جب میں لڑکپن سے جوانی میں داخل ہو رہا تھا تو ان دنوں والد صاحب کسی غلط حرکت یا بدتمیزی پر مجھے تھپڑ رسید کر دیا کرتے تھے ، انکے تھپڑ کے بھی اپنے اصول تھے ، اگر میں خود کو بچانے کے لیے چہرے پر ہاتھ رکھنا چاہتا تو وہ اسے مزاحمت تصور کرتے اور مجھے ایک کی بجائے کئی تھپڑ لگتے لیکن اگر میں چپ چاپ ایک تھپڑ تسلی سے کھا لیتا اور اف تک نہ کرتا تو پھر وہ مزید پیش رفت نہیں کرتے تھے ۔۔۔۔ ان دنوں مجھے وہ تھپڑ سزا لگتے تھے لیکن آج مجھے وہ ایک اثاثہ اور طاقت لگتے ہیں جنہوں نے مجھے دنیا میں جینا اور مشکلات کا مقابلہ کرنا سکھایا ۔۔۔ پرویز مشرف مرحوم کے صاحبزادے بلال مشرف کا انوکھا انکشاف….










