
ملکی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے نئے صوبوں کے قیام کا ایشو نکالا گیا ہے ۔۔ جب گھر میں آگ لگی ہو تو گھر کو تقسیم کرنے کی بجائے آگ بجھائی جاتی ہے ، پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلاکر موجودہ صورتحال پر اعتماد میں لیا جائے ۔ مولانا فضل الرحمان
اس اقدام کو سراہتے ہیںبعض اوقات تصویریں بولتی ہیں دیر میں منعقدہ جرگے کے دوران آئی جی ایف میجر جنرل راؤ عمران سرتاج نے مشران کے رُوبرو زمین پر بیٹھ کر خطاب کیا اور یہی جرگے کی اصل روح ہوتی ہے انہوں نے پروٹوکول کی دھجیاں بکھیر کر عملی طور بہت خوبصورت پیغام دیا کاش کہ اس پر ہمارے دیگر سول و ملٹری افسران بھی عمل کرتے ہوئے خود کو زمینی خدا سمجھنا چھوڑ دیں انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا (نارتھ) کی زیرِ صدارت دیر اپر اور دیر لوئر کے مشران، عمائدین اور متعلقہ انتظامی و سکیورٹی حکام کے ساتھ ایک اہم گرینڈ جرگہ منعقد ہوا، جس میں دونوں اضلاع کی موجودہ امن و امان کی صورتحال کا جامع جائزہ لیا گیا اور پائیدار امن کے قیام کے لیے مشترکہ اور مربوط لائحۂ عمل پر غور کیا گیا۔

جرگے میں کمشنر مالاکنڈ ڈویژن، ریجنل پولیس آفیسر مالاکنڈ، کمانڈنٹ دیر سکاؤٹس، ڈپٹی کمشنرز دیر اپر و لوئر، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز دیر اپر و لوئر سمیت ملک و مشران اور عمائدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر آئی جی ایف سی خیبر پختونخوا (نارتھ) میجر جنرل راؤ عمران سرتاج نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دیر اپر اور دیر لوئر میں پائیدار امن، استحکام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت، سکیورٹی فورسز، پولیس اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور عوام کے باہمی تعاون اور یکجہتی سے علاقے میں امن دشمن عناصر اور خوارج کے عزائم کو ناکام بنایا جائے گا

۔ دو ہزار اٹھارہ میں تبدیلی کی ہوا چلی اور عمران خان بازی لے اڑا۔ دو ہزار بائیس میں عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو وزارت عظمیٰ کا منصب شہبازشریف کے حصے میں چلا گیا۔ دو ہزار چوبیس کے الیکشن میں سندھ سے کلین سوئپ کرنے کے باوجود بلاول بھٹو وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے باہر ہو گئے ۔انہوں نے پی ٹی آئی کو ساتھ ملانے کی بھرپور کوشش کی لیکن جب پی ٹی آئی نے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا تو بلاول بھٹو اس وقت بھی شدید ناراض ہو گئے تھے ۔ کیونکہ اقتدار ان کی مٹھی میں آتے آتے ریت کی طرح پھسل گیا تھا۔ ۔ یاد کریں جب صدر زرداری نے اپنے اکلوتے اور ہونہار بیٹے کو سیاست میں باضابطہ طور پر لانچ کیا۔ اس وقت وہ تازہ تازہ برطانیہ سے لوٹے تھے ۔ نہ لہجہ پاکستانی تھا اور نہ ہی سوچ مقامی ۔ ملکی مسائل تو دور انہیں سندھ اور کراچی کے مسائل کا بھی کوئی خاص ادراک نہ تھا۔ زرداری صاحب نے ان کیلئے بہترین سیاسی اتالیق مقرر کئے ۔ رضا ربانی ،شیری رحمٰن، نیربخاری،یوسف رضا گیلانی اور راجا پرویز اشرف جیسے جہان دیدہ سیاست دانوں کی قربت کی بدولت بلاول چند برسوں میں سیاست کے سارے دائوپیچ سیکھ گئے ۔آج وہ ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں۔ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں

۔ملک کے وزیرخارجہ کے طور پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔حکومت میں رہتے ہوئے اپوزیشن لیڈر کا کردار نبھانا بھی سیکھ چکے ہیں۔ وزارت عظمیٰ کی کرسی اور ان کے درمیان صرف تین سال کا فاصلہ باقی تھا۔اب وہ اور ان کی پوری جماعت بڑی بے صبری کے ساتھ شہبازشریف کی حکومت کی مدت پوری ہونے کا انتظار کر رہی تھی ۔نئے الیکشن کی پلاننگ بھی ہو رہی تھی ۔ حال ہی میں انہوں نے پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مل بیٹھنے کی آفر بھی کی تھی ۔اشارے کنائے میں وزیراعظم شہبازشریف کو تحریک عدم اعتماد لانے کی دھمکی بھی دی تھی ۔ وہ موروثی سیاست کی ایک ایسی طاقتور علامت بن کر ابھر رہے تھے جسے شکست دینا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن تھا لیکن۔۔۔!!!اچانک سے ملک میں صوبوں کی تقسیم کا ایشو کھڑا ہو گیا۔ نئے انتظامی یونٹس بنانے کے مجوزہ پلان نے بلاول بھٹو کے سارے خواب چکنا چور کر دیئے ہیں۔ وزارت عظمیٰ کی وہ کرسی جو محض دو قدم کی دوری پر تھی ۔ ایک بار پھر قریب آتے آتے ۔ یکایک بہت دور چلی گئی ۔یہی وجہ ہے کہ بلاول آج پھر ناراض ہیں۔اسی لئے انہوں نے آج کل دوبارہ چپ سادھ رکھی ہے ۔ نہ وہ مسلم لیگ ن پر گرج رہے ہیں ۔نہ وہ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ پر برس رہے ہیں۔ ان کا گلہ اپنی جماعت سے ہے ۔ان کی ناراضی صدر پاکستان سے ہے ۔ اصل میں بلاول بھٹو کو یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ اگر مجوزہ پلان کے تحت صوبہ سندھ پانچ انتظامی یونٹس میں تقسیم ہوگیا تو پیپلزپارٹی کے سر پر نہ توآسمان باقی رہے گا اور نہ ہی پیروں تلے زمین ۔ آپ یقیناً میری اس بات پر حیران ہونگے کہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹس پیپلزپارٹی کی سیاست یا بلاول بھٹو کے مستقبل پر کیسے اثر انداز ہونگے ؟؟؟آپ ذرا بات کو سمجھیں۔

پیپلزپارٹی کی سیاسی طاقت کا اصل منبع صوبہ سندھ ہے ۔ سندھ میں صرف پیپلزپارٹی ہی واحد سیاسی قوت نہیں۔ پیرپگاڑا کی مسلم لیگ فنکشنل لگ بھگ چار اضلاع میں صوبائی اسمبلی کی چار چھ نشستیں ہر الیکشن میں نکال سکتی ہے ۔ اسی طرح قوم پرست سیاسی جماعتوں کا ایک پریشر گروپ بھی اندرون سندھ موجود ہے ۔سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن میں مولانا فضل الرحمٰن کی جے یوآئی ف کا اچھا خاصا ووٹ بینک ہے ۔بدین میں فہمیدا مرزا اور ذوالفقار مرزا۔۔ جبکہ خیرپور میں نواب آف خیرپور پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں۔ یہ تمام وہ دھڑے ہیں جنہیں صدر آصف علی زرداری نے اپنی مفاہمت کی سیاست کے ذریعے پچھاڑا۔کسی کو اپنے ساتھ ملا لیا۔

اور کسی کے گرد ایسا حصار کھینچ دیا کہ وہ چاہتے ہوئے بھی آگے نہ بڑھ سکا۔اور تھک ہار کر خاموش ہو کر بیٹھ گیا۔ نواب آف خیرپور، ذوالفقار مرزا اور پیرپگاڑا اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ یہ لوگ عرصہ دراز سے خاموش ہیں۔ ان میں سے بعض تو وقتی طورپر سیاست سے لاتعلق بھی ہوگئے ۔یا لاتعلق کر دیئے گئے ۔ لیکن ایسا نہیں کہ وہ سندھ کی سیاست میں اجنبی ہیں۔ ان سب کا اپنے اپنے حلقوں میں مناسب ووٹ بینک موجود ہے ۔ وہ پیپلزپارٹی کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں ۔ اگر انہیں لیول پلیئنگ فیلڈ دستیاب ہو تو وہ اندرون سندھ کے ہر ضلعے میں پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں۔ اب اگر آپ صوبوں کی تقسیم کا مجوزہ منصوبہ دیکھیں تو سندھ کو پانچ انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کا منصوبہ ہے ۔ نمبر ون کراچی ،نمبر ٹو حیدرآباد،نمبر تھری میر پور خاص، نمبر فور سکھر اور نمبر فائیو لاڑکانہ ۔۔مجوزہ پلان کے تحت اگر کراچی اور حیدرآباد دونوں الگ الگ انتظامی یونٹس بن جائیں تو پیپلزپارٹی وہاں ایم کیوایم پاکستان اور پی ٹی آئی کا مقابلہ کیسے کرے گی ۔؟؟؟اسی طرح میرپورخاص میں مسلم لیگ فنکشنل کی جڑیں انتہائی مضبوط ہیں۔وہ مسلم لیگ ن ،ایم کیوایم پاکستان اور پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر وہاں پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دے سکتی ہے ۔ رہ گئے لاڑکانہ اور سکھر۔۔ تو ان دونوں انتظامی یونٹس میں پی ٹی آئی ، جے یوآئی ف،ایم کیوایم پاکستان، قوم پرست جماعتوں کا ایک وسیع ووٹ بینک موجود ہے ۔ اگر یہ ساری جماعتیں سکھر اور لاڑکانہ کے انتظامی یونٹس میں اپنی حکومت نہ بنا سکیں تو بھی وہاں ایک مضبوط اپوزیشن بن کر ابھر سکتی ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو پیپلزپارٹی کا یہ بیانیہ ختم جائے گا کہ وہ سندھ دھرتی کی اصل وارث ہے ۔ یہ تاثربھی مٹ جائے گا کہ سندھ میں سیاہ وسفید کی مالک پیپلزپارٹی ہے ۔ نئے انتظامی یونٹس کی بدولت پیپلزپارٹی کا یہ راج سنگھاسن گرنے والا ہے ۔ بلاول بھٹو زرداری کو جس ووٹ بینک کا زعم تھا۔ وہ ووٹ بینک اب تقسیم ہونے والا ہے ۔ اور یہ تقسیم کسی سیاسی انجیئرنگ کی بدولت نہیں ہوگی بلکہ پیور آرگینک ہوگی ۔آپ سندھ کے ووٹر کو دوش نہیں دے سکتے ۔ اصل میں پچھلے کئی برسوں سے انکے پاس پیپلزپارٹی کے سوا کوئی دوسرا آپشن ہی نہیں تھا۔ وہ مجبوری میں تیر پر ٹھپے لگاتے رہے ۔ کل کلاں جب ہر یونین کونسل میں پیپلزپارٹی کے مخالف ٹکر کا امیداوار کھڑا ہوگا۔ ووٹرز کوایک دوسری چوائس دستیاب ہو گی ۔ وہ فیصلہ کرنے میں آزاد ہوگا۔ میں آپ کو گارنٹی دینے کو تیار ہوں۔ آپ سندھ میں سیاسی جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کریں۔پولنگ سٹیشنز کو خوف اور دبائو سے آزاد کر دیں۔ پوری دنیا کو پتا چل جائے گا کہ پیپلزپارٹی سندھ کے عوام میں کتنی مقبول ہے ۔ بلاول بھٹو کی ناراضی اور خاموشی کی اصل وجہ بھی یہی ہے کہ ان کی مقبولیت کا راز کھلنے والا ہے ۔ پندرہ بیس سال کی محنت سے انہوں نے جو بیانیہ بنایا تھا۔ اس بیانیئے کی قلعی اب کھلنے والی ہے ۔ سندھ اب صرف پیپلزپارٹی کی ملکیت نہیں رہے گا۔ بلکہ اس کے مالک سندھی ہونگے ،مہاجر ہونگے ،مسلم لیگ فنکشنل،مسلم لیگ ن ، پی ٹی آئی اور جے یوآئی ف سب اقتدار

سابق وفاقی وزیر و سینیئر مسلم لیگی مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق نے عمران خان کا سپریم کورٹ کی طرف سے الشفاء ہسپتال علاج کرانے کے فیصلے کو خوش ائین قرار دے دیا اس سے عدلیہ کا اعتماد بحال ہوگا خواجہ سعد رفیق










