اھم ترین شخصیات اور 24 گھنٹے میں گرفتاریاں کون سی۔۔اتحادی حکومت کی رخصتی بگل بج گیا۔۔ایران کا برطانیہ پر مبینہ سائبر حملہ بجلی کی پیداوار 4 روز کے لیے بند۔۔مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ بنگلہ دیش کو عبرت ناک شکست۔۔پاکستان نے جاپان جونیئر اوپن اسکواش چیمپین شپ میں 2 گولڈ میڈل جیت لیے۔۔صدر مملکت آصف علی زرداری کے غیر مصدقہ استعفے کی گونج۔۔بادبان ٹی وی کے مطابق استعفے کی خبر کو صدارتی ھاوس نے یکسر مسترد کر دیا۔۔اھم ترین سیاسی شخصیت کے مطابق آصف زرداری نے استعفی دے دیا سرکار اس کو یکسر مسترد کر رھی ھے۔۔کانسٹیٹیوشن ایوینئو اھم ترین پیش رفت جے ای ٹی کی تحقیقات مکمل۔۔۔لوڈشیڈنگ کی طرف بھی توجہ دے لیں۔ واپڈا والوں کو رات کو یاد آ جاتا ہے لائٹ بند کرنا۔۔۔۔۔اسلام آباد روالپندی میں 4 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ۔کون ہو گا نیا وزیر اعظم آزاد کشمیر شاہ غلام قادر فیصلہ اج۔۔۔اھم ترین شاھراوں پر سیکیورٹی فورسز کی جانب سے سخت اقدامات۔۔اسلام آباد مے 72 گھنٹے اھم شخصیات کی ملاقاتیں کیا بڑا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز سائٹ نہ کھلنے کی صورت میں بادبان نیوز کو VPN پر کھولے

🚨 (1) عمران خان نے نورین نیازی سے ملاقات میں سہیل آفریدی یا قیادت کیخلاف کوئی بات نہیں کی: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر🚨 (2) ایران امریکا دیرپا جنگ بندی کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری، فیلڈ مارشل کل ایران کا دورہ کریں گے🚨 (3) فرد واحد کی خاطر فیصلے نہیں مان سکتے، سپہ سالار سےعرض ہے اپنے منصب کے حوالے سے رہنمائی لیں، مولانا فضل الرحمان🚨 (4) جماعت اسلامی کا 12 ربیع الاوّل کے بعد شٹر ڈاؤن اور لانگ مارچ کا اعلان🚨 (5) جماعت اسلامی گرینڈ اپوزیشن اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی، حافظ نعیم🚨 (6) وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات، کشمیر میں نئے وزیراعظم کی نامزدگی پر غور🚨 (7) محبت میں مبتلا امریکی خاتون پاکستان پہنچ گئی، اسلام قبول کرکے نوجوان سے نکاح🚨 (8) ضلع خیبر: ایک شخص نے 2 بھائیوں اور بھابھی کو قتــل کر دیا🚨 (9) سندھ کابینہ نے میر رضا کیس کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کی منظوری دیدی🚨 (10) میر رضا کے والدکے وکیل نے سندھ حکومت کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ مسترد کردیا🚨 (11) مہنگی منگوائی گئی چینی سستی برآمدکرنےکی اجازت، قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان🚨 (12) سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں 100 سے 150 روپے فی کلو اضافہ🚨 (13) ایشین کرکٹ کونسل کے انتخابات میں پاکستانی پینل نے بھارتی پینل کو شکست دیدی🚨 (14) بوتل بند پانی کے 29 برانڈز پینے کیلئے غیر معیاری پائے گئے، تجزیاتی رپورٹ🚨

(15) کراچی میں رواں سال مختلف ٹریفک حادثات میں 603 افراد جاں بحق ہوئے🚨 (16) آسٹریلیا نے دوسرا ٹیسٹ 2 دن میں ختم کردیا، بنگلادیش کو ایک اننگز اور 51 رنز سے عبرتناک شکست🚨 (17) فیصل آباد: گھریلو جھگڑے پر دادا نے 2 پوتوں کو تیز دھار آلے سے قتــل کردیا🚨 (18) راولپنڈی اسلام آباد میں رات گئے طوفانی بارشیں، انڈر پاسز پانی سے بھر گئے، نالہ لئی میں طغیانی🚨 (19) پاکستان اور ملائیشیا کا دہشت گردی اور انسانی اسمگلنگ کیخلاف مشترکہ تعاون بڑھانے پر اتفاق🚨 (20) کراچی میں ڈکیتی کی واردات، ڈاکو 24 لاکھ اور موبائل لوٹ کر فرار🚨 (21) کراچی: مختلف حادثات میں ٹریلر کی ٹکر سے ایک بچے سمیت 2 افراد جاں بحق🚨 (22) اسلام آباد: اہم شاہراہوں پر ٹریفک قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے خصوصی دستے تعینات🚨 (23) شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان، دوطرفہ تعلقات میں نئے باب کا آغاز، شامی خبر ایجنسی🚨 (24) ایر_ان مکمل جنگ میں ہے، معیشت کے سنگین مسائل پر حکومت شرمندہ ہے: صدر پیزشکیان🚨 (25) امریکی پابندیاں و ناکہ بندی ایر_ان کا کچھ نہ بگاڑ سکی, تہران نے اربوں ڈالرز کمالیے🚨 (26) ایر_ان میں امریکا اور اس را_ئیل کی مدد کے الزام میں شخص کو پھانسی دے دی گئی🚨 (27) چینی تعاون کے بغیر امریکا کیلئے ایر_ان کو معاشی طور پر تنہا کرنا ممکن نہیں، نیویارک ٹائمز کا دعویٰ🚨 (28) ایر_انی ہیکرز کا برطانوی پاور پلانٹ پر بڑا سائبر حملہ، 4 روز تک بند رہا🚨 (29) امریکی اقدامات نے دنیا میں جوہری ہتھیار کی خواہش کو بڑھا دیا ہے، محسن رضائی🚨 (30) ایر_ان نے عراق کے تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دیدی🚨 (31) ٹرمپ کی ویزا پالیسی منسوخ؛ امریکی عدالت نے پاکستان سمیت 75 ممالک کو بڑا ریلیف دیدیا🚨 (32) نواز شریف نے عمران خان کا علاج شفا اسپتال میں نہیں ہونے دیا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی🚨

(33) اسپانٹک پہاڑ پر جاں بحق ڈاکٹر اسما مشتاق کی لاش لانے کا آپریشن شدید موسم کے باعث مؤخر🚨 (34) گجرات: معروف عالم دین مولانا طلحہ رضوی فائرنگ سے جاں بحق، واقعہ گجرات کے علاقے شادیوال میں پیش آیا🚨 (35) عمران خان 15 ستمبر سے پہلے پہلے ہاسپٹل میں ہوں گے، سینئر صحافی حامد میر کا دعویٰ🚨 (36) ایر_ان میں اسٹارلنک کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 997 ڈیوائسز ضبط، 163 افراد گرفتار🚨 (37) ایشیا سے یورپ کا نیا سمندری راستہ؟ جنوبی کوریا کا جہاز برفیلے آرکٹک راستے پر روانہ🚨 (38) یہ چاہتے ہیں شہرکو الگ کردیں تاکہ چڑیاگھرمیں دکانیں اور رفاہی پلاٹوں پرشادی ہال چلاسکیں، میئر کراچی کا ایم کیو ایم پرطنز🚨 (39) انگلینڈ کیخلاف ٹیسٹ؛ پاکستان ٹیم میں تبدیلیوں پر غور، بابر اعظم کی واپسی کا امکان🚨 (40) ڈاکٹر نبیہہ کی شوہر کے لیے گانا گانے کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی🚨 (41) آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کا پہلا اجلاس طلب، مخصوص نشستوں پر انتخاب کیلئے شیڈول بھی جاری🚨 (42) میر رضا کے نام پر رجسٹرڈ موبائل سم دوبارہ ایشو، واٹس ایپ اکاؤنٹ تک رسائل حاصل کی جائیگی🚨 (43) راولپنڈی: تھانہ چکلالہ میں نالے کے کنارے سے 8 سالہ بچی کی لاش ملی🚨 (44) گورنرہائوس کراچی میں سیرت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا🚨 (45) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار 24 سے 28 اگست تک برطانیہ کا سرکاری دورہ کریں گے🚨 (46) راولپنڈی: سسرال میں خاتون کے سفاکانہ قتــل میں ملوث خاوند اور ملازم گرفتار🚨 (47) راولپنڈی: حنا جاؤید قتــل کیس، ملزمان کا جسمانی ریمانڈ منظور🚨

(48) بلوچستان کوئلہ کان حادثہ؛ جاں بحق 34 کان کنوں کے لواحقین کو فی خاندان 20 لاکھ روپے امداد🚨 (49) پرائیویٹ حج اسکیم 2027ء کے لیے واجبات کی وصولی کا آغاز🚨 (50) ڈاکٹر ماہ نور ناصر کی بہادری کےحج اعتراف میں دکی کی اہم شاہراہ ان کے نام سے منسوب🚨 (51) مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش کو آسٹریلیا کے ہاتھوں عبرتناک شکست🚨 (52) پاکستان نے جاپان جونیئر اوپن اسکواش چیمپین شپ میں دو گولڈ میڈل جیت لیے🚨 (53) سماعت سے محروم ثنا بہادر نے آسٹریلیا میں ایک اور اسکواش ٹائیٹل جیت لیا🚨 (54) ایس آئی ایف سی کی ریگولیٹری اصلاحات، کاروباری آسانیوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت🚨 (55) انٹرنیٹ کا 35 فی صد نیا مواد اے آئی سے تحریر کیے جانے کا انکشاف!🚨 (56) لاہور: شاہدرہ ٹاؤن میں قریبی رشتے دار کو قتــل کرنے والا ملزم بیٹے سمیت گرفتار🚨 (57) کراچی؛ راہ گیر خاتون سے نازیبا حرکات کرنے والا ملزم گرفتار🚨 (58) کراچی، خیابان شاہین فیز 6 میں پولیس مقابلہ، زخمی سمیت 2 ملزمان گرفتار🚨 (59) ایران کا برطانیہ پر مبینہ سائبر حملہ: بجلی کی پیداوار چار روز کے لیے بند🚨 (60) قطر میں زیرِ حراست تینوں پائلٹس کی صحت مسلسل بگڑ رہی ہے: ایران کا دعویٰ

اسلام آباد ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی کی تحقیقات آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہیں اور سی ڈی اے کے ان تمام افسران کو شاملِ تفتیش کیا گیا ہے جن کے دستخط متعلقہ معاملات میں موجود تھے، جبکہ سابق اور موجودہ 17 سے زائد افسران کے بیانات بھی قلم بند کیے جا چکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی نے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے ون کانسٹیٹیوشن میں فلیٹس رکھنے والے بیوروکریٹس، سیاستدانوں اور ججز سے بھی فلیٹس کی خریداری سے متعلق تفصیلات طلب کرلی ہیں اور مالکان سے منی ٹریل مانگی گئی ہے، جبکہ جے آئی ٹی کو خدشہ ہے کہ بعض فلیٹس بطور تحفہ تو نہیں دیے گئے۔ ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی کی تحقیقات 20 اگست تک مکمل ہونے کا امکان ہے، جس میں نیب، ایف آئی اے، الیکشن کمیشن، ایف بی آر، آئی بی اور آئی ایس آئی کے نمائندگان شامل ہیں، جبکہ جے آئی ٹی اپنی تفصیلی رپورٹ وزیراعظم

مہنگے اینکرز نے پی ٹی وی کا بھٹہ بٹھا دیا؟نیوز روم/امجد عثمانیپاکستان ٹیلی وژن کی بد حالی کی تصویر کشی کرتی لاہور پریس کلب کی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی وی کے ملازمین ضروریات زندگی کے لیے گھریلو سامان بیچنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔۔۔یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ قومی نشریاتی ادارے کا اتنا برا حال کیوں ہوا ؟؟؟ اس سوال سے پہلے دیکھتے ہیں کہ پی ٹی وی کے ملازمین واقعی اتنے بدحال ہو گئے؟؟؟جواب ہاں ہے کیونکہ تنخواہ دار لوگوں کا بجٹ اگر ایک مہینہ بھی ڈسٹرب ہوجائے تو یہی حال ہوتا ہے۔۔۔۔۔گھر کا کرایہ۔۔۔بجلی گیس کے ہوش ربا بل اور بچوں کی فیسیں وہ خرچے ہیں جو ملازمین کے لیے سوہان روح ٹھہرے۔۔۔آج ہی پی ٹی وی سے وابستہ پروڈیوسر دوست ملے۔۔۔کھلے دل کے آدمی ہیں لیکن حال دل کہتے جذباتی ہوگئے۔۔۔بتانے لگے میری عادت ہے کہ کھانا کھاؤں تو چھوٹے ملازمین کو بھی ساتھ بٹھا لیتا ہوں۔۔۔اج کھانا کھانے لگا تو ایک نائب قاصد بھی اگئے۔۔۔کھانے کے بعد وہ صاحب رو پڑے اور کہا کہ آج میری جیب خالی ہے۔۔۔ مجھے ایک دو ہزار روپے بھی دیں۔۔پروڈیوسر دوست کے مطابق میں نے کہا کہ آج تو میرا بھی یہی حال ہے اور میرے پاس بھی 330 روپے ہیں۔۔۔۔کہنے لگے پی ٹی وی پر ایک دہائی نچھاور کر دی لیکن آج بھرم بھی چلا گیا۔۔۔۔۔سوال کہ پی ٹی وی کا برا حال کیوں ہوا ؟؟؟ اس کا مختصر ترین اور سادہ ترین جواب یہ ہے کہ وہی روش جس نے نجی چینلز کا کباڑہ کردیا ۔۔۔۔یعنی اینکرز کروڑوں میں کھیلیں اور کسی بھی ادارے کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچانے والے رپورٹرز ۔۔۔نیوز ایڈیٹرز اور پروڈیوسر کے لیے پچاس ہزار سے لاکھ پر بھی تاریخ پر تاریخ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔پی ٹی وی کے ریگولر ملازمین کے مقابلے میں کنٹریکٹ مافیا کو بھاری پیکیج سرکاری ٹی وی کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے۔۔۔۔اللہ نہ کرے پی آئی اے کی طرح یہ قومی ادارہ بھی اس ناجائز بوجھ کی نحوست سے بانجھ ٹھہرے۔۔۔۔۔۔

سپریم کورٹ عمران خان صاحب کی صحت متعلقہ توہین عدالت درخواست دائر ہونے لگے۔۔ حکومت مکمل طور پر ناکام بڑے حادثے کی گونج۔۔۔ایمرجنسی سگنل جاری خلیجی فارس اور آبنائے ھرمز۔اھم ترین شخصیات کو گرفتار کر لیا گیا۔۔ بڑے معاہدے اور عوام کی خودکشیاں۔۔بھارت اور جرمنی کو شکست ھالینڈ اور برطانیہ کی جیت۔۔شاید کچھ روز بعد ہم اسمبلی میں نہ رہیں، آپ کو اپنے اسٹائل کی جمہوریت مبارک ہو، بیرسٹر گوہر، چیئرمین پی ٹی آئی۔۔فضل الرحمٰن نے کہا کہ وزیر اعظم مذاکرات کی دعوت تو دے رہے ہیں لیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اور ’یہاں ایک ہی ہاتھ ہے جو قوم کے چہرے پر تھپڑ مارتا ہے اور تھپڑ کی گونج جمھوریت کے نام پر سیاسی جماعتوں کو گھنوھا کھیل جاری۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

اصل گیم اب شروع ہوا ہے ، Pti اٹھائیسویں ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر آمادہ ہوگئی ہے ، کراچی اور گوادر وفاق کے پاس چلا جائیگا ، ووٹ حاصل کرنے کیلئے جاری کیگئی بےنظیر انکم سپورٹ والی آٹھ سو ارب کی بھیک بھی ختم ہوگی ، اس پیسے سے عام عوام کو بجلی اور پٹرول کی مد میں ریلیف ملے گا _اس کے بدلے میں عمران خان کو بنی گالہ شفٹ کر کے پارٹی کی کمان اکبر ایس بابر کے حوالے کی جائیگی ، مطلب پپلے جدے گئے نہ گئے یدے ضرور گئے 😜

2005/2006 کی بات ہے میر پور (کشمیر) پولیس ایک کیس میں گجر خان (راولپنڈی) سے ایک گھر کی چھ سات لڑکیاں/خواتین کو اٹھا کر لے گئی اور بغیر کسی مقدمے یا مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیے دس بارہ دن سے تھانے کے ایک کمرے میں قید کر رکھا تھا۔ ان خواتین کے ساتھ ایک بارہ تیرہ سالہ لڑکی بھی تھی۔ پولیس کا کہنا تھا ان کا نوجوان مرد ایک سنگین کیس میں مطلوب تھا جب تک وہ سرنڈر نہیں کرے گا ان خواتین کو رہا نہیں کیا جائے گا۔ میں نے رات کے دس گیارہ بجے ایک اخبار میں سنگل کالم خبر پڑھی تو مجھ سے کھانا نہ کھایا گیا کہ دس بارہ دن سے وہ تھانے میں قید ہیں اور گھر کا مرد بھاگا ہوا ہے۔پاکستان میں ہم مردوں کے کرتوتوں کا خیمازہ گھر کی خواتین اور بچے ہی ادا کرتے ہیں۔

پہلا ظلم گھر کے مرد کوئی جرم کر کے اپنی عورتوں پر کرتے ہیں جنہیں کچھ علم نہیں ہوتاکہ ان کے مرد باہر کیا وارداتیں کرتے پھرتے ہیں اور اچانک پولیس انہیں مارپیٹ کرتے گالیاں دیتی گھسیٹی لے جاتی ہے تو دوسرا ظلم یہ وردی پہنے قانون کے مرد محافظ کرتے ہیں۔ خیر وہ لمبی اسٹوری ہے کہ اگلے دن میں میرپور گیا۔ بڑی مشکل سے چھپ چھپا کر کسی بندے کی مدد سے تھانے میں ان خواتین سے بات چیت کی۔ ان کی حالت زار دیکھ کر کانپ گیا۔ تھانے کے کمرے سے دور سے ہی شدید بو آرہی تھی جہاں وہ قید تھیں۔ ایک کمرے میں دس بارہ دن سے قید ۔۔ نہ نہانے کو پانی نہ عورتوں کی مخصوص ضروریات کی فراہمی۔۔ اوپر سے انہوں نے بتایا کچھ پولیس والوں ان خواتین پر روز تشدد بھی کرتے تھے۔ خیر میں نے اسلام آباد پہنچ کر دی نیوز میں پوری دردناک اسٹوری لکھی تو سینٹ کا اجلاس تھا جس میں چند ارکان نے معاملہ اٹھا دیا۔ بڑا رولا پڑ گیا۔ اس خبر کے چھپنے پر میر پور پولیس کے ڈی ایس پی نے میرے خلاف پرچہ درج کرا دیا کہ یہ صحافی بھی ملزمان کا ساتھی ہے۔ اگلے دن سینٹ میں میرے خلاف مقدمے پر مزید رولا پڑ گیا۔

اس وقت کے وزیرمملکت برائے داخلہ ڈاکٹر وسیم شہزاد کا اللہ بھلا کرے ایکشن میں آئے اور آزادکشمیر حکومت سے رابطہ کیا اور فورا خواتین کو رہا کرایا گیا۔ اور انہی پولیس والوں کے خلاف مقدمہ درج ہوا جنہوں نے خواتین کو اغوا کیا تھا اور میرے خلاف ایف آئی ار دی تھی۔ اس وقت ایک ڈی ایس پی نے بھی یہی بیان جاری کیا تھا کہ اس رپورٹر کی کیا ذاتی انڑیسٹ تھی۔ویسے ہی یہ بیس سالہ پرانا واقعہ یاد آیا جب آج کل ملتان ہوٹل پولیس کیس میں میرے ملتانی مہربان سوالات اٹھا رہے ہیں کہ اسلام آباد کے صحافی کا اس کیس میں یقینا ذاتی انڑیسٹ ہوسکتا ہے۔۔ کچھ نے تو ہوٹل میں میری پارٹنرشپ کا بھی دعوی کر دیا ہے۔ کچھ کہ رہے ہیں میں ہر دفعہ ملتان جا کر مفت وہاں ٹھہرتا ہوں۔۔ کچھ نے تو ایسے ایسے خوبصورت فوائد کی طویل فہرست چھاپی ہے جنہیں پڑھ کر تو میرے اپنے منہ میں پانی آگیا ہے۔ میں خود بھی اس طرح کی خبریں/اسٹوریز بریک اور طاقتور طبقات سے سینگ اڑانے اور پھڈے کرنے کے بعد ہر دفعہ اپنے خلاف چلنے والی ذاتی مہم کے بعد خود سے ضرور پوچھتا ہوں یار ویسے میرا اس کیس میں کیا ذاتی انٹریسٹ ہوسکتا ہے۔۔؟ تحریر/رئوف کلاسرا

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی فضائیہ کے نگرانی کرنے والے طیارے نے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے قریب پرواز کے دوران ایمرجنسی سگنل جاری کیا جس کے بعد وہ اس علاقے سے اچانک غائب ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق ایمرجنسی سگنل سامنے آنے کے بعد خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں طیارے کو ممکنہ طور پر انٹرسیپٹ یا حم*لے کا سامنا ہونے سے متعلق قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں تاہم ابھی تک کسی امریکی یا دیگر حکام نے طیارے پر حم*لے نقصان یا مار گرائے جانے کی تصدیق نہیں کی۔

سینیٹ سیکریٹریٹمیڈیا ڈائریکٹوریٹپریس ریلیزچیئرمین سینیٹ کا ملائیشیا کے وزیر داخلہ کا خیرمقدم، پاک ملائیشیا تعلقات مزید مستحکم بنانے پر زوراسلام آباد، 21 اگست 2026ء: ملائیشیا کے وزیر داخلہ داتوک سری سیف الدین نصر بن اسماعیل نے وفد کے ہمراہ آج پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران چیئرمین سینیٹ نے ملائیشیا کے وزیر داخلہ کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تاریخی، برادرانہ اور دوستانہ تعلقات مشترکہ مذہبی، ثقافتی اور تاریخی اقدار اور عوامی سطح پر مضبوط روابط پر استوار ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے ملائیشیا کے ساتھ اپنی دیرینہ وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مختلف حیثیتوں میں ملائیشیا کے متعدد دورے کیے، جن میں سابق وزیراعظم، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور موجودہ چیئرمین سینیٹ کی حیثیت سے دورے شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے حالیہ دورۂ ملائیشیا کا بھی ذکر کیا، جہاں انہوں نے گلوبل مسلم بزنس فورم میں شرکت کی اور انہیں فورم کا سرپرستِ اعلیٰ مقرر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے روابط نے دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔سید یوسف رضا گیلانی نے انٹر پارلیمانی اسپیکرز کانفرنس (ISC) کے ساتھ اپنی وابستگی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ملائیشیا کے ایوان نمائندگان کے اسپیکر عزت مآب داتو سری جوہری عبداللہ کی جانب سے انہیں آئی ایس سی کے بانی چیئرمین کے منصب کے لیے نامزد کیا جانا قابلِ تحسین ہے۔چیئرمین سینیٹ نے ملائیشیا میں مقیم پاکستانی طلبہ اور پاکستانی کمیونٹی کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس وقت تقریباً 5 ہزار پاکستانی طلبہ ملائیشیا کی جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی دونوں ممالک کے درمیان ایک قیمتی پل کی حیثیت رکھتی ہے اور ملائیشیا کی معاشی و سماجی ترقی میں مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔وزیراعظم ملائیشیا داتو سری انور ابراہیم کے 2024ء میں پاکستان کے دورے اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کے 2025ء میں ملائیشیا کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اعلیٰ سطحی دوروں کے مسلسل تبادلے سے پاک ملائیشیا تعلقات کو نئی تقویت ملی ہے۔ انہوں نے ملائیشیا کے وزیر داخلہ کے دورۂ پاکستان کو دونوں برادر ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط کے تسلسل میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔چیئرمین سینیٹ نے ملائیشیا کے معزز بادشاہ اور ملکہ کو پاکستان کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام ان کی آمد کے منتظر ہیں۔ انہوں نے ملائیشیا کے وزیر خارجہ کے جلد پاکستان کے دورے اور مشترکہ وزارتی کمیشن کے آئندہ اجلاس کے جلد انعقاد کی امید بھی ظاہر کی۔چیئرمین سینیٹ نے ملائیشیا کے وزیر داخلہ کے دورۂ پاکستان کے دوران قیدیوں کی بین الاقوامی منتقلی سے متعلق معاہدے پر دستخط کا خیرمقدم کیا اور فوجداری معاملات میں باہمی قانونی معاونت کے معاہدے پر مزید پیش رفت کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی اور قانونی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہیں۔اقتصادی تعاون کے حوالے سے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان بہترین سیاسی تعلقات کو تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری سطح پر تعاون میں مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ون ونڈو پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے ملائیشین سرمایہ کاروں کو پاکستان میں دستیاب سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔انہوں نے پاکستان کے اہم جغرافیائی محلِ وقوع کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ملائیشین کاروباری اداروں کے لیے افغانستان، وسطی ایشیا اور مغربی چین تک رسائی کا دروازہ بن سکتا ہے، جس سے علاقائی رابطوں، تجارت اور اقتصادی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔چیئرمین سینیٹ نے سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں تعاون کے وسیع امکانات پر بھی زور دیا اور کہا کہ ملائیشیا نے اس شعبے میں نمایاں ترقی کی ہے، جبکہ پاکستان بھی اس شعبے میں باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو فروغ دینے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔پاکستان کی نوجوان آبادی کا ذکر کرتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ملک کی تقریباً 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو انسانی وسائل کا ایک بڑا اور باصلاحیت ذخیرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ملائیشیا کی افرادی قوت کی ضروریات پوری کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، بالخصوص سیکیورٹی گارڈز سمیت مختلف شعبوں میں پاکستانی افرادی قوت ملائیشیا کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔چیئرمین سینیٹ نے پاک ملائیشیا دفاعی تعاون میں ہونے والی مسلسل پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان دفاعی پیداوار کے شعبے میں تعاون مزید بڑھانے اور ملائیشیا کی ضروریات کے مطابق دفاعی سازوسامان اور اسلحہ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ملائیشیا کے وزیر داخلہ نے پاکستان کی جانب سے پرتپاک میزبانی کو سراہا اور دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ملائیشیا کے عزم کا اعادہ کیا۔ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دوستی اور تعاون کو مزید گہرا اور مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، جس میں پارلیمانی، سیاسی، اقتصادی، تعلیمی، دفاعی اور عوامی سطح کے روابط کو مزید فروغ دینا شامل ہے۔ملاقات میں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف، مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے پارلیمانی رہنماؤں اور وزیر مملکت برائے داخلہ نے بھی شرکت کی۔

وفاقی کابینہ کا اجلاس، ڈیفینس فورسز ایکٹ 2026ء اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010ء میں ترمیم کی منظوری*وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔وفاقی کابینہ نے دفاعی افواج ایکٹ 2026ء (Defence Forces Act 2026) کے مسودے کی منظوری دے دی۔ یہ مسودہ 27ویں آئینی ترمیم کے زریعے کی گئی ترامیم کے تسلسل میں تیار کیا گیا ہے۔

*وفاقی کابینہ کا اجلاس، ڈیفینس فورسز ایکٹ 2026ء اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010ء میں ترمیم کی منظوری*وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔وفاقی کابینہ نے دفاعی افواج ایکٹ 2026ء (Defence Forces Act 2026) کے مسودے کی منظوری دے دی۔ یہ مسودہ 27ویں آئینی ترمیم کے زریعے کی گئی ترامیم کے تسلسل میں تیار کیا گیا ہے۔ اور اسکا مقصد چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے اور چیف آف ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز کے حوالے سے متعلقہ انتظامی امور کا تعین کرنا ہے.کابینہ کی منظوری کے بعد دفاعی افواج ایکٹ 2026ء کا مسودہ پارلیمان کے جاری اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔وفاقی کابینہ نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010ء ( National Command Authority Act 2010) میں ترمیم کی بھی منظوری دے دی۔ جو 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد ایک ضروری عمل تھا۔نیشنل کمانڈ ایکٹ 2010ء میں ترمیم شدہ مسودہ بھی منظوری کے لیے پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔

کمزور چھتوں،کچے گھروں اور نشیبی بستیوں کی خیر ہو۔۔۔۔۔یا اللہ معافی۔امریکی سفیر کا غیرذمہ دارانہ بیان مسئلہ کشمیر پر امریکا کے دیرینہ مؤقف کی نفی کرتا ہے۔۔بھارت نے پاکستان کو 3 کے مقابلے میں 5 گول سے ہرادیا۔۔۔پاکستان ولڈ کپ کی دوڑ سے اوٹ کھلاڑیوں کی کارکردگی بھتر لکین اعتماد کا فقدان۔۔امریکی فوج کو کسی بھی قسم کی سہولت فراہم کرنا ایران کے خلاف جنگ میں شرکت کے مترادف ایران۔۔سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق 2 دن ختم ہونے کا انتظار کریں۔۔ ۔۔18 اگست کو وزیر اعظم کا حلف 18 اگست کو ھی ھسپتال منتقل۔4 سالوں میں مھنگای کا 75 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔۔8 وزراء کھربوں روپے کی کرپشن میں ملوث پھلا نمبر کس کا۔حکومت کی استدعا مسترد عمران خان الشفاء منتقل۔حکمران اتحاد کو غشی کے دورے کچھ پر مرگی کا دورہ حالات کشیدہ۔سینٹرعابد شیر علی کی.دوسری بیوی صائمہ طارق الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ڈپٹی ڈائریکٹر لاء کے عہدے پر تعینات ہے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

میڈیا اداروں سے کارکنوں کی برطرفیاں ناقابلِ برداشت، حکومت اور عدلیہ فوری نوٹس لیں: پی ایف یو جے ورکرزاشتہارات کی مد میں کروڑوں، اربوں روپے لینے والے ادارے کارکنوں کو بے روزگار نہیں کر سکتے، اشتہارات کی ادائیگی ملازمین کے حقوق سے مشروط کی جائےپشاور (پ ر) پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرز (PFUJ-Workers) کے صدر شمیم شاہد اور سیکرٹری جنرل راجہ ریاض نے مختلف اخبارات، نجی ٹیلی ویژن چینلز اور دیگر میڈیا اداروں سے کارکن صحافیوں اور ملازمین کی مسلسل جبری برطرفیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت اور عدلیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ایک مشترکہ بیان میں پی ایف یو جے ورکرز کے رہنماؤں نے کہا کہ ملک کے بڑے میڈیا اداروں سے کارکن صحافیوں اور دیگر ملازمین کی برطرفی کا سلسلہ اب ناقابلِ برداشت حد تک پہنچ چکا ہے۔ میڈیا ادارے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے اشتہارات کی مد میں کروڑوں اور اربوں روپے وصول کرتے ہیں، لیکن دوسری جانب انہی اداروں میں کام کرنے والے صحافیوں اور دیگر ملازمین کو مسلسل ملازمتوں سے فارغ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سماء، جیو، روزنامہ جنگ اور ایکسپریس گروپ کے بعد اب ڈان گروپ کی جانب سے ڈان ٹی وی سے وابستہ صحافیوں سمیت درجنوں کارکنوں کی برطرفی اس سنگین بحران کی تازہ مثال ہے۔ گزشتہ دو برس کے دوران اخباری صنعت اور نجی ٹیلی ویژن سے وابستہ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کارکن بے روزگار ہو چکے ہیں، جبکہ میڈیا ادارے سرکاری اشتہارات سے مسلسل مالی فوائد حاصل کر رہے ہیں۔پی ایف یو جے ورکرز کے رہنماؤں نے کہا کہ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ چند ماہ قبل خیبرپختونخوا حکومت نے ایک اہم میڈیا ادارے کو اشتہارات کی مد میں پانچ کروڑ روپے ادا کیے، جبکہ مزید دو کروڑ روپے کی ادائیگی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود اسی ادارے سے وابستہ پانچ کارکن صحافیوں سمیت متعدد ملازمین کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف کارکنوں کے معاشی استحصال کے مترادف ہے بلکہ سرکاری اشتہارات کی پالیسی پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اشتہارات کسی میڈیا ادارے کا بلاشرکت غیرے حق نہیں بلکہ عوام کے ٹیکس سے حاصل ہونے والے وسائل ہیں۔ حکومت کو یہ اختیار اور ذمہ داری دونوں حاصل ہیں کہ سرکاری اشتہارات کے اجراء اور ادائیگی کو میڈیا کارکنوں کے قانونی حقوق، اجرتوں کی بروقت ادائیگی، ملازمت کے تحفظ اور مقررہ اوقاتِ کار کی پابندی سے مشروط کرے۔پی ایف یو جے ورکرز نے وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا

کہ میڈیا اداروں کو سرکاری اشتہارات کی ادائیگی سے قبل کارکن صحافیوں اور دیگر ملازمین کی تنخواہوں، واجبات، ملازمت کے تحفظ اور لیبر قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کا مؤثر نظام وضع کیا جائے۔ جو ادارے سرکاری خزانے سے اربوں روپے حاصل کرتے ہیں، انہیں کارکنوں کو بے روزگار کرنے کی کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے کارکن صحافیوں اور میڈیا ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے حالیہ اقدامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ عدالت کی ہدایات پر مکمل اور فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔پی ایف یو جے ورکرز کے رہنماؤں نے کہا کہ میڈیا کی آزادی صرف اداروں کے مالکان یا ایڈیٹوریل پالیسی کا نام نہیں؛ میڈیا کی آزادی کا اصل ستون وہ صحافی اور کارکن ہیں جو کم اجرت، غیر یقینی ملازمت اور دباؤ کے باوجود عوام تک خبر پہنچاتے ہیں۔ اگر یہی کارکن معاشی عدم تحفظ کا شکار ہوں گے تو آزاد اور ذمہ دار صحافت بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔انہوں نے ملک بھر میں پی ایف یو جے اور اس سے منسلک یونینز کے تمام دھڑوں سے بھی اپیل کی کہ کارکن صحافیوں کے روزگار اور حقوق کے تحفظ کے معاملے پر اپنے اختلافات ختم کرکے فوری طور پر متحد ہوں اور مشترکہ جدوجہد کے لیے متفقہ لائحہ عمل اختیار کریں۔پی ایف یو جے ورکرز نے واضح کیا کہ کارکن صحافیوں کی برطرفیوں کا سلسلہ فوری طور پر نہ روکا گیا اور سرکاری اشتہارات کو کارکنوں کے حقوق سے مشروط نہ کیا گیا تو صحافتی برادری اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے بھرپور اور منظم احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

اعظم نذیر بھول گئے ہیں تو میں یاد دلادوں نواز شریف جب تقریباً ایک سال جیل میں تھے تو انہوں نے کتنی دفعہ علاج کروایا؟اسد قیصر دورانِ حراست نواز شریف کے علاج کی تفصیلات تاریخوں کے ساتھ سامنے لے آئے

اسلام آباد کے خوبصورت موسم میں سیاسی حبس حکومتی بینچوں میں اضطراب۔۔عمران خان کو ھسپتال منتقل کرنے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ۔۔ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عظمی میڈیکل بورڈ میں شامل۔۔بھارت اور پاکستان آج ھاکی ولڈکپ کے اھم میچ میں آمنے سامنے۔فیصلے پر نظر ثانی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔حیدر سلطان سلطان راہی کا نالائق بچہ طاھر سرور۔۔چاغی میں مسلح افراد کے حملے میں تین فوجی اہلکار شہیـد۔۔نورین نیازی کی عمران خان کے ساتھ ملاقات مُکمل ! صورت حال تبدیل !۔۔نواز حکومت کا دوسرے روز بھی پٹرول بم دھماکہ۔۔ عمران خان ہسپتال اور ن۔لیگ ICU منتقل۔۔ ۔حکومت اور ائل مافیا کا گٹھ جوڑ جاری۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ملکی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے نئے صوبوں کے قیام کا ایشو نکالا گیا ہے ۔۔ جب گھر میں آگ لگی ہو تو گھر کو تقسیم کرنے کی بجائے آگ بجھائی جاتی ہے ، پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلاکر موجودہ صورتحال پر اعتماد میں لیا جائے ۔ مولانا فضل الرحمان

اس اقدام کو سراہتے ہیںبعض اوقات تصویریں بولتی ہیں دیر میں منعقدہ جرگے کے دوران آئی جی ایف میجر جنرل راؤ عمران سرتاج نے مشران کے رُوبرو زمین پر بیٹھ کر خطاب کیا اور یہی جرگے کی اصل روح ہوتی ہے انہوں نے پروٹوکول کی دھجیاں بکھیر کر عملی طور بہت خوبصورت پیغام دیا کاش کہ اس پر ہمارے دیگر سول و ملٹری افسران بھی عمل کرتے ہوئے خود کو زمینی خدا سمجھنا چھوڑ دیں انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا (نارتھ) کی زیرِ صدارت دیر اپر اور دیر لوئر کے مشران، عمائدین اور متعلقہ انتظامی و سکیورٹی حکام کے ساتھ ایک اہم گرینڈ جرگہ منعقد ہوا، جس میں دونوں اضلاع کی موجودہ امن و امان کی صورتحال کا جامع جائزہ لیا گیا اور پائیدار امن کے قیام کے لیے مشترکہ اور مربوط لائحۂ عمل پر غور کیا گیا۔

جرگے میں کمشنر مالاکنڈ ڈویژن، ریجنل پولیس آفیسر مالاکنڈ، کمانڈنٹ دیر سکاؤٹس، ڈپٹی کمشنرز دیر اپر و لوئر، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز دیر اپر و لوئر سمیت ملک و مشران اور عمائدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر آئی جی ایف سی خیبر پختونخوا (نارتھ) میجر جنرل راؤ عمران سرتاج نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دیر اپر اور دیر لوئر میں پائیدار امن، استحکام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت، سکیورٹی فورسز، پولیس اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور عوام کے باہمی تعاون اور یکجہتی سے علاقے میں امن دشمن عناصر اور خوارج کے عزائم کو ناکام بنایا جائے گا

۔ دو ہزار اٹھارہ میں تبدیلی کی ہوا چلی اور عمران خان بازی لے اڑا۔ دو ہزار بائیس میں عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو وزارت عظمیٰ کا منصب شہبازشریف کے حصے میں چلا گیا۔ دو ہزار چوبیس کے الیکشن میں سندھ سے کلین سوئپ کرنے کے باوجود بلاول بھٹو وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے باہر ہو گئے ۔انہوں نے پی ٹی آئی کو ساتھ ملانے کی بھرپور کوشش کی لیکن جب پی ٹی آئی نے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا تو بلاول بھٹو اس وقت بھی شدید ناراض ہو گئے تھے ۔ کیونکہ اقتدار ان کی مٹھی میں آتے آتے ریت کی طرح پھسل گیا تھا۔ ۔ یاد کریں جب صدر زرداری نے اپنے اکلوتے اور ہونہار بیٹے کو سیاست میں باضابطہ طور پر لانچ کیا۔ اس وقت وہ تازہ تازہ برطانیہ سے لوٹے تھے ۔ نہ لہجہ پاکستانی تھا اور نہ ہی سوچ مقامی ۔ ملکی مسائل تو دور انہیں سندھ اور کراچی کے مسائل کا بھی کوئی خاص ادراک نہ تھا۔ زرداری صاحب نے ان کیلئے بہترین سیاسی اتالیق مقرر کئے ۔ رضا ربانی ،شیری رحمٰن، نیربخاری،یوسف رضا گیلانی اور راجا پرویز اشرف جیسے جہان دیدہ سیاست دانوں کی قربت کی بدولت بلاول چند برسوں میں سیاست کے سارے دائوپیچ سیکھ گئے ۔آج وہ ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں۔ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں

۔ملک کے وزیرخارجہ کے طور پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔حکومت میں رہتے ہوئے اپوزیشن لیڈر کا کردار نبھانا بھی سیکھ چکے ہیں۔ وزارت عظمیٰ کی کرسی اور ان کے درمیان صرف تین سال کا فاصلہ باقی تھا۔اب وہ اور ان کی پوری جماعت بڑی بے صبری کے ساتھ شہبازشریف کی حکومت کی مدت پوری ہونے کا انتظار کر رہی تھی ۔نئے الیکشن کی پلاننگ بھی ہو رہی تھی ۔ حال ہی میں انہوں نے پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مل بیٹھنے کی آفر بھی کی تھی ۔اشارے کنائے میں وزیراعظم شہبازشریف کو تحریک عدم اعتماد لانے کی دھمکی بھی دی تھی ۔ وہ موروثی سیاست کی ایک ایسی طاقتور علامت بن کر ابھر رہے تھے جسے شکست دینا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن تھا لیکن۔۔۔!!!اچانک سے ملک میں صوبوں کی تقسیم کا ایشو کھڑا ہو گیا۔ نئے انتظامی یونٹس بنانے کے مجوزہ پلان نے بلاول بھٹو کے سارے خواب چکنا چور کر دیئے ہیں۔ وزارت عظمیٰ کی وہ کرسی جو محض دو قدم کی دوری پر تھی ۔ ایک بار پھر قریب آتے آتے ۔ یکایک بہت دور چلی گئی ۔یہی وجہ ہے کہ بلاول آج پھر ناراض ہیں۔اسی لئے انہوں نے آج کل دوبارہ چپ سادھ رکھی ہے ۔ نہ وہ مسلم لیگ ن پر گرج رہے ہیں ۔نہ وہ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ پر برس رہے ہیں۔ ان کا گلہ اپنی جماعت سے ہے ۔ان کی ناراضی صدر پاکستان سے ہے ۔ اصل میں بلاول بھٹو کو یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ اگر مجوزہ پلان کے تحت صوبہ سندھ پانچ انتظامی یونٹس میں تقسیم ہوگیا تو پیپلزپارٹی کے سر پر نہ توآسمان باقی رہے گا اور نہ ہی پیروں تلے زمین ۔ آپ یقیناً میری اس بات پر حیران ہونگے کہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹس پیپلزپارٹی کی سیاست یا بلاول بھٹو کے مستقبل پر کیسے اثر انداز ہونگے ؟؟؟آپ ذرا بات کو سمجھیں۔

پیپلزپارٹی کی سیاسی طاقت کا اصل منبع صوبہ سندھ ہے ۔ سندھ میں صرف پیپلزپارٹی ہی واحد سیاسی قوت نہیں۔ پیرپگاڑا کی مسلم لیگ فنکشنل لگ بھگ چار اضلاع میں صوبائی اسمبلی کی چار چھ نشستیں ہر الیکشن میں نکال سکتی ہے ۔ اسی طرح قوم پرست سیاسی جماعتوں کا ایک پریشر گروپ بھی اندرون سندھ موجود ہے ۔سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن میں مولانا فضل الرحمٰن کی جے یوآئی ف کا اچھا خاصا ووٹ بینک ہے ۔بدین میں فہمیدا مرزا اور ذوالفقار مرزا۔۔ جبکہ خیرپور میں نواب آف خیرپور پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں۔ یہ تمام وہ دھڑے ہیں جنہیں صدر آصف علی زرداری نے اپنی مفاہمت کی سیاست کے ذریعے پچھاڑا۔کسی کو اپنے ساتھ ملا لیا۔

اور کسی کے گرد ایسا حصار کھینچ دیا کہ وہ چاہتے ہوئے بھی آگے نہ بڑھ سکا۔اور تھک ہار کر خاموش ہو کر بیٹھ گیا۔ نواب آف خیرپور، ذوالفقار مرزا اور پیرپگاڑا اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ یہ لوگ عرصہ دراز سے خاموش ہیں۔ ان میں سے بعض تو وقتی طورپر سیاست سے لاتعلق بھی ہوگئے ۔یا لاتعلق کر دیئے گئے ۔ لیکن ایسا نہیں کہ وہ سندھ کی سیاست میں اجنبی ہیں۔ ان سب کا اپنے اپنے حلقوں میں مناسب ووٹ بینک موجود ہے ۔ وہ پیپلزپارٹی کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں ۔ اگر انہیں لیول پلیئنگ فیلڈ دستیاب ہو تو وہ اندرون سندھ کے ہر ضلعے میں پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں۔ اب اگر آپ صوبوں کی تقسیم کا مجوزہ منصوبہ دیکھیں تو سندھ کو پانچ انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کا منصوبہ ہے ۔ نمبر ون کراچی ،نمبر ٹو حیدرآباد،نمبر تھری میر پور خاص، نمبر فور سکھر اور نمبر فائیو لاڑکانہ ۔۔مجوزہ پلان کے تحت اگر کراچی اور حیدرآباد دونوں الگ الگ انتظامی یونٹس بن جائیں تو پیپلزپارٹی وہاں ایم کیوایم پاکستان اور پی ٹی آئی کا مقابلہ کیسے کرے گی ۔؟؟؟اسی طرح میرپورخاص میں مسلم لیگ فنکشنل کی جڑیں انتہائی مضبوط ہیں۔وہ مسلم لیگ ن ،ایم کیوایم پاکستان اور پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر وہاں پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دے سکتی ہے ۔ رہ گئے لاڑکانہ اور سکھر۔۔ تو ان دونوں انتظامی یونٹس میں پی ٹی آئی ، جے یوآئی ف،ایم کیوایم پاکستان، قوم پرست جماعتوں کا ایک وسیع ووٹ بینک موجود ہے ۔ اگر یہ ساری جماعتیں سکھر اور لاڑکانہ کے انتظامی یونٹس میں اپنی حکومت نہ بنا سکیں تو بھی وہاں ایک مضبوط اپوزیشن بن کر ابھر سکتی ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو پیپلزپارٹی کا یہ بیانیہ ختم جائے گا کہ وہ سندھ دھرتی کی اصل وارث ہے ۔ یہ تاثربھی مٹ جائے گا کہ سندھ میں سیاہ وسفید کی مالک پیپلزپارٹی ہے ۔ نئے انتظامی یونٹس کی بدولت پیپلزپارٹی کا یہ راج سنگھاسن گرنے والا ہے ۔ بلاول بھٹو زرداری کو جس ووٹ بینک کا زعم تھا۔ وہ ووٹ بینک اب تقسیم ہونے والا ہے ۔ اور یہ تقسیم کسی سیاسی انجیئرنگ کی بدولت نہیں ہوگی بلکہ پیور آرگینک ہوگی ۔آپ سندھ کے ووٹر کو دوش نہیں دے سکتے ۔ اصل میں پچھلے کئی برسوں سے انکے پاس پیپلزپارٹی کے سوا کوئی دوسرا آپشن ہی نہیں تھا۔ وہ مجبوری میں تیر پر ٹھپے لگاتے رہے ۔ کل کلاں جب ہر یونین کونسل میں پیپلزپارٹی کے مخالف ٹکر کا امیداوار کھڑا ہوگا۔ ووٹرز کوایک دوسری چوائس دستیاب ہو گی ۔ وہ فیصلہ کرنے میں آزاد ہوگا۔ میں آپ کو گارنٹی دینے کو تیار ہوں۔ آپ سندھ میں سیاسی جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کریں۔پولنگ سٹیشنز کو خوف اور دبائو سے آزاد کر دیں۔ پوری دنیا کو پتا چل جائے گا کہ پیپلزپارٹی سندھ کے عوام میں کتنی مقبول ہے ۔ بلاول بھٹو کی ناراضی اور خاموشی کی اصل وجہ بھی یہی ہے کہ ان کی مقبولیت کا راز کھلنے والا ہے ۔ پندرہ بیس سال کی محنت سے انہوں نے جو بیانیہ بنایا تھا۔ اس بیانیئے کی قلعی اب کھلنے والی ہے ۔ سندھ اب صرف پیپلزپارٹی کی ملکیت نہیں رہے گا۔ بلکہ اس کے مالک سندھی ہونگے ،مہاجر ہونگے ،مسلم لیگ فنکشنل،مسلم لیگ ن ، پی ٹی آئی اور جے یوآئی ف سب اقتدار

سابق وفاقی وزیر و سینیئر مسلم لیگی مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق نے عمران خان کا سپریم کورٹ کی طرف سے الشفاء ہسپتال علاج کرانے کے فیصلے کو خوش ائین قرار دے دیا اس سے عدلیہ کا اعتماد بحال ہوگا خواجہ سعد رفیق

حیدر سلطان سلطان راہی کا نالائق بچہ طاھر سرور۔طاھر سرور اوقات میں رھو ورنہ کسی کو منہ نھی دکھا پاو گئے۔۔۔۔چاغی میں مسلح افراد کے حملے میں تین فوجی اہلکار شہیـد۔۔نورین نیازی کی عمران خان کے ساتھ ملاقات مُکمل ! صورت حال تبدیل !۔۔عمران خان ہسپتال اور ن۔لیگ ICU منتقل۔۔نواز حکومت کا دوسرے روز بھی پٹرول بم دھماکہ۔۔حکومت اور ائل مافیا کا گٹھ جوڑ جاری۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی

ڈاکٹر فیصل اور انکی بھن ڈاکٹر عظمہ ساتھ ھونگی عمران خان ھسپتال کا خرچہ برداشت کرینگے بہن کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو وقت بدلے گا فورسز کے جوان سخت اور مسلسل تربیت کے مراحل سے گزرتے ہیں تاکہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید نکھاریں، جسمانی و ذہنی طور پر ہر چیلنج کے لیے تیار رہیں اور ہر مشن کو کامیابی سے انجام دے سکیں۔ یہی جذبہ اور قربانی پاکستان کے امن، سلامتی اور استحکام کی مضبوط ضمانت ہے۔کاپیجنرل عاصم ملک

موجودہ حکومت عوام کا خون کا آخری قطرہ نچوڑنے پر تل گئی۔150 روپے پٹرول پر مھنگای ھاے مھنگای کے نعرے لگائے والے بے شرمی کی تمام حدود کراس کر گئے۔۔عطا تارڑ نے معافی مانگ لی۔حکومت کا عوام پر پٹرول کا دھماکہ 24 کروڑ عوام جھلس گئے۔پٹرول کی قیمتوں میں 5 روپے سے زائد کا اضافہ مافیا جیت گیا عوام ھار گئی۔۔ ائل مافیا کو حکومت کی طرف سے نوازنے کا سلسلہ جاری۔ جماعت اسلامی کے جاری احتجاج کی طاقت۔۔حکومت نے پٹرول 5 روپے اور ڈیزل 6 روپے مزید مہنگا کردی۔۔ ۔دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات میں کمی پاکستان میں مافیا کا گٹھ جوڑ۔انھڑ نکاح کیس نیا موڑ۔۔عمران خان کی زندگی خطرے میں۔پاکستان نے بھارتی وزیر داخلہ کے دعوے کو مسترد کر دیا۔ایران کے معاملے پر رکاوٹ بننے کی صورت میں عمان پر بمباری کریں گے: ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی۔۔عمان پر بمباری کریں گے: ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی۔۔۔ایران کے معاملے پر رکاوٹ بننے کی صورت میں۔۔بڑی شخصیات کے خلاف گھیرا تنگ خفیہ ادارے کو بدنام کرنے والے شکنجے میں۔امریکی افواج نے اب تک ایران کی بحری ناکہ بندی کے دوران 64 تجارتی جہازوں کا رُخ موڑ دیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ۔۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی سحر کامران سے ملاقاتعطاء اللہ تارڑ نے سحر کامران سے قائمہ کمیٹی واقعے پر معذرت کرلیعطاء اللہ تارڑ اور سحر کامران کے درمیان معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہوگیاقومی اسمبلی اجلاس سے قبل عطاء اللہ تارڑ نے سحر کامران سے معذرت کیقائمہ کمیٹی میں تلخ جملوں کا تبادلہ، معاملہ معذرت کے بعد ختمشازیہ مری، قادر پٹیل، سائرہ افضل تارڑ اور شرمیلا فاروقی بھی موقع پر موجودعطاء اللہ تارڑ اور سحر کامران نے پارلیمانی روایات اور باہمی احترام کو مقدم رکھاقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا تنازع خوش اسلوبی سے اختتام پذیر ہوگیا

قاہرہ اور ریاض کا واضح پیغام: افواہوں کے بجائے اسٹریٹجک شراکت داریمصر اور سعودی عرب کے درمیان مبینہ بڑھتے ہوئے اختلافات کے بارے میں بعض میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پر جاری قیاس آرائیوں کے درمیان دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والا تازہ رابطہ ایک مختلف اور اہم سفارتی پیغام سامنے لاتا ہے۔مصر کے وزیر خارجہ و بین الاقوامی تعاون و امورِ مصریین بالخارج ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان بدھ کو ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں وزراء نے مصر اور سعودی عرب کے درمیان گہرے، خصوصی، برادرانہ اور اسٹریٹجک تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔ سب سے اہم سیاسی پیغام کیا ہے؟اس رابطے کا سب سے نمایاں پہلو محض یہ نہیں کہ دونوں وزراء نے تعلقات کو مضبوط قرار دیا، بلکہ یہ ہے کہ دونوں جانب سے واضح طور پر کہا گیا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر دونوں ممالک کے تعلقات کے بارے میں شائع یا نشر ہونے والی قیاس آرائیوں کو اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ یہ سفارتی زبان عام طور پر اس وقت استعمال ہوتی ہے جب دو ریاستیں کسی ایسے تاثر کو براہِ راست رد کرنا چاہتی ہوں جو ان کے باہمی تعلقات کے بارے میں پیدا ہو رہا ہو۔اس لیے موجودہ بیان کو محض ایک رسمی سفارتی رابطہ قرار دینا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ قاہرہ اور ریاض بیک وقت یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اختلافِ رائے یا مختلف پالیسی ترجیحات کو دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی اسٹریٹجک شراکت داری کے خاتمے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے

۔اعلیٰ سطحی رابطے کی تیاریدونوں ممالک نے باہمی تعاون کے مختلف شعبوں میں پیش رفت جاری رکھنے اور اعلیٰ سطحی رابطہ و تعاون کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو فعال بنانے پر بھی زور دیا۔ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ تعلقات کو شخصیات یا وقتی علاقائی بحرانوں تک محدود رکھنے کے بجائے ایک مستقل اسٹریٹجک فریم ورک میں آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔علاقائی سلامتی: مصر اور سعودی عرب کا مشترکہ مؤقفبات چیت میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں، سلامتی کے خدشات، ریاستی خودمختاری کے احترام، کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت سے گریز اور تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ یہ نقطہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ موجودہ مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی، بحری راستوں، علاقائی طاقت کے توازن اور مختلف تنازعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔مصر، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان: نیا علاقائی فارمیٹاس معاملے کا ایک اہم پہلو مصر، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے چار ملکی رابطہ فارمیٹ کا بھی ہے۔یہ فارمیٹ محض ایک نئی سیاسی اصطلاح نہیں۔ چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ جون 2026 میں قاہرہ میں چوتھے مشاورتی اجلاس میں بھی شریک ہوئے تھے، جہاں علاقائی اور عالمی صورتحال، امن، سلامتی، استحکام اور علاقائی تعاون پر مشاورت ہوئی۔ اس سے قبل سعودی وزیر خارجہ نے بھی مصر، ترکیہ اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مشترکہ علاقائی مشاورت میں شرکت کی تھی۔ لہٰذا موجودہ مصری سعودی رابطے میں اس چار ملکی میکانزم کو اہمیت دینا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ریاض اور قاہرہ علاقائی بحرانوں کے حل میں وسیع تر سفارتی شراکت داری کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔سیاسی تجزیہ: اصل پیغام کیا ہے؟میری رائے میں اس پیش رفت کے تین بڑے سیاسی مضمرات ہیں:اول: مصر اور سعودی عرب دونوں یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان کے درمیان موجود کسی بھی پالیسی اختلاف کو اسٹریٹجک دشمنی یا باہمی تعلقات میں بنیادی دراڑ کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔دوم: ریاض اور قاہرہ خطے میں تیزی سے بدلتے ہوئے اتحادوں اور سکیورٹی انتظامات کے باوجود اپنے باہمی تعلقات کو کمزور نہیں کرنا چاہتے۔ سعودی عرب کے پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی و سکیورٹی تعاون میں اضافے کے باوجود مصر کے ساتھ اسٹریٹجک رابطہ برقرار رکھنا اسی وسیع تر علاقائی توازن کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔سوم: چار ملکی فارمیٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب، مصر، ترکیہ اور پاکستان ممکنہ طور پر علاقائی کشیدگی کم کرنے، سفارتی رابطوں اور سکیورٹی تعاون کے لیے ایک زیادہ منظم سیاسی پلیٹ فارم کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں

۔معاشی پہلو بھی اہموزرائے خارجہ نے اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی دوروں میں اضافے پر بھی زور دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مصر سعودی تعلقات صرف سیاسی و سلامتی کے معاملات تک محدود نہیں بلکہ سرمایہ کاری، تجارت اور اقتصادی شراکت داری بھی اس تعلق کا بنیادی ستون ہیں۔حتمی خلاصہقاہرہ اور ریاض کا آج کا سفارتی پیغام واضح ہے:سوشل میڈیا کی قیاس آرائیاں اپنی جگہ، لیکن مصر اور سعودی عرب اپنے تعلقات کو برادرانہ، خصوصی اور اسٹریٹجک شراکت داری کے طور پر آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔موجودہ علاقائی صورتحال میں دونوں ممالک شاید ہر معاملے پر یکساں مؤقف نہ رکھتے ہوں، لیکن تازہ سرکاری رابطہ یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ اختلافِ رائے کو باہمی اسٹریٹجک تعلقات سے الگ رکھا جا رہا ہے۔اسی لیے اس پیش رفت کو مصر سعودی تعلقات میں کسی بڑے تصادم کے اعلان کے بجائے، افواہوں کے مقابلے میں سرکاری سفارتی وضاحت اور علاقائی بحران کے دوران اسٹریٹجک رابطہ کاری کے تسلسل کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ ممکنہ اخباری سرخی”قاہرہ اور ریاض کا افواہوں کو جواب: مصر اور سعودی عرب نے اسٹریٹجک شراکت داری پر اعتماد کا اعادہ کر دیا”ذیلی سرخی:**وزرائے خارجہ کا رابطہ، دوطرفہ تعاون بڑھانے اور علاقائی کشیدگی کم کرنے پر اتفاق؛ مصر، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے چار ملکی رابطہ فارمیٹ کو مزید فعال بنانے پر بھی پیش رفت۔**

ماسکو پر یوکرین کا ہولناک ڈرون حملہ۔یوکرین نے ماسکو اور اسکے گردونواح پر تقریباً 600 ڈرونز سے بڑا حملہ کیا۔ ماسکو کے علاقے میں روسی فضائی دفاع نے 201 ڈرونز مار گرائے، جبکہ روسی وزارتِ دفاع کے مطابق ملک بھر میں مجموعی طور پر 822 یوکرینی ڈرونز تباہ کیے گئے۔۔یہ حملہ یوکرین کی جانب سےماسکو کےخلاف شدید ترین حملہ قرار دیاجا رہا ہے۔۔