ٹرمپ بھارت کو بچانے نہیں آئے جب پاکستان نے کئی بھارتی طیارے مار گرائے جبکہ مودی بھارت کے لیڈر تھے۔ جب چین نے بھارتی علاقے پر قبضہ کیا تو ٹرمپ بھارت کو بچانے کے لیے نہیں آئے جبکہ مودی بھارت کے رہنما تھے۔ پروفیسر اشوک سوین، بھارتی تجزیہ کار
پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر اور شیری رحمان کی سہولت کاری سے غریب عوام پر ایک اور وار کیا جا رہا لائسنس یافتہ ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیاں جس گھر پر چاہیں ٹاور لگاسکتی ہیں، قومی اسمبلی سے بل منظور
محسن نقوی سول سائیڈ سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران امریکہ جنگ بندی میں سھولت کار جبکہ فوجی سائیڈ سے کاشف عبداللہ اور جواد نے فیلڈ مارشل کی سھولت کاری کی تفصیلات کے لیے سھیل رانا لاءیو بادبان نیوز میں
افغانستان کے صوبہ غور میں ضلع تیوارہ سے تعلق رکھنے والے تقریباً 70 قبائلی عمائدین اور سفید ریش معززین صوبائی دارالحکومت فیروز کوہ پہنچنے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق، یہ وفد دو روز قبل طالبان کے صوبائی گورنر حیات اللہ مہاجر کی دعوت پر حالیہ علاقائی کشیدگی پر بات چیت کے لیے گیا تھا، جس کے بعد سے ان کا اپنے خاندانوں سے رابطہ منقطع ہے۔اہلِ خانہ اور مقامی برادری کو خدشہ ہے کہ ان عمائدین کو طالبان نے حراست میں لے کر قید کر دیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں نے طالبان حکام سے صورتحال واضح کرنے اور فوری رابطہ کرانے کا مطالبہ کیا ہے، تاہم طالبان انتظامیہ نے تاحال اس گمشدگی پر کوئی ردِعمل نہیں دیا ہے۔
امریکا ایران امن معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ امن معاہدہ علاقائی ممالک کےداخلی امور میں عدم مداخلت کے اصول پر مبنی ہونا چاہیے۔ ان ممالک کے سکیورٹی مفادات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ سعودی وزارت خارجہ
اصل چیز ہے استحکام پاکستان۔گلگت بلتستان سے 4 آزاد امیدوار دونوں بڑی جماعتوں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہوگئے۔۔جی بی اے 23 سے آزاد امیدوار انورعلی IPP میں شاملجی بی اے 24 سے آزاد امیدوار اسد شفیق بھی IPP میں شاملجی بی اے 21 سے آزاد امیدوار امان علی عامر بھی IPP میں شاملجی بی اے 15 سے آزاد امیدوار دل پذیرخان بھی IPP میں شامل ہوگئے
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے چار بلوں کی منظوری دے دی۔ان میں کیریج بائی ایئر (ترمیمی) بل، 2026، پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (ترمیمی) بل، 2026، مالی ذمہ داری اور قرضوں کی حدود کے تعین کا (ترمیمی) بل، 2026 اور اقبال اکیڈمی (ترمیمی) بل، 2026 شامل۔صدرِ مملکت نے محترمہ عائشہ حمیرا چوہدری (ایس جی/بی ایس-22) کی بطور رکن وفاقی پبلک سروس کمیشن تقرری کی منظوری بھی دے دی۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ہے دوہراا معیارسستی بجلی خرید کر مہنگی بجلی دینا،ان حرامخوروں سے کوئی پوچھے کہ کیپسٹی چارجز اپنی بہن کے جہیز کیلئے دیتے ہو،عوام سے جگا ٹیکس لیکر اپنی عیاشیوں میں لگاتے ہو
حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7فیصد اضافہ کیا ہے ۔حکومت نے وفاقی بجٹ میں 22 سے 32 لاکھ کے درمیان سالانہ آمدن پر ٹیکس 23 سے کم کرکے 20 فیصد، 32 سے 41 لاکھ آمدن پر 30 سے کم کر کے 25 فیصد، 41 سے 56 لاکھ آمدن پر 35 سے کم کر کے 29 فیصد اور 56 سے 70 لاکھ روپے کی آمدن پر 35 سے کم کر کے 32فیصد ٹیکس کر دیا ہے اس میں غریب عوام کے لئے کیا ہے ؟؟؟
‼️‼️ *جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی غنڈا گردی- نشانہ لے کر قانون کے رکھوالوں پر فائرنگ*📌 پچھلے کئی روز سے مظلومیت کا ڈرامہ رچا کر ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے والوں کی اصل حقیقت سامنے آگئی۔ 📌 ایک گرفتار بلوائی کے موبائل فون سے برآمد ہونے والی ویڈیو میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح نام نہاد حقوق کا پرچار کرنے والا یہ شخص سیدھی SMG تانے قانون نافذ کرنے والوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ 📌 یہ ہے انکی عوام کے حقوق کی خاطر نام نہاد جدوجہد اور انکا اصل چہرہ۔ یہ منظر ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے جو اب بھی یہ سمجھتے ہیں کے یہ احتجاج پر امن ہے اور انکو انتشاری اور تشدد پسند کہنا جائز نہیں۔ 📌 یہ فتنہ دراصل نفرت، تشدد اور انتشار کے اس مکروہ ایجنڈے پر عمل پیرا ہے جسکا واحد حل ان اسکی مکمل سرکوبی ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ یہ مسلح جتھے روز اول سے ایسے تشدد پسندانہ اقدامات کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ایسے واقعات انکو کالعدم قرار دینے کے حکومتی فیصلے کی توثیق کرتے ہیں۔
قدس فورس کمانڈر اسماعیل قاانی کے بیانات نے بحیرہ احمر اور خلیجی سلامتی سے متعلق نئی بحث چھیڑ دیتہران: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر، جنرل اسماعیل قاانی، نے حالیہ خطاب میں ایسے بیانات دیے ہیں جنہیں مبصرین خطے کی بحری سلامتی اور جغرافیائی سیاست کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔ ان کے بیانات میں خصوصاً آبنائے باب المندب اور آبنائے ہرمز کے اسٹریٹجک کردار پر زور دیا گیا، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن اور سمندری راستوں کی سلامتی کے حوالے سے نئی بحث نے جنم لیا ہے۔مزاحمتی محور اور نئی علاقائی سلامتی کی حکمتِ عملیجنرل قاانی نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ خطے میں مزاحمتی قوتوں کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق خلیج فارس سے بحیرہ احمر تک مختلف اتحادی گروہوں کے درمیان رابطے مضبوط ہوئے ہیں، جو علاقائی سلامتی کے توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر اس حکمتِ عملی کو عملی شکل دی جاتی ہے تو اس کے اثرات آبنائے ہرمز سے لے کر باب المندب تک عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے راستوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ دونوں آبی گزرگاہیں عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہیں، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان انہی راستوں سے گزرتا ہے۔باب المندب اور بحیرہ احمر کی بڑھتی ہوئی اہمیتجنرل قاانی نے یمن میں سرگرم انصار اللہ (حوثی) تحریک کے کردار کا بھی ذکر کیا اور اسے خطے میں مزاحمتی محور کا اہم جز قرار دیا۔ مبصرین کے مطابق ان بیانات سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ مختلف علاقائی گروہوں کے درمیان آپریشنل تعاون مستقبل میں مزید بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر اور باب المندب میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی سپلائی چین، بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی منڈیوں پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے عالمی طاقتیں ان آبی گزرگاہوں کی سلامتی کو بین الاقوامی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیتی ہیں۔بین الاقوامی تجارت اور سلامتی کے خدشاتسیاسی مبصرین کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز اور باب المندب کو اسٹریٹجک دباؤ کے ممکنہ ذرائع کے طور پر پیش کرنا خطے میں طاقت کے توازن کے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ آبی گزرگاہیں عالمی تجارت کے لیے کھلی رکھنے پر عالمی برادری مسلسل زور دیتی رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ علاقائی حالات میں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی بحری نقل و حمل پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
قدس فورس کمانڈر اسماعیل قاانی کے بیانات نے بحیرہ احمر اور خلیجی سلامتی سے متعلق نئی بحث چھیڑ دیتہران: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر، جنرل اسماعیل قاانی، نے حالیہ خطاب میں ایسے بیانات دیے ہیں جنہیں مبصرین خطے کی بحری سلامتی اور جغرافیائی سیاست کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔ ان کے بیانات میں خصوصاً آبنائے باب المندب اور آبنائے ہرمز کے اسٹریٹجک کردار پر زور دیا گیا، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن اور سمندری راستوں کی سلامتی کے حوالے سے نئی بحث نے جنم لیا ہے
مزاحمتی محور اور نئی علاقائی سلامتی کی حکمتِ عملیجنرل قاانی نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ خطے میں مزاحمتی قوتوں کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق خلیج فارس سے بحیرہ احمر تک مختلف اتحادی گروہوں کے درمیان رابطے مضبوط ہوئے ہیں، جو علاقائی سلامتی کے توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر اس حکمتِ عملی کو عملی شکل دی جاتی ہے
تو اس کے اثرات آبنائے ہرمز سے لے کر باب المندب تک عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے راستوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ دونوں آبی گزرگاہیں عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہیں، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان انہی راستوں سے گزرتا ہے۔باب المندب اور بحیرہ احمر کی بڑھتی ہوئی اہمیتجنرل قاانی نے یمن میں سرگرم انصار اللہ (حوثی) تحریک کے کردار کا بھی ذکر کیا اور اسے خطے میں مزاحمتی محور کا اہم جز قرار دیا۔ مبصرین کے مطابق ان بیانات سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ مختلف علاقائی گروہوں کے درمیان آپریشنل تعاون مستقبل میں مزید بڑھ سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر اور باب المندب میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی سپلائی چین، بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی منڈیوں پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے عالمی طاقتیں ان آبی گزرگاہوں کی سلامتی کو بین الاقوامی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیتی ہیں
بین الاقوامی تجارت اور سلامتی کے خدشاتسیاسی مبصرین کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز اور باب المندب کو اسٹریٹجک دباؤ کے ممکنہ ذرائع کے طور پر پیش کرنا خطے میں طاقت کے توازن کے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ آبی گزرگاہیں عالمی تجارت کے لیے کھلی رکھنے پر عالمی برادری مسلسل زور دیتی رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ علاقائی حالات میں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی بحری نقل و حمل پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
*🚨ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ہم کسی بھی طاقت کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کریں گے۔* ایک بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایرانی عوام کے سامنے خود کو جوابدہ اور ذمہ دار سمجھتے ہیں، قومی مفادات کے تحفظ پر غداری کے الزامات افسوسناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق ذمہ داریاں نبھانے والوں کو نشانہ بنانا ناانصافی ہے، تنقید معاشرے کا حق ہے مگر شرافت کے تقاضے بھی ضروری ہیں۔یاد رہے کہ امریکا ایران کے درمیان معاہدہ طے پاگیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا اعلان کیا۔وزیراعظم شہبازشریف نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ امن معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔
جس ملک کا ٹوٹل بجٹ 18٫771 ارب ہے اور ملک نے قرضوں کا اتنا پہاڑ بنا رکھا ہے کہ سود ادا کرنے کے لیے 8,054 ارب دینے پڑیں گے اس ملک نے ترقی خاک کرنی ہے مزاق بنا رکھا ہے 8٫054 ارب سود کا دینا ہے اربوں روپیہ اس بجلی کا دینا ہے جو آئی پی پیز نے کبھی پیدا نہیں کرنی اور نہ کسی نے استعمال کرنی ہے 836 ارب لوگوں کو بھکاری بنانے مطلب بینظیر انکم کے دینے جس سے آج تک کوئی ایک بندہ اپنے پیروں پہ کھڑا نہیں ہو سکا اس ملک کو مزاق بنا کر رکھ دیا ہے
🛑ایران امریکہ معاہدہ کے اہم نکات ⬅️لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی کا فیصلہ، ایرانی میڈیا⬅️معاہدے پر دستخط کے 30 دنوں کے اندر بحری ناکہ بندی مکمل ختم کر دی جائے گی، ایرانی میڈیا ⬅️امریکی فوج کا ایرانی سرحدوں کے اطراف سے 30 دنوں میں انخلاء ہوگا، ایرانی میڈیا⬅️آبنائے ہرمز 30 دنوں میں کھلے گی، سیکیورٹی انتظامات ایران کے سپرد ہوں گے، ایرانی میڈیا⬅️ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات پر عائد امریکی پابندیاں فوری معطل کرنے کا فیصلہ، ایرانی میڈیا⬅️امریکا اور اس کے اتحادی ایرانی معاشی بحالی کیلئے 300 ارب ڈالر کا پلان پیش کریں گے، ایرانی میڈیا⬅️ایران پر امریکا اور سلامتی کونسل کی تمام بنیادی اور ثانوی پابندیاں ختم کی جائیں گی، ایرانی میڈیا⬅️ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کے این پی ٹی معاہدے پر کاربند رہے گا، ایرانی میڈیا ⬅️امریکا ایران پر نئی پابندیاں بھی نہیں لگائے گا، ایرانی میڈیا⬅️ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 24 ارب ڈالر جاری کئے جائیں گے، مذاکرات سے پہلے 12 ارب ڈالر ایران کو ملیں گے، ایرانی میڈیا ⬅️حتمی مذاکرات سے پہلے ایرانی فنڈز غیرمنجمد اور ناکہ بندی ختم کی جائے گی، ایرانی میڈیا
⭕ عبرانی میڈیا: واشنگٹن ایران کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو اسے (ایران کو) الضاحیہ (بیروت کے جنوبی مضافات) پر حملے کا جواب دینے سے روکے۔”
ترامپ اور نیتن یاہو نے چند منٹ قبل ٹیلیفون پر گفتگو کی۔🔹 اسرائیلی ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ ان کی گفتگو کا موضوع امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی معاہدے پر دستخط تھا۔
*وفاقی بجٹ 2026-27* گھی، کوکنگ آئل، بچوں کا فارمولا دودھ، کراکری، سینٹری، کچن وئیر اور باتھ روم فٹنگ پر جنرل سیلز ٹیکس نافذ کردیا گیاسوٹ کیس، ڈیری مصنوعات، مٹھائیاں، جام، جیلی، کیچپ، مصالحہ جات پر جنرل ٹیکس نافذ کردیا گیاہیر آئل، شیمپو، جوتے، پرفیوم، بیکری آئٹمز، زرعی ادویات اور جراثیم کش مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس نافذ کردیا گیامطلب سانس کے علاوہ ھر چیز پر ٹیکس
جس ملک کا ٹوٹل بجٹ 18٫771 ارب ہے اور ملک نے قرضوں کا اتنا پہاڑ بنا رکھا ہے کہ سود ادا کرنے کے لیے 8,054 ارب دینے پڑیں گے اس ملک نے ترقی خاک کرنی ہے مزاق بنا رکھا ہے 8٫054 ارب سود کا دینا ہے اربوں روپیہ اس بجلی کا دینا ہے جو آئی پی پیز نے کبھی پیدا نہیں کرنی اور نہ کسی نے استعمال کرنی ہے 836 ارب لوگوں کو بھکاری بنانے مطلب بینظیر انکم کے دینے جس سے آج تک کوئی ایک بندہ اپنے پیروں پہ کھڑا نہیں ہو سکا اس ملک کو مزاق بنا کر رکھ دیا ہے