تازہ تر ین

مشرق وسطی میں غیر یقینی صورتحال عراق شام کی فضائی حدود بند۔وزیر اعطم کی ایوان صدر امد نواز لیگ کی گلگت بلتستان میں شکست تسلیم۔نواز شریف کی سیاست صدارتی ھاوس میں زرداری اور بلاول کے سامنے دفن۔۔قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ملتوی۔غربت سے تنگ شخص نے 4 بچوں کو قتل کر کے خود کشی کر لی۔۔پرنس سلطان ائیربیس کو نشانہ بنائے جانے کی خبریں غلط ہیںترجمان سعودی وزارت دفاع۔۔۔۔۔سردار ایاز صادق اور وزیر اعظم کی چوھدری نثار کی خوش دامن کے انتقال پر اظہار تعزیت۔۔راولاکوٹ میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سیکورٹی فورسز کا دھرنے کے مقام پر آپریشن.۔۔حالات کشیدہ صورتحال نازک ھے کمباینڈ ملٹری ھسپتال پر حملہ شھادتوں کی غیر مصدقہ اطلاعات۔1987 1988میں بھی ملٹری ھسپتال پر حملہ ھوا تھا اس کے بعد دوسرا حملہ ھے۔۔شر پسندوں کو گرفتار کر لیا گیا ھے حالات بدستور کشیدہ صورتحال نازک بڑے حادثے کی گونج۔۔نواز شریف کی سیاست صدارتی ھاوس میں زرداری اور بلاول کے سامنے دفن۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ٹیلی ویژن انٹرویو میں ایران پالیسی پر ٹرمپ کے مؤقف میں تضادات نمایاں، اندرونی سیاسی دباؤ میں اضافہواشنگٹن — امریکی صدر Donald Trump کے ایک حالیہ ٹیلی ویژن انٹرویو نے ان کی ایران پالیسی سے متعلق بیانات میں پائے جانے والے تضادات کو ایک بار پھر زیرِ بحث لا دیا ہے۔ انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ ایران کے حوالے سے اپنی انتظامیہ کے مؤقف اور عملی پالیسی کی وضاحت میں مشکلات کا شکار دکھائی دیے، جس کے بعد ان کی مہم کے سابقہ بیانیے اور موجودہ خارجہ حکمتِ عملی کے درمیان فرق پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے

۔سیاسی اور میڈیا حلقوں میں تیزی سے وائرل ہونے والے اس انٹرویو نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے Iran کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے انتظام پر سوالات کو مزید تیز کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے داخلی سیاسی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔انتخابی مہم کے دوران صدر ٹرمپ نے بارہا یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی پالیسی کا محور بیرونی فوجی تنازعات میں کمی، مہنگے عسکری مشنز سے گریز، اور امریکی معیشت کو ترجیح دینا ہوگا

یہ پیغام اُن ووٹرز میں خاصا مقبول ہوا جو طویل جنگوں اور عالمی مداخلت سے بیزاری کا اظہار کرتے رہے ہیں۔تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ ایران پالیسی بعض پہلوؤں میں سابقہ سخت گیر حکمتِ عملیوں کا تسلسل اور بعض صورتوں میں اس کی توسیع معلوم ہوتی ہے۔ ان کے مطابق یہ تبدیلی مہم کے بیانیے اور عملی پالیسی کے درمیان واضح خلیج کو ظاہر کرتی ہے۔دوسری جانب انتظامیہ کے حامی اس مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے اسے “روک تھام پر مبنی حکمتِ عملی” قرار دیتے ہیں، جس کا مقصد خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنا اور وسیع تر عدم استحکام سے بچاؤ ہے۔ حکومتی مؤقف میں دفاعی تیاریوں اور اسٹریٹجک صلاحیتوں میں اضافے کو بھی ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے

کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے اثرات صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں، بالخصوص تیل کی قیمتوں پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ امریکی معیشت میں افراطِ زر اور عوامی اخراجات کے دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے

۔ماہرین کے مطابق آئندہ چند ہفتے اس لحاظ سے اہم ہوں گے کہ آیا موجودہ کشیدگی میں کمی آتی ہے یا صورتحال مزید بگڑتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف امریکی خارجہ پالیسی بلکہ اندرونی سیاسی منظرنامے پر بھی گہرے ہو سکتے ہیں۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved