
میڈیا اداروں سے کارکنوں کی برطرفیاں ناقابلِ برداشت، حکومت اور عدلیہ فوری نوٹس لیں: پی ایف یو جے ورکرزاشتہارات کی مد میں کروڑوں، اربوں روپے لینے والے ادارے کارکنوں کو بے روزگار نہیں کر سکتے، اشتہارات کی ادائیگی ملازمین کے حقوق سے مشروط کی جائےپشاور (پ ر) پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرز (PFUJ-Workers) کے صدر شمیم شاہد اور سیکرٹری جنرل راجہ ریاض نے مختلف اخبارات، نجی ٹیلی ویژن چینلز اور دیگر میڈیا اداروں سے کارکن صحافیوں اور ملازمین کی مسلسل جبری برطرفیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت اور عدلیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ایک مشترکہ بیان میں پی ایف یو جے ورکرز کے رہنماؤں نے کہا کہ ملک کے بڑے میڈیا اداروں سے کارکن صحافیوں اور دیگر ملازمین کی برطرفی کا سلسلہ اب ناقابلِ برداشت حد تک پہنچ چکا ہے۔ میڈیا ادارے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے اشتہارات کی مد میں کروڑوں اور اربوں روپے وصول کرتے ہیں، لیکن دوسری جانب انہی اداروں میں کام کرنے والے صحافیوں اور دیگر ملازمین کو مسلسل ملازمتوں سے فارغ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سماء، جیو، روزنامہ جنگ اور ایکسپریس گروپ کے بعد اب ڈان گروپ کی جانب سے ڈان ٹی وی سے وابستہ صحافیوں سمیت درجنوں کارکنوں کی برطرفی اس سنگین بحران کی تازہ مثال ہے۔ گزشتہ دو برس کے دوران اخباری صنعت اور نجی ٹیلی ویژن سے وابستہ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کارکن بے روزگار ہو چکے ہیں، جبکہ میڈیا ادارے سرکاری اشتہارات سے مسلسل مالی فوائد حاصل کر رہے ہیں۔پی ایف یو جے ورکرز کے رہنماؤں نے کہا کہ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ چند ماہ قبل خیبرپختونخوا حکومت نے ایک اہم میڈیا ادارے کو اشتہارات کی مد میں پانچ کروڑ روپے ادا کیے، جبکہ مزید دو کروڑ روپے کی ادائیگی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود اسی ادارے سے وابستہ پانچ کارکن صحافیوں سمیت متعدد ملازمین کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف کارکنوں کے معاشی استحصال کے مترادف ہے بلکہ سرکاری اشتہارات کی پالیسی پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اشتہارات کسی میڈیا ادارے کا بلاشرکت غیرے حق نہیں بلکہ عوام کے ٹیکس سے حاصل ہونے والے وسائل ہیں۔ حکومت کو یہ اختیار اور ذمہ داری دونوں حاصل ہیں کہ سرکاری اشتہارات کے اجراء اور ادائیگی کو میڈیا کارکنوں کے قانونی حقوق، اجرتوں کی بروقت ادائیگی، ملازمت کے تحفظ اور مقررہ اوقاتِ کار کی پابندی سے مشروط کرے۔پی ایف یو جے ورکرز نے وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا

کہ میڈیا اداروں کو سرکاری اشتہارات کی ادائیگی سے قبل کارکن صحافیوں اور دیگر ملازمین کی تنخواہوں، واجبات، ملازمت کے تحفظ اور لیبر قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کا مؤثر نظام وضع کیا جائے۔ جو ادارے سرکاری خزانے سے اربوں روپے حاصل کرتے ہیں، انہیں کارکنوں کو بے روزگار کرنے کی کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے کارکن صحافیوں اور میڈیا ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے حالیہ اقدامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ عدالت کی ہدایات پر مکمل اور فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔پی ایف یو جے ورکرز کے رہنماؤں نے کہا کہ میڈیا کی آزادی صرف اداروں کے مالکان یا ایڈیٹوریل پالیسی کا نام نہیں؛ میڈیا کی آزادی کا اصل ستون وہ صحافی اور کارکن ہیں جو کم اجرت، غیر یقینی ملازمت اور دباؤ کے باوجود عوام تک خبر پہنچاتے ہیں۔ اگر یہی کارکن معاشی عدم تحفظ کا شکار ہوں گے تو آزاد اور ذمہ دار صحافت بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔انہوں نے ملک بھر میں پی ایف یو جے اور اس سے منسلک یونینز کے تمام دھڑوں سے بھی اپیل کی کہ کارکن صحافیوں کے روزگار اور حقوق کے تحفظ کے معاملے پر اپنے اختلافات ختم کرکے فوری طور پر متحد ہوں اور مشترکہ جدوجہد کے لیے متفقہ لائحہ عمل اختیار کریں۔پی ایف یو جے ورکرز نے واضح کیا کہ کارکن صحافیوں کی برطرفیوں کا سلسلہ فوری طور پر نہ روکا گیا اور سرکاری اشتہارات کو کارکنوں کے حقوق سے مشروط نہ کیا گیا تو صحافتی برادری اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے بھرپور اور منظم احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

اعظم نذیر بھول گئے ہیں تو میں یاد دلادوں نواز شریف جب تقریباً ایک سال جیل میں تھے تو انہوں نے کتنی دفعہ علاج کروایا؟اسد قیصر دورانِ حراست نواز شریف کے علاج کی تفصیلات تاریخوں کے ساتھ سامنے لے آئے










