Monthly Archives: September 2026
تربت میں بلوچ خواتین کا فورسز پر منظم حملہ
تربت میں بلوچ خواتین کا فورسز پر منظم حملہتربت میں بلوچ خواتین سرمچاروں کی جانب سے پاکستانی سکیورٹی فورسز پر منظم حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ کارروائی میں شریک خواتین حملے کے بعد محفوظ طور پر وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ بلوچستان میں بلوچ خواتین کی جانب سے سکیورٹی فورسز کے خلاف منظم کارروائی کا پھلا واقعہ
سینٹورس مال کا پلاٹ بھی منسوخ؟ سی ڈی اے کا بڑا ایکشن،۔۔سعودی عرب پر 3 سائیڈ سے حملے جاری حالات کشیدہ صورتحال۔۔دنیا تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن۔۔سعودی عرب پر 3 سائیڈ سے حملے جاری حالات کشیدہ صورتحال۔۔۔سعودی عرب کے لئے مشکلات مے اضافہ اندرونی معاملات بھی ھا۔۔پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن؟ علی ظفر نے گرفتاریوں سے متعلق بڑا بیان دے دیا۔۔۔پاکستان اور انگلینڈ امنے سامنے۔کمزور ٹیم کرکٹ کا جنازہ۔۔پیٹرول 4 روپے 61 پیسے مہنگا، نئی قیمت 393 روپے 75 پیسے فی لیٹر مقرر۔حکومت کا عوام کو زندہ دفن کرنے کا اعلان۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر ۔۔ نہ کھلنے کی صورت میں VPN استعمال کریں
موٹروے پر خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر فضل شکور کی مبینہ گرفتاری، گاڑی پر فائرنگ کی ویڈیو سامنے آگئیپشاور، 21 ستمبر 2026: خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر فضل شکور خان کو موٹروے پر مبینہ طور پر حراست میں لیے جانے کی ویڈیو منظرعام پر آگئی ہے، جس میں سادہ کپڑوں اور نقاب میں ملبوس مسلح افراد کو ایک گاڑی کے قریب دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو سے متعلق سوشل میڈیا پر مختلف دعوے سامنے آئے ہیں، تاہم واقعے کی مکمل آزادانہ اور سرکاری تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔پاکستان تحریک انصاف کے رکن خیبرپختونخوا اسمبلی عبدالغنی آفریدی کے مطابق صوبائی وزیر فضل شکور خان کی سرکاری گاڑی کو موٹروے پر روکا گیا۔ ان کے دعوے کے مطابق نقاب پوش افراد نے کلاشنکوف سے گاڑی کے ٹائروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ٹائر پھٹ گئے

جبکہ گاڑی کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ بعد ازاں فضل شکور خان کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔واقعے کی مبینہ تفصیلاتدستیاب ویڈیو میں ایسے افراد دکھائی دیتے ہیں جو سادہ لباس میں ہیں اور بعض نے چہرے ڈھانپ رکھے ہیں۔ ویڈیو کے بارے میں سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ کارروائی فضل شکور خان کی گاڑی کو روکنے کے دوران ہوئی۔عبدالغنی آفریدی نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ گاڑی کو مبینہ طور پر بلاجواز روکا گیا اور مسلح افراد نے فائرنگ کرکے اسے روکنے پر مجبور کیا۔ ان کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی کے ٹائر پھٹ گئے اور شیشے ٹوٹ گئے، جس کے بعد وزیر کو حراست میں لے لیا گیا۔تاہم، یہ بات ابھی آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوئی کہ ویڈیو میں موجود افراد کون تھے، کس ادارے سے تعلق رکھتے تھے اور انہیں صوبائی وزیر کو حراست میں لینے کا قانونی اختیار حاصل تھا یا نہیں۔ اسی طرح فائرنگ کس مقام پر ہوئی، اس کا درست وقت کیا تھا اور فائرنگ میں کتنے راؤنڈ فائر کیے گئے، اس حوالے سے بھی سرکاری تفصیلات سامنے نہیں آئیں

۔عبدالغنی آفریدی کا مؤقفعبدالغنی آفریدی نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک منتخب صوبائی وزیر کے ساتھ اس نوعیت کا سلوک کیا جاتا ہے تو عام شہریوں کے جان و مال اور عزت کے تحفظ سے متعلق سوالات پیدا ہوتے ہیں۔انہوں نے سیاسی اختلافات کو طاقت کے بجائے آئینی اور جمہوری طریقے سے حل کرنے پر زور دیا اور کہا کہ سیاسی اختلاف رائے کو بندوق، گولی یا ڈنڈے کے ذریعے دبانے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔ایک مختلف دعویٰ بھی سامنے آگیا

واقعے کے حوالے سے ایک دوسری رپورٹ میں مختلف مؤقف سامنے آیا ہے۔ The Pakistan Connect کی رپورٹ کے مطابق فضل شکور کو پشاور موٹروے کے ایک چیک پوائنٹ پر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے تلاشی کے لیے روکا تھا اور الزام لگایا گیا کہ گاڑی نہ روکنے پر فضل شکور کے محافظوں نے پولیس پر فائرنگ کی۔یہ دعویٰ پہلے بیان کردہ مؤقف سے مختلف ہے، جس میں گاڑی پر مسلح افراد کی جانب سے فائرنگ اور صوبائی وزیر کو مبینہ طور پر اٹھائے جانے کی بات کی گئی ہے۔اس مرحلے پر دونوں متضاد دعوؤں میں سے کسی ایک کو حتمی واقعہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ واقعے کی حقیقت جاننے کے لیے پولیس، موٹروے پولیس یا دیگر متعلقہ حکام کا باضابطہ بیان، ایف آئی آر، گرفتاری کا ریکارڈ، موقع کی تفتیش اور ویڈیو کی فرانزک جانچ اہم ہوگی۔سیاسی پس منظریہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف اور وفاقی و پنجاب حکومتوں کے درمیان سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔ حالیہ دنوں میں خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی لاہور میں مبینہ حراست کے معاملے پر بھی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان متضاد مؤقف سامنے آئے تھے۔ پنجاب حکومت نے وزیراعلیٰ کو گرفتار کیے جانے کے دعوے کو مسترد کیا تھا
جبکہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے اسے غیر آئینی اقدام قرار دیا تھا۔21 ستمبر کو خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کیا جائے گا اور ان کے مطابق وزرا کی گرفتاری سے سیاسی تحریک نہیں رکے گی۔ انہوں نے احتجاج کو پُرامن رکھنے پر زور دیا۔اسی سیاسی ماحول میں فضل شکور کی مبینہ گرفتاری کی ویڈیو نے معاملے کی حساسیت میں اضافہ کر دیا ہے۔اہم سوالاتاس واقعے کے حوالے سے کئی بنیادی سوالات ابھی جواب طلب ہیں:1. فضل شکور خان کو کس قانون کے تحت روکا یا حراست میں لیا گیا؟2. گاڑی پر فائرنگ کرنے والے افراد کس ادارے سے تعلق رکھتے تھے؟3. کیا وہ پولیس، کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے یا کسی دوسرے سرکاری محکمے کے اہلکار تھے؟4. کیا فائرنگ سے پہلے گاڑی کو روکنے کے لیے قانونی طریقہ کار اختیار کیا گیا؟5. کیا فائرنگ کے نتیجے میں کوئی شخص زخمی ہوا؟6. فضل شکور خان اس وقت کہاں ہیں اور ان کی قانونی حیثیت کیا ہے؟7. کیا ان کے خلاف کوئی مقدمہ یا ایف آئی آر درج کی گئی ہے؟8. کیا گاڑی، گولیوں کے خول اور ویڈیو کو فرانزک تفتیش کے لیے محفوظ کیا گیا ہے؟9. ویڈیو کب اور کہاں ریکارڈ ہوئی اور کیا اس کی صداقت کی تصدیق ہوئی ہے؟10. واقعے کے حوالے سے موٹروے پولیس، خیبرپختونخوا پولیس یا دیگر متعلقہ ادارے کیا مؤقف رکھتے ہیں؟تجزیہ: اصل اہمیت کیا ہے؟اس واقعے کی اہمیت صرف ایک صوبائی وزیر کی مبینہ گرفتاری تک محدود نہیں۔ اگر ویڈیو اور فائرنگ سے متعلق دعوے سرکاری تحقیقات میں درست ثابت ہوتے ہیں تو معاملہ قانون نافذ کرنے کے طریقہ کار، منتخب نمائندے کی گرفتاری، سرکاری گاڑی پر فائرنگ اور شہریوں کے بنیادی قانونی حقوق سے متعلق سنجیدہ سوالات اٹھائے گا۔دوسری جانب اگر سرکاری تحقیقات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ گاڑی کو کسی قانونی چیکنگ یا کارروائی کے لیے روکا گیا تھا اور مزاحمت یا محافظوں کی فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، تو معاملے کی نوعیت بالکل مختلف ہوگی۔ اسی لیے اس وقت ویڈیو کو حتمی ثبوت سمجھنے کے بجائے اسے تحقیق کا اہم مگر غیرحتمی ذریعہ سمجھنا زیادہ مناسب ہے

۔واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات میں گاڑی کا معائنہ، فائرنگ کے شواہد، گولیوں کے خول، سی سی ٹی وی یا موٹروے کی نگرانی کیمروں کی ریکارڈنگ، موبائل فون ویڈیوز، اہلکاروں کے باڈی کیم فوٹیج، ایف آئی آر اور گرفتار شخص کا قانونی ریکارڈ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔تازہ ترین صورتحال21 ستمبر کی دستیاب رپورٹنگ کے مطابق فضل شکور خان کی مبینہ گرفتاری اور فائرنگ کی ویڈیو پر سیاسی ردعمل سامنے آ چکا ہے، لیکن واقعے کی مکمل سرکاری تفصیلات اور حتمی قانونی حیثیت ابھی واضح نہیں۔ اس لیے خبر کو فی الحال “مبینہ گرفتاری” اور “فائرنگ کے دعوے” کے طور پر ہی رپورٹ کرنا محتاط صحافتی طرزِ عمل ہوگا۔خبر کی حتمی اپ ڈیٹ میں پولیس، موٹروے پولیس، صوبائی حکومت اور فضل شکور خان یا ان کے وکیل کا مؤقف شامل کیا جانا ضروری ہوگا۔
حوثیوں کی پاکستان اور ترکیہ کو سخت وارننگ: مکہ دفاعی معاہدہ یمن کے بحران میں نئے امتحان سے دوچاراسلام آباد/انقرہ/صنعا — 21 ستمبر 2026یمن میں سعودی عرب اور حوثی تحریک کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے اب پاکستان اور ترکیہ کو بھی براہِ راست علاقائی سکیورٹی کے سوالات کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان یا ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر یمن میں براہِ راست فوجی کارروائی کرتے ہیں تو حوثی اس کے خلاف سخت ردعمل دینے کی کوشش کریں گے۔ یہ وارننگ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب سعودی عرب پر حوثی میزائل اور ڈرون حملوں اور اس کے جواب میں سعودی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔تاہم موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے ایک بنیادی فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے: حوثیوں کی وارننگ ایک ممکنہ صورتحال کے بارے میں ہے، جبکہ پاکستان یا ترکیہ کی جانب سے یمن میں براہِ راست جنگی فوج بھیجنے کا کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔ پاکستان کی سرکاری پوزیشن میں سعودی عرب کی سلامتی کی حمایت کے ساتھ ساتھ علاقائی کشیدگی کم کرنے، سفارت کاری اور مذاکرات پر بھی زور دیا گیا ہے۔مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے؟7 اگست 2026 کو سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں Makkah Joint Defence Agreement پر دستخط کیے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے مشترکہ دفاع، اجتماعی سلامتی اور باہمی دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کا عزم کیا۔ معاہدے کی اہم شق یہ ہے کہ کسی ایک رکن کے خلاف مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملے کے طور پر دیکھا جائے گا۔پاکستانی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ بنیادی طور پر دفاعی نوعیت رکھتا ہے
۔ 31 اگست کو استنبول میں اس معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں تینوں ممالک نے علاقائی امن، کشیدگی میں کمی، بحرانوں کے پرامن حل اور اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ اسی عمل کے تحت سعودی عرب میں ایک سیکریٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا، جس کی ابتدائی سربراہی تین سال کے لیے پاکستان کے ایک سیکریٹری جنرل کے پاس ہوگی۔اس لیے معاہدے کو خودکار طور پر یمن میں تینوں ممالک کی مشترکہ جنگ کا اعلان سمجھنا درست نہیں ہوگا۔پاکستان کا مؤقف کیا ہے؟پاکستان نے حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب پر حوثی حملوں کی متعدد مرتبہ مذمت کی ہے۔8 ستمبر کو پاکستانی وزارتِ خارجہ نے سعودی شہروں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے حمایت کا اعادہ کیا۔ اسلام آباد نے یہ بھی کہا کہ وہ یمن کے تنازعے کے مستقل اور پُرامن حل کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔12 ستمبر کو سعودی عرب کی مشرقی-مغربی تیل پائپ لائن پر ڈرون حملوں کے بعد بھی پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور حملوں کو علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔16 ستمبر کو مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے والے مبینہ حوثی ڈرون حملے کے بعد پاکستانی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی شدید مذمت کی اور حرمین شریفین کی سلامتی کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔لیکن یہاں بھی سعودی عرب کی حمایت اور یمن کے اندر براہِ راست فوجی کارروائی دو الگ معاملات ہیں۔10 ستمبر کو پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مکہ معاہدے کے حوالے سے سوالات کے جواب میں کہا تھا کہ یہ دفاعی اتحاد ہے، جبکہ 17 ستمبر کے بعد بھی سرکاری مؤقف میں اجتماعی دفاع، مشاورت اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کی بات جاری رہی۔ترکیہ کا مؤقف نسبتاً واضح کیوں نظر آتا ہے؟ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے 19 ستمبر کو کہا کہ سعودی عرب کو حوثی حملوں کے باعث بعض فوجی ضروریات، خصوصاً تکنیکی شعبے میں، درپیش ہوسکتی ہیں اور ترکیہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت ان ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔تاہم فیدان نے یہ نہیں کہا کہ ترکیہ یمن میں جنگی فوج بھیجنے کا فیصلہ کر چکا ہے، اور نہ ہی انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے کسی مخصوص فوجی درخواست کی تفصیلات بیان کیں۔ اسی لیے ان کے بیان کو ممکنہ دفاعی یا تکنیکی معاونت کی پیشکش کے طور پر سمجھنا زیادہ درست ہے، نہ کہ یمن میں براہِ راست ترک فوجی مداخلت کے اعلان کے طور پر۔ممکنہ معاونت کے بارے میں تجزیوں میں فضائی دفاع، ڈرون مخالف نظام، ریڈار، نگرانی اور الیکٹرانک وارفیئر جیسے شعبوں کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن یہ مخصوص شعبے سرکاری طور پر سعودی درخواست کے طور پر بیان نہیں کیے گئے۔محمد البخیتی کی وارننگ کی اہمیتحوثی رہنما محمد البخیتی کا پیغام بنیادی طور پر ایک deterrence warning یعنی ممکنہ بیرونی فوجی مداخلت کو روکنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔حوثیوں کا پیغام یہ ہے کہ اگر پاکستان یا ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر یمن میں براہِ راست جنگی کردار اختیار کرتے ہیں تو وہ انہیں بھی تنازعے کا فریق سمجھیں گے۔یہ بیان خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کے بعد سعودی عرب کو درپیش کسی بڑے حملے کی صورت میں پاکستان اور ترکیہ پر سیاسی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ دوسری طرف، حوثیوں کی دھمکی کا مقصد ممکنہ طور پر یہی پیغام دینا ہے کہ سعودی عرب کی مدد کا دائرہ اگر دفاعی امداد سے بڑھ کر یمن کے اندر حملوں تک جاتا ہے تو اس کے نتائج تینوں ممالک کے لیے مختلف نوعیت کے ہوسکتے ہیں۔اصل سوال: کیا مکہ معاہدہ پاکستان کو یمن بھیج سکتا ہے؟اس سوال کا جواب فی الحال خودکار ہاں یا خودکار نہیں کی صورت میں دینا مشکل ہے۔معاہدہ اجتماعی دفاع کی بنیاد فراہم کرتا ہے، لیکن عملی ردعمل کی نوعیت اس بات پر منحصر ہوگی کہ:- سعودی عرب پر حملے کی نوعیت کیا ہے؛- سعودی حکومت کس قسم کی مدد طلب کرتی ہے؛- تینوں حکومتیں اس درخواست کو کس طرح دیکھتی ہیں؛- دفاعی مدد سعودی سرزمین کے دفاع تک محدود رہتی ہے یا یمن کے اندر کارروائی تک پہنچتی ہے؛- اور سیاسی، قانونی اور سفارتی سطح پر اس اقدام کے لیے کیا فیصلے کیے جاتے ہیں۔پاکستانی وزارتِ خارجہ نے بھی واضح کیا ہے کہ مکہ معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان مشاورت جاری ہے اور اس کا مقصد علاقائی امن، استحکام اور اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔یمن کے اندر صورتحال کیوں زیادہ خطرناک ہو رہی ہے؟موجودہ بحران صرف سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان سرحدی کشیدگی تک محدود نہیں رہا۔ حالیہ حوثی کارروائیوں میں سعودی شہروں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بحیرہ احمر سے منسلک تجارتی راستوں کو خطرات کا سامنا رہا ہے۔حوثیوں کی جانب سے باب المندب اور بحیرہ احمر کے راستوں پر دباؤ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بھی اہم ہے۔ باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملانے والا انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ اس راستے میں مستقل عدم استحکام پیدا ہونے سے جہاز رانی کے اخراجات، انشورنس، توانائی کی ترسیل اور عالمی سپلائی چین متاثر ہوسکتی ہے۔پاکستان کے لیے یہ مسئلہ مزید اہم ہے کیونکہ پاکستانی شہری اور تجارتی جہاز بھی اس خطے کی بحری سرگرمیوں سے منسلک ہیں۔ اگست میں ایک تجارتی بحری جہاز پر حوثی حملے کے نتیجے میں تین پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کی بھی پاکستانی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی تھی۔سعودی عرب کو اس وقت کیا درکار ہے؟حالیہ رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کو حوثی میزائل اور ڈرون حملوں کے مقابلے میں فضائی دفاعی صلاحیتوں اور دیگر فوجی وسائل کی ضرورت کا سامنا ہے۔ بعض رپورٹس میں سعودی عرب کی جانب سے علاقائی اور مغربی ممالک سے دفاعی مدد حاصل کرنے کی کوششوں کا ذکر کیا گیا ہے۔یہاں بھی ایک اہم فرق موجود ہے:دفاعی نظام، انٹیلی جنس، ریڈار، ڈرون مخالف ٹیکنالوجی یا تکنیکی مدد فراہم کرنا اور یمن کے اندر زمینی یا فضائی جنگ میں شریک ہونا ایک ہی چیز نہیں ہے۔ترکیہ کی حالیہ پیشکش بھی بظاہر اسی فرق کو نمایاں کرتی ہے۔کیا یہ 2015 کی یمن جنگ کی واپسی ہے؟موجودہ حالات میں 2015 کے بعد کے یمنی تنازعے کی تاریخ اہم پس منظر فراہم کرتی ہے، لیکن دونوں ادوار کو مکمل طور پر ایک جیسا قرار دینا درست نہیں ہوگا۔2015 کے بعد سعودی قیادت میں عسکری اتحاد نے یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں کارروائیاں کی تھیں۔ حالیہ صورتحال میں دوبارہ سعودی-حوثی حملے اور جوابی کارروائیاں بڑھ رہی ہیں، جبکہ حوثیوں نے بعض اہم ساحلی علاقوں اور بحری راستوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔ماضی کے تجربے نے یہ بھی ظاہر کیا کہ یمن میں بیرونی فوجی طاقت کا استعمال صرف فوجی میدان تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسانی بحران، علاقائی سیاست، بحری سلامتی اور عالمی تجارت تک اس کے اثرات پھیل سکتے ہیں۔ایران کا کردارحوثی تحریک کو ایران کی حمایت حاصل ہونے کی بات متعدد بین الاقوامی رپورٹس میں سامنے آتی رہی ہے، اگرچہ ایران حوثیوں کو محض اپنا پراکسی قرار دینے کی تعبیر کو مسترد کرتا ہے۔پاکستان کے لیے ایران ایک اضافی سفارتی عنصر ہے۔ اسلام آباد ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات رکھتا ہے اور دوسری جانب ایران کے ساتھ طویل سرحد اور اہم سفارتی و تجارتی تعلقات بھی رکھتا ہے۔اسی لیے پاکستان کے لیے کسی بھی ممکنہ اقدام میں سعودی سلامتی، علاقائی استحکام، ایران کے ساتھ تعلقات، یمن کا تنازع اور بین الاقوامی بحری سلامتی سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے عوامل ہیں۔تین ممکنہ سطحیںموجودہ صورتحال کو تین وسیع سطحوں میں سمجھا جا سکتا ہے:پہلی سطح: دفاعی و تکنیکی تعاوناس میں فضائی دفاع، ریڈار، نگرانی، ڈرون مخالف نظام، انٹیلی جنس یا دیگر دفاعی وسائل شامل ہوسکتے ہیں۔ ترکیہ کے حالیہ بیان میں اسی قسم کی تکنیکی ضرورت کا ذکر ہوا ہے۔دوسری سطح: سعودی عرب کے دفاع میں عملی مدداگر سعودی عرب پر حملے مزید بڑھتے ہیں تو مکہ معاہدے کے تحت دفاعی تعاون کی عملی نوعیت پر تینوں ممالک کو مزید فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔ پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنی حمایت واضح کی ہے، لیکن یمن کے اندر پاکستانی جنگی کارروائی کا کوئی حتمی اعلان موجود نہیں۔تیسری سطح: یمن کے اندر براہِ راست عسکری مداخلتیہ سب سے زیادہ حساس مرحلہ ہوگا، کیونکہ ایسی صورت میں پاکستان یا ترکیہ خود حوثیوں کے ساتھ براہِ راست جنگی فریق بن سکتے ہیں۔ محمد البخیتی کی موجودہ وارننگ بنیادی طور پر اسی امکان کے خلاف ہے۔عالمی تجارت پر ممکنہ اثراتاگر کشیدگی بحیرہ احمر اور باب المندب تک مزید پھیلتی ہے تو اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سے کہیں آگے جا سکتے ہیں۔بحیرہ احمر عالمی تجارتی نظام میں ایک اہم راستہ ہے۔ جہازوں کو متبادل طویل راستوں پر منتقل ہونا پڑے تو:- شپنگ کا وقت بڑھ سکتا ہے؛- ایندھن اور انشورنس کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں؛- خلیجی توانائی کی عالمی منڈی تک رسائی متاثر ہوسکتی ہے؛- ایشیا، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان تجارت پر اضافی دباؤ آسکتا ہے۔اسی لیے یمن کا موجودہ بحران صرف ایک مقامی خانہ جنگی یا سعودی-حوثی تنازع نہیں رہا بلکہ اس کے ممکنہ اثرات عالمی توانائی اور سمندری تجارت تک پہنچ سکتے ہیں۔نتیجہموجودہ صورتحال میں تین حقائق الگ الگ رکھنا ضروری ہیں:اول: حوثی قیادت نے پاکستان اور ترکیہ کو یمن میں ممکنہ براہِ راست فوجی مداخلت کے خلاف سخت وارننگ دی ہے۔دوم: ترکیہ نے سعودی عرب کی ممکنہ فوجی اور بالخصوص تکنیکی ضروریات پوری کرنے کے لیے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن اس سے یمن میں ترک جنگی افواج بھیجنے کا حتمی فیصلہ ثابت نہیں ہوتا۔سوم: پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کی واضح حمایت کی ہے، جبکہ سرکاری بیانات میں سفارت کاری، کشیدگی میں کمی اور پرامن حل کی ضرورت بھی برقرار رکھی گئی ہے۔لہٰذا اس وقت اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان اور ترکیہ یمن میں جنگ شروع کر چکے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ سعودی عرب کو درپیش خطرہ بڑھنے کی صورت میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کس نوعیت کے عملی دفاعی تعاون میں تبدیل ہوتا ہے۔آنے والے فیصلوں میں سب سے اہم فرق سعودی عرب کے دفاع کے لیے دفاعی/تکنیکی مدد اور یمن کے اندر براہِ راست جنگی کارروائی کے درمیان ہوگا۔ دونوں کے سیاسی، قانونی اور علاقائی نتائج ایک جیسے نہیں ہوں گے۔فی الحال دستیاب سرکاری معلومات کی بنیاد پر پاکستان یا ترکیہ کی جانب سے یمن میں براہِ راست جنگی مداخلت کی حتمی تصدیق موجود نہیں۔ موجودہ مرحلہ زیادہ تر دفاعی تعاون، سعودی عرب کی مدد، سفارتی کوششوں اور ممکنہ علاقائی پھیلاؤ کو روکنے کے درمیان توازن کا ہے۔
وزیر مذہبی امور نے 100 افراد کو مفت حج کروایا وہ حجاج کونسے وزیر کی لسٹ سیکرٹری مذہبی امور کے ھاتھ میں حج 2027 خطرہ میں۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر نہ کھلنے کی صورت میں VPN استعمال کریں
وزیر مذہبی اور نے 100 افراد کو مفت حج کروایا وہ حجاج کونسے وزیر کی لسٹ سیکرٹری مذہبی امور کے ھاتھ میں حج 2027 خطرہ میں
وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کا شریف حکومت پر عدم اعتماد 18 ویں ترمیم کا غلط استعمال کیا گیا۔۔ممتاز صنعت کار سدا بہار ممبر قومی اسمبلی وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ۔۔علی پرویز ملک 24 کروڑ عوام کو بغاوت پر اکسا رھا ھے۔ 29 اھم شخصیات گرفتار نامعلوم مقام پر منتقل۔۔ پکڑ دھکڑ کے خلاف خیبرپختونخواہ اسمبلی کا اجلاس اج بروز پیر شام 7 بجے طلب۔۔ سعودی عرب پر حملے ایران۔۔ حالات کشیدہ صورتحال نازک۔۔ حوثیوں کے حملے سعودی عرب کا دارالحکومت زخمی۔۔ سعودی عرب کے حساس علاقوں میں حملے خوف ھراس زندگی سسکیاں لینے لگی۔۔ ایران کافی سالوں سے حملے کا پھانہ تلاش کر رہا تھا۔۔ تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اسد قیصر کو گرفتار کرلیا گیا۔۔۔کیا جمھوریت ھمیشہ کے لیے ختم 2008 سے 2026-27 تک پاکستان قوم 2 وقت کو ترس گئے.. ماں دھرتی پر قربان ھونے والوں کی تعداد میں اضافہ.. تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*راولپنڈی اور اسلام آباد میں 4 لانگ مارچز کے پیش نظر سیکیورٹی سخت، تعلیمی ادارے، مارکیٹس اور ٹرانسپورٹ بند رکھنے کا فیصلہ*راولپنڈی/اسلام آباد: آئندہ ہفتے راولپنڈی اور اسلام آباد میں 4 الگ الگ لانگ مارچز کے اعلانات کے بعد انتظامیہ اور پولیس نے سیکیورٹی انتظامات سخت کر دیئے۔ راولپنڈی میں تعلیمی ادارے، ہوٹل، مارکیٹس اور ٹرانسپورٹ ٹرمینلز بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کی بندش بھی متوقع ہے۔20 سے 27 ستمبر کے دوران متوقع لانگ مارچز کے پیش نظر جڑواں شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ راولپنڈی میں سیف سٹی منصوبے کے تحت نصب 1500 کیمروں کو مظاہرین کی نگرانی کے لیے فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ ڈرونز کے ذریعے بھی نگرانی کی جائے گی۔

پنجاب پولیس اسلام آباد روانہ آئندہ کچھ دنوں میں 4 احتجاجی لانگ مارچ اسلام آباد میں ہونے جا رہے ہیں جن میں جماعت اسلامی کا احتجاجکسانوں کا احتجاجپی ٹی آئی کا احتجاجاور بلوچستان سے بھی ایک احتجاج اسلام آباد پہنچے گااگے دس دن اسلام آباد مکمل بند ہوگا۔۔۔۔
حکومت کا بجلی کی خرید و فروخت کے عمل سے باہر ہونے کا اعلان، صارفین اب بجلی خود خرید سکیں گےپہلے مرحلے میں 1MW سے بڑے صارفین اس سے مستفید ہونگے
کفیل بیمار پڑا تو پردیسی ہسپتال پہنچ گیا، 500 ریال پیش کیے تو کفیل نے مسکرا کر واپس کر دیےسعودی عرب میں کفیل اور پردیسی کے درمیان محبت، احترام اور انسانیت کی خوبصورت مثالسعودی عرب میں ایک پردیسی کی جانب سے اپنے بیمار کفیل کی عیادت کا واقعہ سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گیا، جہاں بیماری کی حالت میں بھی کفیل اور ملازم کے درمیان احترام اور اپنائیت کا ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس نے دیکھنے والوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دی۔واقعے کے مطابق کفیل کی طبیعت خراب ہوئی اور انہیں علاج کے لیے ہسپتال داخل کیا گیا۔ اطلاع ملتے ہی ان کے ساتھ کام کرنے والا پردیسی خیریت دریافت کرنے کے لیے ہسپتال پہنچ گیا۔

پردیسی نے اپنے کفیل کی عیادت کی، طبیعت دریافت کی اور دعاؤں کے ساتھ ان کی جلد صحت یابی کی خواہش کا اظہار کیا۔ لیکن یہاں کہانی نے ایک دلچسپ موڑ لیا۔پردیسی نے اپنے خلوص اور محبت کے اظہار کے طور پر 500 سعودی ریال کفیل کو پیش کیے۔ بظاہر یہ رقم کسی مالی ضرورت کے لیے نہیں بلکہ محبت، احترام اور مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہونے کی علامت تھی۔کفیل نے رقم دیکھی، مسکرائے اور اسے لینے سے انکار کر دیا۔یوں پردیسی کے ہاتھ میں رقم واپس آگئی، مگر اس مختصر ملاقات میں محبت اور خلوص کا جو اظہار ہوا، وہ شاید 500 ریال سے کہیں زیادہ قیمتی تھا۔یہ منظر اس بات کی خوبصورت مثال بن گیا کہ پردیس میں بعض اوقات کفیل اور ملازم کا تعلق صرف ملازمت کے معاہدے تک محدود نہیں رہتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ باہمی اعتماد، احترام اور انسانی تعلق بھی پیدا ہو سکتا ہے۔خاص طور پر بیماری اور مشکل وقت میں کسی کی عیادت کے لیے پہنچنا محض رسمی ذمہ داری نہیں بلکہ انسانی ہمدردی اور اپنائیت کا اظہار سمجھا جاتا ہے۔اور اس واقعے کا سب سے خوبصورت پہلو شاید یہی تھا کہ پردیسی نے محبت سے 500 ریال پیش کیے اور کفیل نے محبت سے واپس کر دیے

۔رقم کا لین دین تو نہ ہوسکا، مگر دونوں کے درمیان احترام اور خلوص کا رشتہ ضرور نمایاں ہوگیا۔پردیس کی زندگی میں جہاں روزگار، مصروفیات اور فاصلے انسانوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیتے ہیں، وہاں ایسے واقعات یاد دلاتے ہیں کہ اچھے تعلقات صرف مالی معاملات سے نہیں بلکہ احترام، وفاداری، خیال رکھنے اور مشکل وقت میں ساتھ دینے سے بنتے ہیں۔یہ واقعہ بھی شاید اسی لیے لوگوں کو پسند آیا کہ یہاں کسی نے کچھ حاصل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ صرف اپنا پن دکھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تھا۔
وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کا شریف حکومت پر عدم اعتماد 18 ویں ترمیم کا غلط استعمال کیا گیا۔۔ممتاز صنعت کار سدا بہار ممبر قومی اسمبلی وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ۔۔علی پرویز ملک بغاوت کو ھوا دے رھا ھے۔۔ وزارت خارجہ میں اکھاڑ بچھاڑ اربوں روپے کی کرپشن کرنے والے افسران کو ایف آئی اے تحفظ فراہم کیوں کر رھی ھے تفصیلات کے لیے سھیل رانا لاءیوبادبان ٹی وی نہ کھلنے کی صورت میں VPN استعمال کریں
بچے خود کیوں نہ بھاگے تفصیل کے لیے سھیل رانا لاءیو سبسکرائب بادبان یو ٹیوب۔۔ میں کسی ولاگر یا یوٹیوبر کو جوابدہ نہیں ہوں ، عوام کو جوابدہ ہوں!مریم نواز شریف۔۔ملک بھر میں غیر یقینی صورتحال خوف کے ساے بر۔جنوبی کوریا کا ایران کے خلاف فوج بھہیجنے سے انکار۔۔۔۔ایس ایس پی سمیت۔۔کوہاٹ لھو لھان 20 شھید 70 زخمی۔۔ہم بالکل تیار ہیں! اس بار ایک بھی جان گئی تو ۔۔۔ محسن نقوی کا وزیراعلیٰ KP سہیل آفریدی۔۔ملک بھر میں دھشت گردی کا خطرہ الرٹ جاری۔۔ ۔۔بنوں، کوہاٹ، وزیرستان، ڈی آئی خان، باجوڑ اور کرم میں حکومتی رٹ ختم۔۔سعودی عرب کے مختلف شہروں پر حملے۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر ۔۔ نہ کھلنے کی صورت میں VPN استعمال کریں

جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کے خلاف جنگ میں فوجی دستے یا عسکری وسائل تعینات نہیں کرے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ جنوبی کوریا جنگ میں براہ راست شامل نہ ہونے کے اصول پر قائم ہے اور آئندہ بھی اسی پالیسی پر عمل کرے گا۔رپورٹس کے مطابق امریکا نے جنوبی کوریا پر ایران کے خلاف جنگ میں تعاون کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔ امریکی صدر نے جنوبی کوریاکے جنگ میں شامل نہ ہونے پر تنقید بھی کی ہے۔ایران بھی خبردار کرچکا ہے آبنائے ہرمز یا بحیرہ احمر میں کسی بھی ملک کی جانب سے فوجی تعینات ایران کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی اور اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

🔥 عمران خان کے حوالے سے ایک اور اہم دعویٰ سامنے آگیا۔مائیکل ایڈورڈز سے منسوب بیان سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے، جبکہ عمران خان کے بیٹوں نے بھی حالیہ انٹرویو میں ان کی سلامتی اور جیل کے حالات پر شدید خدشات کا اظہار کیا تھا۔
پی ٹی آئی احتجاج سے قبل اسلام آباد سیل، حکام کی جانب سے سخت ترین سیکیورٹی اقداماتدفاع و سیکیورٹی ڈیسک | اسلام آباداسلام آباد، پاکستان — 18 ستمبر 2026: پاکستان کا وفاقی دارالحکومت 27 ستمبر کو پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مجوزہ احتجاج اور مارچ سے قبل داخلی سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی الرٹ مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ حکام نے ریڈ زون تک رسائی محدود کرنے اور دارالحکومت کے اہم سیکیورٹی حصار کو مزید مضبوط بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ڈی چوک کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا گیا ہے، جبکہ دارالحکومت کے حساس اور انتہائی سیکیورٹی والے علاقوں کی جانب جانے والے اہم راستوں پر مزید رکاوٹیں نصب کی جا رہی ہیں۔رپورٹس کے مطابق حکام حساس سرکاری تنصیبات اور اہم داخلی راستوں کے گرد کثیر سطحی فزیکل سیکیورٹی حصار قائم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔تہہ در تہہ حفاظتی حصار اور راستوں کی بندشسیکیورٹی ذرائع سے منسوب رپورٹس کے مطابق ریڈ زون کی جانب جانے والے پانچ اہم راستوں کو بند کرنے کا منصوبہ ہے۔ ان راستوں پر کنٹینرز کی دوہری تہہ قائم کی جائے گی، جبکہ داخلی مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی جائے گی

۔وسیع ریڈ زون کو بھی بدستور سیل رکھنے کی توقع ہے، جہاں رسائی محدود ہوگی اور صرف ہنگامی صورتِ حال میں راستے کھولے جانے کی اطلاعات ہیں۔سیکیورٹی نقطۂ نظر سے یہ انتظام شہری علاقوں میں ہجوم کو کنٹرول کرنے اور حساس تنصیبات سے ایک محفوظ فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے استعمال ہونے والے کثیر سطحی کنٹینمنٹ ماڈل کی عکاسی کرتا ہے۔اس سے قبل رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ اسلام آباد پولیس نے ریڈ زون، ہائی سیکیورٹی زون اور دارالحکومت کے اہم داخلی و خارجی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے ایک ہزار سے زائد کنٹینرز طلب کیے تھے۔ان کنٹینرز کو دارالحکومت کی جانب آنے والے مظاہرین کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے اہم شاہراہوں اور مرکزی راستوں پر بھی استعمال کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔جمعہ کو سامنے آنے والی رپورٹس میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ بعض کنٹینرز کی بیرونی سطح پر باہر کی جانب نوکیلے کیل نصب کیے گئے ہیں تاکہ انہیں مظاہرین کے لیے اپنی جگہ سے ہٹانا مشکل بنایا جا سکے۔تاہم یہ تفصیل سیکیورٹی رپورٹس سے منسوب ہے اور اسے کنٹینرز کی تصدیق شدہ سرکاری ساخت یا حتمی آپریشنل خصوصیت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔پولیس کو مسلسل آپریشنل تیاری پر رکھا گیاسیکیورٹی انتظامات کے ساتھ اسلام آباد کیپیٹل پولیس کی بڑے پیمانے پر نفری کو بھی متحرک کیا گیا ہے۔18 ستمبر کو جاری کیے گئے اسلام آباد پولیس کے ایک سرکلر کے مطابق پولیس افسران اور اہلکاروں کی معمول کی چھٹیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس میں کیژول، ارنڈ اور ایکس پاکستان لیو بھی شامل ہیں، جبکہ ہنگامی چھٹی کو استثنا حاصل رہے گا۔

رپورٹس کے مطابق بعض اقسام کی چھٹی پر موجود اہلکاروں کو بھی اپنی تعیناتی کے مقامات پر واپس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔یہ پابندی 5 اکتوبر 2026 تک برقرار رہنے والی ہے۔آپریشنل نقطۂ نظر سے اس حکم کا مطلب یہ ہے کہ مجوزہ احتجاج کے دوران پولیس کے دستیاب افرادی وسائل کا ایک بڑا حصہ مسلسل ڈیوٹی پر برقرار رکھا جا سکے گا۔دوسری جانب، پڑوسی شہر راولپنڈی کی پولیس کمانڈ نے بھی آئندہ سیاسی مظاہروں کی تیاریوں کے دوران چھٹیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیکیورٹی منصوبہ بندی صرف اسلام آباد کی انتظامی حدود تک محدود نہیں بلکہ وسیع جڑواں شہروں کے سیکیورٹی ماحول کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔عدالتی فریم ورکحالیہ سیکیورٹی اقدامات اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) کے پی ٹی آئی کے مجوزہ مارچ سے متعلق جاری کردہ تفصیلی 37 صفحات پر مشتمل فیصلے کے بعد سامنے آئے ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ سیاسی جماعتوں، سیاسی رہنماؤں، صوبائی حکومتوں اور عوامی عہدہ رکھنے والے افراد کو عوامی سڑکوں، شاہراہوں، انٹرچینجز، ٹول پلازوں یا سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرنے یا انہیں بلاجواز بند کرنے کا قانونی حق حاصل نہیں۔عدالت نے اس امر پر بھی زور دیا کہ سیاسی سرگرمیوں کے باعث شہریوں کے بنیادی حقوق، بشمول سڑکوں، کام کی جگہوں، کاروباری مراکز، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں تک رسائی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔عدالت نے صوبائی حکومتوں کو یہ بھی ہدایت کی کہ مجوزہ مارچ کو سہولت فراہم کرنے کے لیے سرکاری مشینری اور عوامی وسائل کا استعمال نہ کیا جائے۔فیصلے میں مزید واضح کیا گیا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی آئینی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتی ہے اور ذمہ دار سرکاری اہلکاروں کے لیے قانونی نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔اس طرح عدالت کا فیصلہ احتجاجی سرگرمیوں اور حکومتی سیکیورٹی ردِعمل، دونوں کے لیے ایک واضح قانونی اور آئینی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔حکومت کی جانب سے سخت انتباہوفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کی کوششوں کو روکے گی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایات کی خلاف ورزی کی صورت میں توہینِ عدالت کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔نقوی کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں مظاہرین کے داخلے کو روکنے کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ رابطہ اور انتظامات مکمل کیے گئے ہیں۔انہوں نے احتجاج کے دوران کسی بھی جانی نقصان کی صورت میں منتظمین کی ذمہ داری کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ سیکیورٹی انتظامات عدالتی احکامات پر عمل درآمد، عوامی تنصیبات کے تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔دوسری جانب پی ٹی آئی مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ اس کی مجوزہ سیاسی سرگرمی اور احتجاج پُرامن ہوگا، اور 27 ستمبر کی mobilisation کو اپنی سیاسی مہم کا حصہ قرار دیتی ہے۔آپریشنل تجزیہسیکیورٹی منصوبہ بندی کے تناظر میں موجودہ انتظامات کسی ایک رکاوٹ پر انحصار کرنے کے بجائے کثیر سطحی کنٹینمنٹ ماڈل کی عکاسی کرتے ہیں۔رپورٹ کردہ اقدامات میں درج ذیل عناصر شامل ہیں:- بیرونی راستوں کی پابندی: مظاہرین کو حساس سیکیورٹی حصار تک پہنچنے سے پہلے ہی اہم راستوں پر محدود کرنا۔- فزیکل بیریئرز: کنٹینرز کے ذریعے مستقل نوعیت کی سڑک بندش اور حساس علاقوں سے اضافی فاصلہ قائم کرنا۔- افرادی قوت کا ارتکاز: معمول کی چھٹیاں معطل کر کے زیادہ تعداد میں پولیس اہلکاروں کو مسلسل ڈیوٹی پر رکھنا۔- حساس علاقوں کا تحفظ: ریڈ زون اور وسیع ریڈ زون کے گرد حفاظتی حصار مزید مضبوط کرنا۔- بین الصوبائی رابطہ: مظاہرین کے بڑے گروہوں کے اسلام آباد پہنچنے سے قبل ان کی نقل و حرکت کی نگرانی اور انتظام کرنا۔- قانونی نفاذ: غیر قانونی سڑک بندش یا محدود سرکاری علاقوں پر قبضے کی کوششوں کے خلاف عدالتی فریم ورک کے تحت کارروائی۔مجموعی طور پر رپورٹ کردہ حکمتِ عملی کے بنیادی عناصر رسائی پر کنٹرول، راستوں کی بندش، حفاظتی حصار کا تحفظ اور ہجوم سے نمٹنے کے لیے مسلسل تیاری ہیں۔شہری زندگی پر ممکنہ اثراتموجودہ سیکیورٹی پوزیشن اسلام آباد میں شہری نقل و حرکت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے

۔ریڈ زون، ہائی سیکیورٹی زون اور اہم شاہراہوں کے گرد پابندیوں کے نتیجے میں متبادل راستوں، ٹریفک کے دباؤ، تاخیر اور ممکنہ طور پر شدید ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، بالخصوص اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان سفر کرنے والے شہریوں کے لیے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں عام شہریوں کے سڑکوں، روزگار، تجارتی مراکز، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں تک رسائی کے تحفظ پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔اس کے نتیجے میں حکام کے سامنے ایک بیک وقت دوہرا تقاضا موجود ہے: حساس علاقوں کو محفوظ بنانا اور سیکیورٹی پابندیوں کے باوجود جہاں تک ممکن ہو ضروری شہری آمدورفت اور بنیادی خدمات تک رسائی برقرار رکھنا۔تزویراتی اہمیتحالیہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکام 27 ستمبر کی mobilisation کو محض ایک محدود یا ایک روزہ احتجاج کے طور پر نہیں دیکھ رہے بلکہ اس کے گرد کئی روز تک جاری رہنے والی داخلی سیکیورٹی تیاری کر رہے ہیں۔5 اکتوبر تک پولیس کی چھٹیوں کی معطلی، ایک ہزار سے زائد کنٹینرز کی مبینہ تیاری، ریڈ زون کے پانچ اہم راستوں کی ممکنہ بندش اور وسیع ہائی سیکیورٹی حصار کی مضبوطی مجموعی طور پر ایسے سیکیورٹی انتظام کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو مجوزہ سیاسی سرگرمی کے اردگرد پورے عرصے میں برقرار رکھا جا سکتا ہے۔تاہم چونکہ یہ سرگرمی بنیادی طور پر سیاسی نوعیت کی ہے، اس لیے حکومتی سیکیورٹی ردِعمل براہِ راست عدالتی احکامات، آئینی حقوق اور امن و امان سے متعلق قوانین کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔حکام کے لیے بنیادی آپریشنل چیلنج یہ ہوگا کہ محدود اور حساس علاقوں میں غیر مجاز داخلے کو روکا جائے، جبکہ قانونی شہری نقل و حرکت برقرار رہے اور غیر ضروری شہری خلل کم سے کم ہو۔مجموعی جائزہاسلام آباد 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کی مجوزہ mobilisation سے قبل انتہائی بلند سطح کی داخلی سیکیورٹی تیاری کی جانب بڑھ رہا ہے۔کنٹینرز کے ذریعے فزیکل رکاوٹیں قائم کی جا رہی ہیں، پولیس نفری کو بلند سطح کی آپریشنل تیاری پر رکھا جا رہا ہے، جبکہ ریڈ زون میں رسائی محدود کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔حکام حالیہ عدالتی فریم ورک کے تحت بھی کام کر رہے ہیں، جس میں شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور عوامی انفراسٹرکچر کی غیر قانونی بندش کی روک تھام پر واضح زور دیا گیا ہے۔موجودہ سیکیورٹی منظرنامے کے بنیادی عناصر راستوں کی بندش، حفاظتی حصار کی مضبوطی، پولیس کی وسیع پیمانے پر تعیناتی اور قانونی نفاذ ہیں۔27 ستمبر قریب آنے کے ساتھ سیکیورٹی انتظامات کی عملی کارکردگی کا انحصار صرف فزیکل بیریئرز کی مضبوطی پر نہیں ہوگا، بلکہ اس امر پر بھی ہوگا کہ حکام بڑے پیمانے پر عوامی نقل و حرکت کو کس حد تک منظم کرتے ہیں اور ساتھ ہی مقامی آبادی، ہنگامی خدمات، کاروباری سرگرمیوں اور ضروری شہری ٹریفک کے لیے رسائی کس حد تک برقرار رکھتے ہیں۔
اسلام آباد کے داخلی راستوں پر سیکیورٹی چیکنگ، ٹریفک کی روانی متاثراسلام آباد، 18 ستمبر: وفاقی دارالحکومت کے مختلف داخلی و خارجی راستوں پر سیکیورٹی چیکنگ میں اضافے کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہونے اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ممکنہ احتجاجی سرگرمیوں کے پیش نظر شہر کے اہم داخلی و خارجی مقامات پر سیکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے ہیں، جبکہ چیک پوسٹوں پر گاڑیوں اور مسافروں کی جانچ پڑتال کے باعث بعض مقامات پر ٹریفک کی رفتار معمول سے کم ہو گئی ہے۔راولپنڈی اور دیگر شہروں سے اسلام آباد آنے والے شہریوں کو بعض داخلی راستوں پر اضافی انتظار کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شہریوں کے مطابق سیکیورٹی چیکنگ کے باعث سفر کا دورانیہ بڑھ گیا ہے اور متعدد مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔اسلام آباد ایئرپورٹ جانے اور ایئرپورٹ سے وفاقی دارالحکومت کی جانب آنے والے مسافروں کے لیے بھی ٹریفک کی صورتحال مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔ مسافروں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ ایئرپورٹ روانگی کے لیے معمول سے پہلے گھر سے نکلیں تاکہ ممکنہ تاخیر سے بچا جا سکے۔دریں اثنا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے 14 ستمبر کو اپنے ریمارکس میں قرار دیا تھا کہ کسی سیاسی جماعت یا سرکاری عہدیدار کو شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت متاثر کرنے یا وفاقی دارالحکومت کی سڑکیں بند کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں۔دوسری جانب نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی 18 ستمبر کی تازہ سفری اطلاع کے مطابق ایم ون اسلام آباد روٹ کو روڈ اینڈ ویدر کلیئر قرار دیا گیا ہے۔ اس صورتحال میں موٹروے پر مجموعی ٹریفک صورتحال اور اسلام آباد کے مختلف داخلی راستوں پر مقامی ٹریفک صورتحال میں فرق ہو سکتا ہے۔اسلام آباد پولیس کی جانب سے بھی حالیہ دنوں میں شہر کے اہم داخلی و خارجی راستوں اور حساس علاقوں میں سیکیورٹی چیکنگ بڑھانے کی تصدیق کی گئی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اقدامات کے دوران ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل انتظامات اور مؤثر ٹریفک مینجمنٹ کی ضرورت ہے، تاکہ سیکیورٹی تقاضوں کے ساتھ شہریوں کی آمدورفت بھی کم سے کم متاثر ہو۔
پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو صاحب نے اپنے گزشتہ بیان کی وضاحت کردی ہے، سی ڈی ایف عاصم منیر صاحب ہمارے لیے قابلِ عزت اور قابلِ احترام ہیں،سید ناصر حسین شاہ۔۔۔وزیراعظم تین روزہ دورے پر…عوام بھوک سے خودکشیاں کرنے پر مجبور۔۔اسلام آباد میں تنائو۔۔۔!حالات سنگین تر آگے کیا ہو گا۔۔آخری 10 اوورز کا کھیل ار یا پار فیصلہ کن راونڈ۔۔ اھم ترین شخصیات ملک سے فرار اقوام متحدہ تقریر کرنے والہ کوں۔۔ ستمبر ستمگر اھم ترین شخصیات کی ملاقاتیں جاری۔۔ ۔۔سعودی عرب میں حالات کشیدہ صورتحال نازک خوف کے ساے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر۔ نہ کھلنے کی صورت میں VPN استعمال کریں

ٹیکسٹائل انڈسٹری میں نینو ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسے جدید کپڑے تیار کیے گئے ہیں جو داغ اور پانی سے مزاحمت رکھتے ہیں۔ ان کپڑوں پر مائع چیزیں گرنے کی صورت میں مائع آسانی سے جذب نہیں ہوتا، جس سے کپڑے کو داغ لگنے کا امکان کم ہوجاتا ہے۔

ان کپڑوں کے ریشوں پر سلیکا کے انتہائی باریک ذرات پر مشتمل نینو تہہ بنائی جاتی ہے، جو مائع کو ریشوں میں جذب ہونے سے روکتی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے نتیجے میں کپڑوں کی صفائی کے لیے پانی اور ڈٹرجنٹ کے استعمال میں بھی کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے

۔ماہرین کے مطابق داغ اور پانی سے مزاحمت رکھنے والے ایسے کپڑے روزمرہ استعمال سمیت مختلف شعبوں میں کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں اور ٹیکسٹائل صنعت میں پائیدار مصنوعات کی تیاری کے لیے نینو ٹیکنالوجی کے استعمال کی نئی راہیں کھول رہے ہیں۔

ترک انٹیلیجنس چیف ابراھیم قالن دورہ کابل کے بعد اسلام آباد پہنچ گئے۔ وزیراعظم پاکستان، فیلڈ مارشل اور آئی ایس آئی چیف سے اہم ملاقاتیں کیںپاک ترک سکیورٹی و انٹیلی جنس تعاون، پاک افغان کشیدگی اور مشرق وسطی سمیت مختلف اہم امور زیربحث آئے
چین نے ایران سے حوثیوں کو قابو میں رکھنے کی خفیہ درخواست کی، سعودی اپیل کے بعد تفصیلات بادبان ٹی وی پر
چین نے ایران سے حوثیوں کو قابو میں رکھنے کی خفیہ درخواست کی، سعودی اپیل کے بعد
ریاض/بیجنگ/تہران —بادبان رپورٹ
تین ایرانی ذرائع کے مطابق، جنہیں اس معاملے کی معلومات حاصل تھیں، چین نے ایران سے نجی طور پر کہا ہے کہ وہ یمن میں حوثی تحریک، جسے انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اس کی فوجی کارروائیوں اور بحیرۂ احمر میں حملوں کو محدود کرنے میں مدد دے۔یہ پیش رفت، ذرائع کے مطابق، سعودی عرب کی جانب سے بیجنگ سے مدد طلب کیے جانے کے بعد ہوئی۔ سعودی درخواست اس وقت سامنے آئی جب حوثیوں نے گزشتہ ہفتے یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب آبنائے کے اطراف تیزی سے پیش قدمی کی، جس سے سعودی تیل کی برآمدات اور سمندری جہاز رانی کو مزید خطرات لاحق ہوئے۔چین کی پردے کے پیچھے سفارتی کوششایرانی ذرائع کے مطابق چین نے اگرچہ عوامی سطح پر تحمل، مذاکرات اور محفوظ بحری آمدورفت کی بحالی پر زور دیا، لیکن نجی رابطوں میں تہران کو زیادہ واضح پیغام دیا گیا۔بیجنگ چاہتا ہے کہ ایران حوثیوں پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے میں مدد کرے، خصوصاً ان توانائی اور تجارتی راستوں تک جہاں کسی بڑی رکاوٹ سے چین کے مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ چینی پیغام ایران تک کس سفارتی ذریعے سے پہنچایا گیا۔ یہ بھی واضح نہیں کہ آیا یہ معاملہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے 16 ستمبر کو بیجنگ کے دورے کے دوران زیرِ بحث آیا یا نہیں۔چین کے لیے یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ دنیا کی بڑی تجارتی اور توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں میں شامل ہے اور مشرقِ وسطیٰ سے گزرنے والے سمندری راستوں کے استحکام میں براہِ راست اقتصادی مفاد رکھتا ہے۔سعودی عرب نے چین سے مدد کیوں مانگی؟تین ایرانی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ سعودی عرب نے حوثیوں کی تیز فوجی پیش قدمی کے بعد چین سے مدد طلب کی۔حوثیوں کی بحیرۂ احمر کے ساحل پر پیش قدمی اور باب المندب کے قریب اہم علاقوں پر کنٹرول نے سعودی تیل کی برآمدات اور تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔چین کے سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں۔ بیجنگ نے 2023 میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے معاہدے میں اہم ثالثی کردار ادا کیا تھا۔اس کے باوجود چین نے عوامی طور پر کسی ایک فریق کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور محفوظ بحری آمدورفت کی بحالی پر زور دیا ہے۔چین: کشیدگی یمن اور بحیرۂ احمر تک نہیں پھیلنی چاہیےرائٹرز کے سوال کے جواب میں چینی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ چین نہیں چاہتا کہ علاقائی کشیدگی مزید یمن اور بحیرۂ احمر تک پھیلے۔چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق علاقائی عدم استحکام میں اضافہ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے۔بیجنگ نے تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کے احترام، شہری زندگی کے لیے اہم تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے اور ایسے اقدامات روکنے پر زور دیا جو صورتحال کو مزید پیچیدہ کریں۔چین نے مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتی ذرائع استعمال کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ایران کا جوابایرانی ذرائع کے مطابق تہران کا مؤقف یہ تھا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا انحصار اس جنگ کے خاتمے پر ہے جسے ایران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع قرار دیتا ہے۔ذرائع کے مطابق چینی حکام نے ایران کو کوئی واضح دھمکی نہیں دی اور نہ ہی یہ اشارہ دیا کہ اگر تہران نے حوثیوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال نہ کیا تو چین ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ ڈالے گا۔تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ایران نے چین کو کوئی مخصوص یقین دہانی کرائی یا نہیں، اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ تہران حوثیوں کے فیصلوں پر عملی طور پر کتنا اثر ڈال سکتا ہے۔طائف میں ڈرون کے ملبے سے ایک شخص جاں بحقدوسری جانب سعودی عرب کے شہر طائف میں ایک ڈرون کو روکنے کے بعد اس کے ملبے سے ایک شخص جاں بحق اور دو افراد زخمی ہوئے۔رائٹرز کے مطابق سعودی شہری دفاع نے بتایا کہ ایک یمنی باشندہ ڈرون کے ملبے سے ہلاک ہوا۔ یہ سعودی عرب کی جانب سے گزشتہ ہفتے حوثی حملوں میں کشیدگی بڑھنے کے بعد اعلان کردہ پہلی ہلاکت تھی۔ سعودی حکام اس سے قبل 80 سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دے چکے تھے۔مکہ مکرمہ کی سمت جانے والے ڈرون کو تباہ کیا گیااس سے ایک روز قبل سعودی عرب نے بتایا کہ اس کی فضائی دفاعی فورسز نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک حوثی ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا۔سعودی حکام کے مطابق ڈرون ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کیا گیا۔سعودی وزارتِ خارجہ نے 16 ستمبر کو کہا کہ یہ 2017 کے بعد مکہ کو نشانہ بنانے کی دوسری کوشش تھی۔ تاہم حوثیوں کی جانب سے اس مخصوص دعوے کی تردید بھی سامنے آئی؛ رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ حوثی ذرائع نے کہا کہ ان کا مکہ یا دیگر مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔بحیرۂ احمر اور باب المندب کیوں اہم ہیں؟بحیرۂ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم سمندری تجارتی راستوں میں شامل ہیں۔ باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے جوڑتا ہے اور ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے درمیان تجارتی و توانائی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم ہے۔حوثیوں کے بحیرۂ احمر کے ساحل کے بڑے حصوں تک تیزی سے پہنچنے سے اس راستے کی سلامتی کے بارے میں خدشات بڑھے ہیں۔رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے حالیہ پیش قدمی کے دوران یمن کے بحیرۂ احمر کے پورے ساحلی حصے پر قبضہ حاصل کر لیا اور باب المندب کے قریب اہم مقامات تک پہنچ گئے ہیں۔چین کے لیے اصل تشویش کیا ہے؟اگر ایرانی ذرائع کی فراہم کردہ معلومات درست ہیں تو چین کا بنیادی مقصد حوثیوں کے ساتھ سیاسی محاذ آرائی کرنا نہیں بلکہ جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنا اور اپنے لیے اہم توانائی و تجارتی راستوں کو محفوظ رکھنا ہے۔چین ایران کا بڑا تجارتی شراکت دار اور ایرانی تیل کا اہم خریدار ہے۔ رائٹرز کے مطابق 2025 میں ایران کی سمندری تیل برآمدات کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ چین نے خریدا، جو اوسطاً تقریباً 14 لاکھ بیرل یومیہ بنتا ہے۔اسی لیے اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں میں طویل عرصے تک رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو چین سمیت عالمی معیشت کو توانائی اور شپنگ کے اخراجات میں اضافے کا سامنا ہو سکتا ہے۔اصل صورتحال ابھی کیا ہے؟ابھی تک دستیاب معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ چین کی درخواست کے نتیجے میں ایران نے حوثیوں کو کوئی مخصوص حکم دیا ہے یا حوثیوں نے اپنی فوجی حکمتِ عملی تبدیل کر لی ہے۔اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ ایران حوثیوں کے فیصلوں کو کس حد تک براہِ راست متاثر کر سکتا ہے۔رائٹرز کی رپورٹ کا بنیادی دعویٰ تین ایرانی ذرائع پر مبنی ہے۔ چین نے عمومی طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ اس نے ایران سے نجی طور پر حوثیوں کو محدود کرنے کی مخصوص درخواست کی۔ چینی وزارتِ خارجہ نے البتہ یمن اور بحیرۂ احمر تک علاقائی کشیدگی پھیلنے کی مخالفت اور مذاکرات و محفوظ بحری آمدورفت کی حمایت کی تصدیق کی ہے۔خلاصہسعودی عرب کی مبینہ اپیل کے بعد چین نے ایران سے حوثیوں پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرنے کی درخواست کی ہے، یہ دعویٰ تین ایرانی ذرائع کے حوالے سے رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب حوثیوں نے یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب کے قریب تیزی سے فوجی پیش قدمی کی ہے اور سعودی عرب پر ڈرون و میزائل حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔چین بظاہر دو اہم مفادات کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے: علاقائی جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنا اور عالمی توانائی و تجارتی راستوں کو محفوظ رکھنا۔لیکن ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ تہران نے بیجنگ کی درخواست پر کوئی عملی اقدام کیا ہے یا حوثیوں کے رویے میں اس کے نتیجے میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔
چین نے ایران سے حوثیوں کو قابو میں رکھنے کی خفیہ درخواست کی، سعودی اپیل کے بعد — رائٹرزریاض/بیجنگ/تہران — رپورٹتین ایرانی ذرائع کے مطابق، جنہیں اس معاملے کی معلومات حاصل تھیں، چین نے ایران سے نجی طور پر کہا ہے کہ وہ یمن میں حوثی تحریک، جسے انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اس کی فوجی کارروائیوں اور بحیرۂ احمر میں حملوں کو محدود کرنے میں مدد دے۔یہ پیش رفت، ذرائع کے مطابق، سعودی عرب کی جانب سے بیجنگ سے مدد طلب کیے جانے کے بعد ہوئی۔ سعودی درخواست اس وقت سامنے آئی جب حوثیوں نے گزشتہ ہفتے یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب آبنائے کے اطراف تیزی سے پیش قدمی کی، جس سے سعودی تیل کی برآمدات اور سمندری جہاز رانی کو مزید خطرات لاحق ہوئے۔چین کی پردے کے پیچھے سفارتی کوششایرانی ذرائع کے مطابق چین نے اگرچہ عوامی سطح پر تحمل، مذاکرات اور محفوظ بحری آمدورفت کی بحالی پر زور دیا، لیکن نجی رابطوں میں تہران کو زیادہ واضح پیغام دیا گیا۔بیجنگ چاہتا ہے کہ ایران حوثیوں پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے میں مدد کرے، خصوصاً ان توانائی اور تجارتی راستوں تک جہاں کسی بڑی رکاوٹ سے چین کے مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ چینی پیغام ایران تک کس سفارتی ذریعے سے پہنچایا گیا۔ یہ بھی واضح نہیں کہ آیا یہ معاملہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے 16 ستمبر کو بیجنگ کے دورے کے دوران زیرِ بحث آیا یا نہیں۔چین کے لیے یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ دنیا کی بڑی تجارتی اور توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں میں شامل ہے اور مشرقِ وسطیٰ سے گزرنے والے سمندری راستوں کے استحکام میں براہِ راست اقتصادی مفاد رکھتا ہے۔سعودی عرب نے چین سے مدد کیوں مانگی؟تین ایرانی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ سعودی عرب نے حوثیوں کی تیز فوجی پیش قدمی کے بعد چین سے مدد طلب کی۔حوثیوں کی بحیرۂ احمر کے ساحل پر پیش قدمی اور باب المندب کے قریب اہم علاقوں پر کنٹرول نے سعودی تیل کی برآمدات اور تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔چین کے سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں۔ بیجنگ نے 2023 میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے معاہدے میں اہم ثالثی کردار ادا کیا تھا۔اس کے باوجود چین نے عوامی طور پر کسی ایک فریق کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور محفوظ بحری آمدورفت کی بحالی پر زور دیا ہے۔چین: کشیدگی یمن اور بحیرۂ احمر تک نہیں پھیلنی چاہیےرائٹرز کے سوال کے جواب میں چینی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ چین نہیں چاہتا کہ علاقائی کشیدگی مزید یمن اور بحیرۂ احمر تک پھیلے۔چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق علاقائی عدم استحکام میں اضافہ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے۔بیجنگ نے تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کے احترام، شہری زندگی کے لیے اہم تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے اور ایسے اقدامات روکنے پر زور دیا جو صورتحال کو مزید پیچیدہ کریں۔چین نے مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتی ذرائع استعمال کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ایران کا جوابایرانی ذرائع کے مطابق تہران کا مؤقف یہ تھا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا انحصار اس جنگ کے خاتمے پر ہے جسے ایران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع قرار دیتا ہے۔ذرائع کے مطابق چینی حکام نے ایران کو کوئی واضح دھمکی نہیں دی اور نہ ہی یہ اشارہ دیا کہ اگر تہران نے حوثیوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال نہ کیا تو چین ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ ڈالے گا۔تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ایران نے چین کو کوئی مخصوص یقین دہانی کرائی یا نہیں، اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ تہران حوثیوں کے فیصلوں پر عملی طور پر کتنا اثر ڈال سکتا ہے۔طائف میں ڈرون کے ملبے سے ایک شخص جاں بحقدوسری جانب سعودی عرب کے شہر طائف میں ایک ڈرون کو روکنے کے بعد اس کے ملبے سے ایک شخص جاں بحق اور دو افراد زخمی ہوئے۔رائٹرز کے مطابق سعودی شہری دفاع نے بتایا کہ ایک یمنی باشندہ ڈرون کے ملبے سے ہلاک ہوا۔ یہ سعودی عرب کی جانب سے گزشتہ ہفتے حوثی حملوں میں کشیدگی بڑھنے کے بعد اعلان کردہ پہلی ہلاکت تھی۔ سعودی حکام اس سے قبل 80 سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دے چکے تھے۔مکہ مکرمہ کی سمت جانے والے ڈرون کو تباہ کیا گیااس سے ایک روز قبل سعودی عرب نے بتایا کہ اس کی فضائی دفاعی فورسز نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک حوثی ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا۔سعودی حکام کے مطابق ڈرون ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کیا گیا۔سعودی وزارتِ خارجہ نے 16 ستمبر کو کہا کہ یہ 2017 کے بعد مکہ کو نشانہ بنانے کی دوسری کوشش تھی۔ تاہم حوثیوں کی جانب سے اس مخصوص دعوے کی تردید بھی سامنے آئی؛ رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ حوثی ذرائع نے کہا کہ ان کا مکہ یا دیگر مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔بحیرۂ احمر اور باب المندب کیوں اہم ہیں؟بحیرۂ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم سمندری تجارتی راستوں میں شامل ہیں۔ باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے جوڑتا ہے اور ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے درمیان تجارتی و توانائی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم ہے۔حوثیوں کے بحیرۂ احمر کے ساحل کے بڑے حصوں تک تیزی سے پہنچنے سے اس راستے کی سلامتی کے بارے میں خدشات بڑھے ہیں۔رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے حالیہ پیش قدمی کے دوران یمن کے بحیرۂ احمر کے پورے ساحلی حصے پر قبضہ حاصل کر لیا اور باب المندب کے قریب اہم مقامات تک پہنچ گئے ہیں۔چین کے لیے اصل تشویش کیا ہے؟اگر ایرانی ذرائع کی فراہم کردہ معلومات درست ہیں تو چین کا بنیادی مقصد حوثیوں کے ساتھ سیاسی محاذ آرائی کرنا نہیں بلکہ جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنا اور اپنے لیے اہم توانائی و تجارتی راستوں کو محفوظ رکھنا ہے۔چین ایران کا بڑا تجارتی شراکت دار اور ایرانی تیل کا اہم خریدار ہے۔ رائٹرز کے مطابق 2025 میں ایران کی سمندری تیل برآمدات کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ چین نے خریدا، جو اوسطاً تقریباً 14 لاکھ بیرل یومیہ بنتا ہے۔اسی لیے اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں میں طویل عرصے تک رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو چین سمیت عالمی معیشت کو توانائی اور شپنگ کے اخراجات میں اضافے کا سامنا ہو سکتا ہے۔اصل صورتحال ابھی کیا ہے؟ابھی تک دستیاب معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ چین کی درخواست کے نتیجے میں ایران نے حوثیوں کو کوئی مخصوص حکم دیا ہے یا حوثیوں نے اپنی فوجی حکمتِ عملی تبدیل کر لی ہے۔اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ ایران حوثیوں کے فیصلوں کو کس حد تک براہِ راست متاثر کر سکتا ہے۔رائٹرز کی رپورٹ کا بنیادی دعویٰ تین ایرانی ذرائع پر مبنی ہے۔ چین نے عمومی طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ اس نے ایران سے نجی طور پر حوثیوں کو محدود کرنے کی مخصوص درخواست کی۔ چینی وزارتِ خارجہ نے البتہ یمن اور بحیرۂ احمر تک علاقائی کشیدگی پھیلنے کی مخالفت اور مذاکرات و محفوظ بحری آمدورفت کی حمایت کی تصدیق کی ہے۔خلاصہسعودی عرب کی مبینہ اپیل کے بعد چین نے ایران سے حوثیوں پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرنے کی درخواست کی ہے، یہ دعویٰ تین ایرانی ذرائع کے حوالے سے رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب حوثیوں نے یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب کے قریب تیزی سے فوجی پیش قدمی کی ہے اور سعودی عرب پر ڈرون و میزائل حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔چین بظاہر دو اہم مفادات کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے: علاقائی جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنا اور عالمی توانائی و تجارتی راستوں کو محفوظ رکھنا۔لیکن ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ تہران نے بیجنگ کی درخواست پر کوئی عملی اقدام کیا ہے یا حوثیوں کے رویے میں اس کے نتیجے میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔










