تازہ تر ین

ترکی میں فوجی بغاوتوں کا باب بند ھو چکا۔۔۔2 لا کھ عوام سے لے کر 2 ھزار کا ریلیف۔و9ءرایران کےصدر کو انڈیا کے بعد اب لگے ہاتھوں اسرائیل کا دورہ کرنا چاہتے اسرائیل۔۔ و9ءرایران کےصدر کو انڈیا کے بعد اب لگے ہاتھوں اسرائیل کا دورہ کرنا چاہتے۔۔ گاڑی کا دروازہ تک نہ کھولتے اور شام کو کھڑی سائیکل پر ورزش سے پسینہ نکالنے والے ٹھگ۔۔ نواز لیگ نے سمیرا ملک کو نکال دیا۔۔ 4 وزراء اور 40 ارکان قومی اسمبلی کی نواز لیگ سے بغاوت۔۔ ۔۔ستمبر نوازا لیگ کے لئے ستمگر اھم ترین بیورو کریسی کے افسران کے بچے بھی شامل۔۔سعودی حکومت میں خوف کے ساے 6 شھروں پر حوثی حملے۔۔سعو عرب پر حملے ایسٹ وہسٹ پائیپ لائن لید۔اسلام آباد میں 2 ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی گئی۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

حمد بن جاسم کا ’درع الجزیرہ‘ فعال کرنے اور ایران سے براہِ راست خلیجی مذاکرات کا مطالبہمسقط، دوحہ | سیاسی و سلامتی رپورٹ د.لبنى فرح قطر کے سابق وزیراعظم اور سابق وزیر خارجہ حمد بن جاسم بن جبر آل ثانی نے خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے ایک اہم سیاسی و سلامتی وژن پیش کرتے ہوئے خلیجی ریاستوں کے اجتماعی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے اور ساتھ ہی ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکراتی عمل شروع کرنے پر زور دیا ہے، تاکہ خطے کو درپیش دیرینہ سیاسی اور سلامتی کے مسائل کا پائیدار حل تلاش کیا جا سکے۔حمد بن جاسم کی یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سلطنتِ عمان میں خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک اور ایران کے درمیان ایک ممکنہ اجلاس یا مذاکراتی رابطے کے لیے سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس پیش رفت کو خلیجی ریاستوں اور ایران کے درمیان براہِ راست سیاسی رابطے کے ایک ممکنہ نئے مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد خلیج میں سلامتی اور استحکام کے لیے زیادہ پائیدار انتظامات کی تلاش ہے۔حمد بن جاسم نے اپنے سیاسی مؤقف میں اس امر پر زور دیا کہ خطے کو محض عارضی اور کمزور جنگ بندیوں یا وقتی کشیدگی میں کمی تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ دیرپا استحکام کے لیے تنازعات کی بنیادی وجوہات کو حل کرنا اور باہمی اعتماد کے لیے واضح اور قابلِ عمل نظام قائم کرنا ضروری ہے۔—مسقط: سفارتی امتحان کا مرکزاس ممکنہ سفارتی عمل میں سلطنتِ عمان کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ عمان طویل عرصے سے خطے میں مختلف اور متحارب فریقوں کے درمیان رابطے برقرار رکھنے، خاموش سفارت کاری کو آگے بڑھانے اور حساس مذاکرات کے لیے ایک نسبتاً قابلِ قبول پلیٹ فارم فراہم کرنے میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔

حمد بن جاسم کے مطابق خلیجی تعاون کونسل اور ایران کے درمیان اجتماعی اور براہِ راست مذاکرات خطے کے تعلقات کو ایک نئے اصولی ڈھانچے میں استوار کرنے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔اس ڈھانچے کی بنیاد مشترکہ مفادات، ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت، علاقائی خودمختاری، آزادانہ بحری نقل و حرکت اور اقتصادی تعاون پر رکھی جا سکتی ہے، تاکہ خطہ مسلسل سلامتی کے بحرانوں اور باہمی کشیدگی کے چکر سے باہر نکل سکے۔اسی تناظر میں خلیج اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت ایک انتہائی حساس مسئلہ بن کر سامنے آتا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی اور تجارت کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والی کوئی بھی بڑی کشیدگی صرف علاقائی ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔—’خلیج کو اقتصادی جھیل‘ میں تبدیل کرنے کا تصورحمد بن جاسم کے پیش کردہ وژن کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ خلیج کو مستقل سیاسی و عسکری کشمکش کے میدان کے بجائے اقتصادی تعاون اور مشترکہ خوشحالی کے خطے میں تبدیل کیا جائے۔اس تصور کے تحت تجارتی رکاوٹوں اور غیر ضروری پابندیوں میں کمی، سامان اور سرمایہ کی آزادانہ نقل و حرکت، علاقائی تجارت میں اضافہ اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق بحری راستوں کی آزادی کو یقینی بنانا اہم اقدامات قرار دیے جا سکتے ہیں۔اس نقطۂ نظر کی بنیادی منطق یہ ہے کہ اگر خطے کے ممالک ایک دوسرے کے ساتھ وسیع پیمانے پر اقتصادی مفادات وابستہ کر لیں تو مشترکہ معاشی مفادات سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں

۔یعنی سلامتی کا تصور صرف عسکری طاقت تک محدود نہ رہے بلکہ اقتصادی باہمی انحصار بھی علاقائی استحکام کا ایک اہم ستون بنے۔—سعودی عرب کی سلامتی: خلیجی ترجیحات کا مرکزی محورحمد بن جاسم کے سیاسی و سلامتی تصور میں مملکتِ سعودی عرب کی سلامتی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، خصوصاً سعودی عرب کی جنوبی سرحدوں، یمن کی صورتحال اور بحیرۂ احمر سے متعلق بڑھتے ہوئے سلامتی کے خدشات کے تناظر میں۔اس نقطۂ نظر کے مطابق سعودی عرب کی سرزمین کو لاحق کوئی سنگین خطرہ محض ریاض کا دوطرفہ مسئلہ نہیں سمجھا جانا چاہیے، بلکہ اسے خلیج کی اجتماعی سلامتی کے لیے ایک وسیع تر چیلنج کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔یہی تصور ’درع الجزیرہ‘ یا Peninsula Shield Force کے کردار کو دوبارہ فعال بنانے کی بحث کو بھی اہمیت دیتا ہے۔’درع الجزیرہ‘ خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کی مشترکہ دفاعی و عسکری صلاحیت کا ایک اہم جزو ہے۔ اس کے کردار کو مؤثر بنانے کا تصور اس بنیاد پر سامنے آتا ہے کہ اگر کسی رکن ریاست کو براہِ راست سنگین سلامتی کے خطرے کا سامنا ہو تو اجتماعی دفاعی صلاحیت کو بروئے کار لایا جا سکے۔تاہم عملی طور پر اس فورس کے کسی بڑے یا نئے کردار کے لیے خلیجی ریاستوں کے درمیان سیاسی اتفاقِ رائے، عسکری منصوبہ بندی، کمانڈ اینڈ کنٹرول، مشن کی حدود اور قواعدِ اشتباك جیسے بنیادی معاملات پر اتفاق ضروری ہوگا۔اس لیے محض سیاسی اپیل کو عملی عسکری پالیسی میں تبدیل کرنا ایک پیچیدہ عمل ہوگا۔—طاقت اور مذاکرات: دو متوازی راستےحمد بن جاسم کے پیش کردہ تصور کو بنیادی طور پر دو متوازی راستوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔پہلا راستہ: اجتماعی دفاع اور بازدار قوتخلیجی ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مربوط بنائیں، اپنی سرزمین، اہم تنصیبات، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بحری راستوں کے تحفظ کی صلاحیت میں اضافہ کریں اور کسی بھی بیرونی خطرے کے مقابلے میں اجتماعی ردعمل کی استعداد برقرار رکھیں۔دوسرا راستہ: براہِ راست سفارت کاریخلیجی ممالک ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے ذریعے سیاسی، سلامتی، اقتصادی اور علاقائی تنازعات کے حل کی کوشش کریں اور ایک ایسے فریم ورک کی تشکیل کی جائے جس میں اختلافات کو فوجی تصادم کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے۔اس تصور کے تحت مذاکرات اور دفاعی طاقت ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل بن سکتے ہیں۔یعنی مؤثر دفاعی بازدار قوت کسی بھی فریق کو طاقت کے ذریعے یک طرفہ طور پر صورتِ حال تبدیل کرنے سے روک سکتی ہے، جبکہ مذاکراتی عمل کشیدگی کو کھلے تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنے کا سیاسی راستہ فراہم کر سکتا ہے۔-

–ایران کے سامنے اعتماد سازی کا امتحاناس پورے عمل کا سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ کیا ایران خلیجی ممالک کے ساتھ اعتماد سازی کے لیے عملی اقدامات پر آمادہ ہوتا ہے؟عارضی کشیدگی میں کمی کو مستقل علاقائی استحکام میں تبدیل کرنے کے لیے محض سیاسی بیانات کافی نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے خودمختاری کے احترام، عدم مداخلت، علاقائی سلامتی اور پڑوسی ممالک کے خلاف طاقت کے استعمال یا دباؤ کے خدشات سے متعلق واضح یقین دہانیوں کی ضرورت ہوگی۔خلیجی نقطۂ نظر سے ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ آیا ایران اپنے ہمسایہ ممالک کی سلامتی کو بڑی طاقتوں کے ساتھ اپنے تنازعات یا مذاکرات میں دباؤ کے ایک آلے کے طور پر استعمال کرنے سے گریز کرے گا۔دوسری جانب کسی بھی کامیاب خلیجی ـ ایرانی مذاکراتی عمل کے لیے ایران کے اپنے سلامتی خدشات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر مذاکرات صرف ایک فریق کے مطالبات اور دوسرے فریق کی شرائط تک محدود رہے تو دیرپا اعتماد پیدا کرنا مشکل ہوگا۔اس لیے ایک پائیدار علاقائی معاہدے کے لیے باہمی سلامتی، باہمی خودمختاری اور باہمی ذمہ داری کے اصولوں کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔—سیاسی تجزیہ: خلیج کس سمت بڑھ رہا ہے؟حمد بن جاسم کے اس وژن کی اہمیت اس بات میں ہے کہ یہ سلامتی اور سفارت کاری کو ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ مشترکہ حکمتِ عملی کے دو ستونوں کے طور پر دیکھتا ہے۔اگر خلیجی ممالک ایران کے ساتھ مذاکرات میں ایک مربوط اور مشترکہ سیاسی و سلامتی مؤقف اختیار کرتے ہیں تو ان کی اجتماعی مذاکراتی قوت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔دوسری جانب اگر خلیجی ریاستیں داخلی اختلافات کا شکار رہیں اور ہر ملک ایران کے ساتھ اپنے الگ الگ دوطرفہ مفادات کو ترجیح دے تو مشترکہ علاقائی سلامتی کا تصور کمزور پڑ سکتا ہے۔یہاں خلیجی ممالک کے درمیان ایران کے حوالے سے مختلف پالیسی ترجیحات بھی ایک اہم عامل ہیں۔ بعض ریاستیں کشیدگی کم کرنے اور اقتصادی روابط کو فروغ دینے کو ترجیح دیتی ہیں، جبکہ دیگر ریاستیں ایران کی علاقائی سرگرمیوں کے حوالے سے زیادہ سخت سلامتی نقطۂ نظر رکھتی ہیں۔اسی طرح یمن، بحیرۂ احمر، خلیج، آبنائے ہرمز اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کا بحران کسی ایک ملک کے فیصلے سے حل نہیں ہو سکتا۔اس صورتحال میں امریکا، ایران، اسرائیل اور علاقائی طاقتوں کے درمیان جاری وسیع تر اسٹریٹجک مسابقت بھی خلیجی سلامتی کے مستقبل پر اثرانداز ہوگی۔—ممکنہ منظرنامےپہلا منظرنامہ: سفارتی پیش رفتاگر مسقط میں مذاکرات کے دوران خلیجی ممالک اور ایران اعتماد سازی کے عملی اقدامات، بحری سلامتی، عدم مداخلت اور علاقائی تنازعات کے حوالے سے کسی بنیادی فریم ورک پر اتفاق کر لیتے ہیں تو یہ خلیج میں ایک نئے سفارتی دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔دوسرا منظرنامہ: محدود مفاہمتممکن ہے کہ فریقین وسیع تر سیاسی تنازعات حل نہ کر سکیں، لیکن کشیدگی کم کرنے، براہِ راست رابطے برقرار رکھنے اور بحری سلامتی جیسے مخصوص معاملات پر محدود اتفاق رائے پیدا کر لیں۔ یہ بھی ایک اہم پیش رفت ہوگی، اگرچہ اسے مکمل علاقائی امن نہیں کہا جا سکے گا۔تیسرا منظرنامہ: سفارتی تعطلاگر بنیادی اختلافات برقرار رہے،

اعتماد سازی کے اقدامات سامنے نہ آئے اور علاقائی سلامتی کے مسائل پر فریقین کے مؤقف میں فاصلہ برقرار رہا تو مسقط کا اجلاس محض ایک اور سفارتی رابطہ بن کر رہ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں عملی سطح پر بڑی تبدیلی نہ آئے۔—خلاصہ اور نتیجہمسقط میں خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات محض ایک روایتی سفارتی ملاقات نہیں بلکہ خلیج کے مستقبل کے علاقائی سلامتی نظام کا ایک اہم امتحان ثابت ہو سکتے ہیں۔حمد بن جاسم کا پیش کردہ تصور بنیادی طور پر یہ پیغام دیتا ہے کہ مذاکرات کے لیے طاقت اور طاقت کے استعمال سے گریز کے لیے مذاکرات، دونوں ضروری ہیں۔ایک طرف خلیجی ممالک کو اپنی اجتماعی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ براہِ راست سیاسی رابطے کا راستہ بھی کھلا رکھنا ضروری ہے۔’درع الجزیرہ‘ کو فعال کرنے کی بحث اسی اجتماعی دفاعی سوچ کی نمائندگی کرتی ہے، جبکہ مسقط میں ممکنہ مذاکرات سفارتی راستے کی علامت ہیں۔اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب خلیجی ریاستیں دفاعی اتحاد، سیاسی یکجہتی، اقتصادی باہمی انحصار اور سفارتی مذاکرات کو ایک مربوط علاقائی حکمتِ عملی میں تبدیل کر سکیں۔بالآخر فیصلہ کن سوال یہی ہے:کیا خلیجی ممالک اپنی داخلی ترجیحات اور باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ سلامتی پالیسی تشکیل دے سکتے ہیں؟ اور کیا ایران ایسے عملی اقدامات کے لیے تیار ہوگا جو خلیجی ریاستوں کے اعتماد کو بحال کرنے اور خطے میں مستقل کشیدگی کے خاتمے کی بنیاد بن سکیں؟اگر دونوں سوالوں کا جواب مثبت سمت میں نکلتا ہے تو مسقط محض مذاکرات کی میز نہیں بلکہ ایک نئے علاقائی سلامتی اور اقتصادی تعاون کے نظام کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔لیکن اگر بنیادی اختلافات، باہمی عدم اعتماد اور علاقائی طاقتوں کی کشمکش غالب رہی تو یہ عمل ایک عارضی سفارتی وقفے سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔خلیج اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے صرف یہ فیصلہ نہیں کرنا کہ ایران سے بات کرنی ہے یا نہیں؛ اصل فیصلہ یہ ہے کہ مستقبل کی علاقائی سلامتی کا نظام تصادم، بیرونی ضمانتوں اور عارضی مفاہمتوں پر قائم ہوگا یا باہمی طاقت، اجتماعی دفاع، براہِ راست مذاکرات اور مشترکہ اقتصادی مفادات پر۔

🔴 شرورہ پر حوثیوں کا بڑا میزائل و ڈرون حملہسعودی سرزمین کی گہرائی میں نئی عسکری پیش قدمی، علاقائی محاذ پھیلنے کا خدشہصنعاء/ریاض — 13 ستمبر 2026 | الخبر للنشر والتوزيعیمن کی انصار اللہ تحریک کے عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثی فورسز نے جنوبی سعودی عرب کے سرحدی علاقے شرورہ میں ایک سعودی عسکری تنصیب کو بیلسٹک میزائلوں اور حملہ آور ڈرونز کی بڑی تعداد سے نشانہ بنایا۔حوثی ترجمان کے مطابق حملے میں عسکری تنصیبات، ہتھیاروں کے ذخائر، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور لاجسٹک سہولتوں کو ہدف بنایا گیا۔ انصار اللہ نے کارروائی کو یمن میں جاری سعودی فوجی کارروائیوں کا جواب قرار دیتے ہوئے مستقبل میں مزید حملوں کا عندیہ بھی دیا۔تاہم، شرورہ میں مبینہ حملے، اس کے اہداف اور نقصانات سے متعلق حوثیوں کے دعووں کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔ سعودی حکام کی جانب سے بھی اس مخصوص دعوے کی فوری تصدیق یا تردید دستیاب نہیں ہے۔🔴 شرورہ: جغرافیائی اور عسکری اہمیتشرورہ سعودی عرب کے نجران ریجن میں یمنی سرحد کے قریب واقع ایک اہم علاقہ ہے۔ اس کا محلِ وقوع اسے سعودی جنوبی دفاعی نظام اور یمن سے آنے والے ممکنہ میزائل و ڈرون خطرات کے تناظر میں اہم بناتا ہے۔اگر حوثیوں کا دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے کہ ایک حساس عسکری تنصیب کو بیک وقت میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا، تو یہ سعودی جنوبی دفاعی پٹی پر دباؤ بڑھانے کی ایک واضح کوشش تصور کی جا سکتی ہے۔🔴 میزائل اور ڈرون کا مشترکہ حملہمبینہ کارروائی کا اہم پہلو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا بیک وقت استعمال ہے۔ عسکری اعتبار سے اس طرح کے مشترکہ حملے کا مقصد دفاعی نظام کو متعدد سمتوں سے دباؤ میں لانا اور دفاعی ردِعمل کو پیچیدہ بنانا ہو سکتا ہے۔تاہم، اس مرحلے پر یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ سعودی فضائی دفاعی نظام کو کس حد تک متاثر کیا گیا یا مبینہ اہداف کو کتنا نقصان پہنچا۔🔴 بڑھتا ہوا جنوبی سعودی سکیورٹی چیلنجشرورہ کا دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جنوبی سعودی عرب میں میزائل اور ڈرون حملوں کے حوالے سے کشیدگی دوبارہ بڑھ رہی ہے۔حالیہ واقعات نے یہ خدشہ پیدا کیا ہے کہ یمن کا تنازع دوبارہ سعودی سرزمین، خصوصاً جنوبی سرحدی علاقوں، کے لیے براہِ راست سکیورٹی خطرہ بن سکتا ہے۔ اگر حملوں کا یہ سلسلہ برقرار رہتا ہے تو ریاض کو سرحدی دفاع، فضائی نگرانی اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے اضافی وسائل مختص کرنا پڑ سکتے ہیں۔

🔴 عسکری تجزیہ: اصل ہدف ڈیٹرنس؟شرورہ کارروائی کے دعوے کی اصل عسکری اہمیت مبینہ نقصان سے زیادہ ڈیٹرنس اور رسائی کے پیغام میں ہے۔حوثی قیادت بظاہر یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ سعودی سرزمین کے اندر حساس عسکری اہداف بھی اس کے میزائل اور ڈرون نظام کی ممکنہ زد میں آ سکتے ہیں اور یمن میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کا جواب سعودی حدود کے اندر دیا جا سکتا ہے۔دوسری جانب ریاض کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ وہ جنوبی سرحد کے دفاع، فضائی خطرات کی روک تھام اور توانائی و مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کو کس طرح یقینی بناتا ہے۔یہ صورتحال ایک ایسے غیر متوازن عسکری مقابلے کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے جس میں کم لاگت والے ڈرونز اور نسبتاً زیادہ مؤثر طویل فاصلے کے میزائل دفاعی نظام پر مسلسل دباؤ پیدا کر سکتے ہیں۔🔴 باب المندب سے سعودی سرحد تک: محاذ کے پھیلاؤ کا خدشہیمن کا بحران اب صرف زمینی جنگ تک محدود نہیں رہا۔ بحیرۂ احمر، باب المندب، خلیجی سلامتی، عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل ایک دوسرے سے جڑتے جا رہے ہیں۔اگر جنوبی سعودی عرب میں میزائل و ڈرون حملوں کا سلسلہ بحیرۂ احمر میں بڑھتے ہوئے بحری خطرات کے ساتھ بیک وقت جاری رہتا ہے تو خطے میں ایک کثیرمحاذ سکیورٹی بحران پیدا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات سعودی عرب اور یمن سے آگے عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔🔴 سیاسی مضمراتسیاسی سطح پر شرورہ کا واقعہ سعودی عرب کے لیے ایک مشکل توازن پیدا کرتا ہے۔ ایک طرف ریاض کو اپنی سرزمین اور شہری و عسکری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنانا ہے، جبکہ دوسری طرف یمن میں کسی بڑے عسکری ردِعمل سے تنازع کے مزید پھیلنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔حوثیوں کے لیے بھی یہ کارروائیاں صرف عسکری نہیں بلکہ سیاسی دباؤ کا ذریعہ ہیں۔ سعودی سرزمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا تاثر قائم کرنا مذاکراتی اور علاقائی طاقت کے توازن میں ان کی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے

۔🔴 نتیجہشرورہ پر حوثیوں کا مبینہ میزائل و ڈرون حملہ، اگر آزاد ذرائع سے تصدیق ہو جاتا ہے، تو سعودی-حوثی محاذ میں عسکری دباؤ کے ایک نئے مرحلے کی علامت بن سکتا ہے۔تاہم، موجودہ مرحلے پر حوثی بیان کو دعویٰ ہی سمجھنا ضروری ہے اور حملے کے اہداف، کامیابی اور نقصانات سے متعلق غیرمصدقہ تفصیلات کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔اس کے باوجود مجموعی علاقائی صورتحال ایک واضح رجحان کی طرف اشارہ کر رہی ہے: یمن کا تنازع دوبارہ سعودی سرحد، بحیرۂ احمر اور علاقائی توانائی و تجارتی راستوں کے ساتھ جڑ رہا ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو شرورہ جیسے واقعات ایک وسیع تر علاقائی عسکری بحران کے محرک بن سکتے ہیں۔

ایران کس کے مفاد میں لڑ رہا ہے؟پاکستان میں ایک مقبول بیانیہ یہ ہے کہ ایران جو کچھ کر رہا ہے، وہ فلسطین کے دفاع اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی جنگ ہے۔ اس بیانیے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ایران خطے میں واحد ملک ہے جو اسرائیل کے سامنے کھڑا ہے۔لیکن کبھی کبھی جذبات سے ہٹ کر یہ سوال بھی پوچھ لینا چاہیے کہ کسی جنگ کا مقصد کیا بتایا جا رہا ہے اور اس کا عملی نتیجہ کیا نکل رہا ہے؟میری نظر میں ایران کی گزشتہ کئی برسوں کی علاقائی پالیسی نے فلسطین کے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے مزید پیچیدہ کیا ہے۔ حماس، حزب اللہ، حوثیوں اور عراق کی مختلف مسلح ملیشیاؤں کے ذریعے ایران نے ایک ایسا ’’محورِ مزاحمت‘‘ ضرور تشکیل دیا جس نے اسرائیل اور امریکہ کو مسلسل چیلنج کیا، لیکن اس کے نتیجے میں پورا خطہ مسلسل جنگ کے خطرے میں چلا گیا۔سوال یہ ہے کہ اس کا فائدہ کس کو ہوا؟فلسطینی ریاست آج بھی قائم نہیں ہوئی۔غزہ تباہ ہو گیا۔لبنان بار بار جنگ کے خطرے سے دوچار ہے۔یمن ایک طویل جنگ میں پھنسا ہوا ہے۔عراق میں مسلح گروہوں کی سیاست نے ریاستی اختیار کو کمزور کیا۔اور اب خلیج کے ممالک بھی اس کشیدگی کی زد میں آ رہے ہیں۔حالیہ دنوں میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں اور باب المندب جیسے اہم بحری راستے پر ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے بحران کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔سوچیے:سعودی عرب غیر محفوظ ہو رہا ہے،قطر خطرے میں ہے،متحدہ عرب امارات دباؤ میں ہے،کویت اور بحرین خطے کی کشیدگی سے متاثر ہو رہے ہیں،یمن پہلے ہی تباہ ہو چکا ہے،اور عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل بھی خطرے میں ہے۔تو پھر سوال یہ ہے کہ اس پورے عدم استحکام کا سب سے بڑا فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟

کیا فلسطین کو؟اگر فلسطین کو فائدہ پہنچ رہا ہے تو وہ فائدہ کہاں ہے؟یا پھر اسرائیل کو یہ موقع مل رہا ہے کہ وہ فلسطین کے اصل مسئلے سے دنیا کی توجہ ہٹا کر اپنے گرد موجود پورے خطے کو ’’سکیورٹی تھریٹ‘‘ کے طور پر پیش کرے؟اور امریکہ کو یہ موقع مل رہا ہے کہ وہ دوبارہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی، اسلحے کی فروخت اور تزویراتی اہمیت کو بڑھائے؟یہاں میری نظر میں ایک انتہائی اہم سوال پیدا ہوتا ہے:کیا ایران اسرائیل اور امریکہ کا باقاعدہ اتحادی یا پراکسی ہے؟میں یہ دعویٰ نہیں کر رہا کہ ایران شعوری طور پر اسرائیل یا امریکہ کے لیے کام کرتا ہے۔ لیکن یہ ضرور پوچھ رہا ہوں کہ ایران کی موجودہ حکمتِ عملی کے عملی نتائج بار بار اسرائیل اور امریکہ کے اسٹریٹجک مفادات کے لیے کیوں سازگار ثابت ہو رہے ہیں؟ایک طرف اسرائیل کو اپنے خلاف موجود خطرات کا جواز ملتا ہے، دوسری طرف امریکہ کو خطے میں اپنی فوجی موجودگی کا جواز ملتا ہے، اور تیسری طرف عرب ممالک اپنے وسائل دفاع پر خرچ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔یعنی جنگ بڑھتی ہے، خطہ غیر مستحکم ہوتا ہے، تیل مہنگا ہوتا ہے، تجارت متاثر ہوتی ہے، عرب ریاستیں خوفزدہ ہوتی ہیں اور امریکہ دوبارہ ’’علاقائی سکیورٹی کا ضامن‘‘ بن کر سامنے آتا ہے۔تو پھر ہمیں صرف یہ سوال نہیں پوچھنا چاہیے کہ:’’ایران اسرائیل کے خلاف لڑ رہا ہے یا نہیں؟‘‘اصل سوال یہ ہے:’’ایران کی یہ جنگ آخر کس کے مفاد میں جا رہی ہے؟‘‘فلسطین کے نام پر پورے خطے کو آگ میں جھونک دینا فلسطین کی مدد نہیں۔فلسطین کو ایک آزاد ریاست، سیاسی حل، سفارتی حمایت اور ایک پائیدار امن چاہیے۔ایسی جنگ نہیں جس میں فلسطین کہیں پیچھے رہ جائے اور اسرائیل، امریکہ اور علاقائی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کی جنگ لڑتی رہیں۔اور شاید آج سب سے مشکل سوال یہی ہے:اگر ایران کی حکمتِ عملی اسرائیل کو کمزور کرنے کے لیے ہے، تو پھر اسرائیل ہر نئی جنگ کے بعد پہلے سے زیادہ طاقتور، زیادہ جارح اور زیادہ عالمی حمایت حاصل کرتا ہوا کیوں نظر آتا ہے؟

سعودی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن بند، عالمی تیل منڈی کو چند دن میں نئے بحران کا خطرہریاض — عالمی توانائی و سکیورٹی رپورٹسعودی عرب کی اہم East-West Oil Pipeline کی بندش نے عالمی تیل منڈی میں ایک نئے اور سنگین سپلائی بحران کے خدشات پیدا کر دیے ہیں، جبکہ صنعتی ذرائع کے مطابق اگر پائپ لائن کی ترسیل چند روز میں بحال نہ ہوئی تو بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع (Yanbu) پر موجود برآمدی ذخائر محدود مدت کے بعد دباؤ میں آ سکتے ہیں۔رائٹرز کے مطابق سعودی تیل خریداروں اور تجارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ینبع میں موجود ذخائر موجودہ حالات میں تقریباً پانچ سے سات دن تک برآمدی سرگرمی کو سہارا دے سکتے ہیں، تاہم پائپ لائن کی بحالی میں تاخیر کی صورت میں سعودی عرب کے لیے اپنے معمول کے برآمدی بہاؤ کو برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔یہ صورتحال اس لیے زیادہ حساس ہے کہ تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل East-West Pipeline سعودی عرب کے مشرقی تیل پیدا کرنے والے علاقوں کو بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع سے ملاتی ہے اور خلیج فارس سے آنے والے خام تیل کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر عالمی منڈیوں تک پہنچانے کا اہم متبادل راستہ فراہم کرتی ہے۔تقریباً 4 فیصد عالمی سپلائی خطرے میں؟رائٹرز کے مطابق یہ پائپ لائن حالیہ عرصے میں تقریباً 4 ملین بیرل یومیہ خام تیل ینبع تک منتقل کر رہی تھی، جو عالمی تیل سپلائی کے تقریباً 4 فیصد کے برابر ہے۔ بعض رپورٹس میں اس کی موجودہ گنجائش یا استعمال کو 4 سے 5 ملین بیرل یومیہ تک بیان کیا گیا ہے۔یہاں ایک اہم فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے: 4 فیصد عالمی سپلائی کا خطرہ اس وقت پیدا ہوگا جب اتنی بڑی مقدار کا متبادل انتظام نہ ہوسکے؛ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پائپ لائن بند ہوتے ہی عالمی پیداوار کا پورا 4 فیصد فوری طور پر مارکیٹ سے غائب ہوگیا ہے۔حملہ کہاں سے ہوا؟تازہ Reuters رپورٹ کے مطابق پائپ لائن پر ڈرون حملے کے بعد سعودی عرب نے اسے عارضی طور پر بند کیا۔ سعودی حکام کے مطابق حملے سے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا اور بعض افراد زخمی ہوئے۔ دستیاب رپورٹنگ میں حملے کے ڈرونز کے عراق سے آنے کا ذکر ہے،

جبکہ کسی ایک گروہ کی جانب سے فوری ذمہ داری قبول کرنے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد میں ایران کو ممکنہ طور پر ذمہ دار قرار دیا، تاہم اسے بھی امریکی صدر کا الزام/اندازہ سمجھا جانا چاہیے، قطعی آزادانہ تصدیق نہیں۔لہٰذا خبر میں اسے “حوثیوں کے حملے سے پائپ لائن بند” کہنا فی الحال مناسب نہیں ہوگا۔بحالی کا وقت سب سے بڑا سوالپائپ لائن کی بحالی کی مدت ابھی غیر یقینی ہے۔ صنعتی ذرائع میں مرمت کے دورانیے کے بارے میں مختلف اندازے سامنے آئے ہیں؛ بعض ذرائع نے پانچ سے چھ ہفتے تک کا امکان ظاہر کیا، جبکہ دیگر کے مطابق جزوی پمپنگ مرمت کے دوران بھی بحال ہوسکتی ہے۔یہی غیر یقینی صورتحال تیل کی منڈی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔اگر مرمت چند دن میں مکمل ہوگئی تو سعودی عرب محدود ذخائر، متبادل راستوں اور دستیاب برآمدی انتظامات کے ذریعے صورتحال کو سنبھال سکتا ہے۔ لیکن اگر بندش کئی ہفتوں تک جاری رہی تو مسئلہ صرف ینبع کے ذخائر تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی منڈی میں دستیاب physical crude کی مقدار متاثر ہوسکتی ہے۔مصر کے متبادل راستے بھی محدودصنعتی ذرائع کے مطابق سعودی خام تیل کے کچھ ذخائر اور متبادل برآمدی انتظامات مصر کے Ain Sokhna اور Sidi Kerir جیسے مراکز کے ذریعے عالمی خریداروں کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔تاہم یہ متبادل راستے مستقل حل نہیں ہیں۔ ان کی صلاحیت اور دستیاب ذخائر محدود ہونے کے باعث طویل عرصے تک سعودی برآمدی کمی کو مکمل طور پر جذب کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔سعودی پیداوار پہلے ہی دباؤ میںیہ بحران ایسے وقت پیدا ہوا ہے جب سعودی تیل کی پیداوار پہلے ہی نمایاں طور پر کم ہوچکی ہے۔رائٹرز اور بین الاقوامی توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق اگست میں سعودی crude supply تقریباً 6 ملین بیرل یومیہ کی سطح تک گر گئی، جو تین دہائیوں سے زائد عرصے کی کم ترین سطحوں میں شامل ہے۔ سعودی عرب نے OPEC کو اگست کی پیداوار تقریباً 6.238 ملین بیرل یومیہ رپورٹ کی۔اس طرح East-West Pipeline کی بندش ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب عالمی منڈی پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ میں جنگ، آبنائے ہرمز میں شدید رکاوٹ، بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے خطرات اور خام تیل کی محدود دستیابی کا سامنا کر رہی ہے۔ینبع کے بعد اصل مسئلہ کہاں پیدا ہوگا؟اصل خطرہ اس وقت بڑھ جائے گا جب سعودی عرب کے پاس تیل تو موجود ہو لیکن اسے عالمی خریداروں تک پہنچانے کے قابل محفوظ اور قابلِ اعتماد برآمدی راستے محدود ہوجائیں۔سعودی عرب کے لیے East-West Pipeline کی اہمیت اسی مقام پر واضح ہوتی ہے۔ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے دوران یہ پائپ لائن سعودی crude کو خلیج فارس سے نکال کر بحیرۂ احمر تک پہنچانے والا بنیادی overland bypass بن گئی تھی۔اب اگر یہی متبادل راستہ بھی طویل مدت کے لیے بند رہتا ہے تو سعودی برآمدات کو ایک ایسے وقت میں اضافی دباؤ کا سامنا ہوگا جب خطے کے دیگر maritime corridors بھی شدید خطرات سے دوچار ہیں۔تیل کی قیمت اور عالمی افراطِ زر پر اثرسپلائی میں مزید کمی کی صورت میں عالمی تیل کی قیمتوں پر اوپر کی طرف دباؤ بڑھ سکتا ہے۔خام تیل کی بلند قیمتیں صرف پٹرول اور ڈیزل تک محدود نہیں رہتیں بلکہ transport، aviation، shipping، petrochemicals، بجلی کی لاگت اور خوراک کی ترسیل سمیت پوری عالمی supply chain کو متاثر کرتی ہیں۔اسی وجہ سے East-West Pipeline کا مسئلہ سعودی عرب کا محض ایک مقامی infrastructure بحران نہیں بلکہ عالمی energy-security challenge بن سکتا ہے۔رائٹرز کے مطابق عالمی تیل منڈی پہلے ہی شدید supply disruptions کا سامنا کر رہی ہے اور حالیہ حالات نے قیمتوں اور افراط زر کے خدشات میں مزید اضافہ کیا ہے۔اگلے 5–7 دن فیصلہ کنموجودہ صورتحال میں سب سے اہم indicators یہ ہوں گے:- ینبع میں crude loading کی رفتار؛- East-West Pipeline کی مرمت اور جزوی بحالی؛- سعودی متبادل برآمدی راستوں کی گنجائش؛- آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کی صورتحال؛- بحیرۂ احمر اور باب المندب میں maritime security؛- عالمی خریداروں، بالخصوص ایشیائی refiners، کی اضافی crude demand؛- Brent اور WTI کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ یا استحکام۔اگر پائپ لائن جلد بحال ہوگئی تو موجودہ بحران کو عارضی supply shock تک محدود کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر بندش کئی ہفتوں تک برقرار رہی تو سعودی برآمدات، عالمی crude availability اور fuel prices پر اس کے اثرات زیادہ دیرپا ہوسکتے ہیں۔خلاصہسعودی East-West Pipeline کی بندش عالمی تیل منڈی کے لیے فوری طور پر 4 فیصد سپلائی کے غائب ہونے کے برابر نہیں، لیکن یہ ایک انتہائی حساس supply chokepoint کے ناکارہ ہونے کی علامت ہے

۔ینبع کے ذخائر کی مبینہ پانچ سے سات دن کی گنجائش، سعودی پیداوار میں پہلے سے موجود نمایاں کمی، آبنائے ہرمز کی رکاوٹ اور بحیرۂ احمر میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات ایک دوسرے کو تقویت دے رہے ہیں۔اصل فیصلہ کن سوال اب یہ نہیں کہ سعودی عرب کے پاس زیرِ زمین کتنا تیل موجود ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ تیل عالمی خریداروں تک کتنی تیزی، محفوظ طریقے اور مسلسل پہنچا سکتا ہے۔اگر پائپ لائن چند دنوں میں بحال نہ ہوئی تو موجودہ بحران ایک Saudi infrastructure disruption سے بڑھ کر عالمی oil-supply shock میں تبدیل ہوسکتا ہے۔اگلے چند دن عالمی تیل منڈی کے لیے انتہائی اہم ہوں گے: پائپ لائن جلد بحال ہوتی ہے یا ینبع کے ذخائر ختم ہونے کا دباؤ عالمی قیمتوں کو ایک نئی سطح تک لے جاتا ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved