چین نے ایران سے حوثیوں کو قابو میں رکھنے کی خفیہ درخواست کی، سعودی اپیل کے بعد
ریاض/بیجنگ/تہران —بادبان رپورٹ
تین ایرانی ذرائع کے مطابق، جنہیں اس معاملے کی معلومات حاصل تھیں، چین نے ایران سے نجی طور پر کہا ہے کہ وہ یمن میں حوثی تحریک، جسے انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اس کی فوجی کارروائیوں اور بحیرۂ احمر میں حملوں کو محدود کرنے میں مدد دے۔یہ پیش رفت، ذرائع کے مطابق، سعودی عرب کی جانب سے بیجنگ سے مدد طلب کیے جانے کے بعد ہوئی۔ سعودی درخواست اس وقت سامنے آئی جب حوثیوں نے گزشتہ ہفتے یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب آبنائے کے اطراف تیزی سے پیش قدمی کی، جس سے سعودی تیل کی برآمدات اور سمندری جہاز رانی کو مزید خطرات لاحق ہوئے۔چین کی پردے کے پیچھے سفارتی کوششایرانی ذرائع کے مطابق چین نے اگرچہ عوامی سطح پر تحمل، مذاکرات اور محفوظ بحری آمدورفت کی بحالی پر زور دیا، لیکن نجی رابطوں میں تہران کو زیادہ واضح پیغام دیا گیا۔بیجنگ چاہتا ہے کہ ایران حوثیوں پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے میں مدد کرے، خصوصاً ان توانائی اور تجارتی راستوں تک جہاں کسی بڑی رکاوٹ سے چین کے مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ چینی پیغام ایران تک کس سفارتی ذریعے سے پہنچایا گیا۔ یہ بھی واضح نہیں کہ آیا یہ معاملہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے 16 ستمبر کو بیجنگ کے دورے کے دوران زیرِ بحث آیا یا نہیں۔چین کے لیے یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ دنیا کی بڑی تجارتی اور توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں میں شامل ہے اور مشرقِ وسطیٰ سے گزرنے والے سمندری راستوں کے استحکام میں براہِ راست اقتصادی مفاد رکھتا ہے۔سعودی عرب نے چین سے مدد کیوں مانگی؟تین ایرانی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ سعودی عرب نے حوثیوں کی تیز فوجی پیش قدمی کے بعد چین سے مدد طلب کی۔حوثیوں کی بحیرۂ احمر کے ساحل پر پیش قدمی اور باب المندب کے قریب اہم علاقوں پر کنٹرول نے سعودی تیل کی برآمدات اور تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔چین کے سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں۔ بیجنگ نے 2023 میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے معاہدے میں اہم ثالثی کردار ادا کیا تھا۔اس کے باوجود چین نے عوامی طور پر کسی ایک فریق کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور محفوظ بحری آمدورفت کی بحالی پر زور دیا ہے۔چین: کشیدگی یمن اور بحیرۂ احمر تک نہیں پھیلنی چاہیےرائٹرز کے سوال کے جواب میں چینی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ چین نہیں چاہتا کہ علاقائی کشیدگی مزید یمن اور بحیرۂ احمر تک پھیلے۔چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق علاقائی عدم استحکام میں اضافہ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے۔بیجنگ نے تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کے احترام، شہری زندگی کے لیے اہم تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے اور ایسے اقدامات روکنے پر زور دیا جو صورتحال کو مزید پیچیدہ کریں۔چین نے مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتی ذرائع استعمال کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ایران کا جوابایرانی ذرائع کے مطابق تہران کا مؤقف یہ تھا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا انحصار اس جنگ کے خاتمے پر ہے جسے ایران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع قرار دیتا ہے۔ذرائع کے مطابق چینی حکام نے ایران کو کوئی واضح دھمکی نہیں دی اور نہ ہی یہ اشارہ دیا کہ اگر تہران نے حوثیوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال نہ کیا تو چین ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ ڈالے گا۔تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ایران نے چین کو کوئی مخصوص یقین دہانی کرائی یا نہیں، اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ تہران حوثیوں کے فیصلوں پر عملی طور پر کتنا اثر ڈال سکتا ہے۔طائف میں ڈرون کے ملبے سے ایک شخص جاں بحقدوسری جانب سعودی عرب کے شہر طائف میں ایک ڈرون کو روکنے کے بعد اس کے ملبے سے ایک شخص جاں بحق اور دو افراد زخمی ہوئے۔رائٹرز کے مطابق سعودی شہری دفاع نے بتایا کہ ایک یمنی باشندہ ڈرون کے ملبے سے ہلاک ہوا۔ یہ سعودی عرب کی جانب سے گزشتہ ہفتے حوثی حملوں میں کشیدگی بڑھنے کے بعد اعلان کردہ پہلی ہلاکت تھی۔ سعودی حکام اس سے قبل 80 سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دے چکے تھے۔مکہ مکرمہ کی سمت جانے والے ڈرون کو تباہ کیا گیااس سے ایک روز قبل سعودی عرب نے بتایا کہ اس کی فضائی دفاعی فورسز نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک حوثی ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا۔سعودی حکام کے مطابق ڈرون ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کیا گیا۔سعودی وزارتِ خارجہ نے 16 ستمبر کو کہا کہ یہ 2017 کے بعد مکہ کو نشانہ بنانے کی دوسری کوشش تھی۔ تاہم حوثیوں کی جانب سے اس مخصوص دعوے کی تردید بھی سامنے آئی؛ رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ حوثی ذرائع نے کہا کہ ان کا مکہ یا دیگر مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔بحیرۂ احمر اور باب المندب کیوں اہم ہیں؟بحیرۂ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم سمندری تجارتی راستوں میں شامل ہیں۔ باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے جوڑتا ہے اور ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے درمیان تجارتی و توانائی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم ہے۔حوثیوں کے بحیرۂ احمر کے ساحل کے بڑے حصوں تک تیزی سے پہنچنے سے اس راستے کی سلامتی کے بارے میں خدشات بڑھے ہیں۔رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے حالیہ پیش قدمی کے دوران یمن کے بحیرۂ احمر کے پورے ساحلی حصے پر قبضہ حاصل کر لیا اور باب المندب کے قریب اہم مقامات تک پہنچ گئے ہیں۔چین کے لیے اصل تشویش کیا ہے؟اگر ایرانی ذرائع کی فراہم کردہ معلومات درست ہیں تو چین کا بنیادی مقصد حوثیوں کے ساتھ سیاسی محاذ آرائی کرنا نہیں بلکہ جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنا اور اپنے لیے اہم توانائی و تجارتی راستوں کو محفوظ رکھنا ہے۔چین ایران کا بڑا تجارتی شراکت دار اور ایرانی تیل کا اہم خریدار ہے۔ رائٹرز کے مطابق 2025 میں ایران کی سمندری تیل برآمدات کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ چین نے خریدا، جو اوسطاً تقریباً 14 لاکھ بیرل یومیہ بنتا ہے۔اسی لیے اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں میں طویل عرصے تک رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو چین سمیت عالمی معیشت کو توانائی اور شپنگ کے اخراجات میں اضافے کا سامنا ہو سکتا ہے۔اصل صورتحال ابھی کیا ہے؟ابھی تک دستیاب معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ چین کی درخواست کے نتیجے میں ایران نے حوثیوں کو کوئی مخصوص حکم دیا ہے یا حوثیوں نے اپنی فوجی حکمتِ عملی تبدیل کر لی ہے۔اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ ایران حوثیوں کے فیصلوں کو کس حد تک براہِ راست متاثر کر سکتا ہے۔رائٹرز کی رپورٹ کا بنیادی دعویٰ تین ایرانی ذرائع پر مبنی ہے۔ چین نے عمومی طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ اس نے ایران سے نجی طور پر حوثیوں کو محدود کرنے کی مخصوص درخواست کی۔ چینی وزارتِ خارجہ نے البتہ یمن اور بحیرۂ احمر تک علاقائی کشیدگی پھیلنے کی مخالفت اور مذاکرات و محفوظ بحری آمدورفت کی حمایت کی تصدیق کی ہے۔خلاصہسعودی عرب کی مبینہ اپیل کے بعد چین نے ایران سے حوثیوں پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرنے کی درخواست کی ہے، یہ دعویٰ تین ایرانی ذرائع کے حوالے سے رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب حوثیوں نے یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب کے قریب تیزی سے فوجی پیش قدمی کی ہے اور سعودی عرب پر ڈرون و میزائل حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔چین بظاہر دو اہم مفادات کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے: علاقائی جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنا اور عالمی توانائی و تجارتی راستوں کو محفوظ رکھنا۔لیکن ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ تہران نے بیجنگ کی درخواست پر کوئی عملی اقدام کیا ہے یا حوثیوں کے رویے میں اس کے نتیجے میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔
چین نے ایران سے حوثیوں کو قابو میں رکھنے کی خفیہ درخواست کی، سعودی اپیل کے بعد — رائٹرزریاض/بیجنگ/تہران — رپورٹتین ایرانی ذرائع کے مطابق، جنہیں اس معاملے کی معلومات حاصل تھیں، چین نے ایران سے نجی طور پر کہا ہے کہ وہ یمن میں حوثی تحریک، جسے انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اس کی فوجی کارروائیوں اور بحیرۂ احمر میں حملوں کو محدود کرنے میں مدد دے۔یہ پیش رفت، ذرائع کے مطابق، سعودی عرب کی جانب سے بیجنگ سے مدد طلب کیے جانے کے بعد ہوئی۔ سعودی درخواست اس وقت سامنے آئی جب حوثیوں نے گزشتہ ہفتے یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب آبنائے کے اطراف تیزی سے پیش قدمی کی، جس سے سعودی تیل کی برآمدات اور سمندری جہاز رانی کو مزید خطرات لاحق ہوئے۔چین کی پردے کے پیچھے سفارتی کوششایرانی ذرائع کے مطابق چین نے اگرچہ عوامی سطح پر تحمل، مذاکرات اور محفوظ بحری آمدورفت کی بحالی پر زور دیا، لیکن نجی رابطوں میں تہران کو زیادہ واضح پیغام دیا گیا۔بیجنگ چاہتا ہے کہ ایران حوثیوں پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے میں مدد کرے، خصوصاً ان توانائی اور تجارتی راستوں تک جہاں کسی بڑی رکاوٹ سے چین کے مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ چینی پیغام ایران تک کس سفارتی ذریعے سے پہنچایا گیا۔ یہ بھی واضح نہیں کہ آیا یہ معاملہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے 16 ستمبر کو بیجنگ کے دورے کے دوران زیرِ بحث آیا یا نہیں۔چین کے لیے یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ دنیا کی بڑی تجارتی اور توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں میں شامل ہے اور مشرقِ وسطیٰ سے گزرنے والے سمندری راستوں کے استحکام میں براہِ راست اقتصادی مفاد رکھتا ہے۔سعودی عرب نے چین سے مدد کیوں مانگی؟تین ایرانی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ سعودی عرب نے حوثیوں کی تیز فوجی پیش قدمی کے بعد چین سے مدد طلب کی۔حوثیوں کی بحیرۂ احمر کے ساحل پر پیش قدمی اور باب المندب کے قریب اہم علاقوں پر کنٹرول نے سعودی تیل کی برآمدات اور تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔چین کے سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں۔ بیجنگ نے 2023 میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے معاہدے میں اہم ثالثی کردار ادا کیا تھا۔اس کے باوجود چین نے عوامی طور پر کسی ایک فریق کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور محفوظ بحری آمدورفت کی بحالی پر زور دیا ہے۔چین: کشیدگی یمن اور بحیرۂ احمر تک نہیں پھیلنی چاہیےرائٹرز کے سوال کے جواب میں چینی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ چین نہیں چاہتا کہ علاقائی کشیدگی مزید یمن اور بحیرۂ احمر تک پھیلے۔چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق علاقائی عدم استحکام میں اضافہ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے۔بیجنگ نے تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کے احترام، شہری زندگی کے لیے اہم تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے اور ایسے اقدامات روکنے پر زور دیا جو صورتحال کو مزید پیچیدہ کریں۔چین نے مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتی ذرائع استعمال کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ایران کا جوابایرانی ذرائع کے مطابق تہران کا مؤقف یہ تھا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا انحصار اس جنگ کے خاتمے پر ہے جسے ایران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع قرار دیتا ہے۔ذرائع کے مطابق چینی حکام نے ایران کو کوئی واضح دھمکی نہیں دی اور نہ ہی یہ اشارہ دیا کہ اگر تہران نے حوثیوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال نہ کیا تو چین ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ ڈالے گا۔تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ایران نے چین کو کوئی مخصوص یقین دہانی کرائی یا نہیں، اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ تہران حوثیوں کے فیصلوں پر عملی طور پر کتنا اثر ڈال سکتا ہے۔طائف میں ڈرون کے ملبے سے ایک شخص جاں بحقدوسری جانب سعودی عرب کے شہر طائف میں ایک ڈرون کو روکنے کے بعد اس کے ملبے سے ایک شخص جاں بحق اور دو افراد زخمی ہوئے۔رائٹرز کے مطابق سعودی شہری دفاع نے بتایا کہ ایک یمنی باشندہ ڈرون کے ملبے سے ہلاک ہوا۔ یہ سعودی عرب کی جانب سے گزشتہ ہفتے حوثی حملوں میں کشیدگی بڑھنے کے بعد اعلان کردہ پہلی ہلاکت تھی۔ سعودی حکام اس سے قبل 80 سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دے چکے تھے۔مکہ مکرمہ کی سمت جانے والے ڈرون کو تباہ کیا گیااس سے ایک روز قبل سعودی عرب نے بتایا کہ اس کی فضائی دفاعی فورسز نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک حوثی ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا۔سعودی حکام کے مطابق ڈرون ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کیا گیا۔سعودی وزارتِ خارجہ نے 16 ستمبر کو کہا کہ یہ 2017 کے بعد مکہ کو نشانہ بنانے کی دوسری کوشش تھی۔ تاہم حوثیوں کی جانب سے اس مخصوص دعوے کی تردید بھی سامنے آئی؛ رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ حوثی ذرائع نے کہا کہ ان کا مکہ یا دیگر مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔بحیرۂ احمر اور باب المندب کیوں اہم ہیں؟بحیرۂ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم سمندری تجارتی راستوں میں شامل ہیں۔ باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے جوڑتا ہے اور ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے درمیان تجارتی و توانائی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم ہے۔حوثیوں کے بحیرۂ احمر کے ساحل کے بڑے حصوں تک تیزی سے پہنچنے سے اس راستے کی سلامتی کے بارے میں خدشات بڑھے ہیں۔رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے حالیہ پیش قدمی کے دوران یمن کے بحیرۂ احمر کے پورے ساحلی حصے پر قبضہ حاصل کر لیا اور باب المندب کے قریب اہم مقامات تک پہنچ گئے ہیں۔چین کے لیے اصل تشویش کیا ہے؟اگر ایرانی ذرائع کی فراہم کردہ معلومات درست ہیں تو چین کا بنیادی مقصد حوثیوں کے ساتھ سیاسی محاذ آرائی کرنا نہیں بلکہ جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنا اور اپنے لیے اہم توانائی و تجارتی راستوں کو محفوظ رکھنا ہے۔چین ایران کا بڑا تجارتی شراکت دار اور ایرانی تیل کا اہم خریدار ہے۔ رائٹرز کے مطابق 2025 میں ایران کی سمندری تیل برآمدات کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ چین نے خریدا، جو اوسطاً تقریباً 14 لاکھ بیرل یومیہ بنتا ہے۔اسی لیے اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں میں طویل عرصے تک رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو چین سمیت عالمی معیشت کو توانائی اور شپنگ کے اخراجات میں اضافے کا سامنا ہو سکتا ہے۔اصل صورتحال ابھی کیا ہے؟ابھی تک دستیاب معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ چین کی درخواست کے نتیجے میں ایران نے حوثیوں کو کوئی مخصوص حکم دیا ہے یا حوثیوں نے اپنی فوجی حکمتِ عملی تبدیل کر لی ہے۔اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ ایران حوثیوں کے فیصلوں کو کس حد تک براہِ راست متاثر کر سکتا ہے۔رائٹرز کی رپورٹ کا بنیادی دعویٰ تین ایرانی ذرائع پر مبنی ہے۔ چین نے عمومی طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ اس نے ایران سے نجی طور پر حوثیوں کو محدود کرنے کی مخصوص درخواست کی۔ چینی وزارتِ خارجہ نے البتہ یمن اور بحیرۂ احمر تک علاقائی کشیدگی پھیلنے کی مخالفت اور مذاکرات و محفوظ بحری آمدورفت کی حمایت کی تصدیق کی ہے۔خلاصہسعودی عرب کی مبینہ اپیل کے بعد چین نے ایران سے حوثیوں پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرنے کی درخواست کی ہے، یہ دعویٰ تین ایرانی ذرائع کے حوالے سے رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب حوثیوں نے یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب کے قریب تیزی سے فوجی پیش قدمی کی ہے اور سعودی عرب پر ڈرون و میزائل حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔چین بظاہر دو اہم مفادات کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے: علاقائی جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنا اور عالمی توانائی و تجارتی راستوں کو محفوظ رکھنا۔لیکن ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ تہران نے بیجنگ کی درخواست پر کوئی عملی اقدام کیا ہے یا حوثیوں کے رویے میں اس کے نتیجے میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔










