تازہ تر ین

پاکستان کی مسلح افواج نے افغان طالبان اور بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے پاک افغان سرحد پر کیے گئے ایک بڑے بلااشتعال حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔ رات گئے ہونے والی اس اشتعال انگیز کارروائی کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیتے ہوئے دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا

پاکستان کی مسلح افواج نے افغان طالبان اور بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے پاک افغان سرحد پر کیے گئے ایک بڑے بلااشتعال حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔ رات گئے ہونے والی اس اشتعال انگیز کارروائی کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیتے ہوئے دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا۔آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق 11 اور 12 اکتوبر 2025 کی درمیانی شب افغان طالبان اور بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج (FAK) نے پاکستان پر پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر بلااشتعال حملہ کیا۔ دشمن کی بزدلانہ کارروائی میں فائرنگ اور محدود نوعیت کے حملے شامل تھے، جس کا مقصد سرحدی علاقوں کو غیر مستحکم کر کے دہشت گردی کو فروغ دینا اور اپنے ناپاک عزائم کو تقویت دینا تھا۔پاک افواج نے دشمن کی اس کارروائی کا فوری اور بھرپور جواب دیتے ہوئے نہ صرف حملہ پسپا کیا بلکہ دشمن کو فیصلہ کن نقصان بھی پہنچایا۔ پاک فوج نے حقِ دفاع استعمال کرتے ہوئے طالبان کے کیمپس، پوسٹس، دہشت گردوں کے تربیتی مراکز اور معاون نیٹ ورکس پر بھرپور جوابی کارروائی کی۔ اس دوران ٹھیک ٹھیک نشانے پر مبنی فائرز اور فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ زمینی سطح پر چھاپہ مار کارروائیاں بھی کی گئیں، جن کا ہدف افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد ڈھانچے اور تنظیمیں تھیں، جن میں فتنہ الخوارج فتنہ الہندستان اور داعش سے وابستہ عناصر شامل تھے۔کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور کولیٹرل ڈیمیج سے بچنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے گئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق متعدد طالبان ٹھکانے تباہ کر دیے گئے جبکہ 21 افغان پوسٹس کو عارضی طور پر قبضے میں لے کر ناکارہ بنایا گیا۔ دہشت گردوں کے متعدد تربیتی کیمپ بھی غیر مؤثر بنا دیے گئے جو پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔جوابی کارروائیوں میں دشمن کو بھاری نقصان پہنچا۔ خفیہ اطلاعات اور نقصانات کے تخمینے کے مطابق 200 سے زائد طالبان اور دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کارروائیوں سے دشمن کے انفراسٹرکچر کو سرحدی پٹی کے ساتھ ساتھ اندرونی علاقوں میں بھی شدید نقصان پہنچا، جو ٹیکٹیکل سے آپریشنل سطح تک پھیلا ہوا ہے۔دشمن کی اس جارحیت کے دوران 23 پاکستانی جوانوں نے مادرِ وطن کے دفاع میں جامِ شہادت نوش کیا جبکہ 29 اہلکار زخمی ہوئے۔ ترجمان پاک فوج نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں قومی دفاع کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج ہر قیمت پر ملک کی سالمیت، عوام کی جان و مال اور قومی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ ہمارا عزم غیر متزلزل ہے اور ہم کسی بھی جارحیت یا دہشت گردی کو برداشت نہیں کریں گے۔پاکستان خطے میں امن اور تعمیری سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے لیکن افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دے گا۔ بیان میں طالبان حکومت کے رویے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ یہ اشتعال انگیز کارروائی اس وقت ہوئی جب طالبان کے وزیر خارجہ بھارت کے دورے پر ہیں — جو خطے میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست ہے۔پاکستان نے طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گرد تنظیموں — بالخصوص فتنہ الخوارج، فتنہ الہندستان اور داعش کے خاتمے کے لیے فوری اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔ بصورت دیگر پاکستان اپنے عوام کے دفاع کے لیے دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا حق استعمال کرتا رہے گا۔آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ شب کی کارروائی پاکستان کے اس مؤقف کو درست ثابت کرتی ہے کہ طالبان حکومت نہ صرف دہشت گرد گروہوں کو پناہ دے رہی ہے بلکہ بھارت کے ساتھ مل کر خطے کو غیر مستحکم کرنے کے عزائم رکھتی ہے۔ اگر طالبان حکومت نے اپنی روش نہ بدلی تو پاکستان اس خطرے کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گا۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved