
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج کیس کا محفوظ کردہ فیصلہ سنادیا۔کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو عوامی سڑکوں، شاہراہوں یا دیگر مقامات پر قبضے کا قانونی حق نہیں، عدالتکسی سیاسی جماعت یا رہنما کو شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے کا حق نہیں، عدالتصوبائی حکومتیں مارچ، جلوس یا ریلی کیلئے سرکاری وسائل استعمال نہ ہونے دیں، عدالتوزرائے اعلیٰ یقینی بنائیں کہ سرکاری فنڈز یا سرکاری افسران احتجاج میں استعمال نہ ہوں

، عدالت مارچ، جلوس یا ریلی کیلئے سرکاری گاڑیاں، مشینری یا دیگر سامان استعمال نہ کیا جائے، عدالتکسی سرکاری ملازم کو مارچ، جلوس یا ریلی میں شرکت پر مجبور نہ کیا جائے، عدالتاسلام آباد انتظامیہ اور وزارت داخلہ شہریوں کے آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں، عدالتچیف سیکریٹریز اور آئی جیز پولیس عدالتی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنائیں، عدالتوفاقی سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد کو بھی ہدایات جاری، عدالت

ٹرمپ کا سعودی درخواست پر حوثیوں کے خلاف براہِ راست کارروائی سے گریز، امریکی سکیورٹی کردار پر سوالاتریاض/واشنگٹن، 14 ستمبر 2026: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے یمن میں ایران نواز حوثی تحریک کے خلاف براہِ راست امریکی فوجی کارروائی کی درخواست پر فی الحال عمل درآمد سے گریز کیا ہے۔ امریکی حکام کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق واشنگٹن نے براہِ راست فضائی حملوں کے بجائے سعودی عرب کو انٹیلی جنس اور ہدف بندی سے متعلق معاونت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں حوثیوں کی پیش قدمی نے باب المندب کی سکیورٹی سے متعلق خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔اس پیش رفت نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں میں اس بنیادی سوال کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے کہ علاقائی سلامتی کے بحران کی صورت میں امریکہ اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے کس حد تک براہِ راست فوجی کردار ادا کرنے پر آمادہ ہوگا۔

سعودی عرب کی جانب سے امریکی فوجی معاونت کی درخواسترائٹرز کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان نے جمعرات کو صدر ٹرمپ سے کم از کم دو مرتبہ ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور حوثی خطرے سے نمٹنے کے لیے امریکی معاونت طلب کی۔رپورٹس کے مطابق واشنگٹن نے فی الحال حوثی اہداف کے خلاف براہِ راست امریکی فوجی کارروائی سے گریز کرتے ہوئے انٹیلی جنس معلومات اور اہداف کی نشاندہی سے متعلق معاونت کی پیشکش کی ہے۔امریکی موقف کو مکمل طور پر سعودی عرب سے دستبرداری قرار نہیں دیا جا سکتا۔ واشنگٹن ریاض کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور سعودی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے انٹیلی جنس و آپریشنل معاونت فراہم کر رہا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کا سعودی عرب کا دورہ بھی اسی تناظر میں اعلیٰ سطحی عسکری مشاورت کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔تاہم، اس پالیسی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ امریکہ فی الحال سعودی عرب کی معاونت تو کر رہا ہے، لیکن حوثی اہداف پر براہِ راست امریکی فضائی حملوں کے لیے اپنے جنگی طیارے استعمال کرنے سے گریزاں ہے

۔بحیرۂ احمر اور باب المندب پر بڑھتے ہوئے خدشاتیمن کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں حوثیوں کی پیش قدمی نے باب المندب کی سکیورٹی کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ یہ آبنائے بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور عالمی بحری تجارت کے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتی ہے۔حوثی حملوں اور ساحلی علاقوں میں ان کی عسکری سرگرمیوں میں اضافے سے تجارتی جہاز رانی، توانائی کی ترسیل اور خطے کے مجموعی سکیورٹی توازن پر خدشات بڑھ رہے ہیں۔اگر یہ صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اس کے اثرات یمن تک محدود رہنے کے بجائے بحیرۂ احمر کی جہاز رانی، عالمی سپلائی چین، توانائی کی منڈیوں اور علاقائی سلامتی تک پھیل سکتے ہیں۔سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر دباؤسکیورٹی صورتحال نے سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی دباؤ میں لا دیا ہے۔ حالیہ حملوں کے بعد تیل کی ترسیل کے راستوں کے تحفظ سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے، جن میں مملکت کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن بھی شامل ہے۔یہ پائپ لائن سعودی خام تیل کو مشرقی صوبوں سے بحیرۂ احمر کی جانب منتقل کرنے کا متبادل راستہ فراہم کرتی ہے اور اس طرح خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔بحیرۂ احمر میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات کے امتزاج نے عالمی تیل کی رسد اور توانائی کی قیمتوں پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

سعودی-امریکی سکیورٹی شراکت داری کا اہم امتحانریاض کے لیے موجودہ صورتحال کا بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ امریکہ حوثیوں کے خلاف فضائی حملے کرے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اگر سعودی سرزمین، توانائی کے مراکز یا بین الاقوامی جہاز رانی کو لاحق خطرات مزید بڑھتے ہیں تو واشنگٹن اپنے اتحادی کے دفاع کے لیے کس سطح تک براہِ راست فوجی کردار اختیار کرے گا۔سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط شراکت داری میں دفاعی تعاون، عسکری صلاحیتوں، انٹیلی جنس اور باز deterrence کو بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے۔ موجودہ بحران اس سکیورٹی فریم ورک کی عملی حدود کو ایک بار پھر نمایاں کر رہا ہے۔واشنگٹن کا موجودہ طرزِ عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ سعودی عرب کی دفاعی معاونت جاری رکھتے ہوئے خود کو ایک وسیع تر اور براہِ راست علاقائی جنگ میں ملوث ہونے سے فی الحال محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔ریاض کے لیے تزویراتی مضمراتموجودہ پیش رفت سعودی عرب کو اپنی دفاعی صلاحیتوں میں مزید اضافے، خود انحصار دفاعی استعداد کو مضبوط بنانے اور مختلف علاقائی و بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ سکیورٹی تعاون کو وسعت دینے کی جانب مزید متوجہ کر سکتی ہے۔تاہم، موجودہ صورتحال کو امریکہ کی جانب سے سعودی عرب سے مکمل دستبرداری یا دونوں ممالک کے سکیورٹی تعلقات کے خاتمے سے تعبیر کرنا قبل از وقت ہوگا۔ واشنگٹن بدستور ریاض کے ساتھ عسکری رابطے، انٹیلی جنس تعاون اور دفاعی معاونت جاری رکھے ہوئے ہے۔اس مرحلے پر زیادہ درست تجزیہ یہ ہے کہ اختلاف امریکی معاونت کے خاتمے پر نہیں بلکہ اس کی نوعیت اور براہِ راست فوجی مداخلت کی سطح پر مرکوز ہے۔خطے میں ممکنہ نئی صف بندیاگر حوثی خطرہ مزید پھیلتا ہے اور سعودی سرزمین، توانائی کے بنیادی ڈھانچے یا بحیرۂ احمر کی بین الاقوامی جہاز رانی کو مسلسل خطرات لاحق رہتے ہیں تو ریاض پر اپنی آزادانہ دفاعی صلاحیت اور باز deterrence

کو مزید مضبوط بنانے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔اس کے نتیجے میں سعودی عرب علاقائی سکیورٹی انتظامات کو وسعت دینے اور بین الاقوامی دفاعی شراکت داری کو مزید متنوع بنانے پر بھی غور کر سکتا ہے۔خلیجی ریاستوں کے لیے موجودہ بحران ایک اہم تزویراتی سوال کو دوبارہ سامنے لاتا ہے: امریکی سکیورٹی معاونت بدستور اہم ہے، لیکن ہر علاقائی بحران میں براہِ راست امریکی فوجی مداخلت کو پیشگی مفروضہ نہیں بنایا جا سکتا۔آنے والے دنوں میں یمن، بحیرۂ احمر اور باب المندب کی صورتحال اس امر کا تعین کرے گی کہ موجودہ بحران محدود رہتا ہے یا سعودی عرب اور اس کے خلیجی شراکت دار اپنی مستقبل کی سکیورٹی حکمتِ عملی اور علاقائی اتحادوں کی ازسرِنو تشکیل کی جانب مزید تیزی سے بڑھتے ہیں۔

جب آپ کو پتہ تھا کہ انڈیا والے میرے سے ٹرافی وصول نہیں کرے گے تو کیوں اپنے آپ کو اور پاکستان کی نام کو زلیل کروانے وہاں ایک بار پھر چلے گئے؟ کوئی بہانہ بنا لیتے ویسے کہ میں نہیں آنے والا کچھ پرسنل کام کی وجہ سے۔ لیکن نہیں زلالت آپ کا مقدر ہے۔ کیا فایدہ آپ کے اس چیئرمین شپ کا؟ آپ میرٹ پر نہیں ہو اس لئے اللہ تعالیٰ آپ کو شرمندہ کر رہا ہے۔ میں تو بس یہی کہوں گا۔۔#WomenAsiaCup #mohsinnaqvi #INDvSL #ACC #highlight

مقامِ ابراہیم کی منتقلی کا فیصلہ کیسے رکا؟ شیخ الشعراوی کا شاہ سعود کو پانچ صفحات پر مشتمل تاریخی و فقہی ٹیلی گراممکہ مکرمہ — 1950 کی دہائی میں حج و عمرہ کے لیے آنے والے زائرین کی تعداد میں اضافے کے باعث مسجد الحرام میں مطاف کے علاقے میں ازدحام بڑھ گیا۔ اس وقت مقامِ ابراہیم کے گرد موجود نسبتاً بڑے ڈھانچے کو طواف کرنے والے زائرین کی روانی میں رکاوٹ کا ایک سبب سمجھا گیا، جس کے پیش نظر 1954 میں مقامِ ابراہیم کو خانۂ کعبہ سے مزید پیچھے منتقل کرنے کی تجویز سامنے آئی۔رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ عملی مرحلے کے قریب پہنچ چکا تھا اور شاہ سعود بن عبدالعزیز کے دورِ حکومت میں مقام کی منتقلی کے لیے ایک مخصوص تاریخ بھی مقرر کی جا چکی تھی۔اس وقت معروف عالمِ دین شیخ محمد متولی الشعراوی مکہ مکرمہ کے کالج آف شریعہ میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ جب انہیں مقامِ ابراہیم کی مجوزہ منتقلی کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے معاملے کو محض مطاف کی توسیع کا انتظامی یا تعمیراتی مسئلہ سمجھنے کے بجائے اس کے شرعی، فقہی اور تاریخی پہلوؤں کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔روایت کے مطابق، شیخ الشعراوی نے متعدد سعودی علما اور مصری مشن کے ارکان سے مشاورت کی۔

انہیں بتایا گیا کہ معاملہ تقریباً طے ہو چکا ہے اور مقامِ ابراہیم کے لیے نیا ڈھانچہ بھی تیار کیا جا چکا ہے۔ تاہم، انہوں نے اس کے باوجود اپنی تشویش سے دستبردار ہونے سے انکار کیا۔شاہ سعود کو پانچ صفحات کا ٹیلی گرامبیان کردہ روایت کے مطابق شیخ الشعراوی نے شاہ سعود کو تقریباً پانچ صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی ٹیلی گرام ارسال کیا، جس میں مقامِ ابراہیم کے شرعی مقام، تاریخی پس منظر اور اس کے ساتھ مناسب طرزِ عمل سے متعلق فقہی دلائل پیش کیے گئے۔انہوں نے استدلال کیا کہ اس معاملے میں صرف نبی کریم ﷺ کے عملی طریقے کو بنیاد بنانا کافی نہیں

بلکہ تشریعِ نبوی کی نوعیت اور متعلقہ تاریخی و فقہی شواہد کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے حضرت عمر بن خطابؓ کے دور کا حوالہ بھی دیا، جب سیلاب کے باعث مقامِ ابراہیم اپنی جگہ سے متاثر ہوا اور بعد ازاں اسے دوبارہ اس کے مقررہ مقام پر بحال کیا گیا۔روایت کے مطابق، یہ ٹیلی گرام شاہ سعود تک پہنچا تو بادشاہ نے اعتراض کو نظرانداز کرنے کے بجائے علما کے ایک گروپ کو اس کے مندرجات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔

بعد ازاں علما کی جانب سے شیخ الشعراوی کے مؤقف کی تائید کی گئی اور شاہ سعود نے مقامِ ابراہیم کو منتقل نہ کرنے کا فیصلہ صادر کیا۔مقام برقرار، مطاف کی توسیع کا حل بھی پیشمقامِ ابراہیم کو اپنی جگہ برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد بنیادی سوال یہ تھا کہ بڑھتی ہوئی تعداد میں طواف کرنے والے زائرین کے لیے مطاف کو کس طرح وسیع کیا جائے تاکہ مقامِ ابراہیم کی موجودگی زائرین کی نقل و حرکت میں رکاوٹ نہ بنے۔روایت کے مطابق، شیخ الشعراوی نے اس مسئلے کا عملی حل بھی تجویز کیا۔ انہوں نے مقامِ ابراہیم کے گرد موجود بڑے ڈھانچے کی جگہ چھوٹے اور شفاف، شٹر پروف/مضبوط شیشے کے گنبد نما حصار کی تجویز پیش کی، تاکہ مقدس مقام محفوظ بھی رہے اور مطاف میں کم سے کم جگہ استعمال ہو

۔یوں مقامِ ابراہیم کی منتقلی کا معاملہ ایک ایسے علمی اور فقہی مباحثے میں تبدیل ہوا جس میں مقدس تاریخی مقام کے تحفظ اور لاکھوں زائرین کے لیے طواف کی سہولت کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔تاریخی نوٹ: مقامِ ابراہیم کی منتقلی اور شیخ الشعراوی کے پانچ صفحات کے ٹیلی گرام سے متعلق مذکورہ تفصیلات تاریخی روایات میں بیان کی جاتی ہیں؛ حتمی اشاعت کے لیے شاہی فرمان، سرکاری حرمین ریکارڈ یا معاصر archival دستاویز سے ان تفصیلات، خصوصاً 1954 کی مقررہ تاریخ اور ٹیلی گرام کے اصل متن، کی مزید تصدیق مناسب ہوگی۔










