تازہ تر ین

افغانیوں کو پراپرٹی رینٹ پر دے گا اس کے خلاف بھرپور ایکشن ہوگا۔۔پیمرا اور سیکرٹری اطلاعات کے لیے وزیر اعظم ان ایکشن۔ افغانستان کی طرف سے طالبان کی جانب سے کسی بھی پراکسی کا وحشیانہ جواب دیا جائے گا۔ تحریک طالبان کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رھے گا اور پاکستان ان کے سھولت کاروں کاروں کو کرش کرے گ۔بھارت کو ایک اور دھچکا تاجکستان نے ایانی ائیر بیس کا کنٹرول سنبھال لیا۔ ”پاکستان نے بھارت کےسات خوبصورت، نئے طیارے تباہ کرے“ ٹرمپ کے بیان سے بھارتی تلملا اٹھے!۔شمالی وزیرستان میں آپریشن 5 جوان ماں دھرتی پر قربان۔شمالی وزیرستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں جب خوارج کے ساتھ شدید فائرنگ کا تبادلہ 40 دھشت گرد ھلاک* کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا۔ ۔پاکستان فورسز کی وسیع پیمانے پر نقل و حرکت۔منگلا گجرنوالہ کورز کے ساتھ 37 انفنٹری اور ارمرڈ ڈویژن کی نقل و حمل کے ساتھ گن میزائل اور 2 ڈیو آرٹلری کی تیاریاں مکمل۔پنجاب میں بیورو کریسی اور پولیس میں اضطراب ھلچل اور بھت کچھ۔ ملک بھر میں غیر یقینی صورتحال خوف کے ساے۔ مھنگای لا قانونیت اور پاکستان میں دھشت گردی کے واقعات۔ ۔ایک ماہ 200 قتل 68 اغواء اور 32 پولیس مقابلے سمیت خودکشیوں سے 22 افراد جان بحق۔پاکستان میں حکومت کی ناقص پالیسیوں سے لوگ چھوڑنے پ مجبور۔افغانستان بھارت کا چمچہ اور نمک حرامی سے باز اے خواجہ اصف۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ریاض میں منعقدہ فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کے موقع پر ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کے صدر اور چیف ایگزیکٹیو بورگا بغینڈے (Børge Brende) سے ملاقات ہوئی۔* یہ ملاقات عالمی اقتصادی فورم کی قیادت کی درخواست پر ہوئی، تاکہ وزیراعظم کو آئندہ سال جنوری میں ڈیووس میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کی باضابطہ دعوت دی جا سکے۔ وزیراعظم نے پاکستان اور عالمی اقتصادی فورم کے مابین مضبوط روابط کو سراہا اور فورم کے عالمی سطح پر کاروباری اور جدت پسند نیٹ ورک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو مزید گہرا کرنے میں پاکستان کی دلچسپی کا اظہار کیا۔ 2026 کے عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کی دعوت کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ آئندہ برس ڈیووس میں پاکستان بھرپور نمائندگی کرے گا۔ پاکستان کی معیشت کے بارے میں گفتگو کرتے کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے حکومت کی ساختی اقتصادی اصلاحات پر روشنی ڈالی جن کی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط، سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل تبدیلی پر خصوصی توجہ مرکوز ہے۔ انہوں نے گزشتہ 18 مہینوں میں بہتر میکرو اکنامک اشاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کی توجہ برآمدات کے فروغ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، نوجوان افرادی قوت اور آئی ٹی کے شعبوں میں ترقی پر مرکوز ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان کی زرعی معیشت کے لیے انتہائی ضروری غذائی تحفظ کے مضبوط نظام پر عالمی اقتصادی فورم کی شراکت کا خیرمقدم کیا اور خوشحالی کے راستے کے طور پر امن کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے مابین روابط کے لیے ایک اہم پل ہے۔ بورگا بغینڈے نے عالمی اقتصادی فورم کے ساتھ پاکستان کے فعال کردار پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ باہمی طور پر فائدہ مند شراکت داری کو فروغ دینے میں پاکستان کی جانب سے مسلسل حمایت کیلئے پر امید ہیں۔

‎ کیا ڈالر کی اجارہ داری فوری ختم ھونے جا رھی ھے‎-عالمی سیاست میں ہر قدم پھونک پھونک کر ‎رکھنا ھوتا ہے اس وقت دنیا میں ڈالر کی اجارہ داری، پیٹرو ڈالر، ریئر ارتھ ایلیمنٹ، چپ، ڈیٹا اور انرجی کی جنگ جاری ھےساتھ ساتھ جنگی نقطہ نظر سے اسلحہ و بارود کی جگہ جدید جنگی جہاز، بی وی آر میزائیل اور راڈار نے لے لی ھے- ڈرون میدان حرب میں خطرناک اور انقلابی تبدیلی لے کر آئے ہیں -‎اگر امریکہ روس کے 330 ارب ڈالر فریز نہ کرتا تو دنیا ڈالر کی اجارا داری سے اتنی تیزی سے خوفزدہ نہ ہوتی- سینٹرل بینکوں کے پاس اس وقت سونے کی مالیت امریکی ٹریژری بانڈز سے زیادہ ہو گئی ہے، 2024 تک سینٹرل بینکوں کے پاس تقریباً 36 ہزار ٹن سونا موجود ہے جو عالمی سونے کا تقریباً 18 فیصد ہے، جبکہ امریکی ٹریژری ہولڈنگز اب بھی آٹھ ٹریلین ڈالر کے قریب ہیں لیکن ان کا تناسب کم ہو رہا ہے۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق 2022 میں 1,082 ٹن، 2023 میں 1,037 ٹن اور 2024 کے پہلے تین سہ ماہی میں تقریباً 800 ٹن سونا خریدا گیا۔

دنیا میں سالانہ سونے کی کان کنی صرف تین ہزار سے ساڑھے تین ہزار ٹن تک ہوتی ہے، سونے کی خریداری بڑھ رہی ہے۔‎اب ڈی ڈالرائزیشن کے اسباب کی بات کریں تو پانچ بڑی وجوہات ہیں۔ پہلا 2008 کا اقتصادی بحران جب دنیا نے پہلی بار محسوس کیا کہ ڈالر پر اندھا بھروسہ خطرناک ہے اور کوئنٹی ٹیٹو ایزنگ سے ڈالر کی قدر گھٹ گئی۔ دوسرا 2022 میں روس کے 330 بلین ڈالر کے ریزرو فریز ہونے سے دنیا بھر کے سینٹرل بینک ڈر گئے کہ کل ان کا نمبر بھی آ سکتا ہے۔ تیسرا برکس پلس ممالک کا عروج چین، بھارت، سعودی عرب، برازیل اور روس مل کر متبادل ادائیگی نظام جیسے ایم بریج اور سی آئی پی ایس بنا رہے ہیں۔ چوتھا 1971 کے نکسن شاک کے بعد ڈالر کی خریداری کی طاقت 95 فیصد کم ہو چکی ہے اور سونا حقیقی قدر کا محافظ بن رہا ہے۔ پانچواں جیو پولیٹیکل شفٹ جہاں امریکہ کی عالمی طاقت کمزور ہو رہی ہے اور چین، روس اور مشرق وسطیٰ نئے بلاکس بنا رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ دنیا ڈی ڈالرائزیشن کی طرف بڑھ رہی ہے، لیکن یہ عمل آہستہ آہستہ ہو رہا ہے، راتوں رات نہیں۔‎اب سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ یہ سب آسانی سے ہونے دے گا؟ جواب ہے نہیں۔ وہ سوئفٹ کے متبادل نظاموں پر پابندیاں لگانے کی کوشش کر رہا ہے، ڈیجیٹل ڈالر جیسے سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی تیار کر رہا ہے، سعودی عرب اور بھارت پر پیٹرو ڈالر برقرار رکھنے کا دباؤ ڈال رہا ہے، کومکس پر سونے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے الزامات ہیں، اور آئی پی ای ایف یا یو ایس ایم سی اے جیسے نئے تجارتی معاہدوں سے ڈالر کو مضبوط بنا رہا ہے۔ امریکہ ہار نہیں مانے گا، لیکن ڈالر کی اجارہ داری ضرور ختم ہو رہی ہے۔‎پیٹرو ڈالر سسٹم 1970 کی دہائی میں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان معاہدے سے وجود میں آیا، عالمی تیل کی تجارت امریکی ڈالر میں ھو گی ۔ اس سے نہ صرف ڈالر کی عالمی طلب بڑھی بلکہ سعودی عرب جیسے تیل برآمد کرنے والے ممالک اپنی آمدنی کو امریکی ٹریژری بانڈز میں لگانے لگے، جس سےامریکہ کی معاشی اجارہ داری مضبوط ہوئی ۔ تاہم، اب یہ سسٹم شدید دباؤ کا شکار ہے۔ جیو پولیٹیکل تناؤ، چین کی یوآن کی انٹرنیشنلائزیشن، اور برکس (BRICS) ممالک کی ڈی ڈالرائزیشن کی کوششیں اسے کمزور کر رہی ہیں۔ امریکی ٹریژری ہولڈنگز کم ہو رہی ہیں، جو پیٹرو ڈالر کی بنیاد کو ہلا رہا ہے۔‎ اس سال چین نے تیل کی تجارت میں یوآن کی استعمال کو مزید فروغ دیا ہے۔ شنگھائی انٹرنیشنل انرجی ایکسچینج (INE) پر یوآن بیسڈ آئل فیوچرز ٹریڈنگ بڑھ گئی ہے، جو سونے سے بیکڈ ہے تاکہ اعتماد پیدا ہو۔ ایشیا سوسائٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق، خلیجی ممالک، خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، امریکہ کے ساتھ اپنے سیکیورٹی تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے چین کے ساتھ معاشی روابط مضبوط کر رہے ہیں۔ روس اور سعودی عرب جیسی ممالک اب تیل کی کچھ فروخت یوآن یا دیگر کرنسیوں میں کر رہے ہیں، جو 2022 کے روس پر پابندیوں کے بعد تیز ہوایوآن بیسڈ تیل تجارت، جسے عام طور پر “پیٹرو یوآن” کہا جاتا ہے، چین کی اس کوشش کا حصہ ہے جو امریکی ڈالر کی عالمی اجارہ داری کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ سسٹم 2018 میں شروع ہوا جب چین نے شنگھائی انٹرنیشنل انرجی ایکسچینج (INE) پر یوآن میں تیل کے فیوچر کنٹریکٹس متعارف کروائے، جو سونے سے بیکڈ ہیں تاکہ اعتماد پیدا ہو۔ ‎، برکس کی توسیع، بھارت، برازیل اور جنوبی ‎افریقہ سے مقامی کرنسیوں میں تجارت بڑھ رھی ھے ۔ ‎گریٹ ری سیٹ 2030 کی بات کریں تو یہ ورلڈ اکنامک فورم کا ایک تجویز کردہ وژن ہے، کوئی خفیہ منصوبہ نہیں۔ اس میں سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسیاں، کاربن ٹیکس، گرین اکانومی اور ڈیجیٹل آئی ڈی متوقع ہیں ‎ ایک ملٹی پولر کرنسی ورلڈ کا وجود عمل میں آ رھا ھے جہاں ڈالر 40 فیصد، یوآن 20 فیصد، یورو، سونا اور کریپٹو حصہ لیں گے۔ برکس کی سونے سے بیکڈ کرنسی 2025 سے 2030 تک ممکن ہے لیکن ابھی صرف بات چیت ہے۔ بٹ کوائن کو ڈیجیٹل گولڈ کہہ کر سینٹرل بینکوں کے ریزرو میں ایک سے پانچ فیصد شامل ہو سکتا ہے۔ ڈالر کا خاتمہ نہیں ہوگا، لیکن اس کی اجارہ داری ضرور ختم ہو جائے گی۔

شمالی وزیرستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں جب خوارج کے ساتھ شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا تو وطن کے ان پانچ بیٹوں نے اپنی جان کی پرواہ نا کرتے ہوئے دشمن پر شدید جوابی وار کیا اور بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنی زندگی اس وطن کے نام کر دی اس قوم کے لئے اپنے بچوں کو یتیم کرگئے

وفاقی حکومت نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے لیے ڈی جی وقار الدین کو عہدے سے ہٹا کر سید خرم علی کو نیا سربراہ مقرر کردیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، پولیس سروس گریڈ 21 کے سید خرم علی، جو اس وقت حکومتِ پنجاب کے تحت خدمات انجام دے رہے تھے، کوتبدیل کرکے فوری طور پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔ایک اور نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ ڈی جی وقارالدین سید، جو پولیس سروس آف پاکستان کے گریڈ 20 کے افسر ہیں، کو ان کے عہدے سے ہٹا کر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔یہ تقرری الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016ء کی شق 29(3) میں 2025ء کی ترمیم اور سول سرونٹس ایکٹ 1973ء کی شق 10 کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔حکم نامے کے مطابق، سید خرم علی کی تعیناتی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی اور اگلے احکامات تک برقرار رہے گی۔

ٹاپ بریکنگ 🔹 استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان مذاکرات اکتوبر 2025 میں منعقد ہوئے۔وزیر اطلاعات 🔹 پاکستان نے افغان طالبان سے بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج (TTP) اور فتنہ الہند (BLA) کی سرحد پار دہشت گردی پر بارہا احتجاج کیا۔وزیر اطلاعات و نشریات🔹 پاکستان نے افغان طالبان حکومت سے دوحہ معاہدے کے تحریری وعدوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔وزیر اطلاعات و نشریات🔹 افغان طالبان کی جانب سے پاکستان مخالف دہشت گردوں کی مسلسل حمایت پر پاکستان کی کوششیں بے سود رہیں۔وزیر اطلاعات و نشریات🔹 طالبان حکومت افغان عوام کی نمائندہ نہیں اور اپنی بقا کے لیے جنگی معیشت پر انحصار کرتی ہے۔وزیر اطلاعات🔹 افغان طالبان، افغان عوام کو غیر ضروری جنگ میں دھکیلنا چاہتی ہے۔وزیر اطلاعات🔹 پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے عوام کے امن و خوشحالی کے لیے قربانیاں پیش کیں۔وزیر اطلاعات🔹 پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ متعدد مذاکرات کیے مگر افغان فریق نے پاکستان کے نقصانات سے بے نیازی دکھائی۔وزیر اطلاعات🔹 چار برسوں کی جانی و مالی قربانیوں کے بعد پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔وزیر اطلاعات🔹 قطر اور ترکیہ کی درخواست پر پاکستان نے امن کے لیے ایک اور موقع دیا۔وزیر اطلاعات🔹 دوحہ اور استنبول میں مذاکرات کا واحد ایجنڈا دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو روکنا تھا۔وزیر اطلاعات🔹 پاکستان قطر اور ترکیہ کا شکر گزار ہے جنہوں نے مذاکرات کی میزبانی اور مخلصانہ کوششیں کیں۔وزیر اطلاعات🔹 مذاکرات کے دوران افغان طالبان وفد نے پاکستان کے منطقی اور جائز مطالبات تسلیم کیے۔وزیر اطلاعات🔹 پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اور ناقابلِ تردید شواہد پیش کیے۔وزیر اطلاعات🔹 افغان طالبان اور میزبان ممالک نے پاکستان کے شواہد تسلیم کیے مگر کوئی یقین دہانی نہ کرائی گئی۔وزیر اطلاعات🔹 افغان وفد نے مذاکرات کے بنیادی مدے سے انحراف کیا اور ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کیا۔وزیر اطلاعات🔹 افغان طالبان نے الزام تراشی، ٹال مٹول اور حیلے بہانوں کا سہارا لیا اور مذاکرات کسی قابلِ عمل نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔وزیر اطلاعات🔹 پاکستان قطر، ترکیہ اور دیگر دوست ممالک کا ان کی مخلصانہ کوششوں پر شکر گزار ہے۔ وزیر اطلاعات 🔹 پاکستان کے عوام کی سلامتی قومی ترجیح ہے اور حکومت دہشت گردی کے خلاف ہر ممکن اقدام کرتا رہے گا۔وزیر اطلاعات🔹 حکومت پاکستان دہشت گردوں، ان کے ٹھکانوں اور سہولت کاروں کو نیست و نابود کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔وزیر اطلاعات

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved