
*بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ کے بیان پر وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا ٹویٹ*بھارت کی جانب سے دھونس اور دھمکی پر مبنی بیان بازی کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ قانونی حقائق کو مسخ کرنے کی مسلسل کوششیں حقائق کو نہیں بدل سکتیں۔ پاکستان بھارتی وزیرِ دفاع کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔ ایسے بیانات سیاسی بیان بازی اور جبر پر مبنی انداز کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ قانونی حقائق کو مسخ کرنے کی ایک اور کوشش کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ بیانات نہ تو بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی حیثیت کو بدل سکتے ہیں

اور نہ ہی علاقائی امن، استحکام یا معنی خیز مذاکرات میں کوئی معاونت فراہم کرتے ہیں۔جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، جس کا حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی آزادانہ طور پر ظاہر کردہ مرضی کے مطابق ہونا باقی ہے۔ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی اور مجرمانہ سرگرمیوں کے دستاویزی ریکارڈ کی موجودگی میں، پاکستان کو بدنام کرنے کی بھارت کی بار بار کی کوششیں اپنی ساکھ کھو چکی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سہولت کار اور عدم استحکام کا ذمہ دار ہے،

جس نے خطے کو اپنے جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم کا یرغمال بنا رکھا ہے۔اسی طرح بھارت کی غیر ذمہ دارانہ بیان بازی بھی انتہائی تشویشناک ہے جو خطے میں بین الریاستی تصادم کے خدشات کو بڑھا رہی ہے۔ پاکستان امن اور مذاکرات کے لیے پرعزم ہے، لیکن اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اس کا عزم حتمی ہے اور اس کا امتحان ہرگز نہیں لیا جانا چاہیے۔وزیرِ دفاع کی بیان بازی داخلی افراتفری اور مودی کے آمریت پسندانہ اور تقسیم کار طرزِ حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی بے چینی اور بے اطمینانی سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔

بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کر سکتا، قیصر احمد وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ کو نہ تو معطل کر سکتا ہے اور نہ ہی ختم کر سکتا ہے، کیونکہ ایسا کوئی بھی اقدام بین الاقوامی قانون کے خلاف اور غیر قانونی ہوگا۔اتوار کو اسلام آباد میں ایمپاک اسٹریٹیجیز کے زیر اہتمام “پانی، موسمیاتی تبدیلی اور سفارت کاری: پاکستان کے سندھ طاس کا مستقبل کا تحفظ” کے عنوان سے تحقیقی رپورٹ کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پانی کے معاملے پر جاری کشیدگی نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی امن اور معاشی استحکام کے لیے بھی سنگین نتائج کی حامل ہو سکتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو قلیل مدتی ہنگامی اقدامات سے آگے بڑھتے ہوئے پانی کےتحفظ کے لیے ایک جامع قومی پالیسی اختیار کرنا ہوگی تاکہ سیلاب کے بڑھتے ہوئے خطرات اور شدت اختیار کرتے آبی بحران سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق مون سون کے دوران دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں حالیہ اضافے نے پاکستان کے آبی انتظامی نظام کی کئی کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے۔ تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر معمولی بارشیں، بالائی علاقوں سے آنے والے دریائی بہاؤ، پانی ذخیرہ کرنے کی ناکافی صلاحیت، فرسودہ آبپاشی نظام، زیر زمین پانی کے کمزور انتظام اور سیلاب سے نمٹنے کی محدود تیاری نے موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی آفات کے مقابلے میں ملک کی حساسیت میں اضافہ کر دیا ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، آبادی میں اضافے، آبپاشی کے بوسیدہ نظام، زیر زمین پانی کے بے دریغ استعمال اور دریائےسندھ طاس پر بڑھتے دباؤ نے پاکستان کو پانی کے تحفظ کے شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے

کہ پاکستان داخلی سطح پر آبی وسائل کے بہتر انتظام کے ساتھ ساتھ علاقائی سطح پر فعال آبی سفارت کاری کو بھی فروغ دے۔رپورٹ میں پانچ اہم پالیسی ترجیحات تجویز کی گئی ہیں جن میں 1991 کے واٹر اپورشنمنٹ معاہدے پر مؤثر عمل درآمد، پانی ذخیرہ کرنے اور سیلاب سے تحفظ کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع،چین کے ساتھ ہائیڈرولوجیکل تعاون اورافغانستان کے ساتھ تکنیکی مذاکرات، موسمیاتی لحاظ سے موزوں زراعت، ڈیجیٹل واٹر اکاؤنٹنگ، زیر زمین پانی کے مؤثر ضابطے اور پانی کے تحفظ کو پاکستان کے موسمیاتی، معاشی اور قومی سلامتی کے ایجنڈے کا مرکزی حصہ بنا کر بین الاقوامی موسمیاتی فنڈنگ کا حصول شامل ہیں۔اس موقع پر ایمپاک اسٹریٹیجیز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد یونس نے کہا کہ دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں حالیہ اضافے نے واضح کر دیا ہے

کہ پانی کے تحفظ کو صرف موسمی سیلاب کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک ایسی طویل المدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں آبی وسائل کےداخلی نظم و نسق، موسمیاتی لچک،پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ اور فعال علاقائی آبی سفارت کاری کو یکجا کیا جائے۔احمد یونس نے کہا کہ پانی کاتحفظ اب پاکستان کی معاشی استحکام، غذائی تحفظ اور قومی سلامتی کا بنیادی جزو بن چکا ہےجبکہ مضبوط ادارے، جدیدانفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور سائنسی بنیادوں پر منصوبہ بندی مستقبل میں پانی اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے

کویتی حکومت نے پاکستان سے دفاعی شعبے میں تعاون کے معاہدہ کی منظوری دے دیمعاہدے کا مقصد دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانا اور فوجی تربیت، تعلیم اور مسلح افواج میں تعاون کے لیے فریم ورک قائم کرنا ہے، لاجسٹک تعاون، فوجی اہلکاروں کے تبادلےکا احاطہ بھی شامل ہے










