اور طاقت بھی، لیکن تاریخ یہ بتاتی ہے کہ طاقت کا سب سے بڑا حسن اس کا تحمل اور بروقت تدبر ہے۔ دوسری جانب ایکشن کمیٹی کی قیادت بھی ایسے مرحلے پر کھڑی ہے جہاں اس کے کئی رہنما ناقابلِ تلافی ذاتی قربانیاں دے چکے ہیں۔ سردار عمر نذیر کشمیری اپنے بھائی کی قربانی دے چکے ہیں۔ اس کے بعد یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ وہ کس ذہنی کیفیت میں ہوں گے۔ میں ان کے طریقۂ کار سے پہلے بھی اختلاف رکھتا تھا اور آج بھی رکھتا ہوں، اور اس اختلاف کا اظہار ہمیشہ کھل کر کرتا آیا ہوں۔ لیکن اختلافِ رائے کبھی بھی انسانیت کے دکھ کو محسوس کرنے سے نہیں روک سکتا۔خون، خواہ کسی بھی انسان کا بہے، انسان کے دل پر ایک زخم چھوڑ جاتا ہے۔ مگر جب یہی خون اپنی دھرتی پر بہے، اپنے ہی لوگوں کا ہو، اپنے ہی نوجوانوں، بزرگوں اور اہلکاروں کا ہو، تو درد کی شدت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ کشمیر تو ویسے بھی جنت نظیر کہلاتا ہے۔ کون چاہے گا کہ اس کی وادیاں پھولوں کے بجائے لاشوں سے پہچانی جائیں، اس کے چشمے پانی کے بجائے آنسوؤں کی علامت بن جائیں، اور اس کے پہاڑ گولیوں کی گونج سے لرز اٹھیں؟ ایک ماں کے لیے اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا کہ اس کا بیٹا شام کو گھر واپس نہ آئے؟ ایک بچے کے لیے اس سے بڑی محرومی کیا ہوگی کہ وہ اپنے باپ کی راہ تکتا رہ جائے؟ اور ایک بیوی کے لیے اس سے زیادہ اذیت ناک لمحہ کون سا ہوگا کہ اس کے خواب کفن میں لپٹ کر اس کے دروازے پر لوٹ آئیں؟اطلاعات کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران درجنوں عام شہری اور متعدد سکیورٹی اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں، یہ زندہ انسان تھے؛ ان کے خواب تھے، خاندان تھے، ذمہ داریاں تھیں، محبتیں تھیں۔ ہر جنازہ صرف ایک فرد کا نہیں اٹھتا، اس کے ساتھ کئی زندگیاں بکھر جاتی ہیں۔ اگر فریقین نے بروقت کوئی درمیانی راستہ نہ نکالا تو خدشہ ہے کہ یہ المیہ مزید گہرا ہوگا اور اس کی قیمت آنے والی نسلوں کو بھی ادا کرنا پڑے گی۔افسوس کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں، پرانی ویڈیوز اور بے بنیاد دعوؤں نے حالات کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ جذبات بھڑکانے والی ایسی مہمات حقیقت کو دھندلا دیتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اصل شہداء اور حقیقی متاثرین کی قربانیاں بھی مشکوک بنا دی جاتی ہیں۔ اختلاف ہو سکتا ہے، بیانیے مختلف ہو سکتے ہیں، مگر جھوٹ کسی بھی مقصد کی خدمت نہیں کرتا۔ میری ایکشن کمیٹی کی قیادت سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اپنے حامیوں کو فیک نیوز اور اشتعال انگیز مواد سے روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے، کیونکہ آگ لگانا آسان اور اسے بجھانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ایک اور نہایت خطرناک رجحان بھی تیزی سے جنم لے رہا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے معاشرہ دو انتہاؤں میں تقسیم ہو گیا ہو۔ اگر کوئی ایکشن کمیٹی کی مکمل حمایت کرتا ہے تو وہ حق پر ہے، اور اگر کوئی معمولی سا سوال بھی اٹھا دے تو اسے فوراً غدار، سہولت کار یا دشمن کا ساتھی قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ کسی مہذب معاشرے کی علامت نہیں۔ اختلافِ رائے انسان کا بنیادی حق ہے۔ نظریاتی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں بدل دینا، رشتوں، دوستیوں اور خاندانی تعلقات کو قربان کر دینا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ نہ کسی تحریک کے حق ہونے کی خدائی سند نازل ہوئی ہے اور نہ کسی ریاستی مؤقف کو آسمانی تائید حاصل ہے۔ اس لیے ایک دوسرے کو غداری اور وفاداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کے بجائے برداشت، دلیل اور مکالمے کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔آج سب سے بڑی ضرورت یہ نہیں کہ کون جیتتا ہے اور کون ہارتا ہے۔ سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ مزید کوئی ماں اپنے بیٹے کی لاش نہ اٹھائے، کوئی بچہ یتیم نہ ہو، کوئی بہن اپنے بھائی کے جنازے پر بین نہ کرے، اور کوئی سکیورٹی اہلکار اپنے فرض کی ادائیگی میں بے نام قبر کا مکین نہ بنے۔ فتح اگر انسانوں کی لاشوں پر کھڑی ہو تو وہ درحقیقت شکست ہوتی ہے۔میں ریاست، حکومت، متعلقہ اداروں اور ایکشن کمیٹی، سب سے یکساں دردِ دل کے ساتھ اپیل کرتا ہوں کہ ضد، انا اور جذبات سے ایک قدم پیچھے ہٹ کر انسانیت کے لیے ایک قدم آگے بڑھیں۔ مکالمے کے دروازے دوبارہ کھولیں، اعتماد سازی کریں اور ایسا راستہ تلاش کریں جس میں کسی کی عزت بھی محفوظ رہے اور کسی کی جان بھی ضائع نہ ہو۔ کیونکہ کشمیر کی سب سے بڑی طاقت اس کے پہاڑ، اس کے دریا یا اس کی سیاست نہیں، بلکہ اس کے لوگ ہیں۔ اگر یہی لوگ زندہ نہ رہے تو کوئی فتح، کوئی تحریک اور کوئی ریاست حقیقی معنوں میں کامیاب نہیں کہلا سکتی۔کوئی روکے کہیں دست اجل کو ہمارے لوگ مرتے جارہے ہیں😭

امیروں کو لوٹنے والا ۔۔ 26 ارب لوٹ لئے ۔۔ کوئی بتا بھی نہیں سکتا ۔یہ علی ورک ہیں ۔ انہوں نے انوکھا آئیڈیا سوچا ۔ پنجاب کے بڑے افسران تک رسائی حاصل کی ۔ انہیں پرتگال کی شہریت اور وہاں پر پراپرٹی خرید کر اپنی اوپر والی دولت محفوظ بنانے کا جھانسہ دیا ۔ بڑے بڑے افسران ۔۔ بلکہ بہت ہی بڑے افسران اس کے اردگرد منڈلانے لگے ۔ کامونکی میں اس کی شادی ہوئی تو پنجاب کی بڑی سے بڑی بیوروکریسی وہاں کئی دن تک تقریبات میں بھنگڑے ڈالتی رہی ۔ اب لڑکے نے کمال دکھا دیا گیا ۔ سب کو میسج کر دیا ہے کہ پرتگال والوں نے دھوکہ کر دیا ہے ۔ سب ڈوب گیا ہے ۔ اب بڑے بڑے افسران کسی کو بتا بھی نہیں سکتے کہ کس کی کتنی دولت تھی ۔ کیونکہ پھر یہ بھی بتانا پڑے گا کہ اتنی دولت آئی کہاں سے ہے ؟؟ یہ پہلی کہانی نہیں ایسے کئی ہونہار ہوتے ہیں جو ایسے آئیڈیا سوچتے ہیں ۔ افسران کو لوٹتے ہیں

وزارت اطلاعات و نشریات میں اکھاڑ بچھاڑ امبرین جان کا ایک اور فراڈ قومی اسمبلی کے اھم بیورو کریٹ کی گریڈ 22 میں ترقی۔۔آزاد کشمیر کے ٹک ٹاکر آئی جی کو گرفتار کیا جائے جس نے فورسز کو مذموم مقاصد کے لیے بدنام کیا۔ 12 ڈیو کے جنرل آفیسر کمانڈنگ کے لیے مشکلات راج ترنگنی تاریخ کشمیر تواریخ اقوام کشمیر جلد 1 اور 2 برگیڈیر فائق اپنے والد کی 8 کتابیں پڑھ لے تو حالات ایک گھنٹے میں ٹھیک ھو جائینگے تفصیلات کے لیے بادبان نیوز سھیل رانا لائیو سبسکرائب کرنا نی بھولئے گا

130 روپے یونٹ بجلی کا یونٹ روالپندی میں 4 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ۔۔بنگلہ دیش میں قاتل برگئڈیر گرفتار۔میں ریاست کی بات کر رہا ہوں، میری تقریر میں ریاست سے مراد پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نہیں تھی۔ بلاول بھٹو زرداری۔پاکستان کرکٹ کا جنازہ نکانے والہ عاقب جاوید۔۔پاکستان کو عبرت ناک شکست۔۔ ۔۔نیتن یاہو ٹرمپ ملاقات، بڑے حملے کی تیاری؟؟۔۔نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت میں انکھ مچولی جاری۔ اداروں اور ملک کے خلاف ھرزہ سرائی نا قابل قبول معافی تلافی۔ سعودی عرب عراق کی مضبوطی سے خوفزدہ؟ سخت الزامات نے خطے میں نئی بحث چھیڑ دی۔۔ ۔ایران نے مزاحمت کی نئی مثال قائم کی ہے مسعود پزشکیان، ایرانی صدر۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

(بادباننیوز ):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے بدھ کووزارتِ خزانہ میں منعقد ہونے والی کابینہ کےاقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس کی ورچوئل صدارت کی۔اجلاس میں قومی غذائی تحفظ و تحقیق ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی سمری پر غور کیا گیا اور گندم کی درآمد سے متعلق ضروریات کے تعین اور آپریشنل طریقہ کار وضع کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اسٹیئرنگ کمیٹی کے قیام کی منظوری دی گئی۔ اسٹیئرنگ کمیٹی کی سربراہی نائب وزیر اعظم کریں گے جبکہ اس میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، وفاقی وزیر تجارت، وفاقی وزیر اقتصادی امور، وفاقی وزیر قانون، نائب وزیر اعظم/وزیر خارجہ کے دفتر کے لیے وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے رابطہ، وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے زراعت و غذائی تحفظ، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری تجارت، سیکرٹری قومی غذائی تحفظ و تحقیق، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے چیف سیکرٹریز اور چیئرمین ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) شامل ہوں گے۔کمیٹی گندم کی درآمد کی ضرورت کا جامع جائزہ لے گی،

صوبوں کی طلب کا تعین کرے گی اور گندم کی ممکنہ درآمد کے حوالے سے مؤثر آپریشنل طریقہ کار مرتب کرے گی۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ، وفاقی وزیر توانائی (بجلی) سردار اویس احمد خان لغاری اور وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے شرکت کی۔اس کے علاوہ وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے زراعت و غذائی تحفظ، متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے وفاقی سیکریٹریز اور سینئر حکام بھی

انتہائی افسوس اور دکھی دل کے ساتھ یہ بات پوری ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ میری نظر میں یہ شخص پاکستان کرکٹ کی موجودہ تباہی کا ایک بڑا ذمہ دار ہے۔مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں صرف چند مخصوص کھلاڑیوں سے ذاتی حساب چکانے اور ان کے کیریئرز کو نقصان پہنچانے کے لیے موجود ہے۔ اسے اس بات کی کوئی فکر نہیں کہ قومی ٹیم مسلسل ناکام ہو رہی ہے، بس اس کا اپنا مقصد پورا ہوتا رہے۔ذرا کوئی اس سے پوچھے کہ پاکستان کرکٹ کو اس نے کتنے معیاری فاسٹ بولرز دیے؟ اس کی کارکردگی کیا ہے؟ ہر ناکامی کے بعد صرف کپتان بدل دینا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ یہ عوام کو وقتی تسلی دینے کے مترادف ہے۔میں آپ سب سے گزارش کرتا ہوں کہ اگر آپ بھی پاکستان کرکٹ کی بہتری چاہتے ہیں تو اپنی رائے ضرور دیں۔ یہ پوسٹ زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ ہر کرکٹ پرست تک یہ آواز پہنچ سکے۔آپ کی نظر میں پاکستان کرکٹ کی موجودہ صورتحال کا سب سے بڑا ذمہ دار کون ہے؟میں آپ سب کی آراء پڑھنے کے بعد اپنا اگلا قدم اٹھاؤں گا

وزیراعظم شہباز کا اقتدار آخری سانسوں پر۔۔90 فیصد کرپٹ وزراء روزانہ ھزار ارب روپے کی کرپشن میں ملوث۔10 وزراء کھربوں روپے کی کرپشن کرنے پر بھی برقرار۔پاور ڈویژن پھلے پٹرولیم دوسرے خارجہ تیسرے اور مذہبی امور چوتھے نمبر پر۔۔۔بیورو کریسی کے ایمان دار افسران کھڈے لائن۔خفیہ اداروں کی پرسرار خاموشی کچھ تو ھے جسکی پردہ داری ہے۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

🚨 بریکنگ نیوز 🚨راولاکوٹ: کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھیوں کی شہر میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش، پولیس کی جانب سے پرامن منتشر ہونے کی احتجاجیوں نے اپیل مسترد کردیراولاکوٹ: شرپسند عناصر کی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر فائرنگ، آزاد جموں و کشمیر پولیس کے 02 اہلکار زخمی

۔کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے سوشل میڈیا ہینڈلرز کی جانب سے حقائق کو مسخ اور من گھڑت ویڈیوز کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش،ترجمان پولیسمیرپور ڈویژن میں پرامن انتخابات کے بعد کالعدم ایکشن کمیٹی بوکھلاہٹ کا شکار، انتخابی نتائج اور جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنے کی ناکام کوشش

۔عوام سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بے بنیاد اور اشتعال انگیز خبروں کے بجائے صرف مستند ذرائع پر اعتماد کریں، پولیسریاست قانون کی بالادستی اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنائے گی،ڈی آئی جی ریجن پونچھ راولاکوٹقانون ہاتھ میں لینے، ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے اور تشدد پھیلانے والے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی،پولیس

حنا ربانی کھر قومی حکومت کی تشکیل کے بعد وزیر اعظم ھونگی وہ پیپلزپارٹی سے تعلق ختم کر لینگی بادبان نیوز سھیل رانا

حنا ربانی کھر: پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِ خارجہ کا سیاسی سفرحنا ربانی کھر 19 نومبر1977 کو مظفر گڑھ( ملتان) میں ایک بااثر سیاسی خاندان میں پیدا ہوئیں جہاں ان کے والد ملک غلام نور ربانی کھر اور چچا غلام مصطفیٰ کھر طویل عرصہ سے پنجاب کی سیاست میں سرگرم رہے۔2002 میں صرف 25 سال کی عمر میں وہ قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں اور 2002 سے 2008 تک وزیرِ مملکت برائے اقتصادی امور رہیں، پھر 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو کر دوبارہ انتخابات جیتا اور وزیرِ مملکت برائے خزانہ مقرر ہوئیں۔جولائی 2011 میں وہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِ خارجہ بنیں اور 2013 تک اس عہدے پر فائز رہیں جہاں انہوں نے پاک بھارت اور پاک امریکہ تعلقات میں اہم کردار ادا کیا۔آج بھی وہ پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما ہیں اور خواتین کی سیاسی شرکت کی ایک روشن مثال ہیں۔۔۔

حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ناکام۔۔بھارت ایک دھشت گرد ملک ھے وزیر دفاع اصف۔امریکا ایران جنگ کا سیز فائر دنوں ممالک کا ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے دعوے۔امریکا ایران جنگ کا سیز فائر۔پٹرول کی قیمتوں میں کمی 90 ڈالر سے نیچ پاکستان میں حکومتی فراڈ پٹرول جاری۔ایران کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنا سکتے ہیں مگر اس سے اسلحہ ذخائر میں کمی ہوگیامریکی جنرل ڈین کین نے حکومت کو خبردار کر دیا۔۔ہمارا ارادہ ہے کہ ہم اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ اعتماد کی بحالی کے لیے کام کریں۔ عباس عراقچی، ایرانی وزیرخارجہ۔۔نیتن یاہو کا اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت کا عندیہ، نیویارک کے میئر نفرت کو ہوا دے رہے ہیں: اسرائیلی وزیر اعظم کا الزام۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ کے بیان پر وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا ٹویٹ*بھارت کی جانب سے دھونس اور دھمکی پر مبنی بیان بازی کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ قانونی حقائق کو مسخ کرنے کی مسلسل کوششیں حقائق کو نہیں بدل سکتیں۔ پاکستان بھارتی وزیرِ دفاع کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔ ایسے بیانات سیاسی بیان بازی اور جبر پر مبنی انداز کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ قانونی حقائق کو مسخ کرنے کی ایک اور کوشش کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ بیانات نہ تو بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی حیثیت کو بدل سکتے ہیں

اور نہ ہی علاقائی امن، استحکام یا معنی خیز مذاکرات میں کوئی معاونت فراہم کرتے ہیں۔جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، جس کا حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی آزادانہ طور پر ظاہر کردہ مرضی کے مطابق ہونا باقی ہے۔ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی اور مجرمانہ سرگرمیوں کے دستاویزی ریکارڈ کی موجودگی میں، پاکستان کو بدنام کرنے کی بھارت کی بار بار کی کوششیں اپنی ساکھ کھو چکی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سہولت کار اور عدم استحکام کا ذمہ دار ہے،

جس نے خطے کو اپنے جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم کا یرغمال بنا رکھا ہے۔اسی طرح بھارت کی غیر ذمہ دارانہ بیان بازی بھی انتہائی تشویشناک ہے جو خطے میں بین الریاستی تصادم کے خدشات کو بڑھا رہی ہے۔ پاکستان امن اور مذاکرات کے لیے پرعزم ہے، لیکن اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اس کا عزم حتمی ہے اور اس کا امتحان ہرگز نہیں لیا جانا چاہیے۔وزیرِ دفاع کی بیان بازی داخلی افراتفری اور مودی کے آمریت پسندانہ اور تقسیم کار طرزِ حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی بے چینی اور بے اطمینانی سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔

بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کر سکتا، قیصر احمد وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ کو نہ تو معطل کر سکتا ہے اور نہ ہی ختم کر سکتا ہے، کیونکہ ایسا کوئی بھی اقدام بین الاقوامی قانون کے خلاف اور غیر قانونی ہوگا۔اتوار کو اسلام آباد میں ایمپاک اسٹریٹیجیز کے زیر اہتمام “پانی، موسمیاتی تبدیلی اور سفارت کاری: پاکستان کے سندھ طاس کا مستقبل کا تحفظ” کے عنوان سے تحقیقی رپورٹ کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پانی کے معاملے پر جاری کشیدگی نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی امن اور معاشی استحکام کے لیے بھی سنگین نتائج کی حامل ہو سکتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو قلیل مدتی ہنگامی اقدامات سے آگے بڑھتے ہوئے پانی کےتحفظ کے لیے ایک جامع قومی پالیسی اختیار کرنا ہوگی تاکہ سیلاب کے بڑھتے ہوئے خطرات اور شدت اختیار کرتے آبی بحران سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق مون سون کے دوران دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں حالیہ اضافے نے پاکستان کے آبی انتظامی نظام کی کئی کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے۔ تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر معمولی بارشیں، بالائی علاقوں سے آنے والے دریائی بہاؤ، پانی ذخیرہ کرنے کی ناکافی صلاحیت، فرسودہ آبپاشی نظام، زیر زمین پانی کے کمزور انتظام اور سیلاب سے نمٹنے کی محدود تیاری نے موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی آفات کے مقابلے میں ملک کی حساسیت میں اضافہ کر دیا ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، آبادی میں اضافے، آبپاشی کے بوسیدہ نظام، زیر زمین پانی کے بے دریغ استعمال اور دریائےسندھ طاس پر بڑھتے دباؤ نے پاکستان کو پانی کے تحفظ کے شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے

کہ پاکستان داخلی سطح پر آبی وسائل کے بہتر انتظام کے ساتھ ساتھ علاقائی سطح پر فعال آبی سفارت کاری کو بھی فروغ دے۔رپورٹ میں پانچ اہم پالیسی ترجیحات تجویز کی گئی ہیں جن میں 1991 کے واٹر اپورشنمنٹ معاہدے پر مؤثر عمل درآمد، پانی ذخیرہ کرنے اور سیلاب سے تحفظ کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع،چین کے ساتھ ہائیڈرولوجیکل تعاون اورافغانستان کے ساتھ تکنیکی مذاکرات، موسمیاتی لحاظ سے موزوں زراعت، ڈیجیٹل واٹر اکاؤنٹنگ، زیر زمین پانی کے مؤثر ضابطے اور پانی کے تحفظ کو پاکستان کے موسمیاتی، معاشی اور قومی سلامتی کے ایجنڈے کا مرکزی حصہ بنا کر بین الاقوامی موسمیاتی فنڈنگ کا حصول شامل ہیں۔اس موقع پر ایمپاک اسٹریٹیجیز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد یونس نے کہا کہ دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں حالیہ اضافے نے واضح کر دیا ہے

کہ پانی کے تحفظ کو صرف موسمی سیلاب کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک ایسی طویل المدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں آبی وسائل کےداخلی نظم و نسق، موسمیاتی لچک،پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ اور فعال علاقائی آبی سفارت کاری کو یکجا کیا جائے۔احمد یونس نے کہا کہ پانی کاتحفظ اب پاکستان کی معاشی استحکام، غذائی تحفظ اور قومی سلامتی کا بنیادی جزو بن چکا ہےجبکہ مضبوط ادارے، جدیدانفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور سائنسی بنیادوں پر منصوبہ بندی مستقبل میں پانی اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے

کویتی حکومت نے پاکستان سے دفاعی شعبے میں تعاون کے معاہدہ کی منظوری دے دیمعاہدے کا مقصد دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانا اور فوجی تربیت، تعلیم اور مسلح افواج میں تعاون کے لیے فریم ورک قائم کرنا ہے، لاجسٹک تعاون، فوجی اہلکاروں کے تبادلےکا احاطہ بھی شامل ہے

یہ چار تصویریں نھی 30 سال کی ایک بہترین مثال والد اپنے نوجوان کپتان جو اس کا اکلوتا بیٹا ہے اخری سلام پیش کرنے کے لئے وردی میں ملبوس استقامت کی تصویر اور کتنی قربانیاں چاہیے۔۔پلک جھپکتے 11 ماہ گزر گئے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

These are not just four photographs—they are the finest example of 30 years of service and sacrifice. A father, in uniform, stands with unwavering strength to bid a final farewell to his young captain, his only son. A picture of resilience beyond words. How many more sacrifices will be demanded?In the blink of an eye, 11 months have passed.