سیکٹر ای سیکٹر اسلام آباد میں تجاوزات کے خلاف CDA کا آپریشن جاری، 16 کنال اراضی واگزار، ترقیاتی کام دوبارہ شروع*اسلام آباد، 16 ستمبر 2026: کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) نے اسلام آباد کے سیکٹر E-12 میں غیر مجاز قبضوں، تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی جاری رکھتے ہوئے تقریباً 16 کنال حاصل شدہ CDA اراضی واگزار کرا لی ہے۔ اس کارروائی کا مقصد سرکاری اراضی کا تحفظ، غیر قانونی قبضوں کا خاتمہ اور سیکٹر میں ترقیاتی سرگرمیوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانا ہے۔جاری آپریشن اور اراضی کی بازیابی کے اقدامات کے دوران سیکٹر E-12 میں CDA کی تقریباً 16 کنال حاصل شدہ اراضی غیر مجاز قبضے سے واگزار کرائی گئی۔ مذکورہ اراضی پر سیکیورٹی گارڈز کے لیے رہائش، ایک ہالیڈے ہوم اور 14 دکانیں قائم تھیں، جنہیں مبینہ طور پر تجارتی بنیادوں پر کرائے پر دیا جا رہا تھا۔اراضی کی واگزاری متعلقہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال اور ضروری قانونی و انتظامی کارروائی مکمل کرنے کے بعد عمل میں لائی گئی
۔ CDA کو اراضی کا قبضہ واپس ملنے کے بعد مذکورہ مقام پر ترقیاتی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں، جس سے سیکٹر میں انفراسٹرکچر اور عوامی سہولیات کی ترقی میں حائل ایک اہم رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔آپریشن کے دوران CDA اور AGC (G) کے سینئر افسران بھی موقع پر موجود تھے اور انہوں نے آپریشن اور اراضی واگزاری کی کارروائی کی نگرانی کی۔ متعلقہ افسران کی موقع پر موجودگی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ کارروائی کو قانون اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق مکمل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور تعاون موجود ہے۔CDA نے واضح کیا ہے کہ حاصل شدہ سرکاری اراضی عوامی مقاصد کے لیے مختص ہوتی ہے اور اسے کسی بھی غیر مجاز قبضے یا نجی و تجارتی استعمال میں نہیں لایا جا سکتا۔ ایسے تمام غیر قانونی قبضوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، بالخصوص جہاں ان کے باعث منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہو۔سیکٹر E-12 میں جاری کارروائی وفاقی دارالحکومت میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے CDA کی وسیع تر مہم کا حصہ ہے
۔ CDA کی جانب سے متعلقہ شعبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ سیکٹر E-12 میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کو یقینی بنایا جائے، جبکہ سیکٹر میں ترقیاتی کاموں اور الاٹیز کو قبضہ دینے سے متعلق سرگرمیوں کو بھی تیز کیا جائے۔اتھارٹی نے اس امر پر زور دیا ہے کہ انفورسمنٹ کارروائی متعلقہ اراضی کے ریکارڈ کی مکمل جانچ پڑتال اور قانونی و انتظامی طریقہ کار کے مطابق کی جا رہی ہے۔ تاہم، قانونی طور پر ثابت شدہ حقوق رکھنے والے افراد کے معاملات کو قانون کے تحت دستیاب متعلقہ فورمز اور طریقہ کار کے مطابق نمٹایا جائے گا۔CDA کے مطابق اس کارروائی کا مقصد صرف تجاوزات کا خاتمہ نہیں بلکہ حاصل شدہ سرکاری اراضی کا تحفظ، منصوبہ بندی کے مطابق اراضی کے استعمال کی بحالی، ترقیاتی کاموں میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ اور سیکٹر E-12 کے رہائشیوں و الاٹیز کو بنیادی ڈھانچے اور شہری سہولیات کی فراہمی بھی ہے۔واگزار کرائی گئی اراضی سے سیکٹر میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں کو مزید تیز کرنے میں مدد ملے گی
۔ CDA نے متعلقہ شعبوں کو ہدایت کی ہے کہ ترقیاتی کام منظور شدہ منصوبوں، مقررہ معیار اور سیکٹر کے رہائشیوں و الاٹیز کی ضروریات کے مطابق مکمل کیے جائیں۔CDA نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ سرکاری اراضی کو عوامی مفاد میں استعمال کرنا اتھارٹی کی بنیادی ترجیح ہے۔ سرکاری اراضی پر غیر مجاز قبضہ، تجاوزات اور نجی تجارتی استعمال، خصوصاً ایسی سرگرمیاں جو عوامی ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ کا باعث بنیں، کسی صورت قابل قبول نہیں ہوں گی۔CDA سیکٹر E-12 میں صورتحال کی مسلسل نگرانی جاری رکھے گا اور جہاں بھی ضرورت محسوس ہوئی، غیر مجاز قبضوں اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔*کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی سرکاری اراضی کے تحفظ، قانون کی بالادستی، تجاوزات کے خاتمے اور سیکٹر E-12 کی بروقت ترقی کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے تاکہ اس کے ثمرات سیکٹر کے رہائشیوں اور الاٹیز تک پہنچ سکیں۔*
*پیٹرولیم ڈیلرز کا ریلیف اسکیم کے طریقے پر اعتراض، اسکیم پر پیٹرول دینے سے انکار*کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وائس چیئرمین پی پی ڈی اے انوار کمال نے کہا کہ ریلیف اسکیم کی تیاری میں ڈیلرز سے مشاورت نہیں کی گئی، موجودہ طریقہ کار پر عمل درآمد مشکل ہے
۔انہوں نے کہا کہ عوام کو براہ راست اور آسان طریقے سے ریلیف دیا جائے، ڈیلرز کا سرمایہ پہلے ہی مہنگائی سے متاثر ہے جب کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے اربوں روپے کے واجبات بھی زیرِ التوا ہیں۔انوار کمال کا کہنا تھا کہ ریلیف اسکیم کا مالی بوجھ ڈیلرز پر ڈالنا قابلِ عمل نہیں، ڈیلرز مارجن میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہیں، حکومت کی موجودہ ریلیف اسکیم کے تحت پیٹرول نہیں دیں گے۔
*پیٹرولیم ڈیلرز کا ریلیف اسکیم کے طریقے پر اعتراض، اسکیم پر پیٹرول دینے سے انکار*کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وائس چیئرمین پی پی ڈی اے انوار کمال نے کہا کہ ریلیف اسکیم کی تیاری میں ڈیلرز سے مشاورت نہیں کی گئی، موجودہ طریقہ کار پر عمل درآمد مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو براہ راست اور آسان طریقے سے ریلیف دیا جائے، ڈیلرز کا سرمایہ پہلے ہی مہنگائی سے متاثر ہے جب کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے اربوں روپے کے واجبات بھی زیرِ التوا ہیں۔انوار کمال کا کہنا تھا کہ ریلیف اسکیم کا مالی بوجھ ڈیلرز پر ڈالنا قابلِ عمل نہیں، ڈیلرز مارجن میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہیں، حکومت کی موجودہ ریلیف اسکیم کے تحت پیٹرول نہیں دیں گے۔
*غزہ میں اسرائیلی حملوں سے متاثرہ خستہ حال عمارت گرنے سےبچوں سمیت 20فلسطینی جاں بحق ہوگئے* ۔عرب میڈیا کے مطابق عمارت میں بےگھر فلسطینیوں کے کئی خاندان مقیم تھے،عمارت اسرائیلی حملوں کے دوران شدید نقصان کا شکار ہوئی تھی۔عرب میڈیا کا کہنا ہےکہ منہدم ہونے والی عمارت کے ملبے تلے کم از کم 100 فلسطینیوں کے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں, جنہیں نکالنے کیلئے ریسکیو مشن جاری ہے، 12 افراد کو زندہ نکال لیا گیا ہے۔
*پٹرول کی قیمت میں 6 روپے 88 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافے کا فیصلہ، نوٹیفیکیشن*
پاکستان نے 11 ماہ کے دوران آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (IPPs) کو تقریباً 12 ارب ڈالر کی ادائیگی کی، جو تقریباً اتنی ہی رقم ہے جتنی پاکستان نے تین سال کے دوران آئی ایم ایف سے حاصل کی
۔یہ اعداد و شمار پاکستان کی معیشت پر بجلی کے شعبے کی ادائیگیوں کے بڑے مالی بوجھ کو ظاہر کرتے ہیں
۔ IPPs کو ادائیگیاں بجلی کی قیمتوں، گردشی قرضے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات سے متعلق بحث کا ایک اہم مسئلہ رہی ہیں
۔آئی ایم ایف کی فنانسنگ کے ساتھ اس رقم کا موازنہ ان ادائیگیوں کے بڑے حجم کو اجاگر کرتا ہے اور موجودہ بجلی پیدا کرنے کے نظام کی پائیداری پر سوالات اٹھاتا
۔ حکومت کو توانائی کے شعبے کے دیرینہ مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ بجلی کی قیمتیں کم کرنے کے لیے بھی دباؤ کا سامنا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج کیس کا محفوظ کردہ فیصلہ سنادیا۔کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو عوامی سڑکوں، شاہراہوں یا دیگر مقامات پر قبضے کا قانونی حق نہیں، عدالتکسی سیاسی جماعت یا رہنما کو شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے کا حق نہیں، عدالتصوبائی حکومتیں مارچ، جلوس یا ریلی کیلئے سرکاری وسائل استعمال نہ ہونے دیں، عدالتوزرائے اعلیٰ یقینی بنائیں کہ سرکاری فنڈز یا سرکاری افسران احتجاج میں استعمال نہ ہوں
، عدالت مارچ، جلوس یا ریلی کیلئے سرکاری گاڑیاں، مشینری یا دیگر سامان استعمال نہ کیا جائے، عدالتکسی سرکاری ملازم کو مارچ، جلوس یا ریلی میں شرکت پر مجبور نہ کیا جائے، عدالتاسلام آباد انتظامیہ اور وزارت داخلہ شہریوں کے آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں، عدالتچیف سیکریٹریز اور آئی جیز پولیس عدالتی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنائیں، عدالتوفاقی سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد کو بھی ہدایات جاری، عدالت
ٹرمپ کا سعودی درخواست پر حوثیوں کے خلاف براہِ راست کارروائی سے گریز، امریکی سکیورٹی کردار پر سوالاتریاض/واشنگٹن، 14 ستمبر 2026: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے یمن میں ایران نواز حوثی تحریک کے خلاف براہِ راست امریکی فوجی کارروائی کی درخواست پر فی الحال عمل درآمد سے گریز کیا ہے۔ امریکی حکام کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق واشنگٹن نے براہِ راست فضائی حملوں کے بجائے سعودی عرب کو انٹیلی جنس اور ہدف بندی سے متعلق معاونت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں حوثیوں کی پیش قدمی نے باب المندب کی سکیورٹی سے متعلق خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔اس پیش رفت نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں میں اس بنیادی سوال کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے کہ علاقائی سلامتی کے بحران کی صورت میں امریکہ اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے کس حد تک براہِ راست فوجی کردار ادا کرنے پر آمادہ ہوگا۔
سعودی عرب کی جانب سے امریکی فوجی معاونت کی درخواسترائٹرز کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان نے جمعرات کو صدر ٹرمپ سے کم از کم دو مرتبہ ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور حوثی خطرے سے نمٹنے کے لیے امریکی معاونت طلب کی۔رپورٹس کے مطابق واشنگٹن نے فی الحال حوثی اہداف کے خلاف براہِ راست امریکی فوجی کارروائی سے گریز کرتے ہوئے انٹیلی جنس معلومات اور اہداف کی نشاندہی سے متعلق معاونت کی پیشکش کی ہے۔امریکی موقف کو مکمل طور پر سعودی عرب سے دستبرداری قرار نہیں دیا جا سکتا۔ واشنگٹن ریاض کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور سعودی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے انٹیلی جنس و آپریشنل معاونت فراہم کر رہا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کا سعودی عرب کا دورہ بھی اسی تناظر میں اعلیٰ سطحی عسکری مشاورت کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔تاہم، اس پالیسی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ امریکہ فی الحال سعودی عرب کی معاونت تو کر رہا ہے، لیکن حوثی اہداف پر براہِ راست امریکی فضائی حملوں کے لیے اپنے جنگی طیارے استعمال کرنے سے گریزاں ہے
۔بحیرۂ احمر اور باب المندب پر بڑھتے ہوئے خدشاتیمن کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں حوثیوں کی پیش قدمی نے باب المندب کی سکیورٹی کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ یہ آبنائے بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور عالمی بحری تجارت کے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتی ہے۔حوثی حملوں اور ساحلی علاقوں میں ان کی عسکری سرگرمیوں میں اضافے سے تجارتی جہاز رانی، توانائی کی ترسیل اور خطے کے مجموعی سکیورٹی توازن پر خدشات بڑھ رہے ہیں۔اگر یہ صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اس کے اثرات یمن تک محدود رہنے کے بجائے بحیرۂ احمر کی جہاز رانی، عالمی سپلائی چین، توانائی کی منڈیوں اور علاقائی سلامتی تک پھیل سکتے ہیں۔سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر دباؤسکیورٹی صورتحال نے سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی دباؤ میں لا دیا ہے۔ حالیہ حملوں کے بعد تیل کی ترسیل کے راستوں کے تحفظ سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے، جن میں مملکت کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن بھی شامل ہے۔یہ پائپ لائن سعودی خام تیل کو مشرقی صوبوں سے بحیرۂ احمر کی جانب منتقل کرنے کا متبادل راستہ فراہم کرتی ہے اور اس طرح خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔بحیرۂ احمر میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات کے امتزاج نے عالمی تیل کی رسد اور توانائی کی قیمتوں پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
سعودی-امریکی سکیورٹی شراکت داری کا اہم امتحانریاض کے لیے موجودہ صورتحال کا بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ امریکہ حوثیوں کے خلاف فضائی حملے کرے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اگر سعودی سرزمین، توانائی کے مراکز یا بین الاقوامی جہاز رانی کو لاحق خطرات مزید بڑھتے ہیں تو واشنگٹن اپنے اتحادی کے دفاع کے لیے کس سطح تک براہِ راست فوجی کردار اختیار کرے گا۔سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط شراکت داری میں دفاعی تعاون، عسکری صلاحیتوں، انٹیلی جنس اور باز deterrence کو بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے۔ موجودہ بحران اس سکیورٹی فریم ورک کی عملی حدود کو ایک بار پھر نمایاں کر رہا ہے۔واشنگٹن کا موجودہ طرزِ عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ سعودی عرب کی دفاعی معاونت جاری رکھتے ہوئے خود کو ایک وسیع تر اور براہِ راست علاقائی جنگ میں ملوث ہونے سے فی الحال محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔ریاض کے لیے تزویراتی مضمراتموجودہ پیش رفت سعودی عرب کو اپنی دفاعی صلاحیتوں میں مزید اضافے، خود انحصار دفاعی استعداد کو مضبوط بنانے اور مختلف علاقائی و بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ سکیورٹی تعاون کو وسعت دینے کی جانب مزید متوجہ کر سکتی ہے۔تاہم، موجودہ صورتحال کو امریکہ کی جانب سے سعودی عرب سے مکمل دستبرداری یا دونوں ممالک کے سکیورٹی تعلقات کے خاتمے سے تعبیر کرنا قبل از وقت ہوگا۔ واشنگٹن بدستور ریاض کے ساتھ عسکری رابطے، انٹیلی جنس تعاون اور دفاعی معاونت جاری رکھے ہوئے ہے۔اس مرحلے پر زیادہ درست تجزیہ یہ ہے کہ اختلاف امریکی معاونت کے خاتمے پر نہیں بلکہ اس کی نوعیت اور براہِ راست فوجی مداخلت کی سطح پر مرکوز ہے۔خطے میں ممکنہ نئی صف بندیاگر حوثی خطرہ مزید پھیلتا ہے اور سعودی سرزمین، توانائی کے بنیادی ڈھانچے یا بحیرۂ احمر کی بین الاقوامی جہاز رانی کو مسلسل خطرات لاحق رہتے ہیں تو ریاض پر اپنی آزادانہ دفاعی صلاحیت اور باز deterrence
کو مزید مضبوط بنانے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔اس کے نتیجے میں سعودی عرب علاقائی سکیورٹی انتظامات کو وسعت دینے اور بین الاقوامی دفاعی شراکت داری کو مزید متنوع بنانے پر بھی غور کر سکتا ہے۔خلیجی ریاستوں کے لیے موجودہ بحران ایک اہم تزویراتی سوال کو دوبارہ سامنے لاتا ہے: امریکی سکیورٹی معاونت بدستور اہم ہے، لیکن ہر علاقائی بحران میں براہِ راست امریکی فوجی مداخلت کو پیشگی مفروضہ نہیں بنایا جا سکتا۔آنے والے دنوں میں یمن، بحیرۂ احمر اور باب المندب کی صورتحال اس امر کا تعین کرے گی کہ موجودہ بحران محدود رہتا ہے یا سعودی عرب اور اس کے خلیجی شراکت دار اپنی مستقبل کی سکیورٹی حکمتِ عملی اور علاقائی اتحادوں کی ازسرِنو تشکیل کی جانب مزید تیزی سے بڑھتے ہیں۔
جب آپ کو پتہ تھا کہ انڈیا والے میرے سے ٹرافی وصول نہیں کرے گے تو کیوں اپنے آپ کو اور پاکستان کی نام کو زلیل کروانے وہاں ایک بار پھر چلے گئے؟ کوئی بہانہ بنا لیتے ویسے کہ میں نہیں آنے والا کچھ پرسنل کام کی وجہ سے۔ لیکن نہیں زلالت آپ کا مقدر ہے۔ کیا فایدہ آپ کے اس چیئرمین شپ کا؟ آپ میرٹ پر نہیں ہو اس لئے اللہ تعالیٰ آپ کو شرمندہ کر رہا ہے۔ میں تو بس یہی کہوں گا۔۔#WomenAsiaCup #mohsinnaqvi #INDvSL #ACC #highlight
مقامِ ابراہیم کی منتقلی کا فیصلہ کیسے رکا؟ شیخ الشعراوی کا شاہ سعود کو پانچ صفحات پر مشتمل تاریخی و فقہی ٹیلی گراممکہ مکرمہ — 1950 کی دہائی میں حج و عمرہ کے لیے آنے والے زائرین کی تعداد میں اضافے کے باعث مسجد الحرام میں مطاف کے علاقے میں ازدحام بڑھ گیا۔ اس وقت مقامِ ابراہیم کے گرد موجود نسبتاً بڑے ڈھانچے کو طواف کرنے والے زائرین کی روانی میں رکاوٹ کا ایک سبب سمجھا گیا، جس کے پیش نظر 1954 میں مقامِ ابراہیم کو خانۂ کعبہ سے مزید پیچھے منتقل کرنے کی تجویز سامنے آئی۔رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ عملی مرحلے کے قریب پہنچ چکا تھا اور شاہ سعود بن عبدالعزیز کے دورِ حکومت میں مقام کی منتقلی کے لیے ایک مخصوص تاریخ بھی مقرر کی جا چکی تھی۔اس وقت معروف عالمِ دین شیخ محمد متولی الشعراوی مکہ مکرمہ کے کالج آف شریعہ میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ جب انہیں مقامِ ابراہیم کی مجوزہ منتقلی کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے معاملے کو محض مطاف کی توسیع کا انتظامی یا تعمیراتی مسئلہ سمجھنے کے بجائے اس کے شرعی، فقہی اور تاریخی پہلوؤں کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔روایت کے مطابق، شیخ الشعراوی نے متعدد سعودی علما اور مصری مشن کے ارکان سے مشاورت کی۔
انہیں بتایا گیا کہ معاملہ تقریباً طے ہو چکا ہے اور مقامِ ابراہیم کے لیے نیا ڈھانچہ بھی تیار کیا جا چکا ہے۔ تاہم، انہوں نے اس کے باوجود اپنی تشویش سے دستبردار ہونے سے انکار کیا۔شاہ سعود کو پانچ صفحات کا ٹیلی گرامبیان کردہ روایت کے مطابق شیخ الشعراوی نے شاہ سعود کو تقریباً پانچ صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی ٹیلی گرام ارسال کیا، جس میں مقامِ ابراہیم کے شرعی مقام، تاریخی پس منظر اور اس کے ساتھ مناسب طرزِ عمل سے متعلق فقہی دلائل پیش کیے گئے۔انہوں نے استدلال کیا کہ اس معاملے میں صرف نبی کریم ﷺ کے عملی طریقے کو بنیاد بنانا کافی نہیں
بلکہ تشریعِ نبوی کی نوعیت اور متعلقہ تاریخی و فقہی شواہد کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے حضرت عمر بن خطابؓ کے دور کا حوالہ بھی دیا، جب سیلاب کے باعث مقامِ ابراہیم اپنی جگہ سے متاثر ہوا اور بعد ازاں اسے دوبارہ اس کے مقررہ مقام پر بحال کیا گیا۔روایت کے مطابق، یہ ٹیلی گرام شاہ سعود تک پہنچا تو بادشاہ نے اعتراض کو نظرانداز کرنے کے بجائے علما کے ایک گروپ کو اس کے مندرجات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔
بعد ازاں علما کی جانب سے شیخ الشعراوی کے مؤقف کی تائید کی گئی اور شاہ سعود نے مقامِ ابراہیم کو منتقل نہ کرنے کا فیصلہ صادر کیا۔مقام برقرار، مطاف کی توسیع کا حل بھی پیشمقامِ ابراہیم کو اپنی جگہ برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد بنیادی سوال یہ تھا کہ بڑھتی ہوئی تعداد میں طواف کرنے والے زائرین کے لیے مطاف کو کس طرح وسیع کیا جائے تاکہ مقامِ ابراہیم کی موجودگی زائرین کی نقل و حرکت میں رکاوٹ نہ بنے۔روایت کے مطابق، شیخ الشعراوی نے اس مسئلے کا عملی حل بھی تجویز کیا۔ انہوں نے مقامِ ابراہیم کے گرد موجود بڑے ڈھانچے کی جگہ چھوٹے اور شفاف، شٹر پروف/مضبوط شیشے کے گنبد نما حصار کی تجویز پیش کی، تاکہ مقدس مقام محفوظ بھی رہے اور مطاف میں کم سے کم جگہ استعمال ہو
۔یوں مقامِ ابراہیم کی منتقلی کا معاملہ ایک ایسے علمی اور فقہی مباحثے میں تبدیل ہوا جس میں مقدس تاریخی مقام کے تحفظ اور لاکھوں زائرین کے لیے طواف کی سہولت کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔تاریخی نوٹ: مقامِ ابراہیم کی منتقلی اور شیخ الشعراوی کے پانچ صفحات کے ٹیلی گرام سے متعلق مذکورہ تفصیلات تاریخی روایات میں بیان کی جاتی ہیں؛ حتمی اشاعت کے لیے شاہی فرمان، سرکاری حرمین ریکارڈ یا معاصر archival دستاویز سے ان تفصیلات، خصوصاً 1954 کی مقررہ تاریخ اور ٹیلی گرام کے اصل متن، کی مزید تصدیق مناسب ہوگی۔
حمد بن جاسم کا ’درع الجزیرہ‘ فعال کرنے اور ایران سے براہِ راست خلیجی مذاکرات کا مطالبہمسقط، دوحہ | سیاسی و سلامتی رپورٹ د.لبنى فرح قطر کے سابق وزیراعظم اور سابق وزیر خارجہ حمد بن جاسم بن جبر آل ثانی نے خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے ایک اہم سیاسی و سلامتی وژن پیش کرتے ہوئے خلیجی ریاستوں کے اجتماعی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے اور ساتھ ہی ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکراتی عمل شروع کرنے پر زور دیا ہے، تاکہ خطے کو درپیش دیرینہ سیاسی اور سلامتی کے مسائل کا پائیدار حل تلاش کیا جا سکے۔حمد بن جاسم کی یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سلطنتِ عمان میں خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک اور ایران کے درمیان ایک ممکنہ اجلاس یا مذاکراتی رابطے کے لیے سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس پیش رفت کو خلیجی ریاستوں اور ایران کے درمیان براہِ راست سیاسی رابطے کے ایک ممکنہ نئے مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد خلیج میں سلامتی اور استحکام کے لیے زیادہ پائیدار انتظامات کی تلاش ہے۔حمد بن جاسم نے اپنے سیاسی مؤقف میں اس امر پر زور دیا کہ خطے کو محض عارضی اور کمزور جنگ بندیوں یا وقتی کشیدگی میں کمی تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ دیرپا استحکام کے لیے تنازعات کی بنیادی وجوہات کو حل کرنا اور باہمی اعتماد کے لیے واضح اور قابلِ عمل نظام قائم کرنا ضروری ہے۔—مسقط: سفارتی امتحان کا مرکزاس ممکنہ سفارتی عمل میں سلطنتِ عمان کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ عمان طویل عرصے سے خطے میں مختلف اور متحارب فریقوں کے درمیان رابطے برقرار رکھنے، خاموش سفارت کاری کو آگے بڑھانے اور حساس مذاکرات کے لیے ایک نسبتاً قابلِ قبول پلیٹ فارم فراہم کرنے میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔
حمد بن جاسم کے مطابق خلیجی تعاون کونسل اور ایران کے درمیان اجتماعی اور براہِ راست مذاکرات خطے کے تعلقات کو ایک نئے اصولی ڈھانچے میں استوار کرنے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔اس ڈھانچے کی بنیاد مشترکہ مفادات، ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت، علاقائی خودمختاری، آزادانہ بحری نقل و حرکت اور اقتصادی تعاون پر رکھی جا سکتی ہے، تاکہ خطہ مسلسل سلامتی کے بحرانوں اور باہمی کشیدگی کے چکر سے باہر نکل سکے۔اسی تناظر میں خلیج اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت ایک انتہائی حساس مسئلہ بن کر سامنے آتا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی اور تجارت کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والی کوئی بھی بڑی کشیدگی صرف علاقائی ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔—’خلیج کو اقتصادی جھیل‘ میں تبدیل کرنے کا تصورحمد بن جاسم کے پیش کردہ وژن کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ خلیج کو مستقل سیاسی و عسکری کشمکش کے میدان کے بجائے اقتصادی تعاون اور مشترکہ خوشحالی کے خطے میں تبدیل کیا جائے۔اس تصور کے تحت تجارتی رکاوٹوں اور غیر ضروری پابندیوں میں کمی، سامان اور سرمایہ کی آزادانہ نقل و حرکت، علاقائی تجارت میں اضافہ اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق بحری راستوں کی آزادی کو یقینی بنانا اہم اقدامات قرار دیے جا سکتے ہیں۔اس نقطۂ نظر کی بنیادی منطق یہ ہے کہ اگر خطے کے ممالک ایک دوسرے کے ساتھ وسیع پیمانے پر اقتصادی مفادات وابستہ کر لیں تو مشترکہ معاشی مفادات سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں
۔یعنی سلامتی کا تصور صرف عسکری طاقت تک محدود نہ رہے بلکہ اقتصادی باہمی انحصار بھی علاقائی استحکام کا ایک اہم ستون بنے۔—سعودی عرب کی سلامتی: خلیجی ترجیحات کا مرکزی محورحمد بن جاسم کے سیاسی و سلامتی تصور میں مملکتِ سعودی عرب کی سلامتی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، خصوصاً سعودی عرب کی جنوبی سرحدوں، یمن کی صورتحال اور بحیرۂ احمر سے متعلق بڑھتے ہوئے سلامتی کے خدشات کے تناظر میں۔اس نقطۂ نظر کے مطابق سعودی عرب کی سرزمین کو لاحق کوئی سنگین خطرہ محض ریاض کا دوطرفہ مسئلہ نہیں سمجھا جانا چاہیے، بلکہ اسے خلیج کی اجتماعی سلامتی کے لیے ایک وسیع تر چیلنج کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔یہی تصور ’درع الجزیرہ‘ یا Peninsula Shield Force کے کردار کو دوبارہ فعال بنانے کی بحث کو بھی اہمیت دیتا ہے۔’درع الجزیرہ‘ خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کی مشترکہ دفاعی و عسکری صلاحیت کا ایک اہم جزو ہے۔ اس کے کردار کو مؤثر بنانے کا تصور اس بنیاد پر سامنے آتا ہے کہ اگر کسی رکن ریاست کو براہِ راست سنگین سلامتی کے خطرے کا سامنا ہو تو اجتماعی دفاعی صلاحیت کو بروئے کار لایا جا سکے۔تاہم عملی طور پر اس فورس کے کسی بڑے یا نئے کردار کے لیے خلیجی ریاستوں کے درمیان سیاسی اتفاقِ رائے، عسکری منصوبہ بندی، کمانڈ اینڈ کنٹرول، مشن کی حدود اور قواعدِ اشتباك جیسے بنیادی معاملات پر اتفاق ضروری ہوگا۔اس لیے محض سیاسی اپیل کو عملی عسکری پالیسی میں تبدیل کرنا ایک پیچیدہ عمل ہوگا۔—طاقت اور مذاکرات: دو متوازی راستےحمد بن جاسم کے پیش کردہ تصور کو بنیادی طور پر دو متوازی راستوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔پہلا راستہ: اجتماعی دفاع اور بازدار قوتخلیجی ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مربوط بنائیں، اپنی سرزمین، اہم تنصیبات، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بحری راستوں کے تحفظ کی صلاحیت میں اضافہ کریں اور کسی بھی بیرونی خطرے کے مقابلے میں اجتماعی ردعمل کی استعداد برقرار رکھیں۔دوسرا راستہ: براہِ راست سفارت کاریخلیجی ممالک ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے ذریعے سیاسی، سلامتی، اقتصادی اور علاقائی تنازعات کے حل کی کوشش کریں اور ایک ایسے فریم ورک کی تشکیل کی جائے جس میں اختلافات کو فوجی تصادم کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے۔اس تصور کے تحت مذاکرات اور دفاعی طاقت ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل بن سکتے ہیں۔یعنی مؤثر دفاعی بازدار قوت کسی بھی فریق کو طاقت کے ذریعے یک طرفہ طور پر صورتِ حال تبدیل کرنے سے روک سکتی ہے، جبکہ مذاکراتی عمل کشیدگی کو کھلے تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنے کا سیاسی راستہ فراہم کر سکتا ہے۔-
–ایران کے سامنے اعتماد سازی کا امتحاناس پورے عمل کا سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ کیا ایران خلیجی ممالک کے ساتھ اعتماد سازی کے لیے عملی اقدامات پر آمادہ ہوتا ہے؟عارضی کشیدگی میں کمی کو مستقل علاقائی استحکام میں تبدیل کرنے کے لیے محض سیاسی بیانات کافی نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے خودمختاری کے احترام، عدم مداخلت، علاقائی سلامتی اور پڑوسی ممالک کے خلاف طاقت کے استعمال یا دباؤ کے خدشات سے متعلق واضح یقین دہانیوں کی ضرورت ہوگی۔خلیجی نقطۂ نظر سے ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ آیا ایران اپنے ہمسایہ ممالک کی سلامتی کو بڑی طاقتوں کے ساتھ اپنے تنازعات یا مذاکرات میں دباؤ کے ایک آلے کے طور پر استعمال کرنے سے گریز کرے گا۔دوسری جانب کسی بھی کامیاب خلیجی ـ ایرانی مذاکراتی عمل کے لیے ایران کے اپنے سلامتی خدشات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر مذاکرات صرف ایک فریق کے مطالبات اور دوسرے فریق کی شرائط تک محدود رہے تو دیرپا اعتماد پیدا کرنا مشکل ہوگا۔اس لیے ایک پائیدار علاقائی معاہدے کے لیے باہمی سلامتی، باہمی خودمختاری اور باہمی ذمہ داری کے اصولوں کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔—سیاسی تجزیہ: خلیج کس سمت بڑھ رہا ہے؟حمد بن جاسم کے اس وژن کی اہمیت اس بات میں ہے کہ یہ سلامتی اور سفارت کاری کو ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ مشترکہ حکمتِ عملی کے دو ستونوں کے طور پر دیکھتا ہے۔اگر خلیجی ممالک ایران کے ساتھ مذاکرات میں ایک مربوط اور مشترکہ سیاسی و سلامتی مؤقف اختیار کرتے ہیں تو ان کی اجتماعی مذاکراتی قوت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔دوسری جانب اگر خلیجی ریاستیں داخلی اختلافات کا شکار رہیں اور ہر ملک ایران کے ساتھ اپنے الگ الگ دوطرفہ مفادات کو ترجیح دے تو مشترکہ علاقائی سلامتی کا تصور کمزور پڑ سکتا ہے۔یہاں خلیجی ممالک کے درمیان ایران کے حوالے سے مختلف پالیسی ترجیحات بھی ایک اہم عامل ہیں۔ بعض ریاستیں کشیدگی کم کرنے اور اقتصادی روابط کو فروغ دینے کو ترجیح دیتی ہیں، جبکہ دیگر ریاستیں ایران کی علاقائی سرگرمیوں کے حوالے سے زیادہ سخت سلامتی نقطۂ نظر رکھتی ہیں۔اسی طرح یمن، بحیرۂ احمر، خلیج، آبنائے ہرمز اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کا بحران کسی ایک ملک کے فیصلے سے حل نہیں ہو سکتا۔اس صورتحال میں امریکا، ایران، اسرائیل اور علاقائی طاقتوں کے درمیان جاری وسیع تر اسٹریٹجک مسابقت بھی خلیجی سلامتی کے مستقبل پر اثرانداز ہوگی۔—ممکنہ منظرنامےپہلا منظرنامہ: سفارتی پیش رفتاگر مسقط میں مذاکرات کے دوران خلیجی ممالک اور ایران اعتماد سازی کے عملی اقدامات، بحری سلامتی، عدم مداخلت اور علاقائی تنازعات کے حوالے سے کسی بنیادی فریم ورک پر اتفاق کر لیتے ہیں تو یہ خلیج میں ایک نئے سفارتی دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔دوسرا منظرنامہ: محدود مفاہمتممکن ہے کہ فریقین وسیع تر سیاسی تنازعات حل نہ کر سکیں، لیکن کشیدگی کم کرنے، براہِ راست رابطے برقرار رکھنے اور بحری سلامتی جیسے مخصوص معاملات پر محدود اتفاق رائے پیدا کر لیں۔ یہ بھی ایک اہم پیش رفت ہوگی، اگرچہ اسے مکمل علاقائی امن نہیں کہا جا سکے گا۔تیسرا منظرنامہ: سفارتی تعطلاگر بنیادی اختلافات برقرار رہے،
اعتماد سازی کے اقدامات سامنے نہ آئے اور علاقائی سلامتی کے مسائل پر فریقین کے مؤقف میں فاصلہ برقرار رہا تو مسقط کا اجلاس محض ایک اور سفارتی رابطہ بن کر رہ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں عملی سطح پر بڑی تبدیلی نہ آئے۔—خلاصہ اور نتیجہمسقط میں خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات محض ایک روایتی سفارتی ملاقات نہیں بلکہ خلیج کے مستقبل کے علاقائی سلامتی نظام کا ایک اہم امتحان ثابت ہو سکتے ہیں۔حمد بن جاسم کا پیش کردہ تصور بنیادی طور پر یہ پیغام دیتا ہے کہ مذاکرات کے لیے طاقت اور طاقت کے استعمال سے گریز کے لیے مذاکرات، دونوں ضروری ہیں۔ایک طرف خلیجی ممالک کو اپنی اجتماعی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ براہِ راست سیاسی رابطے کا راستہ بھی کھلا رکھنا ضروری ہے۔’درع الجزیرہ‘ کو فعال کرنے کی بحث اسی اجتماعی دفاعی سوچ کی نمائندگی کرتی ہے، جبکہ مسقط میں ممکنہ مذاکرات سفارتی راستے کی علامت ہیں۔اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب خلیجی ریاستیں دفاعی اتحاد، سیاسی یکجہتی، اقتصادی باہمی انحصار اور سفارتی مذاکرات کو ایک مربوط علاقائی حکمتِ عملی میں تبدیل کر سکیں۔بالآخر فیصلہ کن سوال یہی ہے:کیا خلیجی ممالک اپنی داخلی ترجیحات اور باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ سلامتی پالیسی تشکیل دے سکتے ہیں؟ اور کیا ایران ایسے عملی اقدامات کے لیے تیار ہوگا جو خلیجی ریاستوں کے اعتماد کو بحال کرنے اور خطے میں مستقل کشیدگی کے خاتمے کی بنیاد بن سکیں؟اگر دونوں سوالوں کا جواب مثبت سمت میں نکلتا ہے تو مسقط محض مذاکرات کی میز نہیں بلکہ ایک نئے علاقائی سلامتی اور اقتصادی تعاون کے نظام کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔لیکن اگر بنیادی اختلافات، باہمی عدم اعتماد اور علاقائی طاقتوں کی کشمکش غالب رہی تو یہ عمل ایک عارضی سفارتی وقفے سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔خلیج اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے صرف یہ فیصلہ نہیں کرنا کہ ایران سے بات کرنی ہے یا نہیں؛ اصل فیصلہ یہ ہے کہ مستقبل کی علاقائی سلامتی کا نظام تصادم، بیرونی ضمانتوں اور عارضی مفاہمتوں پر قائم ہوگا یا باہمی طاقت، اجتماعی دفاع، براہِ راست مذاکرات اور مشترکہ اقتصادی مفادات پر۔
🔴 شرورہ پر حوثیوں کا بڑا میزائل و ڈرون حملہسعودی سرزمین کی گہرائی میں نئی عسکری پیش قدمی، علاقائی محاذ پھیلنے کا خدشہصنعاء/ریاض — 13 ستمبر 2026 | الخبر للنشر والتوزيعیمن کی انصار اللہ تحریک کے عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثی فورسز نے جنوبی سعودی عرب کے سرحدی علاقے شرورہ میں ایک سعودی عسکری تنصیب کو بیلسٹک میزائلوں اور حملہ آور ڈرونز کی بڑی تعداد سے نشانہ بنایا۔حوثی ترجمان کے مطابق حملے میں عسکری تنصیبات، ہتھیاروں کے ذخائر، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور لاجسٹک سہولتوں کو ہدف بنایا گیا۔ انصار اللہ نے کارروائی کو یمن میں جاری سعودی فوجی کارروائیوں کا جواب قرار دیتے ہوئے مستقبل میں مزید حملوں کا عندیہ بھی دیا۔تاہم، شرورہ میں مبینہ حملے، اس کے اہداف اور نقصانات سے متعلق حوثیوں کے دعووں کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔ سعودی حکام کی جانب سے بھی اس مخصوص دعوے کی فوری تصدیق یا تردید دستیاب نہیں ہے۔🔴 شرورہ: جغرافیائی اور عسکری اہمیتشرورہ سعودی عرب کے نجران ریجن میں یمنی سرحد کے قریب واقع ایک اہم علاقہ ہے۔ اس کا محلِ وقوع اسے سعودی جنوبی دفاعی نظام اور یمن سے آنے والے ممکنہ میزائل و ڈرون خطرات کے تناظر میں اہم بناتا ہے۔اگر حوثیوں کا دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے کہ ایک حساس عسکری تنصیب کو بیک وقت میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا، تو یہ سعودی جنوبی دفاعی پٹی پر دباؤ بڑھانے کی ایک واضح کوشش تصور کی جا سکتی ہے۔🔴 میزائل اور ڈرون کا مشترکہ حملہمبینہ کارروائی کا اہم پہلو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا بیک وقت استعمال ہے۔ عسکری اعتبار سے اس طرح کے مشترکہ حملے کا مقصد دفاعی نظام کو متعدد سمتوں سے دباؤ میں لانا اور دفاعی ردِعمل کو پیچیدہ بنانا ہو سکتا ہے۔تاہم، اس مرحلے پر یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ سعودی فضائی دفاعی نظام کو کس حد تک متاثر کیا گیا یا مبینہ اہداف کو کتنا نقصان پہنچا۔🔴 بڑھتا ہوا جنوبی سعودی سکیورٹی چیلنجشرورہ کا دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جنوبی سعودی عرب میں میزائل اور ڈرون حملوں کے حوالے سے کشیدگی دوبارہ بڑھ رہی ہے۔حالیہ واقعات نے یہ خدشہ پیدا کیا ہے کہ یمن کا تنازع دوبارہ سعودی سرزمین، خصوصاً جنوبی سرحدی علاقوں، کے لیے براہِ راست سکیورٹی خطرہ بن سکتا ہے۔ اگر حملوں کا یہ سلسلہ برقرار رہتا ہے تو ریاض کو سرحدی دفاع، فضائی نگرانی اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے اضافی وسائل مختص کرنا پڑ سکتے ہیں۔
🔴 عسکری تجزیہ: اصل ہدف ڈیٹرنس؟شرورہ کارروائی کے دعوے کی اصل عسکری اہمیت مبینہ نقصان سے زیادہ ڈیٹرنس اور رسائی کے پیغام میں ہے۔حوثی قیادت بظاہر یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ سعودی سرزمین کے اندر حساس عسکری اہداف بھی اس کے میزائل اور ڈرون نظام کی ممکنہ زد میں آ سکتے ہیں اور یمن میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کا جواب سعودی حدود کے اندر دیا جا سکتا ہے۔دوسری جانب ریاض کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ وہ جنوبی سرحد کے دفاع، فضائی خطرات کی روک تھام اور توانائی و مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کو کس طرح یقینی بناتا ہے۔یہ صورتحال ایک ایسے غیر متوازن عسکری مقابلے کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے جس میں کم لاگت والے ڈرونز اور نسبتاً زیادہ مؤثر طویل فاصلے کے میزائل دفاعی نظام پر مسلسل دباؤ پیدا کر سکتے ہیں۔🔴 باب المندب سے سعودی سرحد تک: محاذ کے پھیلاؤ کا خدشہیمن کا بحران اب صرف زمینی جنگ تک محدود نہیں رہا۔ بحیرۂ احمر، باب المندب، خلیجی سلامتی، عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل ایک دوسرے سے جڑتے جا رہے ہیں۔اگر جنوبی سعودی عرب میں میزائل و ڈرون حملوں کا سلسلہ بحیرۂ احمر میں بڑھتے ہوئے بحری خطرات کے ساتھ بیک وقت جاری رہتا ہے تو خطے میں ایک کثیرمحاذ سکیورٹی بحران پیدا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات سعودی عرب اور یمن سے آگے عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔🔴 سیاسی مضمراتسیاسی سطح پر شرورہ کا واقعہ سعودی عرب کے لیے ایک مشکل توازن پیدا کرتا ہے۔ ایک طرف ریاض کو اپنی سرزمین اور شہری و عسکری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنانا ہے، جبکہ دوسری طرف یمن میں کسی بڑے عسکری ردِعمل سے تنازع کے مزید پھیلنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔حوثیوں کے لیے بھی یہ کارروائیاں صرف عسکری نہیں بلکہ سیاسی دباؤ کا ذریعہ ہیں۔ سعودی سرزمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا تاثر قائم کرنا مذاکراتی اور علاقائی طاقت کے توازن میں ان کی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے
۔🔴 نتیجہشرورہ پر حوثیوں کا مبینہ میزائل و ڈرون حملہ، اگر آزاد ذرائع سے تصدیق ہو جاتا ہے، تو سعودی-حوثی محاذ میں عسکری دباؤ کے ایک نئے مرحلے کی علامت بن سکتا ہے۔تاہم، موجودہ مرحلے پر حوثی بیان کو دعویٰ ہی سمجھنا ضروری ہے اور حملے کے اہداف، کامیابی اور نقصانات سے متعلق غیرمصدقہ تفصیلات کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔اس کے باوجود مجموعی علاقائی صورتحال ایک واضح رجحان کی طرف اشارہ کر رہی ہے: یمن کا تنازع دوبارہ سعودی سرحد، بحیرۂ احمر اور علاقائی توانائی و تجارتی راستوں کے ساتھ جڑ رہا ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو شرورہ جیسے واقعات ایک وسیع تر علاقائی عسکری بحران کے محرک بن سکتے ہیں۔
ایران کس کے مفاد میں لڑ رہا ہے؟پاکستان میں ایک مقبول بیانیہ یہ ہے کہ ایران جو کچھ کر رہا ہے، وہ فلسطین کے دفاع اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی جنگ ہے۔ اس بیانیے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ایران خطے میں واحد ملک ہے جو اسرائیل کے سامنے کھڑا ہے۔لیکن کبھی کبھی جذبات سے ہٹ کر یہ سوال بھی پوچھ لینا چاہیے کہ کسی جنگ کا مقصد کیا بتایا جا رہا ہے اور اس کا عملی نتیجہ کیا نکل رہا ہے؟میری نظر میں ایران کی گزشتہ کئی برسوں کی علاقائی پالیسی نے فلسطین کے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے مزید پیچیدہ کیا ہے۔ حماس، حزب اللہ، حوثیوں اور عراق کی مختلف مسلح ملیشیاؤں کے ذریعے ایران نے ایک ایسا ’’محورِ مزاحمت‘‘ ضرور تشکیل دیا جس نے اسرائیل اور امریکہ کو مسلسل چیلنج کیا، لیکن اس کے نتیجے میں پورا خطہ مسلسل جنگ کے خطرے میں چلا گیا۔سوال یہ ہے کہ اس کا فائدہ کس کو ہوا؟فلسطینی ریاست آج بھی قائم نہیں ہوئی۔غزہ تباہ ہو گیا۔لبنان بار بار جنگ کے خطرے سے دوچار ہے۔یمن ایک طویل جنگ میں پھنسا ہوا ہے۔عراق میں مسلح گروہوں کی سیاست نے ریاستی اختیار کو کمزور کیا۔اور اب خلیج کے ممالک بھی اس کشیدگی کی زد میں آ رہے ہیں۔حالیہ دنوں میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں اور باب المندب جیسے اہم بحری راستے پر ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے بحران کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔سوچیے:سعودی عرب غیر محفوظ ہو رہا ہے،قطر خطرے میں ہے،متحدہ عرب امارات دباؤ میں ہے،کویت اور بحرین خطے کی کشیدگی سے متاثر ہو رہے ہیں،یمن پہلے ہی تباہ ہو چکا ہے،اور عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل بھی خطرے میں ہے۔تو پھر سوال یہ ہے کہ اس پورے عدم استحکام کا سب سے بڑا فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟
کیا فلسطین کو؟اگر فلسطین کو فائدہ پہنچ رہا ہے تو وہ فائدہ کہاں ہے؟یا پھر اسرائیل کو یہ موقع مل رہا ہے کہ وہ فلسطین کے اصل مسئلے سے دنیا کی توجہ ہٹا کر اپنے گرد موجود پورے خطے کو ’’سکیورٹی تھریٹ‘‘ کے طور پر پیش کرے؟اور امریکہ کو یہ موقع مل رہا ہے کہ وہ دوبارہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی، اسلحے کی فروخت اور تزویراتی اہمیت کو بڑھائے؟یہاں میری نظر میں ایک انتہائی اہم سوال پیدا ہوتا ہے:کیا ایران اسرائیل اور امریکہ کا باقاعدہ اتحادی یا پراکسی ہے؟میں یہ دعویٰ نہیں کر رہا کہ ایران شعوری طور پر اسرائیل یا امریکہ کے لیے کام کرتا ہے۔ لیکن یہ ضرور پوچھ رہا ہوں کہ ایران کی موجودہ حکمتِ عملی کے عملی نتائج بار بار اسرائیل اور امریکہ کے اسٹریٹجک مفادات کے لیے کیوں سازگار ثابت ہو رہے ہیں؟ایک طرف اسرائیل کو اپنے خلاف موجود خطرات کا جواز ملتا ہے، دوسری طرف امریکہ کو خطے میں اپنی فوجی موجودگی کا جواز ملتا ہے، اور تیسری طرف عرب ممالک اپنے وسائل دفاع پر خرچ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔یعنی جنگ بڑھتی ہے، خطہ غیر مستحکم ہوتا ہے، تیل مہنگا ہوتا ہے، تجارت متاثر ہوتی ہے، عرب ریاستیں خوفزدہ ہوتی ہیں اور امریکہ دوبارہ ’’علاقائی سکیورٹی کا ضامن‘‘ بن کر سامنے آتا ہے۔تو پھر ہمیں صرف یہ سوال نہیں پوچھنا چاہیے کہ:’’ایران اسرائیل کے خلاف لڑ رہا ہے یا نہیں؟‘‘اصل سوال یہ ہے:’’ایران کی یہ جنگ آخر کس کے مفاد میں جا رہی ہے؟‘‘فلسطین کے نام پر پورے خطے کو آگ میں جھونک دینا فلسطین کی مدد نہیں۔فلسطین کو ایک آزاد ریاست، سیاسی حل، سفارتی حمایت اور ایک پائیدار امن چاہیے۔ایسی جنگ نہیں جس میں فلسطین کہیں پیچھے رہ جائے اور اسرائیل، امریکہ اور علاقائی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کی جنگ لڑتی رہیں۔اور شاید آج سب سے مشکل سوال یہی ہے:اگر ایران کی حکمتِ عملی اسرائیل کو کمزور کرنے کے لیے ہے، تو پھر اسرائیل ہر نئی جنگ کے بعد پہلے سے زیادہ طاقتور، زیادہ جارح اور زیادہ عالمی حمایت حاصل کرتا ہوا کیوں نظر آتا ہے؟
سعودی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن بند، عالمی تیل منڈی کو چند دن میں نئے بحران کا خطرہریاض — عالمی توانائی و سکیورٹی رپورٹسعودی عرب کی اہم East-West Oil Pipeline کی بندش نے عالمی تیل منڈی میں ایک نئے اور سنگین سپلائی بحران کے خدشات پیدا کر دیے ہیں، جبکہ صنعتی ذرائع کے مطابق اگر پائپ لائن کی ترسیل چند روز میں بحال نہ ہوئی تو بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع (Yanbu) پر موجود برآمدی ذخائر محدود مدت کے بعد دباؤ میں آ سکتے ہیں۔رائٹرز کے مطابق سعودی تیل خریداروں اور تجارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ینبع میں موجود ذخائر موجودہ حالات میں تقریباً پانچ سے سات دن تک برآمدی سرگرمی کو سہارا دے سکتے ہیں، تاہم پائپ لائن کی بحالی میں تاخیر کی صورت میں سعودی عرب کے لیے اپنے معمول کے برآمدی بہاؤ کو برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔یہ صورتحال اس لیے زیادہ حساس ہے کہ تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل East-West Pipeline سعودی عرب کے مشرقی تیل پیدا کرنے والے علاقوں کو بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع سے ملاتی ہے اور خلیج فارس سے آنے والے خام تیل کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر عالمی منڈیوں تک پہنچانے کا اہم متبادل راستہ فراہم کرتی ہے۔تقریباً 4 فیصد عالمی سپلائی خطرے میں؟رائٹرز کے مطابق یہ پائپ لائن حالیہ عرصے میں تقریباً 4 ملین بیرل یومیہ خام تیل ینبع تک منتقل کر رہی تھی، جو عالمی تیل سپلائی کے تقریباً 4 فیصد کے برابر ہے۔ بعض رپورٹس میں اس کی موجودہ گنجائش یا استعمال کو 4 سے 5 ملین بیرل یومیہ تک بیان کیا گیا ہے۔یہاں ایک اہم فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے: 4 فیصد عالمی سپلائی کا خطرہ اس وقت پیدا ہوگا جب اتنی بڑی مقدار کا متبادل انتظام نہ ہوسکے؛ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پائپ لائن بند ہوتے ہی عالمی پیداوار کا پورا 4 فیصد فوری طور پر مارکیٹ سے غائب ہوگیا ہے۔حملہ کہاں سے ہوا؟تازہ Reuters رپورٹ کے مطابق پائپ لائن پر ڈرون حملے کے بعد سعودی عرب نے اسے عارضی طور پر بند کیا۔ سعودی حکام کے مطابق حملے سے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا اور بعض افراد زخمی ہوئے۔ دستیاب رپورٹنگ میں حملے کے ڈرونز کے عراق سے آنے کا ذکر ہے،
جبکہ کسی ایک گروہ کی جانب سے فوری ذمہ داری قبول کرنے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد میں ایران کو ممکنہ طور پر ذمہ دار قرار دیا، تاہم اسے بھی امریکی صدر کا الزام/اندازہ سمجھا جانا چاہیے، قطعی آزادانہ تصدیق نہیں۔لہٰذا خبر میں اسے “حوثیوں کے حملے سے پائپ لائن بند” کہنا فی الحال مناسب نہیں ہوگا۔بحالی کا وقت سب سے بڑا سوالپائپ لائن کی بحالی کی مدت ابھی غیر یقینی ہے۔ صنعتی ذرائع میں مرمت کے دورانیے کے بارے میں مختلف اندازے سامنے آئے ہیں؛ بعض ذرائع نے پانچ سے چھ ہفتے تک کا امکان ظاہر کیا، جبکہ دیگر کے مطابق جزوی پمپنگ مرمت کے دوران بھی بحال ہوسکتی ہے۔یہی غیر یقینی صورتحال تیل کی منڈی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔اگر مرمت چند دن میں مکمل ہوگئی تو سعودی عرب محدود ذخائر، متبادل راستوں اور دستیاب برآمدی انتظامات کے ذریعے صورتحال کو سنبھال سکتا ہے۔ لیکن اگر بندش کئی ہفتوں تک جاری رہی تو مسئلہ صرف ینبع کے ذخائر تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی منڈی میں دستیاب physical crude کی مقدار متاثر ہوسکتی ہے۔مصر کے متبادل راستے بھی محدودصنعتی ذرائع کے مطابق سعودی خام تیل کے کچھ ذخائر اور متبادل برآمدی انتظامات مصر کے Ain Sokhna اور Sidi Kerir جیسے مراکز کے ذریعے عالمی خریداروں کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔تاہم یہ متبادل راستے مستقل حل نہیں ہیں۔ ان کی صلاحیت اور دستیاب ذخائر محدود ہونے کے باعث طویل عرصے تک سعودی برآمدی کمی کو مکمل طور پر جذب کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔سعودی پیداوار پہلے ہی دباؤ میںیہ بحران ایسے وقت پیدا ہوا ہے جب سعودی تیل کی پیداوار پہلے ہی نمایاں طور پر کم ہوچکی ہے۔رائٹرز اور بین الاقوامی توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق اگست میں سعودی crude supply تقریباً 6 ملین بیرل یومیہ کی سطح تک گر گئی، جو تین دہائیوں سے زائد عرصے کی کم ترین سطحوں میں شامل ہے۔ سعودی عرب نے OPEC کو اگست کی پیداوار تقریباً 6.238 ملین بیرل یومیہ رپورٹ کی۔اس طرح East-West Pipeline کی بندش ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب عالمی منڈی پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ میں جنگ، آبنائے ہرمز میں شدید رکاوٹ، بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے خطرات اور خام تیل کی محدود دستیابی کا سامنا کر رہی ہے۔ینبع کے بعد اصل مسئلہ کہاں پیدا ہوگا؟اصل خطرہ اس وقت بڑھ جائے گا جب سعودی عرب کے پاس تیل تو موجود ہو لیکن اسے عالمی خریداروں تک پہنچانے کے قابل محفوظ اور قابلِ اعتماد برآمدی راستے محدود ہوجائیں۔سعودی عرب کے لیے East-West Pipeline کی اہمیت اسی مقام پر واضح ہوتی ہے۔ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے دوران یہ پائپ لائن سعودی crude کو خلیج فارس سے نکال کر بحیرۂ احمر تک پہنچانے والا بنیادی overland bypass بن گئی تھی۔اب اگر یہی متبادل راستہ بھی طویل مدت کے لیے بند رہتا ہے تو سعودی برآمدات کو ایک ایسے وقت میں اضافی دباؤ کا سامنا ہوگا جب خطے کے دیگر maritime corridors بھی شدید خطرات سے دوچار ہیں۔تیل کی قیمت اور عالمی افراطِ زر پر اثرسپلائی میں مزید کمی کی صورت میں عالمی تیل کی قیمتوں پر اوپر کی طرف دباؤ بڑھ سکتا ہے۔خام تیل کی بلند قیمتیں صرف پٹرول اور ڈیزل تک محدود نہیں رہتیں بلکہ transport، aviation، shipping، petrochemicals، بجلی کی لاگت اور خوراک کی ترسیل سمیت پوری عالمی supply chain کو متاثر کرتی ہیں۔اسی وجہ سے East-West Pipeline کا مسئلہ سعودی عرب کا محض ایک مقامی infrastructure بحران نہیں بلکہ عالمی energy-security challenge بن سکتا ہے۔رائٹرز کے مطابق عالمی تیل منڈی پہلے ہی شدید supply disruptions کا سامنا کر رہی ہے اور حالیہ حالات نے قیمتوں اور افراط زر کے خدشات میں مزید اضافہ کیا ہے۔اگلے 5–7 دن فیصلہ کنموجودہ صورتحال میں سب سے اہم indicators یہ ہوں گے:- ینبع میں crude loading کی رفتار؛- East-West Pipeline کی مرمت اور جزوی بحالی؛- سعودی متبادل برآمدی راستوں کی گنجائش؛- آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کی صورتحال؛- بحیرۂ احمر اور باب المندب میں maritime security؛- عالمی خریداروں، بالخصوص ایشیائی refiners، کی اضافی crude demand؛- Brent اور WTI کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ یا استحکام۔اگر پائپ لائن جلد بحال ہوگئی تو موجودہ بحران کو عارضی supply shock تک محدود کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر بندش کئی ہفتوں تک برقرار رہی تو سعودی برآمدات، عالمی crude availability اور fuel prices پر اس کے اثرات زیادہ دیرپا ہوسکتے ہیں۔خلاصہسعودی East-West Pipeline کی بندش عالمی تیل منڈی کے لیے فوری طور پر 4 فیصد سپلائی کے غائب ہونے کے برابر نہیں، لیکن یہ ایک انتہائی حساس supply chokepoint کے ناکارہ ہونے کی علامت ہے
۔ینبع کے ذخائر کی مبینہ پانچ سے سات دن کی گنجائش، سعودی پیداوار میں پہلے سے موجود نمایاں کمی، آبنائے ہرمز کی رکاوٹ اور بحیرۂ احمر میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات ایک دوسرے کو تقویت دے رہے ہیں۔اصل فیصلہ کن سوال اب یہ نہیں کہ سعودی عرب کے پاس زیرِ زمین کتنا تیل موجود ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ تیل عالمی خریداروں تک کتنی تیزی، محفوظ طریقے اور مسلسل پہنچا سکتا ہے۔اگر پائپ لائن چند دنوں میں بحال نہ ہوئی تو موجودہ بحران ایک Saudi infrastructure disruption سے بڑھ کر عالمی oil-supply shock میں تبدیل ہوسکتا ہے۔اگلے چند دن عالمی تیل منڈی کے لیے انتہائی اہم ہوں گے: پائپ لائن جلد بحال ہوتی ہے یا ینبع کے ذخائر ختم ہونے کا دباؤ عالمی قیمتوں کو ایک نئی سطح تک لے جاتا ہے۔
ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا سلسلہ جاری ہے، ڈیڑھ ماہ کے دوران پٹرول کی قیمت میں 55 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 38 روپے فی لٹر اضافہ ہوچکا ہے۔21 جولائی کے بعد پٹرول کی قیمت 315 روپے 80 پیسے سے بڑھ کر 370 روپے 80 پیسے فی لٹر ہوگئی، جبکہ ڈیزل کی قیمت 360 روپے سے بڑھ کر 398 روپے 4 پیسے فی لٹر تک پہنچ گئی۔ صرف گزشتہ چار روز کے دوران پٹرول کی قیمت میں 24 روپے 93 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 20 روپے فی لٹر اضافہ ہوا۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ پٹرولیم لیوی کی شرح میں بھی اضافہ کیا گیا۔ گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران ڈیزل پر لیوی 14 روپے بڑھا کر 66 روپے سے 80 روپے فی لٹر کردی گئی۔موجودہ قیمت میں پیٹرول پر تقریباً 24 فیصد جبکہ ڈیزل پر تقریباً 25 فیصد لیوی شامل ہے۔سما ٹی وی کے مطابق دستاویزات کے تحت مالی سال 2025-26 میں حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں 1567 ارب روپے وصول کیے، جو مقررہ ہدف سے 99 ارب روپے زیادہ ہیں۔ پٹرولیم لیوی کی وصولی کا ہدف 1468 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا۔رواں مالی سال پٹرولیم لیوی کی مد میں 1676 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ کاربن لیوی کی مد میں بھی گزشتہ مالی سال 50 ارب روپے اضافی وصول کیے گئے۔رواں مالی سال کاربن لیوی کی مد میں 100 ارب روپے سے زائد وصولی کا ہدف مقرر ہے۔مالی سال 2024-25 میں پٹرولیم لیوی کی مد میں 1220 ارب روپے وصول ہوئے، جبکہ مارچ سے جون 2024 کے دوران پٹرولیم لیوی سے 300 ارب روپے آمدن حاصل ہوئی۔
11 ستمبر ، 2026*وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک کے مختلف علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا نوٹس لے لیا**وزیراعظم کا ملک کے مختلف شہروں میں بجلی کی بڑھتی ہوئی لوڈ شیڈنگ پر اظہار برہمی* *کسی بھی علاقے میں دو گھنٹے سے زیادہ لوڈ شیڈنگ نہ کی جائے۔ وزیر اعظم*وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں بجلی کی لوڈ مینیجمینٹ پر اہم جائزہ اجلاساجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ خطے کی حالیہ صورتحال اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور ترسیلی مشکلات کے باعث آر ایل این جی کی فراہمی متاثر ہونے سے بجلی کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں طلب و رسد میں توازن برقرار رکھنے کے لیے مجبورا” لوڈ مینجمنٹ کرنی پڑ رہی ہے۔ خطے کی صورتحال اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے، آر ایل این جی کی ترسیل میں تعطل سے نمٹنے کے لئے فوری اقدامات لئے جائیں۔وزیر اعظم کی ھدایتتمام موجود وسائل کا موثر استعمال کیا جائے تاکہ کسی علاقے میں دو گھنٹے سے زیادہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہ ہو: وزیراعظم کی ہدایتوزیراعظم کا ملک بھر میں بجلی کی ترسیل اور دیگر تمام مسائل سے متعلق عوامی شکایات کے ازالے کے لئے ڈسکوز کی سطح پر کنزیومر گریوینس ریڈریسل کمیٹیاں Consumer Grievance Redressal Committees قائم کرنے کے احکامات ریڈریسل کمیٹی میں عوامی نمائندگی بھی ہونی چاہئے۔ وزیر اعظم کی ھدایتایک ہفتے کے اندر گریونس کمیٹیوں کو فعال کیا جائے۔ وزیر اعظم کی ھدایت اجلاس کو بتایا گیا کہ ہیلپ لائین نمبر 118 کے ذریعے بجلی صارفین اپنی شکایات درج کروا سکتے ہیں ، شکایت درج کروانے پر صارف کو ٹوکن نمبر اور شکایت کے ازالے کا وقت بھی بتایا جاتا ہے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت ماسوائے ضلع راجن پور کے 6 بجلی صارفین کے ملک بھر کے کسی صارف کی بجلی مون سون بارشوں کی وجہ سے متاثر نہیں ہے۔اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس لغاری، مشیر وزیر اعظم رانا ثناء اللہ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔__
ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا سلسلہ جاری ہے، ڈیڑھ ماہ کے دوران پٹرول کی قیمت میں 55 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 38 روپے فی لٹر اضافہ ہوچکا ہے۔21 جولائی کے بعد پٹرول کی قیمت 315 روپے 80 پیسے سے بڑھ کر 370 روپے 80 پیسے فی لٹر ہوگئی، جبکہ ڈیزل کی قیمت 360 روپے سے بڑھ کر 398 روپے 4 پیسے فی لٹر تک پہنچ گئی۔ صرف گزشتہ چار روز کے دوران پٹرول کی قیمت میں 24 روپے 93 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 20 روپے فی لٹر اضافہ ہوا۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ پٹرولیم لیوی کی شرح میں بھی اضافہ کیا گیا۔ گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران ڈیزل پر لیوی 14 روپے بڑھا کر 66 روپے سے 80 روپے فی لٹر کردی گئی۔موجودہ قیمت میں پیٹرول پر تقریباً 24 فیصد جبکہ ڈیزل پر تقریباً 25 فیصد لیوی شامل ہے۔سما ٹی وی کے مطابق دستاویزات کے تحت مالی سال 2025-26 میں حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں 1567 ارب روپے وصول کیے، جو مقررہ ہدف سے 99 ارب روپے زیادہ ہیں۔ پٹرولیم لیوی کی وصولی کا ہدف 1468 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا۔رواں مالی سال پٹرولیم لیوی کی مد میں 1676 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ کاربن لیوی کی مد میں بھی گزشتہ مالی سال 50 ارب روپے اضافی وصول کیے گئے۔رواں مالی سال کاربن لیوی کی مد میں 100 ارب روپے سے زائد وصولی کا ہدف مقرر ہے۔مالی سال 2024-25 میں پٹرولیم لیوی کی مد میں 1220 ارب روپے وصول ہوئے، جبکہ مارچ سے جون 2024 کے دوران پٹرولیم لیوی سے 300 ارب روپے آمدن حاصل ہوئی۔
حوثیوں نے باب المندب کے قریب واقع اہم علاقوں پر اپنا کنٹرول مضبوط کر لیا ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر سے حوثیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تاہم ٹرمپ نے صرف انٹیلی جنس اور اہداف کی نشاندہی سے متعلق مدد کی پیشکش کی
*میر رضا کیس، وزیر داخلہ سندھ جوڈیشل کمیشن میں پیش، ایڈووکیٹ جنرل کے رویے پر معذرت کرلی*“`ایڈووکیٹ جنرل سندھ بہت قابل وکیل ہیں، امید کرتا ہوں وہ برقرار رہیں گے،جسٹس عمر سیال“`
*انکم ٹیکس نظام میں بڑی تبدیلیاں متعارف، تنخواہ دار طبقہ کیلئے ریلیف*“`ایف بی آر نے فنانس ایکٹ 2026 اور انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں ترامیم کے ذریعے ٹیکس نظام میں تبدیلیاں کردیں“`سالانہ 6 لاکھ روپے تک قابل ٹیکس آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا
*ٹھٹھہ میں بجلی کے تاروں سے ٹریکٹر ٹرالی ٹکرا گئی، 6 افراد جاں بحق*ٹھٹھہ: پیر جو گوٹھ کے قریب ٹریکٹر ٹرالی بجلی کے تاروں سے ٹکرا گئی، کرنٹ لگنے سے ٹریکٹر ٹرالی میں سوار ایک خاتون سمیت 6 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد مزدور تھے اور چاول کی فصل کاٹ کر اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔
مکہ دفاعی معاہدہ: سعودی کشیدگی کے بعد پاکستان کا عسکری مؤقف واضح، فوری فوجی کارروائی زیرِبحث نہیںاسٹریٹجک افیئرز ڈیسک | 10 ستمبر 2026اسلام آباد — سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت فوری فوجی ردِعمل کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت اسلام آباد میں کسی فوجی کارروائی پر بات چیت نہیں ہو رہی۔پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ مکہ معاہدے کے تحت فی الحال کسی فوجی ردِعمل پر کوئی بحث نہیں ہو رہی، تاہم پاکستان معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہوا۔ ترجمان نے کہا کہ جب کارروائی کا وقت آئے گا تو پاکستان معاہدے کے تحت اقدام کرے گا۔یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں میں اضافے اور یمن کے تنازع کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے خدشات نے مکہ دفاعی معاہدے کے عملی اطلاق کے بارے میں سوالات پیدا کر دیے ہیں۔اس سے قبل پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بھی اس امر کی جانب اشارہ کیا تھا کہ اگر یمن کی جنگ سعودی عرب کے خلاف براہِ راست فوجی خطرے میں تبدیل ہوتی ہے تو مکہ معاہدے کے دفاعی میکنزم زیرِعمل آ سکتے ہیں۔ تاہم وزارتِ خارجہ کی تازہ وضاحت سے یہ تاثر کم ہوا ہے کہ پاکستان نے فوری طور پر کسی فوجی مداخلت یا تعیناتی کا فیصلہ کر لیا ہے۔مکہ معاہدے کی دفاعی اہمیتپاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے گزشتہ ماہ مکہ میں ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا بنیادی تصور یہ ہے کہ کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں ممالک کے مشترکہ دفاع کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔تاہم معاہدے کے سیاسی اعلان اور اس کے مکمل فوجی آپریشنلائزیشن میں فرق ہے۔ مشترکہ کمانڈ، رابطہ کاری، انٹیلی جنس تعاون، قواعدِ کار، دفاعی منصوبہ بندی اور عملی ردِعمل کے طریقۂ کار جیسے عناصر کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔31
اگست کو استنبول میں مکہ معاہدے سے متعلق Strategic Political and Defence Committee کے پہلے اجلاس میں تینوں ممالک نے مشترکہ دفاعی صلاحیت، دفاعی ہم آہنگی، عسکری تعاون، اجتماعی بازداریت اور دفاعی صنعت میں تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا تھا۔اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاہدہ محض ایک سیاسی اعلامیے تک محدود رکھنے کے بجائے بتدریج ایک ادارہ جاتی اور دفاعی فریم ورک میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔سعودی عرب پر حوثی حملے اور پاکستان کا محتاط ردِعملحالیہ کشیدگی میں یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حملوں نے خلیجی سلامتی کے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ حوثی تحریک کو ایران کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والے ایک مسلح گروپ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، تاہم کسی بھی فوجی یا سیاسی دعوے کو اس کے دستیاب شواہد اور سرکاری بیانات کے مطابق ہی بیان کرنا ضروری ہے۔سعودی عرب نے اپنی سرزمین اور اہم تنصیبات کے دفاع کو اولین ترجیح قرار دیا ہے، جبکہ یمن میں فوجی کارروائیوں کے باعث تنازع کے مزید پھیلنے کا خطرہ برقرار ہے۔اسی وسیع تر سفارتی تناظر میں پاکستان نے ایران کو سعودی تحفظات سے آگاہ کرنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطہ کاری بھی کی ہے۔ اسلام آباد کا یہ کردار اس کی روایتی پالیسی کے مطابق ہے، جس میں ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اس کے دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقات برقرار رکھنا اور دوسری طرف ایران کے ساتھ کشیدگی کو براہِ راست محاذ آرائی میں تبدیل ہونے سے روکنا شامل ہے۔فوری جنگی شمولیت کیوں نہیں؟پاکستان کی تازہ وضاحت کو فوری فوجی مداخلت سے گریز کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، لیکن اسے مکہ معاہدے سے پسپائی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔معاہدے کی موجودہ حیثیت میں تین سطحیں الگ رکھنا ضروری ہیں:اول: سیاسی اور دفاعی عزم؛دوم: مشترکہ دفاعی ادارہ جاتی میکنزم کی تشکیل؛سوم: کسی مخصوص حملے کے جواب میں عملی فوجی کارروائی۔پاکستان نے پہلی سطح کے عزم کی تردید نہیں کی۔ وزارتِ خارجہ کا بیان بنیادی طور پر تیسری سطح، یعنی فوری فوجی ردِعمل کے حوالے سے تھا۔اس لیے اسلام آباد کا موجودہ مؤقف بیک وقت دو پیغامات دیتا ہے: پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے اپنے عزم سے پیچھے نہیں ہٹ رہا، لیکن ہر حوثی حملے کو فوری طور پر تین ملکی مشترکہ فوجی کارروائی میں تبدیل کرنے کا فیصلہ بھی نہیں کیا گیا۔اسٹریٹجک جائزہاسٹریٹجک افیئرز ڈیسک کا تجزیہ: پاکستان کا محتاط مؤقف مکہ دفاعی معاہدے کی ابتدائی عملی تشکیل کے مرحلے سے مطابقت رکھتا ہے۔ معاہدہ اگرچہ اجتماعی دفاع کا سیاسی و دفاعی فریم ورک فراہم کرتا ہے، لیکن اس کے تحت کسی مخصوص حملے پر خودکار فوجی کارروائی کے لیے عملی طریقۂ کار، مشترکہ کمانڈ و رابطہ کاری اور سیاسی فیصلے کے مراحل اہم ہوں گے۔لہٰذا موجودہ صورتِ حال میں اسلام آباد کا پیغام یہ معلوم ہوتا ہے کہ مکہ معاہدہ فعال سیاسی و دفاعی عزم رکھتا ہے، مگر فوری فوجی تعیناتی یا جنگی کارروائی کا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ پاکستان بیک وقت تین مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہو: سعودی عرب کو دفاعی یقین دہانی، ایران کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی سے گریز، اور نئے مکہ دفاعی ڈھانچے کو کسی ابتدائی بحران میں قبل از وقت عسکری تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنا۔تاہم یہ ایک تجزیاتی تشریح ہے، پاکستانی حکومت کی جانب سے بیان کردہ باقاعدہ وجہ نہیں۔نتیجہمکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے پاکستان کی تازہ وضاحت کو پسپائی کے بجائے فوری فوجی کارروائی سے متعلق احتیاط کے طور پر پڑھنا زیادہ درست ہوگا۔اسلام آباد نے ایک طرف یہ واضح کیا ہے کہ فی الحال سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کے جواب میں مکہ معاہدے کے تحت کسی فوجی کارروائی پر غور نہیں ہو رہا، جبکہ دوسری جانب یہ دروازہ بھی کھلا رکھا ہے کہ حالات معاہدے کے دفاعی میکنزم کو فعال کرنے کی سطح تک پہنچے تو پاکستان اپنے وعدوں کے مطابق اقدام کرے گا۔یوں موجودہ بحران مکہ دفاعی معاہدے کے لیے اس کا پہلا بڑا سیاسی اور ممکنہ طور پر عملی امتحان بن چکا ہے، جبکہ تینوں ممالک ابھی اس نئے دفاعی فریم ورک کو مکمل عسکری صلاحیت اور واضح آپریشنل میکنزم میں تبدیل کرنے کے مرحلے میں ہیں۔
حوثیوں کا المخا پر قبضہ، باب المندب پر دباؤ میں خطرناک اضافہاسٹریٹجک افیئرز ڈیسک | 10 ستمبر 2026یمن میں حوثی تحریک انصار اللہ اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی افواج کے درمیان لڑائی میں نمایاں شدت آگئی ہے۔ حوثی فورسز نے بحیرۂ احمر کے اہم ساحلی شہر المخا (Mocha/Mokha) پر قبضہ کر لیا ہے، جس سے انہیں تزویراتی آبنائے باب المندب کے قریب مزید اہم زمینی پوزیشن حاصل ہوگئی ہے۔رائٹرز نے یمنی حکومت کے تین ذرائع کے حوالے سے المخا پر حوثیوں کے قبضے کی تصدیق کی، جبکہ چار یمنی فوجی ذرائع کے مطابق حوثی افواج باب المندب کے اطراف میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کی پیش قدمی میں المخا کے علاوہ ذباب (Dhubab) اور ساحلی علاقوں کی جانب دباؤ بھی شامل ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) کے مطابق المخا پر حوثیوں کا قبضہ 2022 کی جنگ بندی کے بعد ان کی سب سے بڑی علاقائی کامیابیوں میں شمار ہوتا ہے۔ AP نے حوثی سیاسی بیورو کے رکن حزام الاسد اور حکومت نواز نیشنل ریزسٹنس فورسز کے کمانڈر احمد باش کے حوالے سے بھی قبضے کی تصدیق کی۔باب المندب: اصل عسکری اہمیتالمخا بحیرۂ احمر کے جنوبی حصے میں واقع ایک اہم بندرگاہی شہر ہے اور باب المندب سے تقریباً 80 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے اور عالمی تجارت و توانائی کی ترسیل کے لیے اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ AP کے مطابق اس راستے سے عالمی تیل اور دیگر اشیا کی تقریباً 12 فیصد ترسیل وابستہ رہی ہے، جبکہ دیگر اندازوں میں عالمی بحری تجارت کا تقریباً 10 فیصد اس خطے سے منسلک بتایا جاتا ہے۔اس لیے المخا پر قبضہ خود باب المندب پر قبضہ نہیں، تاہم اس سے حوثیوں کو آبنائے کے شمالی approaches، ساحلی نقل و حرکت اور بحیرۂ احمر کی جہازرانی پر دباؤ بڑھانے کے لیے زیادہ مضبوط پوزیشن مل سکتی ہے۔عسکری صورتِ حالحالیہ پیش قدمی ایک وسیع تر حوثی offensive کا حصہ دکھائی دیتی ہے، جس کا مقصد یمن کے مغربی ساحل پر اپنا کنٹرول وسیع کرنا اور باب المندب کے قریب تزویراتی گہرائی حاصل کرنا ہے۔ رائٹرز کے مطابق حوثی پیش قدمی کے نتیجے میں سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کو بعض ساحلی علاقوں میں پسپائی یا ازسرنو صف بندی کرنا پڑی ہے۔حکومت نواز فورسز نے المخا کے جنوب میں نیا کمانڈ سینٹر قائم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے،
جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ ساحلی محاذ پر دفاعی لائن کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔دوسری جانب سعودی عرب نے حوثی اہداف کے خلاف فضائی کارروائیاں تیز کی ہیں، جبکہ حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں نے سعودی تنصیبات اور خطے کے وسیع تر سکیورٹی ماحول پر دباؤ بڑھایا ہے۔اس پیش رفت کے ممکنہ اسٹریٹجک اثرات1۔ باب المندب پر دباؤ:المخا، ذباب اور دیگر ساحلی مقامات پر حوثی کنٹرول مضبوط ہونے کی صورت میں باب المندب کے شمالی approaches پر ان کی عسکری نگرانی اور حملہ آور صلاحیت بڑھ سکتی ہے۔2۔ بحیرۂ احمر کی جہازرانی:حوثیوں کی ساحلی پوزیشن مضبوط ہونے سے تجارتی جہازوں کے لیے خطرے کی سطح بڑھ سکتی ہے، خصوصاً اگر میزائل، ڈرون یا سمندری حملوں کی کارروائیاں دوبارہ وسیع پیمانے پر شروع ہوتی ہیں۔3۔ عالمی توانائی کی سپلائی:باب المندب اور آبنائے ہرمز دونوں کے گرد بیک وقت کشیدگی عالمی توانائی منڈی کے لیے غیر معمولی خطرہ پیدا کر سکتی ہے۔ موجودہ علاقائی بحران کے باعث باب المندب کی اہمیت پہلے ہی بڑھ چکی ہے۔4۔ سعودی عرب پر اضافی دباؤ:سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کے لیے مغربی ساحل کا دفاع مزید اہم ہوگیا ہے، کیونکہ حوثیوں کی ساحلی پیش قدمی سعودی عرب کے بحیرۂ احمر سے متعلق سلامتی اور توانائی کے مفادات کو متاثر کر سکتی ہے۔5۔ یمن میں جنگ بندی کا خاتمہ:2022 سے بڑی سطح کی لڑائی نسبتاً محدود رکھنے والی غیر رسمی جنگ بندی اب شدید دباؤ میں ہے۔ موجودہ لڑائی اگر شمال، تعز، الحدیدہ اور مغربی ساحل کے مختلف محاذوں سے جڑ گئی تو یمن دوبارہ وسیع پیمانے کی جنگ کی طرف جا سکتا ہے۔بین الاقوامی تشویشاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پہلے ہی یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں، بحیرۂ احمر میں جہازرانی کے خطرات اور خطے میں وسیع ہوتی کشیدگی پر متعدد اجلاسوں میں بحث کر چکی ہے۔ حالیہ UN ریکارڈ میں باب المندب، تجارتی جہازرانی اور حوثی حملوں کو علاقائی سلامتی کے بڑے خدشات میں شمار کیا گیا ہے۔اہم تصحیح: 10 ستمبر 2026 کے لیے اقوام متحدہ کے سرکاری Security Council پروگرام میں الگ “یمن ہنگامی اجلاس” درج نہیں ہے؛ اس روز Military Staff Committee کا اجلاس درج ہے۔ لہٰذا موجودہ خبر میں یہ دعویٰ شامل کرنا کہ “سلامتی کونسل آج جمعرات کو یمن پر ہنگامی اجلاس کر رہی ہے” مزید آزاد تصدیق کے بغیر مناسب نہیں۔عسکری جائزہالمخا پر قبضہ حوثیوں کے لیے محض ایک مقامی علاقائی کامیابی نہیں بلکہ بحیرۂ احمر کے جنوبی ساحلی محاذ پر ایک اہم تزویراتی پیش رفت ہے۔ تاہم اسے باب المندب پر براہِ راست قبضہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوگا جب حوثی فورسز المخا → ذباب → باب المندب/پیریم کے محور پر مسلسل پیش قدمی، ساحلی میزائل و ڈرون صلاحیت، اور سمندری نگرانی کو ایک مربوط عسکری نظام میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ایسی صورت میں حوثیوں کے پاس عالمی جہازرانی پر براہِ راست اثر ڈالنے، سعودی عرب کے بحیرۂ احمر کے مفادات کو دباؤ میں رکھنے اور علاقائی طاقتوں کو ایک نئے بحری محاذ میں کھینچنے کی صلاحیت بڑھ سکتی ہے۔نتیجہ:المخا کا سقوط باب المندب کا سقوط نہیں، لیکن باب المندب کی طرف حوثی پیش قدمی کے لیے ایک اہم آپریشنل قدم ضرور ہے۔ موجودہ صورتحال کا اگلا فیصلہ کن مرحلہ ذباب، ساحلی کوریڈور اور باب المندب کے شمالی approaches پر حکومت نواز فورسز کی دفاعی صلاحیت اور حوثیوں کی مزید پیش قدمی پر منحصر ہوگا۔
د. لبنى فرح الجزائر نے متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے، اماراتی سفیر کو 48 گھنٹے کی مہلتاسٹریٹجک افیئرز ڈیسک | 10 ستمبر 2026الجزائر — الجزائر نے جمعرات کو متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات باضابطہ طور پر منقطع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اماراتی سفیر کو ملک چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دے دی۔ الجزائر کی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات برقرار رکھنے کے لیے دستیاب تمام سفارتی ذرائع استعمال کیے جانے کے بعد کیا گیا۔الجزائری حکومت نے امارات کی بعض کارروائیوں کو ’’اشتعال انگیز یا معاندانہ‘‘ قرار دیا، تاہم سرکاری بیان میں ان کارروائیوں کی تفصیلی نوعیت یا کسی ایک مخصوص واقعے کو فوری طور پر اس فیصلے کی واحد وجہ قرار نہیں دیا گیا۔ Reuters اور Associated Press کے مطابق الجزائر نے کہا کہ اس نے تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے تمام ممکنہ سفارتی راستے استعمال کر لیے تھے۔سفیر کو باضابطہ طور پر فیصلے سے آگاہ کیا گیاالجزائر کی وزارتِ خارجہ نے اماراتی سفیر کو طلب کرکے انہیں حکومت کے فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا۔ سفیر کو 48 گھنٹے کے اندر الجزائر سے روانہ ہونے کی ہدایت کی گئی، جو اس بحران کی غیر معمولی شدت کی علامت ہے۔یہ اقدام محض سفارتی احتجاج یا سفیر کی عارضی واپسی سے کہیں آگے ہے۔ سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے بعد دونوں ریاستوں کے درمیان معمول کے سرکاری رابطوں، سفارتی نمائندگی اور دوطرفہ سیاسی مشاورت کا موجودہ ڈھانچہ شدید متاثر ہوگا۔بحران اچانک پیدا نہیں ہواالجزائر اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات گزشتہ عرصے میں بتدریج کشیدہ ہوتے رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات صرف دوطرفہ سطح تک محدود نہیں رہے بلکہ مغربی صحارا، شمالی افریقہ، ساحل خطے اور مشرقِ وسطیٰ کے مختلف علاقائی معاملات پر دونوں حکومتوں کے نقطۂ نظر میں نمایاں فرق بھی موجود رہا ہے۔Reuters کے مطابق الجزائر متحدہ عرب امارات اور مراکش کے بعض علاقائی مؤقف سے مختلف پوزیشن رکھتا ہے،
خصوصاً مغربی صحارا کے معاملے میں الجزائر Polisario Front کی حمایت کرتا ہے، جبکہ ابوظبی مراکش کے مؤقف کی حمایت کرتا ہے۔ اسی طرح دونوں ممالک کی بعض علاقائی پالیسیوں میں بھی اختلافات رہے ہیں۔فضائی معاہدے پر پہلے ہی اختلاف سامنے آ چکا تھاتعلقات میں خرابی کا ایک اہم اشارہ اس وقت سامنے آیا جب الجزائر نے فروری 2026 میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ فضائی خدمات کے معاہدے کو منسوخ کرنے کا عمل شروع کیا۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ایک نمایاں علامت سمجھا گیا۔تاہم موجودہ فیصلے کو صرف ایک معاہدے یا ایک واقعے کا نتیجہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ الجزائر کے تازہ سرکاری مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیصلہ ایک طویل سفارتی تناؤ اور بار بار کی تنبیہات کے بعد کیا گیا۔الجزائر کا مؤقف: سفارتی گنجائش ختم ہو چکی تھیالجزائری وزارتِ خارجہ کے مطابق حکومت نے طویل عرصے تک تحمل کا مظاہرہ کیا اور دوطرفہ تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے متعدد سفارتی کوششیں کیں، مگر اس کے مطابق اماراتی جانب سے مبینہ طور پر ’’اشتعال انگیز یا معاندانہ‘‘ اقدامات کا سلسلہ جاری رہا۔الجزائر کا کہنا ہے کہ ان حالات میں تعلقات کو معمول کے مطابق برقرار رکھنا مزید ممکن نہیں رہا۔یہ فیصلہ علاقائی سیاست کے لیے کیوں اہم ہے؟الجزائر شمالی افریقہ کی ایک بڑی فوجی، سیاسی اور توانائی کی طاقت ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات خلیجی خطے کی ایک اہم اقتصادی اور سفارتی ریاست ہے۔ دونوں کے درمیان مکمل سفارتی قطع تعلق عرب دنیا کے اندر موجود علاقائی صف بندیوں اور پالیسی اختلافات کو مزید نمایاں کرتا ہے۔اس فیصلے کے ممکنہ اثرات تین بڑے دائروں میں دیکھے جا سکتے ہیں:اول، شمالی افریقہ:الجزائر اور مراکش کے درمیان مغربی صحارا کا تنازع پہلے ہی خطے میں ایک بنیادی جغرافیائی سیاسی تقسیم پیدا کر چکا ہے۔ امارات کا مراکش کے ساتھ قریبی تعلق اور الجزائر کا Polisario کے لیے حمایت پر مبنی مؤقف اس وسیع تر کشمکش کو مزید حساس بناتا ہے۔دوم، ساحل اور افریقی سیاست:الجزائر اپنے جنوبی پڑوسیوں اور ساحل خطے میں سلامتی اور سیاسی استحکام کے معاملات کو اپنی قومی سلامتی کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔ ابوظبی بھی افریقہ میں وسیع سفارتی، اقتصادی اور تجارتی روابط رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اس خطے میں ان کے باہمی مفادات کے تصادم کو مزید نمایاں کر سکتی ہے۔سوم، عرب سفارتی نظام:یہ اقدام اس سوال کو بھی دوبارہ نمایاں کرتا ہے کہ عرب ریاستیں علاقائی بحرانوں، مداخلت کے الزامات اور متضاد خارجہ پالیسیوں کے باعث کس حد تک ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں۔تاہم ایک اہم احتیاطموجودہ مرحلے پر یہ کہنا کہ الجزائر اور امارات کے درمیان تمام اقتصادی، تجارتی، فضائی اور دیگر معاہدے خودکار طور پر ختم ہو گئے ہیں درست نہیں ہوگا۔ سفارتی تعلقات منقطع کرنا اور ہر دوطرفہ معاہدے کو بیک وقت ختم کرنا الگ قانونی و انتظامی اقدامات ہیں۔اسی طرح الجزائر کے سرکاری بیان میں کسی مخصوص ملک، تنظیم یا ایک واحد واقعے کو تعلقات منقطع کرنے کی واحد وجہ قرار نہیں دیا گیا۔ اس لیے اس فیصلے کو کسی ایک متنازع علاقائی فائل سے براہِ راست جوڑنے کے بجائے وسیع تر اور طویل مدتی سفارتی بحران کے تناظر میں دیکھنا زیادہ محتاط تجزیہ ہوگا۔اماراتی ردِعمل پر نظراس وقت تک سامنے آنے والے اماراتی سرکاری بیانات میں الجزائر کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کے فیصلے پر تفصیلی جوابی اعلان سامنے نہیں آیا۔ متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے 8 ستمبر کو ایک الگ بیان میں میڈیا رپورٹس اور حکومتی رہنماؤں کے درمیان مبینہ مذاکرات سے متعلق قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہ کرنے کا مؤقف اختیار کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کی پالیسی علاقائی کشیدگی کم کرنے اور استحکام کے فروغ پر مرکوز ہے۔تجزیہالجزائر کا یہ اقدام معمول کا سفارتی احتجاج نہیں بلکہ دوطرفہ تعلقات میں ایک انتہائی سنگین بریک پوائنٹ ہے۔ 48 گھنٹے کی مہلت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ الجزائر نے معاملے کو طویل سفارتی مشاورت کے مرحلے سے نکال کر عملی فیصلہ سازی کے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔تاہم اگلا مرحلہ زیادہ اہم ہوگا: آیا دونوں ممالک سفارتی تعلقات کی مکمل بحالی کی طرف کبھی واپس آتے ہیں، یا موجودہ بحران وسیع تر علاقائی صف بندیوں کا مستقل حصہ بن جاتا ہے۔فی الحال سب سے محتاط نتیجہ یہی ہے کہ الجزائر نے متحدہ عرب امارات کو ایک سخت اور غیر معمولی سفارتی پیغام دیا ہے، لیکن اس فیصلے کے مکمل علاقائی، اقتصادی اور سلامتی کے اثرات آنے والے دنوں میں زیادہ واضح ہوں گے۔
ایران کا نیا مالیاتی محاذ؛ چین کے ساتھ خفیہ بارٹر نظام کے ذریعے امریکی پابندیوں کو بائی پاس کرنے کی کوششاسٹریٹجک افیئرز ڈیسک | 10 ستمبر 2026تہران نے امریکی پابندیوں اور بین الاقوامی مالیاتی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے چین کے ساتھ ایک متبادل تجارتی و مالیاتی نظام کو وسعت دی ہے، جس کے تحت ایرانی تیل سے پیدا ہونے والی مالیت کو روایتی بین الاقوامی بینکاری نظام سے گزارنے کے بجائے چینی مصنوعات، خدمات اور ایران میں جاری منصوبوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔رائٹرز کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، یہ طریقۂ کار ایران کو امریکی پابندیوں کے سب سے اہم ہدف، یعنی بین الاقوامی مالیاتی لین دین، سے جزوی طور پر دور رہتے ہوئے چین سے ضروری درآمدات جاری رکھنے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔ اس نظام میں روایتی معنوں میں نقد رقم کی براہِ راست منتقلی کے بجائے ایرانی تیل کی مالیت کو چینی اشیا اور خدمات کے حصول کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔تیل کے بدلے اشیا اور خدماتاس ماڈل کا بنیادی تصور نسبتاً سادہ ہے۔ ایران اپنا تیل چین کو فروخت کرتا ہے، لیکن اس کی پوری مالیت روایتی ڈالر ٹرانسفر یا بین الاقوامی بینکاری چینلز کے ذریعے تہران کو واپس منتقل نہیں ہوتی۔ اس کے بجائے تیل سے حاصل ہونے والی مالیت کو چینی برآمد کنندگان، کمپنیوں اور ایران میں کام کرنے والے منصوبوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق، اس نظام کے ذریعے ایران نے مختلف نوعیت کی مصنوعات حاصل کی ہیں، جن میں ادویات، گاڑیاں، ٹیلی کمیونیکیشن آلات اور دیگر صنعتی و ضروری سامان شامل ہیں۔ بعض ذرائع نے اس وسیع نیٹ ورک کو عسکری نوعیت کے سازوسامان سے بھی جوڑا ہے، تاہم ایسے دعووں کی تفصیلات اور مخصوص لین دین کی آزادانہ تصدیق محدود ہے۔رائٹرز کے مطابق، بعض چینی مینوفیکچررز ممکنہ طور پر اس بات سے بھی لاعلم رہے ہوں کہ ان کی مصنوعات بالآخر ایرانی خریداروں تک پہنچ رہی ہیں۔ChuXin: نظام کی مبینہ مالیاتی کڑیاس متبادل تجارتی ڈھانچے میں ChuXin نامی ایک چینی ادارے یا مالیاتی واسطے کا ذکر خاص اہمیت رکھتا ہے۔رائٹرز سے بات کرنے والے ذرائع کے مطابق، ChuXin سے منسلک ایک خصوصی انتظام ایرانی تیل سے پیدا ہونے والی مالیت کو چینی برآمد کنندگان اور ایران میں جاری منصوبوں تک منتقل کرنے میں استعمال کیا گیا۔تاہم اس معاملے میں ایک اہم صحافتی احتیاط ضروری ہے۔ رائٹرز کو چینی کمپنی رجسٹریوں میں ChuXin کے نام سے کسی واضح اور قابلِ تصدیق مالیاتی ادارے کا ریکارڈ نہیں ملا۔ بعض ذرائع نے امکان ظاہر کیا کہ ChuXin کسی باقاعدہ قانونی کمپنی کے بجائے اندرونی مالیاتی ریکارڈ یا اسپریڈشیٹ میں استعمال ہونے والا نام ہو سکتا ہے۔ایرانی اور چینی حکام نے اس حوالے سے رائٹرز کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔2 سے 2.5 ارب ڈالر کا مالیاتی راستہذرائع کے اندازوں کے مطابق، گزشتہ ایک سال کے دوران اس مخصوص خصوصی مالیاتی انتظام، یعنی Special Purpose Vehicle (SPV) کے ذریعے تقریباً 2 ارب سے 2.5 ارب ڈالر مالیت کے لین دین کیے گئے۔رائٹرز کے مطابق، یہ نظام کم از کم 2021 سے موجود ہے اور ابتدا میں ادویات اور کووڈ-19 ویکسین جیسی اشیا کی فراہمی کے لیے استعمال ہوا۔ بعد ازاں ایران پر امریکی پابندیوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے ساتھ اس کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔یہ رقم ایران اور چین کے درمیان مجموعی تیل تجارت یا تمام بارٹر لین دین کی نمائندگی نہیں کرتی۔ امریکی U.S.-China Economic and Security Review Commission کی سابقہ رپورٹنگ میں چین سے متعلق ایک بڑے oil-for-infrastructure انتظام کے تحت 2024 میں تقریباً 8.4 ارب ڈالر کے لین دین کا ذکر بھی کیا گیا تھا۔لہٰذا 2 سے 2.5 ارب ڈالر کا تخمینہ اس مخصوص مالیاتی چینل سے متعلق سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ ایران کی مجموعی چینی تجارت کا حجم۔پابندیوں کا اصل ہدف: مالیاتی نظامایرانی حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد تیل کی برآمدات کو امریکی پابندیوں سے مکمل طور پر محفوظ بنانا نہیں بلکہ تیل کی آمدنی کو ایسے تجارتی کریڈٹ اور ادائیگی کے راستوں میں تبدیل کرنا ہے جنہیں امریکی مالیاتی پابندیوں کے ذریعے براہِ راست روکنا زیادہ مشکل ہو۔روایتی نظام میں ایرانی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم بینکوں، کرنسی کلیئرنگ نظام اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے گزرتی ہے۔ امریکی پابندیاں اسی مالیاتی انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتی ہیں۔بارٹر یا oil-for-goods ماڈل اس عمل کو تبدیل کر دیتا ہے۔ایرانی تیل → چینی خریدار → تجارتی کریڈٹ/مالیاتی انتظام → چینی مصنوعات و خدمات → ایراناس طریقے میں نقد ڈالر کی براہِ راست منتقلی کی ضرورت کم ہو جاتی ہے اور تجارت کا ایک بڑا حصہ چینی مالیاتی و تجارتی ماحول کے اندر رہ سکتا ہے۔بیجنگ کو بھی معاشی فائدہیہ نظام صرف تہران کے لیے فائدہ مند نہیں۔چین کو ایرانی تیل نسبتاً رعایتی نرخوں پر حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے، جبکہ ایران کو اپنی معیشت کے لیے درکار مصنوعات، صنعتی سامان، ٹیکنالوجی اور خدمات تک رسائی حاصل رہتی ہے۔امریکی-چینی اقتصادی و سلامتی کمیشن کے مطابق، ایرانی تیل کی بعض فروخت عالمی benchmark قیمتوں کے مقابلے میں نمایاں رعایت پر ہوتی رہی ہے، جس سے چینی خریداروں کو معاشی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔یوں دونوں ممالک کے مفادات ایک خاص نقطے پر مل جاتے ہیں:چین کو نسبتاً سستا ایرانی تیل ملتا ہے، جبکہ ایران کو پابندیوں کے باوجود چینی مارکیٹ اور مصنوعات تک رسائی حاصل رہتی ہے۔کیا ایران نے متوازی معیشت قائم کر لی؟ایران کی موجودہ حکمتِ عملی کو مکمل طور پر ایک ’’متوازی معیشت‘‘ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔زیادہ درست تعبیر یہ ہے کہ تہران نے پابندیوں کے ماحول میں متبادل تجارتی اور مالیاتی راستوں کا ایک نیٹ ورک تشکیل دینے کی کوشش کی ہے۔یہ نیٹ ورک ایران کو امریکی مالیاتی نظام پر انحصار کم کرنے، تیل کی آمدنی کو براہِ راست اشیا میں تبدیل کرنے اور بعض درآمدات کو پابندیوں کے باوجود جاری رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی پابندیوں کا معاشی اثر ختم ہو گیا ہے۔ایرانی معیشت اب بھی کرنسی کی کمزوری، مہنگائی، درآمدی دباؤ، سرمایہ کاری کی کمی اور بین الاقوامی مالیاتی تنہائی جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔چین: تہران کی معاشی لائف لائن؟موجودہ حالات میں چین ایران کے لیے ایک اہم معاشی ستون بنتا دکھائی دے رہا ہے۔چین ایرانی تیل کا بڑا خریدار ہے اور دونوں ممالک نے ایسے تجارتی طریقے بھی اختیار کیے ہیں جن سے ڈالر پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بیجنگ تہران کو ایک ایسی معاشی گنجائش فراہم کرتا ہے جو مغربی پابندیوں کے ماحول میں دیگر عالمی طاقتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہم ہے۔تاہم چین کی پالیسی مکمل طور پر بے خطر نہیں۔ چینی بینکوں اور بڑی کمپنیوں کو امریکی ثانوی پابندیوں اور عالمی مالیاتی نظام سے ممکنہ کٹاؤ کا خطرہ درپیش رہتا ہے۔اسی لیے چین کا رویہ بیک وقت تعاون اور احتیاط پر مبنی دکھائی دیتا ہے۔واشنگٹن کے دباؤ کو نظرانداز کرتے ہوئے ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنا بیجنگ کے لیے اسٹریٹجک اور معاشی مفاد رکھتا ہے، لیکن چین اپنی بڑی مالیاتی کمپنیوں کو امریکی مالیاتی نظام سے محروم کرنے کا خطرہ بھی نہیں اٹھانا چاہتا۔پابندیوں کے خلاف ایرانی ماڈلتہران کا یہ ماڈل ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس میں:- ڈالر پر انحصار کم کرنا؛- روایتی بینکاری چینلز سے بچنا؛- تیل کے بدلے اشیا اور خدمات حاصل کرنا؛- چینی کمپنیوں اور ثالثی اداروں کے ذریعے تجارت جاری رکھنا؛- خصوصی مالیاتی گاڑیوں اور متبادل ادائیگی کے نظام استعمال کرنا؛- اور پابندیوں کے نفاذ کے دائرے کو محدود کرناشامل ہے۔یہ حکمتِ عملی اس تصور پر مبنی ہے کہ اگر کسی ملک کی تجارت کو مکمل طور پر عالمی مالیاتی نظام سے الگ کر دیا جائے، تو وہ براہِ راست نقد لین دین کے بجائے اشیا، خدمات، تجارتی کریڈٹ اور مقامی مالیاتی نظام کے ذریعے اپنی اقتصادی سرگرمی جاری رکھ سکتا ہے۔واشنگٹن کے لیے نیا چیلنجامریکی پالیسی سازوں کے لیے یہ ماڈل ایک اہم مسئلہ پیدا کرتا ہے۔اگر پابندیوں کا بنیادی مقصد ایران کی تیل آمدنی کو محدود کرنا ہے، لیکن تہران اس آمدنی کو روایتی مالیاتی چینلز کے بجائے چینی مصنوعات اور خدمات میں تبدیل کرنے کے قابل رہتا ہے، تو پابندیوں کی مؤثریت کا ایک حصہ کم ہو سکتا ہے۔اس صورت میں امریکی دباؤ صرف ایرانی اداروں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ چینی خریداروں، ثالثی کمپنیوں، برآمد کنندگان، مالیاتی اداروں اور تجارتی نیٹ ورکس تک بھی پھیل سکتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں ایران-چین تجارت ایک دوطرفہ معاشی معاملے سے بڑھ کر واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان وسیع تر جغرافیائی و معاشی مسابقت کا حصہ بن سکتی ہے
۔اسٹریٹجک نتیجہایران نے امریکی پابندیوں کو ختم نہیں کیا اور نہ ہی عالمی مالیاتی نظام سے مکمل آزادی حاصل کی ہے۔ تاہم تہران نے پابندیوں کے گرد متبادل تجارتی و مالیاتی راستے بنانے میں قابلِ ذکر پیش رفت ضرور کی ہے۔چین اس حکمتِ عملی کا مرکزی ستون بنتا جا رہا ہے۔تیل → چینی خریدار → متبادل ادائیگی/تجارتی کریڈٹ → چینی اشیا و خدمات → ایرانیہ ماڈل تہران کو ڈالر پر انحصار کم کرنے، کچھ درآمدات برقرار رکھنے اور امریکی مالیاتی دباؤ کے اثرات کو محدود کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔اس لیے موجودہ شواہد کی بنیاد پر زیادہ محتاط اور درست نتیجہ یہی ہے کہ ایران نے مکمل متوازی معیشت نہیں بلکہ چین کے ساتھ ایک بڑھتا ہوا متوازی تجارتی و مالیاتی نظام ضرور تشکیل دیا ہے۔اور اگر یہ نظام مزید وسیع ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران کی معیشت تک محدود نہیں رہیں گے؛ یہ امریکی پابندیوں کے نفاذ، عالمی ڈالر نظام، چین کی توانائی ضروریات اور واشنگٹن-بیجنگ اسٹریٹجک مسابقت کے لیے بھی ایک اہم چیلنج بن سکتے ہیں۔
عمران خان اسی سال باہرائےگا،ان سےملک نہیں چل رہا ،ی نالائقوں کا ٹولہ اورکرپٹ ہیں،گڈ گورننس نہیں،قیصرشیخ ایماندار شریف ادمی ہیں اوران 16لوگوں میں شامل ہیں جو میرٹ الیکشن جیت کرائے۔اب اگروزیراعظم ایک وزیرکو بھی نہیں مل رہا تو پھر کیا رہ گیایہ فرعونیت ہے۔یہ صرف جہازوں پر پھرتےہیں، بریگیڈئیراسلم گھمن