تازہ تر ین

موجودگی حکومت داماد کلہاڑا اور لمبی شرررررر ۔کھلاڑی ایک دوسرےسے ہاتھ نہیں ملائے یہ کرکٹ کی تاریخ کا ایک سیاہ باب تھا۔۔مجھے نہیں لگتا کہ کسی اوپنر کو اتنے مواقع دیے گئے ہوں جتنے صائم کو ملے۔ھای کورت اسلام آباد کے جج جسٹس جہانگیری کو کام سے روک دیا گیا۔ھای کورت اسلام آباد نے چئیرمین پی ٹی اے کو برطرف کر دیا۔میجرجنرل کی برطرفی۔ھای کورت اسلام آباد نے چئیرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر کی تعیناتی کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔جسٹس ستار نے جنرل کو چارج شیٹ کر دیا کیا چئیرمین پی ٹی اے عھدے کا چارج چھوڑے گئے اسلام آباد ھای کورت ان ایکشن۔خفیہ اداروں کی رپورٹ میں بڑے انکشاف 8 بڑے یو ٹیوبر بھارت کے 22 چینل بھی شامل۔بنوں ھسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ لکی مروت آپریشن میں تیزی۔پاکستان ایشیا کپ میں باقی میچز کھیلے گا پاکستان کو عبرت ناک شکست دلوانے والوں کو کٹہرے میں لایا جائے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

محمد عامر🗣️صائم ایوب کو اب پرفارم کرنا ہوگا، وہ اب نئے کھلاڑی نہیں رہے بلکہ ٹیم کے سینیئر رکن ہیں۔ میرے کھیلنے کے دور میں مجھے نہیں لگتا کہ کسی اوپنر کو اتنے مواقع دیے گئے ہوں جتنے صائم کو ملے ہیں

. . . . . . . . . . . . . . . . انشائیہشہرت گزیدہ شہرت کا شوق کسے نہیں چراتا؟کون ہے جو شہرت کے مرض کا مریض نہیں اور مرض بھی ایسا کہ جس کا شکار بیماری کو خود اپنے دامن و دل میں پناہ دیتا ہے۔ خود خریدتا ہے، منہ مانگے دام خرچ کرتا ہے ۔پھر بھی حسرت اس کے دل میں باقی رہتی ہے کہ کچھ زیادہ خرچ کرتا ۔شہرت کے خریداروں میں ہر عمر ، عقیدے اور رنگ و نسل کا آدمی آپ کو نظر ائے گا۔کون ہے جو شہرت کے لیے سنجیدہ یا رنجیدہ نہیں ۔ اور آپ تو جانتے ہیں کہ ہم جتنا جلدی سنجیدہ یا رنجیدہ ہوتے ہیں ؛اس سے زیادہ تیزی سے غیر سنجیدہ ہونے میں بھی دیر نہیں کرتے۔ابھی ہنس رہےتھے ابھی رو رہے ہیں ۔ابھی ناراض تھے ،ابھی راضی ہو گئے۔ابھی دوست تھے، ابھی دشمن بن بیٹھے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے محبوب سے محبوب چیز کو معتوب اشیاءکے کھاتے میں ڈال دیا ۔ شہرت کی طرح ارادہ اور راستہ بدلنے سے تھکتے ہیں، نہ ڈرتے ہیں ۔یہی سبب ہے کہ گزشتہ کل کی طرح آج بھی ہر فرد شہرت کے لیے سرگرداں اور شعلہ بجاں ہے۔ البتہ حصول شہرت کے ذرائع اور دستیاب وسائل ،خرابیاں اور بے تابیاں سب کی جدا جدا ہوتی ہیں ۔کوئی دین اور دیوانگی کے نام پر شہرت حاصل کرنے میں مصروف ہے ۔تو کوئی دولت کو ہی شہرت کا قبلہ نما اور خدا مانتا ہے ۔کوئی تاریخ کا سہارا لیتا ہے ،توکوئی تلبیس کا۔

کوئی تحقیق کا سہارا لیتا ہے تو کوئی تنقیص کا۔آپس کی بات ہے،انسان جب سے زمین پر آیا ہے ، سہاروں کا اس قدر عادی ہو چکا ہے کہ جینا تو دور کی بات ہے مرنے کے لیے بھی سہارے تلاش کرتا پھرتا ہے۔کون سمجھائے کہ زمینی سہارے بھی تو شہرت کی مانند وقتی ،ناپائیدار اور عارضی ہوتے ہیں۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ شہرت کے شہتیر کے آخری سرے پر بوزنہ بنا بندہ نہ زمین پر اُتر سکتا ہے نہ آسمان کی طرف جا سکتا ہے۔کیونکہ اسے ڈر ہوتا ہے کہ اگر وہ شہتیر سے اترا تو کوئی اور اس پر چڑھ بیٹھے گا۔کیونکہ مبتلائے شہرت کا مقصد نہ بلندی کا حصول ہوتا ہے؛ نہ زمین سے وابستگی ہی اس کا اُصول ہوتا ہے

۔شہرت تو بے سمت سفر ہے؛ جس کی کوئی منزل نہیں ہوتی۔ بے حد و حساب مسافت طے کرنے کے بعد بھی مبتلائے شہرت سے منزل اتنی ہی دور ہوتی ہے ،جتنی آغاز سفر پر تھی۔شاید نسل انسانی کے کوتاہ بینوں کو ہمہ وقت ایسا ہی سفر درپیش رہتا ہے ۔اس سفر کی خرابی یہ ہے کہ شہرت کے پروں پر سوار آدمی پرواز کرتے ہوۓ آخر کار اس مقام پر جا پہنچتا ہے۔جہاں جبری تنہائی اس کا مقدر بنتی ہے ۔خلوت اگر خود اختیاری ہو تو نعمت ہوتی ہے ،جبری ہو تو خواری ہی خواری ہوتی ہے۔ تنہائی کے تاریک جہاں میں جہاں، یہاں وہاں کی تمیز مٹ جاتی ہے،وہاں ،کہاں کی تمیز کہاں رہتی ہے۔شہرت کے دھتکارے ہوۓ کو سارا زمانہ اپنا دشمن ،مدمقابل اور مخالف دکھائی دیتا ہے

۔شہرت اس پرائے مال کی مانند ہوتی ہے، جسے ہم چرا تو لیتے ہیں ، مگر چھپا نہیں پاتے۔پھر انسان بقیہ زندگی اسی لوٹ کے مال کو مسلسل سر اور کندھوں پر اٹھائے اٹھائے پھرتا ہے۔کیونکہ اسے ڈر رہتا ہے کہ کہیں کوئی اس سے یہ مال مسروقہ چھین ہی نہ لے۔اس لیے دانا شہرت سے دور اور بے شعور اس کا قرب چاہتے ہیں ۔اور ہماری ہمیشہ سے یہ مشکل رہی ہے کہ داناؤں کی بات ہمارے پلے نہیں پڑتی۔ ورنہ مرزا غالب نے تو بہت پہلے کہہ دیا تھا ؛ ہوں ظہوری کے مقابل میں خفائی غالب میرے دعوے پہ یہ حجت ہے کہ مشہور نہیں بات تو انہوں نے سچ کہی تھی کہ شہرت ،دلیلِ شرف نہیں ہوتی۔اگرچہ شہرت کا رستہ مختصر اور جلدی طے ہوتا ہے مگر اس کا قیام مستقل نہیں ہوتا۔اس کے برعکس عظمت اپنی قیام گاہ اور افراد نہیں بدلتی ۔ شہرت اس پرندے کی مانند ہوتی ہے جو اپنے شکار کو دلدل میں دھنسا کر نگاہوں سے او جھل ہو جاتا ہے

۔اب ستم کا مارا نہ آگے بڑھ سکتا ہے نہ پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ بلکہ شہرت کے طلبگار کے قریب جانے والا بھی اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ شہرت کی کشتی کتنی ہی برق رفتار کیوں نہ ہو، ہمیشہ اپنے مسافروں کو بیچ منجدھار میں ڈبوتی ہے۔ کسی شے ،شخص یا واقعے کی شہرت، چاہے پورے عہد کو ہی اپنی لپیٹ میں کیوں نہ لے لے؛ انجام گمنامی یا بدنامی ہی ہوتا ہے ۔شہرت معیار کی ضامن ہوتی ہے؛ نہ اعتبار کی دلیل ہوتی ہے۔شہرت کا محور نہ کردار ہوتا ہے نہ اس کا مسکن وقار ہوتا ہے۔ بلکہ شہرت کی بنیاد عموما” کج ادائی اور رسوائی پر ہوتی ہے ۔نیک نام کبھی شہرت کے حصول کی کوشش نہیں کرتا اور بدنام کبھی شہرت کو چھپانے کی ۔ جس شہرت کے لیے دن کو رات کیا جاتا ہے یا رات کہا جاتا ہے۔ عزت و شرف کبھی اسے منہ نہیں لگاتے ۔شہرت کیونکہ سانحہ کی پیداوار ہوتی ہے اس لیے جلد بے وقار ہوتی ہے۔شہرِ شرف میں شہرت کے پر جلتے ہیں؛ اور عظمت کو وہاں گھر پہ گھر ملتے ہیں۔عظمت کے سوتے انسان کے باطن اور بلند کرداری سے پھوٹتے ہیں۔ عظمت کا پودا ذہن وضمیر و ذات سے غذا لیتا ہے؛ تبھی ہمیشہ تروتازہ رہتا ہے۔ اسے خزاں نہیں چھو سکتی۔شہرت ایک مرض لادوا اور وبا ہے؛جس کی شدت میں کبھی کمی نہیں آتی ؛جو پورے سماج کو اور ارد گرد کو بے بیمار تو کر سکتی ہے مگر بیدار نہیں کر سکتی۔اس کا مریض ہل من مزید کی صدائیں دیتا نہیں تھکتا۔تا آنکہ شہرت کا وقت نزع آن پہنچتا ہے۔ شہرت کی بھوک مٹائے نہیں مٹتی۔ کیا خوب کہا گیا ہے کہ شہرت کی بھوک مٹتی نہیں، عظمت کو بھوک لگتی نہیں ۔شہرت کاطلبگار سب کچھ حاصل ہونے پر بھی بھوکا اور پیاسا رہتا ہے۔

شہرت صرف ابن آدم کی میراث ہوتی تو کوئی بات بھی تھی۔شہرت تو وہ بیسوا ہے جو شرفِ آدم پر فریفتہ ہونے کی بجائے کسی لکڑی، پتھر ،پہاڑ، پسٹل یا پتلون پر فریفتہ ہونے لگتی ہے۔مگر جیسے ہی حالات بدلتے ہیں، واقعات کا اثر زائل ہوتا ہے ۔اس کے ساتھ ہی شہرت پر بھی گمنامی کے پردے پڑنے لگتے ہیں اور جس شے یا شخص پر پردے پڑنے لگے یا جس شے پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہو رہی ہو ؛وہ کبھی لائق تحسین اور قابل تقلید نہیں ہوا کرتی۔دور کیوں جائیں، شعراء کے مشہور کلام کو ہی دیکھ لیجئے،وہی مشہور کلام جو کسی وقت شاعر کی شہرت کا باعث تھا ، آخر میں شاعر کے لیے بدنامی کے دروازے کھول دیتا ہے ۔پہلے شاعر کے ساتھ الہامی کا لاحقہ جڑا ہوا ہوتا تھا اور اب جب تک شاعر بد کلامی نہ کرے، شہرت نہیں ملتی ۔شہرت بھی عجیب شے ہے جس کے کندھوں پر سوار ہو جائے اسے اپنا قد بڑا اور کمیت بھاری بھر کم معلوم ہونے لگتی ہے ۔شہرت بات کو فسانہ اور طاقت کو بہانہ بناتی ہے، شہرت کا در جتنی تیزی سے کھلتا ہے اسی تیزی سے بند ہو جاتا ہے۔ شہرت بے وفا اور بے ردا ہوتی ہے؛ عظمت باوفا اور باحیا ہوتی ہے؛ شہرت بے وقار اور بد حواس ہوتی ہے ،عظمت با وفا اور باحواس ہوتی ہے۔عظمت ،دین و دیانت کا گھر ہوتی ہے؛ شہرت عموما” بے ثمر ہوتی ہے۔ عظمت کے سچے موتی سے روشنی کے فوارے پھوٹتے ہیں۔ شہرت کے جھوٹے نگینے وقت کی ذرا سی تپش سے ہی ٹوٹتے ہیں۔ شہرت شباب کی مانند ہوتی ہے؛ تبھی جلد برباد ہوتی ہے ۔شہرت کا گھاؤ ارد گرد کو ضرور زخمی کرتا ہے۔ عظمت ارد گرد کے لیے ہی نہیں، ہر عہد اور فرد کے لیے مرہم اور معیار ہے۔ شہرت گھٹتی بڑھتی چھاؤں ہے؛ شہرت کا ہما کسی کے سر پر بھی بیٹھ سکتا ہے۔ اس کے لیے زمین و زمن، مقام و مسکن اور شرف و شگن کی کوئی قید نہیں۔ اس کے برعکس عظمت دل اور داخلیت کا شجرۀ طیب ہے؛ عظمت انبیاء کی عادت ،عزت اور عترت کا نام ہے۔ عظمت کا لہجہ متین اور مہین ہوتا ہے۔ شہرت کا لہجہ ثقیل اور سنگین ہوتا ہے ۔عظمت صرف عظیم انسانوں کے حصے میں آتی ہے اس کے برعکس شہرت کے لیے انسانوں کی تخصیص ضروری نہیں؛ شہرت، اینٹ، پتھر، مکان، درخت، دریا ،تیر و تبر تک کے حصے میں آتی رہی ہے۔ بھانڈ، بھڑ ،بھڑوے اور بیٹسمین تک سب یکساں طور پر شہرت پا سکتے ہیں۔ معلوم نہیں کب شہرت ان کے قدم چوم لے ۔بھانڈ کی تو ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی پگڑی اور دوسرے کی عزت اچھال دے۔ بھڑ اور بھڑوے کی شہرت کا سبب ہی یہ ہے کہ سب سے پیار جتاتے ہیں مگر جو انہیں منہ لگا لے وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا ۔کتنے ہی بھڑوے بادشاہوں کے درباروں میں شہرت حاصل کر گئے اس سے کہیں زیادہ بھڑوے اج کل بھی درباروں، سرکاروں میں کرسی نشینوں میں شمار ہوتے ہیں ۔مگر نہ کل بھڑووں کو کسی نے عزت کی نگاہ سے دیکھا تھا نہ آج کے بھڑووں کو لائق تعظیم سمجھتا ہے۔ بھینس اور بیٹسمین کی شہرت سے کون واقف نہیں چاہیں تو لٹیا ڈبو دیں ،چاہے تو دودھ کی نہر بہا دیں ۔اس لیے داناؤں کا کہنا ہے کہ شہرت اور عورت کہ قرب سے عقل موٹی ہو جاتی ہے اور موٹاپا تو بیماریوں کی جڑ ہے۔ عقل موٹی ہو تو عظیم الجثہ چیزیں بھی بے وقعت نظر آنے لگتی ہیں۔ ایسے میں حق اور حقیقت کا در کس طرح کھل سکتا ہے۔ سچ اور صداقت کو کیوں کر تلاش کیا جا سکتا ہے جھوٹ اور جہالت سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ ایسی عقل دوسروں کی طاقت اور طبیعت کا اندازہ کر ہی نہیں سکتی نتیجتا شہرت گلے کا طوق اور ملامت کا باعث بن جاتی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز جیسے اداروں کا خارجہ پالیسی کی تشکیل میں اہم کردار ہے، وفاقی وزیر اطلاعاتپاکستان نے بھارت کے گمراہ کن پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا، وفاقی وزیر اطلاعاتپاکستان نے بھارت کی بلاجواز جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، وفاقی وزیر اطلاعاتپاکستان کے بھرپور جواب پر بھارت نے جنگ بندی کی درخواست کی، وفاقی وزیر اطلاعاتچار روزہ جنگ میں پاکستان نے فتوحات کی ایک نئی داستان رقم کی، عطاء اللہ تارڑمودی حکومت اور ہندوتوا نظریئے کو عبرتناک شکست ہوئی، وزیر اطلاعاتبھارت ایک غاصب اور جارح ملک ہے جو مظلوم بننے کی کوشش کر رہا ہے، عطاء اللہ تارڑپہلگام جیسے واقعات کی حقیقت دنیا کے سامنے آشکار ہو چکی ہے، عطاء اللہ تارڑپہلگام واقعہ کے حوالے سے پاکستان نے آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی، عطاء اللہ تارڑپاکستان نے خطے میں پائیدار امن کے لئے ہمیشہ اپنا موثر کردار ادا کیا، عطاء اللہ تارڑہماری دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف اپنے لئے نہیں، دنیا کو محفوظ بنانے کے لئے ہے، عطاء اللہ تارڑبین الاقوامی اصولوں سے روگردانی کرنے والا بھارت مظلومیت کا ڈھونگ نہیں رچا سکتا، عطاء اللہ تارڑبھارت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اب کھیلوں کے میدان تک پہنچ چکا ہے، عطاء اللہ تارڑعسکری میدان میں شکست کے بعد بھارت اب کھیل کے میدان میں اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے، عطاء اللہ تارڑپاکستان پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے، عطاء اللہ تارڑپاکستان نے خطے میں امن و استحکام کے لئے کلیدی کردار ادا کیا، عطاء اللہ تارڑپاکستان کے لوگ اس تہذیب کا حصہ ہیں جہاں روایات کو اہمیت دی جاتی ہے، عطاء اللہ تارڑمقبوضہ کشمیر کے عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے، عطاء اللہ تارڑمسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل چاہتے ہیں، عطاء اللہ تارڑپاکستان خطے میں امن کے لئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، عطاء اللہ تارڑ

دوحہ سمٹ: یمن پر تباہ کن حملےیمن کے ساحلی شہر الحدیدہ کا بندرگاہ اسرائیلی فضائی حملوں کا نشانہ بنی، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ اسرائیلی اور یمنی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے 12 فضائی حملے کیے جو بندرگاہ کے تین ارصفت پر مرکوز تھے۔ اس سے چند گھنٹے قبل اسرائیلی فوج نے ’’انذارِ عاجل‘‘ جاری کرتے ہوئے بندرگاہ خالی کرنے کی وارننگ دی تھی۔ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتس نے کہا کہ ان حملوں کا مقصد حوثیوں پر دباؤ ڈالنا اور ان کے خلاف فضائی و بحری محاصرہ جاری رکھنا ہے۔ اسرائیلی فوجی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ بندرگاہ ہتھیاروں کی ترسیل اور حوثیوں کے عسکری استعمال میں لائی جا رہی تھی اور اس پر حملہ کر کے اسے کئی ہفتوں کے لیے غیر فعال بنا دیا گیا ہے۔حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ یمنی فضائی دفاع نے اسرائیلی طیاروں کو ’’مضطرب‘‘ کر دیا اور کچھ دستے پسپا ہو گئے۔ اس سے ایک روز قبل حوثیوں نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے اسرائیل پر چار ڈرون حملے کیے، جن میں تین نے جنوبی اسرائیل کے ایلات کے رامون ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل نے اس کے جواب میں نہ صرف الحدیدہ بلکہ صنعا اور دیگر شہروں پر بھی بمباری کی، جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے واضح کیا کہ یہ حملے حوثیوں کے بڑھتے ہوئے ڈرون اور میزائل حملوں کے ردعمل میں کیے گئے ہیں۔ ادھر حوثیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے اور اُن کے ہدف میں اسرائیل سے وابستہ تمام جہاز شامل ہوں گے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو۔یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ میں اسرائیلی جنگِ ابادہ میں شہداء کی تعداد 65 ہزار کے قریب اور زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 65 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی محاصرہ اور بمباری سے غذائی قلت کے نتیجے میں سینکڑوں فلسطینی، بالخصوص بچے، موت کا شکار ہو چکے ہیں۔یوں اسرائیل اور حوثیوں کے درمیان یہ براہِ راست تصادم نہ صرف یمن بلکہ پورے خطے میں ایک نئے محاذ کے کھلنے کی علامت ہے، جس کے نتیجے میں بحیرۂ احمر کی سلامتی اور عالمی تجارتی جہازرانی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

🚨 *سپین کا بڑا فیصلہ: اسرائیل کے ساتھ 825 ملین ڈالر کا اسلحہ معاہدہ منسوخ*“`حکومت اسرائیل کے ساتھ اسلحے کی خرید و فروخت پر مکمل قانونی پابندی عائد کرے گی،سپینش وزیراعظم““معاہدہ 12 SILAM راکٹ لانچر سسٹمز کی خریداری پر مشتمل تھا 🚨 پنجاب میں سیلاب سے اموات 112 تک جا پہنچی، متاثرین 47 لاکھ تک پہنچ گئے، پی ڈی ایم اےپنجاب کے تمام دریا اپنے ہیڈورکس پر معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں، پی ڈی ایم اے

🚨‏وزیراعظم شہباز شریف نے ترک صدر کی طرف سے تحفے میں ملنے والی الیکٹرک کار توشہ خانہ میں جمع کرا دی۔۔!!🚨 ‏صدر زرداری نے بنگلہ دیشی ہائی کمشنر کی جانب سے تحفے میں ملنے والا لیڈیز سوٹ اور بیڈ شیٹ توشہ خانہ میں جمع کرا دی۔۔!!🚨 ‏مریم نواز نے مدینہ کے گورنر کی جانب سے تحفے میں ملنے والی جائے نماز توشہ خانہ میں جمع کرا دی۔۔!!🚨 ‏فیلڈ مارشل سید عاصم مُنیر نے ترک صدر کی جانب سے ملنے والا ٹی سیٹ توشہ خانہ میں جمع کرا دیا۔۔!!

پرانے وقتوں کی بات ہے ایک نوجوان کی شادی ایک دور افتادہ گاؤں میں ہو گئی۔ بیچارے کو کسی ہنر یا کام کی خبر نہیں تھی، ہاں البتہ اس کے گھر کے سامنے ایک لوہار کی دکان ضرور تھی جہاں وہ اکثر جا کر بیٹھ جاتا۔ کئی بار دل میں سوچتا، “یہ بھلا کون سا مشکل کام ہے؟ تھوڑی سی محنت سے میں بھی یہ سب کر سکتا ہوں۔”شادی کے بعد جب وہ سسرال گیا تو وہاں کے لوگ ایک کلہاڑا بنوانے کا ارادہ کر رہے تھے۔ داماد کو جیسے ہی خبر ملی، فوراً سینہ تان کر اعلان کر دیا:”کلہاڑا تو میں خود بنا لوں گا! اس کام کی مجھے اچھی خاصی سمجھ ہے۔”سسرالی خوشی سے پھولے نہ سمائے کہ چلو داماد ہنر مند نکلا۔ اس کی خواہش پر خام لوہا منگوایا گیا اور آگ بھڑکا دی گئی۔داماد نے بڑے جوش و خروش سے لوہا گرم کیا اور بار بار ہتھوڑا چلا کر کلہاڑا بنانے کی کوشش کی۔ مگر نتیجہ کچھ نہ نکلا۔ الٹا آدھا لوہا برباد ہو گیا۔ غصے اور شرمندگی کے مارے پسینے پسینے ہو گیا اور بولا:”اصل میں ایک خاص تکنیکی خرابی آ گئی ہے، اس لیے فی الحال کلہاڑا تو نہیں بن سکتا، البتہ میں آپ کو ایک بڑا ٹوکہ بنا دیتا ہوں۔”یوں کلہاڑا ٹوکے تک، ٹوکہ چھری تک اور چھری چاقو تک آ پہنچی۔ آخر کار جب کچھ نہ بن پایا تو داماد صاحب نے ہتھیار ڈال دیے۔ پسینہ پونچھتے ہوئے گہری سانس لی اور کہا:”بھائیو! آپ کے لوہے سے صرف شُررررر ہی بن سکتی ہے۔”سسرالی حیران ہو کر بولے:”یہ شُررررر کیا بلا ہے؟”داماد مسکرایا اور بولا:”ابھی سمجھاتا ہوں بلکہ دکھاتا ہوں۔”اس نے دوبارہ لوہا آگ پر رکھا اور اچھی طرح تپنے کے بعد اس پر پانی انڈیل دیا۔ فوراً ایک لمبی سی آواز گونجی:”شُرررررررر!”سسرالی ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے اور داماد فاتحانہ انداز میں ہنس کر بولا:”لو جی، اپنا کام مکمل ہوا۔ اب اجازت دیں، گاؤں میں بھی کئی کام میرا انتظار کر رہے ہیں۔”

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved