سپیکر پنجاب اسمبلی ان ایکشن 1993ء کا ایکشن۔۔جنرل علی قلی خان خٹک افواج پاکستان کی شان۔۔ماضی کے دریچوں میں۔۔پاکستان میں مھنگای کا طوفان زندگی سسکیاں لینے لگی۔۔۔پاکستان میں خون سستا اٹس۔۔10 محرم الحرام ملک بھر میں دھشت گردی کا خطرہ الرٹ جاری۔فیصل آباد روالپندی لاھور کراچی جھنگ گجرنوالہ کوئٹہ میں جلوسوں پر دھشت گردی کا خطرہ۔۔فوج اور ایاز صادق کی محبت۔۔میں نے جواب دیا ہے وہ بالکل بہترین جواب دیا ہے، خواجہ آصف۔۔افواج پاکستان میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

سپیکر پنجاب اسمبلی حلقہ انتخاب بھی رکھتے ہیں اور حلقہ احباب بھیلاہور سے رپورٹنگ کرنے والے احباب ہی بہتر روشنی ڈال سکتے ہیں کہ ایسا کیا ہو گیا ہے فیس بک پر سپیکر پنجاب اسمبلی کے حق میں پوسٹوں کا سیلاب امڈ آیا ہے۔۔۔۔۔۔ پنجاب اسمبلی میں سپیکر صاحب کا وزراء سے رویہ کچھ سخت نظر آیا ہے تو وزیر اطلاعات عظمی بخاری نے بھی اپنے تئیں سپیکر صاحب کو “حد” میں رکھنے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔وہ ایسا کرتے ہوئے یا ان سے کہلوانے والی بھول گئیں ہیں کہ ملک احمد خان خواتین کی مخصوص نشستوں پر منتخب ہو کر نہیں آئے وہ ووٹرز کا حلقہ انتخاب بھی رکھتے ہیں اور ذاتی “حلقہ احباب” بھی۔۔۔۔جس انداز میں عظمی بخاری نے سپیکر پر طنز کی اور جس طرح سپیکر آئین اور ایوان کے تحفظ کی بات کر رہے ہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ بند کمرے میں معاملہ (درپردہ)جو بھی ہے حل نہیں ہو سکا۔۔۔۔صاف الفاظ میں بات کی جائے تو جب چودھری اپنے کامیوں کے ذریعے شٹ آپ کال دیں تو سمجھ جائیں “مختاریا گل دوھ گئ ہے”۔۔۔۔۔۔

🌹 جنرل علی قلی خان خٹک — ایک عظیم سپاہی، مدبر اور محبِ وطن جرنیل کو خراجِ عقیدت 🌹🇵🇰 ایک ایسے جرنیل کی داستان جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گیپاکستان کی عسکری تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو صرف اپنے عہدوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے کردار، بصیرت، دیانت داری اور پیشہ ورانہ قابلیت کی بدولت ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل Ali Kuli Khan Khattak بھی انہی عظیم شخصیات میں سے ایک تھے۔وہ ایک ایسے فوجی خاندان میں پیدا ہوئے جہاں حب الوطنی، فرض شناسی اور خدمتِ وطن نسل در نسل منتقل ہوتی رہی۔ نوجوان علی قلی خان نے جب پاکستان آرمی کی وردی پہنی تو شاید کسی کو اندازہ نہ تھا کہ یہ نوجوان افسر ایک دن پاکستان کے قابل ترین جرنیلوں میں شمار ہوگا۔فوجی زندگی کے ابتدائی دنوں ہی سے ان کی ذہانت، قائدانہ صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ مہارت نے انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کر دیا۔

وہ ہر ذمہ داری کو صرف ایک عہدہ نہیں بلکہ قومی امانت سمجھ کر ادا کرتے تھے۔ میدانِ جنگ ہو، تدریسی ذمہ داریاں ہوں یا حساس انٹیلی جنس معاملات، انہوں نے ہر محاذ پر اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔⭐ علم، حکمت اور عسکری مہارت کا امتزاججنرل علی قلی خان خٹک صرف ایک سپاہی نہیں تھے بلکہ ایک بہترین عسکری مفکر بھی تھے۔

کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں بطور انسٹرکٹر اور بعد ازاں کمانڈنٹ انہوں نے نوجوان افسروں کی ایسی تربیت کی جس کے اثرات آج بھی پاکستان آرمی میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ان کے شاگرد انہیں ایک ایسے استاد کے طور پر یاد کرتے ہیں جو صرف فوجی حکمتِ عملی ہی نہیں بلکہ کردار، دیانت داری اور قیادت کا درس بھی دیتے تھے۔🛡️ وطن کے محافظبطور ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس انہوں نے پاکستان کی سلامتی کو درپیش خطرات کا بروقت ادراک کیا اور قومی مفادات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا۔ 1995ء میں ریاست کے خلاف ایک خطرناک سازش کو ناکام بنانے میں ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔

بعد ازاں جب انہیں راولپنڈی کی اہم ترین کور، X کور، کی کمان سونپی گئی تو انہوں نے ثابت کیا کہ وہ صرف ایک بہترین اسٹاف آفیسر ہی نہیں بلکہ ایک کامیاب فیلڈ کمانڈر بھی ہیں۔🎖️ چیف آف جنرل اسٹاف — اعتماد کی علامتپاکستان آرمی میں چیف آف جنرل اسٹاف کا عہدہ انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

اس منصب پر فائز ہونا کسی بھی فوجی افسر کی قابلیت اور اعتماد کا ثبوت ہوتا ہے۔ جنرل علی قلی خان خٹک نے اس ذمہ داری کو بھی انتہائی وقار اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ نبھایا۔ان کی رائے کو فوجی حلقوں میں ہمیشہ احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ دور اندیشی، متانت اور اصول پسندی کی علامت سمجھے جاتے تھے۔🌺 ایک عظیم انسانعظیم جرنیل ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک نہایت شائستہ، منکسر المزاج اور اصول پسند انسان بھی تھے۔ ان کے ماتحت افسر اور جوان انہیں عزت، محبت اور اعتماد کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔انہوں نے اپنی پوری زندگی پاکستان، پاکستان آرمی اور قومی سلامتی کے لیے وقف کر دی۔ ان کا کیریئر اس بات کا ثبوت ہے کہ حقیقی عظمت صرف عہدوں سے نہیں بلکہ کردار، خدمت اور دیانت داری سے حاصل ہوتی ہے۔💚 خراجِ عقیدتسلام ہے اس سپاہی کو جس نے اپنی ذہانت، بصیرت اور بے مثال پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے پاکستان آرمی کا وقار بلند کیا۔

سلام ہے اس قائد کو جس نے ہر ذمہ داری کو قومی امانت سمجھ کر نبھایا۔سلام ہے جنرل علی قلی خان خٹک کو، جن کا نام پاکستان کی عسکری تاریخ میں ہمیشہ عزت، وقار اور احترام کے ساتھ لیا جاتا رہے گا۔”عظیم سپاہی وقت کے ساتھ رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کی خدمات، کردار اور مثالیں آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہیں۔ جنرل علی قلی خان خٹک ایسی ہی ایک درخشاں مثال تھے۔”🇵🇰 پاکستان آرمی کے اس عظیم فرزند کو بھرپور خراجِ

اسلام آباد کے اتوار بازار میں ہر سال مسلسل آگ لگنے کے واقعات ہر گز اتفاق نہیں ہو سکتا ۔اگ سے زیادہ نقصان ہمیشہ پختون تاجر بھائیوں کا ہوتا ہے ۔دو مرتبہ آگ لگنے سے پختونوں کے جوتوں اور کپڑے کی دوکانیں نشانہ بنیں اور وہ اپنی ساری جمع پونجی اثاثوں سے محروم ہو گئے ۔ایک دوکان جلنے سے صرف تاجر کا نقصان نہیں ہوتا اس سے منسلک سارا گھرانہ لٹ پٹ جاتا ہے ۔حکومتی ادارے اس معاملہ کی باریک بینی سے تفتیش کریں اور زمہ داران کو عبرت کا نشان بنائیں۔

لوگ مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ ہیں،ظالمانہ ٹیکسوں نے کمر توڑ کر رکھ دی ہے،معیشت کا پہیہ جام ہے اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ بنانے والے وزارت خزانہ اور وزیراعظم ہاوس کے ملازمین کو 6 ماہ کی تنخواہ بطور بونس دینے کا اعلان کردیا ہے ۔کیوں بھئی ؟ آپ کے باپ کا مال ہے؟ بادشاہ سلامت ہیں آپ ؟ پہلی بات تو یہ اس بجٹ میں ایسا کونسا تیر مارا ہے کہ انعام دیا جائے؟ دوسری بات اگر بونس دینا بھی ہے تو ان چند ملازمین کو دیں جنہوں نے دن رات کام کیا۔ کروڑوں روپے یوں اڑا دینے کیا جواز ہے؟ وزارت خزانہ اور وزیراعظم ہائوس کے سینکڑوں ملازمین کو 6ماہ کی تنخواہیں انعام دینے کا اختیار کس نے دیا ؟ کیا آپ اپنی جیب سے یہ بخشش دے سکتے ہیں؟

‏آپ کی فوج سے محبت کب سے جاگی ہے، آپ نے کہا تھا کہ آرمی چیف نے کہا جاسوس کو چھوڑو ورنہ بھارت حملہ کر دے گا، آپ نے کہا تھا کہ آرمی چیف کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں، آپ گولیاں ماریں گے، جیلوں میں ڈالیں گے تو ہم مخالفت کرینگے ، اچکزئی کا اسپیکر ایاز صادق کو جواب۔۔!!

کشمیر کیلئے ہم نے پانچ جنگیں لڑی ہیں، لیکن صِلہ یہ ملا کہ وہاں پاکستان کو گالیاں دی جا رہی ہیں،جب وہ یہ کہیں کہ بلوچستان سے لاشیں واپس آ جاتی ہیں، کشمیر سے ان کی لاشیں بھی واپس نہیں جائیں گی، تو پھر جو میں نے جواب دیا ہے وہ بالکل بہترین جواب دیا ہے، خواجہ آصف

تنخواہ دار طبقے سے 700ارب جبکہ وڈیروں، جاگیرداروں سے صرف 12ارب روپے ٹیکس وصول کیے جانے کا انکشاف۔آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کو رجسٹر کرنے کا حکم دے دیا۔۔تحریک انصاف ،ن، اور پاکستان مسلم لیگ،ن، کی ملی بھگت بجٹ پاس۔۔۔پاکستان پرو لیگ میں ائیندہ شریک نھی ھو گا عبرتناک شکست۔۔امریکہ نے ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت کیوں دی اور پاکستان کو اس سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟جائز مطالبات کی منظوری کے باوجود احتجاج کیا گیا: چیف سیکریٹری آزاد کشمیر کی پریس بریفنگ۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

یہ دونوں خواتین نون لیگ کی جانب سے پارلیمنٹ میں مخصوص نشستوں پر ‘خیراتی ممبرز’ ہیں۔ انہوں نے جیسے قسم کھا رکھی ہے کہ پاکستانی قوم کا صرف نقصان ہی کرنا ہے۔ قابلیت کا یہ عالم ہے کہ کوئی عام سی فرنچائز بھی انہیں نوکری نہ دے، مگر یہاں یہ وزیر بنی بیٹھی ہیں!خیراتی ممبر ھونے کا اس سے بڑا کیا ثبوت ھوگا کہ کل شیزا صاحبہ ایک انٹرویو میں فرمارھی تھی کہ مینے تو ایم پی اے کی سیٹ کیلیئے اپلائی کیا تھا، لیکن الیکشن کمیشن میں کاغزات جمع کرانے کیبعد الیکشن کمشنر نے مشورہ دیا کہ آپ ایم پی اے کیبجائے ایم این اے ٹھیک رھیں گی۔۔۔۔اسطرح میں نیشنل اسمبلی میں آگئییعنی کہ کوئی خاتون صوبائی اسمبلی کیلیئے فٹ ھے یا نیشنل کیلیئے یہ فیصلہ بھی پارٹی کیبجائے الیکشن کمیشن کرتا رھا ھے۔

🚨 شاباش فاطمہ ثناء شاباش ؛ آخر کار کپتان فاطمہ ثناء جیت گئی 🚨 بالآخر پاکستان کرکٹ بورڈ کی آنکھیں کھول گئی ویمنز ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا کے کہنے پر عالیہ ریاض کے شوہر اور وقار یونس کے چھوٹے بھائی علی یونس کو ہوٹل کے کمرے سے نکال دیا رپورٹ کے مطابق عالیہ ریاض کے شوہر اس کمرے میں رہائش پذیر ہوئے تھے جو آئی سی سی کی جانب سے ہر ایک لڑکی کو الگ الگ دیا گیا علی یونس وہاب ریاض کو پی سی بی کی جانب سے ملنے والی ٹیم کے فنڈ پر اپنے اہلیہ عالیہ ریاض سے ملنے کیلئے انگلینڈ گئے جہاں اس نے اسی کمرہ میں رہائش اختیار کی جو آئی سی سی کی جانب سے دی گئی بنگلہ دیش میچ کے بعد وہاب ریاض اور فاطمہ ثنا کے درمیان تلخ کلامی اسی بات پر ہوئی تھی فاطمہ ثنا نے بطور کپتان یہ کہا کہ عالیہ ریاض یہاں کرکٹ کھیلنے آئی ہے یاں گھومنے بنگلہ دیش میچ سے ایک روز قبل عالیہ ریاض اپنے شوہر کیساتھ گھومنے گئی اور پریکٹس میں بھی حصہ نہیں لیا تھا جسکو فاطمہ ثنا نے بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں ڈراپ کرنے کا فیصلہ کیا

لیکن وہاب ریاض نے شامل کرلیاپی سی بی کے اعلیٰ افیشل نے فوری طور پر وہاب ریاض کو کہدیا کہ علی یونس کو ہوٹل کے کمرے سے باہر کیا جائے رپورٹ کے مطابق اب اس بات کی بھی انکوائری شروع کردی گئی ہے کہ کس کے اجازت سے علی یونس اس ہوٹل میں گئے جہاں پاکستان ٹیم کی لڑکیاں موجود ہے #cricket #fblifestyle #fifaworldcup

پاکستان انڈیا سے 4-3 سے ہارنے کے بعد ہاکی ٹیم کی بدترین کارکردگی کی عکاس ہے، جس میں مسلسل 13 شکستوں اور منفی 43 کے گول فرق کے باعث ٹیم کو FIH پرو لیگ سے ریلیگیٹ کر دیا گیا ہے، یعنی پاکستان اب اگلے سیزن میں اس بڑے عالمی ٹورنامنٹ کا حصہ نہیں ہوگا۔ یہ صورتحال پاکستان ہاکی کے زوال اور ٹیم کی دفاعی و جارحانہ صلاحیتوں میں شدید کمی کو ظاہر کرتی ہے، جو ہاکی کے مداحوں کے لیے انتہائی افسوسناک اور مایوس کن ہے۔

*سرگودھا۔ ڈپٹی کمشنر کا واسا افسران کو فیلڈ میں نکل کر عوامی مسائل حل کرنے کا حکم**یونین کونسل اور محلہ کی سطح پر کھلی کچہریاں لگانے کی ہدایت**واسا کے تمام اثاثہ جات کی جیو ٹیگنگ، ریونیو میں اضافے کا پلان طلب**غیر قانونی کنکشنز کو قانونی بنانے اور بلوں کی ریکوری تیز کرنے کی ہدایت*سرگودھا (آن لائن) ڈپٹی کمشنر حسین احمد رضا چوہدری نے واسا افسران کو اپنی کارکردگی مزید بہتر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس ڈی او سے لے کر منیجنگ ڈائریکٹر تک تمام افسران فیلڈ میں نکلیں، شہریوں کے مسائل ان کی دہلیز پر جا کر حل کریں، یونین کونسل اور محلے کی سطح پر کھلی کچہریوں کا انعقاد یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جانب سے شکایات کے ازالے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور ہر سب ڈویژن میں متعلقہ ایکسین اپنی کارکردگی کا براہ راست ذمہ دار ہوگا۔اس امر کا اظہار انہوں نے واسا کی کارکردگی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں منیجنگ ڈائریکٹر واسا محمد ابوبکر عمران اور ادارے کے دیگر افسران نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ واسا اپنی ریونیو وصولیوں میں اضافہ کرے، تمام اثاثہ جات کی جیو ٹیگنگ مکمل کرے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت بوٹیلنگ پلانٹ سمیت دیگر منصوبوں کی تجاویز تیار کرے۔ انہوں نے سیوریج اور ویسٹ واٹر کے مؤثر استعمال کے لیے قابل عمل منصوبہ بندی بھی طلب کی۔ انہوں نے کہا کہ ہر برانچ کے لیے واضح کی پرفارمنس انڈیکیٹرز (کے پی آئیز) مقرر کیے جائیں اور افسران کی سالانہ خفیہ رپورٹس ( اے سی آرز) کو ان کی کارکردگی سے مشروط کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے واسا سے بزنس پلان بھی طلب کرتے ہوئے ادارے کی مالی خود کفالت کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے

ایم ڈی واسا نے بتایا کہ واسا کے قیام کے وقت ادارے کے پاس 32 ہزار کنکشن موجود تھے جن میں تقریباً 10 ہزار واٹر سپلائی کنکشن شامل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جاری سروے کے دوران اب تک تقریباً 50 ہزار گھروں کا ریکارڈ مرتب کیا جا چکا ہے اور تمام ڈیٹا کو جیو ٹیگ کیا جا رہا ہے۔ سروے کی تکمیل کے بعد جامعہ سرگودھا کے شعبہ شماریات کے ذریعے اس کی تصدیق کرائی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ غیر قانونی کنکشنز کو قانونی بنانے اور واٹر سپلائی و سیوریج بلوں کی وصولی کے لیے خصوصی مہم جاری ہے۔ بلوں کی پرنٹنگ کا عمل مکمل کیا جا رہا ہے جبکہ 10 جولائی تک وصولیوں کے اہداف حاصل کرنے کے لیے متعلقہ عملے کو ٹارگٹس دے دیے گئے ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اب شہری اپنے بل صرف ایزی پیسہ یا جاز کیش ہی نہیں بلکہ تمام بینکوں کے ذریعے بھی جمع کرا سکیں گے۔ ڈپٹی کمشنر نے واسا کے 1334 شکایات سیل کو مزید فعال بنانے اور موصول ہونے والی شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔🚨محکمہ تعلیم بہاولنگر میں بڑا کریک ڈاؤن، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر ایک ہی خاندان کے 3 ملازم برطرف⬅️1۔ جونیئر کلرک ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس منچن آباد نعمان حسن ⬅️2۔ اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر منچن آباد عائشہ نواب (اہلیہ نعمان حسن)⬅️3۔ ہیڈ مسٹریس گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول منچن آباد رضیہ پروین

ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ ۔ اظہر سیدڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کا غم اجتماعی نہیں زاتی تھا ۔باپ کی موت بطور بیٹی اس پر قرض تھا ،اس کا احتجاج سچا تھا ۔جنون کے عالم میں غم و غصہ کا اظہار کرتی تھی ۔جبری گمشدگیوں اور لاپتہ نوجوانوں کیلئے احتجاج بھی سچا تھا ۔ ماہرنگ بلوچ کی سچائی کو داغ تب لگنا شروع ہوا جب پنجاب کے نوجوانوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر بلوچستان کی سڑکوں پر قتل کرنے کا کام شروع ہوا ۔یہ نوجوان بھی اپنی بیٹیوں کے باپ تھے ۔یہ بھی ماہرنگ بلوچ کے باپ ایسے تھے ۔ماہرنگ بلوچ کو لیڈری کا نشہ چڑھ گیا ۔بے گناہ پنجابیوں کے قتل پر ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کو دندل پڑھ جاتی تھی ۔اپنی ساری احتجاجی مہم میں اس بلوچ لڑکی نے بے گناہ پنجابیوں کے قتل پر افسوس تو دور کی بات مذمت کا کبھی ایک لفظ منہ سے نہیں نکالا ۔جو نام نہاد کامریڈ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی سزا پر نوحے پڑھتے نظر آتے ہیں وہ بھی منافق ہیں ۔خالص اور سچے منافق ۔جتنا مقدس خون کسی بے گناہ بلوچ نوجوان کا ہے اتنا ہی مقدس خون کسی بے گناہ پنجابی کا بھی ہے ۔یہ ممکن نہیں پنجابی نوجوان کے خون کو “ردعمل” کہہ کر آگے بڑھ جائیں اور بلوچ نوجوان کے خون پر سر پر مٹی ڈالتے ہوئے بین ڈالیں ۔عام پاکستانی شائد نہ جانتے ہوں ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور اسکی بلوچ یک جہتی کمیٹی بہت اچھی طرح جانتی تھی بے شمار لاپتہ نوجوان عسکریت پسند بن چکے ہیں

لیکن بدمعاشی اور بے ایمانی کی انتہا تھی انکی جبری گمشدگی کے نام پر ڈھٹائی کے ساتھ احتجاج کیا جاتا ۔ایجنسیاں بلوچ نوجوانوں کو غائب کرتی ہیں لیکن صرف انہیں جن کے متعلق شواہد موجود ہوتے ہیں ۔پاکستان نہیں دنیا کے ہر ملک کی ایجنسی یہ کام کرتی ہے ۔بلوچستان میں ریاست نے غلطیاں کیں اور انہی غلطیوں کے بوجھ کی وجہ سے ریاست نے ڈھائی سال تک ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ پر ہاتھ نہیں ڈالا ۔اسلام آباد میں دھرنہ دینے کی اجازت دی ۔ملک کے مختلف شہروں میں لانگ مارچ کی اجازت دی ۔اس ڈھائی سال کی ڈھیل نے ریاست کو بے پناہ نقصان پہنچایا ۔بے شمار بلوچ نوجوان مرکزی قومی دھارے سے کٹ کر عسکریت پسند بن گئے ۔ماہرنگ بلوچ احتجاج کا استعارہ بن گئی ۔ٹرین پر قبضہ کرنے والے عسکریت پسندوں کو فورسز نے نشانہ بنایا تو ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ نے ریڈ لائن عبور کر لی ۔ہسپتال میں عسکریت پسندوں کی لاشیں چھین لیں اور ان پر سیاست کرنے کی کوشش کی ۔اس کے بعد صرف کہانیاں ہیں ۔احتجاج،جلسے،لانگ مارچ اور جلوس سب بند ۔ریاست ڈھائی سال سے جو نرمی دکھا رہی تھی وہ ختم ہو گئی ۔کوئی ریاست احتجاج کو قومی سلامتی کیلئے خطرہ نہیں بننے دیتی ۔پہلے پاکستان ہے پھر آئین ،قانون اور انسانی حقوق ۔بلوچ نوجوان ایندھن ہیں ۔انہیں سی پیک اور پاکستان مخالف قوتیں اپنے مفادات کے تنور میں جلا رہی ہیں ۔چالیس سال میں لاکھوں نوجوان افغانستان اور مقبوضہ کشمیر کے مفادات کے تنور میں جلائے گئے ۔انکی زندگیاں ختم ہو گئیں ۔مر کھپ گئے ۔کسی کو کچھ نہیں ملا ۔بندوق اٹھانے والے بلوچ نوجوانوں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو گا ۔مر کھپ جائیں گے ۔کچھ نہیں ملے گا ۔’عظیم مقصد کیلئے قربانی” کا فراڈ صرف نوجوانوں کو اپنے مقاصد کیلئے استمال کرنے والوں کی ایک اصطلاح ہے اور بس ۔

بھارت میں میری پسندیدہ شخصیت میری بیوی اور پاکستان میں فیلڈ مارشل عاصم منیر،امریکی صدر۔۔بھارتی بلے باز نے ٹرائی سیریز کے فائنل میں سری لنکا کے خلاف میچ میں تاریخ رقم کی۔۔ایک طرف امریکا ایران مذاکرات جاری، دوسری جانب صدر ٹرمپ کے جارحانہ بیانات نے نئی بحث چھیڑ دی۔۔فیلڈ مارشل عاصم منیر مدبر قائد، عظیم فوجی رہنما اور بہترین سفارت کار ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا اعتراف۔۔ایرانی وفد کا ٹر مپ کے بیانات کیخلاف شدید احتجاج، مذاکرات میں شرکت سے انکار۔۔پاکستان اور قطر کی ثالثی میں سوئٹزرلینڈ میں جاری امریکا ایران مذاکرات کا دوسرا دور شروع نہ ہوسکا،۔۔حکومت کی رخصتی یا برطرفی۔مسلم لیگ ن آؤٹ!گلگت بلتستان میں حکومت سازی کیلئے پیپلزپارٹی اور استحکامِ پاکستان پارٹی میں معاملات طے پاگئے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

| سفارتی محاذ پر اچانک تبدیلی — 12 گھنٹوں میں صورتحال پلٹ گئیگزشتہ چند گھنٹوں کے دوران بین الاقوامی سفارتی ماحول میں ایک غیر معمولی اور تیز رفتار تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جس نے زمینی صورتِ حال کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات اور زمینی ذرائع کے مطابق، جہاں چند روز قبل تک غیر یقینی اور پسپائی کا ماحول تھا، وہیں اچانک پیدا ہونے والی پیش رفت نے تمام اندازے الٹ دیے ہیں۔ گزشتہ 12 گھنٹوں میں صورتحال اس قدر تیزی سے بدلی کہ خود میڈیا نمائندے بھی واپسی کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے تھے۔ مختلف صحافی اپنے سامان پیک کر چکے تھے، فلائٹس بک کر لی گئی تھیں، اور عمومی تاثر یہ تھا کہ مذاکراتی یا سفارتی سرگرمیوں کا یہ مرحلہ اپنے اختتامی دور میں داخل ہو چکا ہے۔تاہم حالات نے ایک غیر متوقع موڑ اس وقت لیا جب خطے میں اچانک سکیورٹی اور سفارتی سرگرمیوں میں نئی شدت دیکھی گئی۔راتوں رات تبدیلی — اچانک سرگرمیوں میں اضافہذرائع کے مطابق، رات کے وقت اچانک متعدد اہم پیش رفتیں سامنے آئیں جنہوں نے صورتحال کا رخ بدل دیا۔ ان میں سب سے نمایاں پیش رفت ایران کے اعلیٰ سطحی حکام کی فوری سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ بتایا جا رہا ہے۔

اسی دوران اطلاعات سامنے آئیں کہ خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے صورتحال نے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔ اگرچہ ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر مکمل تصدیق نہیں ہوئی، تاہم میڈیا اور سفارتی حلقوں میں ان خبروں نے غیر معمولی ہلچل پیدا کر دی۔اسی پس منظر میں خطے میں سکیورٹی پروٹوکولز کو دوبارہ فعال کرنے اور بعض مقامات پر اضافی حفاظتی اقدامات کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں، جنہوں نے یہ تاثر مزید مضبوط کیا کہ صورتحال ایک نئے اور حساس مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔سفارتی رابطے اور اہم ملاقاتیںاسی دوران پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کے اچانک ایران کے دورے نے صورتحال کو مزید اہم بنا دیا۔ ذرائع کے مطابق ان کے دورے کے بعد سفارتی چینلز میں غیر معمولی سرگرمی دیکھی گئی۔منصور علی خان کے مطابق، ان کا کہنا ہے کہ ان کے رابطے میں آنے کے بعد انہیں مختصر مگر اہم پیغام موصول ہوا جس میں کہا گیا:> “ڈونٹ لیو — ابھی یہاں سے نہ جائیں”یہ پیغام اس وقت ایک غیر رسمی مگر اہم اشارہ سمجھا گیا کہ خطے میں موجود سفارتی اور سیاسی حالات ابھی مکمل طور پر واضح نہیں اور مزید اہم پیش رفت متوقع ہو سکتی ہے۔سکیورٹی صورتحال میں اچانک تبدیلیذرائع یہ بھی بتاتے ہیں

کہ کچھ سکیورٹی انتظامات جو پہلے کم یا ختم کیے جا چکے تھے، انہیں دوبارہ فعال اور مضبوط (beef up) کیا جانے لگا ہے۔ اس پیش رفت کو عام طور پر اس بات کی علامت سمجھا جاتا ہے کہ زمینی صورتحال میں کسی اہم تبدیلی کا امکان موجود ہے۔اسی دوران مختلف سفارتی حلقوں میں غیر رسمی رابطوں میں اضافہ بھی رپورٹ کیا گیا، جس سے یہ تاثر مزید گہرا ہوا کہ پسِ پردہ مذاکرات یا مشاورت کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔خطے کی مجموعی صورتحال — غیر یقینی مگر متحرکبین الاقوامی مبصرین کے مطابق، موجودہ صورتحال انتہائی غیر مستحکم مگر متحرک ہے۔ ایک طرف میڈیا رپورٹس میں کشیدگی اور ممکنہ بحران کی باتیں سامنے آ رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف سفارتی سطح پر سرگرمیوں میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ کچھ ممالک کشیدگی کو کنٹرول کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ابنائے ہرمز جیسے حساس آبی راستے کی ممکنہ بندش یا اس سے متعلق خبریں اگرچہ غیر مصدقہ ہیں، لیکن اس نوعیت کی اطلاعات خود عالمی منڈیوں اور سفارتی حلقوں میں فوری ردعمل پیدا کرتی ہیں۔اعلیٰ سطحی وفود کی آمد کی اطلاعاتمزید ذرائع کے مطابق، یہ بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ عباس عراقچی اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جیسے اعلیٰ سطحی شخصیات کی ممکنہ آمد سے متعلق بات چیت جاری ہے۔

اگر یہ پیش رفت عملی صورت اختیار کرتی ہے تو اسے اس بحران کے تناظر میں ایک انتہائی اہم سفارتی موڑ تصور کیا جائے گا۔تاہم اس وقت تک کسی بھی فریق نے باضابطہ طور پر ان ملاقاتوں یا شرکت کی تصدیق نہیں کی۔نتیجہ صورتحال کس طرف جا رہی ہے؟موجودہ حالات میں سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ صورتحال ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں:ایک طرف کشیدگی اور غیر یقینی بڑھ رہی ہےدوسری طرف سفارتی رابطے تیز ہو رہے ہیںاور تیسری طرف زمینی سکیورٹی اقدامات دوبارہ سخت کیے جا رہے ہیںیہ تمام عوامل مل کر اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ آنے والے چند گھنٹے یا دن خطے کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔فی الحال صورتحال واضح نہیں، تاہم یہ بات یقینی ہے کہ سفارتی اور سیاسی محاذ پر ایک نئی اور بڑی پیش رفت کے امکانات موجود ہیں۔

ایرانی وفد کا ٹر مپ کے بیانات کیخلاف شدید احتجاج، مذاکرات میں شرکت سے انکارپاکستان اور قطر کی ثالثی میں سوئٹزرلینڈ میں جاری امریکا ایران مذاکرات کا دوسرا دور شروع نہ ہوسکا، پہلا دور 80 منٹ جاری رہا ایرانی میڈیا

‏پاکستان ہر سال آئی ایم ایف کے پاس جاتا ہے، باقی ممالک کیا کرتے ہیں؟ بھارت آئی ایم ایف کے پاس آخری دفعہ 1991 میں گیا تھا اور اُس کے بعدآج تک آئی ایم ایف کے پاس نہیں گیا ملائشیا کبھی آئی ایم ایف کے پاس نہیں گیا، حتی کہ 1997-98 کے اقتصادی بحران میں جب جنوبی کوریا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور فلپائن آئی ایم ایف کے پاس گئے، ملائشیا کے مہاتیر نے ایسے مشکل وقت میں بھی آئی ایم ایف کے پاس جانے سے انکار کیا ترکیہ نے آخری آئی ایم ایف پلان 2005 میں لیا اور اُس کے بعد 20 سال سے آئی ایم ایف کے پاس نہیں گیا۔ایران نے آخری دفعہ آئی ایم ایف پلان 1959 میں لیا تھا چین آخری دفعہ 1986 میں آئی ایم ایف میں گیا جاپان 1964 اور جرمنی 1970 میں آخری دفعہ آئی ایم ایف کے پاس گیا تھائ لینڈ 1997 میں آخری دفعہ آئی ایم ایف میں گیا ویت نام 2001 میں آخری دفعہ آئی ایم ایف کے پاس گیا صرف اس سے اندازہ لگا لیں کہ پاکستان کا اقتدار جن دو موروثی جماعتوں اور اُن کے سہولت کاروں کے ہاتھ میں رہا، اُن کی صلاحیت صرف آئی ایم ایف سے قرضہ لینے اور ورلڈ بینک سے وزیر خزانہ لینے، تک محدود ہے

‼️ *امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فوسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بصیرت اور مدبرانہ قیادت کے معترف*‼️📌 مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام اور امریکہ و ایران کے مابین کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی تاریخی مصالحتی کوششوں کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔📌 سوئٹزرلینڈ کے مقام برگن اسٹاک (Burgenstock) میں ہونے والے امریکہ ایران اعلیٰ سطحی مذاکرات کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مدبرانہ قیادت اور سفارتی بصیرت کو غیر معمولی الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔📌سوئٹزرلینڈ میں پاکستانی وفد سے ملاقات کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کھل کر اعتراف کیا کہ پاکستان کی سول و عسکری قیادت کی انتھک کوششوں کے بغیر امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدے پر پیش رفت ممکن ہی نہ تھی۔📌 فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کلیدی کردار کی تعریف کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ انہوں نے پچھلے تین مہینوں میں شاید فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ بات چیت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل کی بصیرت اور مدبرانہ قیادت کے بغیر ہم اس اہم موڑ تک نہیں پہنچ سکتے تھے، وہ بلاشبہ ایک عظیم فوجی رہنما ہیں، لیکن ان کے خیال میں انہوں نے خود کو ایک بہترین اور اعلیٰ پائے کے سفارتکار کے طور پر بھی ثابت کیا ہے۔📌 پاکستان کی سول و عسکری قیادت کو امریکہ اور ایران کے مابین مزاکرات کرانے پر نہ صرف امریکہ، بلکہ پوری دنیا کی جانب سے زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ 📌 اقوامِ متحدہ (UN)، یورپی یونین اور مشرقِ وسطیٰ کے برادر اسلامی ممالک سمیت عالمی برادری نے واشنگٹن اور تہران کے مابین برف پگھلانے پر اسلام آباد کے اس مخلصانہ اور مدبرانہ کردار کو دل کھول کر سراہا ہے۔ 📌 اس تاریخی سفارتکاری کے ذریعے پاکستان نے نہ صرف خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچایا، بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی لائنز کو بحال رکھ کر پوری دنیا کو ایک ہولناک معاشی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تباہ کن اضافے سے بھی محفوظ کر لیا۔ اگر پاکستان بروقت یہ مصالحتی کردار ادا نہ کرتا تو بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی تجارتی نظام مفلوج ہو کر رہ جاتا۔📌 ایسے نازک موڑ پر جب دنیا بلاکس میں تقسیم ہو رہی تھی، پاکستان نے ایک بار پھر خود کو عالمی امن کا ایک غیر جانبدار، قابلِ اعتماد اور ناگزیر ضامن ثابت کیا، اور اس تاریخی مصالحت نے بین الاقوامی برادری میں پاکستان کے تزویراتی وقار اور سفارتی قد کاٹھ کو مزید بڑھا دیا ہے۔

*🛑 قطر میں گیس کی سب سے بڑی سہولت راس لافان انڈسٹریل سٹی میں دھماکہ* *دھماکا اتنا شدید تھا کہ قطریوں نے اسے ‘زلزلہ’ قرار دیا اور بحرین میں بھی اس کی آواز سنی گئی۔ وجہ فی الحال معلوم نہیں ہے۔*

2000 ارب روپے گندم فراڈ ڈائریکٹر جنرل فوڈ امجد حفیظ کا نیا کارنامہ۔۔پاکستانی کسان زندہ دفن۔۔50 ارب ڈالر لینا چاہیے تھا امریکی نائب صدر کے 2 فقرے نھی حکومت صرف پاکستانی عوام کو لوٹتی ھیں۔۔وزیراعظم شہبازشریف کا ایک اور فراڈ۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دیتہران: ایران کی مشترکہ فوجی کمان نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر تمام بحری آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر لبنیٰ فرح 📰ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دیتہران: ایران کی مشترکہ فوجی کمان نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر تمام بحری آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ اقدام امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کے ردِعمل میں اٹھایا گیا ہے۔ایران کی نیم سرکاری Mehr News Agency کے مطابق اس فیصلے سے عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی سپلائی چینز میں ایک نئے بحران کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں، جبکہ چند روز قبل ہی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہوئی تھی۔ایران کا مؤقف: ’’پہلا انتقامی قدم‘‘ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی فوجی ہیڈکوارٹر نے ایک بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش واشنگٹن اور تل ابیب کی جانب سے جنگ بندی کی ’’واضح خلاف ورزی‘‘ کے جواب میں کی گئی ہے۔ایرانی حکام نے جنوبی لبنان کے علاقے Sidon کے قریب گاؤں Knarit پر اسرائیلی فضائی حملے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے۔سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بیان میں کہا گیا:«’’آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔ یہ دشمن کی جانب سے وعدوں کی خلاف ورزی کا پہلا جواب ہے، اور اگر جارحیت جاری رہی تو مزید اقدامات بھی کیے جائیں گے۔‘‘»اسلام آباد مفاہمتی فریم ورک کو دھچکاایرانی اعلان کو بین الاقوامی سفارت کاری کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ 18 جون کو امریکی صدر Donald Trump اور ایرانی صدر Masoud Pezeshkian نے اسلام آباد میں ایک مفاہمتی فریم ورک پر اتفاق کیا تھا، جس کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا تھا۔اطلاعات کے مطابق معاہدے کے تحت:- ایران نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور علاقائی کشیدگی میں کمی کے لیے اقدامات کا عہد کیا تھا۔- امریکہ نے ایران کے خلاف بعض معاشی پابندیوں میں نرمی اور بحری دباؤ میں کمی پر آمادگی ظاہر کی تھی۔- فریقین نے خطے میں دشمنیوں کے خاتمے اور سفارتی حل کی حمایت پر اتفاق کیا تھا۔تاہم، ایران کا مؤقف ہے کہ جنوبی لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیاں معاہدے کی روح کے منافی ہیں، جس کے باعث وہ اپنے سابقہ وعدوں کا پابند نہیں رہا۔عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں پر ممکنہ اثراتStrait of Hormuz دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے تقریباً 20 فیصد عالمی خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی ترسیل ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ ناکہ بندی طویل عرصے تک برقرار رہی تو:- عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے؛- بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو متبادل اور طویل بحری راستے اختیار کرنا پڑ سکتے ہیں؛- توانائی کی عالمی سپلائی چین ایک نئے بحران سے دوچار ہو سکتی ہے۔عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا سفارتی کوششیں اس نئے بحران کو روکنے میں کامیاب ہو پائیں گی یا خطہ ایک بار پھر وسیع تر کشیدگی کی جانب بڑھ رہا ہے۔

‏لبنان: حزب اللہ کا اسرائیلی فوج پر حملہ، ٹینک بٹالین کمانڈر سمیت 4 فوجی ہلاک۔۔’پورے لبنان کو جلا دینا چاہیے’ حزب اللہ کے ہاتھوں فوجیوں کی ہلاکت پر اسرائیل وزیر سیخ پا۔‏شہباز شریف اسلامی جمہوریہ ایران کی دعوت پر پاکستانی قوم کی جانب سے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شرکت کریں گے۔۔‏’پورے لبنان کو جلا دینا چاہیے’ حزب اللہ کے ہاتھوں فوجیوں کی ہلاکت پر اسرائیل وزیر سیخ پا۔۔ ‏لبنان: حزب اللہ کا اسرائیلی فوج پر حملہ، ٹینک بٹالین کمانڈر سمیت 4 فوجی ہلاک۔۔ایکشن کمیٹی کے خلاف اور حکومت کے حق میں ن لیگ کی کشمیر میں لاکھوں افراد پر مشتمل ریلی۔پی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات شروع۔۔عمران خان کی ضمانت رھای یا کچھ اور تحریک انصاف عمران خان کی رھای نھی چاھتی۔۔4 کا گروپ اور عمران کے خلاف علی اور بریسٹر کے ساتھ کھوسہ مامعلات طے نھی ھونے دے رھے۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

کمپنی کی حکومت ۔ اظہر سیدنوسر باز اور اسکو مدینہ کی مثالی ریاست کا معمار بنانے کیلئے ففتھ جنریشن وار کی جو خوفناک غلطی کی گئی ہمیں نہیں لگتا دوبارہ سسٹم ڈی ریل کیا جائے گا ۔غلطی کا ادراک اس قدر ہمہ گیر تھا مالکوں نے اپنے چیف کو کئی سالوں تک سسٹم چلانے کیلئے جرمن فیلڈ مارشل رومیل سے بھی بڑا تقدس دے ڈالا ۔رومیل کے پاس افریقہ میں اتحادی فوج کا درمیان سے کاٹنے کا فخر تھا تو ہمارے جنرل کے پاس بھارتیوں کا تین دہائیوں سے علاقہ کی سپر پاور ہونے کا نشہ ہرن کرنے کا فخر تھا ۔خطہ سے زیادہ دنیا کی صورتحال جتنی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے کمپنی یہی سلسلہ چلائے گی ۔اندرونی تحفظات تابعداری کے ساتھ اس طرح طے پا رہے ہیں صوبوں نے وفاقی محاصل سے اپنا حصہ کم کر کے مرکز کو بطور قرضہ دینے کی حامی بھر لی ہے

۔جب پیار سے مسائل حل ہو رہے ہوں تو پھر ڈنڈہ اٹھانے یا نیا لیڈر مارکیٹ کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی ۔چینیوں نے سی پیک کے خواب کی تکمیل کیلئے اپنے صدر کے تسلسل کو یقینی بنایا اور پاکستانیوں کو بھی یہی مشورہ دیا ۔ہمارے ہاں چونکہ کمپنی سربراہ ہی خدادا صلاحیتوں کا حامل اور قوم کی کشتی کو منجدھار سے نکالنے کی اہلیت رکھتا ہے اس لئے کمپنی نے سربراہ کو فیلڈ مارشل ہی نہیں بنایا کئی سالوں تک سسٹم چلانے کیلئے توسیع بھی دے ڈالی کہ یہ ملک کے بہترین مفاد میں تھا ۔اگر کوئی سمجھتا ہے نواز شریف یا زرداری صاحب نے کمپنی سربراہ کو طاقت فراہم کی وہ خود کو احمق سمجھے کہ یہاں ساری طاقت کمپنی کی ہے ۔فیصلے بھی کمپنی کے ہی چلتے ہیں ۔چھوٹی سی ایک مثال ہے گلگت بلتستان میں آزاد امیدوار پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے نہ مسلم لیگ ن میں ۔شامل ہوئے تو استحکام پارٹی میں ۔ازاد امیدوار استحکام پارٹی میں شامل نہیں ہوئے اصل میں کمپنی کے استحکام کیلئے انہوں نے اپنا کردار ادا کیا ہے جو قومی کردار بھی ہے اور انتہائی آئینی قانونی اور اخلاقی بھی ۔جب آئین قانون ،اخلاقیات اور قومی کردار یکساں ہوں تو کمپنی کیوں تبدیلی لائے گی ۔کس کیلئے لائے گی

۔محنت اور خلوص کے ساتھ قومی امنگوں کو پورا کریں ۔اج ن لیگ کے سر پر ہما بیٹھا ہے کل پیپلز پارٹی کے سر پر بیٹھے گا ۔بھٹو ایسے باغی اب پیدا نہیں ہوتے ۔نواز شریف اور آصف علی زرداری ایسے محب وطن راہنماؤں کا دور ہے ۔مولانا فضل الرحمن نے عدلیہ کو غیر سیاسی بنانے کے آئینی عمل میں مزاحمت کی تھی پیا کے نظروں سے گر گئے ۔انہیں سہاگن بننے کا سکھ شائد ہی ملے ۔پیا انصاف کرے گا ۔ن لیگ آج سہاگن بنی ہے پیپلز پارٹی کل سہاگن بنے گی ۔پیا کا پیار مسلسل پانے کیلئے دونوں بے مثال سگھرپن کا مظاہرہ کریں جو پیا من بھائی وہ شائد کچھ زیادہ عرصہ سہاگن کا سکھ پا لے ۔غربت،مہنگائی افراتفری غیر معمولی چیزیں نہیں پیا طلاق دے دے ۔یہ دنیا بھر کا اجتماعی مسلہ ہے ۔غربت،بھوک اور بے روزگاری کا عفریت ترقی یافتہ ممالک میں بھی پنجے گاڑ رہا ہے پاکستانی تو ویسے بھی اس کے عادی ہیں ۔کچھ بھی تبدیل نہیں ہو گا ۔سارے اپنے آئینی ،قانونی اور اخلاقی کردار ادا کریں ۔اگلا الیکشن ہو گا ۔جیتنے والے اگلی حکومت بنائیں گے اور کمپنی انہیں بھر پور معاونت فراہم کرے گی ۔یہی پاکستان کی تقدیر ہے ۔

اعظم نے پیٹرول 74 روپے اور ڈیزل 67 روپے سستا کا اعلامیہ جاری کر دیاجنگ شروع ہونے سے پہلے عالمی مارکیٹ میں تیل 74 ڈالر فی بیرل تھا اور قیمت 270\265 تھیجنگ کے بعد 95 ڈالر فی بیرل ہوا تو جنگی چورن کے نام پہ 155 روپے قیمت بڑھائاب عالمی مارکیٹ میں تیل پہلے سے بھی 2 ڈالر سستا ہےتو 74 روپے لیٹر کمی کی گئ ہے یعنی کم قیمت کے باوجود 81 روپے فی لیٹر عوام سے ڈاکو ڈفر الائنس لوٹ رہا ہےاصولا قیمت مارچ والی سطح یعنی 270\265 پہ یا اس سے بھی کم جانی چاہیےلیکن 81 روپے کے ڈاکے پہ بھی بینڈ باجے

*اگرایک آواز دی تو پورا پاکستان اسلام آباد کی طرف امڈ آئےگا، مولانا فضل الرحمان*جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکمران حکومت چلانے کے اہل نہیں اور ہر پاکستانی کو امن کی تلاش ہے، معقول سیاست کریں، اگر ہم نے ایک آواز دی تو پورا پاکستان اسلام آباد کی طرف امڈ آئے گا۔جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے چارسدہ میں شہید اسلام کانفرنس سے خطاب کے دوران اسلام آباد جانے کی دھمکی دیتے ہوئے حکمرانوں کو خبردار کیا

کہ وہ معقول سیاست کریں، ہمیں مجبور نہ کریں، اگر ہم نے ایک آواز دی تو پورا پاکستان اسلام آباد کی طرف امڈ آئے گا، گھی آرام سے ڈبے سے باہر آئے تو ٹھیک ورنہ پھر انگلی ٹیڑھی کرکے نکالنا پڑے گا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مولانا شیخ ادریس کی شہا.دت ایک خاندان کی شہا.دت نہیں بلکہ پوری امت کا نقصان ہے، مولانا شیخ ادریس کی روح زند ہ ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری پشت پر 200 سال کی طویل تاریخ ہے، جب تک برصغیر کی قیادت علما کے ہاتھ میں تھی ہر طرف امن تھا مگر علما سے قیادت چھین کر ہر طرف فساد برپا کیا گیا۔

سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ یہ حکمران حکومت چلانے کے اہل نہیں ہیں، آج ہر پاکستانی کو امن کی تلاش ہے، لسانیت اور قومیت کے نام پر نفرتیں پھیلائی گئیں لیکن ہم نے نفرتوں کے نظریات اور نعروں کو مسترد کر دیا ہے۔