
‼️‼️ *جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی غنڈا گردی- نشانہ لے کر قانون کے رکھوالوں پر فائرنگ*📌 پچھلے کئی روز سے مظلومیت کا ڈرامہ رچا کر ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے والوں کی اصل حقیقت سامنے آگئی۔ 📌 ایک گرفتار بلوائی کے موبائل فون سے برآمد ہونے والی ویڈیو میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح نام نہاد حقوق کا پرچار کرنے والا یہ شخص سیدھی SMG تانے قانون نافذ کرنے والوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ 📌 یہ ہے انکی عوام کے حقوق کی خاطر نام نہاد جدوجہد اور انکا اصل چہرہ۔ یہ منظر ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے جو اب بھی یہ سمجھتے ہیں کے یہ احتجاج پر امن ہے اور انکو انتشاری اور تشدد پسند کہنا جائز نہیں۔ 📌 یہ فتنہ دراصل نفرت، تشدد اور انتشار کے اس مکروہ ایجنڈے پر عمل پیرا ہے جسکا واحد حل ان اسکی مکمل سرکوبی ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ یہ مسلح جتھے روز اول سے ایسے تشدد پسندانہ اقدامات کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ایسے واقعات انکو کالعدم قرار دینے کے حکومتی فیصلے کی توثیق کرتے ہیں۔

قدس فورس کمانڈر اسماعیل قاانی کے بیانات نے بحیرہ احمر اور خلیجی سلامتی سے متعلق نئی بحث چھیڑ دیتہران: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر، جنرل اسماعیل قاانی، نے حالیہ خطاب میں ایسے بیانات دیے ہیں جنہیں مبصرین خطے کی بحری سلامتی اور جغرافیائی سیاست کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔ ان کے بیانات میں خصوصاً آبنائے باب المندب اور آبنائے ہرمز کے اسٹریٹجک کردار پر زور دیا گیا، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن اور سمندری راستوں کی سلامتی کے حوالے سے نئی بحث نے جنم لیا ہے۔مزاحمتی محور اور نئی علاقائی سلامتی کی حکمتِ عملیجنرل قاانی نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ خطے میں مزاحمتی قوتوں کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق خلیج فارس سے بحیرہ احمر تک مختلف اتحادی گروہوں کے درمیان رابطے مضبوط ہوئے ہیں، جو علاقائی سلامتی کے توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر اس حکمتِ عملی کو عملی شکل دی جاتی ہے تو اس کے اثرات آبنائے ہرمز سے لے کر باب المندب تک عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے راستوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

یہ دونوں آبی گزرگاہیں عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہیں، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان انہی راستوں سے گزرتا ہے۔باب المندب اور بحیرہ احمر کی بڑھتی ہوئی اہمیتجنرل قاانی نے یمن میں سرگرم انصار اللہ (حوثی) تحریک کے کردار کا بھی ذکر کیا اور اسے خطے میں مزاحمتی محور کا اہم جز قرار دیا۔ مبصرین کے مطابق ان بیانات سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ مختلف علاقائی گروہوں کے درمیان آپریشنل تعاون مستقبل میں مزید بڑھ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر اور باب المندب میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی سپلائی چین، بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی منڈیوں پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے عالمی طاقتیں ان آبی گزرگاہوں کی سلامتی کو بین الاقوامی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیتی ہیں۔بین الاقوامی تجارت اور سلامتی کے خدشاتسیاسی مبصرین کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز اور باب المندب کو اسٹریٹجک دباؤ کے ممکنہ ذرائع کے طور پر پیش کرنا خطے میں طاقت کے توازن کے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ آبی گزرگاہیں عالمی تجارت کے لیے کھلی رکھنے پر عالمی برادری مسلسل زور دیتی رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ علاقائی حالات میں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی بحری نقل و حمل پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

قدس فورس کمانڈر اسماعیل قاانی کے بیانات نے بحیرہ احمر اور خلیجی سلامتی سے متعلق نئی بحث چھیڑ دیتہران: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر، جنرل اسماعیل قاانی، نے حالیہ خطاب میں ایسے بیانات دیے ہیں جنہیں مبصرین خطے کی بحری سلامتی اور جغرافیائی سیاست کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔ ان کے بیانات میں خصوصاً آبنائے باب المندب اور آبنائے ہرمز کے اسٹریٹجک کردار پر زور دیا گیا، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن اور سمندری راستوں کی سلامتی کے حوالے سے نئی بحث نے جنم لیا ہے

مزاحمتی محور اور نئی علاقائی سلامتی کی حکمتِ عملیجنرل قاانی نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ خطے میں مزاحمتی قوتوں کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق خلیج فارس سے بحیرہ احمر تک مختلف اتحادی گروہوں کے درمیان رابطے مضبوط ہوئے ہیں، جو علاقائی سلامتی کے توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر اس حکمتِ عملی کو عملی شکل دی جاتی ہے

تو اس کے اثرات آبنائے ہرمز سے لے کر باب المندب تک عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے راستوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ دونوں آبی گزرگاہیں عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہیں، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان انہی راستوں سے گزرتا ہے۔باب المندب اور بحیرہ احمر کی بڑھتی ہوئی اہمیتجنرل قاانی نے یمن میں سرگرم انصار اللہ (حوثی) تحریک کے کردار کا بھی ذکر کیا اور اسے خطے میں مزاحمتی محور کا اہم جز قرار دیا۔ مبصرین کے مطابق ان بیانات سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ مختلف علاقائی گروہوں کے درمیان آپریشنل تعاون مستقبل میں مزید بڑھ سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر اور باب المندب میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی سپلائی چین، بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی منڈیوں پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے عالمی طاقتیں ان آبی گزرگاہوں کی سلامتی کو بین الاقوامی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیتی ہیں

بین الاقوامی تجارت اور سلامتی کے خدشاتسیاسی مبصرین کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز اور باب المندب کو اسٹریٹجک دباؤ کے ممکنہ ذرائع کے طور پر پیش کرنا خطے میں طاقت کے توازن کے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ آبی گزرگاہیں عالمی تجارت کے لیے کھلی رکھنے پر عالمی برادری مسلسل زور دیتی رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ علاقائی حالات میں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی بحری نقل و حمل پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔










