
پچھلے 25 سال سے سنتے ہی آ رہے وہ کمپنی آ رہی وہ کمپنی اربوں ڈالر لا رہی فلاں ملک اربوں ڈالر کی بارش کرنے والا ہے آج تک تباہی کے علاوہ کچھ ہوا نہیں مشرف کے بعد کیانی کیانی کے بعد راحیل راحیل کے بعد باجوہ اب حافظ ہر جانے والی حکومت مجرم بنا کر پیش کر دیتے اور آنے والی حکومت کو اربوں ڈالر کے معاہدے کرنے والی بنا کر پیش کر دیتے ہیں جبکہ حقیقت یہ امریکہ کے پارٹنر بننے سے لے کر اب تک پاکستان اربوں ڈالرز اور ہزاروں قیمتی جانوں کا نقصان اٹھا چکا ہے پاکستان پہلے قرضوں کے بوجھ کے تلے ڈب گیا تھا اب بھی بوجھ بڑھتا ہوا نظر اس لیے یہ ترقی خواب ان دیکھاو جو کچھ جانتے نہیں
ثنا اللہ خان کی فراغت ۔ڈان نیوز نے شاندار صحافی ثناء اللہ خان کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے ۔مسلہ ایک تلخ اور حقائق پر مبنی سوال تھا جو وزارت خزانہ کو پسند نہیں ایا۔ہائی برڈ نظام چل رہا ہے ۔سب اکھٹے ہیں ۔میڈیا کبھی آزاد تھا لیکن میر شکیل الرحمن کی غلیظ حرام خور چیف جسٹس کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد پہلے جنگ گروپ نے گھٹنے ٹیکے پھر ڈان گروپ ڈھہ گیا تھا ۔آج میڈیا بھی ہائی برڈ نظام کا حصہ ہے ۔وہ ایک سچے صحافی کو برداشت نہیں کر سکتا۔ثناء اللہ میرا دوست ہے ۔سالوں ہم نے اکھٹے وزارت خزانہ کی بیٹ کور کی

۔اس ایسا شفاف اور واضح صحافی شائد اب ڈان گروپ میں خلیق کیانی بچا ہے باقی باقیوں ایسے ہی بن گئے ہیں۔جو صحافی کے ساتھ فنکار تھے کروڑ پتی ارب پتی بن گئے ۔جو صرف پروفیشنل صحافی تھے وہ سچائی کی قیمت ادا کریں گے ۔ثناء اللہ پتہ نہیں کیسے قیمت ادا کرے گا ۔اس کے پاس ایک راستہ موجود ہے نوسر باز کے میڈیا انفراسٹرکچر سے مستفید ہونے کا۔نوسر باز اور آئین اور قانون کے نام پر اپنے تئیں ہیرو بنے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کی کشتی میں بیٹھ جائے ۔مہینوں کے اندر وہ آمدن شروع ہو جائے گی جو سالوں ڈان گروپ میں رپورٹنگ کے بعد بھی نہیں ہوئی۔ثنا اللہ خان ایسا کرے گا نہیں ہم اسے جانتے ہیں اور ہمیں فخر ہے وہ ایسا نہیں کرے گا کہ ہمارا دوست ہے ۔نوسر باز اور سابق پالتو موجودہ باغی ججوں کی حمایت کرنا دو دھاری تلوار ہے ۔مالکوں یا ہائی برڈ نظام کے خلاف بات کرو کے ہیرو بھی بن جاؤ پیسے بھی کماو ۔دی نیوز کا پروفیشنل جرنلسٹ مہتاب احمد خان ،خلیق کیانی یا ثنا اللہ خان اس نسل کے صحافی ہیں جو تیزی سے ختم ہو رہی ہے ۔فنکار یہ فطری طور پر ہیں نہیں صرف صحافی ہیں اور صحافیوں کو سچائی کی قیمت ادا کرنا ہوتی ہے ۔

پیپلز پارٹی اور اقتدار کی سیاست ۔اظہر سیدگھوٹکی میں صحافی طفیل رند کو قتل کے ایک بدلے میں قتل کر دیا گیا آج اس نوجوان صحافی کو اس وقت قتل کیا گیا جب اپنے دو بیٹوں اور بھتیجی کو اسکول چھوڑنے جا رہا تھا ۔سندھ میں پیپلز پارٹی جس طرح بچ بچا کر حکومت کر رہی ہے چندہ ماہ میں لواحقین پر صلح صفائی کیلئے دباؤ ڈالا جائے گا اور قاتل صاف بچ نکلیں گے ۔پیپلز پارٹی کے ملیر سے رکن اسمبلی جام اویس کے غنڈوں نے ستائیس سالہ ناظم جوکھیو کو ظالمانہ تشدد سے قتل کر دیا تھا ۔بعد میں مقتول کے لواحقین نے دباؤ اور معقول پیسوں کے بدلے صلح کر لی اور قتل کا معاملہ خوش اسلوبی سے طے پا گیا ۔رانی پور کے پیر نے کم سن ملازمہ فاطمہ کو جنسی غلام بنایا ہوا تھا ۔ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں بچی مر رہی تھی ۔مقدمہ درج ہوا ۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کم سن بچی کے ساتھ جنسی تشدد اور عصمت دری ثابت ہو گئی ۔پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر جیتنے والے رانی پور کے پیروں کے فخر نے پولیس کو بار بار درخواستوں کے باوجود اپنے موبائل فون کا پاس ورڈ نہیں دیا ۔فاطمہ کی ماں نے صلح کر لی اور پھر ملزمان ضمانتوں پر رہا ہو گئے

۔سارا معاملہ چونکہ قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق طے پایا تھا اس لئے خوش اسلوبی سے حل ہو گیا۔سندھ کے ضلع میر پور کے ڈاکٹر شاہنواز کمبھر کو توہین مذہب کے الزام میں جعلی پولیس مقابلہ میں مار دیا گیا ۔سندھ کی سول سوسائٹی نے بھر پور احتجاج کیا ۔معاملہ کی انکوائری ہوئی اور معاملہ سرد خانہ میں کہ پیپلز پارٹی اس معاملہ میں غیر جانبدار ہو گئی تھی ۔ڈاکٹر شاہنواز قتل پر لوگوں کو اکسانے والے اور انعام کا اعلان کرنے والے کی ویڈیو موجود ہے لیکن مذہبی گھرانے کے سرکردہ لیڈر پر کسی نے ہاتھ نہیں ڈالا ۔کاروائی پولیس افسران کی معطلی اور انکواری پر گویا منجمند ہو گئی ہے ۔روشن خیالی کا پرچم اٹھانے والی جمہوریت پسند پیپلز پارٹی اس معاملہ پر بھی چہرہ گم کر بیٹھی کہ کہیں مذہبی زومبیز اسے نشانے پر نہ رکھ لیں ۔سندھ ہمیشہ سے سیکولر سندھ رہا ہے ۔یہاں صدیوں سے مسلمان اور ہندو محبت سے رہتے چلے آئے ہیں لیکن پیپلز پارٹی نے سندھ کے اس تشخص کے تحفظ کی بجائے اقتدار کی سیاست کی راہ اپنائی ۔سندھ میں کم سن ہندو بچیوں کے اغوا اور جبری مذہب تبدیل کرنے کا معاملہ ہر چند ماہ بعد سامنے آتا ہے۔روتے بلکتے ماں باپ فریادیں کرتے ہیں ۔ایک ویڈیو بیان جاری ہوتا ہے جس میں لڑکی اپنی مرضی سے شادی کرنے اور اسلام قبول کرنے کا اعلان کرتی ہے ۔معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو جاتاہے ۔پیپلز پارٹی ہمارا رومانس تھا۔اصف علی زرداری نے کسطرح مالکوں کے سامنے مزاحمت کی اور ساری جوانی جیل میں گزار دی حقیقی مرد حر ثابت ہوئے ۔محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت اور پنجاب میں پیپلز پارٹی کی کسمپرسی کے بعد شائد پیپلز پارٹی اس راہ کی مسافر بن گئی ہے جو کبھی مسلم لیگ اور تحریک انصاف نے اپنائی تھی ۔پیپلز پارٹی اپنا شاندار ماضی اور قربانیاں کامیابی سے کیش کراتی رہی ہے ۔پیپلز پارٹی مزاحمت اور جمہوریت کی علامت تھی لیکن جس طرح عوامی سیاست کو چھوڑ کر اقتدار کی راہ پر چل نکلی ہے صرف فاتحہ پڑھی جا سکتی ہے اور بس ۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے نائب وزیرِاعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی نوابشاہ میں ملاقاتوفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ملاقات میں موجودملاقات میں ملک میں سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیاعلاقائی اور عالمی امور پر بھی گفتگونائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار نے صدرِ مملکت کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس سے متعلق آگاہ کیااسحاق ڈار نے عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں اور اہم علاقائی معاملات پر صدر کو بریفنگ دی
اے پی پی اردو نیوز سروساہم ترین—وزیراعظم۔۔۔خطابپاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدے کی بنیاد باہمی بھائی چارہ ہے، مل کر کام کریں تو عالمی برادری میں مضبوط مقام پیدا کر سکتے ہیں ، وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا سعودی وفد کے اعزاز میں ظہرانے کے موقع پر خطاباسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدے کی بنیاد باہمی بھائی چارہ ہے، مل کر کام کریں تو عالمی برادری میں مضبوط مقام پیدا کر سکتے ہیں ، وقت ہمارے لیے سنہری مواقع لے کر آیا ہے۔ وہ بدھ کو یہاں وزیراعظم ہاؤس میں سعودی پاکستان جوائنٹ بزنس کونسل کے چیئرمین شہزادہ منصور بن محمد بن سعد آل سعود کی زیر قیادت سعودی وفد کے اعزاز میں منعقدہ ظہرانے کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار ، وفاقی وزراء اور اہم کاروباری شخصیات کے علاوہ اعلی سرکاری حکام بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں ایک بار پھر یہاں سعودی شہزادہ منصور بن محمد کو دیکھ کر خوشی ہورہی ہے، ہم یہاں ایک خاندان کی طرح موجود ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ گزشتہ 40 سال سے سیاست میں ہیں، پہلی بار 60 کی دہائی میں سعودی عرب گئے تھے، اس کے بعد سعودی عرب کے کئی دورے کر چکے ہیں مگر ان کا حالیہ دورہ ریاض بالکل منفرد اور بے مثال تھا، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے نہایت گرمجوشی کا مظاہرہ کیا، سعودی بھائی بہنوں نے ہمیشہ پاکستان کے لئے بے مثال محبت دکھائی، سعودی عرب نے ہر مشکل اور آزمائش میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر مسلمان مقدس مقامات کے تحفظ کے لئے اپنی جان تک قربان کرنے کو تیار ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ 20 یا 30 سال پہلے بعض شعبوں میں پاکستان سعودی عرب سے تجربات کا تبادلہ کر رہا تھا، سعودی عرب کا پاکستان سے تعلق غیرمتزلزل اور مستقل عزم پر مبنی ہے، سعودی عرب کا یہ عزم ہمارے تعلقات کی تاریخ میں ہمیشہ نمایاں رہا اور رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ بھائی چارے پر مبنی تعلقات کی باقاعدہ شکل ہے، ہم حقیقی بھائیوں کی طرح ہیں اور بھائی ہمیشہ بھائی کی مدد کو آتا ہے، ہم مقدس مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ہمیشہ کے لئے محافظ رہیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب اپنے تعلقات کو کاروبار اور سرمایہ کاری کی بنیاد پر مزید مضبوط بنائیں گے اور مشترکہ کاروباری خواب کو حقیقت بنانے کے لئے مل کر کام کریں گے۔ انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، تحقیق اور ترقی کے شعبوں میں مشترکہ اقدامات کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج ہمیں سعودی عرب سے سیکھنے کی ضرورت ہے، ہمیں یہ موقع میسر ہے، سعودی عرب بھی ہمیں ہرممکن مدد فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی متحرک اور دور اندیش قیادت نے سعودی معاشرے کو بدل کر رکھ دیا، وقت اور حالات کسی کا انتظار نہیں کرتے، ہمیں خود کو وقت اور مواقع کے لئے تیار کرنا ہوگا، ہم مل کر کام کریں تو عالمی برادری میں اپنی جگہ مضبوطی سے بنا سکیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے پاس بہترین لوگوں کی ٹیم موجود ہے، سعودی عرب کے حکام بھی معاہدوں پر دستخط کے لئے پرجوش ہیں، یہ وقت ہمارے لئے سنہری مواقع لے کر آیا ہے، مل کر کام کا آغاز کرنا ہوگا۔ چیئرمین سعودی پاکستان جوائنٹ بزنس کونسل شہزادہ منصور بن محمد بن آل سعود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان سعودی عرب مشترکہ بزنس کونسل اجلاس کے لئے پاکستان آئے ہیں، پاکستان آنے سے قبل سعودی عرب کے تمام اہم وزراء سے ملاقاتیں کیں، سعودی وزراء کو پاکستان میں ممکنہ سٹریٹجک منصوبوں سے آگاہ کیا، سعودی کاروباری طبقے کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے جن شعبوں پر زور دیا ہم بھی انہی پر توجہ دے رہے ہیں۔\

اورکزئی میں شہید ہونے والے لیفٹیننٹ کرنل جنید طارق اور میجر طیب راحت کی نمازِ جنازہ چکلالہ گیریژن میں ادا وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزراء اور عوام کی بڑی تعداد کی شرکت وزیراعظم کا شہداء کو خراجِ عقیدت، قوم دہشت گردی کے خلاف متحد اور پُرعزم ہے، وزیر اعظم شہداء کی قربانیاں مادرِ وطن کے دفاع کے قومی عزم کی علامت ہیں — وزیراعظم اورکزئی آپریشن میں 11 سپوتوں نے جامِ شہادت نوش کیا، بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کے خلاف بڑی کارروائی شہداء کو ان کے آبائی علاقوں میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گا
ہم گیلانی بہت غریب ہیں اللہ کے واسطے ہمیں سرکاری سکیورٹی واپس کر دو۔ں ہم اپنی سیکیورٹی افورڈ نہیں کر سکتے۔پاکستان کی اشرافیہ چاہے اس کا تعلق کسی بھی صوبے یا زیر انتظام وفاقی علاقے سے ہو۔اس نے قسم کھا لی ہے کہ اس نے سرکاری وسائل سے ہی سب کچھ حاصل کرنا ہے۔یہ غریبوں کے بچوں کا دودھ تک ہڑپ کر رہے ہیں انہیں شرم نہیں اتے










