Monthly Archives: September 2026
بھارت اور پاکستان کا اج ٹکراو۔۔پاکستان پر حملے کا خطرہ اسرائیلی وزیر اعظم اور عرب امارات گٹھ جوڑ۔۔اسرائیلی وزیرِاعظم نجی طیارے کے ذریعے ابو ظہبی کا مختصر دورہ کیا،محمد بن زاید سے ملاقات کی اور پھر کوئی سرکاری بیان جاری کیے بغیر اسرائیل واپس روانہ ہو گئے۔۔۔محمد بن زاید سے ملاقات کی اور پھر کوئی سرکاری بیان جاری کیے بغیر اسرائیل واپس روانہ ہو گئے۔کے پی نھی ملک بھر میں ایمرجنسی کا خطرہ۔۔ اسرائیل اور عرب امارات گٹھ جوڑ پاکستان پر حملے کا خطرہ الرٹ جاری۔۔آزاد کشمیر کا ای جی یا مولا جٹ صحافیوں کے مائک توڑنے لگا۔۔سرمایہ کاری کا ماحول فراہم کیا جائے گا وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کو امریکہ میں 180 سال اور انکا خاندان ایوارڈ سے نوازا گیا تفصیلات کے لیے بادبان نیوز سھیل رانا

🚨 مالی مشکلات میں گھری پاکستان ہاکی، پھر بھی کامیابی کا سفر جاری! 🇵🇰🏑پاکستان ہاکی ٹیم نے ایشین گیمز میں عمان کو شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی، مگر اصل سوال میدان سے باہر ہے۔چار بار کی ورلڈ چیمپئن پاکستان ہاکی آج مالی مشکلات کا شکار ہے۔ کئی کھلاڑیوں کو باقاعدہ ماہانہ تنخواہ تک نہیں ملتی، لیکن وطن کی محبت انہیں پھر بھی میدان میں اپنا سب کچھ دینے پر مجبور کرتی ہے۔اگر پاکستان ہاکی کو مناسب سہولیات، مستقل مالی معاونت اور بہتر نظام مل جائے تو یہی کھلاڑی ایک بار پھر دنیا میں پاکستان کا پرچم بلند کر سکتے ہیں۔شائقین! آپ بتائیں، پاکستان ہاکی کو دوبارہ عروج پر پہنچانے کے لیے حکومت اور اداروں کو اب کیا کرنا چاہیے؟#PakistanHockey #HockeyNews #PakistanHockeyTeam #AsianGames #Hockey #PakistanSports #SportsNews #CricketPakistan #CricketNews

کشتیِ نوحؑ کی تلاش: ترکی کے دوروپینار میں نئی تحقیقات، مگر حتمی ثبوت ابھی باقیانقرہ/آغری — ستمبر 2026: ترکی کے مشرقی صوبے آغری میں واقع دوروپینار کے مقام پر حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی سے منسوب ایک غیر معمولی چٹانی ساخت کی سائنسی تحقیق 2026 میں بھی جاری رہی۔ محققین نے رواں سال مٹی کے برتنوں کے ٹکڑوں، زیرِ زمین ساختوں اور مٹی کے نمونوں سے متعلق بعض ابتدائی مشاہدات سامنے رکھے ہیں، تاہم اب تک ایسا آزادانہ اور حتمی سائنسی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہو کہ یہ ساخت واقعی حضرت نوحؑ کی کشتی ہے۔یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ بعض سوشل میڈیا پوسٹس اور میڈیا سرخیوں میں ابتدائی نتائج کو حتمی دریافت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جبکہ خود تحقیقاتی ٹیم نے ایسی قطعی تعبیر سے احتراز کیا ہے۔دوروپینار کیا ہے؟دوروپینار، ترکی کے ضلع دوغوبایزید کے قریب واقع ایک کشتی نما چٹانی ساخت ہے، جس نے پہلی مرتبہ 1959 میں ترک فضائی مشاہدات کے بعد عالمی توجہ حاصل کی۔

بعد ازاں بعض محققین نے اسے بائبل اور قرآن میں بیان کردہ حضرت نوح علیہ السلام کے واقعۂ طوفان سے جوڑنے کی کوشش کی۔تاہم اس مقام کی ایک متبادل، اور کئی دہائیوں سے زیرِ بحث، تشریح یہ ہے کہ یہ ایک قدرتی ارضیاتی تشکیل ہے۔ 1996 میں شائع ہونے والی ایک ارضیاتی تحقیق نے اس ساخت کو قدرتی تہہ دار چٹانوں اور ایک ایسے ارضیاتی فولڈ سے جوڑا تھا جسے doubly plunging syncline کہا جاتا ہے۔اس لیے موجودہ تحقیق کے سامنے بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ ساخت کشتی جیسی دکھائی دیتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس کی انسانی ساخت، عمر اور مادی ترکیب کے ایسے شواہد موجود ہیں جو قدرتی ارضیاتی تشریح کو مسترد کر سکیں؟2026 میں کیا ملا؟2026 کے تحقیقی سیزن میں ٹیم نے مقام پر مزید جیو فزیکل سروے، مٹی کے نمونوں کے حصول اور دیگر فیلڈ تحقیقات کیں۔ محققین نے مٹی کے برتنوں کے بعض ٹکڑے ملنے کی اطلاع بھی دی ہے۔تاہم ان ٹکڑوں کے بارے میں ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ وہ حضرت نوحؑ کے دور، یا کسی مخصوص ’’طوفان سے پہلے‘‘ کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی تاریخی عمر اور اصل معلوم کرنے کے لیے مزید سائنسی تجزیہ ضروری ہے۔چنانچہ ’’قدیم مٹی کے برتن ملے‘‘ کہنا ایک محتاط بیان ہے، لیکن ’’نوحؑ کے زمانے کے برتن دریافت ہوئے‘‘ کہنا موجودہ شواہد سے ثابت نہیں ہوتا۔سینکڑوں نمونے تجزیے کے لیے بھیجے گئےتحقیقی ٹیم نے زیرِ زمین ساخت اور اس کے اردگرد سے مٹی کے متعدد نمونے حاصل کیے ہیں۔ سرکاری معلومات کے مطابق 366 بنیادی نمونے (core samples) مختلف گہرائیوں سے لیے گئے، جن میں تقریباً ایک سے 15 میٹر تک کی گہرائیاں شامل تھیں۔ان نمونوں کو مزید لیبارٹری تجزیے کے لیے انقرہ بھیجا گیا۔ مقصد ان میں موجود نامیاتی مواد، کاربن سے متعلق خصوصیات اور دیگر ارضیاتی و حیاتیاتی شواہد کا جائزہ لینا ہے۔یہاں بھی ایک اہم فرق ضروری ہے: نمونہ لیبارٹری بھیجنا دریافت کا ثبوت نہیں بلکہ دریافت کی جانچ کا مرحلہ ہے۔’’40 فیصد زیادہ کاربن‘‘ کا دعویٰ کیا ظاہر کرتا ہے؟تحقیقی ٹیم سے متعلق شائع ہونے والی بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ساخت کے اندر سے حاصل کیے گئے بعض نمونوں میں سطح یا بیرونی حصے کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد زیادہ کاربن پایا گیا۔یہ مشاہدہ مزید تحقیق کے قابل ضرور ہے، لیکن اسے براہِ راست ’’لکڑی ملنے‘‘ یا ’’کشتی ثابت ہونے‘‘ کے مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا۔مٹی میں کاربن مختلف قدرتی نامیاتی ذرائع سے بھی آ سکتا ہے۔ صرف کاربن کی مقدار زیادہ ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہاں قدیم لکڑی موجود تھی۔

اسی طرح کاربن کی مقدار اور ریڈیوکاربن ڈیٹنگ دو الگ چیزیں ہیں۔ کسی نمونے کی عمر طے کرنے کے لیے مخصوص سائنسی طریقۂ کار اور قابلِ اعتماد نتائج درکار ہوتے ہیں۔لہٰذا ’’40 فیصد زیادہ کاربن = کشتی کی لکڑی‘‘ ایک ایسا نتیجہ ہے جو موجودہ معلومات سے اخذ نہیں کیا جا سکتا۔زیرِ زمین ’’کمرے‘‘ اور ’’راہداریاں‘‘؟تحقیق میں GPR اور دیگر جیو فزیکل تکنیکوں کے ذریعے زیرِ زمین کچھ ایسی ساختیں اور بے قاعدگیاں دیکھی گئی ہیں جنہیں ٹیم نے بعض مقامات پر باہم جڑی ہوئی جگہوں، لکیروں، زاویوں اور ممکنہ خالی حصوں کے طور پر بیان کیا ہے۔لیکن جیو فزیکل اسکین کسی زیرِ زمین شکل کو خود بخود ’’کمرہ‘‘ یا ’’کشتی کا حصہ‘‘ ثابت نہیں کرتا۔ ایسی علامات مختلف ارضیاتی وجوہات سے بھی پیدا ہو سکتی ہیں، مثلاً:- چٹانی تہوں میں تبدیلی؛- قدرتی دراڑیں؛- زیرِ زمین نمی؛- مختلف کثافت والی مٹی یا چٹان؛- قدرتی خلاء؛- تلچھٹ کی مختلف تہیں۔اس لیے ان تصاویر اور سگنلز کی درست تشریح کے لیے مزید کھدائی، نمونہ کاری اور آزادانہ سائنسی تجزیہ ضروری ہے۔164 میٹر یا 157 میٹر؟دوروپینار کے سائز سے متعلق مختلف اعداد مختلف ادوار کی رپورٹس میں ملتے رہے ہیں۔ حالیہ سرکاری اور تحقیقی مواد میں ساخت کی لمبائی تقریباً 157 میٹر بیان کی گئی ہے۔اسے حضرت نوحؑ کی کشتی سے منسوب کرنے والے بعض افراد بائبل میں بیان کردہ کشتی کے طول سے تقابلی مماثلت پیش کرتے ہیں۔ تاہم محض لمبائی میں مشابہت کسی ساخت کی شناخت ثابت نہیں کرتی۔اس لیے ’’164 میٹر طویل دیوہیکل جہاز دریافت ہوگیا‘‘

جیسی سرخی سائنسی نتیجے کے بجائے ایک تعبیر یا تشبیہ ہے۔ارضیاتی اعتراض اب بھی اہم ہےدوروپینار کے بارے میں سب سے اہم سائنسی سوال یہ ہے کہ آیا اس کی کشتی نما شکل کسی مصنوعی ڈھانچے کی باقیات ہے یا قدرتی ارضیاتی عمل کا نتیجہ۔1996 میں شائع ہونے والی ارضیاتی تحقیق نے اس ساخت کے لیے قدرتی ارضیاتی وضاحت پیش کی تھی۔ اس تحقیق کے مطابق وہاں موجود تہوں، چٹانی ساخت اور ارضیاتی فولڈنگ سے کشتی نما شکل پیدا ہو سکتی ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ 2026 کی نئی تحقیق بے معنی ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ نئے دعووں کو ایسے مضبوط شواہد پیش کرنا ہوں گے جو پہلے سے موجود ارضیاتی وضاحتوں کو سائنسی طور پر چیلنج یا رد کر سکیں۔خود محققین کا مؤقف کیا ہے؟یہاں 2026 کی رپورٹنگ میں سب سے اہم بات خود تحقیقاتی ٹیم کا محتاط مؤقف ہے۔پروجیکٹ سے متعلق بیانات میں واضح کیا گیا ہے کہ مقام کو ابھی ’’حضرت نوحؑ کی کشتی‘‘ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ حاصل شدہ نمونوں اور جیو فزیکل ڈیٹا کے مزید تجزیے کے بعد ہی زیادہ واضح نتیجہ اخذ کیا جا سکے گا۔یعنی تحقیق کا موجودہ مرحلہ ثبوت جمع کرنے اور مفروضے کو جانچنے کا ہے، نہ کہ حتمی دریافت کا اعلان کرنے کا۔دعووں کی حقیقت ایک نظر میںدعویٰ| موجودہ شواہد کی بنیاد پر صورتِ حالدوروپینار میں 2026 میں تحقیق جاری رہی| ✅ درستبین الاقوامی محققین اس منصوبے میں شریک ہیں| ✅ درستمٹی کے برتنوں کے ٹکڑے ملے| ✅ درستبرتن حضرت نوحؑ کے دور کے ثابت ہوئے| ❌ ثابت نہیںمٹی کے نمونے انقرہ بھیجے گئے| ✅ درستزیرِ زمین غیر معمولی جیو فزیکل سگنلز ملے| ✅ درستیہ سگنلز کشتی کے کمرے ہیں| ❌ ثابت نہیںاندرونی نمونوں میں زیادہ کاربن پایا گیا| ✅ ابتدائی رپورٹوں میں بیان ہوازیادہ کاربن کا مطلب قدیم لکڑی ہے| ❌ ثابت نہیں157/164 میٹر کی ساخت خود کشتی ثابت کرتی ہے| ❌ نہیںدوروپینار قدرتی ارضیاتی تشکیل نہیں ہو سکتی| ❌ یہ بات ثابت نہیںحضرت نوحؑ کی کشتی دریافت ہو چکی ہے| ❌ موجودہ شواہد سے ثابت نہیںحتمی نتیجہ2026 کی تحقیق نے دوروپینار کے معاملے کو دوبارہ سائنسی بحث کا موضوع ضرور بنایا ہے،

لیکن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی دریافت ثابت نہیں کی۔اس وقت دستیاب معلومات میں تین چیزیں خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں: مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے، زیرِ زمین جیو فزیکل ساختیں، اور بعض نمونوں میں کاربن سے متعلق ابتدائی فرق۔ یہ سب مزید تحقیق کے قابل مشاہدات ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی اکیلا یا مجموعی طور پر ابھی تک ایسا حتمی ثبوت نہیں بنا جس سے یہ ثابت ہو کہ دوروپینار ہی حضرت نوحؑ کی کشتی ہے۔لہٰذا ذمہ دارانہ صحافتی زبان یہی ہوگی کہ:’’ترکی میں حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی سے منسوب دوروپینار مقام پر نئی سائنسی تحقیقات میں بعض غیر معمولی جیو فزیکل اور مادی شواہد سامنے آئے ہیں، تاہم ان کی عمر، نوعیت اور ماخذ کا تعین ابھی جاری ہے؛ کشتیِ نوحؑ کی دریافت کا حتمی سائنسی ثبوت تاحال سامنے نہیں آیا۔‘‘
پاکستان پر حملے کا خطرہ۔۔۔کرپٹ نااھل وزراء میں علی پرویز ملک نے لغاری کو دوسرے نمبر پر دھکیل دیا۔۔اسرائیلی وزیرِاعظم نجی طیارے کے ذریعے ابو ظہبی کا مختصر دورہ کیا، جہاں انھوں نے میڈیا کی نظروں سے دور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید سے ملاقات کی اور پھر کوئی سرکاری بیان جاری کیے بغیر اسرائیل واپس روانہ ہو گئے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر
امریکی مذاکرات کار رواں ہفتے ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کریں گے۔۔ملک بھر میں غیر یقینی صورتحال ایمرجنسی کی گونج۔۔ ۔3 کی اھم ترین ملاقاتیں جمھوریت اخری سانسوں پر۔۔ریاست کے آئینے میں دھند اقتدار احتساب اور بدلتا ھوا پاکستان۔۔ ۔۔کے پی کے لیے ایک اور جام صادق کی تلاش۔۔بڑی سیاسی جماعتیں اپنی آخری سانسوں پر۔حکومت ای ایم ایف کو بدنام نہ کرے غریبوں پر ٹیکس لگانے کا کھبی نھی کھا۔۔ ۔حکمرانوں اور امیروں پر ٹیکس لگاو غریب کو ریلیف دو ای ایم ایف کھربوں روپے کی کرپشن ختم کرے کھبی پٹرول بجلی کی قیمتوں کو بڑھانے کا نھی کھا ای ایم ایف سربراہ۔۔ پاکستان پر حملے کا خطرہ۔۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

منظور پشتین کی لگائی ہوئی آگ کے نتایج سامنے آنے لگے ہیں ۔مالاکنڈ شاپنگ سینٹر راولپنڈی میں پنجابی پختون لڑائی کے بعد دوکانیں خالی کرنے پر غور ۔ سمجھدار پختون بزرگ معاملہ سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

اسرائیلی وزیرِاعظم نجی طیارے کے ذریعے ابو ظہبی کا مختصر دورہ کیا، جہاں انھوں نے میڈیا کی نظروں سے دور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید سے ملاقات کی اور پھر کوئی سرکاری بیان جاری کیے بغیر اسرائیل واپس روانہ ہو گئے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ پنجاب یونیورسٹی میں پڑھتے رہے یا نہیںاصل سوال یہ ہے کہ موصوف نے داخلہ لیا اسلامیہ یونیورسٹی بہالپور میں تو کس ڈگری میں داخلہ لیا ؟کیونکہ یقینی طور پر وہ داخلہ ایل ایل بی میں نہیں تھاتو پھر ایم اے والے طالبعلم کا اسلامیہ یونیورسٹی سے پنجاب یونیورسٹی میں مائگریشن کے زریعے ایل ایل بی میں داخلہ کیسے ہوا ؟اب آتے ہیں اس ویریفکیشن لیٹر کی طرفیہ ویریفکیشن لیٹر بھون صاحب کے ہمدرد شئیر کر رہے ہیں آجکل اس میں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے جو ویری فکیشن پاکستان بار کو بھیجی گئی اس کے مطابق داخلے کا سال 1985 اور امتحان 1989 میں ہوا۔مطلب بھون صاحب اتنے محنتی تھے کہ 1985 سے لیکر 1989 تک 5 سال پڑہتے ہی رہے جبکہ اس وقت LLB فقط 2 سال کا ہوتا تھا۔اور ماشاءاللہ دو سالہ ڈگری پانچ سال محنت کے بعد 45% نمبروں کے ساتھ پاس کی جناب بھون صاحب نےایسے محنتی اور قابل طالبعلم تھے ہمارے پیارے بھون صاحببھائی مجھے تو کیپٹن صفدر کی بات میں وزن لگتا ہے۔
نواز لیگ کے منیر چڑھ جیت گئے نورستان میں روزگار کی فراہمی کا مطالبہ کرنے والے افغان مہاجرین پر فائرنگ 50 ھلاک افغانستان نے اپنے افغانیوں کو ھلاک کر دیا سیالکوٹ : ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سمیت وکلاء کی گرفتاریوں کیلئے پولیس چھاپوں کے خلاف وکلاء تحریک کا اعلان..ملک میں غیر یقینی صورتحال خوف کے ساے۔۔ حالات کشیدہ صورتحال نازک بڑے حادثے کی گونج۔۔حکومت کی رخصتی سیٹی بج گئی مقتدر حلقے حکمران جماعت کی کرپشن سے تنگ۔۔90 فیصد عوام موجودہ سول حکومت سے تنگ جس کی وجہ سے اداروں پر تنقید۔۔وزیر اعطم کون شیرپاو یا ایاز صادق۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

اسلام آباد پولیس کی تلاشی کارروائی پر سنگین سوالات، ڈاکٹر کا لاکھوں روپے مالیت کا موبائل مبینہ طور پر غائب، بعد ازاں تھانے سے برآمداسلام آباد میں پولیس کی جانب سے شہریوں کی تلاشی کے دوران مبینہ طور پر قیمتی سامان غائب ہونے کا ایک معاملہ سامنے آیا ہے، جس نے پولیس کے تلاشی نظام اور اہلکاروں کی جواب دہی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ایک ڈاکٹر کے مطابق دو روز قبل رات کے وقت جی نائن کے علاقے میں پولیس اہلکاروں نے ان کی گاڑی روک کر تلاشی لی۔ ڈاکٹر کا دعویٰ ہے کہ تلاشی کے دوران ان کا S25 موبائل فون، جس کی مالیت تقریباً پانچ سے چھ لاکھ روپے بتائی گئی، غائب ہوگیا۔ڈاکٹر کے مطابق انہوں نے موقع پر ہی اہلکاروں کو موبائل فون غائب ہونے سے آگاہ کیا، تاہم اہلکاروں نے مبینہ طور پر موبائل لینے یا غائب ہونے کی تردید کردی۔ بعد ازاں ڈاکٹر نے ٹیکنالوجی کی مدد سے موبائل کی لوکیشن چیک کی تو فون تھانہ کراچی کمپنی کی حدود میں موجود دکھائی دیا۔موبائل کی لوکیشن سامنے آنے کے بعد ڈاکٹر تھانے پہنچے اور مبینہ طور پر تلاش اور احتجاج کے نتیجے میں موبائل فون تھانے کی اوپری بیرک میں ایک لفافے سے برآمد ہوگیا، جس کے بعد موبائل ڈاکٹر کے حوالے کردیا گیا۔تاہم اصل سوال موبائل فون کی واپسی نہیں بلکہ اس کے تلاشی کے دوران غائب ہونے اور پھر پولیس کے زیر استعمال مقام سے برآمد ہونے کا ہے۔ اگر موبائل واقعی تلاشی کے دوران غائب ہوا اور بعد ازاں تھانے کی بیرک سے برآمد بھی ہوگیا تو یہ معاملہ محض موبائل واپس کرنے تک محدود کیوں رہا؟ کیا اس واقعے کی باقاعدہ انکوائری کی گئی؟ کیا کوئی مقدمہ یا روزنامچہ رپورٹ درج ہوئی؟ اور اگر کسی اہلکار پر شبہ تھا تو اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟

ذرائع اور تھانے کے بعض اہلکاروں کے مطابق مبینہ طور پر تلاشی لینے والے اہلکار ATS سے وابستہ تھے۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق اور ذمہ دار اہلکاروں کا تعین متعلقہ محکمہ کی باضابطہ انکوائری ہی سے ممکن ہوگا۔یہ معاملہ اس بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر ایک شہری کی قیمتی چیز پولیس کی تلاشی کے دوران غائب ہو اور بعد میں پولیس کے ہی ایک مقام سے برآمد ہوجائے تو ذمہ داری کا تعین کون کرے گا؟ شہریوں کی تلاشی لینے والے اہلکاروں کی نگرانی، تلاشی کے طریقہ کار اور برآمد ہونے والی اشیا کا ریکارڈ رکھنے کا نظام کیا ہے؟اہم بات یہ بھی ہے کہ موبائل فون واپس ملنے کے باوجود مبینہ واقعے کی شفاف تحقیقات کیوں نہ کی جائیں تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ موبائل تلاشی کے دوران کیسے غائب ہوا اور تھانے کی بیرک تک کیسے پہنچا۔اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ حکام، بالخصوص ڈی آئی جی آپریشنز سے مطالبہ ہے کہ واقعے کا غیرجانبدارانہ انکوائری عمل شروع کیا جائے، متعلقہ اہلکاروں کی شناخت کی جائے، دستیاب CCTV فوٹیج اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جائے اور اگر کسی اہلکار کی غفلت یا بدعنوانی ثابت ہو تو قانون اور محکمانہ ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے۔کیونکہ معاملہ صرف ایک موبائل فون کا نہیں، بلکہ شہریوں کی پولیس پر اعتماد اور قانون کی یکساں عملداری کا ہے۔ ATS ہو یا اسلام آباد پولیس، قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔

*لکی مروت میں دہشت گردوں کی فائرنگ، 3 مقامی کرکٹرز شہید*لکی مروت (27 ستمبر 2026): دہشت گردوں کی رکشے پر فائرنگ کے نتیجے میں مقامی کرکٹ ٹیم کے تین کھلاڑی شہید جب کہ تین زخمی ہو گئے۔نجی ٹی وی کے مطابق دہشت گردی کا یہ واقعہ لکی مروت کے گاؤں عبدالخیل کے قریب پیش آیا، جہاں کرکٹ میچ کھیل کر رکشے میں واپس آنے والے مقامی ٹیم کے کھلاڑیوں پر دہشت گردوں نے فائرنگ کر دی۔فائرنگ کے نتیجے میں تین کھلاڑی موقع پر ہی دم توڑ گئے جب کہ تین زخمی ہوگئے جب کہ ملزمان فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
اسلام آباد بادبان ای پی ای نیوز ایجنسی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بڑے پیمانے پر تباہی کی ذمہ دار موجودہ وفاقی حکومت ھے اور چاروں صوبوں کی حکومتیں بھی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اگر حکومت تبدیل ھو جاے نئے تجربات نھی ھو نگے سب کچھ طے پا گئے
حکومت کا خاتمہ گند کی صفائیسعودی عرب کا مستقبل بھی خطرے میں۔ 36 ماہ میں 4 لاکھ ارب روپے کی کرپشن 141 افراد کونسے لیفٹیننٹ جنرل نعمان کی تعیناتی نیک شگون۔۔ افواج پاکستان کے 50 بڑے تبادلے 6 کمانڈر تبدیل۔ وزارت خارجہ کرپٹ ترین ادارہ 800 ارب روپے کی کرپشن۔ بادبان میگزین کا تازہ شمارہ 30 ستمبر کو اپنے ھاکر سے طلب کریں
نوابزادہ نصراللہ کو بچھڑے 23 سال بیت گئے کب کوی بلا دعاؤں سے ٹلی ھے کب اشک بحانے سے کٹی ھے شب بحران تفصیلات کے لیے بادبان نیوز
چند سال پہلے کی بات ہے ایک ٹی وی چینل کی خاتون پروڈیوسر کو ماڈرن حُقے ’’شیشہ‘‘ پر پیکیج بنانے کیلئے کہا گیا ۔ وہ خاصی محنت کرکے بنا کر لائیں تو اسائنمنٹ ایڈیٹر نے شاباش دی اور کہا کہ حقے کے حوالے سے نوابزادہ نصراللہ کا ذکر بھی کردیں۔ خاتون نے حیران اور پریشان ہوکر کہا’’ نوابزادہ نصر اللہ ؟ وہ کون ۔۔۔؟ ‘‘نوابزادہ نصر اللہ خان کون ۔۔۔۔طبعی عمر 87 سالسیاسی کیرئیر 70 سالمجلسِ احرار ، مسلم لیگ ، عوامی لیگ اور پھر خالص اپنی پاکستان جمہوری پارٹی ( پی ڈی پی)مجلس احرار میں ہوتے ہوئے پاکستان کی مخالفت، پاکستان بننے پر حکمران مسلم لیگ میں شمولیت، اسی کے ٹکٹ پر 1950 میں پنجاب اسمبلی کی رکنیت ،اتحاد سازی مشغلہ تھاکمبائنڈ اپوزیشن پارٹیز، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ، جمہوری مجلسِ عمل، یو ڈی ایف، پاکستان قومی اتحاد، ایم آر ڈی، این ڈی اے،اے آرڈی وغیرہ ۔۔۔۔ کئی جمہوری (اور غیر جمہوری بھی ) اتحاد بنائےپتہ نہیں جمہوری اتحادوں سے ان کی پارٹی کی فوجی ڈکٹیٹر کی حکومت میں شامل ہونے کے گناہ کا کفارہ ادا ہوا یا نہیں۔ان کی جمہوری پارٹی مختصر ہی رہی، جس پر تانگہ پارٹی کی پھبتی بھی کسی جاتی رہی۔ کئی تاجر اور امپورٹر اس کے فنانسر تھے۔ ان کے لائسنس ، پرمٹ کے کام نوابزادہ صاحب بآسانی کرادیتے تھے۔نوابزادہ صاحب رپورٹروں میں بہت مقبول تھے۔ ان کی نکلسن روڈ کی قیام گاہ پر انہیں چائے ، کھانا، سوہن حلوہ ہی نہیں مل جاتا تھا، آموں کی پیٹیاں ان کے گھر یا دفتر بھی پہنچتی تھیں۔ کشمیر کمیٹی کی سربراہی کے دوران کئی کو غیر ملکی دورے بھی کرائے۔نوابزدہ نصراللہ خان شعر کا ذوق رکھتے تھے، برمحل شعر پڑھتے تھے۔ خود بھی شعر کہتے تھے ۔ ناصر تخلص تھا۔ ایک شعر ۔۔۔کب اشک بہانے سے کٹی ہے شبِ ہجراںکب کوئی بلا صرف دعاؤں سے ٹلی ہےنوابزادہ نے ایک زمانے میں جاگیرداری کے تحفظ کیلئے ’’انجمن تحفظ حقوقِ کاشتکاراں تحتِ شریعت‘‘ بھی بنائی تھی۔ نوابزادہ صاحب اسکے صدر اور پیر نوبہار شاہ جنرل سیکریٹری تھے۔ پنجاب اسمبلی میں زرعی اصلاحات پر بحث کے دوران پیر نو بہار شاہ نے اپنی پگڑی ہاتھ میں پکڑ کر کہا تھا جس طرح میری یہ پگ کوئی نہیں لے سکتا اس طرح ہماری زمین بھی کوئی نہیں چھین سکتا ۔ نوابزادہ نصراللہ خان کی برسی ہےولادت: 13 نومبر 1916خان گڑھ وفات: 26 ستمبر 2003 اسلام آباد
وزیر اعطم کا دورہ امریکہ مکمل طور پر ناکام۔ کام کا نہ کاج کا دشمن اناج کا۔۔وزراء کی آدھی درجن فوج کی کارکردگی صفر رھی۔۔20 سے زائد پتر کار بھی کسی سے پیچھے نہیں وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں کھڑے ھو کر پاکستان پر خودکش حملہ آور۔۔ سھیل آفریدی وزیر اعلی کم کالعدم تنظیم کے کمانڈر زیادہ لگتے ہیں۔۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ مردد کم اور کھسرا زیادہ تھتی۔۔حکومت کی رخصتی سیٹی بج گئی ایکسکسو۔۔ ۔۔اھم ترین شخصیات گرفتار نامعلوم جگہ پر منتقل۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع: قیصر احمد شیخقیصر احمد شیخ نے ورلڈ اکنامک فورم میں پاکستان کی ریگولیٹری اصلاحات اور سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کر دیےتحریر: ڈاکٹر انصا ب علیلاہور، پاکستاننیویارک: وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے پاکستان میں ریگولیٹری اصلاحات، سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات اور پائیدار، ٹیکنالوجی پر مبنی اور برآمدات کے فروغ سے متعلق سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے مواقع کو اجاگر کیا ہے۔انہوں نے یہ بات نیویارک میں ورلڈ اکنامک فورم کے سَسٹین ایبل ڈویلپمنٹ امپیکٹ میٹنگز 2026 کے موقع پر منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔قیصر احمد شیخ نے گلوبل ریگولیٹری انوویشن پلیٹ فارم کے افتتاحی پینل، جس کا عنوان “غیریقینی صورتحال میں ریگولیشن: جدت کو عملی نفاذ میں تبدیل کرنا” تھا، سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایسا ریگولیٹری ماحول قائم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے جو عوامی مفاد کا تحفظ کرے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنائے اور جدت کو خیالات سے عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے قابل بنائے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت سادہ، واضح اور قابلِ پیش گوئی قوانین و ضوابط تشکیل دینے پر توجہ دے رہی ہے، جبکہ ضروری حفاظتی اقدامات بھی برقرار رکھے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق مؤثر ریگولیشن ایسا ہونا چاہیے جو سرمایہ کاروں کو اعتماد کے ساتھ منصوبہ بندی کرنے کا موقع دے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔قیصر احمد شیخ نے ریگولیٹری نظام کو جدید بنانے میں بورڈ آف انویسٹمنٹ کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً 90 وفاقی و صوبائی محکموں کے تعاون سے تقریباً 30 شعبوں میں 500 سے زائد ریگولیٹری اصلاحات نافذ کی جا چکی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان ریگولیٹری ماڈرنائزیشن انیشی ایٹو (PRMI) کاروبار سے متعلق قوانین و ضوابط کا جائزہ لینے، انہیں آسان بنانے اور ڈیجیٹل کرنے کے لیے ایک منظم فریم ورک فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آسان کاروبار ایکٹ 2025 نے پاکستان ریگولیٹری رجسٹری اور پاکستان بزنس پورٹل جیسے طریقۂ کار کے ذریعے ریگولیٹری نظام کو جدید بنانے کے عمل کو مزید ادارہ جاتی شکل دی ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق ان اقدامات کا مقصد غیر ضروری ریگولیٹری تقاضوں میں کمی، تعمیلی اخراجات کو کم کرنا، سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانا اور کاروباری افراد و سرمایہ کاروں کے لیے سرکاری خدمات کو زیادہ قابلِ رسائی اور قابلِ پیش گوئی بنانا ہے۔ریگولیٹری اصلاحات کی ایک عملی مثال پیش کرتے ہوئے قیصر احمد شیخ نے بتایا کہ اسلام آباد میں بورڈ آف انویسٹمنٹ کے بزنس فسیلیٹیشن سینٹر (BFC) نے 22 وفاقی اداروں کو ایک ہی چھت تلے جمع کیا ہے، جہاں کاروباری افراد اور سرمایہ کار رجسٹریشن، لائسنس، سرٹیفکیٹس، اجازت ناموں، منظوریوں اور دیگر ریگولیٹری خدمات ایک مربوط پلیٹ فارم کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اپنے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران اس مرکز نے 5,386 کاروباری اداروں کو خدمات فراہم کیں، 4,555 منظوریوں اور این او سیز پر کارروائی کی، 5.08 ارب روپے کی سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کی اور 15,680 ملازمتوں میں معاونت کی، جبکہ سرمایہ کاروں کی جانب سے اطمینان کی شرح 10 میں سے 9.8 ریکارڈ کی گئی۔انہوں نے کہا:”پاکستان بکھرے ہوئے طریقۂ کار سے مربوط اور سرمایہ کاروں پر مرکوز خدمات کی فراہمی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ بزنس فسیلیٹیشن سینٹر اس بات کی عملی مثال ہے کہ ریگولیٹری اصلاحات کو عملی نفاذ میں کیسے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

“مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان انسانی جواب دہی، سکیورٹی، شفافیت اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھتے ہوئے جدت کی حوصلہ افزائی کے لیے پُرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے ایک موزوں اور متناسب ریگولیٹری طریقۂ کار اختیار کر رہا ہے، جس میں محدود پیمانے پر تجربات اور ریگولیٹری سینڈ باکسز بھی شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان جیسے اداروں کو سینڈ باکس میکانزم کا تجربہ حاصل ہے، جس کے ذریعے جدید کاروباری ماڈلز کو وسیع پیمانے پر نافذ کرنے سے پہلے ایک محدود اور کنٹرول شدہ ماحول میں آزمایا جا سکتا ہے۔قیصر احمد شیخ نے کہا کہ پاکستان کی نیشنل اے آئی پالیسی اور وسیع تر ریگولیٹری اصلاحات ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت کی ترقی اور استعمال میں معاون ثابت ہوں گی، جبکہ سرمایہ کاری اور جدت کے لیے بھی مواقع پیدا کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا:”تیزی سے آگے بڑھنے کا مطلب کم ریگولیشن نہیں، بلکہ ایسی ریگولیشن تشکیل دینا ہے جو سیکھنے اور بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔”انہوں نے شواہد پر مبنی پالیسی سازی، اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت اور ریگولیٹری نظام کے وقتاً فوقتاً جائزے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔وفاقی وزیر نے پاکستان کے سرمایہ کاری فریم ورک کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ملک مختلف پیداواری شعبوں میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے نمایاں مواقع فراہم کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ انویسٹمنٹ پالیسی 2023 کے تحت زیادہ تر شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کار قابلِ اطلاق شعبہ جاتی تقاضوں کے تابع 100 فیصد تک ملکیت رکھ سکتے ہیں، جبکہ متعلقہ زرمبادلہ کے طریقۂ کار کے تحت منافع اور سرمایہ واپس منتقل کرنے کی سہولت بھی دستیاب ہے۔انہوں نے پاکستان میں موجود 44 نوٹیفائیڈ اسپیشل اکنامک زونز (SEZs) کو صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور روزگار پیدا کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا

۔قیصر احمد شیخ کے مطابق اسپیشل اکنامک زونز میں کام کرنے والے اہل کاروباری اداروں کو متعلقہ قانونی شقوں کے تحت انکم ٹیکس میں چھوٹ حاصل ہو سکتی ہے، جبکہ زونز میں تنصیب کے لیے درآمد کی جانے والی اہل مشینری اور آلات کو متعلقہ فریم ورک کے تحت کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسز میں ایک مرتبہ کی چھوٹ حاصل ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کی سہولیات اور ریگولیٹری اصلاحات کے ساتھ یہ مراعات پیداواری سرمایہ کاری، پاکستان کے صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور برآمدات پر مبنی ترقی کے فروغ کے لیے معاون ثابت ہوں گی۔انہوں نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی سرمایہ کاری سرگرمیوں، بالخصوص پاکستان-چین بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس 2025 کا بھی ذکر کیا۔ان کے مطابق اس کانفرنس میں 623 چینی کمپنیوں اور تقریباً 300 پاکستانی کمپنیوں نے شرکت کی، جبکہ 3,500 سے زائد کاروباری ملاقاتیں ہوئیں۔ اس کے نتیجے میں 25 مشترکہ منصوبے (Joint Ventures) اور 142 مفاہمتی یادداشتیں (MOUs) سامنے آئیں، جن کی اعلان کردہ کاروباری مالیت تقریباً 9.5 ارب امریکی ڈالر تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ منظم کاروباری روابط اور بی ٹو بی سرگرمیوں کے ذریعے سرمایہ کاری میں دلچسپی کو ٹھوس شراکت داریوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔پاکستان-چین تجربے کو بنیاد بناتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اب دیگر ممالک اور بین الاقوامی مارکیٹوں کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے سرمایہ کاری اور بی ٹو بی روابط فروغ دینے کا خواہاں ہے، تاکہ مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی شراکت داری، برآمدات اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان بالخصوص درج ذیل شعبوں میں سرمایہ کاری کے خواہاں ہے:پائیدار اور برآمدات پر مبنی مینوفیکچرنگٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل سروسزقابلِ تجدید توانائی اور توانائی کی بچتزرعی کاروبار اور فوڈ پروسیسنگمعدنیاتانفراسٹرکچر اور لاجسٹکسصنعتی کلسٹرز اور اسپیشل اکنامک زونزجدت اور وینچر کیپیٹلپبلک پرائیویٹ پارٹنرشپسوفاقی وزیر نے پائیداری اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کی صلاحیت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی، موسمیاتی اثرات سے محفوظ انفراسٹرکچر، موسمیاتی حالات سے ہم آہنگ زراعت، پانی کے مؤثر نظام اور پائیدار مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری معاشی استحکام، روزگار کے مواقع اور طویل مدتی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

قیصر احمد شیخ نے عالمی کمپنیوں، ادارہ جاتی سرمایہ کاروں، خودمختار سرمایہ کاری فنڈز اور ترقیاتی شراکت داروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی شراکت داری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔انہوں نے کہا کہ ورلڈ اکنامک فورم کے اس اجلاس میں پاکستان کی شرکت اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان بین الاقوامی ریگولیٹری تجربات سے سیکھنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر مؤثر طریقوں کو ملک کے معاشی، ادارہ جاتی اور ترقیاتی حالات کے مطابق اپنانے کے لیے بھی پُرعزم ہے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے، ریگولیٹری اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو مضبوط بنانے، غیر ضروری ریگولیٹری تقاضوں میں کمی لانے اور پاکستان کو پائیدار، برآمدات پر مبنی اور ٹیکنالوجی سے چلنے والی سرمایہ کاری کے لیے ایک مسابقتی مقام بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
نامور بزنس ٹائیکون سیاست دان سدا بہار ممبر قومی اسمبلی وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کو امریکہ میں دنیا کے ایمان دار ترین کاروباری شخصیت قرار دے دیا گیا تفصیلات کے لیے بادبان نیوز
بادبان ٹی وی حکومتِ پاکستانبورڈ آف انویسٹمنٹقیصر احمد شیخ کا ورلڈ اکنامک فورم میں پاکستان کی ریگولیٹری اصلاحات، سرمایہ کاری سہولت کاری اور نئے سرمایہ کاری مواقع پر اظہارِ خیالنیویارک، 24 ستمبر 2026ءوفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے نیویارک میں ورلڈ اکنامک فورم کے سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ امپیکٹ میٹنگز 2026 کے اعلیٰ سطحی مکالمے میں شرکت کی، جہاں انہوں نے پاکستان میں جاری جامع ریگولیٹری اصلاحات، سرمایہ کاروں کے لیے سہولت کاری کے اقدامات اور پائیدار، ٹیکنالوجی پر مبنی اور برآمدی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے مواقع کو اجاگر کیا۔وفاقی وزیر نے گلوبل ریگولیٹری انوویشن پلیٹ فارم کے افتتاحی پینل ’’ریگولیٹنگ تھرو اَن سرٹنٹی: ٹرننگ انوویشن اِنٹو امپلیمنٹیشن‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایسا ریگولیٹری ماحول تشکیل دے رہا ہے جو عوامی مفاد کا تحفظ، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال اور مستحکم رکھے اور جدت کو تصورات سے عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے۔قیصر احمد شیخ نے کہا کہ حکومت کا مقصد کم سے کم، سادہ، واضح اور قابلِ پیش گوئی ریگولیشنز متعارف کرانا ہے، جبکہ ضروری حفاظتی تقاضوں کو برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی مقصد بہتر ریگولیشن ہے، جو سرمایہ کاروں کے لیے منصوبہ بندی کو آسان بنائے، بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھال سکے اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھے۔وفاقی وزیر نے ریگولیٹری جدیدکاری میں بورڈ آف انویسٹمنٹ کے مرکزی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً 30 شعبوں میں 90 کے قریب وفاقی و صوبائی محکموں کے تعاون سے 500 سے زائد ریگولیٹری اصلاحات نافذ کی جا چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ریگولیٹری ماڈرنائزیشن انیشی ایٹو (PRMI) کاروباری معاملات سے متعلق قوانین و ضوابط کا جائزہ لینے، انہیں آسان بنانے اور ڈیجیٹلائز کرنے کے لیے ایک منظم فریم ورک فراہم کر رہا ہے۔ آسان کاروبار ایکٹ 2025 نے بھی ریگولیٹری جدیدکاری کے عمل کو مزید ادارہ جاتی بنیاد فراہم کی ہے، جس میں پاکستان ریگولیٹری رجسٹری اور پاکستان بزنس پورٹل جیسے اقدامات شامل ہیں۔قیصر احمد شیخ نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد غیر ضروری ریگولیٹری تقاضوں میں کمی، کاروباری تعمیل کے بوجھ کو کم کرنا، سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانا اور کاروباری اداروں و سرمایہ کاروں کے لیے حکومتی خدمات کو مزید آسان، شفاف اور قابلِ پیش گوئی بنانا ہے۔سرمایہ کاروں کو عملی سہولت فراہم کرنے کی ایک اہم مثال پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بورڈ آف انویسٹمنٹ کے بزنس فسیلیٹیشن سینٹر (BFC) اسلام آباد کا ذکر کیا، جہاں 22 وفاقی اداروں کو ایک ہی چھت تلے جمع کیا گیا ہے تاکہ کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کو رجسٹریشن، لائسنسز، سرٹیفکیٹس، پرمٹس، منظوریوں اور دیگر ریگولیٹری خدمات تک مربوط رسائی فراہم کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ بزنس فسیلیٹیشن سینٹر ریگولیٹری اصلاحات کو عملی سرمایہ کاری سہولت کاری میں تبدیل کرنے کی ایک مؤثر مثال ہے۔ پہلے آٹھ ماہ کے دوران مرکز نے 5,386 کاروباری اداروں کو خدمات فراہم کیں، 4,555 منظوریوں اور این او سیز پر کارروائی کی، 5.08 ارب روپے کی سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کی اور 15,680 روزگار کے مواقع کی معاونت کی جبکہ سرمایہ کاروں کی اطمینان کی شرح 9.8 از 10 رہی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان منتشر اور پیچیدہ طریقہ کار سے مربوط اور سرمایہ کار دوست خدمات کی جانب بڑھ رہا ہے، اور بزنس فسیلیٹیشن سینٹر اس بات کی عملی مثال ہے کہ ریگولیٹری اصلاحات کو مؤثر عملدرآمد میں کیسے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے تیزی سے بدلتے ہوئے منظرنامے پر بات کرتے ہوئے قیصر احمد شیخ نے کہا کہ پاکستان جدت اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ انسانی ذمہ داری، سکیورٹی، شفافیت اور عوامی اعتماد کو بھی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے حوالے سے ایک متوازن اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے والا طریقہ اختیار کر رہا ہے، جس میں کنٹرولڈ تجربات اور ریگولیٹری سینڈ باکسز بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سمیت مختلف اداروں کو ریگولیٹری سینڈ باکسز کے ذریعے جدید کاروباری ماڈلز کو محدود اور محفوظ ماحول میں جانچنے کا تجربہ حاصل ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ نیشنل اے آئی پالیسی اور وسیع تر ریگولیٹری جدیدکاری کے اقدامات ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت کی ترقی اور استعمال کے لیے سازگار ماحول فراہم کریں گے اور ساتھ ہی سرمایہ کاری اور جدت کے لیے نئی راہیں کھولیں گے۔انہوں نے کہا، ’’تیزی سے آگے بڑھنے کا مطلب کم ریگولیشن نہیں بلکہ ایسا ریگولیشن تشکیل دینا ہے جو سیکھنے اور بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔‘‘ انہوں نے شواہد کی بنیاد پر پالیسی سازی، اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت اور ٹیکنالوجی کے ارتقا کے ساتھ باقاعدہ جائزے کی اہمیت پر زور دیا۔قیصر احمد شیخ نے پاکستان کے سرمایہ کاری فریم ورک کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ملک مختلف پیداواری شعبوں میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے وسیع مواقع فراہم کر رہا ہے۔ انویسٹمنٹ پالیسی 2023 کے تحت زیادہ تر شعبوں میں، متعلقہ شعبہ جاتی تقاضوں کے مطابق، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو 100 فیصد تک ملکیت کی اجازت ہے جبکہ قابلِ اطلاق زرمبادلہ کے طریقہ کار کے تحت منافع اور سرمایہ واپس لے جانے کی سہولت بھی موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 44 نوٹیفائیڈ اسپیشل اکنامک زونز (SEZs) صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اہم پلیٹ فارم ہیں۔وفاقی وزیر نے اسپیشل اکنامک زونز میں دستیاب مراعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اہل زون انٹرپرائزز کو سال 2035ء تک انکم ٹیکس سے استثنیٰ، قابلِ اطلاق استثنائی مدت اور قانونی شرائط کے مطابق حاصل ہے، جبکہ اسپیشل اکنامک زونز میں تنصیب کے لیے درآمد کی جانے والی اہل پلانٹ اور مشینری پر ایک مرتبہ کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسز سے استثنیٰ بھی قابلِ اطلاق شرائط کے تحت دستیاب ہے۔انہوں نے کہا کہ ریگولیٹری اصلاحات اور سرمایہ کاروں کے لیے بہتر سہولت کاری کے ساتھ یہ مراعات پاکستان میں پیداواری سرمایہ کاری، صنعتی بنیاد کو مضبوط بنانے اور برآمدی صلاحیت میں اضافے کے لیے معاون ثابت ہو رہی ہیں۔قیصر احمد شیخ نے پاکستان کی بین الاقوامی سرمایہ کاری روابط میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان چین بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس 2025 کو نمایاں مثال قرار دیا، جس میں 623 چینی کمپنیوں اور تقریباً 300 پاکستانی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران 3,500 سے زائد بی ٹو بی میچ میکنگ اجلاس، 25 جوائنٹ وینچرز اور 142 مفاہمتی یادداشتیں ہوئیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 9.5 ارب امریکی ڈالر تھی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان چین بی ٹو بی رابطوں کا تجربہ اس امر کا ثبوت ہے کہ منظم کاروباری روابط سرمایہ کاری کے مواقع کو عملی شراکت داری میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اب پاکستان چین بی ٹو بی روابط کے تجربے کو دیگر ممالک اور عالمی منڈیوں تک وسعت دینے اور اسی نوعیت کی سرمایہ کاری و کاروباری روابط پر مبنی سرگرمیوں کے انعقاد کا خواہاں ہے تاکہ جوائنٹ وینچرز، ٹیکنالوجی شراکت داری، برآمدات اور طویل المدتی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔قیصر احمد شیخ نے کہا کہ پاکستان بالخصوص پائیدار اور برآمدی صنعت، ٹیکنالوجی و ڈیجیٹل سروسز، قابلِ تجدید توانائی و توانائی کی استعداد، زرعی کاروبار و فوڈ پروسیسنگ، معدنیات، انفراسٹرکچر و لاجسٹکس، صنعتی کلسٹرز و اسپیشل اکنامک زونز، انوویشن و وینچر کیپیٹل اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔انہوں نے پاکستان کے سرمایہ کاری ایجنڈے میں پائیداری اور موسمیاتی لچک کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ قابلِ تجدید توانائی، مضبوط انفراسٹرکچر، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت، پانی کے مؤثر استعمال اور پائیدار صنعتوں میں سرمایہ کاری معاشی لچک، روزگار اور طویل المدتی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔وفاقی وزیر نے عالمی کمپنیوں، ادارہ جاتی سرمایہ کاروں، خودمختار سرمایہ کاری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی شراکت داری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیداواری صلاحیت، برآمدات، جدت اور پائیدار معاشی ترقی کے فروغ کے لیے بین الاقوامی شراکت داری کا خیرمقدم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ورلڈ اکنامک فورم کے مکالمے میں پاکستان کی شرکت عالمی ریگولیٹری تجربات سے استفادہ کرنے اور انہیں پاکستان کے اپنے معاشی، ادارہ جاتی اور ترقیاتی حالات کے مطابق ڈھالنے کے عزم کی عکاس ہے۔بورڈ آف انویسٹمنٹ سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے، ریگولیٹری رابطہ کاری کو مضبوط بنانے، غیر ضروری ریگولیٹری تقاضوں میں کمی، کاروبار کرنے میں آسانی کو مزید بہتر بنانے اور پاکستان کو پائیدار، برآمدی اور ٹیکنالوجی پر مبنی سرمایہ کاری کے لیے ایک مسابقتی مقام بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
وفاقی حکومت نے توشہ خانہ رولز 2026 جاری کر دیے، فوری نافذ العمل ہوں گے۔۔ھاکی اور پاکستان ایک ساتھ۔جارحیت کے خلاف دفاع کر رہے ہیں۔وزیر اعطم پاکستان کی امریکہ میں راہ چلتے عالمی لیڈروں سے ملاقوتوں کا عالمی ریکارڈ۔۔وفاقی حکومت اور کے پی حکومت امنے سامنے۔۔حالات کشیدہ صورتحال نازک۔۔کے پی حکومت نے انسپکٹر جنرل پولیس سے انتظامی اختیارات واپس لے لئے۔۔صوبائی اسمبلی کے اسپیکر سواتی نے بڑا فیصلہ کر لیا ۔حالات کشیدہ صورتحال نازک بڑے پیمانے پر تبدیلیاں اسلام آباد اور کے پی کیا ھونے والہ۔۔افغانستان سے 8 ڈراون ھوا میں اڑا دئے گئے۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

*وفاقی حکومت نے توشہ خانہ رولز 2026 جاری کر دیے، فوری نافذ العمل ہوں گے*“`صدر اور وزیراعظم کے سوا سرکاری عہدیداران کو تحائف قبول کرنے سے گریز کی ہدایت کر دی گئی“`
سیکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان کے علاقے رگزئی میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا، جس میں فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) سے وابستہ دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا جو مبینہ طور پر گھات لگا کر حملہ کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ آپریشن کے دوران 4 دہشت گرد ہلاک، جب کہ 2 زخمی ہو

سعودی عرب کا 96واں قومی دن: ریاستی تشکیل، ترقی اور پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کا سفربادبان نیوزاسلام آباد، 23 ستمبر 2026ء — مملکتِ سعودی عرب آج اپنا 96واں قومی دن ’’عزنا بطبعنا‘‘ کے قومی شعار کے تحت منا رہی ہے۔ یہ دن سعودی ریاست کے تاریخی اتحاد و استحکام کی یاد تازہ کرنے کے ساتھ ساتھ نو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ریاستی تشکیل، ادارہ جاتی استحکام، قومی ترقی اور اقتصادی و سماجی تبدیلی کے سفر کو اجاگر کرتا ہے۔سعودی عرب کا قومی دن پاکستان میں بھی خصوصی سفارتی اہمیت رکھتا ہے، جہاں یہ موقع اسلام آباد اور ریاض کے درمیان دیرینہ اور کثیرالجہتی تعلقات کے پس منظر میں منایا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، سفارتی، دفاعی، اقتصادی، ثقافتی اور عوامی سطح پر تعلقات کئی نسلوں پر محیط ہیں، جبکہ بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات کے تناظر میں دوطرفہ تعاون کے نئے پہلو بھی سامنے آ رہے ہیں

۔اس موقع پر اسلام آباد میں مملکتِ سعودی عرب کے سفارت خانے کے ناظم الامور عزت مآب جناب نائف بن ملافخ کی جانب سے 23 ستمبر 2026ء کو قومی دن کی استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جس میں سفارتی برادری، پاکستانی حکام، ممتاز شخصیات، مختلف اداروں کے نمائندگان اور دیگر معزز مہمان شریک ہوں گے۔اسلام آباد میں قومی دن کی استقبالیہ تقریباسلام آباد میں منعقد ہونے والی استقبالیہ تقریب سعودی عرب کے قومی دن کی تقریبات کا حصہ ہے اور اس کے ذریعے مملکت کے تاریخی ورثے، قومی شناخت، عصری کامیابیوں اور عالمی شراکت داریوں کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم ہوتا ہے۔پاکستان کے دارالحکومت میں یہ تقریب سعودی عرب اور پاکستان کے دیرینہ تعلقات کے حوالے سے بھی خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ دونوں ممالک کے روابط سفارت کاری تک محدود نہیں بلکہ دفاع و سلامتی، تجارت و سرمایہ کاری، توانائی، تعلیم، روزگار، مذہبی و ثقافتی روابط اور عوامی سطح کے مضبوط تعلقات تک پھیلے ہوئے ہیں۔اس تناظر میں قومی دن کی یہ تقریب محض ایک قومی تہوار کی مناسبت سے اجتماع نہیں بلکہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تاریخی قربت، باہمی احترام اور مسلسل سفارتی روابط کی عکاسی بھی کرتی ہے۔قومی دن: ریاستی تشکیل اور اتحاد کی تاریخی بنیادسعودی عرب کا قومی دن مملکت کے اتحاد اور جدید سعودی ریاست کی تشکیل کی یادگار ہے، جس کی قیادت بانیِ مملکت شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود نے کی۔اس تاریخی عمل میں 15 جنوری 1902ء کو ریاض کی بازیابی ایک فیصلہ کن سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ریاض کی بازیابی نے اس وسیع تر تاریخی عمل کی بنیاد فراہم کی جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں کو بتدریج ایک متحد سیاسی و انتظامی ڈھانچے میں شامل کیا گیا اور بالآخر جدید مملکتِ سعودی عرب وجود میں آئی۔ریاستی اتحاد کے بعد ایک نئے اور اہم مرحلے کا آغاز ہوا، جس میں حکومتی اداروں، انتظامی ڈھانچوں، عدالتی و سکیورٹی نظام، تعلیمی اداروں اور عوامی خدمات کی تنظیم و توسیع شامل تھی۔دارة الملک عبدالعزیز، یعنی King Abdulaziz Foundation for Research and Archives (Darah)، سعودی ریاست کے قیام، اتحاد اور ادارہ جاتی ارتقا کے مختلف مراحل کو تاریخی دستاویزات کے ذریعے محفوظ رکھتی ہے۔

ریاستی اداروں کی تشکیل کے اس عمل میں 1926ء میں جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کا قیام بھی ایک اہم سنگِ میل تھا، جس نے منظم قومی تعلیمی نظام اور ریاستی اداروں کے بڑھتے ہوئے کردار کی بنیاد مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔اتحاد سے ادارہ جاتی استحکام تکجدید سعودی عرب کی تاریخ کو صرف علاقائی اتحاد کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں۔ ریاست کے استحکام کے لیے ایسے اداروں کی تشکیل بھی ضروری تھی جو نظم و نسق، سلامتی، تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور اقتصادی انتظام کو مؤثر انداز میں آگے بڑھا سکیں۔گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران سعودی عرب نے بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت، شہری ترقی، سرکاری انتظامیہ، توانائی اور دیگر شعبوں میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کی۔خصوصاً پٹرولیم کے شعبے کی ترقی نے سعودی معیشت کو تبدیل کیا اور ریاست کو بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات میں سرمایہ کاری کے قابل بنایا۔ اس عمل کے نتیجے میں شہری آبادی میں اضافہ، تعلیمی و طبی سہولیات کی توسیع اور سرکاری اداروں کی استعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔یوں سعودی عرب نے ریاستی تشکیل کے ابتدائی مرحلے سے آگے بڑھتے ہوئے اقتصادی اور ادارہ جاتی ترقی کے مختلف مراحل طے کیے، جبکہ وقت کے ساتھ ساتھ قومی ترجیحات بھی بدلتی رہیں۔یہ تاریخی پس منظر آج سعودی عرب میں جاری وسیع تر تبدیلی کو سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔وژن 2030 اور سعودی عرب کی عصری تبدیلیموجودہ دور میں سعودی وژن 2030 مملکت کے وسیع اقتصادی، ادارہ جاتی اور سماجی تبدیلی کے پروگرام کا مرکزی فریم ورک ہے۔اس وژن کا مقصد سعودی معیشت کو مزید متنوع بنانا، غیر تیل شعبوں کو مستحکم کرنا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا، انسانی وسائل کی ترقی، کاروباری سرگرمیوں اور جدت طرازی کی حوصلہ افزائی، سیاحت اور ثقافتی سرگرمیوں کو وسعت دینا، ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا اور نئی نسل کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔اس تبدیلی کے دائرے میں سیاحت، لاجسٹکس، ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، ثقافت، تفریح، انفراسٹرکچر، مالیاتی خدمات اور سرمایہ کاری سمیت متعدد شعبے شامل ہیں۔یہ عمل سعودی عرب کو عالمی معیشت میں اپنی مسابقتی حیثیت مضبوط بنانے اور بین الاقوامی اقتصادی نظام میں اپنے کردار کو مزید وسعت دینے کی کوشش سے بھی مربوط ہے۔قومی دن کے تناظر میں وژن 2030 کی اہمیت اس امر میں ہے کہ یہ سعودی عرب کے تاریخی تسلسل کو مستقبل پر مرکوز ترقیاتی ترجیحات کے ساتھ جوڑتا ہے۔وزیراعظم پاکستان کی سعودی قیادت اور عوام کو مبارکبادپاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور سعودی عوام کو مبارکباد پیش کی ہے۔اپنے پیغام میں وزیراعظم نے سعودی عرب کی ترقی اور تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے مملکت کی پیش رفت کو سعودی عوام کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے بھی باعثِ فخر اور تحسین قرار دیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت اور وژن کے تحت سعودی عرب میں ترقی، جدیدیت اور جدت طرازی کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کو بھی سراہا۔انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ تعلقات کے لیے پاکستان کی قدر و احترام کا اعادہ کرتے ہوئے دوطرفہ روابط کو باہمی اعتماد، مشترکہ اقدار اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان مضبوط رشتوں پر مبنی قرار دیا۔وزیراعظم کے مطابق تاریخی تعلقات اب ایک زیادہ جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی جانب بڑھ رہے ہیں،

جس میں امن، سلامتی اور وسیع تر علاقائی و عالمی امور میں تعاون شامل ہے۔انہوں نے دونوں ممالک کے دفاعی تعاون کا بھی حوالہ دیا، جس میں اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ اور مکہ معاہدہ برائے باہمی دفاع شامل ہیں، اور انہیں وسیع تر اسٹریٹجک تعلقات کا حصہ قرار دیا۔سعودی پاکستان تعلقات: تاریخی قربت سے وسیع تر اسٹریٹجک شراکت داری تکسعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات روایتی سفارتی روابط سے کہیں زیادہ وسیع اور گہرے ہیں۔دونوں ممالک کئی دہائیوں سے دفاع و سلامتی، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، روزگار، تعلیم، مذہبی امور، ثقافت اور عوامی روابط سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کرتے چلے آ رہے ہیں۔سعودی عرب میں پاکستانی کمیونٹی بھی دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم انسانی اور اقتصادی پل کی حیثیت رکھتی ہے۔ خاندانوں، اداروں، کاروباری حلقوں اور معاشروں کے درمیان یہ روابط دوطرفہ تعلقات کو ایک مضبوط سماجی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔سعودی عرب پاکستان کی سفارتی اور اقتصادی ترجیحات میں اہم مقام رکھتا ہے، جبکہ پاکستان بھی سعودی عرب کے لیے ایک ایسا شراکت دار ہے جس کے ساتھ تاریخی، دفاعی، ادارہ جاتی اور عوامی سطح کے مضبوط تعلقات موجود ہیں۔موجودہ دور میں اس شراکت داری کا اقتصادی پہلو بھی زیادہ نمایاں ہو رہا ہے۔سعودی وژن 2030 کے تحت سرمایہ کاری، اقتصادی تنوع اور بین الاقوامی اقتصادی شراکت داری پر بڑھتی ہوئی توجہ نے نئے تعاون کے امکانات پیدا کیے ہیں، جبکہ پاکستان بھی غیر ملکی سرمایہ کاری، تجارت اور اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کر رہا ہے۔تجزیہ: قومی شناخت، اقتصادی تبدیلی اور عالمی شراکت داریسعودی عرب کے 96ویں قومی دن کی اہمیت کو تین باہم مربوط پہلوؤں میں دیکھا جا سکتا ہے: ریاستی تشکیل، عصری تبدیلی اور بین الاقوامی شراکت داری۔پہلا پہلو سعودی ریاست کے تاریخی قیام سے متعلق ہے۔ 1902ء میں ریاض کی بازیابی اور اس کے بعد اتحاد کے عمل نے جدید سعودی عرب کی سیاسی اور علاقائی بنیادیں فراہم کیں۔دوسرا پہلو سعودی عرب کی اقتصادی اور سماجی تبدیلی ہے۔

جدید دور کے بیشتر حصے میں پٹرولیم سعودی معیشت کا بنیادی ستون رہا ہے۔ وژن 2030 اسی اقتصادی ڈھانچے کو وسیع کرنے کی کوشش ہے، جس کے تحت ایسے شعبوں کی ترقی پر توجہ دی جا رہی ہے جو سرمایہ کاری، روزگار اور اقتصادی سرگرمی کے نئے مواقع پیدا کر سکیں۔سیاحت، لاجسٹکس، ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، ثقافت، تفریح اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبے اسی وسیع تر اقتصادی تبدیلی کا حصہ ہیں۔تیسرا پہلو سعودی عرب کی عالمی شراکت داری ہے۔جیسے جیسے مملکت عالمی معیشت میں اپنے کردار کو وسعت دے رہی ہے، روایتی سفارتی تعلقات بھی تجارتی، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک تعاون کے نئے پہلوؤں سے منسلک ہو رہے ہیں۔یہ صورتحال سعودی پاکستان تعلقات کے لیے بھی اہم ہے۔دونوں ممالک کے تاریخی اور سفارتی تعلقات ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں، جبکہ بدلتی ہوئی اقتصادی ترجیحات باہمی تعاون کے نئے امکانات پیدا کر رہی ہیں۔سعودی پاکستان تعلقات کا اسٹریٹجک پہلوپاکستانی قیادت کی جانب سے دفاعی تعاون پر زور اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں سلامتی اور دفاع کا شعبہ بدستور اہم ہے۔اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری، تجارت، توانائی اور اقتصادی تنوع کی بڑھتی ہوئی اہمیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دوطرفہ تعلقات اب روایتی سیاسی اور دفاعی تعاون سے آگے بڑھ کر اقتصادی اور ترقیاتی شعبوں تک بھی پھیل رہے ہیں۔سعودی پاکستان شراکت داری کے نمایاں شعبوں میں:- سیاسی اور سفارتی روابط؛- دفاع اور سلامتی؛- تجارت اور سرمایہ کاری؛- توانائی اور اقتصادی ترقی؛- روزگار اور افرادی قوت؛- تعلیم اور انسانی وسائل کی ترقی؛- مذہبی و ثقافتی روابط؛ اور- عوامی سطح کے دیرینہ تعلقاتشامل ہیں۔ان شعبوں میں آئندہ پیش رفت کا انحصار دونوں ممالک کی بدلتی ہوئی قومی ترجیحات، پالیسیوں، ادارہ جاتی تعاون اور وسیع تر علاقائی و عالمی حالات پر ہوگا۔96ویں قومی دن کی وسیع تر معنویتسعودی عرب کا 96واں قومی دن محض ایک تاریخی واقعے کی یاد منانے تک محدود نہیں۔یہ موقع سعودی عرب کے سیاسی اتحاد اور ادارہ سازی کے ابتدائی مراحل سے لے کر موجودہ دور کی اقتصادی و سماجی تبدیلی تک کے طویل سفر پر غور کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔’’عزنا بطبعنا‘‘ کا شعار قومی شناخت، ورثے اور معاشرتی اقدار کو تقریبات کے مرکز میں رکھتا ہے، جبکہ قومی دن کی مجموعی روایت تاریخی ورثے کو موجودہ ادارہ جاتی کامیابیوں اور مستقبل کے ترقیاتی اہداف کے ساتھ مربوط کرتی ہے۔سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں قومی دن کی تقریبات ملک کے ثقافتی ورثے، قومی شناخت، تاریخی تسلسل اور ترقیاتی کامیابیوں کو نمایاں کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔بین الاقوامی سطح پر یہ موقع سعودی عرب کے لیے اپنے سفارتی تعلقات، عالمی شراکت داریوں اور بدلتے ہوئے علاقائی و عالمی ماحول میں اپنے کردار کو اجاگر کرنے کا بھی موقع فراہم کرتا ہے۔سعودی عرب اور پاکستان: تعلقات کے اگلے مرحلے کی جانبسعودی قومی دن ایسے وقت میں منایا جا رہا ہے جب سعودی عرب اور پاکستان دونوں بدلتے ہوئے اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔سعودی عرب وژن 2030 کے تحت اقتصادی تنوع، سرمایہ کاری اور نئے شعبوں کی ترقی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جبکہ پاکستان اقتصادی استحکام، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور عالمی اقتصادی شراکت داری کو وسعت دینے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔اس پس منظر میں سعودی پاکستان تعلقات کی تاریخی بنیاد مستقبل میں تعاون کے مزید امکانات کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔سرمایہ کاری، تجارت، توانائی، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، انسانی وسائل کی ترقی اور اسٹریٹجک تعاون ایسے شعبے ہیں جہاں دوطرفہ روابط کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے

۔تاہم ان امکانات کو پائیدار اور عملی نتائج میں تبدیل کرنے کا انحصار پالیسیوں کے مؤثر نفاذ، ادارہ جاتی رابطہ کاری، سرمایہ کاری کے ماحول اور وسیع تر علاقائی و عالمی اقتصادی حالات پر ہوگا۔خلاصہسعودی عرب کا 96واں قومی دن مملکت کے قومی سفر کے تین اہم پہلوؤں کو یکجا کرتا ہے: ریاستی تشکیل کی میراث، قومی ترقی کی کامیابیاں اور مستقبل کی تبدیلی کے عزائم۔1902ء میں ریاض کی بازیابی اور اس کے بعد مملکت کے اتحاد سے لے کر جدید ریاستی اداروں کی تشکیل اور وژن 2030 کے تحت جاری اقتصادی و سماجی تبدیلی تک، سعودی عرب کی تاریخ سیاسی استحکام، ادارہ جاتی تعمیر اور اقتصادی ارتقا کے ایک طویل سفر کی عکاسی کرتی ہے۔اسلام آباد میں سعودی سفارت خانے کی جانب سے منعقد کی جانے والی قومی دن کی استقبالیہ تقریب ان تقریبات کو اہم سفارتی رنگ دیتی ہے اور سعودی عرب اور پاکستان کے دیرینہ تعلقات کی گہرائی کو نمایاں کرتی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سعودی قیادت اور عوام کو مبارکباد پاکستان کی جانب سے ریاض کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات کی اہمیت کے مسلسل اعتراف کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ دفاعی تعاون کا حوالہ دوطرفہ تعلقات کے اسٹریٹجک پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔دوسری جانب سعودی عرب کا بدلتا ہوا اقتصادی منظرنامہ سرمایہ کاری، تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر اور انسانی وسائل کی ترقی سمیت تعاون کے نئے امکانات پیدا کر رہا ہے۔بالآخر سعودی عرب کا 96واں قومی دن ماضی، حال اور مستقبل کو ایک ہی قومی بیانیے میں مربوط کرتا ہے۔ یہ دن سعودی ریاست کی تاریخی بنیادوں کو یاد کرنے، موجودہ ترقیاتی سفر کا جائزہ لینے اور وژن 2030 کے تحت مستقبل کے عزائم کو سامنے رکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔پاکستان کے لیے بھی یہ موقع ایک ایسے دیرینہ تعلق کی تجدید کا مظہر ہے جو سفارت کاری اور دفاع سے آگے بڑھ کر معیشت، سرمایہ کاری، توانائی، تجارت، انسانی وسائل، ثقافت اور عوامی روابط تک پھیلا ہوا ہے۔یوں 96واں قومی دن نہ صرف سعودی عرب کے تاریخی ورثے اور قومی شناخت کے تسلسل کو اجاگر کرتا ہے بلکہ عالمی برادری، خصوصاً پاکستان کے ساتھ، مملکت کے بدلتے ہوئے تعلقات اور مستقبل کی شراکت داری کے امکانات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
سعودی عرب کا 96واں قومی دن: ریاستی تشکیل، ترقی اور پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کا سفربادبان نیوزاسلام آباد، 23 ستمبر 2026ء — مملکتِ سعودی عرب آج اپنا 96واں قومی دن ’’عزنا بطبعنا‘‘ کے قومی شعار کے تحت منا رہی ہے۔ یہ دن سعودی ریاست کے تاریخی اتحاد و استحکام کی یاد تازہ کرنے کے ساتھ ساتھ نو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ریاستی تشکیل، ادارہ جاتی استحکام، قومی ترقی اور اقتصادی و سماجی تبدیلی کے سفر کو اجاگر کرتا ہے۔سعودی عرب کا قومی دن پاکستان میں بھی خصوصی سفارتی اہمیت رکھتا ہے، جہاں یہ موقع اسلام آباد اور ریاض کے درمیان دیرینہ اور کثیرالجہتی تعلقات کے پس منظر میں منایا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، سفارتی، دفاعی، اقتصادی، ثقافتی اور عوامی سطح پر تعلقات کئی نسلوں پر محیط ہیں، جبکہ بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات کے تناظر میں دوطرفہ تعاون کے نئے پہلو بھی سامنے آ رہے ہیں۔اس موقع پر اسلام آباد میں مملکتِ سعودی عرب کے سفارت خانے کے ناظم الامور عزت مآب جناب نائف بن ملافخ کی جانب سے 23 ستمبر 2026ء کو قومی دن کی استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جس میں سفارتی برادری، پاکستانی حکام، ممتاز شخصیات، مختلف اداروں کے نمائندگان اور دیگر معزز مہمان شریک ہوں گے۔اسلام آباد میں قومی دن کی استقبالیہ تقریباسلام آباد میں منعقد ہونے والی استقبالیہ تقریب سعودی عرب کے قومی دن کی تقریبات کا حصہ ہے اور اس کے ذریعے مملکت کے تاریخی ورثے، قومی شناخت، عصری کامیابیوں اور عالمی شراکت داریوں کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم ہوتا ہے۔پاکستان کے دارالحکومت میں یہ تقریب سعودی عرب اور پاکستان کے دیرینہ تعلقات کے حوالے سے بھی خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ دونوں ممالک کے روابط سفارت کاری تک محدود نہیں بلکہ دفاع و سلامتی، تجارت و سرمایہ کاری، توانائی، تعلیم، روزگار، مذہبی و ثقافتی روابط اور عوامی سطح کے مضبوط تعلقات تک پھیلے ہوئے ہیں۔اس تناظر میں قومی دن کی یہ تقریب محض ایک قومی تہوار کی مناسبت سے اجتماع نہیں بلکہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تاریخی قربت، باہمی احترام اور مسلسل سفارتی روابط کی عکاسی بھی کرتی ہے۔قومی دن: ریاستی تشکیل اور اتحاد کی تاریخی بنیادسعودی عرب کا قومی دن مملکت کے اتحاد اور جدید سعودی ریاست کی تشکیل کی یادگار ہے، جس کی قیادت بانیِ مملکت شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود نے کی۔اس تاریخی عمل میں 15 جنوری 1902ء کو ریاض کی بازیابی ایک فیصلہ کن سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ریاض کی بازیابی نے اس وسیع تر تاریخی عمل کی بنیاد فراہم کی جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں کو بتدریج ایک متحد سیاسی و انتظامی ڈھانچے میں شامل کیا گیا اور بالآخر جدید مملکتِ سعودی عرب وجود میں آئی۔ریاستی اتحاد کے بعد ایک نئے اور اہم مرحلے کا آغاز ہوا، جس میں حکومتی اداروں، انتظامی ڈھانچوں، عدالتی و سکیورٹی نظام، تعلیمی اداروں اور عوامی خدمات کی تنظیم و توسیع شامل تھی۔دارة الملک عبدالعزیز، یعنی King Abdulaziz Foundation for Research and Archives (Darah)، سعودی ریاست کے قیام، اتحاد اور ادارہ جاتی ارتقا کے مختلف مراحل کو تاریخی دستاویزات کے ذریعے محفوظ رکھتی ہے۔ریاستی اداروں کی تشکیل کے اس عمل میں 1926ء میں جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کا قیام بھی ایک اہم سنگِ میل تھا، جس نے منظم قومی تعلیمی نظام اور ریاستی اداروں کے بڑھتے ہوئے کردار کی بنیاد مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔اتحاد سے ادارہ جاتی استحکام تکجدید سعودی عرب کی تاریخ کو صرف علاقائی اتحاد کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں۔ ریاست کے استحکام کے لیے ایسے اداروں کی تشکیل بھی ضروری تھی جو نظم و نسق، سلامتی، تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور اقتصادی انتظام کو مؤثر انداز میں آگے بڑھا سکیں۔گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران سعودی عرب نے بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت، شہری ترقی، سرکاری انتظامیہ، توانائی اور دیگر شعبوں میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کی۔خصوصاً پٹرولیم کے شعبے کی ترقی نے سعودی معیشت کو تبدیل کیا اور ریاست کو بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات میں سرمایہ کاری کے قابل بنایا۔ اس عمل کے نتیجے میں شہری آبادی میں اضافہ، تعلیمی و طبی سہولیات کی توسیع اور سرکاری اداروں کی استعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔یوں سعودی عرب نے ریاستی تشکیل کے ابتدائی مرحلے سے آگے بڑھتے ہوئے اقتصادی اور ادارہ جاتی ترقی کے مختلف مراحل طے کیے، جبکہ وقت کے ساتھ ساتھ قومی ترجیحات بھی بدلتی رہیں۔یہ تاریخی پس منظر آج سعودی عرب میں جاری وسیع تر تبدیلی کو سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔وژن 2030 اور سعودی عرب کی عصری تبدیلیموجودہ دور میں سعودی وژن 2030 مملکت کے وسیع اقتصادی، ادارہ جاتی اور سماجی تبدیلی کے پروگرام کا مرکزی فریم ورک ہے۔اس وژن کا مقصد سعودی معیشت کو مزید متنوع بنانا، غیر تیل شعبوں کو مستحکم کرنا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا، انسانی وسائل کی ترقی، کاروباری سرگرمیوں اور جدت طرازی کی حوصلہ افزائی، سیاحت اور ثقافتی سرگرمیوں کو وسعت دینا، ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا اور نئی نسل کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا ہے

۔اس تبدیلی کے دائرے میں سیاحت، لاجسٹکس، ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، ثقافت، تفریح، انفراسٹرکچر، مالیاتی خدمات اور سرمایہ کاری سمیت متعدد شعبے شامل ہیں۔یہ عمل سعودی عرب کو عالمی معیشت میں اپنی مسابقتی حیثیت مضبوط بنانے اور بین الاقوامی اقتصادی نظام میں اپنے کردار کو مزید وسعت دینے کی کوشش سے بھی مربوط ہے۔قومی دن کے تناظر میں وژن 2030 کی اہمیت اس امر میں ہے کہ یہ سعودی عرب کے تاریخی تسلسل کو مستقبل پر مرکوز ترقیاتی ترجیحات کے ساتھ جوڑتا ہے۔وزیراعظم پاکستان کی سعودی قیادت اور عوام کو مبارکبادپاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور سعودی عوام کو مبارکباد پیش کی ہے۔اپنے پیغام میں وزیراعظم نے سعودی عرب کی ترقی اور تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے مملکت کی پیش رفت کو سعودی عوام کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے بھی باعثِ فخر اور تحسین قرار دیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت اور وژن کے تحت سعودی عرب میں ترقی، جدیدیت اور جدت طرازی کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کو بھی سراہا۔انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ تعلقات کے لیے پاکستان کی قدر و احترام کا اعادہ کرتے ہوئے دوطرفہ روابط کو باہمی اعتماد، مشترکہ اقدار اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان مضبوط رشتوں پر مبنی قرار دیا۔وزیراعظم کے مطابق تاریخی تعلقات اب ایک زیادہ جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی جانب بڑھ رہے ہیں، جس میں امن، سلامتی اور وسیع تر علاقائی و عالمی امور میں تعاون شامل ہے۔انہوں نے دونوں ممالک کے دفاعی تعاون کا بھی حوالہ دیا، جس میں اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ اور مکہ معاہدہ برائے باہمی دفاع شامل ہیں، اور انہیں وسیع تر اسٹریٹجک تعلقات کا حصہ قرار دیا۔سعودی پاکستان تعلقات: تاریخی قربت سے وسیع تر اسٹریٹجک شراکت داری تکسعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات روایتی سفارتی روابط سے کہیں زیادہ وسیع اور گہرے ہیں۔دونوں ممالک کئی دہائیوں سے دفاع و سلامتی، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، روزگار، تعلیم، مذہبی امور، ثقافت اور عوامی روابط سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کرتے چلے آ رہے ہیں۔سعودی عرب میں پاکستانی کمیونٹی بھی دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم انسانی اور اقتصادی پل کی حیثیت رکھتی ہے۔ خاندانوں، اداروں، کاروباری حلقوں اور معاشروں کے درمیان یہ روابط دوطرفہ تعلقات کو ایک مضبوط سماجی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔سعودی عرب پاکستان کی سفارتی اور اقتصادی ترجیحات میں اہم مقام رکھتا ہے، جبکہ پاکستان بھی سعودی عرب کے لیے ایک ایسا شراکت دار ہے جس کے ساتھ تاریخی، دفاعی، ادارہ جاتی اور عوامی سطح کے مضبوط تعلقات موجود ہیں۔موجودہ دور میں اس شراکت داری کا اقتصادی پہلو بھی زیادہ نمایاں ہو رہا ہے۔سعودی وژن 2030 کے تحت سرمایہ کاری، اقتصادی تنوع اور بین الاقوامی اقتصادی شراکت داری پر بڑھتی ہوئی توجہ نے نئے تعاون کے امکانات پیدا کیے ہیں، جبکہ پاکستان بھی غیر ملکی سرمایہ کاری، تجارت اور اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کر رہا ہے۔تجزیہ: قومی شناخت، اقتصادی تبدیلی اور عالمی شراکت داریسعودی عرب کے 96ویں قومی دن کی اہمیت کو تین باہم مربوط پہلوؤں میں دیکھا جا سکتا ہے: ریاستی تشکیل، عصری تبدیلی اور بین الاقوامی شراکت داری۔پہلا پہلو سعودی ریاست کے تاریخی قیام سے متعلق ہے۔ 1902ء میں ریاض کی بازیابی اور اس کے بعد اتحاد کے عمل نے جدید سعودی عرب کی سیاسی اور علاقائی بنیادیں فراہم کیں۔دوسرا پہلو سعودی عرب کی اقتصادی اور سماجی تبدیلی ہے۔جدید دور کے بیشتر حصے میں پٹرولیم سعودی معیشت کا بنیادی ستون رہا ہے۔ وژن 2030 اسی اقتصادی ڈھانچے کو وسیع کرنے کی کوشش ہے، جس کے تحت ایسے شعبوں کی ترقی پر توجہ دی جا رہی ہے جو سرمایہ کاری، روزگار اور اقتصادی سرگرمی کے نئے مواقع پیدا کر سکیں۔سیاحت، لاجسٹکس، ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، ثقافت، تفریح اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبے اسی وسیع تر اقتصادی تبدیلی کا حصہ ہیں۔تیسرا پہلو سعودی عرب کی عالمی شراکت داری ہے۔جیسے جیسے مملکت عالمی معیشت میں اپنے کردار کو وسعت دے رہی ہے، روایتی سفارتی تعلقات بھی تجارتی، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک تعاون کے نئے پہلوؤں سے منسلک ہو رہے ہیں۔یہ صورتحال سعودی پاکستان تعلقات کے لیے بھی اہم ہے۔دونوں ممالک کے تاریخی اور سفارتی تعلقات ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں، جبکہ بدلتی ہوئی اقتصادی ترجیحات باہمی تعاون کے نئے امکانات پیدا کر رہی ہیں۔سعودی پاکستان تعلقات کا اسٹریٹجک پہلوپاکستانی قیادت کی جانب سے دفاعی تعاون پر زور اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں سلامتی اور دفاع کا شعبہ بدستور اہم ہے۔اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری، تجارت، توانائی اور اقتصادی تنوع کی بڑھتی ہوئی اہمیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دوطرفہ تعلقات اب روایتی سیاسی اور دفاعی تعاون سے آگے بڑھ کر اقتصادی اور ترقیاتی شعبوں تک بھی پھیل رہے ہیں۔سعودی پاکستان شراکت داری کے نمایاں شعبوں میں:- سیاسی اور سفارتی روابط؛- دفاع اور سلامتی؛- تجارت اور سرمایہ کاری؛- توانائی اور اقتصادی ترقی؛- روزگار اور افرادی قوت؛- تعلیم اور انسانی وسائل کی ترقی؛- مذہبی و ثقافتی روابط؛ اور- عوامی سطح کے دیرینہ تعلقاتشامل ہیں۔ان شعبوں میں آئندہ پیش رفت کا انحصار دونوں ممالک کی بدلتی ہوئی قومی ترجیحات، پالیسیوں، ادارہ جاتی تعاون اور وسیع تر علاقائی و عالمی حالات پر ہوگا۔96ویں قومی دن کی وسیع تر معنویتسعودی عرب کا 96واں قومی دن محض ایک تاریخی واقعے کی یاد منانے تک محدود نہیں۔یہ موقع سعودی عرب کے سیاسی اتحاد اور ادارہ سازی کے ابتدائی مراحل سے لے کر موجودہ دور کی اقتصادی و سماجی تبدیلی تک کے طویل سفر پر غور کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔’’عزنا بطبعنا‘‘ کا شعار قومی شناخت، ورثے اور معاشرتی اقدار کو تقریبات کے مرکز میں رکھتا ہے، جبکہ قومی دن کی مجموعی روایت تاریخی ورثے کو موجودہ ادارہ جاتی کامیابیوں اور مستقبل کے ترقیاتی اہداف کے ساتھ مربوط کرتی ہے۔سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں قومی دن کی تقریبات ملک کے ثقافتی ورثے، قومی شناخت، تاریخی تسلسل اور ترقیاتی کامیابیوں کو نمایاں کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔بین الاقوامی سطح پر یہ موقع سعودی عرب کے لیے اپنے سفارتی تعلقات، عالمی شراکت داریوں اور بدلتے ہوئے علاقائی و عالمی ماحول میں اپنے کردار کو اجاگر کرنے کا بھی موقع فراہم کرتا ہے۔سعودی عرب اور پاکستان: تعلقات کے اگلے مرحلے کی جانبسعودی قومی دن ایسے وقت میں منایا جا رہا ہے جب سعودی عرب اور پاکستان دونوں بدلتے ہوئے اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔سعودی عرب وژن 2030 کے تحت اقتصادی تنوع، سرمایہ کاری اور نئے شعبوں کی ترقی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جبکہ پاکستان اقتصادی استحکام، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور عالمی اقتصادی شراکت داری کو وسعت دینے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔اس پس منظر میں سعودی پاکستان تعلقات کی تاریخی بنیاد مستقبل میں تعاون کے مزید امکانات کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔سرمایہ کاری، تجارت، توانائی، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، انسانی وسائل کی ترقی اور اسٹریٹجک تعاون ایسے شعبے ہیں جہاں دوطرفہ روابط کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔تاہم ان امکانات کو پائیدار اور عملی نتائج میں تبدیل کرنے کا انحصار پالیسیوں کے مؤثر نفاذ، ادارہ جاتی رابطہ کاری، سرمایہ کاری کے ماحول اور وسیع تر علاقائی و عالمی اقتصادی حالات پر ہوگا۔خلاصہسعودی عرب کا 96واں قومی دن مملکت کے قومی سفر کے تین اہم پہلوؤں کو یکجا کرتا ہے: ریاستی تشکیل کی میراث، قومی ترقی کی کامیابیاں اور مستقبل کی تبدیلی کے عزائم۔1902ء میں ریاض کی بازیابی اور اس کے بعد مملکت کے اتحاد سے لے کر جدید ریاستی اداروں کی تشکیل اور وژن 2030 کے تحت جاری اقتصادی و سماجی تبدیلی تک، سعودی عرب کی تاریخ سیاسی استحکام، ادارہ جاتی تعمیر اور اقتصادی ارتقا کے ایک طویل سفر کی عکاسی کرتی ہے۔اسلام آباد میں سعودی سفارت خانے کی جانب سے منعقد کی جانے والی قومی دن کی استقبالیہ تقریب ان تقریبات کو اہم سفارتی رنگ دیتی ہے اور سعودی عرب اور پاکستان کے دیرینہ تعلقات کی گہرائی کو نمایاں کرتی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سعودی قیادت اور عوام کو مبارکباد پاکستان کی جانب سے ریاض کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات کی اہمیت کے مسلسل اعتراف کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ دفاعی تعاون کا حوالہ دوطرفہ تعلقات کے اسٹریٹجک پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔دوسری جانب سعودی عرب کا بدلتا ہوا اقتصادی منظرنامہ سرمایہ کاری، تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر اور انسانی وسائل کی ترقی سمیت تعاون کے نئے امکانات پیدا کر رہا ہے۔بالآخر سعودی عرب کا 96واں قومی دن ماضی، حال اور مستقبل کو ایک ہی قومی بیانیے میں مربوط کرتا ہے۔ یہ دن سعودی ریاست کی تاریخی بنیادوں کو یاد کرنے، موجودہ ترقیاتی سفر کا جائزہ لینے اور وژن 2030 کے تحت مستقبل کے عزائم کو سامنے رکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔پاکستان کے لیے بھی یہ موقع ایک ایسے دیرینہ تعلق کی تجدید کا مظہر ہے جو سفارت کاری اور دفاع سے آگے بڑھ کر معیشت، سرمایہ کاری، توانائی، تجارت، انسانی وسائل، ثقافت اور عوامی روابط تک پھیلا ہوا ہے۔یوں 96واں قومی دن نہ صرف سعودی عرب کے تاریخی ورثے اور قومی شناخت کے تسلسل کو اجاگر کرتا ہے بلکہ عالمی برادری، خصوصاً پاکستان کے ساتھ، مملکت کے بدلتے ہوئے تعلقات اور مستقبل کی شراکت داری کے امکانات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سعودی قومی دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکتاسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے سعودی عرب کے 96ویں قومی دن کا کیک کاٹا۔ اسپیکر ایاز صادق کی سعودی قیادت اور عوام کو قومی دن پر مبارکباد۔ اسپیکر قومی اسمبلی کی سعودی قیادت اور عوام کیلئے نیک خواہشات کا اظہارشاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب ترقی کر رہا ہے، اسپیکر سردار ایاز صادق سعودی عرب کی غیر معمولی ترقی سعودی عوام کے لیے باعثِ فخر ہے، اسپیکر قومی اسمبلی پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مشترکہ مذہب اور تاریخی روابط پر مبنی ہیں، اسپیکر سردار ایاز صادق پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اسپیکر سردار ایاز صادق پاکستان اور سعودی عرب ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں، اسپیکر سردار ایاز صادق پاک سعودی پارلیمانی روابط باہمی تعاون اور مفاہمت کے فروغ میں اہم ہیں، اسپیکر سردار ایاز صادق پاکستان کی پارلیمان اور سعودی مجلس شوریٰ کے روابط قابلِ تحسین ہیں، اسپیکر سردار ایاز صادق پارلیمانی روابط پاک سعودی برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کا ذریعہ ہیں، اسپیکر قومی اسمبلی پاک سعودی دوستی خطے میں امن اور استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، اسپیکر قومی اسمبلی سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی ہمارے لیے انتہائی مقدم ہے، اسپیکر سردار ایاز صادق سعودی عرب کے ساتھ پوری دنیا میں بسے والے مسلمانوں مذہبی جذبات رکھتے ہیں، اسپیکر سردار ایاز صادق پاکستان کی پارلیمان اور عوام سعودی عرب کے ساتھ عقیدت اور احترام رکھتے ہیں، اسپیکر سردار ایاز صادق سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کا مکہ دفاعی معاہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اسپیکر قومی اسمبلی









