تازہ تر ین

چار سال پہلے ٹھیک اس وقت محمود خان اچکزئی عمران خان کے خلاف تحریک چلا رہے تھے۔‏آج وہ بہ ظاہر عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں

چار سال پہلے ٹھیک اس وقت محمود خان اچکزئی عمران خان کے خلاف تحریک چلا رہے تھے۔‏آج وہ بہ ظاہر عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں مگر آج بھی ان کا مطالبہ دستور کی مکمل بحالی اور فوج کی سیاست میں مداخلت کا خاتمہ ہے۔‏سوال یہ ہے کہ جس طرح پی ڈی ایم نے ووٹ کو عزت دو اور دستور کی بالادستی کے نعرے تو لگائے لیکن اقتدار میں آنے کے لیے فوج ہی کے کندھوں کا سہارا لیا، ٹھیک اسی طرح عمران خان بھی فوج کے نیوٹرل ہونے کے بجائے اس کے سیاسی کردار میں نہ صرف اضافے کا باعث بنتے آئے ہیں بلکہ اس وقت بھی وہ خط جرنیلوں ہی کو لکھ رہے ہیں۔ مزید خوف ناک یہ کہ نون لیگ یا پیپلز پارٹی جیسی پارٹیوں کے رہنماؤں کے خلاف بات ہوتی رہی ہے اور ہو سکتی ہے، وہ اب جس طاقت کے ساتھ جا کھڑے ہوئے ہیں، وہ اپنی بنیاد ہی میں یک جمہاعتی آمریت کی خواہاں ہے۔ ‏اس لیے مشروط ساتھ دینے کے بجائے بہتر تھا کہ ایک خاص فاصلہ ضرور رکھتے اور اپنا فوکس فقط جمہوری بالادستی اور دستوری سرفرازی تک محدود رکھتے۔ ‏پی ڈی ایم سے الگ ہونے پر آپ کو گالیاں نہیں پڑی تھیں، مگر ہم دیکھ رہیں کہ آپ کو مستقبل میں عمران خان سے انحراف پر بہت گالیاں پڑنے والی ہیں۔ اب وہ جس پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں، اس میں عمران خان سے اختلاف کا مطلب خود بہ خود غداری اور کرپشن ہے۔‏محمود خان اچکزئی جیسا گھاگ سیاست دان بھی اگر اس کھیل کو نہیں سمجھ سکتا، تو پھر عام افراد کی سمجھ میں کیا خاک آئے گی؟‏عمران خان نے ہائبرڈ رجیم کا جو کھیل رچایا تھا، فوجی اشرافیہ نہ کردار بدلا نہ اسکرپٹ، فقط متبادل اداکار کھڑے کر دیے۔ مائنس عمران خان ہوئے ہیں، اسکرپٹ اور کردار نہیں۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved