
14 سال بعد اسلام آباد کے 27 تھانوں کو 30 نئی گاڑیاں فراہم کر دی گئیں اسلام آباد پولیس کے تھانوں کو نئی گاڑیاں دینے کی تقریب وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور وزیرِ مملکت طلال چوہدری نے گاڑیوں کی چابیاں اسلام آباد پولیس کے حوالے کیں ناکارہ گاڑیوں کے ساتھ جدید پولیسنگ کا تصور ناممکن ہے، محسن نقوی وقت کے مطابق پولیس کی ضروریات کو پورا کر کے ہی مطلوبہ نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں، محسن نقوی نئی گاڑیوں سے پولیس کا رسپانس ٹائم بہتر ہوگا، محسن نقویپولیس کو عوام کی حفاظت اور سکیورٹی یقینی بنانے کیلئے تمام ضروری وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں، محسن نقوی وسائل کی فراہمی سے پولیس اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز سے ادا کر سکے گی، محسن نقوی اسلام آباد کے تمام تھانوں کی تعمیر اور اپ گریڈیشن پر بھی کام جاری ہے، محسن نقویتھانوں کی تعمیر و اپ گریڈیشن کا کام جلد مکمل کیا جائے گا، وفاقی وزیرِ داخلہالیکٹرک گاڑیوں کا استعمال ہماری ماحول دوست پالیسی کا حصہ ہے، محسن نقویالیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے پٹرولیم اخراجات میں نمایاں کمی ہو گی، وزیرِ داخلہوفاقی سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد پولیس اور اعلیٰ پولیس افسران بھی اس موقع پر موجود تھے

ہاؤسنگ سوسائٹی میں اربوں روپیہ فراڈ کا گواہ پولیس حراست سے فرار تو ہو گیا ، لیکن آج کل میں اسکی کہانی ختم ہو جائے گی ۔عوام کو لوٹا گیا ہے ۔اراضی سے زیادہ پلاٹ بیچ دئے ،ہیڈ آفس منتقلی کی کوشش جاری ہے ،پراپرٹی ڈیلر جنہوں نے عوام کو پلاٹ بیچے ہیڈ آفس منتقلی کے خلاف ہیں ۔پولیس حراست سے فرار ہونے والا سارے معاملات سے آگاہ ہے ۔اسکا زندہ رہنا دوسروں کی مشکلات کا باعث بنے گا ۔یہ فرار ہوا نہیں اسے فرار کرایا گیا ہے تاکہ کانٹا حلق میں نہ پھنسے ۔

ماسکو میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے روسی خبر رساں ایجنسی تاس کو دیے گئے انٹرویو میں ان شعبوں پر روشنی ڈالی جن میں پاکستان روس کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق سیاحت، تعلیم اور ٹرانسپورٹ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے اہم ترین شعبے ہیں۔سفیر موصوف نے کہا: “یقینا” ہم روس اور پورے یوریشین معاشی یونین سے آنے والے سیاحوں کو پاکستان میں خوش آمدید کہنا چاہتے ہیں اور سیاحت کو فروغ دینا چاہتے ہیں

” انہوں نے زور دیا کہ پاکستان ہمیشہ روسی مسافروں کے لیے کھلا ہے۔تعلیم کو سفیر نے روس کے ساتھ تعاون کا ایک اور اہم شعبہ قرار دیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس وقت روس میں صرف 1,300 کے قریب پاکستانی طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ پاکستانی سفیر نے کہا: “میری خواہش ہے کہ یہ تعداد کم از کم 13 ہزار تک پہنچے بلکہ اس سے بھی زیادہ ہو۔” انہوں نے یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ روسی طلبہ بھی پاکستان آ کر تعلیم حاصل کریں۔ ان کے بقول طالب علمی کے زمانے میں قائم ہونے والے تعلقات زندگی بھر برقرار رہتے ہیں، اسی لیے تعلیمی تعاون دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اور دیرپا روابط قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔سفیر نے پاکستنا اور روس کے درمیان ٹرانسپورٹ رابطوں کی اہمیت پر بھی زور دے کر کہا: “میں دونوں ممالک کے درمیان پروازوں کی تعداد بڑھانے اور لاجسٹک روابط کو مزید وسعت دینے پر کام کر رہا ہوں۔”










