Monthly Archives: September 2026
بیچارے کو اتنا دور سے بلایا تھا ، بغیر کوئی رنز بنائے واپس لوٹ گیا۔ پاکستان کی 8 کے سکور پر 1 وکٹ گر گئی۔۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی حدود میں بنیادی سہولیات اور انتظامی ڈھانچے کو چلانے کے لیے۔۔۔ یمن کے سعودی عرب پر حملے جاری ھزاروں سعودی زخمی اور درجنوں ھلاک تیسری عالمی جنگ کا آغاز۔۔۔پاکستان اور ترکی ائیر فورس کا جوابی کارروائی حوثیوں کے متعدد ٹھکانے تباہ۔۔ ایران کی اردن پر جوابی کارروائی متعدد ھلاکتوں کا خدشہ۔۔ عرب ممالک اپنے انجام کی طرف گامزن۔۔پاکستان کی کرکٹ ٹیم 133 پر ڈھیر۔پاکستانی کرکٹ کا جنازہ زرا دھوم سے۔۔ بے شرم حکومت کا پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ جاری۔۔ ۔عابد شیر علی نے غلط جگہ پر ناک اڑانے کی کوشش کی، انہیں جواب مل گیا، ایمل ولی خان۔ امریکی بلیک ہاکس میں سے ایک کی مکمل تصویر جو کل رات الازرق بیس پر ایرانی حملے کے نتیجے میں نقصان پہنچا ہے۔۔27 ستمبر کا خوف پولیس کے چھاپے گرفتاریاں۔پیمرا کے ھیڈ افس کو سیل کرنے کا حتمی اور فیصلہ کن نوٹس تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

جب یہ شخص پاکستان میں تھا تو ہر دوسرے دن ایئرپورٹ پہنچ کر عمرہ پر جانے کی اجازت نہ ملنے کا ڈرامہ رچاتا تھا۔ اب لندن منتقل ہونے کے بعد عمرہ تو دور کی بات، مسجد میں نماز کی ادائیگی بھی دکھائی نہیں دیتی۔ سوال یہ ہے کہ اُس وقت مذہبی جذبات کا اتنا اظہار محض سیاسی ڈرامہ تھا یا آج کی خاموشی اس دعوے کی حقیقت آشکار کر رہی ہے؟

🚨 بریکنگ نیوز | ایران کی جوابی کارروائی کا دعویٰ🇮🇷 پاسدارانِ انقلابِ ایران کا بڑا دعویٰایرانی دعوے کے مطابق اردن میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل حملے کیے گئے، جبکہ 20 امریکی طیاروں، 2 امریکی آئل ٹینکرز اور 8 بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔⚠️ حملوں اور نقصانات سے متعلق ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔

پہلے دن کا کھیل ختم ہو گیا۔ انگلینڈ 23 رنز کی لیڈ کے ساتھ آگے ہے۔ لیکن میں آج کا دن سکور سے نہیں ناپوں گا۔ آج کا دن ڈیبیو میں پختون کی شان رضا اللہ کے نام کرتا ہوں۔ پہلے ہی میچ میں 90 میل فی گھنٹہ کی پیس، جو روٹ اور ایمیلو گے جیسے بڑے ناموں کی وکٹیں۔ دباؤ میں بھی حوصلہ نہیں ہارا۔ رضا اللہ نے ثابت کر دیا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ اور جرات دونوں موجود ہیں۔ 23 رنز کی لیڈ کچھ نہیں، میچ ابھی باقی ہے۔ شاباش رضا اللہ❤️👏🏻🇵🇰

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا۔حکومت کی جانب سے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں3 روپے 40 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 367روپے 75پیسے فی لیٹر مقررکی گئی ہے۔حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں بھی 6 روپے 72 پیسے اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 392روپے67پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔اس حوالے سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں 10 ستمبر کے لیے ہیں۔

علاقائی سلامتی کے بڑھتے دباؤ کے دوران پاکستان کا نیا سیکریٹری خارجہ مقرراسلام آباد — پاکستان نے سفیر عاصم افتخار احمد کو نیا سیکریٹری خارجہ مقرر کر دیا ہے۔ تجربہ کار کثیرالجہتی سفارت کار کی تقرری ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب خطے میں سلامتی کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور پاکستان کو اہم علاقائی و عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے سفارتی اور تزویراتی تعلقات کے حوالے سے متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عاصم افتخار احمد کی تقرری کی منظوری دی، وزارتِ خارجہ کے مطابق۔ وہ آمنہ بلوچ کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے، جو 17 ستمبر 2026 کو سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہونے والی ہیں۔عاصم افتخار احمد اس وقت اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور ضروری انتظامی و سرکاری کارروائی مکمل ہونے کے بعد نئے منصب کا باقاعدہ چارج سنبھالیں گے۔

ان کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسلام آباد کو افغانستان، بھارت، ایران اور خلیجی خطے سمیت وسیع تر علاقائی سلامتی کے معاملات کا سامنا ہے، جبکہ چین، امریکا اور یورپی ممالک کے ساتھ تزویراتی، اقتصادی اور سفارتی روابط بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اہم ستون ہیں۔سیکریٹری خارجہ کی حیثیت سے عاصم افتخار احمد وزارتِ خارجہ کے انتظامی و سفارتی امور، دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعلقات میں پالیسی رابطہ کاری اور بیرونِ ملک پاکستانی سفارتی مشنز کی نگرانی میں اہم کردار ادا کریں گے۔اقوام متحدہ میں ان کے وسیع تجربے کو عالمی سلامتی، کثیرالجہتی سفارت کاری اور بین الاقوامی اداروں میں پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔آمنہ بلوچ پاکستان کی 33ویں سیکریٹری خارجہ تھیں اور انہوں نے ستمبر 2024 میں یہ منصب سنبھالا تھا۔ ان کا سفارتی کیریئر تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ہے۔عاصم افتخار احمد کو ایسے مرحلے پر وزارتِ خارجہ کی قیادت سونپی گئی ہے جب علاقائی بحران، تزویراتی صف بندیوں میں تبدیلی اور قومی سلامتی کے تقاضے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو براہِ راست متاثر کر رہے ہیں۔ ان کی اولین ترجیحات میں سفارتی رابطہ کاری کو مؤثر بنانا، پاکستان کے قومی مفادات کا تحفظ اور عالمی و علاقائی سطح پر ملک کے سفارتی کردار کو مزید مضبوط کرنا شامل ہونے کی توقع ہے۔
پیمرا کے ھیڈ افس کو سیل کرنے کا حتمی اور فیصلہ کن نوٹس۔۔یمن کے سعودی عرب پر حملے جاری ھزاروں سعودی زخمی اور درجنوں ھلاک تیسری عالمی جنگ سھیل رانا لاءیو میں .علاقائی سلامتی کے بڑھتے دباؤ کے دوران پاکستان کا نیا سیکریٹری خارجہ مقرر.. تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

علاقائی سلامتی کے بڑھتے دباؤ کے دوران پاکستان کا نیا سیکریٹری خارجہ مقرراسلام آباد — پاکستان نے سفیر عاصم افتخار احمد کو نیا سیکریٹری خارجہ مقرر کر دیا ہے۔ تجربہ کار کثیرالجہتی سفارت کار کی تقرری ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب خطے میں سلامتی کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور پاکستان کو اہم علاقائی و عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے سفارتی اور تزویراتی تعلقات کے حوالے سے متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عاصم افتخار احمد کی تقرری کی منظوری دی، وزارتِ خارجہ کے مطابق۔ وہ آمنہ بلوچ کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے، جو 17 ستمبر 2026 کو سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہونے والی ہیں۔عاصم افتخار احمد اس وقت اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور ضروری انتظامی و سرکاری کارروائی مکمل ہونے کے بعد نئے منصب کا باقاعدہ چارج سنبھالیں گے۔ان کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسلام آباد کو افغانستان، بھارت، ایران اور خلیجی خطے سمیت وسیع تر علاقائی سلامتی کے معاملات کا سامنا ہے، جبکہ چین، امریکا اور یورپی ممالک کے ساتھ تزویراتی، اقتصادی اور سفارتی روابط بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اہم ستون ہیں۔سیکریٹری خارجہ کی حیثیت سے عاصم افتخار احمد وزارتِ خارجہ کے انتظامی و سفارتی امور، دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعلقات میں پالیسی رابطہ کاری اور بیرونِ ملک پاکستانی سفارتی مشنز کی نگرانی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

اقوام متحدہ میں ان کے وسیع تجربے کو عالمی سلامتی، کثیرالجہتی سفارت کاری اور بین الاقوامی اداروں میں پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔آمنہ بلوچ پاکستان کی 33ویں سیکریٹری خارجہ تھیں اور انہوں نے ستمبر 2024 میں یہ منصب سنبھالا تھا۔ ان کا سفارتی کیریئر تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ہے۔عاصم افتخار احمد کو ایسے مرحلے پر وزارتِ خارجہ کی قیادت سونپی گئی ہے جب علاقائی بحران، تزویراتی صف بندیوں میں تبدیلی اور قومی سلامتی کے تقاضے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو براہِ راست متاثر کر رہے ہیں۔ ان کی اولین ترجیحات میں سفارتی رابطہ کاری کو مؤثر بنانا، پاکستان کے قومی مفادات کا تحفظ اور عالمی و علاقائی سطح پر ملک کے سفارتی کردار کو مزید مضبوط کرنا شامل ہونے کی توقع ہے۔
اھم ترین وزراء کے استعفے حکومت کے لئے مشکلات پیدا سب کچھ ختم ھونے کے قریب۔۔پٹرول کی قیمتوں میں جان لیوا اضافہ حکومت صرف ڈاکے مار رھی ھیں نہ کوی پلان ھے 5 بجٹ پیش کرنے والہ نا اھل وزیراعظم فورسز کو بدنام اور 24 کروڑ عوام کو بغاوت پر اکسا رھا ھے تفصیلات کے لیے سھیل رانا لاءیو سبسکرائب بادبان یو ٹیوب۔۔پٹرول کی قیمتوں میں جان لیوا اضافہ حکومت صرف ڈاکے مار۔۔۔پاکستان میں دھشت گردی کا خطرہ سیکورٹی ھای الرٹ۔۔۔بیورو کریسی میں اکھاڑ بچھاڑ اھم ترین سییکرٹریز کھڈے لائن۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حکومت کا ڈاکہ جاری۔۔24 کروڑ عوام حکومت کے شکنجے میں۔۔مھنگای ھاے مھنگای۔پاکستان میں اٹا مھنگا خون سستا زندگی سسکیاں لینے لگی۔۔حوثیوں کا سعودی عرب پر حملہ۔۔ایک سال میں 17 نمبر سے گیارہ نمبر پر جونئر ٹیم ساتویں نمبر پر۔۔سارا کریڈٹ کھلاڑیوں اور محدثین وانی کو۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

الجوف میں یمنی حکومتی فورسز کی پیش قدمی، الیتْمَہ مارکیٹ میں حوثیوں سے جھڑپیںسعودی عرب پر بڑے حملوں کے بعد یمن میں کشیدگی مزید بڑھ گئی، حکومتی فورسز کا صعدہ کی جانب دباؤ بڑھانے کا امکانالجوف، یمن — 8 ستمبر 2026: یمن کی حکومتی فورسز نے مسلح قبائلی جنگجوؤں کی معاونت سے شمال مشرقی گورنری الجوف کے ضلع خب و الشعف میں واقع الیتْمَہ مارکیٹ میں داخل ہو کر حوثی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی شروع کر دی، جس کے بعد علاقے میں شدید جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔یمنی ذرائع کے مطابق حکومتی فورسز اور ان کے اتحادی قبائلی جنگجوؤں نے شدید لڑائی کے بعد الیتْمَہ کے اہم علاقے میں پیش قدمی کی ہے۔ گردش کرنے والی ویڈیو فوٹیج میں مبینہ طور پر حکومتی فورسز اور قبائلی جنگجوؤں کو الیتْمَہ مارکیٹ کے اندر تعینات دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم میدانِ جنگ کی صورتِ حال، جانی نقصان اور علاقے پر مکمل کنٹرول کے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔یمنی حکام نے منگل کو دعویٰ کیا کہ ان کی فورسز نے شدید جھڑپوں کے بعد الیتْمَہ کو محفوظ بنا لیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ پیش رفت حوثی تحریک کے خلاف مختلف محاذوں پر جاری وسیع تر فوجی کارروائی کا حصہ ہے۔صعدہ کی جانب پیش قدمی کا امکانالیتْمَہ پر کنٹرول، اگر برقرار رہتا ہے، تو حکومتی فورسز کو شمالی یمن میں آئندہ کارروائیوں کے لیے ایک اہم تزویراتی پوزیشن فراہم کر سکتا ہے۔

الجوف کا محل وقوع اسے شمالی محاذ اور صعدہ کی جانب جانے والے راستوں کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔ صعدہ حوثی تحریک کا روایتی اور اہم گڑھ سمجھا جاتا ہے۔حکومتی فورسز کی جانب سے الجوف میں پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں پر دباؤ بڑھا سکتی ہے، بالخصوص ان راستوں پر جو شمالی یمن کے مختلف علاقوں کو آپس میں ملاتے ہیں۔قبائلی جنگجوؤں کا کردار اہمالیتْمَہ کی کارروائی میں مقامی قبائل کی شمولیت بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ حکومتی فورسز کے ساتھ قبائلی جنگجوؤں کی موجودگی نئی حاصل کی گئی پوزیشنوں کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے اور حوثی دفاعی لائنوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے۔تاہم صرف میدانِ جنگ میں کامیابی حاصل کرنا کافی نہیں ہوگا۔ کسی بھی علاقے پر مستقل کنٹرول کے لیے رسد کے راستوں کا تحفظ، مقامی قبائل کے ساتھ اتحاد برقرار رکھنا، انتظامی ڈھانچے کو فعال کرنا اور حوثیوں کے ممکنہ جوابی حملوں کو روکنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔سعودی عرب پر حملوں کے بعد علاقائی تناظرالجوف میں ہونے والی یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقوں پر بڑے پیمانے کے حملوں کے بعد یمن کا تنازع ایک مرتبہ پھر علاقائی کشیدگی کے مرکز میں آ گیا ہے۔عرب اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق یمنی گروپ کی جانب سے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 شہری زخمی ہوئے۔

سعودی عرب نے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اپنی خودمختاری، شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے حق کا اعادہ کیا ہے۔ عرب اتحاد نے بھی حملوں کے جواب میں کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ممکنہ فوجی اثراتالجوف میں حکومتی فورسز کی پیش قدمی اور سعودی عرب کے خلاف حالیہ حملوں کو الگ الگ واقعات کے بجائے یمن کے وسیع تر عسکری منظرنامے کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر حکومتی فورسز الیتْمَہ میں اپنی موجودگی مستحکم کرنے اور مزید شمال کی جانب پیش قدمی جاری رکھنے میں کامیاب رہتی ہیں تو حوثیوں کے علاقائی اور رسدی نیٹ ورک پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔اس پیش رفت کا اگلا اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ آیا حکومتی فورسز نئی حاصل کردہ پوزیشنوں کو برقرار رکھ پاتی ہیں اور آیا وہ الجوف سے صعدہ کی سمت مزید فوجی دباؤ پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کرتی ہیں یا نہیں۔تاہم مسلسل جھڑپوں کی اطلاعات اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ علاقے کی صورتِ حال ابھی مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوئی۔ اس لیے الیتْمَہ پر مکمل اور مستقل کنٹرول، ہلاکتوں کی تعداد اور حکومتی فورسز کی مزید پیش قدمی سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔تجزیہ: اگر الیتْمَہ میں حکومتی فورسز کا کنٹرول مستحکم ہو جاتا ہے اور الجوف کے محاذ پر پیش قدمی جاری رہتی ہے تو یہ شمالی یمن میں جنگ کے توازن پر اثرانداز ہونے والی اہم پیش رفت بن سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں حوثیوں کو ایک ایسے محاذ پر اضافی فوجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو صعدہ اور شمالی علاقوں تک رسائی کے حوالے سے تزویراتی اہمیت رکھتا ہے۔

د. لبنى فرح سیٹلائٹ تصاویر نے امریکی اڈوں اور خلیجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی سنگینی ظاہر کر دیخلیجی خطہ — خلیج میں ایرانی حملوں کے اثرات محض آسمان پر نظر آنے والے دھماکوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ تازہ سیٹلائٹ تصاویر نے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات اور اہم تزویراتی و اقتصادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی ایک واضح تصویر پیش کی ہے۔ ان تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاری محاذ آرائی نے ان مقامات تک رسائی حاصل کر لی ہے جو طویل عرصے سے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے اہم مراکز اور آپریشنل مراکز تصور کیے جاتے رہے ہیں۔بحرین: امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو نقصانبحرین میں سیٹلائٹ کمپنی پلانیٹ لیبز (Planet Labs) کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں منامہ میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر سے منسلک بعض تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے آثار دکھائی دیے۔ تصاویر میں بعض عمارتوں اور مواصلاتی ڈھانچے کے متاثر ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔امریکی پانچواں بحری بیڑا خلیج، خلیجِ عمان، بحیرۂ عرب اور بحیرۂ احمر سمیت ایک وسیع بحری خطے میں امریکی بحری سرگرمیوں کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے اس نوعیت کے نقصان کی اطلاعات خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کے تحفظ اور دفاعی نظام کی مؤثریت سے متعلق اہم سوالات کو جنم دیتی ہیں۔کویت: امریکی افواج کی میزبانی کرنے والی تنصیبات متاثرکویت میں بھی سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے ایسی متعدد عمارتوں میں نقصان کے آثار سامنے آئے ہیں جو امریکی افواج کی میزبانی کرنے والی فوجی تنصیبات کے اندر واقع ہیں۔ دستیاب تصاویر میں مختلف مقامات پر نقصان کی شدت مختلف دکھائی دیتی ہے۔کویت طویل عرصے سے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے ایک اہم مرکز کے طور پر کام کرتا آیا ہے۔ وہاں موجود امریکی تنصیبات مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی نقل و حرکت، لاجسٹکس اور آپریشنل منصوبہ بندی کے لیے اہم سمجھی جاتی ہیں۔متحدہ عرب امارات: جبل علی کے قریب آتش زدگیحملوں کے اثرات متحدہ عرب امارات تک بھی دکھائی دیے، جہاں سیٹلائٹ تصاویر میں جبل علی بندرگاہ کے اطراف آتش زدگی کے مناظر ریکارڈ کیے گئے۔ جبل علی نہ صرف متحدہ عرب امارات بلکہ پورے خطے کے اہم ترین تجارتی، بحری اور لاجسٹک مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ابوظہبی نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے خلاف سینکڑوں میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے، تاہم حکام کے مطابق ان میں سے بھاری اکثریت کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روک لیا گیا۔جبل علی کے اطراف آتش زدگی کی تصاویر نے اس امر کی جانب بھی توجہ مبذول کرائی ہے کہ جاری کشیدگی کے اثرات صرف فوجی اہداف تک محدود نہیں بلکہ اہم تجارتی اور لاجسٹک انفراسٹرکچر بھی ممکنہ خطرے کی زد میں آ سکتا ہے۔سعودی عرب: رأس تنورہ ریفائنری میں آگسعودی عرب میں سیٹلائٹ تصاویر میں رأس تنورہ ریفائنری کے مقام پر آگ کے آثار دکھائی دیے۔ رأس تنورہ سعودی عرب کی سب سے بڑی اور تزویراتی اعتبار سے اہم تیل تنصیبات میں شمار ہوتی ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل کے نظام میں اس کی اہمیت غیر معمولی ہے

۔سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق دو ڈرونز نے ریفائنری کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم انہیں روک لیا گیا۔ وزارت کے مطابق اس کارروائی کے دوران گرنے والے ملبے کے نتیجے میں آگ بھڑکی۔یہ واقعہ اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ خلیجی خطے میں جاری فوجی کشیدگی کے دوران توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن سکتے ہیں۔فوجی اڈوں سے توانائی اور تجارتی مراکز تکمجموعی طور پر سامنے آنے والی سیٹلائٹ تصاویر ایک ایسے منظرنامے کی نشاندہی کرتی ہیں جو محض الگ الگ میزائل یا ڈرون حملوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ امریکی فوجی اڈے، تیل کی تنصیبات، بندرگاہیں اور دیگر اہم اقتصادی و تزویراتی مراکز اب ایک ایسے وسیع تر خطرے کے دائرے میں دکھائی دیتے ہیں جو خلیجی سلامتی کے موجودہ ڈھانچے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔یہ صورتِ حال اس بنیادی سوال کو بھی جنم دیتی ہے کہ آیا خلیج محدود نوعیت کے جوابی حملوں اور وقفے وقفے سے ہونے والی کارروائیوں کے مرحلے سے آگے بڑھ کر ایک ایسی طویل اور کھلی علاقائی محاذ آرائی کی طرف بڑھ رہا ہے، جس میں فوجی اڈوں کے ساتھ ساتھ توانائی، تجارت اور مواصلات کے اہم مراکز بھی براہِ راست خطرے میں آ جائیں۔عالمی توانائی اور تجارت پر ممکنہ اثراتخلیج کی تزویراتی اہمیت صرف علاقائی سلامتی تک محدود نہیں۔ یہ خطہ عالمی توانائی کی فراہمی، تیل کی برآمدات، بحری تجارت اور بین الاقوامی سپلائی چین کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر فوجی کشیدگی مزید بڑھتی ہے اور اہم توانائی یا بحری تنصیبات کو مسلسل خطرات لاحق رہتے ہیں تو اس کے اثرات خلیجی ممالک کی سرحدوں سے کہیں آگے عالمی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔موجودہ صورتحال امریکی افواج اور ان کے علاقائی اتحادیوں کی سلامتی کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی منڈیوں، بحری تجارتی راستوں اور خلیج کے موجودہ سکیورٹی نظام کے مستقبل کے حوالے سے بھی اہم سوالات اٹھا رہی ہے۔سیٹلائٹ تصاویر کی یہ نئی جھلکیاں اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ خلیج میں جاری محاذ آرائی کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے—اور اگر کشیدگی مزید بڑھی تو فوجی اہداف کے ساتھ خطے کا اہم اقتصادی انفراسٹرکچر بھی جنگی دباؤ کے دائرے میں مزید گہرائی تک داخل ہو سکتا ہے۔

د. لبنى فرح بئرِ دمام نمبر 7: وہ تاریخی دریافت جس نے سعودی عرب کو تیل کے دور میں داخل کیاریاض/الدمام — سعودی عرب میں تیل کی دریافت محض ایک قدرتی وسیلے کی دریافت نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسا تاریخی موڑ ثابت ہوئی جس نے مملکت کی معیشت، ترقی اور عالمی حیثیت کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ اس تاریخی سفر کا مرکز بئرِ دمام نمبر 7 تھی، جسے بعد ازاں شاہ عبدالعزیز آل سعود نے “بئرِ الخیر” یعنی خیر کا کنواں کا نام دیا۔انیس سو تیس کی دہائی میں سعودی عرب ایک نئے معاشی مستقبل کی تلاش میں تھا۔ موتیوں کی تجارت میں شدید کمی کے باعث آمدنی کے روایتی ذرائع محدود ہو رہے تھے، چنانچہ مملکت نے اپنی سرزمین میں تیل کے ذخائر کی تلاش شروع کی۔تیل کی تلاش کا آغاز1933ء میں شاہ عبدالعزیز آل سعود نے امریکی کمپنی اسٹینڈرڈ آئل آف کیلیفورنیا (SOCAL) کے ساتھ تیل کی تلاش اور دریافت کا امتیازی معاہدہ کیا۔ اس کے بعد امریکی ماہرینِ ارضیات اور سعودی رہنماؤں نے مشرقی خطے کے وسیع صحرائی علاقے میں ایک مشکل اور طویل مہم کا آغاز کیا۔کمپنی نے قبة الدمام کے علاقے میں کھدائی شروع کی، لیکن ابتدائی نتائج امید افزا ثابت نہ ہوئے۔ پہلی کنویں سے کچھ گیس اور تیل کے آثار ملے، مگر اسے بند کرنا پڑا۔ دوسری کنویں میں پیداوار کے امکانات نظر آئے، لیکن بعد میں پانی نے تیل کے ذخیرے کو متاثر کر دیا۔ تیسری سے چھٹی کنویں تک بھی مطلوبہ تجارتی مقدار میں تیل حاصل نہ ہو سکا۔مسلسل ناکامیوں اور بڑھتے ہوئے اخراجات نے منصوبے کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے۔ سعودی عرب سے تیل کی تلاش کا منصوبہ ختم کرنے اور واپس چلے جانے کا امکان بھی زیرِ غور آنے لگا۔ماکس اسٹینکی کا یقیناس نازک مرحلے پر امریکی ماہرِ ارضیات ماکس اسٹینکی نے ہمت نہیں ہاری۔ انہیں یقین تھا کہ زیرِ زمین ارضی ساخت کسی بڑے تیل کے ذخیرے کی نشاندہی کر رہی ہے۔سعودی رہنما اور صحرائی جغرافیے کے ماہر خمیس بن رمثان کی معاونت سے اسٹینکی اور ان کی ٹیم نے بئر نمبر 7 کی کھدائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔یہ کنواں آسان نہیں تھا۔ کھدائی کے دوران بار بار تکنیکی مسائل پیدا ہوئے، کنویں کی دیواریں بیٹھتی رہیں اور بھاری مشینری بھی زیرِ زمین گہرائی میں پھنس گئی۔ تاہم، ٹیم نے کوشش جاری رکھی۔16 اکتوبر 1937ء: پہلی بڑی امید16 اکتوبر 1937ء کو بئر نمبر 7 سے تیل اور گیس کے واضح آثار ملے۔ یہ تیل تقریباً 1,097 میٹر کی گہرائی میں سامنے آیا۔یہ دریافت امید کی ایک نئی کرن تھی، لیکن ماہرین جانتے تھے کہ محض تیل کے آثار کافی نہیں؛ اصل کامیابی اس وقت حاصل ہونی تھی جب کنواں تجارتی پیمانے پر مسلسل پیداوار دینے کے قابل ثابت ہوتا۔کھدائی جاری رہی اور 1938ء کے آغاز تک کنویں کی گہرائی تقریباً 1,440 میٹر تک پہنچ گئی۔4 مارچ 1938ء: تاریخ بدل دینے والا دن4 مارچ 1938ء کو وہ تاریخی لمحہ آیا جس نے سعودی عرب کا مستقبل بدل دیا۔بئرِ دمام نمبر 7 نے تقریباً 1,585 بیرل یومیہ کی پیداوار شروع کر دی۔ چند ہی دنوں میں اس کی پیداوار بڑھ کر 3,600 بیرل یومیہ سے تجاوز کر گئی۔یہ وہ ثبوت تھا جس کا برسوں سے انتظار کیا جا رہا تھا: سعودی عرب کی سرزمین میں تیل نہ صرف موجود تھا بلکہ اسے تجارتی پیمانے پر نکالا بھی جا سکتا تھا۔اسی تاریخی کامیابی کی وجہ سے شاہ عبدالعزیز نے اس کنویں کو “بئرِ الخیر” کا نام دیا، کیونکہ اس نے مملکت کے لیے معاشی خوشحالی کے ایک نئے دور کا دروازہ کھول دیا تھا۔پہلی سعودی تیل کی برآمدتیل کی دریافت کے بعد کامیابی کا سفر تیزی سے آگے بڑھا۔ مئی 1939ء میں شاہ عبدالعزیز نے خود رأس تنورہ سے سعودی عرب کی پہلی برآمدی تیل کی کھیپ روانہ ہونے کا تاریخی منظر دیکھا اور تیل کی لوڈنگ کا والو خود کھولا۔یہ لمحہ سعودی عرب کی جدید معاشی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔کئی دہائیوں تک پیداواربئرِ دمام نمبر 7 نے کئی دہائیوں تک پیداوار جاری رکھی۔ بالآخر 1982ء میں اسے آپریشنل وجوہات کی بنا پر بند کر دیا گیا۔اپنی طویل پیداواری زندگی کے دوران اس تاریخی کنویں نے 32 ملین بیرل سے زیادہ تیل پیدا کیا۔ایک کنواں، ایک نیا دوربئرِ دمام نمبر 7 کی کہانی دراصل سعودی عرب کی جدید تاریخ کی کہانی ہے۔ ابتدائی ناکامیوں، بڑھتے ہوئے اخراجات، تکنیکی مشکلات اور واپسی کے امکانات کے باوجود تلاش جاری رکھنے کا فیصلہ بالآخر ایسی دریافت پر منتج ہوا جس نے مملکت کو دنیا کے اہم ترین توانائی مراکز میں شامل کر دیا۔آج بئرِ دمام نمبر 7 کو سعودی عرب کے تیل کے دور کے آغاز کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ یہ کنواں اس بات کی تاریخی مثال بھی ہے کہ بعض اوقات بڑی کامیابی، مسلسل ناکامیوں کے عین درمیان چھپی ہوتی ہے۔
د. لبنى فرح بئرِ دمام نمبر 7: وہ تاریخی دریافت جس نے سعودی عرب کو تیل کے دور میں داخل کیاریاض/الدمام — سعودی عرب میں تیل کی دریافت محض ایک قدرتی وسیلے کی دریافت نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسا تاریخی موڑ ثابت ہوئی جس نے مملکت کی معیشت، ترقی اور عالمی حیثیت کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ اس تاریخی سفر کا مرکز بئرِ دمام نمبر 7 تھی، جسے بعد ازاں شاہ عبدالعزیز آل سعود نے “بئرِ الخیر” یعنی خیر کا کنواں کا نام دیا۔انیس سو تیس کی دہائی میں سعودی عرب ایک نئے معاشی مستقبل کی تلاش میں تھا۔ موتیوں کی تجارت میں شدید کمی کے باعث آمدنی کے روایتی ذرائع محدود ہو رہے تھے، چنانچہ مملکت نے اپنی سرزمین میں تیل کے ذخائر کی تلاش شروع کی۔تیل کی تلاش کا آغاز1933ء میں شاہ عبدالعزیز آل سعود نے امریکی کمپنی اسٹینڈرڈ آئل آف کیلیفورنیا (SOCAL) کے ساتھ تیل کی تلاش اور دریافت کا امتیازی معاہدہ کیا۔ اس کے بعد امریکی ماہرینِ ارضیات اور سعودی رہنماؤں نے مشرقی خطے کے وسیع صحرائی علاقے میں ایک مشکل اور طویل مہم کا آغاز کیا۔کمپنی نے قبة الدمام کے علاقے میں کھدائی شروع کی، لیکن ابتدائی نتائج امید افزا ثابت نہ ہوئے۔ پہلی کنویں سے کچھ گیس اور تیل کے آثار ملے، مگر اسے بند کرنا پڑا۔ دوسری کنویں میں پیداوار کے امکانات نظر آئے، لیکن بعد میں پانی نے تیل کے ذخیرے کو متاثر کر دیا۔ تیسری سے چھٹی کنویں تک بھی مطلوبہ تجارتی مقدار میں تیل حاصل نہ ہو سکا۔مسلسل ناکامیوں اور بڑھتے ہوئے اخراجات نے منصوبے کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے۔ سعودی عرب سے تیل کی تلاش کا منصوبہ ختم کرنے اور واپس چلے جانے کا امکان بھی زیرِ غور آنے لگا۔ماکس اسٹینکی کا یقیناس نازک مرحلے پر امریکی ماہرِ ارضیات ماکس اسٹینکی نے ہمت نہیں ہاری۔ انہیں یقین تھا کہ زیرِ زمین ارضی ساخت کسی بڑے تیل کے ذخیرے کی نشاندہی کر رہی ہے۔سعودی رہنما اور صحرائی جغرافیے کے ماہر خمیس بن رمثان کی معاونت سے اسٹینکی اور ان کی ٹیم نے بئر نمبر 7 کی کھدائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔یہ کنواں آسان نہیں تھا۔ کھدائی کے دوران بار بار تکنیکی مسائل پیدا ہوئے، کنویں کی دیواریں بیٹھتی رہیں اور بھاری مشینری بھی زیرِ زمین گہرائی میں پھنس گئی۔ تاہم، ٹیم نے کوشش جاری رکھی۔16 اکتوبر 1937ء: پہلی بڑی امید16 اکتوبر 1937ء کو بئر نمبر 7 سے تیل اور گیس کے واضح آثار ملے۔ یہ تیل تقریباً 1,097 میٹر کی گہرائی میں سامنے آیا۔یہ دریافت امید کی ایک نئی کرن تھی، لیکن ماہرین جانتے تھے کہ محض تیل کے آثار کافی نہیں؛ اصل کامیابی اس وقت حاصل ہونی تھی جب کنواں تجارتی پیمانے پر مسلسل پیداوار دینے کے قابل ثابت ہوتا۔کھدائی جاری رہی اور 1938ء کے آغاز تک کنویں کی گہرائی تقریباً 1,440 میٹر تک پہنچ گئی۔4 مارچ 1938ء: تاریخ بدل دینے والا دن4 مارچ 1938ء کو وہ تاریخی لمحہ آیا جس نے سعودی عرب کا مستقبل بدل دیا۔بئرِ دمام نمبر 7 نے تقریباً 1,585 بیرل یومیہ کی پیداوار شروع کر دی۔ چند ہی دنوں میں اس کی پیداوار بڑھ کر 3,600 بیرل یومیہ سے تجاوز کر گئی۔یہ وہ ثبوت تھا جس کا برسوں سے انتظار کیا جا رہا تھا: سعودی عرب کی سرزمین میں تیل نہ صرف موجود تھا بلکہ اسے تجارتی پیمانے پر نکالا بھی جا سکتا تھا۔اسی تاریخی کامیابی کی وجہ سے شاہ عبدالعزیز نے اس کنویں کو “بئرِ الخیر” کا نام دیا، کیونکہ اس نے مملکت کے لیے معاشی خوشحالی کے ایک نئے دور کا دروازہ کھول دیا تھا۔پہلی سعودی تیل کی برآمدتیل کی دریافت کے بعد کامیابی کا سفر تیزی سے آگے بڑھا۔ مئی 1939ء میں شاہ عبدالعزیز نے خود رأس تنورہ سے سعودی عرب کی پہلی برآمدی تیل کی کھیپ روانہ ہونے کا تاریخی منظر دیکھا اور تیل کی لوڈنگ کا والو خود کھولا۔یہ لمحہ سعودی عرب کی جدید معاشی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔کئی دہائیوں تک پیداواربئرِ دمام نمبر 7 نے کئی دہائیوں تک پیداوار جاری رکھی۔ بالآخر 1982ء میں اسے آپریشنل وجوہات کی بنا پر بند کر دیا گیا۔اپنی طویل پیداواری زندگی کے دوران اس تاریخی کنویں نے 32 ملین بیرل سے زیادہ تیل پیدا کیا۔ایک کنواں، ایک نیا دوربئرِ دمام نمبر 7 کی کہانی دراصل سعودی عرب کی جدید تاریخ کی کہانی ہے۔ ابتدائی ناکامیوں، بڑھتے ہوئے اخراجات، تکنیکی مشکلات اور واپسی کے امکانات کے باوجود تلاش جاری رکھنے کا فیصلہ بالآخر ایسی دریافت پر منتج ہوا جس نے مملکت کو دنیا کے اہم ترین توانائی مراکز میں شامل کر دیا۔آج بئرِ دمام نمبر 7 کو سعودی عرب کے تیل کے دور کے آغاز کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ یہ کنواں اس بات کی تاریخی مثال بھی ہے کہ بعض اوقات بڑی کامیابی، مسلسل ناکامیوں کے عین درمیان چھپی ہوتی ہے۔
د. لبنى فرح بئرِ دمام نمبر 7: وہ تاریخی دریافت جس نے سعودی عرب کو تیل کے دور میں داخل کیاریاض/الدمام — سعودی عرب میں تیل کی دریافت محض ایک قدرتی وسیلے کی دریافت نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسا تاریخی موڑ ثابت ہوئی جس نے مملکت کی معیشت، ترقی اور عالمی حیثیت کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ اس تاریخی سفر کا مرکز بئرِ دمام نمبر 7 تھی، جسے بعد ازاں شاہ عبدالعزیز آل سعود نے “بئرِ الخیر” یعنی خیر کا کنواں کا نام دیا۔انیس سو تیس کی دہائی میں سعودی عرب ایک نئے معاشی مستقبل کی تلاش میں تھا۔ موتیوں کی تجارت میں شدید کمی کے باعث آمدنی کے روایتی ذرائع محدود ہو رہے تھے، چنانچہ مملکت نے اپنی سرزمین میں تیل کے ذخائر کی تلاش شروع کی۔تیل کی تلاش کا آغاز1933ء میں شاہ عبدالعزیز آل سعود نے امریکی کمپنی اسٹینڈرڈ آئل آف کیلیفورنیا (SOCAL) کے ساتھ تیل کی تلاش اور دریافت کا امتیازی معاہدہ کیا۔ اس کے بعد امریکی ماہرینِ ارضیات اور سعودی رہنماؤں نے مشرقی خطے کے وسیع صحرائی علاقے میں ایک مشکل اور طویل مہم کا آغاز کیا۔کمپنی نے قبة الدمام کے علاقے میں کھدائی شروع کی، لیکن ابتدائی نتائج امید افزا ثابت نہ ہوئے۔ پہلی کنویں سے کچھ گیس اور تیل کے آثار ملے، مگر اسے بند کرنا پڑا۔ دوسری کنویں میں پیداوار کے امکانات نظر آئے، لیکن بعد میں پانی نے تیل کے ذخیرے کو متاثر کر دیا۔ تیسری سے چھٹی کنویں تک بھی مطلوبہ تجارتی مقدار میں تیل حاصل نہ ہو سکا۔مسلسل ناکامیوں اور بڑھتے ہوئے اخراجات نے منصوبے کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے۔ سعودی عرب سے تیل کی تلاش کا منصوبہ ختم کرنے اور واپس چلے جانے کا امکان بھی زیرِ غور آنے لگا۔ماکس اسٹینکی کا یقیناس نازک مرحلے پر امریکی ماہرِ ارضیات ماکس اسٹینکی نے ہمت نہیں ہاری۔ انہیں یقین تھا کہ زیرِ زمین ارضی ساخت کسی بڑے تیل کے ذخیرے کی نشاندہی کر رہی ہے۔سعودی رہنما اور صحرائی جغرافیے کے ماہر خمیس بن رمثان کی معاونت سے اسٹینکی اور ان کی ٹیم نے بئر نمبر 7 کی کھدائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔یہ کنواں آسان نہیں تھا۔ کھدائی کے دوران بار بار تکنیکی مسائل پیدا ہوئے، کنویں کی دیواریں بیٹھتی رہیں اور بھاری مشینری بھی زیرِ زمین گہرائی میں پھنس گئی۔ تاہم، ٹیم نے کوشش جاری رکھی۔16 اکتوبر 1937ء: پہلی بڑی امید16 اکتوبر 1937ء کو بئر نمبر 7 سے تیل اور گیس کے واضح آثار ملے۔ یہ تیل تقریباً 1,097 میٹر کی گہرائی میں سامنے آیا۔یہ دریافت امید کی ایک نئی کرن تھی، لیکن ماہرین جانتے تھے کہ محض تیل کے آثار کافی نہیں؛ اصل کامیابی اس وقت حاصل ہونی تھی جب کنواں تجارتی پیمانے پر مسلسل پیداوار دینے کے قابل ثابت ہوتا۔کھدائی جاری رہی اور 1938ء کے آغاز تک کنویں کی گہرائی تقریباً 1,440 میٹر تک پہنچ گئی۔4 مارچ 1938ء: تاریخ بدل دینے والا دن4 مارچ 1938ء کو وہ تاریخی لمحہ آیا جس نے سعودی عرب کا مستقبل بدل دیا۔بئرِ دمام نمبر 7 نے تقریباً 1,585 بیرل یومیہ کی پیداوار شروع کر دی۔ چند ہی دنوں میں اس کی پیداوار بڑھ کر 3,600 بیرل یومیہ سے تجاوز کر گئی۔یہ وہ ثبوت تھا جس کا برسوں سے انتظار کیا جا رہا تھا: سعودی عرب کی سرزمین میں تیل نہ صرف موجود تھا بلکہ اسے تجارتی پیمانے پر نکالا بھی جا سکتا تھا۔اسی تاریخی کامیابی کی وجہ سے شاہ عبدالعزیز نے اس کنویں کو “بئرِ الخیر” کا نام دیا، کیونکہ اس نے مملکت کے لیے معاشی خوشحالی کے ایک نئے دور کا دروازہ کھول دیا تھا۔پہلی سعودی تیل کی برآمدتیل کی دریافت کے بعد کامیابی کا سفر تیزی سے آگے بڑھا۔ مئی 1939ء میں شاہ عبدالعزیز نے خود رأس تنورہ سے سعودی عرب کی پہلی برآمدی تیل کی کھیپ روانہ ہونے کا تاریخی منظر دیکھا اور تیل کی لوڈنگ کا والو خود کھولا۔یہ لمحہ سعودی عرب کی جدید معاشی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔کئی دہائیوں تک پیداواربئرِ دمام نمبر 7 نے کئی دہائیوں تک پیداوار جاری رکھی۔ بالآخر 1982ء میں اسے آپریشنل وجوہات کی بنا پر بند کر دیا گیا۔اپنی طویل پیداواری زندگی کے دوران اس تاریخی کنویں نے 32 ملین بیرل سے زیادہ تیل پیدا کیا۔ایک کنواں، ایک نیا دوربئرِ دمام نمبر 7 کی کہانی دراصل سعودی عرب کی جدید تاریخ کی کہانی ہے۔ ابتدائی ناکامیوں، بڑھتے ہوئے اخراجات، تکنیکی مشکلات اور واپسی کے امکانات کے باوجود تلاش جاری رکھنے کا فیصلہ بالآخر ایسی دریافت پر منتج ہوا جس نے مملکت کو دنیا کے اہم ترین توانائی مراکز میں شامل کر دیا۔آج بئرِ دمام نمبر 7 کو سعودی عرب کے تیل کے دور کے آغاز کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ یہ کنواں اس بات کی تاریخی مثال بھی ہے کہ بعض اوقات بڑی کامیابی، مسلسل ناکامیوں کے عین درمیان چھپی ہوتی ہے۔
اھم ترین وزراء کے استعفے حکومت کے لئے مشکلات پیدا سب کچھ ختم ھونے کے قریب۔۔پٹرول کی قیمتوں میں جان لیوا اضافہ حکومت صرف ڈاکے مار رھی ھیں نہ کوی پلان ھے 5 بجٹ پیش کرنے والہ نا اھل وزیراعظم فورسز کو بدنام اور 24 کروڑ عوام کو بغاوت پر اکسا رھا ھے تفصیلات کے لیے سھیل رانا لاءیو سبسکرائب بادبان یو ٹیوب
پاکستان میں تعلیم کھیل سب کچھ ختم۔۔۔کرکٹ کا جنازہ نکال دیا گیا دفنانا باقی۔۔تمام کھیل اپنی آخری ھچکیاں لے رھئ ھے عاقب جاوید کو گرفتار کیا جاے عوام کا مطالبہ۔۔۔صوبوں کے معاملے پر سندھ حکومت کا الگ لائن لینا ان کا حق ہے لیکن جب متفقہ فیصلہ ہوگا تو سب کو ماننا ہوگا، اسلام آباد کی اپنی اسمبلی یا صوبائی حکومت ہونا اچھا اقدام ہے، یہ اچھا اقدام ہے کہ پہلے مرحلے میں اسلام آباد میں اس پر عمل کیا جارہا ہےوزیر دفاع خواجہ محمد آصف۔۔۔۔گندم شوگر پٹرولیم مافیا سب کچھ عوام دشمن حکومت گٹھ جوڑ۔۔۔۔7 ستمبر 1974 کا مبارک دن جب قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا۔۔محسن نقوی بڑے جمہوری آدمی ہیں،وہ سمجھتے ہیں کہ سسٹم، سیاست اور جمہوریت کو مضبوط کرنے ہی میں پاکستان کی بہتری ہے، طلال چوہدری۔ حکومت پاکستان کا 10 روپے والا نوٹ بند کرنے کا فیصلہ.نوٹ تبدیل کروانے کی اخری تاریخ 30ستمبر مقرر ,مقررہ تاریخ سے پہلے تمام افراد اپنے نوٹ تبدیل کروا لیں*۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر۔نہ کھلنے کی صورتحال میں سائڈ وی پی این پر کھولے

صوبوں کے معاملے پر سندھ حکومت کا الگ لائن لینا ان کا حق ہے لیکن جب متفقہ فیصلہ ہوگا تو سب کو ماننا ہوگا، اسلام آباد کی اپنی اسمبلی یا صوبائی حکومت ہونا اچھا اقدام ہے، یہ اچھا اقدام ہے کہ پہلے مرحلے میں اسلام آباد میں اس پر عمل کیا جارہا ہےوزیر دفاع خواجہ محمد آصف

صوبوں کے معاملے پر سندھ حکومت کا الگ لائن لینا ان کا حق ہے لیکن جب متفقہ فیصلہ ہوگا تو سب کو ماننا ہوگا، اسلام آباد کی اپنی اسمبلی یا صوبائی حکومت ہونا اچھا اقدام ہے، یہ اچھا اقدام ہے کہ پہلے مرحلے میں اسلام آباد میں اس پر عمل کیا جارہا ہےوزیر دفاع خواجہ محمد آصف

صوبائی وزیر کھیل ملک فیصل ایوب کھوکھر کی پنجاب اسٹیڈیم میں جشنِ آزادی کبڈی میچ اور سی ایم پنجاب سپورٹس اکیڈمیز کی تقریب میں شرکتصوبائی وزیر کھیل کی مقابلوں میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے بچوں میں سرٹیفکیٹس کی تقسیمسی ایم پنجاب سپورٹس اکیڈمیز میں تین ہزار سے زائد بچے مفت تربیت حاصل کر رہے ہیں۔صوبائی وزیر کھیل صوبائی وزیر کا سیکرٹری سپورٹس پنجاب ، ڈی جی سپورٹس پنجاب اور سپورٹس بورڈ پنجاب کی تمام ٹیم کو خراجِ تحسین پنجاب کے مقابلے میں دوسرے صوبوں کی کارکردگی دیکھ کر مایوسی ہوتی ہے۔فیصل ایوب کھوکھر پنجاب وائٹ نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنجاب گرین کو 30 کے مقابلے میں 31 پوائنٹس سے شکست دی.
*حکومت پاکستان کا 10 روپے والا نوٹ بند کرنے کا فیصلہ.نوٹ تبدیل کروانے کی اخری تاریخ 30ستمبر مقرر ,**مقررہ تاریخ سے پہلے تمام افراد اپنے نوٹ تبدیل کروا لیں*

چینی صدر شی جن پنگ مصر پہنچ گئے، ایران سے تجارت پر امریکی پابندیوں کا خدشہقاہرہ: چین کے صدر شی جن پنگ مصر پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کریں گے۔ چینی صدر کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے خطے کی تجارت، توانائی اور اہم بحری راستوں کو شدید متاثر کیا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شی جن پنگ منگل کی شام مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچے۔ یہ ان کا 2016 کے بعد مصر کا پہلا دورہ ہے اور اسے چین کے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے سفارتی و معاشی کردار کے تناظر میں خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔شی جن پنگ کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چین اور مصر سمیت خطے کے متعدد ممالک ایران کے ساتھ اپنے تجارتی اور مالی روابط کے حوالے سے امریکی پابندیوں کے ممکنہ اثرات سے دوچار ہیں۔امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا،

جس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ کے اہم تجارتی راستوں اور اقتصادی سرگرمیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔واشنگٹن نے گزشتہ ماہ ایران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ تہران کے ساتھ مالی یا تجارتی روابط رکھنے والے بعض غیر ملکی اداروں اور کمپنیوں کو بھی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال نے چین اور مصر کے مالیاتی اداروں کے لیے بھی ممکنہ خطرات پیدا کر دیے ہیں۔چین کے لیے مصر کی اہمیت صرف سیاسی نہیں بلکہ معاشی اور جغرافیائی اعتبار سے بھی غیر معمولی ہے۔ سوئز کینال عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے اور چین کے لیے ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے درمیان تجارتی رابطے میں اس کی خاص اہمیت ہے۔سوئز یونیورسٹی کے سیاسیات کے پروفیسر جمال سلامہ کے مطابق شی جن پنگ کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع چین کے اقتصادی مفادات کو بھی متاثر کر رہا ہے۔سنگاپور میں قائم مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے محقق لیو جیا کے مطابق چین مصر کے ساتھ تعاون کے ذریعے خطے میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال کو سمجھنے اور اس پر اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔چین پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ کے متعدد اہم ممالک کے ساتھ اقتصادی، سفارتی اور سیاسی تعلقات مضبوط کر چکا ہے۔ مصر بھی چین کے لیے ایک اہم علاقائی شراکت دار ہے، بالخصوص سوئز کینال، بحیرۂ احمر اور افریقی منڈیوں تک رسائی کے حوالے سے۔مصر اسرائیل اور فلسطینی گروہوں کے درمیان مذاکرات اور جنگ بندی کی کوششوں میں بھی اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ چین اور مصر فلسطینی ریاست کے قیام اور اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں، جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تعاون کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق شی جن پنگ کا مصر کا دورہ محض دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں بلکہ اسے مشرقِ وسطیٰ میں چین کے بڑھتے ہوئے سیاسی و معاشی اثر و رسوخ، عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ اور ایران کے بحران کے نتیجے میں پیدا ہونے والی نئی علاقائی صورتحال کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔یوں قاہرہ میں شی جن پنگ کی موجودگی ایک ایسے وقت میں چین کی سفارتی سرگرمیوں کو نمایاں کرتی ہے جب مشرقِ وسطیٰ ایک نئے جغرافیائی، معاشی اور سکیورٹی بحران سے گزر رہا ہے۔

*فیصل آباد: گمٹی چوک چالان معاملے پر پولیس کا مؤقف سامنے آگیا*فیصل آباد کے گمٹی چوک میں چالان کے معاملے پر سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو کے حوالے سے پولیس کا مؤقف سامنے آگیا۔پولیس کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والے شہری کا چالان ڈرائیونگ لائسنس موجود نہ ہونے پر قانون کے مطابق کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کو صرف ویڈیو کی بنیاد پر پیش کرنے کے بجائے مکمل حقائق کو بھی مدنظر رکھا جائے۔پولیس کے مطابق شہری کی مالی مشکلات کو دیکھتے ہوئے انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کیا گیا اور چالان کی رقم بھی متعلقہ اہلکاروں نے اپنی جیب سے ادا کی۔ ایس ایچ او ریلوے بازار نے ایک ہزار جبکہ ٹریفک وارڈن نے بھی ایک ہزار روپے ادا کیے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی پر کارروائی اپنی جگہ، تاہم شہری کی مدد اور ہمدردی بھی پولیس کی ذمہ داری ہے۔پولیس نے سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی واقعے کو مکمل حقائق جانے بغیر یکطرفہ انداز میں پیش کرنے سے گریز کیا جائے اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو فروغ دیا جائے۔
وفاقی حکومت خطرے میں جمہوریت یا۔۔ایران میں امریکی فوج اتارنے کی اجازت۔۔۔ملک میں غیر یقینی صورتحال اھم شخصیات ملک سے فرار۔۔ ۔۔بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کی تیاریاں مکمّل بڑی تعداد میں گرفتاریاں۔۔ ۔۔50 ھزار ارب روپے سالانہ کی کرپشن میں ملوث افراد کی لسٹ مکمل۔۔اھم شخصیات گرفتار نامعلوم جگہ پر منتقل۔ملک بھر میں 6 ستمبر کی تقریبات مرکزی تقریب جنرل ھیڈ کواٹر۔۔3 اھم ترین وزراء کی برطرفی اور گرفتاری۔۔وزیراعظم پاکستان کا ایکشن کمیٹی کے ساتھ مزاکرات کا فیصلہ۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ایران میں امریکی فوج اتارنے کی اجازت ہے چھوٹے یا بڑے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے

۔ایٹمی ہتھیار استعمال ہوئے جہنم کا دروازہ کھل جائے گا ۔سب کو اپنے ٹیکٹیکل استعمال کرنے کا جواز مل جائے گا ۔

*یومِ دفاع وشہداء کے موقع پرجی ایچ کیو راولپنڈی میں پُروقارتقریب کا انعقاد* جی ایچ کیومیں پاک فوج کے چاق وچوبند دستے نے یادگارِ شہداءپرسلامی پیش کیایڈجوٹنٹ جنرل پاکستان آرمی نے یادگارِشہدا ء پرحاضری دی اورپھول رکھےتقریب کے دوران ایڈجوٹنٹ جنرل نےشہداء کے اہلخانہ سے خصوصی ملاقات کرکے یکجہتی کا اظہارکیا

شہداء کے اہلخانہ سے ملاقات میں ایڈجوٹنٹ جنرل نے مسائل سنے اورہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی

*نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ، پاکستان نے 100 ٹن امداد روانہ کردی*اسلام آباد: نیپال میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ آبادی کے لیے پاکستان نے 100 ٹن انسانی امداد روانہ کردی۔

دفتر خارجہ کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے تعاون سے فراہم کردہ امدادی سامان چارٹرڈ طیارے کے ذریعے اسلام آباد سے روانہ کیا گیا۔

*نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ، پاکستان نے 100 ٹن امداد روانہ کردی*اسلام آباد: نیپال میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ آبادی کے لیے پاکستان نے 100 ٹن انسانی امداد روانہ کردی۔

دفتر خارجہ کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے تعاون سے فراہم کردہ امدادی سامان چارٹرڈ طیارے کے ذریعے اسلام آباد سے روانہ کیا گیا۔

آٹھ وزرا کو قلمدان مل گئے، کئی خواہشیں ادھوری رہ گئیں !دوسری کھیپ کے متوقع وزرا کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے، وزرا کی اہم محکموں کیلئے امیدیں قائم ، دوڑ دھوپ جاریصدرِ ریاست آزاد جموں کشمیر کون ، کب اور کیسے ؟کالعدم ایکشن کمیٹی نے پھر ہڑتال کی کال دیدی۔
لندن میں بلاول بھٹو کی صدر آصف زرداری سے ملاقات، سندھ کی تقسیم پرپیپلزپارٹی کے مؤقف پر ڈٹے رہنے کا فیصلہملاقات لندن میں آصف زرداری کی رہائش گاہ پر ہوئی جہاں بختاوربھٹو زرداری بھی شریک تھیں۔۔حکمران لندن میں مریم نواز بھی نجی دورے پر لنن۔۔امیر مقام اضافہ بھٹو زرداری اور 3 اھم شخصیات کی لندن یاتراء۔۔پاکستان میں غییر یقینی صورتحال خوف کے سے۔۔ ایرانی حکومت کا خاتمہ ہماری پہنچ میں ہے : نیتن یاہو۔۔ ٹیکنو کریٹش کی حکومت پاکستان میں 12 رکنی کابینہ۔۔ اھم ترین شخصیات کی پاکستان امد ایگزیکٹو شخصیات کے پاکستان امد۔۔ سیکورٹی فورسز کا آپریشن جاری 89 دھشت گرد ھلاک۔۔ افواج پاکستان میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں فیصل نصیر ریٹائرڈ سمیت 12 نئے لیفٹیننٹ جرنلز کی تعیناتیاں سھیل رانا لاءیو۔۔۔افواج پاکستان میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

مشاہد صاحب کا دفتر ، فریال گوہر اور ہم از۔۔۔۔فاروق فیصل خان یہ ان دنوں کی بات ہے جب سید مشاہد حسین وزیر اطلاعات ہوا کرتے تھے۔ان کے ساتھ سندھ کچے کے ڈاکووں، کراچی آپریشن کی رپورتنگ اور کئ سیاسی و غیرسیاسی مہمات سر کی تھیں سو انہوں نے پرائیویٹ سیکرٹری کی اجازت سے ہمیں استسنی دے رکھا تھا۔۔ دروازہ کھولو اور سیدھے کمرے میں۔۔۔۔ کسی خبر کی تصدیق کے لئے پارلیمنت ہاوس ان کے چیمبر میں داخل ہوا تو پہلی نظر سامنے بیٹھی فریال گوہر پر پڑی اور میں وہیں جم کر رہ گیا۔ یوں لگا جیسے کمرے میں روشنی کا ایک ہالہ روشن ہو۔ سفید شلوار قمیص میں ملبوس ، کانون میں چھوٹے چھوٹے جھمکے اور کلائیوں میں کنگھن ۔۔۔اس کے سراپے پر ملکوتی حسن اس طرح اتر ایا تھا جیسے چاندنی نے انسانی صورت اختیار کر لی ہو، آنکھیں جھپکنا اور دل دھڑکنا بھول گیا، زبان گنگ اور قدم فرش میں پیوست ہو کر رہ گئے۔

ہم جیسے خشک مزاج جن کا زمانہ طالبعلمی ساتھی بھائیوں کے ربط میں گذرا ہو کے لئے حسن کو اتنے قریب سے دیکھنا اور حسن بھی وہ جو چند لمحوں کے لیے آدمی کی تمام حسیات کو معطل کر دے ناقابل فراموش لمحہ تھا۔ اج تیس سال کا عرصہ بیت جانے کے بعد بھی ان سحر انگین لمھات کی منطر کشی ممکن نہیں۔الفاط دوڑ کر دور جا کھڑے ہوئے ہیں کہ بس آنکھیں بند کر کے تصور کرو۔ اس کے چہرے کی شگفتگی،لبوں کا تبسم، آنکھوں کی چمک، گفتگو کا وقار اور شخصیت میں ایک عجیب سی خوداعتمادی—سب مل کر ایسا تاثر پیدا کر رہے تھے کہ آدمی چاہے بھی تو اپنی نظریں اور خیالات کسی اور طرف منتقل نہ کر سکے۔ ممکن ہے میری کیفیت ان کے لیے کوئی غیر معمولی صورت حال نہ ہو۔

خوب صورت عورت کو زندگی بھر قدم قدم پر ایسے حضرات سے واسطہ پڑتا رہتا ہے جن کی نظریں تعارف سے پہلے ہی اپنا تعارف کرا دیتی ہیں۔ مگر میرے لیے یہ صورت حال قدرے مختلف تھی؛ میں حسن کا پرستار بننے کے بجائے محض ایک حیران تماشائی بن کر کھڑا تھا۔واللہ، کتنے لمحے اس محویت میں گزرے، کچھ اندازہ نہیں۔ اسی دوران میزبان سید مشاہد حسین نے گلا کھنکھارا اور انتہائی نستعلیق انگریزی میں مہمان کا تعارف کرایا۔

کہ یہ فریال گوہر ہیں ان دنوں اقوام متحدہ کے ساتھ منسلک ہیں اور اپنی کسی پیشہ ورانہ ذمہ داری کے سلسلے ملاقات کے لیے آئی ہیں۔مہمان نے بھی نہایت شائستہ انگریزی لہجے میں کچھ کہا۔ مگر اس وقت میری حالت ہی ایسی نہ تھی کہ مفہوم سمجھ سکتا۔۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے مشاہد صاحب نے شرارتآ خاموشی سے یہ طے کر دیا ہو کہ اگر یہاں بیٹھنا ہے تو گفتگو بھی اسی لب ولہجہ کی انگریزی میں کرنا ہوگی۔ اپنی کم مائیگی کا احساس ہوا اور منہ سے صرف یہ نکل سکا پھر اوں گا۔مہمان کے جانے کے بعد دوبارہ مشاہد صاحب کے کمرے میں گیا اور شکوہ کیا ،شاہ صاحب یہ آج آپ نے کیا کیا ؟

چند لمحے قدرت کے اس شاہکار کا دیدار کر لیتا تو آپ کا کیا جاتا؟” اور کمرہ ان کے روائتی فلک شگاف قہقے سے گونج اٹھاوہ ملاقات چند لمحوں کی تھی، مگر فریال گوہر کا سراپا، اس کی شخصیت کی وہ پہلی جھلک اور میری اپنی بے بسی آج بھی ایک دلچسپ یاد کی طرح ذہن میں محفوظ ہے۔ بعض چہرے دیکھے نہیں جاتے، یاد رکھے جاتے ہیں؛ اور بعض ملاقاتیں ہوئی نہیں، بس اچانک آدمی پر وارد ہو کر واردات ڈال جاتی ہیں۔نوٹ۔۔۔۔فریال گوہر ان دنوں خبروں میں ان ہیں۔۔۔ایسے ہی یہ تصویر نظر سے گذری تو سب یاد آ گیا
مھنگای مھنگای ھاے مھنگای اٹا مھنگا خون سستا۔۔ دنیا کی واحد عوام دشمن حکومت جمہوریت بہترین انتقام۔حکومت نے پٹرول 350 روپے اور ڈیزل 400 روپے مقرر کر دیا۔۔۔دنیا کی واحد عوام دشمن حکومت جمہوریت بہترین انتقام۔۔اسلام آباد، راولپنڈی اور ملحقہ علاقوں میں رات سے مزید بارش کا امکان، نچلے علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ۔، نچلے علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ۔۔اسلام آباد، راولپنڈی اور ملحقہ علاقوں میں رات سے مزید بارش۔۔۔جماعت اسلامی کا لانگ مارچ ختم پٹرول 350۔۔زرداری نواز شریف اور وزیر قانون لندن میں۔۔پیوٹن کا ایران کی بھر پور حمایت کا اعلان۔ٹرمپ کو امریکی عدالت سے ایک اور بڑا دھچکا۔۔جہاں تک ممکن ہوگا حکومت عوام کو ریلیف دے گی، احسن اقبال۔۔ھمیں اپ پر فخر ہے وزیراعظم کا 2 بچوں کو بچانے والی نرس سے ملاقات کے بعد گرانقدر خدمات پر ایک کروڑ روپے کا چیک پیش کیا۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*سی ڈی اے کا ڈپلومیٹک انکلیو کی بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈیشن کے منصوبہ پر کام تیزی سے جاری* اسلام آباد: 3ستمبر 2026: سی ڈی اے کی طرف سے اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو کی اپ لفٹنگ کے منصوبہ پر تیزی سے کام جاری ہے- ڈپلومیٹک انکلیو کی اپ گریڈیشن کے منصوبہ کا مقصد معیاری انفراسٹرکچر، سکیورٹی کے مؤثر نظام، جدید طرزِ تعمیر، لینڈ اسکیپنگ، ہارٹیکلچر، بہتر سڑکوں اور فٹ پاتھوں، جدید لائٹنگ اور باوقار عوامی مقامات کی فراہمی کے ذریعے ڈپلومیٹک انکلیو کے ماحول اور سہولیات کو بہتر بنانا ہے، جس سے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مثبت اور باوقار تشخص کو مزید مستحکم کیا جا سکے گا۔چیئرمین سی ڈی اے نے ڈپلومیٹک انکلیو کی اپ گریڈیشن، نئی باؤنڈری وال کی تعمیر اور سکیورٹی انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سی ڈی اے کی اسپیشل پراجیکٹس ڈائریکٹوریٹ کو خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔جاری کاموں میں سکیورٹی گیٹس اور چیک پوسٹس کی اپ گریڈیشن، مخصوص ویٹنگ ایریا کی تعمیر، سڑکوں اور فٹ پاتھوں کی بہتری سمیت دیگر سول ورکس، آرکیٹیکچرل کلاڈنگ اور تعمیراتی کام، باؤنڈری اور سکیورٹی انفراسٹرکچر کی مضبوطی، جدید ایل ای ڈی اور سکیورٹی لائٹس کی تنصیب، فینسنگ، گرِلز، ریزر وائر اور دیگر حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ لینڈ اسکیپنگ، نئی شجرکاری، گرین بیلٹس اور میڈینز کی بہتری پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ڈپلومیٹک انکلیو کی منفرد سرسبز شناخت کو مزید نمایاں کرنے کے لیے لینڈ اسکیپنگ، ہارٹیکلچر، اور تزئین و آرائش پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ پیدل چلنے والوں کے لیے بہتر سہولیات، جدید لائٹنگ، بہتر سڑکیں اور باوقار عوامی مقامات علاقے کے مجموعی ماحول، خوبصورتی اور فعالیت کو مزید بہتر بنائیں گے۔اس منصوبے کا بنیادی مقصد سفارت کاروں، رہائشیوں، ملکی و غیر ملکی مہمانوں کے لیے ایک محفوظ، منظم، خوبصورت اور باوقار ماحول فراہم کرنا ہے۔ڈپلومیٹک انکلیو کی اپ گریڈشن اسلام آباد کو ایک عالمی معیار کے محفوظ، خوبصورت اور پیشہ ورانہ انداز میں منظم وفاقی دارالحکومت بنانے کے لیے سی ڈی اے کے وسیع تر وژن کا حصہ ہے۔اپ گریڈ ہونے سے ڈپلومیٹک انکلیو بین الاقوامی سفارتی برادری کے سامنے پاکستان کا ایک مثبت، باوقار اور جدید تشخص اجاگر کرے گا، جبکہ سفارت کاروں، بین الاقوامی وفود، سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات اور دیگر معزز مہمانوں کے لیے ایک بہتر اور عالمی معیار کا ماحول فراہم کرے گا

۔ڈپلومیٹک کمیونٹی نے سی ڈی اے کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے جاری اپ گریڈیشن کے کام کو ڈپلومیٹک انکلیو کی سکیورٹی، انفراسٹرکچر، لینڈ اسکیپنگ اور مجموعی طور پرایک اہم قدم قرار دیا ہے۔یہ منصوبہ وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی کے وژن اور چیئرمین سی ڈی اے کی قیادت میں اسلام آباد میں ایک ایسے ڈپلومیٹک انکلیو کے قیام کے عزم کی عکاسی کرتا ہے جو پاکستان کی عظمت و وقار، اسلام آباد کے منفرد تشخص اور عصری بین الاقوامی معیار کا حقیقی عکاس ہو۔
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 84 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 349 روپے فی لیٹر ہوگئی۔ڈیزل کی قیمت بھی 2 روپے 28 پیسے فی لیٹر بڑھا دی گئی ہے، جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 374 روپے 31 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔حکومت کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں 4 ستمبر سے نافذ ہوں گی۔

پاکستان ٹیم کا انگلیںڈ کا دورہ کبھی بھی خیر سے پر امن نہ رہا اور ہمیشہ کوئی نیا تنازع کھڑا ہوا ۔۔۔ایک منٹ میں حالات ٹائٹ ہو جاتے ہیں اور حالات ٹائٹ دیکھ کر پاکستانیوں کا مسلہ کھڑا ہو جاتا ہے پاکستان ٹیم جب بھی انگلینڈ گئی، کہانی صرف کرکٹ تک محدود نہیں رہی۔ رنز اور وکٹوں کے ساتھ کوئی نہ کوئی بڑا تنازع بھی ضرور کھڑا ہوا۔ کبھی میڈیا، کبھی الزامات اور کبھی ایسے فیصلے جنہوں نے کرکٹ سے زیادہ ہلچل مچائی۔ یوں لگتا ہے انگلینڈ میں پاکستان کے خلاف مقابلہ صرف 22 گز پر نہیں ہوتا۔1️ 1992 — ریورس سوئنگ کا جادو یا بال ٹمپرنگ؟ وسیم اکرم اور وقار یونس نے انگلش بیٹسمینوں کو اپنی تباہ کن ریورس سوئنگ سے پریشان کر دیا۔ وسیم کی سوئنگ تو دنیا جانتی ہے مگر اس وقت سپیڈ بھی وقار سے کم نہ تھی اور وقار کی سپیڈ اور ریورس سوئنگ کے سامنے گورے بلکل بے بس ہو گئے نہ وکٹ محفوظ نہ پاؤں نہ کھوپڑی نہ عزت ۔۔ تو گورے نے وہی گورا چال چلی جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے وقت چلی یعنی دماغ کا کھیل ۔۔۔ پاکستانی گیند بازوں پر بال ٹیمپرنگ یعنی گیند سے چھیڑ چھاڑ کے الزامات لگے، مگر کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہ آیا۔ بعد میں دنیا نے ریورس سوئنگ کو پاکستان کی ایک عظیم مہارت تسلیم کیا۔2️۔ 2006 — اوول کا تنازع امپائر ڈیرل ہیئر جو ہمیشہ پاکستان کے خلاف رہا نے پاکستان پر بال ٹمپرنگ کا الزام لگا کر انگلینڈ کو پانچ پنالٹی رنز دیے۔ احتجاجاً کپتان انضمام الحق نے فیصلہ کیا اور پاکستانی ٹیم چائے کے وقفے کے بعد میدان میں واپس نہ آئی اور انگلینڈ کو میچ کا فاتح قرار دے دیا گیا۔ بعد میں پاکستان کو بال ٹمپرنگ کے الزام سے بری بھی کر دیا گیا، مگر اوول کا واقعہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔یاد رہے کہ پی سی بی چیئر مین نسیم اشرف نے کھیلنے کا حکم جاری کر دیا تھا لیکن انضمام اپنے موقف پر ڈٹے رھے اور نہیں کھیلنے گئے ۔3️۔ 2010 جب پاکستان کے پاس دنیا کا نمبر ون بولنگ اٹیک جس میں عامر کی سپیڈ آصف کی سوئنگ کنیریا کی گللی سلمان بٹ کی انتہائی کرکٹ سینس کے ساتھ کپتانی اور یوسف یونس کی مڈل آرڈر کے ساتھ ٹیم انتہائی خطرناک تھی مگر ایک بار پھر گورے نے جال بچھیایا اور لالچی کبوتر اس میں پھنس گئے ۔ لارڈز اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل لارڈز میں محمد عامر، محمد آصف اور کپتان سلمان بٹ سے جڑا اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل سامنے آیا۔ مخصوص نو بالز نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا۔ تینوں پر پابندیاں لگیں اور بعد میں جیل کی سزائیں بھی ہوئیں۔ یہ پاکستان کرکٹ کے بدترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔4️ 2026 — پھر انگلینڈ، پھر تنازع! حالیہ دورے میں لارڈز ٹیسٹ کے دوران اسکائی اسپورٹس پر عمران خان کے صاحبزادوں کا انٹرویو نشر ہوا، جس پر پاکستان کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔

میڈیا پابندیوں اور ٹیم کے اندرونی معاملات نے ماحول مزید گرم کر دیا۔5️ شکست کے بعد بڑی تبدیلیاں پہلے دو ٹیسٹ میچز کے بعد کئی اہم کھلاڑیوں کو سیریز کے دوران ہی ٹیم سے باہر کر دیا گیا۔ یوں میدان کی شکست کے ساتھ میدان سے باہر کا انتشار بھی خبروں کا مرکز بن گیا۔چند ایک مزید انکی چولیں ملاحضہ کریں بوتھم 87 میں پاکستان آیا تو اس نے کہا یہاں تو بندہ اپنی ساس کو بھیجے ۔۔ یعنی سزا کے طور پر ۔ایلن لیمب کی چول: انگلش بلے باز نے پی سی بی اور آئی سی سی کو چھوڑ کر برطانوی اخبار کو سنسنی خیز انٹرویو دیا اور پاکستانی باؤلرز پر سرعام “چور” کا الزام لگایا۔میچ ریفری ڈیرک مرے کی چول: لارڈز ون ڈے میں گیند تبدیل کرنے کی اصل وجہ کو خفیہ رکھا، جس سے پاکستانی باؤلرز کے خلاف بلاوجہ شکوک و شبہات اور میڈیا ٹرائل کو ہوا ملی۔امپائرز کین پامر اور جان ہیمپشائر کی چول: بغیر کسی ٹھوس ثبوت یا کپتان کو بتائے لارڈز میچ کے دوران خفیہ طور پر خود ہی گیند بدل ڈالی۔انگلش کپتان گراہم گوچ کی چول: سیریز ہارنے کے بعد اپنی ناکامی تسلیم کرنے کے بجائے میڈیا میں ریورس سوئنگ کو مسلسل مشکوک قرار دیتے رہے۔برطانوی پریس اور کمنٹیٹرز کی چول: پاکستانی باؤلرز کی مہارت کی تعریف کرنے کے بجائے انہیں اخبارات میں “بال ٹیمپرنگ سے بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔۔ ❓تو سوال یہ ہے: کیا انگلینڈ میں پاکستان کے خلاف میڈیا اور نفسیاتی دباؤ محض اتفاق ہے، یا یہ ایک پرانی حکمتِ عملی ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو کیا ہم خود اپنے فیصلوں سے اس دباؤ کو مزید بڑھا دیتے ہیں؟گئے دنوں کا سراغ یہی بتاتا ہے کہ انگلینڈ میں پاکستان کا اصل امتحان صرف 22 گز پر نہیں ہوتا… اصل جنگ اکثر اس کے باہر شروع ہوتی ہے۔ 🇵🇰🏏#cricketaffairs #Pakistantourofengland #teamwork #tour #matchfixing #spotfixing #gliballrague #tempted #inzimamulhaq #salnanbut

د. لبنى فرح آبنائے ہرمز میں بڑی پیش رفت، ایران کی نئی سمندری بارودی سرنگوں کی صلاحیت نے امریکا کو دوبارہ کشیدگی بڑھانے پر مجبور کر دیاآبنائے ہرمز میں گزشتہ چند روز کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی کشیدگی میں نسبتاً عارضی وقفے کو ختم کرتے ہوئے ایک بار پھر تصادم کا راستہ اختیار کیا۔حالیہ دنوں میں ایران پر کیے گئے امریکی فضائی حملوں میں میزائل داغنے کے لیے استعمال ہونے والے دو پلیٹ فارمز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کے مطابق یہ دونوں پلیٹ فارم ممکنہ طور پر ایسی چھوٹی بحری بارودی سرنگیں نصب کرنے یا آبنائے ہرمز میں پہنچانے کے لیے تیار کیے جا رہے تھے جنہیں میزائلوں کے ذریعے سمندر میں داغا جا سکتا ہے۔اس نوعیت کی فوجی ٹیکنالوجی، یعنی زمین سے توپ خانے یا میزائل نما نظام کے ذریعے ایسا راکٹ داغنا جو سمندر میں بارودی سرنگ پہنچائے، غیر معمولی سمجھی جاتی ہے۔ اس سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ ایران نے ایک ایسا نیا طریقہ تیار کر لیا ہے جسے وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور عالمی توانائی کی ترسیل میں خلل ڈالنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام)، جو مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرتی ہے، کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے کہا:«’’ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں کو آبنائے ہرمز میں میزائلوں کے ذریعے بحری بارودی سرنگیں داغنے کی تیاری کرتے ہوئے دیکھا گیا۔‘‘»آبنائے ہرمز کو مسلسل خطرہآبنائے ہرمز، جس سے دنیا کی عالمی منڈیوں تک پہنچنے والی تیل کی ایک بڑی مقدار لے جانے والے ٹینکر گزرتے ہیں، 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ حملہ شروع کیے جانے کے بعد سے مسلسل خطرے کی زد میں ہے۔جنگ کے نتیجے میں متعدد بحری جہاز رانی کمپنیوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے سے گریز شروع کر دیا ہے، جبکہ خطے کے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ملک سعودی عرب نے اپنے خام تیل کی زیادہ مقدار کو بحیرۂ احمر کے راستے برآمد کرنے کا انتظام کیا ہے۔ایران کے پاس طویل عرصے سے بحری بارودی سرنگوں کا ایک وسیع اور متنوع ذخیرہ موجود ہونے کے بارے میں معلومات سامنے آتی رہی ہیں۔ ان میں چھوٹی مقناطیسی یا چسپاں بارودی سرنگیں بھی شامل ہیں، جنہیں غوطہ خور بحری جہازوں کے ڈھانچے کے ساتھ نصب کر سکتے ہیں، جبکہ دوسری جانب نسبتاً بڑے اور زیادہ طاقتور ہتھیار بھی موجود ہیں جنہیں کشتیاں یا بحری جہاز سمندر میں نصب کر سکتے ہیں اور جو اپنے ہدف کو غرق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔تاہم، ایرانی بحری بارودی سرنگوں کے ایسے نظام کے بارے میں عوامی سطح پر دستیاب معلومات اب بھی انتہائی محدود ہیں جنہیں خشکی سے میزائلوں کے ذریعے سمندر میں داغا جا سکے۔یہ صلاحیت موجودہ ایران-امریکا کشیدگی کے دوران سامنے آنے والے ممکنہ طور پر اہم ترین اور غیر متوقع عسکری انکشافات میں سے ایک ہو سکتی ہے۔تزویراتی اہمیتاگر ایران واقعی خشکی سے میزائل کے ذریعے بحری بارودی سرنگیں آبنائے ہرمز میں پہنچانے کی قابلِ اعتماد صلاحیت تیار کر چکا ہے تو اس سے آبنائے میں تجارتی اور توانائی کی ترسیل کے لیے خطرات کی نوعیت تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس طرح کی صلاحیت روایتی بحری مائن بچھانے کے مقابلے میں نسبتاً تیز، دور سے اور ممکنہ طور پر کم خطرے کے ساتھ استعمال کی جا سکتی ہے۔آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اس لیے اس میں معمولی نوعیت کی رکاوٹ بھی تیل کی عالمی ترسیل، جہاز رانی کے اخراجات اور عالمی منڈیوں میں قیمتوں پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔
*سی ڈی اے کا ڈپلومیٹک انکلیو کی بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈیشن کے منصوبہ پر کام تیزی سے جاری* اسلام آباد: 3ستمبر 2026: سی ڈی اے کی طرف سے اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو کی اپ لفٹنگ کے منصوبہ پر تیزی سے کام جاری ہے- ڈپلومیٹک انکلیو کی اپ گریڈیشن کے منصوبہ کا مقصد معیاری انفراسٹرکچر، سکیورٹی کے مؤثر نظام، جدید طرزِ تعمیر، لینڈ اسکیپنگ، ہارٹیکلچر، بہتر سڑکوں اور فٹ پاتھوں، جدید لائٹنگ اور باوقار عوامی مقامات کی فراہمی کے ذریعے ڈپلومیٹک انکلیو کے ماحول اور سہولیات کو بہتر بنانا ہے، جس سے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مثبت اور باوقار تشخص کو مزید مستحکم کیا جا سکے گا۔چیئرمین سی ڈی اے نے ڈپلومیٹک انکلیو کی اپ گریڈیشن، نئی باؤنڈری وال کی تعمیر اور سکیورٹی انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سی ڈی اے کی اسپیشل پراجیکٹس ڈائریکٹوریٹ کو خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔جاری کاموں میں سکیورٹی گیٹس اور چیک پوسٹس کی اپ گریڈیشن، مخصوص ویٹنگ ایریا کی تعمیر، سڑکوں اور فٹ پاتھوں کی بہتری سمیت دیگر سول ورکس، آرکیٹیکچرل کلاڈنگ اور تعمیراتی کام، باؤنڈری اور سکیورٹی انفراسٹرکچر کی مضبوطی، جدید ایل ای ڈی اور سکیورٹی لائٹس کی تنصیب، فینسنگ، گرِلز، ریزر وائر اور دیگر حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ لینڈ اسکیپنگ، نئی شجرکاری، گرین بیلٹس اور میڈینز کی بہتری پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ڈپلومیٹک انکلیو کی منفرد سرسبز شناخت کو مزید نمایاں کرنے کے لیے لینڈ اسکیپنگ، ہارٹیکلچر، اور تزئین و آرائش پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

پیدل چلنے والوں کے لیے بہتر سہولیات، جدید لائٹنگ، بہتر سڑکیں اور باوقار عوامی مقامات علاقے کے مجموعی ماحول، خوبصورتی اور فعالیت کو مزید بہتر بنائیں گے۔اس منصوبے کا بنیادی مقصد سفارت کاروں، رہائشیوں، ملکی و غیر ملکی مہمانوں کے لیے ایک محفوظ، منظم، خوبصورت اور باوقار ماحول فراہم کرنا ہے۔ڈپلومیٹک انکلیو کی اپ گریڈشن اسلام آباد کو ایک عالمی معیار کے محفوظ، خوبصورت اور پیشہ ورانہ انداز میں منظم وفاقی دارالحکومت بنانے کے لیے سی ڈی اے کے وسیع تر وژن کا حصہ ہے۔اپ گریڈ ہونے سے ڈپلومیٹک انکلیو بین الاقوامی سفارتی برادری کے سامنے پاکستان کا ایک مثبت، باوقار اور جدید تشخص اجاگر کرے گا، جبکہ سفارت کاروں، بین الاقوامی وفود، سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات اور دیگر معزز مہمانوں کے لیے ایک بہتر اور عالمی معیار کا ماحول فراہم کرے گا۔ڈپلومیٹک کمیونٹی نے سی ڈی اے کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے جاری اپ گریڈیشن کے کام کو ڈپلومیٹک انکلیو کی سکیورٹی، انفراسٹرکچر، لینڈ اسکیپنگ اور مجموعی طور پرایک اہم قدم قرار دیا ہے۔یہ منصوبہ وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی کے وژن اور چیئرمین سی ڈی اے کی قیادت میں اسلام آباد میں ایک ایسے ڈپلومیٹک انکلیو کے قیام کے عزم کی عکاسی کرتا ہے جو پاکستان کی عظمت و وقار، اسلام آباد کے منفرد تشخص اور عصری بین الاقوامی معیار کا حقیقی عکاس ہو۔
*پاک بحریہ کی اہم بحری مشق سی سپارک 2026 کا کراچی میں آغاز*مشق کی افتتاحی بریفنگ کے مہمان خصوصی چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف تھےخطے کے غیر مستحکم اور پیچیدہ سیکیورٹی ماحول میں پاک بحریہ اپنی آپریشنل تیاریوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔ ایڈمرل نوید اشرفنیول چیف نے جنگوں کی بدلتی ہوئی نوعیت میں تینوں مسلح افواج کے مابین مضبوط مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ انفارمیشن ڈومین کی اہمیت پر زور دیامشق میں روایتی اور جدید بحری خطرات سے نمٹنے کے لیے پاک بحریہ کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا جائے گا مشق میں پاک بحریہ کے جنگی جہاز، آبدوزیں، ہوائی جہاز، ڈرونز، پاک میرینز اور اسپیشل آپریشنز فورسز حصہ لیں گےسی سپارک میں پاک آرمی اور پاک فضائیہ بھی مشترکہ حکمت عملی اور جنگی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کریں گےچیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف کا پاک بحریہ کے جنگی جہازوں کا دورہ اور جاری آپریشنل سرگرمیوں کا جائزہ نیول چیف کی فلیٹ یونٹس میں افسران اور جوانوں سے ملاقات مشق سی سپارک بحری جنگ کے ہر میدان میں برتری حاصل کرنے کے پاک بحریہ کے غیر متزلزل عزم کا مظہر ہے









