تازہ تر ین

14 وزارتوں میں کھربوں روپے کی کرپشن پر اھم ادارے کی رپورٹ نے ھلچل مچا دی۔لیکچیز بند نہ کرنا اور بوجھ عوام پر ڈال دیا چینی پٹرول اور بجلی چوری جیسی لیکچیز 8 اھم ترین وزراء کھربوں روپے کی کرپشن میں ملوث ہونے کے باوجود دیدہ دلیری سے ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث۔ ۔افغان طالبان اور بھارت کا گٹھ جوڑ بے نقاب۔سینٹ کی نشستوں پر نوٹوں کی بوریوں کے منہ کھل گئے۔فیلڈ مارشل صدر مملکت نھی بن رھے پیکا ایکٹ ان ایکشن۔مولانا فضل الرھمان کی سینٹ اور مخصوص نشستوں کے لئے ن لیگ سے مک مکا۔رانا سناالہ امیر مقام کی فضل الرھمان سے ملاقات مک مکا۔بلوچستان کے علاقے لورالائی میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کی طرف سے 10 پنجابیوں کو شہید کردیا گیا، تعلق ڈیرہ غازی خان سے تھا۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

بزنس گروپ اور ایف آئی اے اہلکاروں کا گٹھ جوڑ۔ اظہر سید معاملہ بہت سادا ہے ۔ریاست کو اعلی سطحی تحقیقات کرنا ہیں۔ایف آئی اے کے بعض اہلکاروں اور بعض کریمنل کا کوئی غیر مقدس گٹھ جوڑ تو نہیں جو توہین مذہب کے قوانین کا فائدہ اٹھا رہا ہے ۔ناموس رسالت کا نام لے کر عام مسلمانوں کو گمراہ کر رہا ہے ۔جب ملزمان کی بڑی تعداد الزام لگاتی ہے انہیں لڑکی کے زریعے ٹریپ کر کے بلاسفیمی میں پھنسایا گیا ہے ۔ریاست کی پریمیئر ایجنسی کے طور پر ایف آئی اے کی زمہ داری تھی ان الزامات کی جامع تحقیقات کرتی

۔ایسا کبھی نہیں کیا گیا ۔کریمنل لوگوں اور بعض اہلکاروں کے غیر مقدس اتحاد کا موقف ہے منظم انداز میں بلاسفیمی کی جا رہی ہے ۔سینکڑوں نوجوان اس کا حصہ ہیں۔پریمئر ایجنسی کے طور پر ایف آئی اے کی زمہ داری تھی وہ توہین آمیز مواد بنانے والے تخلیق کاروں تک پہنچتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا ۔ان نوجوانوں کو توہین کا ملزم بنایا گیا جن کے فون سے توہین آمیز مواد ملا ۔ان کریمنلز کی تحقیقات نہیں کی گئیں جو توہین آمیز مواد ملزمان کو بھیج رہے تھے ۔مدعیان اور ملزمان کے فون ریکارڈز کی ٹریفک کے فرانزک سے اصل ملزمان تک پہنچا جا سکتا تھا لیکن پریئمر ایجنسی کے زمہ داران نے ایسا نہیں کیا

۔ملزمان کا ایک ہی موقف تھا انہیں ایک لڑکی کے زریعے ٹریپ کیا گیا ۔پریمئر ایجنسی کے طور پر ایف آئی اے کی زمہ داری تھی وہ اس لڑکی کی تحقیقات کرتی اور معاملہ کی تہہ تک پہنچتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا

اس لڑکی کو کبھی کسی تفتیش میں شامل ہی نہیں کیا گیا ۔پریئمر ادارے کے طور پر ایف آئی اے کی پہلی زمہ داری تھی تحقیقات کرے تمام بلاسفیمی مقدمات میں گھوم پھر کے ڈھائی تین درجن لوگ ہی مدعی کیوں ہیں ۔پچیس کروڑ لوگوں کے ملک میں صرف ڈھائی تین درجن لوگوں کو ہی ان سوشل میڈیا گروپس تک رسائی کیوں ہے جہاں بلاسفیمی مواد شئیر ہوتا ہے ۔ان ڈھائی تین درجن لوگوں کا کوئی گٹھ جوڑ تو نہیں ؟ لیکن ایف آئی اے نے بطور پریئمر ایجنسی اس معاملہ کی تحقیقات ہی نہیں کیں ۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved