
| سفارتی محاذ پر اچانک تبدیلی — 12 گھنٹوں میں صورتحال پلٹ گئیگزشتہ چند گھنٹوں کے دوران بین الاقوامی سفارتی ماحول میں ایک غیر معمولی اور تیز رفتار تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جس نے زمینی صورتِ حال کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات اور زمینی ذرائع کے مطابق، جہاں چند روز قبل تک غیر یقینی اور پسپائی کا ماحول تھا، وہیں اچانک پیدا ہونے والی پیش رفت نے تمام اندازے الٹ دیے ہیں۔ گزشتہ 12 گھنٹوں میں صورتحال اس قدر تیزی سے بدلی کہ خود میڈیا نمائندے بھی واپسی کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے تھے۔ مختلف صحافی اپنے سامان پیک کر چکے تھے، فلائٹس بک کر لی گئی تھیں، اور عمومی تاثر یہ تھا کہ مذاکراتی یا سفارتی سرگرمیوں کا یہ مرحلہ اپنے اختتامی دور میں داخل ہو چکا ہے۔تاہم حالات نے ایک غیر متوقع موڑ اس وقت لیا جب خطے میں اچانک سکیورٹی اور سفارتی سرگرمیوں میں نئی شدت دیکھی گئی۔راتوں رات تبدیلی — اچانک سرگرمیوں میں اضافہذرائع کے مطابق، رات کے وقت اچانک متعدد اہم پیش رفتیں سامنے آئیں جنہوں نے صورتحال کا رخ بدل دیا۔ ان میں سب سے نمایاں پیش رفت ایران کے اعلیٰ سطحی حکام کی فوری سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ بتایا جا رہا ہے۔

اسی دوران اطلاعات سامنے آئیں کہ خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے صورتحال نے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔ اگرچہ ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر مکمل تصدیق نہیں ہوئی، تاہم میڈیا اور سفارتی حلقوں میں ان خبروں نے غیر معمولی ہلچل پیدا کر دی۔اسی پس منظر میں خطے میں سکیورٹی پروٹوکولز کو دوبارہ فعال کرنے اور بعض مقامات پر اضافی حفاظتی اقدامات کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں، جنہوں نے یہ تاثر مزید مضبوط کیا کہ صورتحال ایک نئے اور حساس مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔سفارتی رابطے اور اہم ملاقاتیںاسی دوران پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کے اچانک ایران کے دورے نے صورتحال کو مزید اہم بنا دیا۔ ذرائع کے مطابق ان کے دورے کے بعد سفارتی چینلز میں غیر معمولی سرگرمی دیکھی گئی۔منصور علی خان کے مطابق، ان کا کہنا ہے کہ ان کے رابطے میں آنے کے بعد انہیں مختصر مگر اہم پیغام موصول ہوا جس میں کہا گیا:> “ڈونٹ لیو — ابھی یہاں سے نہ جائیں”یہ پیغام اس وقت ایک غیر رسمی مگر اہم اشارہ سمجھا گیا کہ خطے میں موجود سفارتی اور سیاسی حالات ابھی مکمل طور پر واضح نہیں اور مزید اہم پیش رفت متوقع ہو سکتی ہے۔سکیورٹی صورتحال میں اچانک تبدیلیذرائع یہ بھی بتاتے ہیں

کہ کچھ سکیورٹی انتظامات جو پہلے کم یا ختم کیے جا چکے تھے، انہیں دوبارہ فعال اور مضبوط (beef up) کیا جانے لگا ہے۔ اس پیش رفت کو عام طور پر اس بات کی علامت سمجھا جاتا ہے کہ زمینی صورتحال میں کسی اہم تبدیلی کا امکان موجود ہے۔اسی دوران مختلف سفارتی حلقوں میں غیر رسمی رابطوں میں اضافہ بھی رپورٹ کیا گیا، جس سے یہ تاثر مزید گہرا ہوا کہ پسِ پردہ مذاکرات یا مشاورت کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔خطے کی مجموعی صورتحال — غیر یقینی مگر متحرکبین الاقوامی مبصرین کے مطابق، موجودہ صورتحال انتہائی غیر مستحکم مگر متحرک ہے۔ ایک طرف میڈیا رپورٹس میں کشیدگی اور ممکنہ بحران کی باتیں سامنے آ رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف سفارتی سطح پر سرگرمیوں میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ کچھ ممالک کشیدگی کو کنٹرول کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ابنائے ہرمز جیسے حساس آبی راستے کی ممکنہ بندش یا اس سے متعلق خبریں اگرچہ غیر مصدقہ ہیں، لیکن اس نوعیت کی اطلاعات خود عالمی منڈیوں اور سفارتی حلقوں میں فوری ردعمل پیدا کرتی ہیں۔اعلیٰ سطحی وفود کی آمد کی اطلاعاتمزید ذرائع کے مطابق، یہ بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ عباس عراقچی اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جیسے اعلیٰ سطحی شخصیات کی ممکنہ آمد سے متعلق بات چیت جاری ہے۔

اگر یہ پیش رفت عملی صورت اختیار کرتی ہے تو اسے اس بحران کے تناظر میں ایک انتہائی اہم سفارتی موڑ تصور کیا جائے گا۔تاہم اس وقت تک کسی بھی فریق نے باضابطہ طور پر ان ملاقاتوں یا شرکت کی تصدیق نہیں کی۔نتیجہ صورتحال کس طرف جا رہی ہے؟موجودہ حالات میں سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ صورتحال ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں:ایک طرف کشیدگی اور غیر یقینی بڑھ رہی ہےدوسری طرف سفارتی رابطے تیز ہو رہے ہیںاور تیسری طرف زمینی سکیورٹی اقدامات دوبارہ سخت کیے جا رہے ہیںیہ تمام عوامل مل کر اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ آنے والے چند گھنٹے یا دن خطے کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔فی الحال صورتحال واضح نہیں، تاہم یہ بات یقینی ہے کہ سفارتی اور سیاسی محاذ پر ایک نئی اور بڑی پیش رفت کے امکانات موجود ہیں۔

ایرانی وفد کا ٹر مپ کے بیانات کیخلاف شدید احتجاج، مذاکرات میں شرکت سے انکارپاکستان اور قطر کی ثالثی میں سوئٹزرلینڈ میں جاری امریکا ایران مذاکرات کا دوسرا دور شروع نہ ہوسکا، پہلا دور 80 منٹ جاری رہا ایرانی میڈیا
پاکستان ہر سال آئی ایم ایف کے پاس جاتا ہے، باقی ممالک کیا کرتے ہیں؟ بھارت آئی ایم ایف کے پاس آخری دفعہ 1991 میں گیا تھا اور اُس کے بعدآج تک آئی ایم ایف کے پاس نہیں گیا ملائشیا کبھی آئی ایم ایف کے پاس نہیں گیا، حتی کہ 1997-98 کے اقتصادی بحران میں جب جنوبی کوریا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور فلپائن آئی ایم ایف کے پاس گئے، ملائشیا کے مہاتیر نے ایسے مشکل وقت میں بھی آئی ایم ایف کے پاس جانے سے انکار کیا ترکیہ نے آخری آئی ایم ایف پلان 2005 میں لیا اور اُس کے بعد 20 سال سے آئی ایم ایف کے پاس نہیں گیا۔ایران نے آخری دفعہ آئی ایم ایف پلان 1959 میں لیا تھا چین آخری دفعہ 1986 میں آئی ایم ایف میں گیا جاپان 1964 اور جرمنی 1970 میں آخری دفعہ آئی ایم ایف کے پاس گیا تھائ لینڈ 1997 میں آخری دفعہ آئی ایم ایف میں گیا ویت نام 2001 میں آخری دفعہ آئی ایم ایف کے پاس گیا صرف اس سے اندازہ لگا لیں کہ پاکستان کا اقتدار جن دو موروثی جماعتوں اور اُن کے سہولت کاروں کے ہاتھ میں رہا، اُن کی صلاحیت صرف آئی ایم ایف سے قرضہ لینے اور ورلڈ بینک سے وزیر خزانہ لینے، تک محدود ہے

‼️ *امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فوسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بصیرت اور مدبرانہ قیادت کے معترف*‼️📌 مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام اور امریکہ و ایران کے مابین کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی تاریخی مصالحتی کوششوں کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔📌 سوئٹزرلینڈ کے مقام برگن اسٹاک (Burgenstock) میں ہونے والے امریکہ ایران اعلیٰ سطحی مذاکرات کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مدبرانہ قیادت اور سفارتی بصیرت کو غیر معمولی الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔📌سوئٹزرلینڈ میں پاکستانی وفد سے ملاقات کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کھل کر اعتراف کیا کہ پاکستان کی سول و عسکری قیادت کی انتھک کوششوں کے بغیر امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدے پر پیش رفت ممکن ہی نہ تھی۔📌 فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کلیدی کردار کی تعریف کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ انہوں نے پچھلے تین مہینوں میں شاید فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ بات چیت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل کی بصیرت اور مدبرانہ قیادت کے بغیر ہم اس اہم موڑ تک نہیں پہنچ سکتے تھے، وہ بلاشبہ ایک عظیم فوجی رہنما ہیں، لیکن ان کے خیال میں انہوں نے خود کو ایک بہترین اور اعلیٰ پائے کے سفارتکار کے طور پر بھی ثابت کیا ہے۔📌 پاکستان کی سول و عسکری قیادت کو امریکہ اور ایران کے مابین مزاکرات کرانے پر نہ صرف امریکہ، بلکہ پوری دنیا کی جانب سے زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ 📌 اقوامِ متحدہ (UN)، یورپی یونین اور مشرقِ وسطیٰ کے برادر اسلامی ممالک سمیت عالمی برادری نے واشنگٹن اور تہران کے مابین برف پگھلانے پر اسلام آباد کے اس مخلصانہ اور مدبرانہ کردار کو دل کھول کر سراہا ہے۔ 📌 اس تاریخی سفارتکاری کے ذریعے پاکستان نے نہ صرف خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچایا، بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی لائنز کو بحال رکھ کر پوری دنیا کو ایک ہولناک معاشی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تباہ کن اضافے سے بھی محفوظ کر لیا۔ اگر پاکستان بروقت یہ مصالحتی کردار ادا نہ کرتا تو بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی تجارتی نظام مفلوج ہو کر رہ جاتا۔📌 ایسے نازک موڑ پر جب دنیا بلاکس میں تقسیم ہو رہی تھی، پاکستان نے ایک بار پھر خود کو عالمی امن کا ایک غیر جانبدار، قابلِ اعتماد اور ناگزیر ضامن ثابت کیا، اور اس تاریخی مصالحت نے بین الاقوامی برادری میں پاکستان کے تزویراتی وقار اور سفارتی قد کاٹھ کو مزید بڑھا دیا ہے۔

*🛑 قطر میں گیس کی سب سے بڑی سہولت راس لافان انڈسٹریل سٹی میں دھماکہ* *دھماکا اتنا شدید تھا کہ قطریوں نے اسے ‘زلزلہ’ قرار دیا اور بحرین میں بھی اس کی آواز سنی گئی۔ وجہ فی الحال معلوم نہیں ہے۔*










