دوسروں کے بچوں کو مدرسے کی چٹائی پر بٹھا کر جنت کا لالی پاپ دینے والے، اپنے بچوں کو لندن اور آکسفورڈ کا راستہ دکھاتے ہیں… اندھی عقیدت نے عوام کی آنکھوں پر ایسی پٹی باندھ دی ہے کہ انہیں اپنے بچوں کا اندھیرا اور دوسروں کا روشن مستقبل نظر ہی نہیں آتا…جہالت کی اس سے بڑی انتہا اور کیا ہوگی کہ دوسروں کے بچوں کو زہد و فاقہ کشی کا درس اور اپنے بچوں کو مغربی عیاشی اور تعلیم.. یہ دین کی خدمت نہیں غریب کی جہالت کا ننگا سودا ہے جب تک قوم خود عقل اور شعور کو بیدار نہیں کرے گی… تب تک یوں ہی مذہبی اور سیاسی ٹھیکیداروں کا ایندھن بنتی رہے گی..
“کسی بھی مہذب معاشرے میں لاقانونیت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اگر کوئی مطالبہ ہے، اگر کوئی معاملات ہیں، ان کو میز پر بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔ جن لوگوں نے جان بوجھ کر معاملات کو خراب کیا، وہ اغیار کے اشاروں پر یہ کام کر رہے تھے، جس کے واضح ثبوت ہیں۔الیکشن سے پہلے مظفرآباد میں ہم نے آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کروایا، جس میں تمام پارٹیز شریک ہوئیں، ماسوائے ایک پارٹی کے۔ وہاں پر بڑی بھرپور گفتگو ہوئی، خرابی کرنے یا انارکی پھیلانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔”وزیراعظم محمد شہباز شریف کی کابینہ اجلاس سے گفتگو
مظفرآباد ڈویژن: راجہ فاروق حیدر، مصطفیٰ بشیر، مختار احمد خان، باذل نقوی، دیوان چغتائی ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب◾ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے سلسلے میں مظفرآباد کے مختلف حلقوں کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اہم نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے◾ حلقہ ایل اے-32 مظفرآباد 6 میں مسلم لیگ (ن) کے راجہ فاروق حیدر 17,387 ووٹ لے کر آگے رہے جبکہ پیپلز پارٹی کے اشفاق ظفر 13,494 ووٹ حاصل کر سکے◾ حلقہ ایل اے-30 مظفرآباد 4 میں مسلم لیگ (ن) کے مصطفیٰ بشیر 17,749 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے، جبکہ پیپلز پارٹی کے مبشر منیر 11,987 ووٹ حاصل کر سکے◾ حلقہ ایل اے-29 مظفرآباد 3 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مختار عباسی 19,791 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے افتخار گیلانی 16,730 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے◾ حلقہ ایل اے-28 مظفرآباد 2 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بازل نقوی 18,750ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے چوہدری شہزاد 16,960 ووٹ حاصل کر سکے◾ حلقہ ایل اے-33 میں دیوان علی خان چغتائی 19,521 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے، جبکہ چوہدری محمد رشید 15,591 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے تاہم حلقہ لچھراٹ میں ابھی 54 پولنگ سٹیشن پر پولنگ نہیں ہوسکی لیکن نتائج کو دیکھتے ہوئے یہی امکان ہے باذل نقوی بقیہ پولنگ سٹیشن میں بھی اکثریت حاصل کر سکتے ہیں
کہتے ہیں ایک تصویر ایک ہزار الفاظ پر بھاری ہوتی ہے لاہور میں اہم ٹراییکا 🔺 ایک صفحے پر خبر ہے کہ صرف اس ایک لمحے کے لئے مستقل گورنر عارضی رخصت پر گئے۔میرے خواب میں آیا کہ اس فریم میں صدر۔وزیراعظم اور وزیراعلی ہیںہن پیکا نہ لا دینا۔۔🙏🏻۔خواب ہے یار ۔۔۔۔🫣حالانکہ ایسا کچھ نہیں 🎁
وزارتِ عظمیٰ کی مبارک باد؟ شاہ غلام قادر بھی ڈر گئے!“چوہدری یاسین کے ساتھ جو ہونا تھا، ہو گیا، اب دیکھتے ہیں میرے ساتھ کیا ہوتا ہے۔وہ بھی پارٹی صدر اور مہاجر ہیں، میں بھی پارٹی صدر اور مہاجر ہوں۔اس لیے ابھی وزارتِ عظمیٰ کی مبارک باد لینے سے ڈر رہا ہوں۔”— شاہ غلام قادر، صدر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر
*ایران نے مبینہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدت ختم ہونے تک امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے*مارکیٹیں کسی بھی مزید پیش رفت کے لیے انتہائی حساس رہ سکتی ہیں، خاص طور پر سونا، تیل اور امریکی ڈالر۔چوکنا رہیں۔ اتار چڑھاؤ تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔
، 10 اگست 2026وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اجلاس کے آغاز میں کابینہ نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ان کی مدبرانہ اور دور اندیش قیادت، پاکستان کا عالمی تشخص بلند کرنے اور ملک کے قومی مفادات کے مؤثر دفاع پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔ کابینہ ارکان نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کو بھی اہم سفارتی و دفاعی پیش رفت قرار دیا۔ قرارداد نے اس معاہدے کو امت مسلمہ کے مابین اتحاد و اتفاق کو مزید تقویت دینے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔کابینہ نے نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026ء اور اس پر عملدرآمد کےلئے ایکشن پلان کی منظوری دے دی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ نیشنل ہاؤسنگ پالیسی قومی و بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ورکنگ گروپ نے تیار کی، جبکہ اس کی تیاری کے دوران وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور ترقیاتی شراکت داروں سے بھی مشاورت کی گئی۔کابینہ کو بتایا گیا کہ پالیسی کا بنیادی مقصد تمام شہریوں کے لیے پائیدار، محفوظ اور معیاری رہائش کی فراہمی ہے۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ ہاؤسنگ منصوبوں میں زوننگ قوانین کی مکمل پابندی یقینی بنائی جائے اور زمین کے مؤثر استعمال کے لیے عمودی رہائش (Vertical Housing) کو ترجیح دی جائے۔ ساتھ ہی کابینہ نے ہدایت کی کہ انرجی ایفیشنسی کوڈز کو بھی نیشنل ہاؤسنگ پالیسی کا لازمی حصہ بنایا جائے تاکہ نئی تعمیرات توانائی کے مؤثر اور ماحول دوست تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔کابینہ کو وزیراعظم کے ’اپنا گھر‘ اسکیم کے تحت پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ اپنے گھر کے خواہشمند درخواست گزاروں کو مختلف بینکوں کی جانب سے 220 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو 32 ارب روپے سے زائد کی رقوم بھی جاری کی جا چکی ہیں۔کابینہ نے بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے پیش کی گئی سمری پر پاکستان اور سویڈن کے درمیان 1981ء میں طے پانے والے دو طرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے کے خاتمے کا نوٹس واپس لینے کی منظوری دے دی۔وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے کابینہ کو پاکستان انفارمیشن سکیورٹی فریم ورک 2026ء (PISF 2026) کا مسودہ پیش کیا گیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ یہ فریم ورک CERT Rules 2023ء کے تحت تیار کیا گیا ہے،
جس کا مقصد انفارمیشن سکیورٹی کے بنیادی یکساں معیارات کا ایک جامع اور متحد نظام وضع کرنا اور مرکزی نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔ کابینہ نے پاکستان انفارمیشن سکیورٹی فریم ورک 2026ء کی منظوری دیتے ہوئے اسے سائبر سکیورٹی کے لیے ایک اہم راہنما دستاویز قرار دیا اور ہدایت کی کہ اس پر مقررہ مدت کے اندر مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔وفاقی کابینہ نے 28 جولائی کو منعقدہ کابینہ کمیٹی برائے توانائی (CCoE) کے اجلاس میں لئے گئے فیصلے کی بھی توثیق کی۔ اس فیصلے کے تحت پاکستان آئل ریفایننگ پالیسی 2023 میں مجوزہ ترامیم کی توثیق کی گئی جن کے مطابق آئل ریفائنریز کی اپگریڈیشن کی جائے گی تاکہ ملکی توانائی کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کیا جا سکے۔کابینہ نے 27 جولائی اور 4 اگست کو منعقدہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کے اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔اجلاس میں کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی (CCLC) کے 24 جولائی کو منعقدہ اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
آزاد کشمیر انتخابات : بُرج الٹ گئے ۔ سابق اور موجودہ وزرائے اعظم کی تاریخی ناکامی کے آثار ۔۔۔اسلام آباد ( Epna )آزاد جموں و کشمیر کے انتخابی معرکے کے آخری و تیسرے مرحلے میں غیر متوقع اور حیران کن سیاسی الٹ پھیر دیکھنے میں آیا ہے، جہاں عوام کے ناتجربہ کار اور نئے چہروں نے روایت پسند سیاست کے برج الٹ دیے ہیں۔ پونچھ ڈویژن کے چاروں اہم انتخابی معرکوں میں نگران و موجودہ وزیراعظم سمیت خطے کی تین سابق اہم ترین شخصیات کو بدترین سیاسی شکست کا سامنا ہے۔ اس غیر معمولی تبدیلی کے نتیجے میں کئی دہائیوں سے چلی آرہی خاندانی اور روایتی سیاست کا سورج غروب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔غربی باغ (ایل اے 14): چار دہائیوں کی سیاسی اجارہ داری کا خاتمہانتخابی نتائج کا سب سے بڑا سیاسی زلزلہ حلقہ ایل اے 14 غربی باغ (دھیرکوٹ) میں محسوس کیا گیا۔ مسلم کانفرنس کے سربراہ اور سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کو اپنے سیاسی کیریئر میں پہلی بار ایک غیر معروف اور نووارد امیدوار کے ہاتھوں عبرتناک ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ‘عوامی دست و بازو’ کے بانی اور پہلی مرتبہ انتخابی میدان میں اترنے والے ساجد اقبال عباسی نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے مسلم کانفرنس کے چار دہائیوں سے قائم قلعے کو زمین بوس کر دیا۔ 214 میں سے 182 پولنگ اسٹیشنز سے موصولہ غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ساجد عباسی نے 34,692 ووٹ حاصل کر کے میدان مار لیا، جبکہ سردار عتیق احمد خان محض 16,443 ووٹ سمیٹ کر دوسرے نمبر پر رہے۔ اس تاریخی اپ سیٹ نے آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کو تاریخ میں پہلی بار ایوان کی نمائندگی سے محروم کر دیا ہے۔وسطی باغ (ایل اے 15): تنویر الیاس اور مشتاق منہاس کو ہزیمتحلقہ ایل اے 15 وسطی باغ میں بھی سیاسی منظر نامہ مکمل طور پر بدل گیا۔ استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے مرکزی رہنما و سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر ترین رہنما مشتاق احمد منہاس کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدائی و غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار ضیاء القمر نے میدان مار لیا۔ اس مقابلے میں (ن) لیگ کے مشتاق منہاس دوسرے، بریگیڈیئر (ر) محمد خان تیسرے جبکہ سابق وزیراعظم تنویر الیاس چوتھے نمبر پر چلے گئے۔شرقی باغ اور حویلی: ن لیگ کی پیش قدمی، موجودہ وزیراعظم پیچھے شرقی باغ (ایل اے 16): اس حلقے کے ابتدائی نتائج میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سردار میر اکبر خان کو اپنے حریف پیپلز پارٹی کے سردار قمر الزمان پر نمایاں برتری حاصل ہے۔
حویلی فارورڈ کہوٹہ (ایل اے 17): اس اہم ترین سرحدی حلقے میں آزاد کشمیر کے موجودہ وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے امیدوار فیصل ممتاز راٹھور بھی شکست کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ 190 میں سے 70 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے چوہدری محسن عزیز 16,500 ووٹ لے کر سرفہرست ہیں، جبکہ وزیراعظم فیصل راٹھور 11,050 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔مجموعی تاثر : پونچھ ڈویژن کے ان نتائج سے قبل پہلے اور دوسرے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) نے واضح برتری قائم کی ہوئی ہے: پہلا مرحلہ (میرپور ڈویژن): کل 13 نشستوں میں سے مسلم لیگ (ن) نے 9 اور پیپلز پارٹی نے 4 نشستیں حاصل کیں۔ دوسرا مرحلہ (مظفر آباد ڈویژن و مہاجرین): کل 21 نشستوں (مظفر آباد 9، مہاجرین 12) میں سے مسلم لیگ (ن) 15 اور پیپلز پارٹی 6 نشستوں پر کامیاب ہوئی۔پونچھ ڈویژن کا تیسرا مرحلہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں اس لحاظ سے یادگار بن گیا ہے کہ اس نے روایتی بیانیے اور طاقتور خاندانی سیاست کو مکمل طور پر رد کر دیا ہے۔
🚨🇸🇦🇹🇷🇵🇰🇪🇬 معاہدۂ مکہ میں مصر کی ممکنہ شمولیت: کیا مشرقِ وسطیٰ میں نئے دفاعی نظام کی بنیاد رکھ دی گئی؟قاہرہ، انقرہ، ریاض، اسلام آباد —مشرقِ وسطیٰ کے بدلتے ہوئے تزویراتی منظرنامے میں ایک نئی اور غیر معمولی پیش رفت نے خطے کی طاقت کے توازن پر بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان حالیہ معاہدۂ مکہ برائے مشترکہ دفاع کے بعد اب مصر کی ممکنہ شمولیت نے اس ابھرتے ہوئے دفاعی ڈھانچے کو تین ملکی انتظام سے ایک ممکنہ وسیع علاقائی سیکیورٹی فریم ورک میں تبدیل کرنے کا سوال پیدا کر دیا ہے۔ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے مطابق معاہدے کو مستقبل میں دیگر ممالک کے لیے بھی کھولا جا سکتا ہے اور مصر ان ممکنہ ممالک میں شامل ہے۔ فیدان نے اشارہ دیا کہ قاہرہ کی شمولیت بعض تکنیکی معاملات کے حل کے بعد ممکن ہو سکتی ہے۔یہ بیان معمولی سفارتی اشارہ نہیں۔اگر مصر واقعی اس ڈھانچے میں شامل ہوتا ہے تو سعودی عرب، ترکیہ، پاکستان اور مصر پر مشتمل ایک ایسا طاقتور دفاعی محور تشکیل پا سکتا ہے جو خلیج، بحیرۂ احمر، مشرقی بحیرۂ روم اور جنوبی ایشیا تک پھیلے ہوئے سیکیورٹی مفادات کو ایک دوسرے کے قریب لے آئے گا۔—⚠️ معاہدۂ مکہ آخر ہے کیا؟7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ اس کا مرکزی اصول یہ ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک کے خلاف مسلح حملے کو مشترکہ سلامتی کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اس اصول کو NATO کے آرٹیکل 5 سے تکنیکی طور پر مشابہ قرار دیا، تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ معاہدہ قانونی طور پر NATO کے آرٹیکل 5 کی مکمل نقل ہے۔ اہم فرق یہ ہے کہ کسی حملے کی صورت میں اتحادی ردِعمل کی نوعیت اور دائرہ کار مشاورت کے ذریعے طے کیا جائے گا۔اسی لیے اسے ’’اسلامی NATO‘‘ کہنا فی الحال ایک سیاسی و تجزیاتی تعبیر ہے، باقاعدہ سرکاری نام نہیں۔لیکن اس کے باوجود اس معاہدے کا تزویراتی پیغام غیر معمولی طور پر واضح ہے:ریاض، انقرہ اور اسلام آباد اپنی دفاعی صلاحیتوں، سیاسی اثرورسوخ اور باہمی تعاون کو ایک مشترکہ deterrence framework میں جوڑنا چاہتے ہیں۔—🇪🇬 سب کی نظریں اب قاہرہ پر کیوں ہیں؟مصر اس ممکنہ اتحاد کی سب سے اہم کڑی بن سکتا ہے۔وجہ صرف اس کی فوجی طاقت نہیں، بلکہ اس کا جغرافیائی محلِ وقوع ہے۔مصر بحیرۂ احمر، نہرِ سویز، مشرقی بحیرۂ روم اور عرب دنیا کے درمیان ایک مرکزی جغرافیائی پل کی حیثیت رکھتا ہے۔اگر قاہرہ اس دفاعی فریم ورک میں شامل ہوتا ہے تو ممکنہ اتحاد کی جغرافیائی اہمیت اچانک کئی گنا بڑھ جائے گی۔ایک طرف:🇸🇦 سعودی عرب — خلیجی جغرافیہ، مالیاتی قوت، توانائی اور عرب دنیا میں سیاسی وزن۔دوسری طرف:🇹🇷 ترکیہ — دفاعی صنعت، ڈرون ٹیکنالوجی، بحری و فضائی صلاحیت اور NATO کا تجربہ۔تیسری طرف:🇵🇰 پاکستان — ایک بڑی پیشہ ور فوج، وسیع دفاعی تجربہ، میزائل صلاحیت اور جوہری deterrence رکھنے والی ریاست۔اور چوتھی ممکنہ طاقت:🇪🇬 مصر — عرب دنیا کی بڑی عسکری طاقتوں میں سے ایک، نہرِ سویز اور بحیرۂ احمر کے اہم جغرافیائی راستوں پر اثرورسوخ اور مشرقی بحیرۂ روم میں اہم اسٹریٹجک حیثیت۔یہ چاروں ایک ہی دفاعی فریم ورک میں آ گئے تو اس کے اثرات صرف خلیج تک محدود نہیں رہیں گے۔بحیرۂ احمر سے خلیج، مشرقی بحیرۂ روم سے جنوبی ایشیا تک ایک نیا سیکیورٹی arc تشکیل پا سکتا ہے۔—🔥 مگر مصر کے لیے اصل فیصلہ اتنا آسان نہیںیہاں جذبات سے زیادہ قومی مفاد فیصلہ کرے گا۔مصر کے لیے سوال صرف یہ نہیں کہ اس اتحاد میں شامل ہونا فائدہ مند ہے یا نہیں۔اصل سوال یہ ہوگا:کیا قاہرہ کسی ایسے اجتماعی دفاعی نظام میں شامل ہونا چاہے گا جو مستقبل میں اسے ایسے تنازعات کے بارے میں بھی موقف اختیار کرنے پر مجبور کر سکتا ہے جنہیں وہ اپنے براہِ راست قومی مفاد سے الگ سمجھتا ہو؟مصر کی روایتی خارجہ پالیسی میں اسٹریٹجک خودمختاری، متعدد شراکت داروں کے ساتھ تعلقات اور جنگ و امن کے فیصلوں میں قومی اختیار برقرار رکھنے کی اہمیت رہی ہے۔اسی لیے مکمل اور فوری رکنیت کے بجائے مرحلہ وار تعاون، مشترکہ مشقیں، انٹیلی جنس تعاون، بحری سلامتی، دفاعی صنعت اور دیگر عملی شعبوں میں شراکت زیادہ قابلِ غور راستہ ہو سکتا ہے۔یعنی مصر کا دروازہ بند نہیں، لیکن قاہرہ شاید ایک ہی چھلانگ میں اندر داخل بھی نہ ہو۔—🌊 بحیرۂ احمر: اصل میدانِ آزمائش؟اس پورے منصوبے کا ایک انتہائی اہم پہلو بحری سلامتی ہے۔بحیرۂ احمر، باب المندب اور نہرِ سویز عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم راستے ہیں۔ حوثی حملوں اور خطے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خطرات نے اس سمندری گزرگاہ کی حساسیت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔فیدان نے بھی دفاعی تعاون کے ساتھ بحری سلامتی اور اہم سمندری راستوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔یہاں مصر کی ممکنہ شمولیت خاص اہمیت اختیار کرتی ہے۔کیونکہ اگر سعودی عرب، ترکیہ، پاکستان اور مصر بحری سلامتی کے میدان میں مربوط تعاون قائم کرتے ہیں تو یہ صرف ایک دفاعی معاہدہ نہیں رہے گا۔یہ بحیرۂ احمر کی سیکیورٹی architecture کو نئی شکل دینے کی کوشش بن سکتا ہے۔
—🚨 اور پھر آیا جازان کا حملہمعاہدۂ مکہ کے فوراً بعد سعودی عرب کے جازان میں آرامکو کی تنصیب کے حوالے سے ایک نیا سیکیورٹی واقعہ سامنے آیا۔حوثی گروہ نے ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کی، جبکہ سعودی حکام نے تنصیب میں آگ لگنے اور اسے بجھانے کی تصدیق کی اور جانی نقصان نہ ہونے کی اطلاع دی۔یہاں ایک اہم صحافتی احتیاط ضروری ہے:حوثیوں کا دعویٰ اپنی جگہ ہے، جبکہ حملے کی مکمل ذمہ داری اور تمام تفصیلات کے بارے میں سرکاری تصدیق کو الگ رکھا جانا چاہیے۔لیکن سیاسی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے۔کیونکہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا جب معاہدۂ مکہ کے بنیادی تصور کا ابھی پہلا ہی مرحلہ شروع ہوا ہے۔—⚔️ یہی معاہدۂ مکہ کا پہلا حقیقی امتحان کیوں بن سکتا ہے؟کسی بھی دفاعی اتحاد کی اصل طاقت اس کے دستخط میں نہیں ہوتی۔اصل طاقت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب ایک رکن حقیقی خطرے سے دوچار ہو۔اگر سعودی عرب کو مسلسل ایسے حملوں کا سامنا رہتا ہے تو دنیا یہ دیکھے گی کہ:کیا ترکیہ اور پاکستان صرف سیاسی حمایت کریں گے؟کیا مشترکہ مشاورت کا نظام فعال ہوگا؟کیا انٹیلی جنس اور دفاعی تعاون بڑھایا جائے گا؟کیا فضائی و میزائل دفاع میں تعاون ہوگا؟یا پھر معاہدہ محض ایک مضبوط سفارتی اعلان ثابت ہوگا؟ابھی یہ کہنا کہ ترکیہ یا پاکستان لازماً حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کریں گے، قبل از وقت اور غیرمصدقہ ہوگا۔معاہدہ کسی خودکار ’’جنگی اعلان‘‘ کے مترادف نہیں۔لیکن یہ ضرور ہے کہ جازان جیسے واقعات اس نئے اتحاد کی deterrence credibility کو فوری طور پر جانچنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔—🇪🇬 اگر مصر شامل ہوگیا تو کیا بدلے گا؟یہاں اصل ’’زلزلہ‘‘ شروع ہوگا۔سعودی عرب + ترکیہ + پاکستان + مصریہ محض چار ممالک کا مجموعہ نہیں ہوگا۔یہ چار مختلف طاقتوں کے امتزاج کی صورت اختیار کر سکتا ہے:سعودی مالی و سیاسی وزن+ترکیہ کی دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی+پاکستان کی عسکری اور جوہری deterrence صلاحیت+مصر کی عرب، افریقی اور بحیرۂ احمر کی جغرافیائی و عسکری اہمیتیہ امتزاج مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے موجودہ توازن کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔لیکن اسے فوراً ’’دنیا کا سب سے بڑا‘‘ یا ’’ناقابلِ شکست‘‘ اتحاد قرار دینا بھی تجزیاتی طور پر درست نہیں ہوگا۔اتحاد کی حقیقی طاقت صرف فوجیوں، ہتھیاروں یا جغرافیے سے نہیں بنتی۔اصل طاقت مشترکہ کمان، انٹیلی جنس انضمام، interoperability، سیاسی عزم، لاجسٹکس، دفاعی صنعت اور بحران کے وقت مشترکہ فیصلے کرنے کی صلاحیت سے پیدا ہوتی ہے۔—🇺🇸 کیا اس سے امریکی سیکیورٹی چھتری ختم ہو جائے گی؟یہ دعویٰ بھی فی الحال بہت جلد ہوگا۔سعودی عرب، ترکیہ اور مصر سمیت خطے کی بڑی ریاستیں ایک ہی وقت میں متعدد عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتی ہیں۔لہٰذا معاہدۂ مکہ کو فوری طور پر ’’امریکہ کے متبادل‘‘ کے طور پر دیکھنا درست نہیں۔زیادہ درست تعبیر یہ ہے کہ یہ علاقائی strategic autonomy بڑھانے کی کوشش ہو سکتی ہے۔یعنی:خطے کی ریاستیں اپنی دفاعی صلاحیت کو زیادہ خودمختار، باہم مربوط اور کثیرالجہتی بنانا چاہتی ہیں۔یہ امریکہ سے مکمل علیحدگی نہیں، بلکہ انحصار کم کرنے کی سمت ایک ممکنہ قدم ہو سکتا ہے۔—🎯 مصر کے سامنے تین ممکنہ راستے1️⃣ مکمل رکنیتقاہرہ معاہدے کا باقاعدہ رکن بن جائے اور اجتماعی دفاعی میکانزم کا حصہ بنے۔فائدہ: زیادہ مضبوط علاقائی deterrence۔خطرہ: مستقبل کے تنازعات میں خودکار یا نیم خودکار سیاسی دباؤ۔2️⃣ محدود یا مرحلہ وار شراکتمصر مشترکہ مشقوں، بحری سلامتی، انٹیلی جنس، دفاعی صنعت اور تربیت میں تعاون کرے لیکن فوری طور پر مکمل رکنیت اختیار نہ کرے۔یہ سب سے محتاط اور عملی راستہ ہو سکتا ہے۔3️⃣ اسٹریٹجک فاصلے کے ساتھ تعاونقاہرہ اتحاد سے باہر رہتے ہوئے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ الگ الگ دفاعی و سیکیورٹی تعاون بڑھائے اور اپنی فیصلہ سازی کی مکمل آزادی برقرار رکھے۔—🌍 اصل سوال اب صرف ’’مصر شامل ہوگا یا نہیں؟‘‘ نہیںاصل سوال اس سے کہیں بڑا ہے:کیا مشرقِ وسطیٰ اپنی سیکیورٹی کے لیے ایک نیا علاقائی نظام تشکیل دے رہا ہے؟معاہدۂ مکہ اس سمت میں ایک اہم قدم ضرور ہے۔لیکن اس کی کامیابی کا فیصلہ بیانات، تقریروں اور تاریخی القابات سے نہیں ہوگا۔اس کا فیصلہ ہوگا:پہلے بحران میں۔پہلی مشترکہ مشق میں۔پہلی مشترکہ کارروائی میں۔پہلی مشترکہ دفاعی صنعت میں۔اور سب سے بڑھ کر—پہلے حقیقی خطرے کے وقت۔جازان کا واقعہ اسی لیے اہم ہے۔مکہ میں معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں۔اب سوال یہ نہیں کہ اتحاد کاغذ پر کتنا طاقتور ہے۔سوال یہ ہے:کیا یہ اتحاد حقیقی خطرے کے سامنے اتنا ہی طاقتور ثابت ہوگا؟اور اگر مصر بھی اس میں شامل ہو گیا تو سوال مزید بڑا ہو جائے گا:🇸🇦🇹🇷🇵🇰🇪🇬 کیا یہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے علاقائی دفاعی نظام کی پیدائش ہوگی—یا صرف ایک بلند آہنگ سفارتی تجربہ؟فیصلہ اب نعروں سے نہیں، طاقت کے عملی استعمال، سیاسی عزم اور بحران کے وقت مشترکہ ردِعمل سے ہوگا۔
Zh*سعودی عرب اور ترکی کے پرچم معیاری کپڑا، بہترین کوالٹی اور خوبصورت رنگوں کے ساتھ سعودی عرب اور ترکی کے قومی پرچم اب دستیاب ہیں۔ اعلیٰ معیار کا کپڑا نفیس اور خوبصورت پرنٹنگ مضبوط اور پائیدار مختلف سائز میں دستیاباپنے پروگرام، تقریب، ادارے یا خصوصی موقع کے لیے آج ہی پرچم حاصل
*کیپٹن ریٹائرڈ علی بن طارق کو ڈی پی او اٹک تعینات کردیا گیا، نوٹیفیکیشن* *بینش فاطمہ کو ڈی پی او لودھراں تعینات کردیا گیا، نوٹیفیکیشن*
اگر پاکستان میں 13 صوبے بنائے جائیں تو آپ کی نظر میں اس سے ملک کو فائدہ ہوگا یا نقصان؟ کیا چھوٹے صوبوں سے عوام کو بہتر سہولیات، تیز تر ترقی اور اچھا انتظام ملے گا، یا پھر اخراجات، سیاسی اختلافات اور وسائل کی تقسیم کے مسائل مزید بڑھ جائیں گے؟ اپنی رائے ضرور دیں، مگر دلیل اور احترام کے سات
ایرانی 🇮🇷 صدر مسعود پیزیشکیان کا کہنا ہے کہ ایران کے دشمنوں نے 48 گھنٹوں کے اندر اندر ایران پر کنٹرول حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، جیسا کہ شام میں ہوا…5 اگست کو ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر بات کرتے ہوئے، پیزشکیان نے کہا کہ منصوبہ ناکام ہو گیا اور ایران ایک مضبوط اور قابل احترام ملک بنا رہا۔ وہ سوچتے تھے کہ “ایران 48 گھنٹوں میں گر جائے گا، لیکن ایران کھڑا رہا…”
اہم سرکاری ہدایات منجانب*چیف ایگزیکٹو آفیسر، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی چنیوٹ*تمام متعلقہ افسران اور اداروں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ فیلڈ اطلاعات اور آبزرویشنز کے مطابق بعض پرائیویٹ تعلیمی ادارے حکومتِ پنجاب کے موسمِ گرما کی تعطیلات کے دوران اسکول بند رکھنے کے نوٹیفکیشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے طلبہ کو بغیر یونیفارم، بغیر بیگ اور خفیہ طور پر کلاسوں میں بلا کر تدریسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس سلسلے میں یہ واضح کیا جاتا ہے کہ آج بروز جمعہ سے ضلع بھر میں DEOs، ڈپٹی AEOs،DEOs، اسپیشل برانچ کی ٹیمیں اور ڈپٹی DEOs و AEOs کی تشکیل کردہ دیگر مانیٹرنگ ٹیمیں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر مختلف تعلیمی اداروں کے اچانک دورے کریں گی۔یہ کارروائی سیکرٹری، سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی تمام CEOs پنجاب کے ساتھ منعقدہ زوم میٹنگ میں جاری کردہ ہدایات کی روشنی میں عمل میں لائی جا رہی ہے۔جو بھی ادارہ حکومتِ پنجاب کے اسکول تعطیلات سے متعلق نوٹیفکیشن کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا، اس کے خلاف *قواعد و ضوابط کے مطابق فوری موقع پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، سکول کو موقع پر سیل کر دیا جائے گا، بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا اور فی الفور موقع پر ادارے کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی کارروائی بھی کی جائے گی*تمام متعلقہ افسران اپنی اپنی حدودِ اختیار میں واقع تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ کو یقینی بنائیں اور روزانہ کی بنیاد پر اپنی رپورٹ بروقت جمع کروائیں۔براہِ کرم اس اہم پیغام کو فوری طور پر تمام متعلقہ واٹس ایپ گروپس اور دیگر ذرائع سے زیادہ سے زیادہ شیئر کیا جائے۔چیف ایگزیکٹو آفیسرڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی چنیوٹ
پچھلے مالی سال میں ہم نے بجلی بنانے والی کمپنیوں کے مالکان کو 3400ارب روپئے ادا کئے جن میں کپیسٹی چارجز 2500ارب روپئے تھے صرف ایک سال کے کپیسٹی چارجز سے دو دیا میر بھاشا ڈیم بنائے جا سکتے ہیں ویسے چوروں ڈاکوؤں کی دلالی کرنے والوں کو داد ملنی چائیے
اہم سرکاری ہدایات منجانب*چیف ایگزیکٹو آفیسر، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی چنیوٹ*تمام متعلقہ افسران اور اداروں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ فیلڈ اطلاعات اور آبزرویشنز کے مطابق بعض پرائیویٹ تعلیمی ادارے حکومتِ پنجاب کے موسمِ گرما کی تعطیلات کے دوران اسکول بند رکھنے کے نوٹیفکیشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے طلبہ کو بغیر یونیفارم، بغیر بیگ اور خفیہ طور پر کلاسوں میں بلا کر تدریسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس سلسلے میں یہ واضح کیا جاتا ہے کہ آج بروز جمعہ سے ضلع بھر میں DEOs، ڈپٹی AEOs،DEOs، اسپیشل برانچ کی ٹیمیں اور ڈپٹی DEOs و AEOs کی تشکیل کردہ دیگر مانیٹرنگ ٹیمیں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر مختلف تعلیمی اداروں کے اچانک دورے کریں گی۔یہ کارروائی سیکرٹری، سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی تمام CEOs پنجاب کے ساتھ منعقدہ زوم میٹنگ میں جاری کردہ ہدایات کی روشنی میں عمل میں لائی جا رہی ہے۔جو بھی ادارہ حکومتِ پنجاب کے اسکول تعطیلات سے متعلق نوٹیفکیشن کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا، اس کے خلاف *قواعد و ضوابط کے مطابق فوری موقع پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، سکول کو موقع پر سیل کر دیا جائے گا، بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا اور فی الفور موقع پر ادارے کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی کارروائی بھی کی جائے گی*تمام متعلقہ افسران اپنی اپنی حدودِ اختیار میں واقع تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ کو یقینی بنائیں اور روزانہ کی بنیاد پر اپنی رپورٹ بروقت جمع کروائیں۔براہِ کرم اس اہم پیغام کو فوری طور پر تمام متعلقہ واٹس ایپ گروپس اور دیگر ذرائع سے زیادہ سے زیادہ شیئر کیا جائے۔چیف ایگزیکٹو آفیسرڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی چنیوٹ
نیا علاقائی دفاعی توازن: سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کا تاریخی دفاعی معاہدہ — کیا مصر اگلی اہم کڑی ہوگا؟مشرقِ وسطیٰ ایک نئے تزویراتی دور میں داخل ہو رہا ہے۔سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے مکہ مکرمہ میں ایک تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت تینوں ممالک کے درمیان اجتماعی دفاع اور باہمی سلامتی کا ایک نیا فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں طے پانے والے اس معاہدے کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف مسلح حملہ تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ شق اجتماعی دفاع اور مشترکہ بازداریت کے اصول کو نمایاں کرتی ہے اور خطے کے موجودہ سلامتی کے ڈھانچے میں ایک اہم تبدیلی کا اشارہ دیتی ہے۔اس معاہدے کی اہمیت صرف اس بات میں نہیں کہ تینوں ممالک کے پاس کتنے فوجی، طیارے، میزائل یا جنگی بحری جہاز موجود ہیں۔ اس کی اصل تزویراتی طاقت ان کی مختلف نوعیت کی عسکری، صنعتی، اقتصادی اور جغرافیائی صلاحیتوں کے باہمی امتزاج میں پوشیدہ ہے۔پاکستان جوہری بازداریت، بڑی روایتی فوج اور وسیع میزائل صلاحیتیں فراہم کرتا ہے۔ترکیہ جدید دفاعی صنعت، ڈرون ٹیکنالوجی، بحری قوت، میزائل ٹیکنالوجی اور نیٹو کے ساتھ عسکری ہم آہنگی کا تجربہ رکھتا ہے۔سعودی عرب مالیاتی قوت، اسٹریٹجک جغرافیہ، توانائی کے وسائل، سفارتی اثر و رسوخ اور دفاعی جدیدکاری کے لیے وسیع سرمایہ کاری کی صلاحیت رکھتا ہے۔ان تینوں صلاحیتوں کا امتزاج خلیج فارس، بحیرۂ عرب، بحیرۂ احمر، مشرقی بحیرۂ روم اور جنوبی ایشیا تک پھیلے ہوئے ایک ممکنہ کثیرالجہتی علاقائی دفاعی و بازدارتی ڈھانچے کی بنیاد رکھتا ہے۔—ترکیہ: دفاعی صنعت کا ابھرتا ہوا پاور ہاؤسنئے دفاعی انتظام میں ترکیہ کی اہمیت صرف اس کی فوجی طاقت تک محدود نہیں۔گزشتہ ایک دہائی کے دوران انقرہ نے اپنی دفاعی صنعت کو مقامی بنیادوں پر مضبوط بنانے کے لیے غیر معمولی سرمایہ کاری کی ہے۔ ڈرونز، میزائل، بکتر بند گاڑیاں، بحری پلیٹ فارم، الیکٹرانک وارفیئر، درست نشانے والے ہتھیار اور دیگر جدید دفاعی نظام اس صنعتی تبدیلی کا حصہ ہیں۔بیرقدار TB2 اور اقنچی جیسے ڈرون پلیٹ فارمز نے عالمی سطح پر اپنی شناخت بنائی ہے، جبکہ قزل ایلما جیسے بغیر پائلٹ جنگی طیارے ترکیہ کی مستقبل کی فضائی جنگی صلاحیتوں کی سمت کی عکاسی کرتے ہیں۔ترکیہ بحری قوت میں بھی مسلسل توسیع کر رہا ہے، جس میں فریگیٹس، آبدوزیں، ایمفی بیئس پلیٹ فارمز اور بغیر پائلٹ بحری نظام شامل ہیں۔ترکیہ کی ایک اور اہم تزویراتی خصوصیت اس کی نیٹو رکنیت ہے۔نیٹو کے کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام، مشترکہ آپریشنل منصوبہ بندی، عسکری انٹرآپریبلٹی اور جدید جنگی نظریات کے ساتھ طویل تجربہ ترکیہ کو کسی بھی کثیر ملکی دفاعی تعاون میں ایک منفرد کردار فراہم کرتا ہے۔اس لیے ترکیہ کی اصل طاقت صرف ہتھیاروں کی تعداد نہیں بلکہ:ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت، عسکری تجربہ، صنعتی خود کفالت اور جنگی جدت ہے۔—پاکستان: تزویراتی بازداریت کا ستوناس تین ملکی دفاعی ڈھانچے میں پاکستان سب سے اہم تزویراتی عناصر میں سے ایک ہے۔پاکستان ایک جوہری طاقت رکھنے والی ریاست ہے، جس کے پاس بڑی روایتی فوج، وسیع میزائل صلاحیت اور کئی دہائیوں پر محیط عسکری تجربہ موجود ہے۔پاکستانی مسلح افواج چینی، امریکی اور مقامی طور پر تیار کردہ مختلف دفاعی نظام استعمال کرتی ہیں، جن میں JF-17 Thunder اور J-10C جنگی طیارے نمایاں ہیں۔پاکستان کی جوہری صلاحیت بنیادی طور پر قومی سلامتی، تزویراتی بازداریت اور ممکنہ بڑے پیمانے کے فوجی خطرات کو روکنے کے لیے ہے۔اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت خود بخود سعودی عرب یا ترکیہ کے لیے مشترکہ جوہری ضمانت بن گئی ہے۔تاہم پاکستان کی اس معاہدے میں موجودگی خطے کے تزویراتی حساب کتاب کو ضرور تبدیل کرتی ہے۔اب کسی ممکنہ جارح کو یہ تصور کرنا ہوگا کہ کسی ایک رکن پر فوجی دباؤ یا حملے کے نتیجے میں تین مختلف مگر باہم تکمیلی صلاحیتوں رکھنے والی ریاستوں کی مشترکہ سیاسی، عسکری، اقتصادی اور تکنیکی مزاحمت سامنے آسکتی ہے۔یہی بازداریت کا بنیادی تصور ہے:جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ممکنہ جارحیت کی قیمت کو اتنا بڑھا دینا کہ جارح فریق حملے سے گریز کرے۔—سعودی عرب: جغرافیائی اہمیت، مالی طاقت اور سیاسی اثر و رسوخسعودی عرب اس نئے تزویراتی ڈھانچے کا تیسرا اہم ستون ہے۔مملکت کی اہمیت کو صرف فوجیوں یا ہتھیاروں کی تعداد سے نہیں ناپا جاسکتا۔اس کا جغرافیائی محل وقوع خلیج فارس، بحیرۂ احمر اور جزیرۂ عرب کے درمیان اسے غیر معمولی تزویراتی اہمیت دیتا ہے۔ عالمی توانائی کی منڈی میں اس کا کردار اسے مزید اقتصادی اور جیوپولیٹیکل وزن فراہم کرتا ہے۔سعودی عرب کے پاس دفاعی جدیدکاری، مقامی دفاعی پیداوار اور عالمی دفاعی کمپنیوں کے ساتھ طویل مدتی شراکت داری کے لیے وسیع مالی وسائل بھی موجود ہیں۔اس کے ساتھ سعودی عرب کی مذہبی اور سیاسی اہمیت ایک اضافی پہلو ہے۔اسلام کے مقدس ترین مقامات، مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ کی موجودگی سعودی عرب کو مسلم دنیا میں ایک منفرد مقام فراہم کرتی ہے۔اس کی اقتصادی طاقت، سفارتی رسوخ اور علاقائی اثر و نفوذ اسے مشرقِ وسطیٰ کے کسی بھی نئے سلامتی کے ڈھانچے میں مرکزی کردار عطا کرتے ہیں۔سعودی عرب اس اتحاد کو وہ عناصر فراہم کرتا ہے جو پاکستان اور ترکیہ کی عسکری صلاحیتوں سے مختلف ہیں:مالی طاقت، اسٹریٹجک جغرافیہ، توانائی کا اثر، سفارتی وزن اور سرمایہ کاری کی صلاحیت۔—اصل طاقت: عسکری انضماماب سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ تینوں ممالک کے پاس کتنے فوجی، طیارے، میزائل یا جنگی بحری جہاز ہیں۔اصل سوال یہ ہے:وہ اپنی صلاحیتوں کو کس حد تک ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کرسکتے ہیں؟یہی وہ مقام ہے جہاں اس معاہدے کی حقیقی تزویراتی اہمیت سامنے آسکتی ہے۔مستقبل میں ایک مضبوط دفاعی فریم ورک کے تحت درج ذیل شعبوں میں تعاون ممکن ہوسکتا ہے:- مشترکہ فوجی مشقیں؛- انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ؛- فضائی اور میزائل دفاع؛- بحری سلامتی؛- انسداد دہشت گردی؛- ڈرون اور اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی؛- الیکٹرانک وارفیئر؛- سائبر دفاع؛- دفاعی صنعتی شراکت داری؛- مشترکہ فوجی تربیت؛- عسکری انٹرآپریبلٹی؛- مشترکہ تحقیق و ترقی؛- دفاعی سازوسامان کی مشترکہ تیاری اور خریداری۔اگر یہ شعبے مستقل ادارہ جاتی نظام کا حصہ بن جاتے ہیں تو موجودہ سیاسی معاہدہ ایک زیادہ پائیدار علاقائی دفاعی ڈھانچے میں تبدیل ہوسکتا ہے۔طویل مدت میں معاہدے کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہی ہوگا۔—مصر: تزویراتی طور پر اہم مگر ابھی غیر موجود کڑی؟یہاں مصر کا کردار اہم ہوجاتا ہے۔مصر کا جغرافیہ بحیرۂ روم، بحیرۂ احمر اور نہرِ سویز کو باہم جوڑتا ہے۔ اس لیے کسی وسیع تر عرب یا علاقائی دفاعی نظام میں مصر کی شمولیت اس کی جغرافیائی وسعت اور عسکری اہمیت کو نمایاں طور پر بڑھا سکتی ہے۔مصری مسلح افواج کے پاس بری، بحری اور فضائی شعبوں میں وسیع روایتی صلاحیتیں موجود ہیں، جن میں جدید جنگی طیارے، بحری پلیٹ فارمز، آبدوزیں، فضائی دفاعی نظام اور بڑی افرادی قوت شامل ہیں۔تاہم یہاں تزویراتی امکان اور سیاسی حقیقت میں فرق کرنا ضروری ہے۔فی الحال ایسی کوئی تصدیق شدہ اطلاع موجود نہیں کہ مصر اس تین ملکی دفاعی معاہدے میں شامل ہونے جا رہا ہے۔لہٰذا مصر کی شمولیت کو موجودہ حقیقت نہیں بلکہ مستقبل کے ممکنہ تزویراتی منظرنامے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔اگر مستقبل میں قاہرہ اس نظام کا حصہ بنتا ہے تو خطے کی دفاعی جغرافیہ نمایاں طور پر تبدیل ہوسکتی ہے۔سعودی عرب خلیج اور مغربی جزیرۂ عرب کا مرکزی ستون ہوگا۔مصر بحیرۂ احمر، نہرِ سویز اور مشرقی بحیرۂ روم کے محور کو مضبوط کرے گا۔ترکیہ جدید دفاعی صنعت، بحری قوت اور مشرقی بحیرۂ روم میں عسکری موجودگی فراہم کرے گا۔پاکستان جنوبی ایشیا اور بحیرۂ عرب کی سمت تزویراتی گہرائی فراہم کرے گا۔یوں ایک ممکنہ وسیع تر دفاعی نیٹ ورک جنوبی ایشیا سے جزیرۂ عرب کے راستے مشرقی بحیرۂ روم تک پھیل سکتا ہے۔—اسرائیل: ایک اہم تزویراتی چیلنجاس معاہدے پر اسرائیل میں بھی گہری نظر رکھی جائے گی۔تاہم اسے محض اسرائیل مخالف اتحاد قرار دینا اس پیچیدہ تزویراتی صورتحال کو حد سے زیادہ سادہ بنا دے گا۔یہ معاہدہ کسی ایک دشمن کے خلاف نہیں بلکہ وسیع تر اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔اس کے باوجود سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان ایک منظم دفاعی تعلق اسرائیل کے تزویراتی حساب کتاب کو متاثر کرسکتا ہے۔تین اہم علاقائی طاقتوں کے درمیان عسکری رابطہ مستقبل میں:- بازداریت؛- فضائی طاقت؛- میزائل دفاع؛- بحری سلامتی؛- عسکری انٹیلی جنس؛- اور علاقائی کشیدگیکے بارے میں اسرائیلی اندازوں کو متاثر کرسکتا ہے۔اصل اہمیت کسی فوری محاذ آرائی میں نہیں بلکہ اس امکان میں ہے کہ خطے میں طاقت کا ایک زیادہ مربوط اور متوازن نظام تشکیل پانا شروع ہوجائے۔—ایران: دوسرا بڑا تزویراتی عنصرایران بھی اس نئی صورتحال کا ایک اہم فریق ہے۔یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں میزائل خطرات، بحری سلامتی، علاقائی اثر و رسوخ اور فوجی کشیدگی کے خدشات پہلے ہی موجود ہیں۔تہران کے لیے سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ایک باقاعدہ دفاعی فریم ورک، جس میں جوہری صلاحیت رکھنے والا پاکستان بھی شامل ہو، ایک اہم تزویراتی پیش رفت ہے۔تاہم اسے فوری طور پر ایران مخالف فوجی اتحاد قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔اس کا فوری تزویراتی اثر زیادہ واضح ہے:کسی رکن کے خلاف فوجی کارروائی کی ممکنہ قیمت میں اضافہ۔اور یہی بازداریت کا بنیادی مقصد ہے۔—بھارت بھی گہری نظر رکھے گاپاکستان کی شرکت اس معاہدے کو مشرقِ وسطیٰ سے آگے جنوبی ایشیا کی تزویراتی سیاست سے بھی جوڑ دیتی ہے۔پاکستان اور ترکیہ کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات، سعودی عرب کے ساتھ اسلام آباد کی طویل المدتی شراکت داری اور اب اجتماعی دفاع کے رسمی فریم ورک نے جنوبی ایشیا کے سلامتی کے ماحول میں ایک نیا عنصر شامل کردیا ہے۔بھارت کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر اہم ہوگی۔نئی دہلی مستقبل میں مشترکہ فوجی مشقوں، انٹیلی جنس تعاون، دفاعی صنعت میں شراکت داری، میزائل دفاع اور جدید فوجی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھے گا۔اس اعتبار سے یہ معاہدہ صرف مشرقِ وسطیٰ کا معاملہ نہیں۔یہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے دو تزویراتی خطوں کو ایک دفاعی فریم ورک کے ذریعے جوڑنے والی پیش رفت بھی بن سکتا ہے۔—ابھی نیٹو کا متبادل نہیںیہاں ایک اہم احتیاط ضروری ہے۔اس معاہدے کو فی الحال نیٹو کا مسلم یا مشرقِ وسطیٰ متبادل قرار دینا درست نہیں ہوگا۔نیٹو کے پاس کئی دہائیوں پر محیط مربوط کمانڈ ڈھانچہ، مشترکہ فوجی منصوبہ بندی، مستقل آپریشنل طریقہ کار اور انتہائی ادارہ جاتی اجتماعی دفاعی نظام موجود ہے۔مکہ دفاعی معاہدہ، دستیاب معلومات کے مطابق، ابھی اس نوعیت کا مشترکہ کمانڈ ڈھانچہ قائم نہیں کرتا۔اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ کسی ایک رکن کے ساتھ ہونے والی ہر جنگ میں باقی دونوں ممالک فوری طور پر براہِ راست فوجی مداخلت کریں گے۔لیکن معاہدہ ایک نہایت اہم سیاسی اصول ضرور قائم کرتا ہے:اجتماعی دفاع اور مشترکہ بازداریت کا واضح عہد۔اب اس عہد کی حقیقی طاقت اس بات سے طے ہوگی کہ اسے عملی سطح پر کس حد تک نافذ کیا جاتا ہے۔—اب اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟اصل امتحان دستخطوں کے بعد شروع ہوگا۔تینوں ممالک کو یہ طے کرنا ہوگا کہ معاہدے کو عملی دفاعی صلاحیت میں کس طرح تبدیل کیا جائے۔ممکنہ اگلے اقدامات میں شامل ہوسکتے ہیں:مستقل مشترکہ فوجی مشقیں، انٹیلی جنس تعاون، فضائی اور میزائل دفاع، بحری رابطہ کاری، دفاعی صنعتی منصوبے، مشترکہ تربیت اور مستقل تزویراتی مشاورت۔اگر یہ نظام تشکیل پاتا ہے تو مکہ معاہدہ محض ایک سیاسی اعلان نہیں رہے گا بلکہ ایک مستقل علاقائی دفاعی ڈھانچے کی بنیاد بن سکتا ہے۔—تزویراتی خلاصہسعودی عرب اس شراکت داری کو مالی طاقت، جغرافیائی اہمیت، توانائی کے اثر و رسوخ اور سفارتی وزن فراہم کرتا ہے۔ترکیہ دفاعی ٹیکنالوجی، مقامی صنعتی صلاحیت، ڈرونز، بحری قوت اور نیٹو کے ساتھ عسکری انٹرآپریبلٹی فراہم کرتا ہے۔پاکستان بڑی روایتی فوج، میزائل صلاحیتوں اور جوہری بازداریت کا تزویراتی وزن فراہم کرتا ہے۔اس امتزاج کی اصل طاقت اس حقیقت میں ہے کہ تینوں ممالک کی صلاحیتیں ایک جیسی نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔لہٰذا اس معاہدے کی اہمیت کسی ناقابلِ شکست فوجی بلاک کے قیام میں نہیں، بلکہ مختلف خطوں اور مختلف عسکری شعبوں میں مشترکہ بازداریت پیدا کرنے کے امکان میں ہے۔مصر مستقبل میں اس تزویراتی مساوات کا سب سے اہم نیا عنصر بن سکتا ہے، خصوصاً نہرِ سویز، بحیرۂ احمر اور بحیرۂ روم کے درمیان اس کے منفرد جغرافیائی محل وقوع کے باعث۔لیکن فی الحال مصر کی شمولیت ایک تزویراتی امکان ہے، کوئی طے شدہ سیاسی حقیقت نہیں۔اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔اگر سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان مکہ معاہدے کو مستقل عسکری رابطہ کاری، انٹیلی جنس تعاون، مشترکہ مشقوں، دفاعی صنعتی منصوبوں اور مربوط سلامتی کے نظام میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ معاہدہ وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کے بدلتے ہوئے سلامتی کے ڈھانچے میں ایک انتہائی اہم سنگِ میل ثابت ہوسکتا ہے۔یہ صرف ایک نئے دفاعی معاہدے کی کہانی نہیں۔یہ خطے میں طاقت، بازداریت اور تزویراتی توازن کے ایک نئے مرحلے کے آغاز کی علامت ہوسکتی ہے۔مکہ سے ایک نیا علاقائی دفاعی تصور ابھر رہا ہے — اور مشرقِ وسطیٰ کا تزویراتی توازن ایک نئے دور میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔.
معاہدے کے اہم نکات . تینوں ممالک اپنے دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گے۔خطے اور دنیا میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں گے۔. اگر تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ ہوتا ہے، تو اسے تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔. کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع اور اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنایا جائے گا۔. دفاع، سکیورٹی، تربیت، انٹیلی جنس اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔
مکہ مکرمہ ،سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاسوزیراعظم شہباز شریف، ترک صدر رجب طیب اردوان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی ملاقاتمکہ مکرمہ سربراہی اجلاس میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط محمد بن سلمان، رجب طیب اردوان اور شہباز شریف نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیےتینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے تمام شعبوں کو مزید فروغ دینے پر اتفاق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اجتماعی سلامتی کے عزم کا اعادہ کردیا مشترکہ دفاعی معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کی اجتماعی سلامتی اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے، ترجمانمشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے عزم کا عکاس ہے،
دفتر خارجہمعاہدے کے تحت کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، دفتر خارجہسعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے کسی بھی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کا عزم کیا، دفتر خارجہتینوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات اور اسلامی یکجہتی مشترکہ دفاعی تعاون کی بنیاد ہیں، دفتر خارجہمکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدہ تینوں ممالک کے مشترکہ اسٹریٹجک مفادات اور دیرینہ دفاعی تعاون کا عکاس ہے، دفتر خارجہمشترکہ دفاعی معاہدے سے تینوں ممالک کے درمیان اجتماعی دفاع اور مزاحمتی صلاحیت مزید مضبوط ہوگی، دفتر خارجہسعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے محفوظ اور خوشحال مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا، دفتر خارجہ
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی مکہ مکرمہ میں قصر الصفا آمد، سعودی ولی عہد و وزیرِ اعظم شیخ محمد بن سلمان بن عبد العزیز آلسعود نے وزیرِ اعظم کا استقبال کیا.
دونوں رہنماؤں کے مابین دوطرفہ ملاقات شروع. ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، آرمی چیف و چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ ہیں.
‼️ *مشترکہ دفاعی معاہدہ: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ*‼️📌 پاکستان، ترکیہ اور مملکتِ سعودی عرب کے درمیان دور اندیش حکمتِ عملی پر مبنی اجتماعی سلامتی کا معاہدہ دہائیوں پر محیط تاریخی تعلقات کا قدرتی ارتقا اور باقاعدہ قانونی تحریر ہے۔ ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اس کی اپنی آزادی سے بھی پہلے کے ہیں، جن کی جڑیں تحریکِ خلافت (1919–1924) میں ملتی ہیں۔ اسی طرح، پاکستان اور سعودی عرب طویل عرصے سے باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات پر مبنی قریبی اسٹریٹجک، سیاسی، اقتصادی اور عوامی تعلقات رکھتے ہیں۔📌 یہ خطہ ایک بڑے اسٹریٹجک تبدیلی اور خطرات کے عمل سے گزر رہا ہے۔ علاقائی تنازعات، سیکیورٹی چیلنجز، اور جنگ کے بدلتے ہوئے انداز ان ممالک کے درمیان مزید تعاون پر زور دیتے ہیں جو استحکام پر مبنی مشترکہ مقاصد کے حامل ہیں۔ اس ماحول میں، ایک سہ فریقی فریم ورک کسی مذہبی ہم آہنگی کے بجائے علاقائی استحکام کو برقرار رکھنے اور اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے کا طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ 📌 یہ سہ فریقی معاہدہ مکمل طور پر دفاعی ہے۔ یہ اجتماعی سلامتی اور اجتماعی deterrence کے اصولوں پر مبنی ہے، جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کسی ایک رکن پر کوئی بھی بیرونی حملہ تمام تینوں کے لیے ایک خطرہ بن جائے، کیونکہ ایسی کسی بھی جارحیت کے بتدریج تباہ کن اثرات تمام تینوں ممالک اور پورے خطے کے استحکام، خوشحالی اور مستقبل کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ معاہدہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے اور اس کا مقصد قابلِ اعتماد Deterrence کے ذریعے تنازعات کو روکنا اور امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔📌یہ شراکت داری ایک درج ذیل باہمی صلاحیتوں کو یکجا کرتی ہے:• پاکستان کی عسکری طاقت، جنگ مہارت کی حامل افواج اور طاقت کے ذریعے کشیدگی پر کنٹرول پر مبنی اسٹریٹجک مہارت۔• سالمیت کے معاملے میں سعودی عرب کی مرکزی حیثیت، مستحکم معیشت اور طاقتور، واضح سوچ والی قیادت۔• ترکیہ کی جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی، لچک اور صنعتی صلاحیتیں۔تینوں ممالک کی دور اندیش قیادت کی بدولت، یہ تمام صلاحیتیں یکجا ہو کر ایک متوازن سیکیورٹی آرکیٹیکچر بناتی ہیں جو ابھرتے ہوئے علاقائی چیلنجوں سے نپٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔📌 پاکستان، معرکہِ حق کے بعد اور ایران اور امریکہ کے عسکری تنازع میں ثالثی کے اہم کردار کے بعد، تیزی سے ایک ایک مستند سیکورٹی ضامن کے طور پر ابھر رہا ہے۔ پاکستان کی مخلص اور باصلاحیت قیادت کے سعودی عرب، ترکیہ، ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ، اور عالمی سطح پر امریکہ اور چین کے ساتھ تعمیری تعلقات اسے علاقائی و عالمی شراکت داروں کے درمیان ایک قابلِ اعتماد پل کا کردار ادا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔📌 ا س فریم ورک کی مصدقہ حیثیت سعودی، ترکی اور پاکستانی قیادت کے اخلاص، وضاحت اور صلاحیت پر منحصر ہے۔ ان رہنماؤں نے مسلسل ذمہ داری کے ساتھ بحرانوں سے نپٹنے، عسکری تیاری کو اسٹریٹجک restraint کے ساتھ جوڑنے، اور قومی سلامتی پر سمجوتہ کیے بغیر سفارت کاری کو آگے بڑھانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔📌 عسکری صلاحیتوں، انٹیلی جنس تعاون اور اسٹریٹجک ہم آہنگی کو یکجا کر کے، تینوں ممالک اجتماعی سلامتی اور اجتماعی deterrence کا ایک فریم ورک قائم کرتے ہیں۔ یہ ایک قابلِ اعتماد دفاعی تعاون کے ذریعے تنازع کے امکانات اور جارحیت سے جڑی تباہی کو کم کرنے کیلئے ایک اہم قدم ہے۔📌یہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ کوئی “مسلم نیٹو” نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی ایٹمی ضمانت دیتا ہے؛ یہ عام لوگوں کی خوشحالی کے لیے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کا ایک منطقی قدم ہے۔ یہ دفاعی ایک غیر جارحانہ اتحاد ہے جسے اجتماعی سلامتی اور deterrence کو مضبوط بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، نہ کہ کسی ریاست کو نشانہ بنانے کے لیے۔ یہ سیکیورٹی کے لیے دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے خود انحصاری کو ترویج دیتا ہے، یہ معائدہ پہلے موجود باہمی اشتراک کو قانونی شکل دیتا ہے، یہ استحکام کو طاقت بخشتا ہے اور خطے میں امن میں خلل ڈالنے والی روایتی قوتوں کی نفی کرتا ہے۔
📌 *Joint Defense Agreement Pakistan, Saudi Arabia and Türkiye*The strategic collective security agreement between *Pakistan, Türkiye, and the Kingdom of Saudi Arabia (KSA)* is the natural evolution and formal codification of decades of historic ties. Pakistan’s relationship with Türkiye predates its own independence, rooted in the *Khilafat Movement (1919–1924).* Likewise, Pakistan and Saudi Arabia have long shared close strategic, political, economic and people to people contact based on *mutual trust* and *common interests.*👉 *A Changing Regional Environment*The region is undergoing a major strategic transformation and threats. Regional conflicts, security challenges, and changing character of warfare underscore more cooperation between those having common aspirations based on stability. In this environment, a *trilateral framework* offers a mechanism to preserve *regional stability* and strengthen *collective security, rather than any religio- based convergence. 👉 *A Defensive and Not an Offensive, Pact*The proposed *Trilateral Defence Agreement* is *purely defensive.* It is based on the principles of *collective security* and *collective deterrence,* ensuring that any external attack to one member becomes a threat for all three, since the cascading domino effects of any such physical attack hurts badly the stability and prosperity and future of all three plus the region. The agreement is *not directed against any country* and is intended to prevent conflict through *credible deterrence* while promoting *peace and stability.*👉 *Three Nations, Three Strategic Strengths*The partnership brings together complementary strengths:• *Pakistan’s military strength, battle hardened forces and strategic expertise based on astute management of escalation control through strength. • *Saudi Arabia’s centrality in the region, strong economy* and powerful clear headed leadership.• *Türkiye’s advanced defence technology*, resilience and industrial capabilities.Together, these strengths guided by their respective strategic leaders create a *balanced security architecture* capable of addressing emerging regional challenges.👉 *Pakistan as a Net Regional Stabiliser*Pakistan, post Mark e Haq and lead role in mediating Iran USA military conflict, is increasingly emerging as a *net regional stabiliser*. Pakistan sincere and competent leadership having constructive relations with *Saudi Arabia, Türkiye, Iran,* and others in the region and globally with the *United States as well as China enables the role of a *trusted bridge* between regional and global stakeholders.👉 *Leadership Built on Sincerity, Clarity and Competence*The credibility of this framework rests on the *sincerity, clarity,* and *competence* of Saudi, Turkish and Pakistani leadership. These leaders have consistently demonstrated the ability to *manage crises responsibly,* combine *military preparedness with strategic restraint,* and pursue diplomacy without compromising *national security.*👉 *Collective Security and Collective Deterrence*By pooling *military capabilities, intelligence cooperation,* and *strategic coordination,* the three countries establish a framework of *collective security* and *collective deterrence.* This significantly raises the *cost of aggression* while reducing the likelihood of conflict through *credible defence cooperation.*👉 *Pakistan’s Emerging Strategic Role*The *Trilateral Defence Pact* is no Muslim NATO, it’s no nuclear backstopping, it represents the next logical step in the strategic partnership between *Pakistan, Saudi Arabia,* and *Türkiye for common people centric prosperity. It is a *defensive, non-aggressive alliance* designed to strengthen *collective security* and *collective deterrence,* not to target any state. It embodies self dependence rather looking for others for security, it codifies what was already there, it empowers stability and only makes the historical disrupters of peace in the region nervous. ‼️‼️‼️
آئی ایم ایف ہمکو سستی بجلی فراہم کرنے کی اجازت نہیں دے رہا: وزیر توانائی جبکہ IMF ججوں ، وزیروں ،مشیروں، بیوروکریٹس کو سالانہ 34 کروڑ یونٹ فری بجلی دینے کی اجازت ضرور دیتا ہے نا.لکھ دی لعنت ایسے IMF پہ اور ایسے قانون بنانے والوں پہ کہ لاکھوں کمانے والا فری بجلی بھی لے گا.
*آپریشن “رد الفتنہ – 3” کے تحت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلیجینس معلومات کی بنیاد پر سیکورٹی فورسز کے آپریشنز جاری*5 اور 6 اگست 2026 کو، سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع واشک اور مستونگ میں انٹیلیجینس معلومات کی بنیاد پر دو آپریشنز کیے، جو کہ “رد الفتنہ-3” کے تحت جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے سلسلۂ عمل کا حصہ ہیں۔ یہ مؤثر انسدادِ دہشت گردی مہم ہے جس کا مقصد بھارتی پروکسیز کا خاتمہ کرنا ہے، جس کے نتیجے میں “فتنہ الہندوستان” کے 12 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔5اگست 2026 کو، سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع واشک میں چھ دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا۔ افواج نے ان دہشت گردوں کو مؤثر طریقے سے گھیرے میں لیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں، بھارتی پروکسی “فتنہ الہندوستان” سے تعلق رکھنے والے تمام چھ دہشت گرد جہنم واصل کر دیے گئے۔6 اگست 2026 کو انٹیلیجینس معلومات پر مبنی ایک اور آپریشن میں، بلوچستان کے ضلع مستونگ میں مسلح افواج اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد چھ دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔ مزید برآں، دہشت گردوں کی پناہ گاہ بھی تباہ کر دی گئی۔ویژن”عزمِ استحکام” کے تحت (جس کی منظوری قومی ایکشن پلان کی وفاقیApex کمیٹی نے دی ہے) سیکیورٹی فورسز اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے غیر ملکی سرپرستی اور معاونت یافتہ دہشت گردی کی لعنت کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے مُستعِدی کے ساتھ کارروائیاں جاری رکھیں گے۔