کراچی پورٹ پر دنیا کے بڑے کنٹینر جہاز کی آمد، بندرگاہی استعداد میں اہم پیش رفت۔ پیپلز پارٹی کو بڑا جھٹکا؟ آزاد کشمیر کی سیاست میں بھونچال! پانی پر ہاتھ ڈالے گا وہ ہاتھ کاٹ دیں گے، ڈاکٹر مصدق ملک۔۔ملک بھر میں غیر یقینی صورتحال برقرار۔۔حکومت خطرے میں۔۔وزیر اعطم اور مافیا کا گٹھ جوڑ چینی لینڈ اور اب آئیل مافیا پھلے نمبر پر۔ 800 ارب روپے کا آئل مافیا اور سھولت کاروں کو 3ماہ میں فائدہ اور عوام کی جیبوں پر ڈاک۔۔ تاریخ کی سب سے بڑی نجکاری کا عمل مکمل۔۔ ۔۔انور حیدر بورڈ آف ڈائریکٹر کے چیئرمین گوھر عارف عقیل فرزانہ بورڈ کے ڈائریکٹر ھونگے۔۔طالبان نے پاکستانی فضائی حملوں میں 38 ہلاک اور 163 زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔۔سٹیل مل کی 6 ھزار ایکڑ زمین کی بندر بانٹ سھیل رانا لاءیو میں۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*اسلام آباد میں اڈیالہ جیل کی پریزن وین سے 14 قیدی فرار پولیس نے 4 کو دوبارہ دبوچ لیا، 10 کی تلاش جاری*وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے چکیاں اسٹاپ کے قریب اڈیالہ جیل کی پریزن وین سے 14 قیدی پراسرار طور پر فرار ہونے کا سنسنی خیز واقعہ پیش آیا ہے رپورٹ کے مطابق، اس سرکاری وین میں مجموعی طور پر 34 قیدی سوار تھے جنہیں عدالت میں پیشی کے بعد واپس اڈیالہ جیل منتقل کیا جارہا تھا کہ راستے میں چکیاں اسٹاپ کے پاس یہ قیدی گاڑی سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے؛ واقعے کے فوراً بعد الرٹ جاری کرتے ہوئے پولیس نے فوری کارروائی کے دوران 4 قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے جبکہ تاحال فرار 10 قیدیوں کی گرفتاری کے لیے علاقے کی ناکہ بندی کر کے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن اور کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔

*اسلام آباد میں اڈیالہ جیل کی پریزن وین سے 14 قیدی فرار پولیس نے 4 کو دوبارہ دبوچ لیا، 10 کی تلاش جاری*وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے چکیاں اسٹاپ کے قریب اڈیالہ جیل کی پریزن وین سے 14 قیدی پراسرار طور پر فرار ہونے کا سنسنی خیز واقعہ پیش آیا ہے رپورٹ کے مطابق، اس سرکاری وین میں مجموعی طور پر 34 قیدی سوار تھے جنہیں عدالت میں پیشی کے بعد واپس اڈیالہ جیل منتقل کیا جارہا تھا کہ راستے میں چکیاں اسٹاپ کے پاس یہ قیدی گاڑی سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے؛ واقعے کے فوراً بعد الرٹ جاری کرتے ہوئے پولیس نے فوری کارروائی کے دوران 4 قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے جبکہ تاحال فرار 10 قیدیوں کی گرفتاری کے لیے علاقے کی ناکہ بندی کر کے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن اور کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔

امریکی ساختہ عسکری سامان کی مبینہ برآمدگی کے بعد برازیلیا میں ہائی الرٹبرازیل کا حکومت گرانے کی غیر ملکی سازش کا دعویٰ؛ صدر لولا نے غیر معمولی سکیورٹی اقدامات کا حکم دے دیابرازیلیا، 29 جون: برازیل کی سیاست میں اس وقت شدید ہلچل پیدا ہو گئی ہے جب صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا نے مبینہ طور پر اپنی حکومت کو غیر مستحکم کرنے اور ایک “سافٹ کو” کے ذریعے اقتدار سے ہٹانے کی بیرونی سازش کا انکشاف کیا ہے۔صدارتی ذرائع کے مطابق برازیلی سکیورٹی اداروں نے ایک خفیہ آپریشن کے دوران ہلکے جنگی سازوسامان کا ذخیرہ برآمد کیا، جو مبینہ طور پر امریکہ میں تیار کیا گیا تھا اور غیر قانونی ذرائع سے برازیل پہنچایا گیا۔ اس دریافت نے برازیلی حکومت کے اعلیٰ حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے اور اسے قومی سلامتی کے لیے ایک ممکنہ خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام کو شبہ ہے کہ غیر ملکی انٹیلی جنس نیٹ ورک ملک کے اندر ایسے عناصر کی تربیت اور تنظیم سازی کی کوشش کر رہے تھے جو مستقبل میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ بعض حکام نے اس صورتحال کا موازنہ لاطینی امریکہ میں ماضی کی سیاسی مداخلتوں اور علاقائی بحرانوں سے بھی کیا ہے

۔ذرائع کے مطابق صدر لولا اس پیش رفت پر سخت برہم ہیں اور انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے اپنی شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ برازیلی صدر نے اپنے تحفظات براہِ راست رابطے کے بجائے سفارتی ذرائع اور ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچانے کو ترجیح دی۔برازیلی حکام کا خیال ہے کہ مبینہ عسکری سامان کی ترسیل کا طریقۂ کار ایک منظم اور پیشگی منصوبہ بندی کی طرف اشارہ کرتا ہے،

جس کا مقصد حکومتی اداروں کو کمزور کرنا اور ملک میں سیاسی افراتفری کے لیے ماحول تیار کرنا ہو سکتا ہے۔اس صورتحال کے بعد لولا انتظامیہ نے صدارتی معاونین، وفاقی وزرا، انٹیلی جنس افسران اور حساس سرکاری اداروں کے اہلکاروں کی سکیورٹی جانچ اور وفاداری کے جائزے کو مزید سخت کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد کسی بھی ممکنہ دراندازی، اندرونی سازش یا تخریبی سرگرمی کو بروقت ناکام بنانا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق وزارتِ داخلہ، ایوانِ صدر اور انٹیلی جنس اداروں کے اہم عہدیداروں کی سرگرمیوں پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے

تاکہ ریاستی اداروں میں مکمل ہم آہنگی اور آئینی نظام کے ساتھ وفاداری کو یقینی بنایا جا سکے۔پیر کے روز تک وائٹ ہاؤس یا امریکی حکام کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا تھا۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ان دعوؤں کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ معاملہ نہ صرف برازیلیا اور واشنگٹن کے تعلقات میں ایک نئے بحران کو جنم دے سکتا ہے بلکہ پورے لاطینی امریکہ کی جغرافیائی اور سیاسی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی نجکاری کا عمل مکمل !!!پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری کا عمل مکمل ہو گیا. پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ کنسورشیم نے پی آئی اے کا کنٹرول سنبھال لیا، شیئر بھی کنسورشیم کو ٹرانسفر کر دیے گئے، پی آئی اے کا نیا بورڈ تشکیل، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ انور علی حیدر پی آئی اے کے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز مقرر، گوہر اعجاز، عارف حبیب، فضل شیخ، عقیل کریم ڈھیڈی، فرزانہ فیروز ممبر بورڈ آف ڈائریکٹرز ہونگے. پی آئی اے کنسورشیم میں لیک سٹی، فاطمہ گروپ، فوجی گروپ، اے کے ڈی، عارف حبیب اور سٹی اسکول کنسورشیم کا حصہ ہیں

فیصل آباد پی آئی اے کا گراؤنڈ سٹاف انتہائی بدتمیز جاہل اور گنوار پوری دنیا میں ائیر لائن ہینڈ کیری کا وزن نہیں کیا جاتا دو لوگوں کا وزن دو کلو گرام سے بھی کم زیادہ تھا جس میں پرسنل استعمال لیپ ٹاپ کمپیوٹر کا چارجر ا بورڈنگ کاؤنٹر پر ایک بوڑھی سی عورت جو کہ کم از کم آدھ کلو گرام کوئی سستا سا میک اپ لگا کر بیٹھی تھی جس اس کے چہرے کی جھریاں اور واضح ہو رہی تھیں پہلے تو پانچ سو روپے رشوت کے طور پر اینٹھنے کی کوشش کی جو نہ دینے پر 1050 روپے وزن کے چارجز وصول کئے گئے۔ اس کی ہاں میں ہاں ملانے کے لئے ایک اس سے بھی زیادہ بزرگ

فیصل آباد پی آئی اے کا گراؤنڈ سٹاف انتہائی بدتمیز جاہل اور گنوار پوری دنیا میں ائیر لائن ہینڈ کیری کا وزن نہیں کیا جاتا دو لوگوں کا وزن دو کلو گرام سے بھی کم زیادہ تھا جس میں پرسنل استعمال لیپ ٹاپ کمپیوٹر کا چارجر ا بورڈنگ کاؤنٹر پر ایک بوڑھی سی عورت جو کہ کم از کم آدھ کلو گرام کوئی سستا سا میک اپ لگا کر بیٹھی تھی جس اس کے چہرے کی جھریاں اور واضح ہو رہی تھیں پہلے تو پانچ سو روپے رشوت کے طور پر اینٹھنے کی کوشش کی جو نہ دینے پر 1050 روپے وزن کے چارجز وصول کئے گئے۔ اس کی ہاں میں ہاں ملانے کے لئے ایک اس سے بھی زیادہ بزرگ خاتون جس نے اس سے بھی زیادہ تقریبا پون کلو گھٹیا سا میک اپ لگا کر جوان بننے کی کوشش کر رہی تھی۔ ان کے منیجر صاحب بیچارے للو انسان جس کی بات بورڈنگ کاؤنٹر والی دونوں بزرگ عورتیں نہیں مان رہی تھیں لہذا آف لوڈ ہونے سے بچنے کے لئے ان کو 1050 دینے پڑے ۔ پیسے وصول کرنے کے بعد منیجر کے سامنے بھی وہ پیسوں کی رسید دینے کے لئے تیار نہیں تھیں ۔ پی آئی اے باکمال لوگوں کی لاجواب انتخاب کے سلوگن والی ائیر لائن کی بربادی کے پیچھے ان خون آشام درندوں کا ہاتھ ہے۔ عارف حبیب گروپ کی مہربانی سے یہ ادارہ بک گیا ہے ورنہ اس کو پوری دنیا میں مفت میں بھی خریدنے کے لئے کوئی تیار نہیں تھا۔ نئے مالکان سے گزارش ہے اگر اس ادارے کو چلانا ہے تو اس طرح کے ملازمین کی اسکرونٹی اور ان سے آہنی ہاتھوں سے نپٹا جائے ورنہ وہ مثال جتھے دی کھوتی اوتھے آن کلوتھی – دھڑلے سے رشوت وصول کرنے والےاس طرح کے ملازمین کو نوکری سے برطرف کرنا کافی نہیں ہے ان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

ھو سکتا ہے جیل میں دنیا چھوڑ دوں ‏ڈاکٹر یاسمین راشد کی دل دکھا دینے والی وصیت۔ ہو سکتا ہے مجھے جیل میں موت آ جائے، حالات کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے۔ اس لیے میں اپنی عوام، پارٹی ورکرز اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس سے وصیت کرتی ہوں کہ عمران خان کو کبھی اکیلا نہ چھوڑنا۔ کراچی میں دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے پاکستان رینجرز (سندھ) کے جوانوں کی نمازِ جنازہ ادا۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*کراچی میں دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے پاکستان رینجرز (سندھ) کے جوانوں کی نمازِ جنازہ ادا*بھارتی پراکسی جماعت الاحرار کے بزدلانہ دہشت گرد حملے کو ناکام بناتے ہوئے رینجرز کے جوانوں نے جام شہادت نوش کیا تھاشہدا کی نمازِ جنازہ میں وفاقی وزیر داخلہ،گورنر سندھ، وزیراعلیٰ سندھ، ڈی جی رینجرز، شہداء کے لواحقین اور سینئر سول و عسکری حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کیشرکاء نے شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا*وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ؛* دہشت گردی کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے جس کا حساب لیا جائے گادہشتگردی کرنے والے عناصر چاہیے وہ کہیں بھی ہوں سیکیورٹی فورسز ان کا پیچھا کر کے کیفرکردار تک پہنچائیں گی، *وزیر داخلہ* *گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا کہ؛* ہم دہشتگردی کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے ملک سے اس کے خاتمہ کیلئے جدوجہد کرتے رہیں گے بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردی کو کبھی برداشت نہیں کریں گے اور دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے، *گورنر سندھ* *وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ؛* دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملاتے ہوئے رینجرز کے بہادر جوانوں نے جام شہادت نوش کیا جن کو سلام پیش کرتے ہیںملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمہ کیلئے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں، *وزیراعلیٰ سندھ* نمازِ جنازہ کے بعد شہداء کے جسدِ خاکی ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دیے گئے جہاں انہیں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گابعد از نماز جنازہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گورنر سندھ کے ہمراہ اس جگہ کا دورہ بھی کیا جہاں دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں

‼️‼️‼️breaking *پاکستان رینجرز سندھ کیمپ حملے میں ملوث زخمی دہشت گرد کے ہوشربا انکشافات* پاکستان رینجرز کیمپ پر بزدلانہ حملے میں ملوث دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کے پس پردہ افغان طالبان رجیم کے شواہد سامنے آ گئے *بزدلانہ حملے میں ملوث دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کے دہشت گرد نے انکشاف کیا کہ؛* میرا نام عثمان علی ہے اور میں افغانستان کے علاقے جلال آباد سے آیا ہوں میرے ساتھ 3 اور ساتھی بھی تھے جن کا نام عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق تھا ، *گرفتار دہشت گرد عثمان* میرے ساتھ آنے والا دہشتگرد عبدالہادی مارا جا چکا ہے ، *گرفتار دہشت گرد عثمان* دہشت گرد جانان نے پاکستان رینجرز کے کیمپ پر بم پھینکا تھا، *گرفتار دہشت گرد عثمان*ہم لوگ سات دن قبل پاکستان آئے تھے عبدالہادی کے پاس جو باجوڑ کا رہائشی تھا، *گرفتار دہشت گرد عثمان*ہمیں زیر تعمیر بلڈنگ میں رکھا گیا تھا، حملے میں استعمال ہونے والا اسلحہ عبدالہادی وزیرستان سے لایا تھا، *گرفتار دہشت گرد عثمان* دوسری طرف جانے کے لیے جب میں بھاگ رہا تھا تو مجھے گولی لگ گئی اور میں وہیں گر گیا، *گرفتار دہشت گرد عثمان*میرا تعلق جماعت الاحرار کے ساتھ ہے جس کے افغانستان میں کمانڈر کا نام احرار مولوی صاحب نام ہے، *گرفتار دہشت گرد عثمان*ہم سب کو افغانستان میں تربیت دی گئی تھی مجھے صرف جیکٹ دی گئی تھی خود کش ہم خود تیار کر لیتے ہیں، *گرفتار دہشت گرد عثمان*ہم سب خود کش جیکٹ تیار کر لیتے ہیں *ہمیں افغانستان میں پہلے سے تربیت دی گئی تھی*، *گرفتار دہشت گرد عثمان*افغانستان میں خود کش جیکٹ اور دیگر ٹریننگ عمر قاری نے دی تھی ، *گرفتار دہشت گرد عثمان*کراچی آنے سے پہلے ہمارے لیےافغانستان سے سب انتظامات ہو گئے تھے۔ عبدالہادی یہاں سب جانتا تھا۔پہلے بھی یہاں آیا تھا، *گرفتار دہشت گرد عثمان* *دفاعی ماہرین کے مطابق* ؛ افغان طالبان رجیم افغانستان کی سرزمین کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بنا کر پاکستان کیخلاف استعمال کر رہی ہےاس سے قبل بھی پاکستان متعدد بار افغان طالبان رجیم کو سرحد پار دہشتگردی کے ناقابل تردید شواہد پیش کر چکا ہے، *دفاعی ماہرین*

کراچی میں دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے پاکستان رینجرز (سندھ) کے جوانوں کی نمازِ جنازہ ادا*بھارتی پراکسی جماعت الاحرار کے بزدلانہ دہشت گرد حملے کو ناکام بناتے ہوئے رینجرز کے جوانوں نے جام شہادت نوش کیا تھا

*کراچی میں دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے پاکستان رینجرز (سندھ) کے جوانوں کی نمازِ جنازہ ادا*بھارتی پراکسی جماعت الاحرار کے بزدلانہ دہشت گرد حملے کو ناکام بناتے ہوئے رینجرز کے جوانوں نے جام شہادت نوش کیا تھا شہدا کی نمازِ جنازہ میں وفاقی وزیر داخلہ،گورنر سندھ، وزیراعلیٰ سندھ، ڈی جی رینجرز، شہداء کے لواحقین اور سینئر سول و عسکری حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کیشرکاء نے شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا*وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ؛* دہشت گردی کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے جس کا حساب لیا جائے گادہشتگردی کرنے والے عناصر چاہیے وہ کہیں بھی ہوں سیکیورٹی فورسز ان کا پیچھا کر کے کیفرکردار تک پہنچائیں گی، *وزیر داخلہ* *گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا کہ؛* ہم دہشتگردی کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے ملک سے اس کے خاتمہ کیلئے جدوجہد کرتے رہیں گے بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردی کو کبھی برداشت نہیں کریں گے اور دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے، *گورنر سندھ* *وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ؛* دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملاتے ہوئے رینجرز کے بہادر جوانوں نے جام شہادت نوش کیا جن کو سلام پیش کرتے ہیںملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمہ کیلئے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں، *وزیراعلیٰ سندھ* نمازِ جنازہ کے بعد شہداء کے جسدِ خاکی ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دیے گئے جہاں انہیں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گابعد از نماز جنازہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گورنر سندھ کے ہمراہ اس جگہ کا دورہ بھی کیا جہاں دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں

5 بجٹ پیش کرنے والے وزیر اعظم کو تبدیل کر کے بزنس ٹائیکون کو وزیر اعظم بنانے کا اعلان ؟؟؟؟ سپیکر پنجاب اسمبلی احمد کی شیروانی بطور وزیر اعلی تیار تمام ائیرپورٹ پر سختی 40 بیورو کریٹ 90 سیاست دان اور کچھ ٹاوٹس کی گرفتاریاں۔۔سعودی عرب میں آرامکو آئل کمپنی کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 14 افراد جاں بحق۔۔ دھشت گردی یا حادثہ۔۔سعودی عرب کا ھیلی کاپٹر تباہ 14 افراد جان بحق۔۔ سہیل رانا لائیو میں تفصیلات بادبان ٹی وی پر

کھربوں روپے کے حکومتی اشتھار اور مراعات لینے والے جیو کا لائسنس 15 روز کے لئے منسوخ کردیا گیا یوم عاشور پر مذہبی غیر قانونی کنٹینٹ چلایا گیا وزیر اطلاعات نے رات 2 بجکر 44 منٹ اتوار کی صبح تھجد کے وقت اس خبر کی تصدیق اور خود پریس ریلیز جاری کی تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

کھربوں روپے کے حکومتی اشتھار اور مراعات لینے والے جیو کا لائسنس 15 روز کے لئے منسوخ کردیا گیا یوم عاشور پر مذہبی غیر قانونی کنٹینٹ چلایا گیا وزیر اطلاعات نے رات 2 بجکر 44 منٹ اتوار کی صبح تھجد کے وقت اس خبر کی تصدیق اور خود پریس ریلیز جاری کی تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

24 گھنٹوں میں 5 زلزلے پاکستان میں خوف۔ مصر نے لبنان پر حیلوں کو خطرناک قرار دے دیا۔۔امریکہ ترکیہ معاھدے اسرائیل کام ردعمل۔۔متحدہ عرب امارات 4 حصوں میں تقسیم۔۔علاقائ کشیدہ صورتحال کے بعد عرب امارات اور ایران وزراء خارجہ کی ملاقات ڈاکٹر لبنئ کا تجزیے بادبان نیوز پر نیٹ پرابلم کی صورت میں vpn پر کھولیں۔۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

علاقائی کشیدگی کے بعد متحدہ عرب امارات اور ایران کے وزرائے خارجہ کا پہلا باضابطہ رابطہ، سفارت کاری اور استحکام پر زورابوظہبی: متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ، عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کو اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ٹیلی فون موصول ہوا، جو خطے میں حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلا باضابطہ اور عوامی سطح پر سامنے آنے والا اعلیٰ سفارتی رابطہ ہے۔متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے خطے کی مجموعی صورتحال اور امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) پر اتفاق اور دستخط کے بعد پیدا ہونے والی تازہ علاقائی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔گفتگو کے دوران شیخ عبداللہ بن زاید نے فوری اور جامع جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی حل، سنجیدہ سفارت کاری اور تعمیری مذاکرات ہی مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے کے امن و استحکام کو یقینی بنانے کا واحد راستہ ہیں۔انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف دشمنیوں کے خاتمے میں مدد ملے گی بلکہ ریاستوں کی خودمختاری، حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں اور علاقائی سلامتی کو بھی تقویت ملے گی۔اماراتی وزیر خارجہ نے بین الاقوامی قانون کی مکمل پاسداری، ریاستوں کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت اور تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا اور اسے خطے میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ٹیلی فونک رابطے میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ اور بین الاقوامی تجارتی راستوں کی سلامتی کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ شیخ عبداللہ بن زاید نے کہا کہ سمندری گزرگاہوں کی آزادی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت کا بلا تعطل جاری رہنا نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک بنیادی اور تزویراتی ضرورت ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی کوششیں مثبت نتائج برآمد کریں گی اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کی راہ ہموار کریں گی۔شیخ عبداللہ بن زاید نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سنجیدہ سفارت کاری اور ذمہ دارانہ مکالمہ ہی علاقائی اور بین الاقوامی بحرانوں کے حل کا بہترین ذریعہ ہیں اور یہی راستہ خطے کے عوام کی امن، ترقی اور خوشحالی کی امنگوں کو پورا کر سکتا ہے۔یہ رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کم کرنے، وسیع تر تصادم کو روکنے اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے علاقائی کوششیں تیز ہو رہی ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات خود کو خطے میں استحکام، مذاکرات اور تعمیری سفارت کاری کے ایک فعال حامی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

پاکستان میں 24 گھنٹوں کے دوران پانچ زلزلے، ماہرین نے عالمی ٹیکٹونک سرگرمی سے جوڑ دیااسلام آباد: پاکستان میں محض 24 گھنٹوں کے دوران آنے والے پانچ زلزلوں نے عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ ماہرین ارضیات نے اس غیر معمولی سرگرمی کو دنیا کے مختلف خطوں میں جاری وسیع ٹیکٹونک حرکات کا حصہ قرار دیا ہے۔زلزلوں سے متاثرہ علاقوں میں صوبہ بلوچستان، خصوصاً بارکھان اور اس سے ملحقہ علاقے شامل ہیں، جہاں سب سے شدید جھٹکوں کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.2 ریکارڈ کی گئی۔ماہرین کے مطابق بلوچستان اور خیبرپختونخوا یوریشین ٹیکٹونک پلیٹ کی سرحد پر واقع ہیں، جس کے باعث یہ علاقے قدرتی طور پر زلزلہ خیز شمار ہوتے ہیں۔ ماہرین نے واضح کیا کہ حالیہ جھٹکوں کی اکثریت کم شدت کی تھی، تاہم ان کی مسلسل نوعیت نے عوامی خدشات میں اضافہ کیا۔ارضیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دنیا کے مختلف حصوں میں ٹیکٹونک سرگرمی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، لیکن وینزویلا میں آنے والے زلزلے اور پاکستان میں حالیہ جھٹکوں کے درمیان براہِ راست تعلق ثابت کرنے کے لیے فی الحال کوئی حتمی سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں۔حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حفاظتی تدابیر اختیار

ابوظہبی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے 2026 کے پہلے نصف کے دوران عالمی مسابقتی درجہ بندی میں ایک بار پھر نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے دنیا کی مضبوط اور تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر لی ہے۔عالمی رپورٹس کے مطابق یو اے ای 118 مختلف عالمی اشاریوں میں دنیا کے ٹاپ 10 ممالک میں شامل رہا، جبکہ 67 اشاریوں میں اسے ٹاپ 5 ممالک میں جگہ حاصل ہوئی، جو مختلف اقتصادی، سرمایہ کاری، کاروباری اور حکومتی شعبوں میں اس کی غیر معمولی کارکردگی کا عکاس ہے۔اسی دوران گلوبل انٹرپرینیورشپ مانیٹر (GEM) 2025-2026 کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای مسلسل پانچویں سال دنیا میں کاروبار شروع کرنے، اسے فروغ دینے اور سرمایہ کاری کے لیے بہترین ملک قرار پایا ہے۔اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کامیابیاں جدید حکومتی پالیسیوں، جدت طرازی، ڈیجیٹل تبدیلی، کاروبار دوست قوانین، غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول اور مستقبل پر مبنی ترقیاتی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہیں۔ ان اقدامات نے یو اے ای کو عالمی سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات اور اسٹارٹ اپ کمپنیوں کے لیے مزید پرکشش اور قابلِ اعتماد منزل بنا دیا ہے۔ماہرین کے مطابق یو اے ای کی مسلسل کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک نے اقتصادی تنوع، ٹیکنالوجی، اختراع اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں اپنی عالمی قیادت کو مزید مضبوط بنایا ہے۔

کیا مشرق وسطیٰ ایک نئے جغرافیائی تزویراتی انقلاب کے دہانے پر کھڑا ہے؟آٹھ دہائیوں سے زائد عرصے سے امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے سیاسی، عسکری اور اقتصادی مفادات کا ایک ایسا جال بچھا رکھا ہے جس نے اسے خلیجی ریاستوں کا ناگزیر شراکت دار بنا دیا۔ یہ تعلق صرف تیل اور توانائی تک محدود نہیں بلکہ خطے میں موجود بڑے امریکی فوجی اڈوں، اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدوں اور جدید اسلحے کی فروخت نے مشرق وسطیٰ کو امریکی دفاعی صنعت کے لیے ایک مستقل اور منافع بخش منڈی میں تبدیل کر دیا ہے۔تاہم حالیہ علاقائی کشیدگی نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے: کیا وہ فوجی اڈے جو خلیجی اتحادیوں کے تحفظ کی علامت سمجھے جاتے تھے، ایران کے ساتھ ممکنہ تصادم کی صورت میں خطرے کی نئی علامت بن سکتے ہیں؟تجزیہ کاروں کے مطابق اگر تہران کسی وسیع تر محاذ آرائی کا جواب دینے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کا ہدف براہِ راست امریکی سرزمین نہیں بلکہ خطے میں موجود اہم تنصیبات ہو سکتی ہیں، جن میں تیل کے ذخائر، بجلی گھر اور ڈی سیلینیشن پلانٹس شامل ہیں۔ ایسی کسی کارروائی کی صورت میں پورے خلیج میں توانائی، پانی اور روزمرہ زندگی کا نظام شدید متاثر ہو سکتا ہے۔اس صورتحال کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ واشنگٹن اس خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے معاشی فوائد بھی حاصل کرتا ہے۔ جدید لڑاکا طیاروں، فضائی دفاعی نظاموں اور نگرانی کے آلات کی فروخت سے اربوں ڈالر کی آمدنی حاصل ہوتی ہے، جبکہ ہزاروں امریکی انجینئرز اور ماہرین خلیجی توانائی کے منصوبوں سے وابستہ ہیں۔تاہم اگر خطے میں عدم استحکام طویل عرصے تک برقرار رہتا ہے تو کچھ خلیجی دارالحکومت اپنی روایتی تزویراتی وابستگیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔یہیں سے ایک متبادل منظرنامہ جنم لیتا ہے: روس اور چین کی جانب بتدریج جھکاؤ۔ چین پہلے ہی اپنے “بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو” کے ذریعے خطے میں معاشی اور جغرافیائی اثرورسوخ بڑھا رہا ہے، جبکہ ایران مشرق اور مغرب کو ملانے والی نئی تجارتی راہداریوں کا اہم مرکز بن سکتا ہے، جو ماسکو اور بیجنگ کو غیر معمولی تزویراتی فوائد فراہم کرے گا۔امریکی قیادت کے لیے اصل مخمصہ یہ ہے کہ آیا وہ اسرائیل کے لیے اپنی غیر مشروط حمایت جاری رکھتے ہوئے خلیج میں اپنے طویل المدتی مفادات کو خطرے میں ڈالے گی، یا پھر عملی سیاست کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اقتصادی اور تزویراتی مفادات کے تحفظ کو ترجیح دے گی۔بہت سے مبصرین کے نزدیک مشرق وسطیٰ میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات محض ایک اور علاقائی بحران نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں ممکنہ تبدیلی کا نقطۂ آغاز ہیں۔ آنے والے مہینوں میں کیے جانے والے فیصلے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ آنے والی دہائیوں کے عالمی نظام کی سمت کا بھی تعین کر سکتے ہیں۔آپ کی رائے میں کیا امریکہ اسرائیل کی خاطر اپنے خلیجی مفادات کو داؤ پر لگا دے گا، یا بالآخر عملیت پسندی غالب آئے گی؟

امریکہ-ترکی دفاعی معاہدے اور سیکورٹی انتباہات کے بعد ترکی-اسرائیل کشیدگی میں نیا موڑانقرہ/تل ابیب: ترکی اور اسرائیل کے تعلقات ایک نئے سیاسی اور تزویراتی تناؤ کے مرحلے میں داخل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، جب اسرائیل کی وزیر برائے اختراعات گیلا گملیل نے ترکی کو ایران کے بعد اسرائیل کے لیے “اگلا بڑا سیکورٹی چیلنج” قرار دیا۔ ان کے بیان نے خطے میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے عدم اعتماد اور مسابقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ترکی کے ساتھ تقریباً 705 ملین ڈالر مالیت کے فوجی معاہدے، جس میں لڑاکا طیاروں کے انجنوں کی فروخت بھی شامل ہے، کو آگے بڑھانے کا اعلان کیا۔ اس پیش رفت نے اسرائیلی سیاسی اور دفاعی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافہ اسرائیل کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ تل ابیب خطے میں ترکی کے بڑھتے ہوئے فوجی اور سیاسی اثر و رسوخ کو اپنے لیے ایک ممکنہ چیلنج سمجھتا ہے۔اس دوران سابق بیانات بھی دوبارہ زیرِ بحث آ گئے ہیں جن میں صدر ٹرمپ سے منسوب یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ انہوں نے ترک صدر رجب طیب اردوان کو اسرائیل کے خلاف کسی ممکنہ فوجی اقدام سے روکنے کے لیے مداخلت کی تھی۔ ان دعوؤں نے واشنگٹن، انقرہ اور تل ابیب کے درمیان پسِ پردہ رابطوں کے بارے میں کئی سوالات کو جنم دیا تھا۔دوسری جانب صدر اردوان اسرائیلی پالیسیوں، خصوصاً غزہ کے معاملے پر، مسلسل سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں ترکی نے اسرائیل کے خلاف سفارتی اور سیاسی دباؤ میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاسی بیانات اور امریکہ-ترکی دفاعی معاہدے کا بیک وقت سامنے آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اب ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں علاقائی اثر و رسوخ، توانائی کے وسائل، سلامتی کے معاملات اور فوجی اتحادوں پر مسابقت مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید تصادم کی جانب دھکیل سکتی ہے۔تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو آنے والے مہینوں میں ترکی اور اسرائیل کے تعلقات مزید پیچیدہ، غیر یقینی اور ممکنہ طور پر زیادہ محاذ آرائی پر مبنی ہو سکتے ہیں۔

مصر نے لبنان کی خودمختاری کی حمایت کا اعادہ کر دیا، اسرائیل کے مکمل انخلا اور ریاستی عملداری کے قیام پر زورقاہرہ: مصر نے لبنان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور استحکام کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے اسرائیل کے تمام لبنانی علاقوں سے مکمل انخلا اور پورے ملک میں لبنانی ریاست کی مکمل عملداری کے قیام پر زور دیا ہے۔مصری وزیر خارجہ، بدر عبدالعاطی نے لبنانی وزیراعظم نواف سلام سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے حالیہ فریم ورک معاہدے، لبنان کی سیاسی و سکیورٹی صورتحال اور خطے میں جاری پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔گفتگو کے دوران قاہرہ نے واضح کیا کہ کسی بھی سیاسی یا سکیورٹی انتظام کا بنیادی مقصد لبنانی ریاست کی اپنے تمام علاقوں پر مکمل عملداری کی بحالی ہونا چاہیے تاکہ ملک میں پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے اور کشیدگی یا تنازع کے دوبارہ جنم لینے کے امکانات کو روکا جا سکے۔مصری وزیر خارجہ نے لبنان کے حوالے سے اپنے ملک کے چار بنیادی نکات پیش کیے:اسرائیلی افواج کا تمام لبنانی علاقوں سے مرحلہ وار اور مکمل انخلا؛تمام ہتھیاروں کو ریاستی اداروں کے اختیار میں دے کر قومی خودمختاری کو مضبوط بنانا؛بالخصوص جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کی مکمل تعیناتی اور اسے اپنی سکیورٹی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل بنانا؛اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانا تاکہ خطے میں استحکام برقرار رہے اور فوجی تصادم کی راہ مسدود ہو۔مصر نے اس موقع پر لبنانی سیاسی قوتوں کے درمیان اتحاد، ریاستی اداروں میں ہم آہنگی اور مشترکہ قومی مؤقف کی اہمیت پر بھی زور دیا اور اسے موجودہ سیاسی، سکیورٹی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناگزیر قرار دیا۔دوسری جانب وزیراعظم نواف سلام نے لبنان کے لیے مصر کی مستقل حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ قاہرہ نے ہمیشہ لبنانی ریاستی اداروں کے استحکام اور قومی وحدت کے فروغ میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان آئندہ بھی قریبی مشاورت اور رابطوں کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا۔یہ سفارتی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان سے متعلق حالیہ علاقائی اور بین الاقوامی سمجھوتوں پر عمل درآمد کی کوششیں جاری ہیں اور عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا متعلقہ فریق ان معاہدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کر کے لبنان کے استحکام اور ریاستی خودمختاری کو مزید مضبوط بنا پائیں گے۔

راولاکوٹ میں حالات کشیدہ صورتحال نازک ۔۔عوام کا خون کرپٹ حکمرانوں بالخصوص وزیر اعظم نےچوسنا نہ چھوڑا 5 ھزار ارب روپے عوام کی جیبوں سے نکالنے کے بعد مزید 5 ھزار ارب روپے کا ڈاکہ مارنے پر بضد پٹرول کو ایک سو پچاس روپے فی لیٹر کرنے کی بجائے 300 پر برقرار ۔۔۔پٹرول پر حکومتی فی لیٹر 200 روپے ڈاکہ بدستور جاری۔۔تھانہ سواں ملزمان کے ساتھ مل گیا کتابوں کی دوکان پر بچی کے ساتھ دست درازی کی کوشش اھلہ محلہ بھپھر گیا حالات کشیدہ صورتحال نازک بڑے حادثے کی گونج ایف آئی آر درج پولیس اصل ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام ای جی اسلام آباد سے مداخلت کی اپیل۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر