چیف ٹریفک آفیسر کائنات اظہر خان نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔چارج سنبھالنے کے فوراً بعد انہوں نے تمام زونل ڈی ایس پیز کے ساتھ ایک اہم اجلاس کی صدارت کی اور ٹریفک مینجمنٹ، انفورسمنٹ اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اسلام آباد میں ٹریفک ڈسپلن کا فروغ، بہترین ٹریفک مینجمنٹ اور شہریوں کو معیاری سفری سہولیات کی فراہمی اسلام آباد ٹریفک پولیس کی اولین ترجیحات ہیں۔ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کو مزید مؤثر بنایا جائے اور قانون شکن عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں عمل میں لائی جائیں۔ لین وائلیشن، ون وے کی خلاف ورزی، دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کے استعمال، سیٹ بیلٹ کی پابندی، غیر نمونہ و غیر قانونی نمبر پلیٹس، کم عمر ڈرائیونگ، ون ویلنگ اور ڈرفٹنگ کے خلاف سخت اور مؤثر انفورسمنٹ یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی۔چیف ٹریفک آفیسر اسلام آباد ٹریفک پولیس جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ٹریفک مینجمنٹ کے ذریعے شہریوں کو بہترین خدمات فراہم کرنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے گی۔ چیف ٹریفک آفیسر کائنات اظہر خان #WeRIslamabadPolice #ICTP #CTO #ITP
کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے خلاف گھیرا مزید تنگ کرنے کا فیصلہکالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے نیٹ ورک اور اس کے حامیوں کے خلاف ریاستی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے محکموں نے حکمتِ عملی مزید سخت کرنے فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق، نہ صرف تنظیم کے فعال ارکان بلکہ پسِ پردہ رہ کر کام کرنے والے ماسٹر مائنڈز، مالی معاونت فراہم کرنے والے نیٹ ورکس اور سوشل میڈیا پر ان کے بیانیے کو فروغ دینے والے سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر ایک جامع کریک ڈاؤن کا آغاز کر رہے ہیں، جس کا مقصد تنظیم کے مالیاتی اور لاجسٹک ڈھانچے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔حکومت نے اس کالعدم تنظیم سے وابستگی یا معاونت کی بنیاد پر ملوث افراد کے قومی شناختی کارڈ (CNIC)، پاسپورٹ اور بینک اکاؤنٹس فوری طور پر منجمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں موجود ان کی جائدادوں کی تفصیلات بھی طلب کر لی گئی ہیں۔قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ محکموں کو اس حوالے سے ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، اور تمام مشتبہ سہولت کاروں کی فہرستیں تیار کر کے ان کے اثاثوں اور مالیاتی لین دین کی سخت نگرانی شروع کر دی گئی ہے تاکہ تنظیم کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر غیر فعال کیا جا سکے۔
*حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا*حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا۔پٹرولیم ڈویژن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 2 روپے کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پٹرولیم ڈویژن کے مطابق پٹرول کی نئی قیمت 373 روپے 78 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
🚨پاکستانیوں کے لیے ایک اور تاریخی لمحہ!🚨 رات کو دنیا کے سب سے بڑے فٹ بال ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب میں جب اسٹیڈیم کی بڑی اسکرین پر پاکستانی پرچم کے ساتھ پاکستان میں تیار کردہ فٹ بال دکھایا گیا تو ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہوگیا۔ اعلان کیا گیا کہ اس بار بھی ورلڈ کپ میں “میڈ اِن پاکستان” فٹ بال استعمال کیا جائے گا۔
تقریب کے دوران دنیا کے 10 عظیم لیجنڈ فٹ بالرز نے اسی پاکستانی فٹ بال کو ایک دوسرے کو پاس کیا، اور پھر اسے افتتاحی میچ کے ریفری کے حوالے کردیا گیا۔ لاکھوں شائقین کی موجودگی میں پاکستان کا نام پوری دنیا کے سامنے جگمگا اٹھا۔ یہ صرف ایک فٹ بال نہیں بلکہ پاکستانی محنت، مہارت اور معیار کی عالمی پہچان ہے۔ فخر ہے اس سرزمین پر جو دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے ایونٹس میں اپنا نشان چھوڑ رہی ہے۔ 🇵🇰✨
جیل میں پھانسی کی سزا پانے والا ٹَھگ افسردہ بیٹھا تھا۔۔دو اور قیدی اسکو دلاسہ دینے بیٹھ گئےقیدی نے کہا ۔۔۔ یار یہ دنیا فانی ہے ہم سب نے ایک دن جانا ہےبس ایک قطار میں سب کھڑے ہیںکوئی اگے تو کوئی پیچھےاور موت سے تو کافر لوگ ڈرتے ہیںہم تو ماشااللہ مسلمان ہیںپھانسی کی سزا پانے والا مجرم نے کہا میں موت سے نہیں ڈرتابس ایک فکر کھائے جارہاہے۔۔دوسرے قیدی نے پوچھا۔۔ کیا مطلب؟پھانسی ولا مجرم: کچھ سال پہلے میں نے ایک بینک لوٹا تو میں نے کچھ پیسے خرچ کیۓ باقی 5 کروڑ 60 لاکھ میں نے پرانے ماڈل کے TV میں رکھ دیۓ ہیں جو ہمارے گھر کے ایک کونے میں پڑا ہیںکل مجھے پھانسی دے دی جائے گیاور میری بیوی کو پتہ تک نہیں چلی گا۔
۔قیدی نے وعدہ کیا میں تمہاری بیوی کو بتا دونگا بس آپ ہمیں اپنے گھر کا پتہ دے دیجئےپھانسی والے مجرم نے پورا پتہ بتا دیاکچھ عرصہ بعد دونوں قیدی رہا ہوۓ تو مطلوبہ پتہ پر پوری تیاری کے ساتھ روانہ ہوئےجب پہنچے تو اس گھر کا دروازہ کھٹکھٹایاایک عورت نے دروازے کھول کر پوچھا۔۔جی فرمائیں۔۔۔قیدی 1 جی ہم اولڈ کلچر ڈیپارٹمنٹ کے طرف سے آئے ہیں آپکے گھر میں جو چیز بھی پرانا ہے ہم اچھی قیمت پر اپ سے خرید لینگےعورت : ایک پیانو ہے ایک ٹی وی اور ایک لالٹین ہیں مگر میں بیچنا نہیں چاہتی یہ کہتے ہوئے دروازہ بند کر رہی تھی کہ قیدی نے کہا آپ ہماری افر سن تو لیںعورت رک گئی۔۔۔قیدی نمبر 2 :4 لاکھ پیانو کے 5 لاکھ TV کےاور لالٹین 2 لاکھ کے تو سودا منظور ہیں؟عورت نے نہیں کہہ کر دروازہ بند کر نا چاہا مگر قیدی نمبر 1 نے ریٹ بڑھا کر کہا۔۔۔چلو ٹھیک ہے پیانو 10لاکھ ٹی وی 8 لاکھ اور لالٹین 5 لاکھ میں خرید لینگےعورت ٹھیک ہے مگر مجھے تم لوگوں پر بھروسہ نہیںیہ سب کچھ یہاں کے تھانے میں طے کرینگے
دونوں قیدیوں نے ہامی بھر کر کہا بس ہمیں کچھ دیر کی مہلت دیں دے اور چلے گئےدونوں نے اپنی ساری جمع پونجی نکالی جو کہ غلط طریقے پر کمائی گئی تھی اور مقررہ وقت پر تھانے پہنچ گئےسب کچھ قانونی طور پر ہواعورت اپنے گھر چلی گئی اور دونوں دوست اپنے اڈے پرجب ٹی وی کھولا گیا تو اس میں مرے ہوئے چوہے تھے۔۔دونوں نے اپنے سر دونوں ہاتھوں سے پکڑ لئے اور سمجھ گئے کہ اس پھانسی کی سزا پانے والے فراڈیے نے مرتے مرتے ہمیں چونا لگا کر اپنی بیوی کے لئے ساری عمر کے خرچے کا بندوبست کر دیا۔۔
🚨بجلی بل میں ایک یونٹ زیادہ چھ مہینے کا تاوان نون کا تحفہ ہے پاکستان میں بجلی کے بلوں کا “سلیب سسٹم” (Slab System) پرانا ہے، لیکن جو “چھ مہینے والا” پروٹیکٹڈ/نان پروٹیکٹڈ یعنی 200 یونٹس سے کم رکھنے پر سستی ریٹ، اور ایک مہینے میں زیادہ استعمال پر 6 مہینے تک مہنگا بل
یہ 2022میں نون لیگ لائی ہے موجودہ چیئرمین ایف بی آر جناب راشد لنگڑیال کے گھٹیا ذہن کی پیداوار ہے جب وہ سیکرٹری پاور ڈویژن تھے یہ 20 مہینے اس عہدے پر رہا اور تباہی پھیر گیا ایک یونٹ 200سے بڑھ جائے بل کئی گنا بڑھ جاتا اور چھ مہینے رہتا ہے راشد لنگڑیال اور شہباز حکومت
ایک بہترین فیصلہ ، اَب اُن کے مطالبات کو سںنجیدگی سے سنا جائے اور مذاکرات کیے جائیں جو فوری حقوق دیے جا سکتے ہیں دیے جائیں اور باقی جائز مطالبات کا فریم ورک دیا جائے ۔۔
حکومت اگر اپنا فرض ذمہ داری سے نبھائے تو احتجاج کی نوبت ہی نہ آئے
لوگ اگر کبھی اکٹھے بھی ہوں تو فوری مسئلے کو سُنا اور فوری حل کیا جائے ۔۔
اگر حکومتیں ایسا کریں پھر وقت کے ساتھ مطالبات تو ہوں گے لیکن کبھی فسادات نہیں ہونگے ماؤں کے بچے اپنوں کے ہاتھوں جان سے نہیں جائیں گے ۔۔
سہیل آفریدی وہ بادام ہے جو فوج نے کچہ ہی توڑ لیا ہے۔ سہیل آفریدی کو بتایا گیا ہے کہ وفاق سے مکمل تعاون کی صورت میں تحریک انصاف کو “ سپیس “ ملے گی۔ محسن نقوی سے ہونے والی خفیہ ملاقاتوں میں یہی طے پایا ہے۔ سہیل آفریدی کو سبز باغ یہ دکھایا گیا ہے کہ عمران خان “ سپیس “ جیسی نعمت ملنے پر خوشی سے پاگل ہوجائیں گے اور سہیل آفریدی کو اس عظیم کارنامے پر اپنا جانشین نامزد کردیں گے۔ فوج بھی مکمل تعاون کے بدلے عمران خان کو سہیل آفریدی کی سفارش کردے گی۔ اس سلسلے میں محمود اچکزئی , بیرسٹر گوہر وغیرہ بھی ضمانتیں دینے اور سہیل آفریدی کو یقین دہانیاں کروانے میں شامل ہیں۔ صدیق جان بھائی اور ان کا اسلام آبادی صحافتی ٹولہ و آئی ایس پی آر اپنے اثاثوں کی مدد سے اور اندر کی خبر والے نیٹ ورک کے ذریعے عمران خان کی رہائی ، سابق آرمی چیف سے ملاقات ، عمران خان قومی حکومت پر رضا مند اور وغیرہ وغیرہ والی خبریں تواتر سے چلا رہا ہے
، تاکہ سہیل آفریدی کو اور یوتھیوں کو یہ تاثر ملتا رہے کہ واقعی کچھ نا کچھ ہورہا ہے۔ تیسرا فیکٹر یہ ہے کہ سہیل آفریدی کو “ ناراض اراکین “ والی جھلکیاں بھی دکھائی جارہی ہیں ، نومئی اور دیگر کیسز پہلے سے موجود ہیں اور دس بیس سال کی قید ، وزارت اعلی کا چھن جانا وہ خوف ہے جو ساتھ ساتھ دکھایا جارہا ہے۔ وزارت اعلی جاتی دیکھ کر علی امین گنڈاپور علیمہ خانم کو ایم آئی کی ایجنٹ کہنے پر اتر آیا تھا سہیل آفریدی بھی اسی ہی کیفیت کا شکار ہوسکتا ہے۔ فوج کسی نا کسی بہانے سے وقت لیتی جاتی ہے اور اس امید میں ہے کہ کوئی معجزہ ہوگا اور ملکی معاشی و سیاسی حالات بدل جائیں گے۔ اگر چار دن اچھے لگ جائیں جیسے بھارت سے جھڑپوں اور ٹرمپ کی پوسٹس کے دوران ہوا تو اوقات سے باہر ہوجاتے ہیں ،
کوئی مشکل آپڑے ، تیل مہنگا ہوجائے ، نئے ٹیکس لگانے ہوں اور احتجاج شروع ہوجائیں جیسا کہ آجکل ہورہا ہے تو ٹھنڈی ہوائیں چلانا شروع کردیتے ہیں۔ فوج کی موجودہ پالیسیز کے ہوتے ہوئے ملکی حالات بہتر ہونے والے نہیں۔ عمران خان کی رہائی موجودہ نظام اور اسکے بینفشریز کی موت ہے۔ کچھ وقت بعد جب سہیل آفریدی پر سوشل میڈیا اور عوام کا دباؤ زیادہ آئے گا اور فوج حسب سابق ، حسب توقع “ سپیس “ نہیں دے گی تو پھر سہیل آفریدی کو اندازہ ہوگا کہ انکے ساتھ ہاتھ ہوا ہے۔ سہیل آفریدی کا ڈنگ مکمل نکل چکا ہے۔ عوامی پذیرائی ختم ہوچکی ہے ۔ فوج سہیل آفریدی کو یوتھیوں کے آگے پھینک دے گی ، ویسے ہی جیسے گنڈاپور کو استعمال کرکے پھینک دیا تھا۔ یوتھیے ا س کچے بادام کو چکھے بغیر پھینک دیں گے۔ کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے۔کاپیڈ
۔پاکستان میں ٹیکس دینے والوں کو بجلی 70 سے 100 روپے فی یونٹ ملتی ہے۔جبکہ کشمیری بھائیوں کو حکومت پاکستان 3 روپے یونٹ بجلی فراہم کررہی ہے۔گندم پیدا کرنے والے 5000 روپے فی من آٹا خرید رہے ہیں جبکہ کشمیری بھائیوں کو یہی اٹا 2000 روپے فی من دیا جارہا ہے ۔۔کشمیر کی پوری ریاست کی آمدن 70 ارب روپے ہے جبکہ اخراجات 320 ارب روہے سالانہ اڑھائی سو ارب روپے پاکستان سپورٹ کررہا ہے۔۔اس کے علاوہ جو سہولیات ہمیں پاکستان میں دستیاب نہیں لیکن عوامی نوعیت کے ان جائز 38 میں سے 35 مطالبات بھی کشمیری بھائیوں کے مان لئے گئے تھے ۔لیکن اس کے باوجود چند عناصر بیرونی ایجنڈے پر کاربند ہیں اور سادہ لوح کشمیریوں بھائیوں کو حقوق کے نام پر پاکستان کے خلاف بھڑکانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔سادہ الفاظ میں ریاست کو بلیک میل کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔۔جو ممکن نہیں۔۔
۔میرے خیال میں ریاست نے پہلے ہی۔بھائی چارے اور محبت کے رشتے کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں بہت چھوٹ دے دی ہے۔۔۔۔۔جس کا یہ فسادی ٹولہ ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہا ہے۔۔۔۔ریاست کو اب چاہیے کہ ناصرف اپنی پوری طاقت استعمال کرے بلکہ۔۔اس ہنگامہ آرائی میں بہنے والے خون کا حساب بھی ان فسادیوں اور ان کے سہولتکاروں سے لیا جائے۔اور۔۔شوکت میر۔۔خواجہ مہران۔سمیت اس فسادی کمیٹی کے دیگرجعلی عہدیداروں دہشت گردوں اور ملک کے اندر اور باہر بیٹھے ان کے سہولتکاروں کے قومی شناختی کارڈ۔پاسپورٹ خارج کرکے ان کے خلاف قتل اور دنگے فساد کے مقدمات درج کئے جائیں۔۔۔اب ان غداروں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں۔پاکستان ہمیشہ زندہ باد پرامن اور عقلمند ۔کشمیری عوام ۔پائندہ باد
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ممبران قومی اسمبلی نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی، چوہدری فرخ الطاف، ریاض الحق، شاہد عثمان، اور بابر نواز خان کی علیحدہ علیحدہ ملاقات* ملاقات میں ممبران قومی اسمبلی نے وزیراعظم کو حلقہ کے امور اور جاری ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں پر پیشرفت سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں متعلقہ حلقوں میں نئے منصوبوں کی تجاویز بھی پیش کیں۔ملاقات میں حلقہ کے مجموعی سیاسی اور دیگر دلچسپی کے امور پر بھی گفتگو کی گئی۔ملاقات میں، وزیر اعظم کے معاون خصوصی طلحہ برکی، وفاقی وزیر براۓ پبلک افئیرز یونٹ رانا مبشر اقبال بھی شریک تھے۔
1- ترجمانِ دفترِ خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ:2- ’مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتِ حال پر پاکستان کو گہری تشویش ہے‘3- ’فریقین کشیدگی میں کمی لائیں اور جنگ بندی کی طرف
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے سینئر سیاستدان، سابق وفاقی وزیر غلام احمد بلور کی ملاقات* وزیراعظم نے سینئر سیاستدان غلام احمد بلور کی بحیثت سابق پارلیمنٹرین ملک کے لیۓ گراں قدر سیاسی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ملاقات میں ملکی مجموعی سیاسی اور دیگر دلچسپی کے امور پر بھی گفتگو کی گئی۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی کے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہارِ خیال پر اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے جس معاملے کی نشاندہی کی ہے، وہ انتہائی تشویشناک اور قابلِ افسوس ہے۔ کوئی بھی محبِ وطن پاکستانی ایسی بات نہیں کر سکتا جو قومی یکجہتی، ریاستی مفادات اور عوامی ہم آہنگی کے خلاف ہو۔ جس شخص نے بھی یہ بیان دیا ہے، اس کے بارے میں یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ وہ پاکستان کے مفادات سے مخلص ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات مجھے علیحدگی میں فراہم کر دیجیے گا۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ جو باتیں سامنے آئی ہیں وہ نہ صرف افسوسناک بلکہ شرمناک بھی ہیں، کیونکہ ایسی گفتگو کا مقصد پختونوں اور بلوچوں کے درمیان نفرت، بداعتمادی اور تقسیم پیدا کرنا ہے۔
پاکستان کے مختلف قومیتی اور لسانی طبقات ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے رشتے میں بندھے رہے ہیں، اور کسی کو بھی ان کے درمیان دراڑیں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی کو افغانستان کے ساتھ کھڑا ہونا ہے تو وہ وہاں جا کر کھڑا ہو، لیکن پاکستان کے اندر رہ کر ریاست، عوام اور قومی اداروں کے خلاف زہر اگلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ بھی بتایا جائے کہ مذکورہ شخص کی وابستگی اور شہریت پاکستان سے ہے یا افغانستان سے۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے واضح کیا کہ مذکورہ شخص جو کچھ بھی آزمانا چاہتا ہے، ضرور آزمائے، لیکن پاکستان کی پارلیمان، ریاستی ادارے اور عوام کسی ایسے ایجنڈے یا طرزِ عمل کو ہرگز قبول نہیں کریں گے جو قومی اتحاد، سالمیت اور استحکام کے خلاف ہو۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹڈائریکٹوریٹ جنرل آف میڈیاٹکرز 11 جون 2026*قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی محمد اقبال خان کی معطلی کی تحریک منظور
*محمد اقبال خان نے اپنے نامناسب اور غیر پارلیمانی رویے سے ہاؤس کے تقدس کو متعدد بار پامال کیا۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق محمد اقبال خان کے خلاف قومی اسمبلی کے ملازمین سے گالم گلوچ کی متعدد بار شکایت موصول ہوئی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق محمد اقبال خان نے ڈائریکٹر جنرل میڈیا قومی اسمبلی اور سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ بھی غیر مناسب رویہ اختیار کیا، اسپیکر سردار ایاز صادق ایسے رکن قومی اسمبلی کو کوئی رعایت نہیں دی جا سکتی۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا سارجنٹ ایٹ آرمزمحمد اقبال خان کو ہاوس سے باہر نکالنے کا حکماسپیکر سردار ایاز نے مزید کہا کہ محمد اقبال خان نے پارلیمنٹ سے باہر بھی سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی کی محمد اقبال خان سرینا ہوٹل کے ناکے پر پولیس کے اہلکاروں سے بھی دست و گریبان ہو چکے ہیں۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق محمد اقبال خان اپنے دھمکی آمیز رویہ سے نے تمام پارلیمانی روایات کو مجروح کیا،
اسپیکر سردار ایاز صادق محمد اقبال خان نے اپنے منصب کا ناجائز فائدہ اٹھایا، اسپیکر سردار ایاز صادق رکن قومی اسمبلی فرح ناز اکبر نے معطلی کی تحریک پیش کی۔قومی اسمبلی میں قواعد و ضوابط کے طریقہ کار 2007 کے قاعدہ 21 کے تحت تحریک پیش کی گئیمحمد اقبال خان کو ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے اور غیر شائستہ رویہ اختیار کرنے پر معطل کیا گیا۔وزیر مملکت طلال چوہدری نے ایوان کو محمد اقبال خان کے بیٹے کی بلیو پاسپورٹ پر اٹلی میں سیاسی پناہ لینے کی درخواست سے متعلق آگاہ کیا اسپیکر سردار ایاز صادق نے محمد اقبال خان کے بیٹے کی جانب سے بلیو پاسپورٹ سے متعلق معاملہ کمیٹی برائے داخلہ کو بھجوا دیا۔پورے بجٹ اجلاس کے دوران پارلیمنٹ ہاوس اور اس کی حدود میں محمد اقبال خان کے داخلے پر پابندی عائد۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ نے گذشتہ روز بھی ایران پر ایک ’سخت حملہ‘ کیا تھا اور ’ہم آج بھی ان پر سخت حملہ کریں گے اور پھر دیکھیں گے کہ معاہدے کا کیا ہوتا ہے۔‘
*(فیلڈ مارشل پاکستان آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا ایک اور احسن اور مثالی اقدام،) ارشد حسین شاہ ⚔️🇵🇰⚔️*سرپرست اعلیٰ پاکستان ایکس آرمی سروس مین لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم، برگیڈیئر فاروق شوکت اور برگیڈیئر نصیر احمد آرائیں کی کاوشوں اور محنت رنگ لے آئیپاکستان بھر کے ریٹائرڈ افواجِ پاکستان کے غیور جوانوں اور افسران کے لیے پیغام جاری کیا جا رہا ہے
ریٹائرمنٹ کے بعد اکثر سابقہ فوجیوں کو دور دراز علاقوں سے متعلقہ ریکارڈز ونگز تک سفر کرنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر فیملی پینشن کے رکے ہوئے کیسز، دفتری خط و کتابت اور دیگر مراعات کے حصول میں وقت کا ضیاع اور پریشانی ایک بڑا مسئلہ رہی ہےاسی مشکل کے حل کے لیے پاکستان آرمی نے ایک انتہائی احسن اور مثالی قدم اٹھایا ہےاب تمام ریکارڈز ونگز (RWs) میں “ہیلپ ڈیسک” قائم کر دیے گئے
ہیںان ڈیسک کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ ریٹائرڈ فوجی حضرات گھر بیٹھے فون کے ذریعے اپنے پینشن کیسز اور دیگر مسائل کے بارے میں معلومات اور مکمل راہنمائی حاصل کر سکیں تاکہ انہیں غیر ضروری سفر اور زحمت نہ اٹھانی پڑےرابطہ نمبرز کی تفصیل درج ذیل ہے:قدیر احمد (UDC) — ایبٹ آباد — BRC (RW) — رابطہ: 03169198779منان افسر (LDC) — ایبٹ آباد — AMC Cen (RW) — رابطہ: 03318554266محمد شعیب (UDC) — مانسہرہ — FF Cen (RW) — رابطہ: 03180560133کفایت اللہ (LDC) — کوہاٹ — STC (RW) —
: 03079130725محمد شریف (Asst) — سرگودھا — RV&FC Cen (RW) — رابطہ: 03033917824سید خدائے داد (UDC) — کوئٹہ — EME Cen (RW) — رابطہ: 03138386466 / 03331333670سلطان اعظم (LDC) — گلگت — NLI Cen (RW) — رابطہ: 03554236275 / 03436699910گل بہار سلطانی (Jnr Clk) — بھمبر — Mjd Cen (RW) — رابطہ: 03425144836 / 03016294379غلام عباس (LDC) — پنجاب ASB — AEC / CMA Rwp — رابطہ: 03008012780*(ڈیفینڈرز آف پاکستان آرگنائزیشن فیڈرل مرکزی کوآرڈینیٹر سید ارشد حسین شاہ—03152323655)* ⚔️🇵🇰⚔️*(فیلڈ مارشل پاکستان آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا ایک اور احسن اور مثالی اقدام،) ارشد حسین شاہ ⚔️🇵🇰⚔️*
۔پاکستان میں ٹیکس دینے والوں کو بجلی 70 سے 100 روپے فی یونٹ ملتی ہے۔جبکہ کشمیری بھائیوں کو حکومت پاکستان 3 روپے یونٹ بجلی فراہم کررہی ہے۔گندم پیدا کرنے والے 5000 روپے فی من آٹا خرید رہے ہیں جبکہ کشمیری بھائیوں کو یہی اٹا 2000 روپے فی من دیا جارہا ہے ۔۔کشمیر کی پوری ریاست کی آمدن 70 ارب روپے ہے جبکہ اخراجات 320 ارب روہے سالانہ اڑھائی سو ارب روپے پاکستان سپورٹ کررہا ہے۔۔اس کے علاوہ جو سہولیات ہمیں پاکستان میں دستیاب نہیں لیکن عوامی نوعیت کے ان جائز 38 میں سے 35 مطالبات بھی کشمیری بھائیوں کے مان لئے گئے تھے ۔لیکن اس کے باوجود چند عناصر بیرونی ایجنڈے پر کاربند ہیں اور سادہ لوح کشمیریوں بھائیوں کو حقوق کے نام پر پاکستان کے خلاف بھڑکانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔سادہ الفاظ میں ریاست کو بلیک میل کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔
۔جو ممکن نہیں۔۔۔میرے خیال میں ریاست نے پہلے ہی۔بھائی چارے اور محبت کے رشتے کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں بہت چھوٹ دے دی ہے۔۔۔۔۔جس کا یہ فسادی ٹولہ ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہا ہے۔۔۔۔ریاست کو اب چاہیے کہ ناصرف اپنی پوری طاقت استعمال کرے بلکہ۔۔اس ہنگامہ آرائی میں بہنے والے خون کا حساب بھی ان فسادیوں اور ان کے سہولتکاروں سے لیا جائے۔اور۔۔شوکت میر۔۔خواجہ مہران۔سمیت اس فسادی کمیٹی کے دیگرجعلی عہدیداروں دہشت گردوں اور ملک کے اندر اور باہر بیٹھے ان کے سہولتکاروں کے قومی شناختی کارڈ۔پاسپورٹ خارج کرکے ان کے خلاف قتل اور دنگے فساد کے مقدمات درج کئے جائیں۔۔۔اب ان غداروں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں۔پاکستان ہمیشہ زندہ باد پرامن اور عقلمند ۔کشمیری عوام ۔پائندہ باد
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا مئی 2026 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ریکارڈ 3 . 4 ارب ڈالر ترسیلات زر بھیجنے پر اظہار اطمینانمئی 2026 میں سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سےماہانہ بنیاد پر 20.2 فیصد اور سال بہ سال بنیاد پر 15.4 فیصد اضافی ترسیلات زر بھیجے گئے، جو نہایت خوش آئند ہے۔ وزیراعظمسمندر پار پاکستانیوں کا ملکی معیشت میں اعتماد اور مثبت شراکت داری ہمارا قومی سرمایہ ہے وزیراعظم
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اجلاسوزیراعظم کا مشکل معاشی حالات میں وفاقی حکومت سے مثالی تعاون پر چاروں وزرائے اعلیٰ سے اظہار تشکروفاقی اکائیوں کے درمیان اسی یکجہتی اور تعاون کے جذبے سے۔ملک ترقی کرے گا، وزیراعظمملک میں معاشی استحکام کیلئے کوششوں پر وزیراعظم کی معاشی ٹیم کی کارکردگی کی پزیرائیاجلاس کے شرکاء نے خلیج میں حالیہ کشیدگی سے عالمی معیشت میں منفی اثرات کے باوجود پاکستانی معیشت کو مستحکم رکھنے اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں پر وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کیابڑھتی ہوئی آبادی ملک کو درپیش بڑے چیلنجز میں سے ہے، وزیراعظم۔بہترین صحت کے نظام کے ذریعے بیماریوں کے بڑھتے بوجھ میں کمی، بچوں کی صحت بالخصوص Stunting کا خاتمہ، اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم کی فراہمی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا قومی ترجیحات ہیں، وزیراعظم۔نوجوانوں کو فنی اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے آراستہ کرنے کی حکمت عملی پر کار بند ہیں، وزیراعظمبرآمدات پر مبنی معیشت ترقی کیلئے اولین ترجیح ہے، وزیراعظموفاق اور صوبوں کے ترقیاتی منصوبوں میں ہم آہنگی پیدا کی جائے، وزیراعظم کی ہدایتترقیاتی منصوبوں کو قومی ترجیحات اور پائیدار معاشی اہداف کے مطابق ترتیب دیا جائے، وزیراعظممشترکہ قومی کاوشوں سے پاکستان کو ترقی، خوشحالی اور معاشی خود انحصاری کی منزل تک پہنچائیں گے، وزیرآعظماجلاس میں قومی اقتصادی کونسل کے 4 نکاتی ایجنڈے کی اتفاق رائے سے منظوری دی گئیاجلاس کو مالی سال 2025-26 کے لیے معیشت کی کارکردگی کے حوالےسے نظر ثانی شدہ اشاریے پیش کئے گئےاجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26 وفاقی پی ایس ڈی پی پر 820 ارب، صوبوں کے سالانہ ترقیاتی منصوبوں پر 2938 ارب اور ایس او ایز پروگرام پر 355 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیںاجلاس نے مالی سال 2026-27 کے لیے قومی ترقیاتی بجٹ کیلئے 3669 ارب روپے مختص کرنے بھی منظوری دے دیقومی اقتصادی کونسل نے وفاقی پی ایس ڈی پی کے لیے ایک ہزار ارب، صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 2218 ارب روپے اور ایس او ایز کے لیے 451 روپے مختص کرنے کی منظوری
دیقومی اقتصادی کونسل نے 2025-26 کیلئے مجموعی قومی پیداوار کی 3.7 فیصد شرح نمو اور اگلے مالی سال کیلئے 4 فیصد شرح نمو کی منظوری دے دیقومی اقتصادی کونسل نے متعلقہ وزارتوں، صوبوں اور سرکاری اداروں کو ہدایت کی کہ مجوزہ سالانہ پلان 2027-2026 کے اہداف کے حصول کے لئے وزارت منصوبہ بندی کے ساتھ مل کر کام کریںاجلاس کو اپریل 2025 سے مارچ 2026 تک CDWP اور ECNEC کی کارکردگی کی رپورٹ بھی پیش کی گئیاجلاس کو بتایا گیا کہ اس عرصے کے دوران CDWP نے 316 ارب روپے کی 116 سکیموں جب کہ ECNEC نے 5.117 کھرب روپے کی 72 سکیموں کی منظوری دیاجلاس کو 2025-26 کے میگا منصوبوں کی نگرانی اور جائزے کی رپورٹ بھی پیش کی گئاجلاس کو بتایا گیا کہ جائزے اور نگرانی کی نئی پالیسی بھی تشکیل دی جا چکی ہے جس میں ترقیاتی منصوبوں کی اے آئی کے ذریعے بھی جانچ پڑتال کا پائلٹ منصوبہ شامل ہےقومی اقتصادی کونسل نے اڑان پاکستان کے تحت قومی اقتصادی ترقی کے 11 مشنز کی منظوری دی۔وزارت منصوبہ بندی و ترقی کو ان مشنز کی وزارتوں اور صوبائی حکومتوں سے ملکر روڈ میپ تیار کرنے کی ہدایت۔وزیر اعظم نے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کے تمام نکات کی اتفاق رائے سے منظوری پر شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ قومی امور پر اسی طرح اتفاق رائے سے فیڈریشن مزید مضبوط ہوگا اور اتفاق و اتحاد کا یہی جذبہ پاکستان کے روشن مستقبل کی ضامن ہے۔اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر منصوبہ بندی ڈاکٹر احسن اقبال، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی، وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب سرفراز بگٹی، پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب اور قومی اقتصادی کونسل کے دیگر ارکان شریک تھے۔
🚨پاکستان کرکٹ بورڈ نے جاپان میں ہونے والی ایشین گیمز 2026 کے لیے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا صاحبزادہ فرحان کو ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت سونپ دی گئیعبدالصمد، ابرار احمد، احمد دانیال اور عاکف جاوید اسکواڈ کا حصہ ہونگےعلی رضا، عرفات منہاس، حیدر علی، حسن نواز اور معاذ صداقت اسکواڈ کا حصہ ہونگےسلمان مرزا، سعد مسعود، صائم ایوب، صفیان مقیم اور عثمان خان اسکواڈ کا حصہ ہونگے
*ہیلی کاپٹر گرانے کا الزام، امریکا کی ایرانی ساحلی علاقوں پر فوجی کارروائی،آبنائے ہرمز کے دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کا دعویٰ* یہ حملے امریکی ہیلی کاپٹر پر مبینہ حملے کا جواب ہیں اوراس واقعے پرردعمل “بہت سخت” ہونا چاہیےتھا، امریکی صدر کی تصدیقخلیجِ عمان میں امریکی ہیلی کاپٹر گرانے کے الزام کے بعد امریکا نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانےپرفوجی کارروائی کی ہے۔غیرملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق امریکی حملوں کے نتیجے میں قیشم، سیرک، میناب اور بندرعباس سمیت کئی شہردھماکوں سے گونج اٹھے،دوسری اور تیسری لہر میں بھی مختلف اہداف کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔امریکی صدر نےکارروائی کی تصدیق کرتے ہوئےکہاکہ یہ حملے امریکی ہیلی کاپٹر پر مبینہ حملے کا جواب ہیں اوراس واقعے پرردعمل “بہت سخت”ہونا چاہیےتھا،امریکی افواج نےخطے میں اپنےاہلکاروں اور مفادات کے تحفظ کے لیے کارروائی کی۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کےمطابق امریکی افواج نےمخصوص فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، دعویٰ کیاگیا ہےکہ آبنائے ہرمز کےقریب ایران کےفضائی دفاعی نظام اور ریڈار تنصیبات کو تباہ کیا گیا
*ہیڈ کوچ سرفراز احمد کو کلین چٹ مل گئی*ہیڈ کوچ سرفراز احمد کو کلین چٹ مل گئی جب کہ کپتان شان مسعود کا مستقبل اب تک غیر یقینی صورتِ حال سے دو چار ہے۔ذرائع کے مطابق سرفراز احمد ہی ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دوروں میں قومی ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ ہوں گے، یہ دونوں دورے ان کے مستقبل کے حوالے سے بہت اہمیت کے حامل ہوں گے۔یاد رہے کہ انہیں قومی ٹیسٹ ٹیم کی کوچنگ کے لیے دورۂ بنگلا دیش کے 2 ٹیسٹ میچز کی ذمے داریاں دی گئی تھیں، جو میرپور اور سلہٹ میں کھیلے گئے تھے اور قومی ٹیم کو دونوں ہی ٹیسٹ میچز میں شکست کا کڑوا گھونٹ پینا پڑا تھا۔
وزیر اعظم اور ان کی ٹیم اپنی اتحادی پیپلز پارٹی سے بجٹ سازی پر ایسے مذاکرات کر رہے ہیں جیسے بجٹ انہوں نے ہی بنانا ہے۔2026 میں دونوں جماعتیں یہ سمجھتی ہیں کہ عوام ابھی بھی اندھی گونگی اور بہری ہے۔ بھولے کے مطابق عوام کی یہ کیفیت طبعی نہیں مزھبی ہے
بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر نے جی ایچ کیو راولپنڈی کا دورہ کیا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات میں پاکستان اور بحرین کے درمیان دفاعی و سکیورٹی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دفاعی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب سے پاکستان اور بحرین کے برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر نے نیول ہیڈکوارٹرز میں چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر پاکستان نیوی کے خطے میں بحری سلامتی کے کردار کو سراہا گیا اور اسے علاقائی بحری استحکام کا ضامن قرار دیا گیا۔ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ ایئر ہیڈکوارٹرز میں بحرینی کمانڈر نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے بملاقات کی۔ ملاقات کے دوران پاک فضائیہ کی جدید کاری، دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ
اور تکنیکی پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بات چیت میں ڈرون ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، جدید دفاعی نظام اور دیگر ابھرتی ہوئی عسکری ٹیکنالوجیز پر بھی غور کیا گیا۔ بحرینی کمانڈر نے پاکستان مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور آپریشنل تیاریوں پر اعتماد کا اظہار کیا۔انہوں نے پاکستان کے ساتھ تربیت، جدید ٹیکنالوجی اور استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
بحرین کے نیشنل گارڈ کے سربراہ، جنرل شیخ محمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے پاکستان کے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔ اس اہم ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے پر اتفاق کیا گیا۔ بحرینی جنرل نے پاکستان اور بحرین کے قریبی تعلقات کی تعریف کی اور کہا کہ دونوں ملکوں کا دفاعی تعاون وقت کے ساتھ ساتھ مزید بڑھ رہا ہے۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے مختلف فوجی امور اور مشترکہ تربیتی پروگراموں کو آگے بڑھانے پر بھی بات چیت
سعودی عرب ، لبنان ، اب بحرین بھی پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرچکے ترکی ، عمان ، قطر ، آذربائجان ، کرغزستان کے ساتھ بات ہوچکی ہے بحرین کے نیشنل گارڈ کے کمانڈر کی پاکستان کی عسکری قیادت سے الگ الگ ملاقاتیں فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب مشرق وسطیٰ پورے کا باقاعدہ فیلڈ مارشل بننے جارہا ہے وقت گزرنے دیں بیرونی قوتوں کو سمجھ آرہی اس لیے انہوں نے اپنے سارے مہرے بے نقاب کرکے آخری چالیں کھیلنی شروع کی ہوئیں ہیں مگر بہت جلد پاکستان امن کا گہوارہ اور خطے کی سب سے بڑی قوت بن کر ابھرے گا جو معاشی و عسکری لحاظ سے دنیا میں مقام رکھے گا
حکومت آزاد جموں و کشمیر نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) سے تعلق رکھنے والے چار مطلوب افراد کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والے شخص کے لیے ایک کروڑ روپے انعام مقرر کر دیا۔ انعامی فہرست میں شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران ارشد اور سردار امان خان کے نام شامل ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق مطلوب افراد کی گرفتاری میں مؤثر معلومات فراہم کرنے والے شخص کو دس ملین روپے (ایک کروڑ روپے) انعام دیا جائے گا۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ اطلاع فراہم کرنے والے شخص کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی۔ محکمہ داخلہ نے انعامی اسکیم پر فوری عملدرآمد کے لیے انسپکٹر جنرل پولیس آزاد کشمیر کو ضروری اقدامات کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
ٹیلی ویژن انٹرویو میں ایران پالیسی پر ٹرمپ کے مؤقف میں تضادات نمایاں، اندرونی سیاسی دباؤ میں اضافہواشنگٹن — امریکی صدر Donald Trump کے ایک حالیہ ٹیلی ویژن انٹرویو نے ان کی ایران پالیسی سے متعلق بیانات میں پائے جانے والے تضادات کو ایک بار پھر زیرِ بحث لا دیا ہے۔ انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ ایران کے حوالے سے اپنی انتظامیہ کے مؤقف اور عملی پالیسی کی وضاحت میں مشکلات کا شکار دکھائی دیے، جس کے بعد ان کی مہم کے سابقہ بیانیے اور موجودہ خارجہ حکمتِ عملی کے درمیان فرق پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے
۔سیاسی اور میڈیا حلقوں میں تیزی سے وائرل ہونے والے اس انٹرویو نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے Iran کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے انتظام پر سوالات کو مزید تیز کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے داخلی سیاسی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔انتخابی مہم کے دوران صدر ٹرمپ نے بارہا یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی پالیسی کا محور بیرونی فوجی تنازعات میں کمی، مہنگے عسکری مشنز سے گریز، اور امریکی معیشت کو ترجیح دینا ہوگا
یہ پیغام اُن ووٹرز میں خاصا مقبول ہوا جو طویل جنگوں اور عالمی مداخلت سے بیزاری کا اظہار کرتے رہے ہیں۔تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ ایران پالیسی بعض پہلوؤں میں سابقہ سخت گیر حکمتِ عملیوں کا تسلسل اور بعض صورتوں میں اس کی توسیع معلوم ہوتی ہے۔ ان کے مطابق یہ تبدیلی مہم کے بیانیے اور عملی پالیسی کے درمیان واضح خلیج کو ظاہر کرتی ہے۔دوسری جانب انتظامیہ کے حامی اس مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے اسے “روک تھام پر مبنی حکمتِ عملی” قرار دیتے ہیں، جس کا مقصد خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنا اور وسیع تر عدم استحکام سے بچاؤ ہے۔ حکومتی مؤقف میں دفاعی تیاریوں اور اسٹریٹجک صلاحیتوں میں اضافے کو بھی ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے
کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے اثرات صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں، بالخصوص تیل کی قیمتوں پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ امریکی معیشت میں افراطِ زر اور عوامی اخراجات کے دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے
۔ماہرین کے مطابق آئندہ چند ہفتے اس لحاظ سے اہم ہوں گے کہ آیا موجودہ کشیدگی میں کمی آتی ہے یا صورتحال مزید بگڑتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف امریکی خارجہ پالیسی بلکہ اندرونی سیاسی منظرنامے پر بھی گہرے ہو سکتے ہیں۔