تازہ تر ین

پاکستان ائیر فورس کا کابل پر حملہ۔ ٹی ٹی پی کی اعلی قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔مذہبی جماعت کے احتجاج کے باعث ریڈ زون سیل کردیا گیا ریڈ زون کے چاروں اطراف کنٹینرز پہنچا دیئے گئ۔وفاقی کابینہ نے پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدے کی توثیق۔اسٹاک ایکسچینج چوتھا روز مسلسل سرنگوں۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

افغان یہاں کاروبار کررہے ہیں اور کچھ تو ارب پتی ہوگئے۔افغان جہاں کھاتے ہیں اسی میں چھید کرتے ہیں۔ افغان سرزمین سے ہمارے دو صوبوں میں دہشت گردی ہو رہی ہے حکومت اور فوج کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اب کاروائی ہوگی۔وزیر دفاع خواجہ آصف

سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام:- 9 اکتوبر 2025“خیبرپختونخوا کے حالات کے تناظر میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی ناگزیر تھی اور یہ ایک آئینی عمل ہے جو اس ملک کے دیگر صوبوں میں بھی ہوتا آیا ہے اور اس میں کسی کو مداخلت نہیں کرنی چاہیئے تاکہ یہ عمل جلد از جلد مکمل ہو۔ اگر کسی نے اس میں مداخلت کی کوشش کی تو بھرپور احتجاج ہو گا۔ سہیل آفریدی کا انتخاب زمانہ طالب علمی سے ان کے آئی ایس ایف اور تحریک انصاف کے نظرئیے سے وابستگی کی وجہ سے کیا۔ یہ فیصلہ تحریک انصاف کی الیکٹیبلز کی جگہ گراس روٹ ورکرز کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے کے بیانیے کو بھی تقویت بخشتا ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی تبدیلی کو بعض حلقے میرے خاندان کے افراد سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کہ سراسر غلط ہے۔ یہ فیصلہ مکمل طور پر سیاسی ہے، جس پر میرے خاندان کا کوئی فرد کسی بھی طرح سے اثر انداز نہیں ہوا۔ میرے خاندان کے کسی فرد کا میرے سیاسی فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ علی امین میرے پرانے اور وفادار ساتھیوں میں سے ہیں لیکن وہ تنازعات کی زد میں ہیں۔ یہ تنازعات عاصم منیر کی کسی جامع سیاسی حکمت عملی اپنائے بغیر خالی گولہ بارود سے دہشتگردی کے مسئلے سے نمٹنے کی پالیسی کے باعث پیدا ہوا۔ 2025 دہشتگری کے واقعات کے حوالے سے پاکستانی تاریخ کا بدترین سال ہے اور خیبرپختونخوا کا صوبہ مزید اس صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

امید کرتا ہوں کہ نیا وزیراعلیٰ اور اس کی ٹیم دہشتگردی کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کے حوالے سے عوامی نمائندوں کے ساتھ مل کر جامع پالیسی اپنائیں گے۔میں گزشتہ دو دہائیوں سے دہشتگردی سے نمٹنے کی واضح حکمت عملی بیان کرتا رہا ہوں۔ اسی حکمت عملی کے باعث تحریک انصاف کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں دہشتگری پر بہت حد تک قابو پا لیا گیا تھا۔تحریک انصاف نے اس وقت کی پاکستان مخالف اور بھارت نواز اشرف غنی حکومت سے بھی مذاکرات کئے اور قبائلی عوام اور افغان پناہ گزینوں کے معاملات بھی افہام وتفہیم سے طے کئے۔ 2021 میں اس وقت کی فوجی قیادت نے ہتھیار پھینکنے والے دہشتگردوں کو واپس بسانے کا منصوبہ پیش کیا تھا، مگر اس منصوبے کو خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے ہمارے منتخب نمائندوں نے مسترد کر دیا تھا۔ اس منصوبے پر ہمارے دور میں عمل نہیں ہوا۔ لیکن اب حقائق کے برعکس تحریک انصاف کی حکومت پر یہ سراسر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی اس دور میں بسائے گئے دہشتگردوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ قوم کو بتایا جائے کہ کون سے دہشتگرد کب، کہاں اور کیسے بسائے گئے؟کبھی یہ کہا جاتا ہے پاکستان میں دہشتگردی کی ذمہ دار افغان حکومت ہے جس کی تائید سے افغانستان میں بسنے والے دہشتگرد پاکستان میں کاروائیاں کرتے ہیں اور کبھی کہا جاتا ہے کہ دہشتگردی دہائیوں سے پاکستان میں بسنے والے افغان مہاجرین کی وجہ سے ہے۔ یہ دونوں باتیں ہی غلط ہیں کیونکہ لاکھوں افغان مہاجرین کو بے عزت اور رسوا کر کے نکالنے کے باوجود دہشتگردی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ متضاد بیانات عاصم منیر کے مسلط کردہ عوام دشمن نظام کی بد حواسی کو ظاہر کرتے ہیں

۔دہشتگردی سے نمٹنے کے حوالے سے میرا موقف ہمیشہ سے دوٹوک رہا ہے۔ تاریخ بھی گواہ ہے دہشتگردی کے خلاف اگر باقاعدہ سیاسی بصیرت اور حکمت عملی کے بجائے صرف طاقت کا استعمال کیا جائے تو ناکامی ہی مقدر بنتی ہے۔ ملٹری آپریشن کے نتیجے میں ہونے والا “کولیٹرل ڈیمج “ عوام کو انتقاماً ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر دیتا ہے اور یوں یہ سلسلہ بد سے بدتر ہوتا چلا جاتا ہے۔سیاسی انتقام میں میرے خلاف مسلسل بے بنیاد مقدمات نہ صرف بنائے جا رہے ہیں بلکہ بار بار دہرائے جا رہے ہیں۔ توشہ خانہ، القادر، سائفر، عدت اور پھر توشہ خانہ سمیت کئی چھوٹے بڑے مقدمات مجھ پر اور میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر صرف اس لیے بنائے گئے ہیں تاکہ میں جھک کر حقیقی آزادی کا عزم ترک کر دوں۔ میں اپنی قوم کو پھر سے پیغام دینا چاہتا ہوں یہ چاہے کچھ بھی کر لیں میں ان کے سامنے نہ جھکوں گا نہ اپنی قوم کو جھکنے دوں گا۔”#حق_کی_جیت_ہو_گی

*آج کی پوسٹ میں 53 ہیڈ لائنز ہیں، ری ایکٹ کے ذریعے حوصلہ افزائی؟*🛑 *آج دن بھر کیا کچھ ہوا؟* 🛑🛑 *09 اکتوبر 2025 | بروز جمعرات | اہم خبروں کی جھلکیاں |*🚨 (1) اس را_ئیلی یرغمالیوں اور فلس_طینی قیدیوں کا تبادلہ پیر سے شروع ہوگا؛ وائٹ ہاؤس کا اعلان🚨 (2) اس را_ئیل کی دو سالہ بربریت کا خاتمہ، غ_ز_ہ میں جنگ بندی معاہدہ نافذ العمل، غ_ز_ہ میں جشن کا سماں🚨 (3) کابینہ کی منظوری کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر جنگ بندی کا نفاذ شروع ہوگا: ترجمان اس را_ئیلی حکومت🚨 (4) غ_ز_ہ امن معاہدے کی منظوری کیلئے طلب کیا گیا اس را_ئیلی کابینہ کا اجلاس تاخیر کا شکار🚨 (5) غ_ز_ہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی میں شامل ہوں گے: ترک صدر رجب طیب اردگان کا اعلان🚨 (6) غ_ز_ہ میں موجود اس را_ئیلی فوجیوں نے سامان باندھنا شروع کردیا، ویڈیو وائرل🚨 (7) امدادی ٹرک رفح بارڈر سے غ_ز_ہ میں داخل ہونا شروع، مصری سرحد پر 18000 ٹرک سامان سے لدے کھڑے ہیں🚨 (8) غ_ز_ہ امن معاہدے کے بعد ٹرمپ کا دورہ اس را_ئیل متوقع، کنیسٹ سے خطاب کا بھی امکان🚨 (9) اس را_ئیل کے خلاف مارچ: پولیس کا لاہور میں ٹـی ـ ایـل ـ پـی ـ مرکز پر کریک ڈاؤن، کارکنان اور پولیس میں جھڑپیں🚨 (10) ہمارے دو کارکنان پولیس کی شیلنگ اور فائرنگ سے شہیـد اور درجنوں زخمی ہوئے، ترجمان ٹـی ـ ایـل ـ پـی ـ کا بیان🚨 (11) ٹـی ـ ایـل ـ پـی ـ کے کل جمعے کو احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد کا ریڈ زون سیل کرنے کا فیصلہ، کنٹینرز پہنچ گئے، میٹرو بس سروس بھی بند🚨 (12) ٹـی ـ ایـل ـ پـی ـ سربراہ نے اشتعال انگیز تقاریر کیں، مارچ کیلئے اجازت نہیں لی: وزیر مملکت طلال چودھری🚨 (13) اس را_ئیلی حراست سے رہائی پانے والے سابق سینیٹر مشتاق احمد کا پاکستان پہنچنے پر شاندار استقبال🚨 (14) ‘اینف از اینف’، اب دہشت گردوں کا سر کچلنا ہوگا: وزیراعظم شہباز شریف کا دوٹوک اعلان🚨 (15) سہیل آفریدی کو دہشت گردوں کی سپورٹ کے لیے لایا گیا ہے: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا دعویٰ🚨 (16) ڈیرہ اسماعیل خان: سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 7 خوارج جہنم واصل، میجر سبطین شہیـد🚨 (17) تحریک انصاف نے پنجاب کی اسٹینڈنگ کمیٹیوں سے استعفے دینے کا عندیہ دیدیا🚨 (18) سیاست ہوتی رہے گی، دہشت گردی ایشو پر سب کو متحد ہونا ہوگا: خواجہ آصف🚨 (19) میرے پاس وزیراعلیٰ کا آفیشلی کوئی استعفیٰ نہیں آیا: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی🚨 (20) پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کا معاملہ، پی ٹی آئی کا پہلا استعفیٰ آگیا🚨 (21) اسـرائـیـلی جیلوں سے عمر قید پانے والے 250 قیدی اور غـزـ ہ کے 1700 فلسـطـ ینی قیدیوں کوبھی رہا کیا جائےگا🚨 (22) وزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو میں ٹیلیفونک رابطہ، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال🚨 (23) اسحاق ڈار سے امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر کی ملاقات، پاک امریکا تعلقات پر گفتگو🚨 (24) بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر نے یوٹیوبر عادل راجہ کیخلاف ہتک عزت کا مقدمہ جیت لیا🚨 (25) 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد ترقی پانے والے ججز کو بنچ میں نہیں بیٹھنا چاہئے: جسٹس مسرت🚨 (26) 26 نومبر احتجاج کیس: سینیٹر اعظم خان سواتی کی عبوری ضمانت میں توسیع🚨 (27) سپر ٹیکس: قانون کی افادیت یا ناکافی ہونے کا فیصلہ پارلیمنٹ کرتی ہے: جسٹس مندوخیل🚨 (28) غ_ز_ہ معاہدہ مستقل جنگ بندی اور دیرپا امن کا باعث بنے گا: اسحاق ڈار🚨 (29) پاک ایر_ان سرحد ماشکیل میں کٹاگر کراسنگ پوائنٹ کا افتتاح🚨 (30) زرمبادلہ کے ذخائر میں 50 کروڑ ڈالر کے بانڈز کی ادائیگی کے باوجود اضافہ🚨 (31) کراچی سے اغوا ہونے والی 4 سالہ بچی کوئٹہ سے مل گئی🚨 (32) سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے جماعت اسلامی سے استعفیٰ دے دیا🚨 (33) پاکستان پورے خطے میں تجارت کا دروازہ ہے: چیئرمین سعودی پاک جوائنٹ بزنس کونسل🚨 (34) الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اور سنی اتحاد کونسل کے اراکین کو آزاد امیدوار قرار دیدیا🚨 (35) پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے چیف وہپ رانا محمد ارشد کے گھر ڈکیتی🚨 (36) پاور بریک ڈاؤن کے بعد بحالی میں ناکامی، نیپرا نے کے الیکٹرک پر ڈھائی کروڑ روپے جرمانہ عائد کردیا🚨 (37) اسٹاک ایکسچینج میں چوتھا مسلسل منفی دن، 100 انڈیکس مزید 735 پوائنٹس کم ہوگیا🚨 (38) حکومتی ممبران کا وزیراعلیٰ کیلئے اپوزیشن امیدوار کو ووٹ دینا فلورکراسنگ نہیں ہوگا: اپوزیشن لیڈر کے پی اسمبلی🚨 (39) نوبیل امن انعام: ٹرمپ کی شدید خواہش پوری ہوگی یا کل دل ٹوٹے گا؟🚨 (40) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ معمہ بن گیا🚨 (41) ادب کا نوبیل انعام ہنگری سے تعلق رکھنے والے مصنف لازلو کرسز ناہور کائی کے نام🚨 (42) مصنوعی ذہانت کرکٹ کے میدان تک پہنچ گئی، گوگل جیمنائی اب پچ رپورٹ پیش کرنے لگا🚨 (43) مکہ مکرمہ: منشیات اسمگلنگ کے جرم میں پاکستانی شہری کو سزائے موت دے دی گئی🚨 (44) 73 فیصد نوجوان انٹرنیٹ پر لڑائی، طاقت اور دولت کمانے جیسے تصورات سے متاثر ہورہے ہیں: سروے🚨 (45) بدمزگی نہیں ہونی چاہیے تھی، مراد علی شاہ کا پی پی اور (ن) لیگ کی لفظی گولہ باری پر اظہار افسوس🚨 (46) عادل راجا لندن ہائیکورٹ میں ہتک عزت کا کیس ہار گئے، بطور ہرجانہ 13 کروڑ روپے ادا کرنا ہوں گے🚨 (47) پاکستانی طلبا کو ایک سال تک گوگل اے آئی پرو پلان مفت فراہم کرنے کا اعلان🚨 (48) نصیرآباد: جعفر ایکسپریس کی آمد سے قبل ٹریک پر دھماکا، ریلوے ملازم جاں بحق🚨 (49) ایشین کپ کوالیفائر میں پاکستان اور افغانستان کا میچ بغیر کسی گول کے ڈرا ہوگیا🚨 (50) وفاقی کابینہ نے پاک سعودی تاریخی دفاعی معاہدے کی توثیق کردی🚨 (51) افغان سرزمین سے دہشت گردی ہو رہی ہے، یہاں چند لوگ ان کی مذمت کرنے سے کتراتے ہیں: وزیردفاع🚨 (52) اسحاق ڈار سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، دو طرفہ تعاون مزید گہرا کرنے کی خواہش کا اظہار🚨 (53) مریم نوازکا فصل کی باقیات جلانے، فضائی آلودگی پھیلانے کے واقعات کا سخت نوٹس

Slightly amended: صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کا نوابشاہ میں بالو جا قبہ کا دورہصدرِ مملکت نے والدین کے مزار پر حاضری دیصدرِ مملکت نے والدین کی قبروں پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کیصدرِ پاکستان کے ہمراہ صوبائی وزراء بھی موجود تھےوزیرِ داخلہ سندھ ضیاء الحسن لانجار اور وزیرِ جیل خانہ جات حاجی علی حسن زرداری شریکصوبائی وزیر بلوچستان میر علی حسن بروہی بھی صدر کے ہمراہ تھے

تماشا گر، تمہارا شکریہ، ابھی ہم رک نہیں سکتے۔۔۔۔۔محاسبہناصر جمال”جلتے ہوئے جسم کی راکھ سے لکھی گئی نظم“عجب قحطِ سخن درپیش ہے ہم کوکہ لکھیں بھی تو کیا لکھیں کسی شاداب موسم کی کوئی امید بھی ہوتی تو ہم آنکھیں کسی دیوار پر رکھتے اور اس کا راستہ تکتے ۔۔۔مگر ہم تو اندھیروں ہی کے عادی ہو چکے کب کے ہمیں اب روشنی کا نام لیوا بھی کوئی ملتا نہیں ہےہمیں وحشت زدہ لہجوں کی عادت ہو گئی ہے کوئی احساس ہی باقی نہیں ہم میں کہ ہم اپنی ہی بربادی کے خواہاں ہیں ۔۔۔ یہ خلقت قتل ہوتی ہے تو ہو جائے ۔۔۔ جسے مرنا ہے مر جائے کہ ہم وحشی درندہ بن کے رہنے کو ہی جینا مان بیٹھے ہیں کسی شاداب موسم کی کوئی امید بھی ہوتی تو ہم آنکھیں کسی دیوار پر رکھتےاور اس کا راستہ تکتے (خالد ندیم شانی)ابھی کچھ دن پہلے ہی کی تو بات ہے۔ خالد ندیم شانی کی کمال غزل نظروں سے گزریعجلت ہجر کو تاخیر پڑی رہتی ہےمیرے پیچھے میری تقدیر پڑی رہتی ہےمیں میانوالی کا بیٹا ہوں مگر شاعر ہوںپُھول اٹھا لیتا ہوں شمشیر پڑی رہتی ہےحلقہِ چشم پہ پردہ سا پڑا رہتا ہےدل کے دروازے پہ زنجیر پڑی رہتی ہےمجھ کو پیاری ہے، سو عزت کی طرف جاتا ہوںورنہ ہر موڑ پہ تشہیر پڑی رہتی ہےاُس کے پہلو میں گزاری ہے یونہی عمر تمامجیسے ایک پرس میں تصویر پڑی رہتی ہےاتنا دلکش ہے وہ منظر، میں مناتا ہی نہیںمہ جبیں ! روٹھ کے دلگیر پڑی رہتی ہےاک نظر زُعم کی تاریخ پہ ڈالو خالدقتل ہوجائو تو جاگیر پڑی رہتی ہےگزشتہ ہفتے، برادرم مشکور احمد نے ”ٹیچر ڈے“ پر خالد ندیم شانی کا شہرہ آفاق شعر ، ٹویٹ کیا۔۔۔۔مجھ کو وحشت پڑھائی جاتی تھیمیں نے استاد مار ڈالا ہےپچھلے، دنوں، سوشل میڈیا پر، جنوبی پنجاب کے دوستوں نے زوردار آواز بلند کی کہ خالد ندیم شانی کو پنجاب حکومت بے روزگار نہ کرے۔ تحقیق کی تو پتا چلا کہ، اتنے بڑے شاعر کی جو نوکری چھینی جارہی ہے۔ وہاں سے انھیں صرف 35 ہزار ملتے ہیں۔ وہ جس ادارے میں کام کرتے ہیں۔ اس کے سربراہ بھی (شاعر) عباس تابش ہیں۔ وہ اب میرٹ کا نفاذ چاہتے ہیں۔ ویسے ہی یاد آیا۔ برادرم سہیل اشرف کی سفارش پر چیف سیکرٹری اکبر درانی سے، انہیں ’’میرٹ‘‘ پر یہ کہہ کر مزید چھٹیاں لے کر دیں تھیں، کہ ’’شاعر کو سات خون معاف ہوتے ہیں۔ غالباً انھوں نے بیرون ملک کچھ مشاعروں میں شرکت کرنا تھی۔ یقینی طور پر، ان مشاعروں سے، انھوں نے خالد شانی کی دس سال کی تنخواہوں کے برابر اکٹھی کر ہی لی ہوگی۔بہر حال !!! کسی مہربان کو میں نے لاھور فون کیا۔ وہ کہنے لگے۔ عباس تابش کے بارے میں،آپ کچھ سخت نہیں بول گئے۔ میں ہنس پڑا۔ میں نے کہا کہ مجھے، ’’اہلِ ادب‘‘ اچھے لگتے ہیں۔ ہم تو ہر فنکار کی عزت کرتے ہیں۔ ان کے اوپر تو ضابطے لاگو ہی نہیں ہونے چاہئیں۔ شاعر کو تو ستر سال کیا اسی سال میں بھی بھرتی کرلیا جانا چاہئے۔ یا، اسے کم از کم دو لاکھ وظیفہ دیا جانا چاہئے۔ تایا غالب کی طرح۔ انھیں تو گورے نے ’’ٹیک اوور‘‘ کے بعد بھی وظیفہ دیا۔ گورے نے انھیں سچا دانشور قرار دیا تھا۔خالد ندیم شانی بھی اُسی ”کیٹگری“ میں آتا ہے۔رام ریاض نے کہا تھا کہنا آشنا ہیں رام جو غربت کے نام سےاے کاش ! میرے دَور کے فنکار دیکھتےمیں نے پبلک اکائونٹس کمیٹی میں دیکھا۔ کھربوں کے آڈٹ پیرے ’’سیٹل‘‘ ہوجاتے ہیں۔عمران خان حکومت نے تصور خانم کو کئی کروڑ کی امداد دی۔ حالانکہ وہ امریکہ میں،خوشحال تھیں۔اچھا کیا۔ اور بہت حکمران آئے۔جنھوں نے جس کو چاہا نوازا۔ سیاستدانوں کو بھی نوازا گیا۔میرٹ پر میانوالی کے شیر افگن نیازی کا پرویز مشرف نے علاج کروایا۔ وفاقی وزیر ہونے کے باوجود، علاج کے لئے، پیسے ہی نہیں تھے۔خالد ندیم شانی بھی میانوالی کا بیٹا ہے۔ اس کا تعلق عیسیٰ خیل سے ہے۔ کیا زرخیز سر زمین ہے۔ جس نے ہمیں عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی سے لیکر خالد ندیم شانی جیسے کمال کے لوگ دیئے۔بہر حال، متعلقہ شخصیت نے کہا کہ آپ بے فکر ہیں۔ تمام معاملہ میرے علم میں ہے۔ آپ نے تجمل کلیم کا کہا، جیسے ان کا وزن ہلکا کیا ہے۔ خالد ندیم شانی کو بھی بے روزگار نہیں ہونے دیں گے۔ راستہ تلاش کررہے۔ وزیر اعلیٰ محسن نقوی آرٹسٹوں، شاعروں، ادیبوں، مصوروں، سمیت تمام فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لئے، نرم گوشہ اور کئی منصوبے رکھتے ہیں۔مجھے، صاحب بہادر کی بات پر کافی اطمینان ہوا۔مگر، کہیں بے کلی سی ہے۔ الحمرا، پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس سمیت، ادبی، اداروں کا، بہت بے رحم، خصوصی آڈٹ کروایا جانا چاہئے۔ مجھے اطلاعات بھی ہیں اور یقین بھی ہے کہ یہاں بے چارے فنکاروں کے نام پر، بہت زیادتیاں ہوئی ہیں۔ یہاں کے کرتا، دھرتا، فنکاروں کے نام پر، تقریباً نوے فیصد فنڈز ہڑپ کر گئے۔ جمال شاہ پر پی۔ این۔ سی۔اے میں بے حساب مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات ہیں۔ انھیں ’’کوئٹہ‘‘ نیٹ اور پی۔ ٹی۔ آئی مخالفت پر وفاقی کابینہ میں لے لیا گیا۔ ویسے، وصی شاہ کی کونسی ملی اور ادبی خدمات ہیں۔ آخر، اس ملک میں ہو کیا رہا ہے۔ پنجاب میں وہاب ریاض کی کابینہ میں شمولیت کیا ہے۔اس ملک کا ’’باوا آدم‘‘ ہی نرالا ہے۔جب سکندر اعظم کے سامنے مقدس باکس لایا گیا۔ تو مشورہ ہوا کہ اس میں آخر کیا چیز رکھی جائے۔ طے پایا کہ اپنے وقت کے عظیم شاعر’’ہُومر‘‘ کا کلام اس میں رکھا جائے۔آج، آپ دنیا بھر جائیں۔ ماضی کو اٹھا کر دیکھ لیں۔ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سمیت، ہر شعبے میں ترقی کے باوجود، قومیں، اپنے پاس آنیوالے مہمانوں کو، اپنا تہذیبی، ثقافتی ورثہ دکھاتی ہیں۔ پینٹنگز، ہنر پارے، موسیقی، شاعری، اور تاریخی ورثہ دکھایا جاتا ہے۔ہر دور میں ہر تہذیب نے، اس وقت کے ہنر مندوں کو اکٹھا کرکے، اُن کی سرپرستی کی۔کبھی سلیم کوثر نے کہا تھا کہ صاحب، اس قوم کو 56 سالوں میں کچھ نہ پڑھایا جاتا۔ صرف ادب میں پڑھایا جاتا تو کم از کم آج ایک مہذب قوم تو ہوتی۔آج ہماری تہذیب، لاکھوں سال پرانی ہے۔ بُدھا، گندھارا اور مہر گڑھ پانچ ہزار سے دس ہزار پرانی تہذیبوں کے حامل ہیں۔ ٹیکسلا میں دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی رکھتے ہیں۔مگر !!! آج ایمانداری سے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں۔آج جیسے ہم رہ رہے ہیں۔اور جیسے ہمارے رویئے ہیں۔وہ کہیں سے بھی ثابت کرتے ہیں کہ، ہم اس تاریخی، تہذیبی ورثے اور ثقافت کے وارث ہیں۔کوئی، ایک شعبہ تو بتائیں، جسے ہم نے سنبھال کے رکھا ہو۔ یا جہاں ہم فخر کرسکتے ہیں۔ہم ٹیلنٹ کُش قوم ہیں۔ ہمارے ’’سورما‘‘ ٹیلنٹ کو دیمک کی طرح چاٹ جاتے ہیں۔ ہم نے اپنے پروفیشنلز برباد کر دیئے۔ آج ہر پروفیشنل، کیوں اس ملک سے بھاگ جانا چاہتا ہے۔؟کبھی، اس پر بھی تو غُور کریں۔ قومیں، اپنے پروفیشنلز کے ذریعے، اربوں، کھربوں ڈالر کمارہے ہیں۔ آپ نے ان کے ساتھ کیا، کیا۔۔۔؟یہ فلم، ڈرامہ، موسیقی، فیشن اینڈ ڈیزائن اور فوڈ انڈسٹری کیا،ایک دوسرے سے نہیں جڑی ہوئی۔ فیشن اینڈ ڈیزائن انڈسٹری کی ورتھ سات ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے۔ سردار احمد نواز سکھیرا نے، میلان فیشن ویک میں، اس انڈسٹری کے دروازے، اس ملک پر کھولے تھے۔ آپ نے کیا، کیا۔۔۔؟ چترال اور گلگت، بلتستان کے ثقافت کے ٹچز، سٹیلاجینز نے لباس میں لگائے۔ دنیا، حیران رہ گئی۔ چلیں کورونا آگیا تھا۔ اس کے بعد، آپ نے کچھ کیا۔؟ایٹم بم، میزائل، تحفظ اور معشت کی سپورٹ کے لئے ہوتے ہیں۔ کمانے کے لئے، اور راستے ہیں۔ آج محسن اور تخلیق کُش قوم، جس اتاہ گہرائیوں میں مجھ سمیت پڑی ہے۔ یہی کچھ ہونا تھا۔ یہاں کھربوں کی لوٹ مار ہے۔ ہماری وزیر خزانہ سات سال سے سوئی سدرن کی چیئرپرسن ہے۔ صرف گزشتہ سال ایک سو ارب کا نقصان کیا۔ دو ارب ڈالر کا جعلی ٹھیکہ کی صفائیاں دینے والا فواد حسن فواد، پی۔ آئی۔ اے کے اربوں ڈالر کے اثاثے شکار کرکے، آقائوں کے قدموں میں ڈالنے کے لئے، پاگل ہوا پھرتا ہے۔ پہلی بار شور برپا ہے۔ نگران حکومتوں میں لوگ ’’ہذہ من فضل ربی‘‘ کے تحت آئے ہیں۔اگریہاں سب سے بڑا کوئی مسئلہ ہے تو یہ ہے کہ غریب شاعروں کا 35 ہزار والا، رزق کیسے چھینا جائے۔سوئی گیس کمپنیوں میں 25 ہزار والے، بیس سال سے کنٹریکٹ ملازمین کا چولہا، کیسے ٹھنڈا کیا جائے۔ اس ملک کے عوام کی ملکیت ساٹھ لاکھ ایکڑزمین پر کیسے قبضہ کیا جائے۔حکمران بھول رہے ہیں۔ آیت الکرسی والے نے جس روز رسی کھینچی، سب توری کی طرح لٹکے ہونگے۔ اور وہ وقت قریب آگیا ہے۔ جب لیزیں، جعلی کلیم، قرضوں سمیت ہر چیز کا حساب دینا ہوگا۔۔

۔۔۔تماشا گر، اصل تماشاگر کا تماشا دیکھنے کو تیار رہیں۔ کیونکہ اُس کی حلق کے منہ سے آخری نوالا چھیننے کا تمہارا شوق پورا نہیں ہوگا۔ رب تعالیٰ، بڑی غیرت اور حیا والے ہیں۔ ہمارے پاس، بس اُس کا نام اور اس کی بارگاہ رہ گئی۔ جہاں آخری التجا ہوچکی۔تماشا گر ۔۔۔۔ ! تماشا گر ۔۔۔ تمھارا شکریہ لیکن تمھارے لفظ کانوں تک تو آتے ہیں مگر ان میں چھپی لذت کی شیرینی ہمارے کرب کے کھاری سمندر میں اترتے ہی کسی بے نام حسرت کی اچھلتی لہر کو چھو کر ہوا کا رزق بنتی ہے نجانے پھر کہاں جا کر برستی ہے ہمیں ہنسنے کی خواہش ہے مگر خواہش کا ریشم اس قدر الجھا ہوا ہےکہ اب الجھے ہوئے ریشم کو سلجھانے کی خواہش تک نہیں رکھتےہمارے مقتدر دشمن ہمیں دیوار پر لکھا ہوا پڑھنے ، سمجھنے کی اجازت تک نہیں دیتےوہ کہتے ہیں ۔۔۔ اگر جینا ضروری ہے تو پھر خود پر ہوئے ہر ظلم پر تالی بجاؤ مسیحا مان کر ہم کو ہمارے گیت گاؤ تماشا گر ۔۔۔ تمھارا شکریہ لیکن ابھی ہم سن نہیں سکتے ابھی ہم رک نہیں سکتے ابھی رونے کا موسم ہےابھی ہم ہنس نہیں سکتے (خالد ندیم شانی).

*ٹاپ بریکنگ* *اورکزئی میں فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کا بھرپلیفٹیننٹ کرنل جنید طارق ، میجر طیب راحت اور 9 جوانوں کی شہادت میں ملوث دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا ، *اورکزئی حملے میں ملوث بڑی تشکیل کے تمام تیس خارجی اپنے انجام کو پہنچا *سیکیورٹی فورسز ملک بھر سے دہشتگردی کے خاتمے کے لئے پرعزم ہیں

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved