
یہ دونوں خواتین نون لیگ کی جانب سے پارلیمنٹ میں مخصوص نشستوں پر ‘خیراتی ممبرز’ ہیں۔ انہوں نے جیسے قسم کھا رکھی ہے کہ پاکستانی قوم کا صرف نقصان ہی کرنا ہے۔ قابلیت کا یہ عالم ہے کہ کوئی عام سی فرنچائز بھی انہیں نوکری نہ دے، مگر یہاں یہ وزیر بنی بیٹھی ہیں!خیراتی ممبر ھونے کا اس سے بڑا کیا ثبوت ھوگا کہ کل شیزا صاحبہ ایک انٹرویو میں فرمارھی تھی کہ مینے تو ایم پی اے کی سیٹ کیلیئے اپلائی کیا تھا، لیکن الیکشن کمیشن میں کاغزات جمع کرانے کیبعد الیکشن کمشنر نے مشورہ دیا کہ آپ ایم پی اے کیبجائے ایم این اے ٹھیک رھیں گی۔۔۔۔اسطرح میں نیشنل اسمبلی میں آگئییعنی کہ کوئی خاتون صوبائی اسمبلی کیلیئے فٹ ھے یا نیشنل کیلیئے یہ فیصلہ بھی پارٹی کیبجائے الیکشن کمیشن کرتا رھا ھے۔

🚨 شاباش فاطمہ ثناء شاباش ؛ آخر کار کپتان فاطمہ ثناء جیت گئی 🚨 بالآخر پاکستان کرکٹ بورڈ کی آنکھیں کھول گئی ویمنز ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا کے کہنے پر عالیہ ریاض کے شوہر اور وقار یونس کے چھوٹے بھائی علی یونس کو ہوٹل کے کمرے سے نکال دیا رپورٹ کے مطابق عالیہ ریاض کے شوہر اس کمرے میں رہائش پذیر ہوئے تھے جو آئی سی سی کی جانب سے ہر ایک لڑکی کو الگ الگ دیا گیا علی یونس وہاب ریاض کو پی سی بی کی جانب سے ملنے والی ٹیم کے فنڈ پر اپنے اہلیہ عالیہ ریاض سے ملنے کیلئے انگلینڈ گئے جہاں اس نے اسی کمرہ میں رہائش اختیار کی جو آئی سی سی کی جانب سے دی گئی بنگلہ دیش میچ کے بعد وہاب ریاض اور فاطمہ ثنا کے درمیان تلخ کلامی اسی بات پر ہوئی تھی فاطمہ ثنا نے بطور کپتان یہ کہا کہ عالیہ ریاض یہاں کرکٹ کھیلنے آئی ہے یاں گھومنے بنگلہ دیش میچ سے ایک روز قبل عالیہ ریاض اپنے شوہر کیساتھ گھومنے گئی اور پریکٹس میں بھی حصہ نہیں لیا تھا جسکو فاطمہ ثنا نے بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں ڈراپ کرنے کا فیصلہ کیا

لیکن وہاب ریاض نے شامل کرلیاپی سی بی کے اعلیٰ افیشل نے فوری طور پر وہاب ریاض کو کہدیا کہ علی یونس کو ہوٹل کے کمرے سے باہر کیا جائے رپورٹ کے مطابق اب اس بات کی بھی انکوائری شروع کردی گئی ہے کہ کس کے اجازت سے علی یونس اس ہوٹل میں گئے جہاں پاکستان ٹیم کی لڑکیاں موجود ہے #cricket #fblifestyle #fifaworldcup
پاکستان انڈیا سے 4-3 سے ہارنے کے بعد ہاکی ٹیم کی بدترین کارکردگی کی عکاس ہے، جس میں مسلسل 13 شکستوں اور منفی 43 کے گول فرق کے باعث ٹیم کو FIH پرو لیگ سے ریلیگیٹ کر دیا گیا ہے، یعنی پاکستان اب اگلے سیزن میں اس بڑے عالمی ٹورنامنٹ کا حصہ نہیں ہوگا۔ یہ صورتحال پاکستان ہاکی کے زوال اور ٹیم کی دفاعی و جارحانہ صلاحیتوں میں شدید کمی کو ظاہر کرتی ہے، جو ہاکی کے مداحوں کے لیے انتہائی افسوسناک اور مایوس کن ہے۔

*سرگودھا۔ ڈپٹی کمشنر کا واسا افسران کو فیلڈ میں نکل کر عوامی مسائل حل کرنے کا حکم**یونین کونسل اور محلہ کی سطح پر کھلی کچہریاں لگانے کی ہدایت**واسا کے تمام اثاثہ جات کی جیو ٹیگنگ، ریونیو میں اضافے کا پلان طلب**غیر قانونی کنکشنز کو قانونی بنانے اور بلوں کی ریکوری تیز کرنے کی ہدایت*سرگودھا (آن لائن) ڈپٹی کمشنر حسین احمد رضا چوہدری نے واسا افسران کو اپنی کارکردگی مزید بہتر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس ڈی او سے لے کر منیجنگ ڈائریکٹر تک تمام افسران فیلڈ میں نکلیں، شہریوں کے مسائل ان کی دہلیز پر جا کر حل کریں، یونین کونسل اور محلے کی سطح پر کھلی کچہریوں کا انعقاد یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جانب سے شکایات کے ازالے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور ہر سب ڈویژن میں متعلقہ ایکسین اپنی کارکردگی کا براہ راست ذمہ دار ہوگا۔اس امر کا اظہار انہوں نے واسا کی کارکردگی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں منیجنگ ڈائریکٹر واسا محمد ابوبکر عمران اور ادارے کے دیگر افسران نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ واسا اپنی ریونیو وصولیوں میں اضافہ کرے، تمام اثاثہ جات کی جیو ٹیگنگ مکمل کرے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت بوٹیلنگ پلانٹ سمیت دیگر منصوبوں کی تجاویز تیار کرے۔ انہوں نے سیوریج اور ویسٹ واٹر کے مؤثر استعمال کے لیے قابل عمل منصوبہ بندی بھی طلب کی۔ انہوں نے کہا کہ ہر برانچ کے لیے واضح کی پرفارمنس انڈیکیٹرز (کے پی آئیز) مقرر کیے جائیں اور افسران کی سالانہ خفیہ رپورٹس ( اے سی آرز) کو ان کی کارکردگی سے مشروط کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے واسا سے بزنس پلان بھی طلب کرتے ہوئے ادارے کی مالی خود کفالت کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے

ایم ڈی واسا نے بتایا کہ واسا کے قیام کے وقت ادارے کے پاس 32 ہزار کنکشن موجود تھے جن میں تقریباً 10 ہزار واٹر سپلائی کنکشن شامل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جاری سروے کے دوران اب تک تقریباً 50 ہزار گھروں کا ریکارڈ مرتب کیا جا چکا ہے اور تمام ڈیٹا کو جیو ٹیگ کیا جا رہا ہے۔ سروے کی تکمیل کے بعد جامعہ سرگودھا کے شعبہ شماریات کے ذریعے اس کی تصدیق کرائی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ غیر قانونی کنکشنز کو قانونی بنانے اور واٹر سپلائی و سیوریج بلوں کی وصولی کے لیے خصوصی مہم جاری ہے۔ بلوں کی پرنٹنگ کا عمل مکمل کیا جا رہا ہے جبکہ 10 جولائی تک وصولیوں کے اہداف حاصل کرنے کے لیے متعلقہ عملے کو ٹارگٹس دے دیے گئے ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اب شہری اپنے بل صرف ایزی پیسہ یا جاز کیش ہی نہیں بلکہ تمام بینکوں کے ذریعے بھی جمع کرا سکیں گے۔ ڈپٹی کمشنر نے واسا کے 1334 شکایات سیل کو مزید فعال بنانے اور موصول ہونے والی شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔🚨محکمہ تعلیم بہاولنگر میں بڑا کریک ڈاؤن، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر ایک ہی خاندان کے 3 ملازم برطرف⬅️1۔ جونیئر کلرک ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس منچن آباد نعمان حسن ⬅️2۔ اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر منچن آباد عائشہ نواب (اہلیہ نعمان حسن)⬅️3۔ ہیڈ مسٹریس گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول منچن آباد رضیہ پروین
ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ ۔ اظہر سیدڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کا غم اجتماعی نہیں زاتی تھا ۔باپ کی موت بطور بیٹی اس پر قرض تھا ،اس کا احتجاج سچا تھا ۔جنون کے عالم میں غم و غصہ کا اظہار کرتی تھی ۔جبری گمشدگیوں اور لاپتہ نوجوانوں کیلئے احتجاج بھی سچا تھا ۔ ماہرنگ بلوچ کی سچائی کو داغ تب لگنا شروع ہوا جب پنجاب کے نوجوانوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر بلوچستان کی سڑکوں پر قتل کرنے کا کام شروع ہوا ۔یہ نوجوان بھی اپنی بیٹیوں کے باپ تھے ۔یہ بھی ماہرنگ بلوچ کے باپ ایسے تھے ۔ماہرنگ بلوچ کو لیڈری کا نشہ چڑھ گیا ۔بے گناہ پنجابیوں کے قتل پر ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کو دندل پڑھ جاتی تھی ۔اپنی ساری احتجاجی مہم میں اس بلوچ لڑکی نے بے گناہ پنجابیوں کے قتل پر افسوس تو دور کی بات مذمت کا کبھی ایک لفظ منہ سے نہیں نکالا ۔جو نام نہاد کامریڈ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی سزا پر نوحے پڑھتے نظر آتے ہیں وہ بھی منافق ہیں ۔خالص اور سچے منافق ۔جتنا مقدس خون کسی بے گناہ بلوچ نوجوان کا ہے اتنا ہی مقدس خون کسی بے گناہ پنجابی کا بھی ہے ۔یہ ممکن نہیں پنجابی نوجوان کے خون کو “ردعمل” کہہ کر آگے بڑھ جائیں اور بلوچ نوجوان کے خون پر سر پر مٹی ڈالتے ہوئے بین ڈالیں ۔عام پاکستانی شائد نہ جانتے ہوں ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور اسکی بلوچ یک جہتی کمیٹی بہت اچھی طرح جانتی تھی بے شمار لاپتہ نوجوان عسکریت پسند بن چکے ہیں

لیکن بدمعاشی اور بے ایمانی کی انتہا تھی انکی جبری گمشدگی کے نام پر ڈھٹائی کے ساتھ احتجاج کیا جاتا ۔ایجنسیاں بلوچ نوجوانوں کو غائب کرتی ہیں لیکن صرف انہیں جن کے متعلق شواہد موجود ہوتے ہیں ۔پاکستان نہیں دنیا کے ہر ملک کی ایجنسی یہ کام کرتی ہے ۔بلوچستان میں ریاست نے غلطیاں کیں اور انہی غلطیوں کے بوجھ کی وجہ سے ریاست نے ڈھائی سال تک ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ پر ہاتھ نہیں ڈالا ۔اسلام آباد میں دھرنہ دینے کی اجازت دی ۔ملک کے مختلف شہروں میں لانگ مارچ کی اجازت دی ۔اس ڈھائی سال کی ڈھیل نے ریاست کو بے پناہ نقصان پہنچایا ۔بے شمار بلوچ نوجوان مرکزی قومی دھارے سے کٹ کر عسکریت پسند بن گئے ۔ماہرنگ بلوچ احتجاج کا استعارہ بن گئی ۔ٹرین پر قبضہ کرنے والے عسکریت پسندوں کو فورسز نے نشانہ بنایا تو ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ نے ریڈ لائن عبور کر لی ۔ہسپتال میں عسکریت پسندوں کی لاشیں چھین لیں اور ان پر سیاست کرنے کی کوشش کی ۔اس کے بعد صرف کہانیاں ہیں ۔احتجاج،جلسے،لانگ مارچ اور جلوس سب بند ۔ریاست ڈھائی سال سے جو نرمی دکھا رہی تھی وہ ختم ہو گئی ۔کوئی ریاست احتجاج کو قومی سلامتی کیلئے خطرہ نہیں بننے دیتی ۔پہلے پاکستان ہے پھر آئین ،قانون اور انسانی حقوق ۔بلوچ نوجوان ایندھن ہیں ۔انہیں سی پیک اور پاکستان مخالف قوتیں اپنے مفادات کے تنور میں جلا رہی ہیں ۔چالیس سال میں لاکھوں نوجوان افغانستان اور مقبوضہ کشمیر کے مفادات کے تنور میں جلائے گئے ۔انکی زندگیاں ختم ہو گئیں ۔مر کھپ گئے ۔کسی کو کچھ نہیں ملا ۔بندوق اٹھانے والے بلوچ نوجوانوں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو گا ۔مر کھپ جائیں گے ۔کچھ نہیں ملے گا ۔’عظیم مقصد کیلئے قربانی” کا فراڈ صرف نوجوانوں کو اپنے مقاصد کیلئے استمال کرنے والوں کی ایک اصطلاح ہے اور بس ۔










